کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تئیس میل

عمر احمد بنگش


اگر گاڑی کا انجن غوں غوں  کرتا  نکلنے  کو بے چین تھا تو گاڑی کے اندر الگ ہڑبونگ مچ رہی تھی۔ سفر تئیس(23) میل  بھر کا  ہی تھا پر ہنگامہ گویا ہمیشہ سے برپا ہو اور یوں ہی جاری رہے گا۔  ویگن کا ڈرائیور پکی عمر کا، دھکم پیل سے واقف معلوم ہوتا تھا، جبھی اطمینان سے اپنی نشست پر بیٹھا سکون سے سگریٹ پھونک رہا تھا۔ گاہے بگاہے اپنے اردگرد نصب گاڑی کے رہنمائی والے آئینے ہلا جلا کر اپنے حساب سے برابر کرتا اور پھر سگریٹ کا کش لگا، چٹکی بجاتا پھر سے آئینوں کے ساتھ مشغول ہو جاتا۔ تھوڑا سُر میں آتا تو ہلکے سے گاڑی کے ایکسلریٹر کو داب دیتا اور گاڑی کا انجن کھڑے کھڑے غُوں غُوں کی آواز دے کر پھر سے بُڑبُڑ کرنے میں جُت رہتا۔

ڈرائیور، لوگوں کے ہنگامہ سے بے نیاز تھا تو ایسے کو تیسے ، لوگ بھی اس کے مشغولات کو خاطر میں نہ لاتے تھے ۔ یہی نہیں اس ویگن کی  پندرہ سواریاں اس بات سے بھی بے نیاز تھیں کہ جس گاڑی میں وہ سفر کرنے جا رہے ہیں، آیا وہ میکانکی لحاظ سے چست ہے اور اس مشین میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں۔ یہ بھروسہ کیے ، اسے ایسے ہی نظرانداز کیے اپنے ہنگامے میں مشغول تھے ۔

کوئی سامان چھت پر بندھوا رہا ہے تو دوسرا اپنی نئی نویلی دلہن واسطے ٹھنڈی برف کی ڈلیاں پسواشربت ڈھو رہا تھا۔ ایک کشمیری اپنے بچوں کی مچائی بین رونے سے بیزار ہو کر گاڑی سے ہٹ کر کھڑا تھا اور اس کی بیوی ایک طرف بچوں کو چمکارتی اور دوسری جانب اپنے سیاہ برقعے کو سنبھالنے میں خوار تھی۔ دو شرمیلے سے نوجوان لڑکے ٹکٹ خریدے بغیر ہی آن بیٹھے تھے جنھیں اڈہ منشی کے چھوٹے نے ڈانٹ کر نیچے اتارا اور ٹکٹ والوں کو حکم دے کر گاڑی میں سوار کرایا۔ دو لونڈے غالباً سیر سپاٹے واسطے آئے تھے اور بے وجہ شور سا مچا رکھا تھا۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ان کی نشست پر قہقہہ بلند ہوتا تو بالکل ان کی اگلی نشست پر براجمان بزرگ منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتے ۔ سوائے اس سفید ریش بزرگے کے ، ایک سے دوسرے ، اور تیسرے کو چوتھے کی فکر نہ تھی۔ ڈرائیور جب ہلکے سے گاڑی کا انجن غراتا تو اندر باہر تمام سواریوں پر بھیڑ سی مچ جاتی کہ گاڑی اب روانہ ہوئی کہ تب ہوئی۔

خدا خدا کر، گاڑی میں سب بیٹھ رہے اور اڈہ منشی نے گاڑی کا حساب بے باک کیا تو تئیس (23) میل سفر کا آغاز ہوا۔ ایک تبلیغی نے بلند آواز میں سب کو سفر کی دعا سنائی اور گاڑی میں بعد اس کے ایک دم خاموشی چھا گئی۔ ہنگامہ ایکدم سے تھم گیا۔ سامان لپٹ کر اپنی جگہ پر چلا گیا اور سواریاں ایک سے دوسرے میں ٹھنسی گویا دعا کے ادب میں خاموش ہو گئیں۔ ہارن چنگاڑا۔ ڈرائیور نے پیچھے ایک نگاہ دوڑائی اور گاڑی لاری اڈے کے باہر جانے والے رستے پر آگے بڑھا دی۔

