کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چادر اور چاردیواری

عمر احمد بنگش


شفی کے باڑے میں چوری ہوئی تو تھانے سے چوتھے ہفتے ہی کورا جواب مل گیا۔ حصے پر پلی بھینس اور تین بکریاں تو گئی ہی تھیں، تھانے کچہری کے چکر اور  گاؤں کے عذر یوں کی مدارت میں جمع پونجی، میلی چاندی کا تاری زیور اور ڈیڑھ ماہ کا اناج بھی خرچ ہو گیا۔ اس سارے قضیے میں اسے تازہ مزدوری کا موقع بھی نہ ملا تو نتیجہ گھر میں کھانے کے لالے پڑ گئے ۔ چور بیٹ کے علاقے سے دھمکے تھے اور واپس وہیں جا چھپے ۔ اب دریا کے ساتھ اور بیچ پاٹ کی خشکی میں پولیس انھیں تلاش کرنے سے قاصر تھی۔ قاصر تو تھانے والے رپٹ لکھنے سے بھی تھے ، بس علاقہ نمبردار کی سفارش کام آئی اور رپٹ درج ہو ہی گئی۔ جب شفی کی جیب میں ٹکا بھی نہ رہا تو تھانیدار نے اسے یہ کہہ کر کُوڑے منہ ٹرخا دیا کہ اطلاع ملی تو وہ خود اسے کہلوا بلائے گا۔ سرزنش علیحدہ سے کی کہ ڈیرے کی گھیر چار دیواری ہوتی تو نقصان سے بچت ہو سکتی تھی۔

شفی کا ڈیرہ بڑے بند سے خاصہ باہر دریا سے کوئی تین میل پر بسا ہوا تھا اور اس کے باپ دادا پشتوں سے یہاں بستا چلا آ رہا تھا۔ بڑا بند بارہ فٹ چوڑا اور اس کے دگنے اونچا، دبائی ہوئی مٹی کی دیو ہیکل دیوار معلوم ہوتا تھا۔ اس بند کے اندر ستر ہزار آبادی والا ایک شہر اور مال کے ریکارڈ میں داخل چالیس سے زائد دیہات آباد تھے ۔ نئی اور چھوٹی چھوٹی بستیاں اس کے علاوہ تھیں، جو کبھی کسی شمار میں نہیں رہیں۔ شہر کی سہولت کے لیے سرکار نے بند کے اوپر روڑی ڈال کر پکی سڑک بھی بنا دی تھی جو آبادی سے باہر چھکڑوں کے لیے متبادل راستے کے کام آتی تھی۔ اب کچھ سال ہوئے تھے ، دریا کی بدمعاشیاں پہلے سے بڑھ گئی تھیں۔ دریا ہر سال زمین کا کچھ رقبہ کاٹ کر خود میں بہا لیتا اور اپنے پیچھے چمکتی مگر بے جان ریت بھرتا جاتا۔ ذاتی زرعی وراثت یوں ہی غارت ہوتے دیکھی تو شفی کے باپ نے بھی دریا کے جواب میں اپنی بدمعاشی دکھائی اور دریا سے ہٹ کر سرکاری زمین ہتھیا لی۔ جیسا باپ، ویسے ہی بیٹے نے بھی اس حرام کی زمین پر کاشت جاری رکھی اور گھر بھر کے پیٹ کا جہنم حلال اناج اگا کر بھرنے لگا۔ جیسے تیسے ہو، شفی کی اپنے ہم عصروں سے اچھی ہی بسر ہو رہی تھی پر ذمے لگی کے حساب سے اس کی مشکلات ان سے پھر بھی کسی طور کم نہیں تھیں۔ اناج تو ہو جاتا تھا مگر ہر سال وہ اپنے ہاتھ سے سارا ڈیرہ تنکا تنکا کر کے اکھاڑتا اور مہینوں کڈے اور ڈھور ڈنگر سمیت سڑک پر گھٹیا چادر اور نام نہاد چار دیواری کے آسرے تمبوؤں میں گزارہ کرتا۔ جب دریا کے زور ٹوٹ رہنے کے دن آتے تو واپس آ کر گندم اگانے سے پہلے اپنا گھر الف سے دوبارہ کھڑا کرنے کا اچھا خاصہ جتن بھی کرتا۔ ایسے حالات میں تھانیدار کی ڈانٹ کا وہ کیا جواب دیتا کہ اس کے ڈیرے کے گرد چار دیواری کیوں نہیں تھی اور اس کے ڈھور ڈنگر کاہے کو ہنکائے گئے ؟

