کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بوئے حرم

عمر احمد بنگش


میں جو فرہاد کو ساتھ گھیر لایا تھا، اب حرم کی گلی کے منہ پر کھڑا مضطرب سا ہوں۔

کچھ روز قبل، راستے میں کرسیاں بچھا کر ہوٹل والے نے جہاں تجاوز کر رکھا ہے ، چائے کے دور پر معروف شعراء کے مصرعے اچھال کر داد وصول کر چکے تو بات منٹو کی آن شروع ہوئی۔ زیدی جو دبکا بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا،کہنے لگا،

"میں اور منٹو ایک قدر مشترک رکھتے ہیں" اتنا کہہ کر توقف کیا اور قبل اس کے استفسار کیا جاتا، خود ہی بولا،

"ہم دونوں نے رنڈیوں کے ساتھ تاش کھیل رکھے ہیں۔" اس پر قہقہہ بلند ہوا توساتھ دوسری میز پر براجمان بزرگوار گھورنے لگے ۔ یہ غالباً ہم لا ابالیوں کی جانب ہی کان لگائے بیٹھے تھے ۔ ان کی کسے پرواہ، سب بارے اس واردات جزئیات تک کی تفصیل جاننا چاہتے تھے ۔ فرمائش کی دیر تھی کہ زیدی چسکے لے کر قصہ بیان کرنے لگا۔ سننے والے بعض زیر لب مسکرائے ، دو ایک آزرد بھرے سے زیدی کو تکنے لگے اور جو باقی تھے وہ دم بخود بات سن رہے ۔  قصہ رنڈی کے ساتھ صرف تاش کھیلنے پر تمام ہوا تو ہر طرف قہقہہ گونج گیا۔ قصے میں اگر فحش بیانی تھی تو قہقہہ کہیں بڑھ کر فحش نگار ثابت ہوا۔ اب کے بزرگوار نے گھورنے کی بجائے رخصت ہونا مناسب خیال کیا۔ زیدی کو قصہ وا کرنے کے بعد جو داد ملی سو ملی، چند ایک نے زیدی کو واقعے کی رنڈیوں کے سمیت توبہ استغفار دھراتے ہوئے آڑے ہاتھوں لیا۔ یہ اور بات ہے کہ لتاڑنے والوں میں ایسے بھی تھے جن کے بارے سنتے ہیں کہ یہ ماضی میں رنڈیوں کے ساتھ سب کچھ  ہی کرتے آئے ہیں، بس کبھی تاش نہیں کھیلی۔

زیدی کی بڑھک تو رہی ایک طرف، میں جو اس گلی کی دہلیز پر موجود ہوں، اس کی ایک وجہ خود فرہاد بھی تھا۔ ایک شام مجھ سے پوچھنے لگا، "تم نے دلمیر کی لسی پی ہے ؟" میں نے گردن کو انکار اور اس نے مایوسی میں جھٹکایا اور سرزنش سا کہا، "اوئے ، تو اتنا عرصہ ہوا اس شہر میں ٹکا ہوا ہے  اور کبھی دلمیر کی لسی نہیں آزمائی؟ مکھن کا پھُولا پیڑا ڈال کر ایک بڑا گلاس پی لو تو شرطیہ پوری دو پہر کے لیے سیر ہو جاؤ گے ۔" یہ بتاتے ہوئے فرہاد نے ساتھ اپنا پورا بازو بھی ناپ لیا جو لسی کے گلاس کا اندازہ تھا۔ لسی سے شروع ہو کر اس نے شہر میں کھانے پینے کی تقریباً مشہور جگہیں ایک ایک کرکے گنوائیں۔ ان میں سے اکثر کا نام میں پہلی بار سن رہا تھا۔ اس پر فرہاد نے جوان عمری میں یوں میری عزلت پسندی پر خاصے تاسف کا اظہار کیا اور اب وہ اسی بات کو لے کراپنی آوارہ گرد طبیعت کا ذکر کچھ فخر سے کر کے چوڑا ہوا جا رہا تھا تو میں نے روک لگانے کو لہجہ اوپرا کر کے دریافت کیا،