پہلا میل  ایسے ہی طے ہوا۔ سوار تمام افراد خاموشی میں ڈوبے ، غرق دکھائی دیتے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر ایک اس بابت سوچ رہا ہے کہ وہ بالآخر اس سفر پر روانہ تو ہو چکے ہیں تو اس کے لیے انھوں نے کیا کیا کشت نہیں اٹھائے ؟ پندرہ لوگ،جن کا پس منظر مختلف تھا، سفر کا مقصد بھی جدا تھا، مگر جس دھکم پیل سے ہو کر وہ یہاں تک پہنچے تھے وہ ایک سا نہیں تھا۔ منزل بہرطور ایک ہی مقصود تھی اور اسی وجہ سے اکٹھے اس آہنی چھت کے نیچے جمع تھے ۔ یہاں تک پہنچنے میں ان کی کوششیں تھیں جو بالآخر بار آور ثابت ہوئی تھیں، مگر ہرسواری کا ہم نشست اس کو قسمت سے ہی ملا تھا۔فیصلہ کر،  تدبیر کے اوزار چلا،وہ گاڑی تک پہنچ  ہی گئے ۔حرام یا حلال جیسا مال تھا خرچ کر ٹکٹ تک خرید لیا مگر ہمسفر، تقدیر نے چنے ۔ اس میں وہ چاہتے تو کچھ معاملہ کر رد و بدل کر سکتے تھے ، دعا یا پھر ڈرائیور کے ذریعے اڈہ منشی کی منت کر کے  اپنی من پسند سواری کے ساتھ تشریف تو رکھ سکتے تھے ، مگر یہ ضروری نہیں کہ لازماً ایسا ہو، تقدیر آخری حرف تھا۔ پھر نصیب، کچھ اصولوں کا بھی عمل دخل یوں تھا کہ بے وجہ بین ڈالتے بچوں کی ماں، بچوں سے چھٹکارا نہیں پا سکتی تھی۔ وہ اپنے نصیب لے کر گاڑی میں سوار ہوئی تھی۔ سیر سپاٹے والے  دل سے چاہتے تھے کہ ان کو ناری جوان لڑکی کے پہلو میں بیٹھنا نصیب ہو مگر ظاہر ہے ، معاشرہ ایسا ہے تو یہ ہر گز ممکن نہیں تھا۔ تو، لے دے کر ناری کے بالکل پچھلی نشست پر بیٹھنے کا سامان کر دیا، جہاں سے اور کچھ نہیں تو کالی چادر سے جھانکتی گوری گردن اور پیٹھ کی جلد کو گرچہ دیکھ نہ سکتے تھے پر محسوس کر سکتے تھے ۔  اس حسین جسم  کی باس اپنے نتھنوں میں سمو سکتے تھے ۔ڈرائیور کے پہلو میں بیٹھے فرنٹ سیٹ پر دو بڑی عمر کے اصحاب یہاں بیٹھنے کو اپنی اہمیت سے تعبیر کرتے ، گردن میں سریا چڑھائے محسوس ہوئے ۔

دوسرے اور تیسرے میل، لوگوں کے ماحول سے آشنائی ہوتے ہی پھر سے حرکت شروع ہو گئی۔ گاڑی کے شیشے چھپ چھپاک کھلنے اور بند ہونے لگے ، بچوں کے شور میں کبھی کبھار لے مدھم اور لونڈوں کے قہقہے تھمتے تو دو سیٹ چھوڑ بیٹھے تبلیغیوں کی انسان کے اس دنیا میں وارد ہونے کی وجہ پر ہو رہی بحث صاف سنی جا سکتی تھی۔ یہ گفتگو، خالص تبرک میں لپٹی کافور کی مشک جیسی ہے ۔  اور تبھی اگر کوئی کان لگائے رکھے تو  لونڈوں کے آخری قہقہے کی وجہ بھی بتا سکتا ہے ۔ یہ اس لطیفے کا ذکر کر رہے ہیں جب ایک فاحشہ عورت کا کسی مولوی کو ایڈز میں مبتلا کرنے کا ذکر ہو رہا تھا۔ ایک ہی چھت تلے دو انتہائیں ایک ہی منزل کی جانب رواں دواں ہیں۔