جب تک باپ زندہ رہا، یہ اس کا دایاں بازو تھا اور پھر دو بھائی بھی ساتھ تھے تو سالہا سال کی اس ہجر مشق میں کوئی کوفت نہ رہی۔ اب وہ اکیلی جان اور بھرے پرے گھر کی ذمہ داری اس کے کاندھے پر تھی۔ اس کے تئیں بیوی نرینہ اولاد نہ پیدا کر سکی کہ اس کو حوصلہ رہتا اور خود شفی کے بھائی بند بوجوہ گھر کی عورتوں کی ہی ناچاقی، علیحدہ ہو گئے تھے ۔ اس سارے کشٹ سے وہ خاصا نالاں تھا اور اب رہی سہی کسر چار ہفتے پہلے ہوئی چوری نے پوری کر دی۔ کہاں تک برداشت کرتا، اس کی کہو بس ہو گئی۔ وہ ایک عرصے سے بند کے اس پار بسنے کی خواہش تو رکھتا تھا پر اس واقعے کے بعد پختہ ارادہ باندھ لیا کہ کچھ بھی بن پڑے ، مر جائے پر اپنے ڈیرے کو بڑے بند کی حد میں لے جائے گا۔

بات صرف بیٹ کے کچے کی مشکلات کی نہیں تھی، خواہش اس لیے بھی زیادہ تھی کہ کچے کا متبادل،  بڑے بند کے اندر اچھا خاصا بندوبست تھا۔ شہر اور بڑی سڑک نزدیک تھے ، آبادی بہتیری اور لوگ خاصے امن میں بس رہے تھے ۔ چوکی والوں کو بھی آبادی کی وجہ سے خاصہ خیال رکھنا پڑتا تھا اور موسمی بیماریوں کے ٹیکے لگانے والے بھی  تنگی سے ہی سہی، بالآخر آ جاتے تھے ۔ یہ سب نہ بھی ہو تو یہ کیا کم تھا کہ بڑے بند کی دیوار   نے دریا کی بدمعاشی اور بیٹ کی تنگی کو روک لگائی ہوئی تھی، سرکاری سہولتوں اور چوکی کے امن کو اپنے اندر کے علاقے میں ٹھہرایا ہوا تھا۔ شفی جب بھی شہر جاتا اور بڑے بند کے اس پار آنا ہوتا تو ادھر کے باسیوں سے اسے خدا لگی کی جلن ہوتی۔ جل مرنے کی بات بھی تھی کہ یہاں سال میں دو فصلیں کاشت کی جاتی تھیں۔ جن میں ایک سے پیٹ اور دوسری سے جیب بھر رہتا تھا۔ پھر بندوبست کا کاشتکار جو بھی کاشت کرے ، سرکار بخوشی قرضہ دے دیا کرتی۔ شہر کے بیوپاری اسی وجہ سے ادھار پر بیج، کھاد اور چھڑکنے کو دوائیں پیچھے لگ کر بیچا کرتے تھے ۔ شفی جیسے کچے کے خواروں کو تو یہ سب نقد میں بھی مشکل سے اور کاشت کے موسم کے بالکل آخر میں جا کر کہیں منت ترلہ کرنے کے بعد میسر آتا تھا۔ سبب اس کے ، پچھیتی کاشت کرنی پڑتی اور خرچہ بڑھ جاتا۔ پھر یہاں کھالے تھے ، جن میں سرکاری پانی تھا جس کے لیے بس کدال سے کھالے کا منہ کھرچو اور کھیت میں پانی جاری ہو جاتا۔ کچے میں تو ٹیوب ویل کا خرچہ ہی اتنا ہو رہتا تھا کہ شفی جیسے قسمت کے کھوٹوں کے لیے فصل کو تین سے زیادہ پانی پلانا ممکن ہی نہیں تھا۔  یوں فصل پیاسی اور بچے بھوکے رہ جاتے ۔ فصل کی سہولت تو تھی ہی، ویسے بھی دیکھو تو لوگ خوشحال اور مطمئن نظر آتے تھے ۔ عورتیں بھرے جسموں والی اور چاندی سے لدی پھندی۔  پھر یہاں کے بچے ، بیٹ کے بچوں کی طرح گندے مندے ہی تھے پر فرق یہ تھا کہ یہ گول گپے جیسے پھولے ہوئے اور ان کے پیٹ خالی نہیں تھے ۔ شفی کے لیے بند کے اندر کے بندوبست میں پناہ تھی، امن کا آسرا تھا اور دنیا مثال جنت تھی۔ اور یہ سب بڑے بند کی چہار دیوار کی بخشی نعمتیں تھی۔