"تو کبھی حرم گیا ہے ؟"

یہ سنتے ہی ساتھ بیٹھا سفیر سٹپٹا گیا اور بے یقینی سے مجھے تکنے لگا۔ فرہاد کھسیانا سا ہنس کر کہنے لگا، "تجھے شرم تو نہیں آئی ہو گی ناں؟"

میں جواباً مکر کی ہنسی ہنسا تو فرہاد نے بھی ساتھ دیا جس سے سفیر کا شک پختہ ہو گیا۔ سفیر نے پوری تفتیش شروع کر دی۔ کھل کر بتایا کہ منٹو نے رنڈیوں کے ساتھ تاش کھیل رکھے ہیں اور زیدی منٹو سے یہ قدر مشترک رکھتا ہے اور میں حرم گیٹ جانے کی خواہش رکھتا ہوں کہ آئندہ ٹاکرا ہو تو کچھ زیدی کی کاٹ کر سکوں۔ سفیر کو میری بات کا بالکل یقین نہیں آیا۔ جو پہلے کھانے پینے کے منصوبے پر ٹوٹ رہنے کو ساتھ شامل ہوا تھا، حرم کے ارادے پر ایک دم پیچھے ہٹ گیا، البتہ فرہاد فوراً راضی ہو گیا۔

ہم دونوں یہاں تک پیدل ہی پہنچے تھے اور چونکہ ہمیں یہاں کی طوائفوں سے کچھ مقصود تھا اور نہ ہی ہم ان کے ساتھ تاش کھیلنے آئے تھے لہذا ہم نے رستہ بھر صرف اس محلے کی تاریخ پر بحث کی۔ اس گلی کا بازار عام سا ہے ، جیسا کہ کسی بھی بازار کی چہل پہل ہو سکتی ہے ۔ گلی تنگ ہے اور جہاں تک نظر جا رہی ہے ، یہ ٹیڑھی ہوتے ساتھ تاریک ہو جاتی ہے ۔ گلی کے سرے پر سیاہ چادروں میں لپٹی عورتیں راستہ بھرے کھڑی ہیں۔ یہ عام سی گھریلو عورتیں ہی لگتی ہیں اور میں نہیں جانتا کہ یہ چادروں میں پاکدامن عورتیں ہیں یا ناچنے والی طوائفیں؟ چونکہ ہم حرم کی گلی میں موجود ہیں تو اپنے تئیں یہ طے کر لیا کہ یہ عورتیں یقیناً طوائفیں ہیں۔ شریف زادیوں کا بھلا یہاں کیا کام؟ تبھی اک خیال یہ بھی کوندا کہ یہ عورتیں جو بھی ہوں، چادر ان کا پردہ ہے ۔ چادر نے اپنے اندر ان میں سے ہر ایک کی اچھائیوں اور برائیوں کو یکساں طور چھپا رکھا ہے ۔ اگر آسمانوں میں رب ان کا پردہ دار ہے تو زمین پر یہ چادر ہے جس نے ان کو ڈھانپ رکھا ہے ۔ میں اور فرہاد جو یوں اس بازار میں کھلے ڈلے گھس آئے ہیں تو بھلا یہ عورتیں اور ارد گرد کی چہل پہل ہماری اس بے پردگی بارے کیا سوچتے ہوں گے ؟ اتنے تک پہنچ کر ایک جھرجھری سی آ گئی۔