چوتھے میل پر کچھ دیر سے خاموش  بچوں میں ایک ایک نے پھر سے آہستہ آہستہ بین کرتے ہوئے لے پکڑی۔ ماں اس کو بہلاتے بے بسی سے اس کے باپ کی طرف دیکھنے لگی جو سامان کو  سامنے کی سیٹ کے نیچے گھسیڑنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ پیچھے کی نشست پر ایک جوان لڑکے نے مشورہ دیا کہ وہ سامان اوپر چھت پر رکھوا دیتے تو بہتر رہتا۔ اس پر کشمیری نے جل کر جواب دیا،

"سر پر لادے گھوم تو رہا ہوں، اب کیا خود میں گھسیڑ دوں؟"

نوجوان اتنے تیکھے جواب پر کچھ سیخ پا سا ہو گیا۔ قریب تھا کہ ان دونوں کے بیچ تلخی ہوتی، باقی کے مسافروں نے معاملہ رفع دفع کروا دیا۔ بچوں کی ماں، شوہر کے سامان کو سر پر لادے پھرنے کا  پیغور، طنز سمجھی تو بجھ سی گئی اور بعد اس کے بین کی لے تیز ہو یا معدوم پڑ جائے اس نے   بچے چمکارنا بند کر دیا۔

اگلے چند میل، گاڑی فراٹے بھرتے ہوئے بھاگتی رہی۔ راستہ ہموار، حالات موزوں اور ڈرائیور نہایت مہارت سے انجن کی رفتار کے پرت کھولے جا  رہا تھا۔  شہر سے خاصے باہر نکل کر منظر دلفریب ہونا شروع ہوا تو لونڈے ابھی سے سیر سپاٹے میں مشغول ہو گئے ۔ بچے فراٹے بھرتی گاڑی سے محظوظ ہونے لگے اور باقی افراد چونکہ بے غم تھے تو ان موضوعات کو چھیڑ کر بیٹھ گئے جن سے ان کا قطعاً کوئی سروکار نہیں تھا۔ یہ چھ آٹھ میل، کچھ ایسے بیتے کہ وقت  کا کچھ اندازہ نہ ہوا۔ ایک لمحے کو تو ایسے لگا کہ فٹ سے بقایا سفر بھی یوں ہی طے ہو گا، طمانیت ہمیشہ ایسے ہی برقرار رہے گی اور حال جوں کا توں رہے گا۔ ہر سواری  خوش تھی۔ یہاں تک کہ کنبے سے بیزار کشمیری اب سنبھل گیا تھا اور بڑھ چڑھ کر گفتگو میں حصہ لینے لگا۔ نوجوان جس نے سامان بارے لقمہ دیا تھا، کرودھ تھوک رہا اور ماں پر بچوں پر جانے کیسے محبت واپس در آئی تھی۔ یہ اب اپنی پوٹلی سے کھانے کی چیزیں نکال نکال بچوں میں بانٹتے جا رہی تھی۔ بچے بھی مزے سے میٹھی گولیاں، ابلی چھلیاں اور بھنے چنے چباتے ، اٹھکیلیاں کرتے گاڑی کی غُوں غوُں جیسا ہلکارے لے رہے تھے ۔ ڈرائیور، جوں کا توں سنجیدگی سے گاڑی بھگائے جا رہا تھا اور اس کو پیچھے کی نشستوں پر پھیلی طمانیت سے چنداں غرض نہ تھی بعینہ ویسے ہی جیسے اس کو پہلے کے ہنگام اور پھر خاموشی سے کچھ واسطہ نہیں رہا تھا۔

