کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آتشی مخلوق

ارشد نیاز


بات کی ابتدا اُن آتشی میٹورائٹ سے ہوئی تھی جنہیں ڈاکڑ ریچرڈ بی ہوور نے انٹارکٹکا،سائبریا اور الاسکا وغیرہ سے اپنی دس سال کی جدوجہد سے پتہ لگایا تھا۔ ان کی تعداد صرف نو ہی تھی جو ان مختلف مقامات سے پائے گئے تھے اور جن میں زندگی کی علامتیں پائی گئی تھیں۔ان ہی کی بدولت ناسا کے سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا کہ کائنات میں ہم تنہا نہیں ہیں مگر اس کائنات میں زندگی کہاں ہے؟یہ یقین سے بتانا اب بھی مشکل تھا۔یہ ثابت کرنا ماہرینِ فلکیات کے بس میں نہیں تھا۔ان ہی چند باتوں کو لے کر وہ بھی فکر میں ڈوبا ہوا تھا۔ہندوستان کے ہمالیہ پہاڑ کے ترائی علاقوں سے اس نے اسی قسم کا ایک عجیب دسواں میٹورائٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔اپنے ریسرچ روم میں اُس زندگی کا وہ بغور مطالعہ کر رہا تھا۔اُس کی جسامت ،اُس کی ساخت سب کچھ اس کے لئے اجنبی تھا۔

’’کہیں ایسا تو نہیں کہ کائنات میں کہیں آتشی مخلوق کی دنیا آباد ہے جس کی یہ نشاندہی ہے۔‘‘

اُس نے سوچا اور اپنے ریسرچ کرنے کے طریقے کو بدل ڈالا اور اسے حیرت ہوئی واقعی آتشی مخلوق کہیں آباد ہے مگر کہاں؟

وہ پھر سوچ کے ہچکولے کھانے لگا۔

میٹورائٹ میں جامد زندگی کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے وہ کوششوں میں جٹ گیا۔

عام آگ میں اُسے زندہ نہیں کیا جاسکتا ہے،اُس کے لئے جس توانائی کی ضرورت ہو گی وہ ایٹمی توانائی کے برابر ہونی چاہئے۔لہٰذا اُس نے اپنے لیباریٹری روم میں ہی nano atomic plantبیٹھانے کا ارادہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنے ارادے میں کامیاب بھی ہو گیا۔یہ ریسرچ اُس کے لئے بہت ہی مشکل تھا۔ بلاواسطہ اُس نمونے کو atomic plantمیں ڈالنے سے اُس کے جل جانے کا خطرہ تھا۔اس لئے اُس نے ایک مصنوعی Ice Fieldتیار کیااوراس نمونے پر اپنا تجربہ جاری رکھا۔پھر اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اُس نے دیکھا کہ وہ نمونہ ایک کثیف روشنی میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔آخرش وہ ایک کثیف روشنی کا ہیولا بن گیا۔ہیولا بالکل انسانوں سے مشابہت رکھتا تھا جو آہستہ آہستہ جسمانی شکل اختیار کرتا گیا۔اُس کی رگوں میں نامعلوم سے روشنی دوڑ رہی تھی۔اُس نے احساس کیا جیسے وہ ہیولا اُس سے ہمکلام ہونے کی کوشش بھی کررہاہو مگر اُس کے منھ سے روشنی کی لہریں ہی خارج ہورہی تھیں۔مسئلہ اُس کے سامنے یہ تھا کہ وہ خارج ہوتی ہوئی روشنی کی لہروں کو آواز میں کیسے تبدیل کرے۔اس کے لئے اُسے ناسا کے سائنسدانوں سے اُسے رجوع کرنا پڑا اور یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا۔وہ اب اُس سے باتیں کرسکتا تھا۔اُس نے پوچھا۔

’’تم کون ہو؟تم کہاں سے آئے ہو؟‘‘

ہیولا نے جواب دیا۔

’’میں آتشی مخلوق ہوں۔ہزاروں ہزار سال قبل ہماری بستیاں سورج کے باطنی حصے میں آبادتھیں۔مگر ایک طوفان نے ہماری بستیوں کو اُجاڑ دیا اور ہم سب اُس طوفان کا نوالہ بن گئے۔کہتے ہیں سورج پگھل کر ٹوٹ گیا تھا اور اُسی ٹکڑے کے ساتھ ہم سب بھی بہہ گئے تھے۔‘‘

’’کیا یہ سچ ہے کہ سورج کے باطنی حصے میں زندگی آباد تھی یا تم مجھے بے وقوف بنا رہے ہو؟‘‘