شرافت دکھانے کو عورتوں کے بیچ میں سے پہلے فرہاد اور اس کے پیچھے پیچھے میں، جسم سمیٹ کر اور سر جھکائے گزرے ۔ گھٹیا خوشبو سونگھ آئی اور اگلی ہی ساعت نتھنوں کے اندر تک کھلی نالیوں کی بدبو رچ بھر گئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے کوئی بات چیت نہیں کر رہے تھے ۔ غالباً طوائفوں کے ماضی پر بات کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں تھی کہ ہم ان کے حال سے گزر رہے ہیں۔ وہ عورتیں اب خاصی پیچھے رہ گئی ہیں۔ اندرون شہر کی اس گلی کسی بھی محلے کی طرح عمارتیں پرانی مگر پختہ اینٹوں سے تعمیر کی گئی تھیں۔ ہر عمارت کے داخلے کی سیڑھیاں گلی کو علیحدہ سے تنگ کر رہی ہیں تو ہر دوسری عمارت کی دیوار گلی کی حد میں ناجائز تصرف کرتی جاتی ہے ۔ گلیاں بھی پختہ اینٹوں کی ہی ہیں جو جا بجا اکھڑی ہیں اور نالیاں بھی ویسی ہی کھلی اور بدبو دار ہیں۔ یہاں تک میں صرف گلی کا فرش ہی دیکھ پایا ہوں کہ میرا سر جو عورتوں کے بیچ گزرتے جھکا تھا، اب بھی ویسا ہی ہے ۔ گلی کا پہلا موڑ مڑتے ہی رونق نظر آئی۔ ایک کریانے کی دکان ہے جس کے باہر دکاندار دوسرے کئی لونڈوں کے ساتھ بیٹھا گلی کو مزید ناقابل کیے جا رہا ہے ۔ میں نے بے جانے بوجھے سر مزید نیچے جھکایا تو ٹھوڑی جیسے سینے میں گڑھ گئی۔ دکان کے ساتھ ایک دروازہ واہے جس کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہم دونوں نے ایک ساتھ شوقین نظروں سے اندر جھانکا کہ شاید کوئی جوان ناری، سجی ہوئی بالکل سامنے بیٹھی تماش بینوں کا انتظار کر تی ہو۔ ہماری مایوسی کے لیے اندر زرد بلب کی روشنی پھیلی تھی جس کے نیچے سنوکر کی میز دھری ہے ۔گلی کے بے مونچھوں جیسے ہی دو چار اندر بھی شغل لگائے ہوئے ہیں۔ میں نے کھسیانا ہو کر ایکدم بالکل سامنے یوں دیکھا جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔

سامنے جاتا راستہ دو اور گلیوں میں بٹ جاتا ہے ، ہم نہایت اطمینان سے بائیں جانب مڑ لیے ۔ اس طرف گلی نسبتاً کھلی اور مکان بھی نئی تعمیرات لگتے ہیں۔ پھر یہاں نالیوں کی بدبو بھی کم ہے ۔ تبھی اچانک فرہاد لمحہ بھر کو ٹھہرا اور گہرا سانس لے کر کہنے لگا،

"تم یہ بو سونگھ رہے ہو؟ یہ چیز ہے ، یہی!"

وہ ایسے بے صبرا ہو رہا تھا جیسے یہ بو اس کو ساتھ ہی اٹھا کر ہوا میں بکھرنے والی ہے ۔ میں نے اس کی پیروی میں گہرا سانس کھینچا تو موتیے ، اگر بتی اور نالی کی خلط ملط بو نتھنوں میں بھرتی چلی گئی۔ چاروں جانب مشتاق نظریں دوڑائیں مگر دیکھنے کو عام مکانوں کے علاوہ کچھ بھی تو نظر نہیں آیا۔ ہر مکان کے بالا خانے کو آنکھوں سے ٹٹول رہے کہ شاید اوپر کھڑکی میں کوئی اشارہ کر جائے یا پھر کوئی دلفریب واقعہ۔ ہمیں کوئی بلائے اور ہم جو بے مقصد گھومنے آئے تھے تو کسی مقصد سے کھنچتے چلے جائیں۔ ایسا کچھ بھی نہ ہوا، بس کسی کسی مکان کے دروازے پر میلے موتیے کے گجرے ٹنگے نظر آئے ۔ یہ اکا دکا باہر دروازوں کی سلاخوں پر ٹنگے ہیں، جن میں سے اکثر گزشتہ روز کے معلوم ہوتے ہیں۔ گو ہم اب تک کچھ دیکھ نہیں پائے تھے پر پھولوں کے یہ گجرے دیکھ کر فرہاد نے میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا۔ ہم نے سوکھے پھولوں اور بو کے بل بوتے پر طے کر لیا کہ یہ مکان، طوائفوں کے کوٹھے ہی ہیں۔ فرہاد اتنی دیر بعد پہلی بار بولا،