یہ تیرہواں  میل تھا جب سڑک میں بل آنا شروع ہوئے ۔ گاڑی میں دھرے لوگوں اور سامان کا توازن کبھی یوں اور پھر دوسری جانب لڑھکنے لگا۔ جیسے جیسے گاڑی آگے اونچائی کی جانب بڑھتی جاتی تھی گاڑی کی رفتار دھیمی پڑتی رہی اور پھر نوبت رینگنے تک آ گئی۔ انجن جی جان کا زور لگا کر گاڑی اور مافیہا کو کھینچنے کی جست میں گلا پھاڑے جا رہا تھا۔ اوپر ہی اوپر چڑھتے ، بل کھاتے موڑوں میں کبھی دائیں تو پھر بائیں جھکاؤ آتا۔ وقت تھا گویا تھم سا گیا ہو۔ گاڑی کی فضا بوجھل ہونا شروع ہو گئی۔ بحث اب گھمبیر ہو گئی اور بات لعن طعن تک پہنچ گئی۔ وہ جو تھوڑی دیر پہلے تک شیر و شکر بات کیے جاتے تھے ، ایکدم سے حالات کو کوسنے دینے لگے ، اور کچھ نے سُر میں تال ملکی قیادت کو غلیظ القابات نواز کر جوڑی۔  بچے ، اب بین تو نہیں کر رہے تھے ۔ بس، مسلسل جھول اور پے در پے موڑوں کا اثر یہ ہوا کہ ابھی ابھی کھائی سوغاتیں ایک ایک کر کے قے کی صورت واپس اگلتے جاتے اور ان کا باپ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ڈرائیور سے منمنا کر کاغذ کی گتھیاں طلب کرتا اور بچوں کو قہر بھری نظروں سے دیکھتا جاتا۔ بچوں کی ماں کھسیانی سی ہو کر پوٹلیاں   سامان میں اور کاغذ کی بھری تھیلیاں باہر ہوا میں اچھالتی رہی۔ لونڈوں کی دلچسپی منظر میں اب بھی برقرار تھی مگر اب وہ زیادہ توجہ سنگ میلوں پر دے رہے تھے ۔ اس رینگ پن سے ان پر کچھ بیزاری سی چھائی تو وہ بے چین سے ہو گئے ۔ جیسے ہی سڑک پر کوئی سنگ میل نظر آتا تو بیک وقت چلاتے ، جیسے ۔۔۔

"آٹھ میل رہ گیا!"۔

اگلی نشست کے بزرگ بڑبڑاتے اور یہ پھر سے چیڑ کے درختوں میں کھو جاتے ۔

"سات میل، اور بس!"۔ اب بزرگ بڑبڑائے اور ڈرائیور کے ساتھ براجمان صاحب نے جملہ کسا،

"مشٹنڈوں کو دیکھو، یہ نہیں سہہ پا رہے اور ارادہ  اسی میل مزید سفر کا ہے ۔"

دائیں والے نے بالکل برا نہیں منایا اور گلا پھاڑ کر قہقہہ بلند کیا اور بیچ اس کے کہا،

"بزرگو، ان کھائیوں سے کیا ڈرنا۔ بس عادت نہیں ہے ۔۔۔۔"

آگے کی بات کی کسی کو بھنک نہیں لگی ورنہ وہ منہ نیچے جھکا کر دبی آواز میں پہاڑوں اور ان میں بسنے والوں کی شان میں حرام کے نطفے کا کچھ عمل دخل بیان کر رہا تھا۔