’’نہیں یہ بالکل ہی سچ ہے اور ہوسکتا ہے کہ آج بھی ہماری نسلیں وہاں آباد ہوں۔‘‘

’’کیا تم وہاں جانا چاہو گے؟‘‘

’’کائنات میں ہم آزاد مخلوق ہیں۔ہم کہیں بھی آزادانہ سفر کرسکتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ اس زمین پر اس وقت بھی آتشی مخلوق موجود ہوں مگر تم انہیں دیکھ نہیں سکتے ہو۔‘‘

’’کیا تم مجھے اپنی دنیا کا سفر کراسکتے ہو؟‘‘

’’میں ضرور کراسکتا ہوں۔اگر میں تمہاری لیباریٹری سے آزاد ہوا تو!‘‘

مگر وہ اُسے آزاد کرانے کے موڈ میں نہیں تھا۔اُس نے ناسا میں اپنے تجربے کی تفصیل بتائی مگر ناسا والے اُس کی ایجاد کو پاگل پن قرار دے کر ٹھکرا دئے۔ اُن کے مطابق زمین پر یہ تجربہ ناممکن ہے اور آتشی مخلوق کی کہانی بالکل ہی فرضی ہے بھلا سورج جو ایک جلتا ہو آگ کا سمندر ہے اُس میں زندگی کا تصور کرنا پاگل پن کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ناسا کے ذریعہ رد کئے جانے سے وہ بہت اداس ہوا مگر ہمت نہیں ہارا بلکہ اپنے اخراجات پر وہاں کے ایک سائنسداں کو اپنے یہاں بلا ہی لیا۔یہ وہی سائنسداں تھا جس نے کہا تھا کہ کائنات میں زندگی کسی دوسری شکل میں موجود ہو سکتی ہے۔ اُس کے آتے ہی وہ بہت خوش ہوا۔اُسے اپنے پروجیکٹ سے متعلق تفصیلات صرف سنایا ہی نہیں بلکہ اسے دکھایا بھی۔ناسا کے اس سائنسداں کو بہت حیرت ہوئی۔

’’آپ ہندوستانی بھی کمال کے ہیں ،اس لیباریڑری میں Nano Atomic Plantآسانی سے بیٹھا لینااوروں کے لئے بالکل ہی ناممکن ہے۔کم ازکم یہ ایجادتوپوری دنیا میں برقی انقلاب پیدا کردے گی۔اب کوئی بھی گاؤں تاریک نظر نہیں آئے گا صرف یہی نہیں اس ایندھن کو اب آسانی سے خلائی شٹل اورہوائی جہازوں، عام گاڑیوں وغیرہ میں استعمال کیا جائے گا۔‘‘

وہ اپنی تعریف سن کر بہت ہی خوش ہورہا تھا اور اسے لگ رہا تھا کہ واقعی اس نے بہت بڑا کارنامہ انجام دے دیا ہے۔جب اُس نے اُس سائنس داں کو آتشی مخلوق سے روبرو کیا تو وہ اور بھی حیرت میں ڈوب گیا۔

’’کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ آپنے ناممکن کو ممکن بنادیا ہے۔آتشی مخلوق اب سوچ ہی نہیں ہے بلکہ ایک سچ ہے جسے پوری دنیا کو اب تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔میں اس سے کلام کرنا چاہوں گا۔‘‘

’’بے شک آپ بات کرسکتے ہیں اور ان سے متعلق اپنے معلومات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔‘‘

اُس نے پوچھا۔

’’تم آتشی مخلوق ہو اس لئے کہ تم آگ ہی میں پیدا ہوتے ہو،تمہاری عمر ہزاروں ہزار سال کی ہے کیا تم بتا سکتے ہو کہ تمہاری دنیا کے ساتھ ہماری دنیا کی بھی تشکیل ہوئی تھی۔‘‘

’’ہم آج بھی آزاد امخلوق ہیں۔تمہاری دنیا ایک وقت میں ویران تھی۔ نہ یہاں زندگی تھی اور نہ ہی زندگی کی علامتیں۔‘‘

’’پھر یہاں زندگی کیسے شروع ہوئی؟‘‘

’’یہ بتانا بہت ہی مشکل ہے میں اُس وقت ابھی پختگی کے مرحلے سے گزر رہا تھا سنا ہے کہ اچانک یہاں سب کچھ ہو گیا۔‘‘