 بند کے اندر جا بسنے کا شوق اتنا پلا کہ شفی نے اپنی ساری فراغت ترک کی اور شہر میں مزدوری ڈھونڈ لی۔ فصل کے ایام کے علاوہ کوئی دن خالی نہ چھوڑا۔ سویرے منہ اندھیرے گھر سے روانہ ہوتا اور دن بھر کی کڑی مزدوریوں میں گھل کر رات گئے واپس لوٹنا ہوتا تو جسم چکی میں پسا چورا محسوس ہوتا۔ تھک ٹوٹ جاتا مگر شوق اس کو دوڑائے جاتا رہا۔ ڈیڑھ سال کی جان توڑ مزدوری کے علاوہ شفی نے اپنے پورے کڈے کا پیٹ کاٹا، تول مول میں حسب حال ڈنڈی بھی ماری اور دو فصلوں میں جتنی ممکن تھی بچت بھی کر ڈالی۔ مگر آخر میں جب حساب سامنے رکھا تو عیاں یہ ہوا کہ اس سب کے باوجود بڑے بند کے اندر کا آسرا ممکن نہ تھا۔ اس کے اندازوں کے برعکس بند کے اندر زمین خریدنی اتنا سہل نہیں تھا۔ آخر جب مجبور ہوا تو اپنے دادے کا طریقہ اپنانے کا فیصلہ کر لیا جو شفی کے باپ نے ترک کر دیا تھا۔ شیدے ماچھی سے سُن گھن لے کر ایک رات اسی کی کشتی میں سوار ہوا اور دریا کے پاٹ میں خشک کچے پر اتر گیا۔ رات دونوں دریا کے ساتھ ہی ریت میں دبکے رہے اور جوں ہی تیسرے پہر موقع ملا، چوہدری سلامے کی تین بھینسیں عارضی  باڑے سے ہانک کر کشتی میں لاد لائے ۔ باپ اور دادے کی اپنائی عادت پھیرنے پر شرمندگی تو تھی پر کیا کرتا، بڑے بند کے اندر کا سکھ بھی تو آسان نہیں تھا۔ خود کو تسلی یوں بھی دی کہ وہ باپ کی آل اولاد کے آرام کے لیے ہی تو منکر ہوا تھا ورنہ اکیلے نفس کو بیٹ کے کچے میں بس رہنے میں کیا دشواری ہوتی؟

شفی نے بڑے بند میں ڈیڑھ بیگھے زمین کا انتقال اپنے نام چڑھایا تو ڈھور ڈنگر چوری ہوئے دو سال بیت چکے تھے ۔ شفی کے لیے بڑے بند کے گھیرے میں زمین کا ٹکڑا ملنا جنت میں یاقوت سے بنا فرش عطا ہونے جیسے تھا۔ ڈیڑھ سال کی سخت مزدوری، باپ کے منہ کی بات رد کرنے کے علاوہ بند کے اندر کے زمینداروں کو زمین بیچنے پر راضی کرنا اچھا خاصہ تردد تھا۔ اور پٹواریوں کی جھڑکیاں اور مال کے منشیوں کا تحکم اس تمام کے علاوہ۔ اس نے تو اچھی خاصی قیامت کا صراط بھگتا کر یہ زمین حاصل کی تھی۔ اپنی جنت پائی تھی۔ اب بڑے بند کی دیوار کے اندر امان مل گئی تھی۔ بس چھوٹی سی خلش تھی کہ جتنا پیسہ وہ خرچ کر پایا تھا اتنے میں یہ زمین کا ٹکڑا اسے آبادی کی آخری بستی سے بھی کوئی ڈیڑھ میل دور ملا تھا۔ شفی اس بابت خود کو یوں سنبھالا دے رہا کہ بڑے بند کے اندر کوئی بھی چیز کم مایہ نہیں ہوتی۔