ڈرائیور  کی سنجیدگی اس دوران دیکھنے لائق تھی، وہ اپنی سر دھڑ کی بازی لگا کر ان بل کھاتے موڑوں سے گاڑی کو صاف نکال لانے کو اپنی بھرپور کوشش کر رہا تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس کا دھیان بٹا نہیں اور منزل کھوٹی ہوئی نہیں۔ پندرہ سوار، تئیس (23) میل کے اس سفر کا یہ حال دیکھ، اپنے اپنے انداز میں واویلا کیے جاتے تھے مگر چھوڑ دینا ان کے بس میں نہیں تھا۔ جیسے گاڑی چیونٹی کے جیسے رینگ رہی تھی، ہر سوار بھی خود کو جیسے کھینچ کھینچ کر اس کے ساتھ پار کرا رہا تھا۔

انجن چنگاڑتے چنگاڑتے تھکا سا لگ رہا تھا اور ویسے ہی ہر سوار جیسے ہمت کا پلو چھوڑنے والا تھا کہ تب اٹھارہویں میل پر سب ہوا ہو گیا۔ چوٹی پر پہنچتے ہی گویا سب شانت ہو گیا اور ایک میل کا سفر اوپر کے میدان میں یوں طے ہوا کہ مثال خلا میں ہوں۔ ایکدم سے سارا غبار چھٹ گیا۔ وہ  انجن جو لمحے پہلے چنگاڑ کر جان چھڑاتا معلوم پڑتا تھا، اب وجود ہی نہ رکھتا ہو۔ ہوا کے تھپیڑے منہ پر ایسے لگتے جیسے لوری سناتے ہوں، چوٹی کے دونوں طرف کھائیاں تھیں اور منظر ایسا کہ دل مچل جاتا۔ جی چاہتا کہ اچھل کر اس سب کو خود میں سمو لیں۔ لونڈے جو اس واردات پر انگلیاں منہ میں دبائے بیٹھے تھے ، ان میں سے ایک بے ساختہ بولا، "سالی، لائف یہاں ہے ۔ ٹو فور سیون ہنی مون ہے ، ہنی مون!"  دوسرے نے دم بخود کھڑکی سے باہر نکل کر چیڑ کے جنگل میں صاف شفاف ہوا پھیپھڑوں میں بھری تو واپس اس دھڑام سے نشست پر گرا، جیسے شرابوں کے کنستر انڈیل بیٹھا ہو۔ سیاحوں کی اس حرکت پر گاڑی میں اب کے ان کی بجائے باقی سواریوں کے قہقہے بلند ہوئے ۔ خود اعتماد  لونڈے جھینپ سے گئے ۔

انیسویں میل پر   ڈرائیور نے سگریٹ سلگا لی اور خراماں خراماں اترائی میں گاڑی اسی رفتار سے اتارنے لگا جس تیزی سے وہ اس چوٹی پر پہنچا تھا۔دونوں جانب کا فرق یہ تھا کہ جب اونچائی کے لیے یہ گاڑی رواں تھی تو کسی کو اس خمار، خلا کا علم نہ تھا جو چوٹی پر ان کے لیے تیار تھا، مگر اب آہستہ آہستہ جب یہ گاڑی نیچے ڈھلک رہی تھی تو ہر کوئی اس خمار، نشہ میں تھا۔ کسی کو بھی پرواہ نہ تھی۔ سب شرابور تھے ، اور دو میل کی اترائی  نسبتاً زیادہ رینگ کر طے ہوئی پر پرواہ کس کو تھی؟ بچے اب نیند سے بوجھل، ماں کی زانوں پر سر دھرے ہوئے تھے ۔ جوان لونڈے جھوم جھوم کر ایک دوسرے کو سُر ملا کر واہیات گانے سناتے تھے اور باقی کی سواریاں دلچسپی سے انھیں جھومتے دیکھی جاتی تھی۔ مقامی سواریوں کی گردنیں تن سی گئیں کہ وہ کس جنت کے باسی ہیں اور بڑبڑاتا بزرگ جیسے اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کرتا ہو۔