یہ سن کر وہ ہنسا اور سوچا۔

’’کیا ڈارون کا فلسفہ ارتقا ایک نظریۂ محض ہے۔یہ ممکن نہیں کہ سب کچھ اچانک ہو جائے۔شاید اسے بھی کچھ نہیں معلوم؟‘‘

اور پھر اُس نے پوچھا۔

’’کیا آج بھی تمہاری نسلیں آبادہیں؟‘‘

’’بے شک !ہماری نسلیں آباد ہوں گی۔اُن کا وجود آج بھی سورج کے کسی نہ کسی حصّے میں ضرور ہو گا۔تم مجھے آزاد کردوتو میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ اس وقت اس دنیا میں اُن کی کتنی نسلیں ابھی محفوظ ہیں۔‘‘

’’ہم تمہیں کس طرح آزاد کرسکتے ہیں؟‘‘

’’بہت آسان ہے ،تم اس تجربے گاہ سے گزرتے ہوئے کرنٹ کو منقطع کردو۔میں آزاد ہو جاؤں گا۔‘‘

’’مگر ابھی نہیں!‘‘

یہ کہتے ہوئے ناسا کے اس سائنسداں نے اُسے یقین دلایا کہ وہ اس کے تجربے کو کامیابی دلانے مین ہر ممکن کوشش کرے گا اور لوگوں کو یقین دلائے گا کہ یہ سچ ہے۔‘‘

پھر وہ روانہ ہو گیا۔ جس جہازسے وہ سفر کر رہا تھا اچانک راستے ہی میں حادثے کا شکار ہو گیا اور وہ مارا گیا۔اُس کی امیدوں کے چراغ گل ہو گئے مگر خواب پلتے رہے۔

’’وہ اپنے مشن میں کامیابی حاصل ضرور کرے گا۔‘‘

اسی یقین کے سہارے وہ دیگر آتشی مخلوق سے رابطہ کرنے کی جدوجہد میں جٹ گیا۔پھر یوں ہوا اس کے لیباریڑری میں عجیب و غریب نامعلوم سی چیزوں کا آنا جانا شروع ہو گیا گویا انجانی طاقتیں اس آتشی مخلوق کی آزادی کے لئے کوشاں ہوں۔اس نے فوراً اُس سے رجوع کیا۔

’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘

’’میں نے تم سے کہا تھا کہ اس دنیا میں بھی ہماری نسلوں کا آنا جانا لگا ہوا ہے اور یہ طئے ہوچکا ہے کہ آج بھی سورج میں ہماری آبادیاں محفوظ ہیں۔اس لئے اب تم مجھے آزاد کردو ورنہ انجام اچھا نہیں ہو گا۔!‘‘

’’جب تک تم میرے پاس ہو کوئی مجھے ہاتھ بھی لگا نہیں سکتا ہے۔ یاد کرو کہ میں نے ہی تمہیں از سرِ نو زندگی بخشی ہے اورمیں انسان ہوں کسی چیز کو بنا بھی سکتا ہوں اور اسے ضرورت پڑنے پر تباہ بھی کرسکتا ہوں۔‘‘

’’تم مجھے دھمکی دے رہے ہو!‘‘

’’جو بھی تم سمجھ لو۔‘‘

وہ آتشی مخلوق سے بات کرکے خوش نہیں تھا۔چاہتا تھا کہ وہ اس قصّے کو ابھی ہی تمام کردے مگر اس کی خواہش تھی کہ وہ پوری دنیا کو یہ باور کراسکے کہ اس کائنات میں ایک ایسی مخلوق بھی آباد ہے جس کی پیدائش آگ سے ہوتی ہے۔جو انسانوں کی طرح ایک دوسرے سے بات چیت بھی کرتے ہیں اور کائنات میں آزادانہ سفر بھی کرتے ہیں۔انہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ اُن سے باتیں بھی کی جاسکتی ہیں اور اُنہیں انسانی کام میں استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔

اس مقصد کے لئے وہ حد سے بھی گذرنے کو تیار تھا۔

’’اب اُسے کیا کرنا چاہئے؟‘‘

ایک گو مگو کی کیفیت بھی اُس پر طاری تھی۔وہ اس انکشاف کو اُس وقت تک عام کرنا بھی نہیں چاہتا تھا جب تک کہ وہ خود مطمئن نہیں ہو جاتا۔ ورنہ یہ تجربہ سچ بن کر پوری دنیا میں آگ کی طرح پھیل جائے گا اور وہ سکون سے اپنا تجربہ جاری نہیں رکھ سکے گا۔اُسے یقین تھا کہ اُس کی محنت،اُس کی کاوشیں اور اُس کی دولت جو اس پروجیکٹ پر خرچ ہورہی ہیں اُسے کامیابی سے ہمکنار ضرور کریں گی۔اب اُس کے اندر سورج میں بسنے والی مخلوق کی بستیوں کو دیکھنے کا شوق جاگا۔اُس نے آتشی مخلوق سے پھر بات چیت کی۔