"محسوس کرو، یہ جو فضا ہے ۔ یہ ان کوٹھوں کا خاصہ ہوتی ہے ۔ خوشبو، یہ وقت اور جگہ۔۔۔"

اس کا لہجہ ایسا خمر والا تھا کہ میں نے خوب کھل کرپھر سے سانس کھینچی اور خیال کو جیسا سن رکھا تھا، ایک روایتی کوٹھے کے اندر تک دوڑا گیا۔ روایتی کوٹھے میں  جہاں ایک کھلے دالان میں گاؤ تکیہ لگا کر ناچ گانے کی محفلیں منعقد ہوتی ہوں گی اور ہر جانب روشنی اور خوشبو پھیلی ہے ۔ پھر خیال اس دالان سے اڑاتا ہوا پچھلے کمروں تک بھی لے گیا جہاں دیواروں کے پیچھے مخملیں بستروں پر کبیرہ گناہوں کی غلیظ پوٹلیاں بھری جاتی تھیں۔

خیال ٹوٹا تو ذہن غلاظت سے بھر گیا تھا مگر شکر یہ ہے کہ جیسے جیسے آگے بڑھتے ہیں، فضا ہلکی ہو رہی ہے اور خوشبو گہر رہی ہے ۔ یہاں اس کے علاوہ محسوس کرنے کچھ بھی تو نہیں۔