آخری دو میل بچ رہے تو گاڑی میں اداسی چھا گئی۔ انجن تک کی آواز اب جیسے مغموم سی تھی۔ منزل نہایت قریب آ گئی تھی اور گاڑی ایک میدان میں دوڑے جاتے ہوئے فضا کو مزید اداس کر رہی تھی۔ پاس بہتا دریا، میدان کے کھیت کھلیان، سامنے وادی کے برف سے ڈھکے پہاڑ اور درمیان میں لکیر سی سڑک پر ایک اداس انجن، پندرہ سواریوں کو منزل پر لے کر پہنچنے کو بڑھتا جاتا تھا۔ سواریاں جو اپنا اپنا مقصد لیے ایک ہی منزل کے واسطے سوار ہوئی تھیں اور سفر شروع ہونے پر ایک دوجے سے نالاں، ہنگام برپا کیے روانہ ہوئی تھیں اب افسردہ دکھائی دیتیں۔ ایک لونڈا، کھڑکی کے شیشے سے سر ٹکائے ٹکٹکی باندھے باہر دوڑتے منظر میں کھبتا جاتا تھا اور دوجا  اپنے آگے بیٹھی ناری حسینہ کی پشت پر نظریں ٹکائیں بیٹھا تھا۔ سفر کے سارے دور میں کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ کس کمال خاموشی سے اس پردیسی بابو نے ناری پر خود کو وار دیا اور اب جبکہ سفر ختم ہونے کو تھا تو منزل پر پہنچتے ہی ان کی راہیں الگ الگ ہو جائیں گی۔  بچے سو چکے تھے اور ماں سامان سمیٹنے میں مصروف تھی۔ باپ دھیما سا ہو کر دروازے سے لگ کر بیٹھ گیا تھا۔ پیچھے کی سواریوں میں کچھ سر اگلی نشستوں پر ٹکائے سوچ میں غرق تھیں تو باقی  حسرت سے جیسے چوٹی کے حال کو یاد کیے جاتی دکھائی دیتی تھیں۔ دور برف سے ڈھکے پہاڑ، سب کے لیے یکساں سے تھے ۔ کئی پہاڑ، جن میں سے ہر ایک پر وہی حال اب بھی برپا تھا جو وہ دیر قبل محسوس کر کے آئے تھے ۔ حسرت یہ تھی کہ وہ ان کی پہنچ سے دور اور ناقابل حاصل تھے ۔

تئیس (23) میل کا سفر تقریباً مکمل ہونے کو تھا۔ پندرہ ہمسفر جن کا پس منظر جدا، مقصد علیحدہ اور منزل ایک تھی۔ کوئی دوسرے کو کچھ عطا کرنے جوگا کبھی نہیں رہا؛کسی نے ان تئیس (23) میلوں میں وصل کا مزہ چکھا تھا تو دوسرے نے اس سارے دوراں میں خاموشی طاری کیے رکھی۔ ایک باہر کے مناظر کے عشق میں مبتلا ہوا تو دوسرا منزل تک پہنچتے پہنچتے گاڑی کے اندر بٹتی محدود دانش سمیٹ چکا تھا۔ دو ایک بالکل آگے کی پرسکون نشست پر براجمان ہونے کے نشے میں گردن اکڑائے محروم رہے اور پیچھے کونے میں ہچکولے کھاتا ایک عاجز اس سب سے لطف اندوز ہو گیا۔ بچے ماں کی گود میں سہولت اورسکون جبکہ باپ کی آنکھ میں وحشت اور  مجبوری، سب دیکھ کر سو بھی لیے ۔ بزرگ جیسے بڑبڑاتے سوار ہوئے تھے ویسے ہی بڑبڑ کرتے اتر بھی گئے ۔ڈرائیور، جیسا بے تعلق اور سنجیدہ سوار ہوا تھا ویسے ہی بے نیاز اپنا کام کر کے نکل گیا۔ کسی نے دوسرے کو کچھ عطا نہیں کیا۔ چاہتے ، نہ چاہتے ۔۔۔ گاڑی رواں دواں رہی، منزل پر پندرہ کے پندرہ ہنکائے ہوئے پہنچائے گئے ۔

اہم، وقت تھا جو سب کا بٹا۔ حال جو سب پر یکساں طاری ہوا مگر رد عمل، جدا رہا۔

٭٭٭