یہاں وہ اپنے ارمانوں کا مستقل مکان کھڑا کر سکتا تھا اور ایسا کر بھی دکھایا۔ اپنے ہاتھ سے بنیادیں کھودیں اور اس پر جہنم جیسی تپتی دوپہروں میں بھی یک تنہا کچی اینٹیں دھوپ میں سُکھا کرخود ہی دیواریں چُنیں۔ اندر کی لیپا پوتی اور سدھار میں بیوی اور بیٹیوں نے ہاتھ بٹایا۔ چھت تاننے کو ایک گدھا گاڑی کا انتظام کر کے بیٹ سے چُن کر پرانے ڈیرے کا کاٹھ اٹھا لایا۔

اپنا گھر اگر جگرے کا حوصلہ بنا تھا تو بڑے بند کی دیوار کا شفی کے دل میں گھر تھا۔ یہ دیوہیکل دیوار، جیسے کہ  ظاہر تھا امن اور حفاظت کی ضمانت تھی اور یہ بھی تاڑ رکھا تھا کہ بڑے بند کے اندر کی جتنی آبادیاں تھیں اس میں ہر مکان کی اپنی چار دیواری کھنچی ہوئی تھی۔ بیٹ کے کچے میں اس کے کڈے کا تو ایک بھی کواڑ تک کورا نہیں تھا۔ بیٹ میں چار دیوار کا کوئی فائدہ رہا ہو یا نہیں، یہ ممکنات میں بہرحال نہیں تھا کہ ہر سال فصل سے پہلے وہ بمشکل کوٹھے کی دیواریں چن پاتا تھا، چار دیواری کہاں سے اٹھاتا؟ بندوبستی لوگ بے شک خود کی ہوشیاریوں کے سبب سہولت سے بستے ہوں پر یہ بات طے تھی کہ ان کی زندگیوں میں یہ امن بڑے بند کی دیوار نے ہی کرامت کیا تھا۔ بڑا بند لوگوں کے دیوتا جیسے تھا۔ یہ دیوتا اگر ان بندوبستیوں کے لیے کچے کی مشکلات کے سامنے تنا کھڑا تھا تو وہیں ہر سہولت اٹھائے سامنے کورنش بجا رکھتا تھا۔ جس کے لیے یہاں کا ہر گھر دیوتا کی شکر گزار پرستش میں چاردیواری ضرور کھینچتا ہے ۔ یہ چار دیواری بند کو ہر بندوبستی گھر کی بلی تھی، جو ان گھروں کو پہلے سے بڑھ کر تحفظ بخشتی تھی۔ بند کے اندر اس رواج کے پاس میں شفی نے بھی نئے گھر کی چاردیواری کھینچنے کی سوچ لی۔

جیسے بندوبست میں زمین کا شوق اس کے لیے کٹھن تھا ویسے ہی گھر کی چار دیواری بھی لوہا نگلنے جیسا ثابت ہوا۔ دونوں ہی  کام اس کی اپنی مرضی تھے ۔ اپنی مرضی ہمیشہ اپنے ساتھ تلخی لاتی ہے ۔ رغبت تو تھی مگر شکرگزار ہونا اور بے مصرف نظر آنے والی سہولت پر خرچنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ جیسے شیطان بہکاتا ہے ، من بھی بھاؤلا ہو جاتا ہے ۔ شکر گزاری کی چاردیواری گو مزید امن دیتی، یہ عبادت جیسے مشکل ہی محسوس ہوئی۔ ایک بار پھر گھر کا پیٹ کاٹنا پڑا، چند ماہ کٹھن مزدوری اور اب کی بار فصل کی بجائے اپنی بوڑھی ماں کے علاج میں ڈنڈی مار گیا۔ اس کا اپنا گھر جیسے تیسے تعمیر ہو گیا تھا اور اس میں جو بھی ٹیڑھ تھی ہوتی رہے ، یہ ریت رسم اور عبد عباد کا معاملہ تھا تو اس کے لیے ایک پورا ہفتہ مستری بھی بلایا کہ کوڑ کونجھ رہنے کی گنجائش نہ رہے ۔ یوں گھر کے چار چہار آٹھ فُٹ اونچی دیوارکھڑی ہو گئی۔