’’کیا تم مجھے سورج میں بسنے والی بستیوں کا دیدار کراسکتے ہو۔‘‘

یہ سن کر وہ ہنس پڑا۔

’’خاک سے بنا ہوا انسان سورج کی بستیوں کا نظارہ کرے گا۔کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تم جل کر پھر خاک بن جاؤ گے۔تمہاری دنیا میں ایسی کوئی تیکنیک ایجاد نہیں ہوئی ہے جو سورج کے اندر بہ آسانی سما سکے۔تم محض خواب دیکھ سکتے ہو،حقیقت کا سامنا نہیں کرسکتے۔‘‘

’’تمہاری دنیا میں کوئی بھی تو طریقہ ہو گا جس سے میں وہاں کا سفر کرسکوں اور اس دنیا کو بتا سکوں کہ یہ کہانی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔‘‘

’’تمہیں معلوم ہے ہم روشنی کی رفتا رسے سفر کرتے ہیں جو تمہارے لئے ناممکن ہے۔ہاں میں تمہیں وہ سب کچھ دکھا سکتا ہوں جس کے تم متمنی ہو۔پہلے تم مجھے آزاد کرو۔میرا وعدہ ہے کہ میں تمہیں دھوکہ نہیں دوں گا اور تمہاری مدد کروں گا۔‘‘

وہ کچھ دیر تک سوچتا رہا اور پھر اُس نے وہی کیا جو آتشی انسان چاہتا تھا۔

آزادی کتنی پیاری ہوتی ہے۔ وہ آزاد ہوتے ہی مسکرایا اور اُس سے کہا۔

’’تمہیں معلوم ہے۔ تمہارے خاکی جسم کے ساتھ ایک نوری جسم بھی موجود ہوتی ہے۔وہ جسم جو روشنی کی رفتار سے بھی تیزسفر کرتی ہے مگر اُس پر تم انسانوں کا کوئی بھی اختیار نہیں ہے۔میں اسے اپنے ساتھ لے جاؤں گا اور تم اپنے بستر پر لیٹے لیٹے سورج کی بستیوں کا خواب دیکھتے رہو گے۔آتشی انسانوں کی حرکت سے لطف اندوز ہوتے رہو گے۔‘‘

اُس کی دانائی کی باتیں سن کر وہ حیرت میں ڈوب گیااور سوچا۔

’’انسان نے ترقی کی حدوں کو عبور کرنے کا دعویٰ کرلیا مگر خود کو نہیں سمجھ پایا۔کتنے راز پوشیدہ ہیں اس جسمانی کائنات میں ابھی تک آشکار نہیں ہوپایا۔کیا یہ بھی ایک انکشاف نہیں ہے۔!‘‘

پھر اُس نے پوچھا۔

’’تمہارے اطراف میں آج کل کیا ہو رہا ہے؟کیسی سرگرمی ہلچل مچائی ہوئی ہے؟‘‘

آتشی انسان نے جواب دیا۔

’’جس سرگرمی کے لئے ہلچل مچی ہوئی تھی ،وہ ختم ہو گئی کہ تم نے مجھے آزاد کردیا ورنہ ممکن تھا کہ یہ جگہ آگ میں ڈوب جاتی اور تمہاری کہانی بھی ختم ہو جاتی۔مگر یہ میں تھا جس نے ابھی تک سب کچھ سنبھال رکھا تھا اور تمہیں زندہ رکھنے کے حق میں تھا۔‘‘

یہ سُن کر وہ اور بھی حیرت میں ڈوب گیا۔

’’کیا یہاں سب کچھ اُس کے اختیا رمیں نہیں ہے۔کیا وہ آتشی مخلوق کے شکنجے میں آگیا ہے؟‘‘

عجیب عجیب سوالات اُس کے ذہن میں اُٹھنے لگے تھے۔تجربے کی آنچ میں وہ سلگنے لگا تھا۔وہ اپنی ہی دریافت شدہ دنیا سے ڈرنے لگا تھا۔اُس نے کئی جگہ فون کئے،کئی مقامات پر فیکس کیا ،لیکن ہر جگہ سے ایک ہی جواب ملا کہ کیا تم جاگتے خواب دیکھ رہے ہو،دوسروں کو کیوں اپنی جادوئی دنیا سے محصور کرنا چاہتے ہو۔کیا یہ بے وقوفی نہیں ہے کہ تم سورج میں زندگی کی تلاش میں ہو؟کیا یہ پاگل پن نہیں ہے کہ ایسی ایک مخلوق تمہاری قید میں ہے؟جاؤ کسی ماہر نفسیات سے اپنے دماغ کا علاج کراؤ۔