اگلا موڑ چوک سا تھا۔یہاں چہل پہل اور بھی سوا ہے ۔آمنے سامنے کے مکانوں کے بیچ میں چھوٹا سا مرکز یہ چوک محلے کی بیٹھک معلوم ہوتا ہے ۔ کئی ایک بچے یہاں وہاں دوڑتے پھر رہے ہیں اور راستے میں آگے پیچھے چلتے کئی لوگ آ جا رہے ہیں۔یہیں، کئی مردوں کے بیچ گھری ایک جواں عمر لڑکی چلی آ رہی ہے ۔ بانکی سی، بیس بائیس کی عمر میں یہ ناری سانولی سی ہے ۔ چہرہ تخمی آم جیسا اوپر کو ابھرا ہوا اور ٹھوڑی کے قریب ہلکا سا چپٹا ہوتا چلا جاتا ہے ۔ نقوش سنگھار کی قلم سے واضح کیے ہوئے ہیں جس سے آنکھیں بڑی اور ہونٹ باریک ہو کر نمایاں نظر آتے ہیں۔ روشن آنکھیں معمولی سی جھکی ہوئی ایسے حرکت کرتی ہیں کہ حیا کے اندر اردگرد نظر رکھ رہی ہوں۔ ہونٹ گہرے لال سجے ہوئے ہیں جو مُسکنے کے سبب تھرتھراتے محسوس ہوتے ہیں۔ خفیف مگر بیچ میں کہیں کھلتی ہوئی مسکراہٹ کی وجہ سے بھرے ہوئے تازہ گالوں کے گرد گولائی میں مستقل، خط مسلسل سا گر رہا ہے جیسے شفاف چشمہ جاری ہو۔ ایک ادا سے سر کو ایک طرف یوں جھکا رکھا ہے کہ تنی ہوئی گردن، لمبی صراحی جیسی اور عریاں نظر آتی ہے ۔ اس کو اگر پشت سے دیکھیں تو یہ اور بھی واضح ہو جاتی ہے ۔ گھنی زلفوں کو چوٹی سے سمیٹ کر ایک پھندنا سا بنا رکھا ہے ۔ اس پھندنے کو دائیں کندھے سے نیچے لپٹا کر یوں گرا رکھا ہے کہ جیسے کوئی سیاہ زہریلی ناگن ڈال کے اوپر سے بل کھاتی لٹکتی ہے اور اک ذرا جنبش پر یہ چھاتی پر سیدھا ڈنک مارنے کو لپکے گی۔ اوڑھنی کے نام پر پتلی سی دوپٹی ہے جو بائیں کندھے پر اس طرح ٹکا رکھی ہے کہ سینے پر پھیل کر چھپانے کی بجائے ابھاروں کو مزید نمایاں کر دیتی ہے ۔ کھلے گلے کے تنگ جامے پہنے چست جسم والی یہ ناری شام کے دھندلکے میں ایک سانچی ہوئی جیتی مورت جیسی ہے جس کا بدن چلتے ہوئے ایسے لہک رہا ہے کہ کمر سے نیچے کولہے ، ہر اٹھتے قدم پر گھوم کر واضع ہو جاتے ہیں۔ سبب اس کے جس گھیرے میں یہ آگے بڑھ رہی ہے ، دیکھنے والوں کے اندر ہیجان کے چھینٹے اڑ رہے ہیں۔ مرد اس کو مسلسل تاڑتے ہوئے چل رہے ہیں اور واضع طور پر اگر اس کا جسم مرکز ہو تو گھیر چہار پھیر مردوں کی ہوس سے بھرپور نظروں کا گھیرا اس کے وجود کے ساتھ چپکا ہوا آگے بڑھ رہا ہے ۔ نظروں کا بس نہیں چلتا ورنہ اس نار کے بدن کی حرارت سے نظروں میں چنگاریاں شعلے بنی ہیں، ان سے اس جسم پر چپکے کپڑوں کا آخری چیتھڑا تک جلا ڈالیں اور گداز بدن کو کچر کچر کاٹ کھائیں۔ گلی کے منہ پر کھڑی عورتوں کی پہنی گھٹیا خوشبو کے برعکس اس نار کی صرف جسم کی باس ہے ۔ خیال یوں ہے کہ اسے خوشبو کی حاجت ہی نہیں ہے ، اس کا بدن خود خوشبو کا جھونکا سا ہے ۔ ہاں، خوشبو پہننے کی ضرورت شاید کل صبح رہے جب رات بھر بھرے  گدگداتے جسم کی باس کھرچ کھرچ کر اس میں بدبو بھر دی جائے گی۔

فرہاد کی طرح میری توجہ بھی اس نار سے تب ہٹی جب مورت دوسری جانب مڑ گئی۔ مردوں کا آدھا جتھا اس کے ساتھ ہی مڑ گیا اور کچھ آگے بڑھ رہے ۔ ہم اس جانب گئے جدھر موتیے اور اگر بتی کی گڈمڈ خوشبو گہری ہوتی جا رہی ہے ۔ اب خیال یہ ہے کہ اس بو کے پیچھے اگر ہم چلتے رہیں تو سیدھا طوائفوں کے کوٹھوں میں جا ٹکیں گے ۔ شوق دو چند ہوا جا رہا ہے ۔جیسا سنتے آ رہے ہیں کہ کئی گلیاں ہوں گی جن میں چہل پہل کچھ ہٹ کر ہو گی۔ حرام زاد لونڈے پان چباتے گھوم پھر رہے ہوں گے اور ساز کی محفلیں بس جمنے ہی والی ہوں گی۔ اوپر بالاخانوں میں گھنگھرو اور طبلے بجتے اورجیسے منٹو کہتا ہے کہ سر پہ تیز بلب جلا کر جوان ناریاں متوجہ کرتی ہوں گی۔ امید یہ ہے کہ کچھ برپا ہو یا کوئی حسیں قصہ بن جائے تو میں کبھی زیدی کو چائے کی محفل میں چت کر سکوں۔ اس نے اگر رنڈیوں کے ساتھ تاش کھیل رکھی تھی تو میں بھی چسکے لے کر بتا سکوں کہ کیسے ایک ناری نے اشارہ کیا تھا، یا پھر ہم کیسے نگاہوں کے گھیر میں گھر کر کوٹھے پر پہنچے تھے اور پھر۔۔۔