پھر آرائش کی باری آئی تو وہ بھی نرالے ڈھنگ سی کی۔ بیوی اور بیٹیاں گارا گھول کر اسے تھماتیں اور وہ دیوار پر نرمی سے لیپ تھوپ کر گھنٹوں لکڑی کا گرمالا پھیر کر برابریاں کرتا رہا۔ چونا گھول کر جہاں باقی گھر میں ایک پرت پھیرا تو چار دیواری پرخصوصاً اندر سے دو اور باہر تین پرت گرائے ۔ اسی طرح مزید شوق میں باہر دھاریاں ڈال کر ڈیزائن بھی بنائے ۔ بڑے شہر کے مکانوں کی نقل میں بازار سے کانچ کی ڈیڑھ سینکڑا بوتلیں اٹھا لایا اور کرچی کرچی، ہاتھ پر موٹی ربڑ کے دستانے چڑھا، ساری کانچ چار دیوار ی کی موٹائی میں گاڑھ دیں۔ نا تجربہ کاری کے سبب ہاتھ جا بجا چر کر لہولہان ہو گئے اور پھر کئی ہفتے درد سے کراہتا معذور ہوا پھرتا رہا۔

چند ماہ میں گھر ہر لحاظ سے مکمل تھا۔ یہاں ماں کے لیے علیحدہ کمرہ تھا۔ اپنی بیوی کے ساتھ اپنے کمرے میں سوتا تھا اور بیٹیوں کے لیے تیسرا بڑا کمرہ الگ تھا جو دن میں بیٹھک بنا دیا جاتا۔ ہر کمرے کا اپنا کواڑ بھی تھا اور برآمدہ ہر وقت جھاڑو پھیر کر اور پانی چھڑکے تازہ رہتا تھا۔ شفی نے گھر کے اندر کچھ پھل دار درختوں کی قلمیں اور کونے میں مرلہ دو پر سبزیاں بھی بھی اُگا لی تھیں اور ادھار پر نلکا بھی کھدوا لیا۔ ڈھور ڈنگر کے لیے بھی باڑے کا چھپر علیحدہ بنا، جس کے اندر کھرلی اور پانی کا تالاب سیمنٹ سے بنوایا۔ اب شفی پوری توجہ سے فصل کو وقت دیتا اور شہر قریب تھا تو مرضی سے مزدوری کرتا۔

یہ سب کرامت تھی۔ عطا تھی۔ یہ سب تقدیرکا لکھا اور تدبیر کا کھرچا ہوا اسم تھا۔ بڑے بند کا سایہ اور چار دیواری کا تحفظ اس کی زندگی میں امن اور سکون تو لایا ہی، ساتھ دولت بھی آنے لگی۔ سال بھر بعد ہی گھر کے باڑے میں دو بھینسیں بندھی تھیں اور کئی بکریاں ممیا رہیں۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اس نے اپنی بیٹیوں کے لیے کچھ جہیز کا سامان، گوٹے والے کپڑوں کے جوڑے اور اپنی حیثیت کے مطابق چاندی بھی جڑوا لی تھی۔ شفی کو خود کی قسمت پر ناز تھا اور جاننے والے اس کی عقلمندی کی مثالیں دیا کرتے ، یہ سب سوچ سن کر شفی کا اندر پھول کر کُپا ہو جاتا۔