اُداسی اور مایوسی کے بادل اُس کے سر پر چھانے لگے۔

اُس نے خود کوحالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیااور سورج کی بستیوں کا نظارہ کرنے کے لئے تن تنہا ہی تیار ہو گیا۔

’’اب اُسے کیاکیا کرنا چاہئے؟‘‘

’’کچھ نہیں!بس ایک خطرہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تمہارا نورانی جسم کا رشتہ اگر تم سے ٹوٹ گیا تو تم مرسکتے ہویا وہ جسم دوبارہ تمہاری طرف لوٹ کر واپس نہیں آسکتا ہے۔‘‘

’’کچھ بھی ہو،میں چلنے کے لئے تیار ہوں۔‘‘

اور پھرآتشی انسان نورانی جسم کے ساتھ محو سفر ہو گیا۔

وہ گھر میں گہری نیندسویا رہا اور خواب سے لطف اندوز ہوتا رہا۔وہ دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورج کے اطراف میں ننھے منے بے شمار میٹورائٹ چکر لگا رہے تھے۔وہ اور اندر کی طرف گیا جہاں آگ جہنم کا نظارہ پیش کررہی تھی۔

’’وہ یہاں تو جل جائے گا۔‘‘

اُس نے سوچا اور آتشی انسان نے کہا۔

’’گھبراؤ نہیں تم نور ہو۔جسے کوئی بھی آگ جلا نہیں سکتی اور کسی بھی سمندر کا پانی بجھا نہیں سکتا۔ یہ مادے کی چوتھی شکل ہے جو لافانی ہے۔‘‘

وہ جہنم نما آگ کو چیرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا اور پھر گہرے اندھیرے میں ڈوب گیا۔

’’یہ کیا ہے؟‘‘

’’ہماری دنیا کو تحفظ دیتا ہوا لائف پروٹیکٹر ہے،یہ کاربن سے بنا ہے۔‘‘

وہ اس سے بھی گذر گیا مگر اب سردی اسے چھونے لگی۔

’’اب یہ کون سا مقام ہے؟‘‘

’’یہی تو ہے جس کی وجہہ سے آتشی مخلوق کائنات میں زندہ ہیں اور جس کی وجہ سے سورج کی نکلتی ہوئی شعاعیں اندر داخل نہیں ہوپاتی ہیں اور ہم اپنی بستیوں میں آسانی سے رہتے ہیں جیسے تم انسان اپنی دنیا میں رہتے ہو۔‘‘

اب وہ سورج کے داخلی کرّہ میں اُتر رہا تھا۔

یہاں عجیب منظر تھا۔ روشنی کی دیوار ،روشنی کی چھتیں اور روشنی سے بنی جگہ بہ جگہ انوکھی چیزیں اسے حیران کررہی تھیں۔

کیا روشنی قید کرنے کی چیز ہے؟

اُس نے صرف سوچا اور اُسے جواب مل گیا۔

’’کیا تمہیں نہیں معلوم کہ روشنی میں طاقت ہوتی ہے اور ہر طاقت ور چیزکو استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ یہاں روشنی ٹھوس شکل میں پائی جاتی،یہاں روشنی رقیق شکل میں بھی موجود ہے جو کائنات میں کہیں بھی پائی نہیں جاتی ہے۔‘‘

وہ اب روشنی کے شہر میں اُتر چکا تھا۔آتشی مخلوق سے مل رہا تھا۔

یہ مخلوق بھی جنس لطیف اور جنس کرخت پر مشتمل تھی یہاں بھی سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا کہ انسانوں کی دنیا میں ہوتا رہا ہے۔وہ یہاں کی رعنائیوں میں کھو گیا۔

اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔

زمین پر ایک زوردار زلزلہ آیا۔

پورا شہر تہس نہس ہو گیا۔وہ جہاں سویا ہواتھا منوں ٹن مٹی کے نیچے دب گیا۔اُس کی روح اٹکی ہوئی تھی۔نورانی جسم تیزی سے اسکی طرف لپکا اورسورج کی بستیوں کے رازکے ساتھ ساتھ آتشی مخلوق کی کہانی بھی زلزلے کی نذر ہو گئی۔!!!

٭٭٭