اب ہم خوشبو کے تعاقب میں اس طویل گلی کی نکڑ پر آ گئے ہیں۔ یہاں اگر ساتھ والی گلی میں آدھے صفرے کے جیسے واپس مڑیں تو سامنے ایک مکان ہے ۔ اوپر چڑھتی سیڑھیوں پر تیز گلابی روشنی پھیلی ہوئی ہے ۔ میں نے فرہاد کو کہنی مار کر متوجہ کیا تو وہ پہلے ہی اس مکان کا جائزہ لے رہا تھا، فوراً ہی حتمی سا فیصلہ سنایا،

"ہمم، یہ وہی ہیں۔ دیکھو، یہ گھر نہیں ہے ۔ گلابی روشنی میں جو اوپر کو سیڑھیاں چڑھتی ہیں یقیناً بالا کسی طوائف کا کوٹھا ہے "

اوپر جھانک کر دیکھا تو کچھ دکھائی نہ دیا، سننے کی کوشش کی تو ایک دوسرے کے سوا آواز نہ آئی۔ تیز گلابی روشنی دعوت دے رہی ہے تو خاموشی گویا روک لگا رہی ہو۔

اس کوٹھے کو بمشکل نظرانداز کر کے ہم گلی میں مڑ گئے ۔ دوسرے اور بعد دو مکان چوتھے پر بھی پہلے کے جیسے کوٹھے کا یقیں ہوا۔ اس گلی میں بو گہری ہے تو چہل پہل بھی اسی تناسب سے بڑھ رہی ہے ۔ گلی کی دوسری نکڑ پر رش کا دور نظر آتا ہے تو میں اور فرہاد بصد شوق تیز قدم اٹھاتے چلتے گئے ۔ خوشبو اس قدر ہے کہ اب ہمیں اپنے جسم تک کی سونگھ اوپری لگنے لگی ہے ۔ نیچے نالیوں کی بدبو تو بالکل دب کر رہ گئی۔ فرہاد گہرے سانس لے کر پھیلی خوشبو اور فضا میں حرم کا احساس اپنے اندر بھرنے لگا۔ مجھے یقین تھا کہ جیسے پچھلی گلی میں اس بانکی ناری سے ٹاکرا  ہوا تھا یہاں اس جیسیوں کی قطار ہو گی۔جیسے جیسے رش میں گھستے گئے ، شوق اور کچھ ہونے کا احساس بڑھتا گیا۔

گلی کی نکڑ میں جہاں رش عروج پر تھا، وہاں پہنچ کر اپنے حال سے بھی جاتے رہے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ روشنی، رونق اور دبیز ہوتی خوشبو کا منبع حرم کی طوائفوں کے کوٹھے نہیں بلکہ امام بارگاہ کے باہر، زیارت پر سینکڑوں اگر بتیاں جل رہی ہیں۔ کئی مرد، عورتیں اور بچے جمعرات کی شام میں جوق در جوق بڑے اہتمام سے پنجے پر موتیے کے ہار چڑھا رہے ہیں۔ طبیعت مکدر ہو گئی اور دل بجھ سا گیا۔

تبھی میری نظر گھوم کر زیارت کے چبوترے پر گئی جہاں کالے جوڑے پہن کر اور سختی سے سر ڈھانپے جوان لڑکیاں نہایت ادب سے سر ٹکائے منتیں مانگ رہی ہیں۔ میری نظر بے اختیار ان کی کالی شلواروں پر جا کر ٹک گئی ہے ۔ منٹو یاد آ رہا۔

اور فرہاد جسے میں ساتھ گھیر لایا تھا، بوئے حرم میں لپٹے کھڑا ہے پر پھر بھی مصر ہے کہ طائفے حرم چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

٭٭٭