جب تدبیر، تقدیر سے برتر لگنے لگے تو ایسا ہو ہی جاتا ہے ۔ روز و شب یوں ہی بسر ہوتے جاتے تھے مگر ایک رات جب دوسر پہر گزرتا ہو گا، شفی اپنے کمرے میں بیوی سے لپٹا سویا پڑا تھا کہ باہر کچھ آہٹ سنائی دی۔ بیٹ کا کچا ہوتا تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا مگر جب سے چاردیواری ضامن ہوئی تھی، یہ عادت بھی آئی گئی ہوئی۔ دوسرے کمرے سے ماں نے پکار کر ہوشیار بھی کیا پر شفی نے توجہ نہ دی۔ کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ شفی کے کمرے کی سانگل ایک چھناکے سے چھپکے کے ساتھ اکھڑی اور کواڑ دھماکے سے چار وا ہو گیا۔ یہ دونوں بوکھلا کر جاگے توکیا دیکھتے ہیں کہ دو نقاب پوش کمرے میں گھسے چلے آرہے ہیں۔ دائیں طرف والے نے بندوق آگے کو جھکا کر گگھو کی طرح گھمائی۔  بندوق کا دستہ شفی کے کندھے میں ہتھوڑے کی طرح رسید ہوا اور یہ کراہتا ہوا فرش پر پیٹھ کے بل گر گیا۔ نقاب پوشوں نے پھر اسے اوپر ابھرنے کا موقع نہیں دیا اور پیٹ پیٹ کر ادھ مویا کر دیا۔ اسی دوران ایک نقاب پوش نے گھگھیاتی ہوئی بیوی کو چوٹی سے پکڑ کر کونے میں دبکا لیا اور اس پر بندوق تان، ہاتھ پاؤں باندھے اور منہ میں اسی کی چادر ٹھونس دی۔ ایک ایک کمرے کی تلاشی لی گئی اور جو کچھ ہاتھ آتا رہا، گتھیوں میں بھرتے گئے ۔

حملہ آور حلیے اور چال ڈھال سے بیٹ کے کچے والے دکھتے تھے پر جس اطمینان سے وہ لُوٹ مار کر رہے تھے اور یوں بے دھڑکے گھر کے اندر گھسے ، یہ کسی طور بھی ان کا طریق نہیں تھا۔ کچے فرش پر پٹے ہوئے جسم سے ٹیستے درد کو نگلتے ابھی شفی اسی نکتے پر وچار کر رہا تھا کہ برابر کے کمرے سے بڑی بیٹی کی دبائی چیخ سنائی دی۔ اسے سنتے ہی بیوی  تڑپ کر اٹھی تو اس کے سر میں بندوق کی نال سے وار ہوا۔ یہ وہیں گر پڑی اور لگتا تھا کہ اب نہ اٹھ سکے گی۔ اس سے جھپک کر شفی نے پھر دیکھا کہ بوڑھی ماں کو ایک نقاب والے نے لڑھکا کر برآمدے میں آن ڈھایا ہے ۔ بیوی کا حال دیکھ کر اس نے اٹھنے کی ہمت ہی نہ کی مگر جب نقاب پوشوں نے باہر کھلے صحن میں اس جگہ پر جہاں باہر کے لیے ٹیلوں پر سے بھی چاردیواری کی پوری اوٹ تھی، اس کی دوسری بیٹی کے ساتھ باری باری زبردستی کرنے کو چادر کھینچی تو شفی اک ذرا اوپر کو ابھرا اور ویسے ہی واپس گرایا گیا۔ آنکھوں کے سامنے اب تارے ناچ گئے اور ہلنے سے بھی رہ گیا۔ جوں جوں بیٹی کی چیخیں اونچی ہوتی گئیں، ہولے ہولے اس کے دل کی دھڑکن جواب دیتی چلی گئی اور بالآخر سینے کو تھامے شفی کا جسم ایک طرف کو لڑھک کر ٹھنڈا ہو گیا۔

اگلی  صبح لوگوں نے دیکھا کہ شفی کے گھر میں کچھ ڈھور ڈنگر توویسا ہی کھرلی سے لگا چر رہا ہے مگر زنانہ چادروں کے چیتھڑے چاردیواری کی کانچ میں الجھ کر تار تار ہو رہے ہیں۔ جو سکون اور تحفظ شفی نے چار دیواری سے اپنے آنگن میں تانا تھا، پچھلی رات اس سے کہیں زیادہ بے خوف ہو کر نقاب پوش گھر کی عزت سے چادریں کھینچ کر اسے نوچتے رہے ۔

٭٭٭