کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ریل تال

عمر احمد بنگش


"میں نے ریل پر سفر نہیں کیا پر اسے ٹھک ٹھک کرتے جاتے دیکھا ہے ۔" صفوت مجھے بتا رہا تھا کہ، "پھاٹک یا پھر سڑک کے پاس سے پٹڑی پر گزرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ملتان سے مظفرگڑھ کی جانب نکلو تو شیرشاہ بائی پاس پر ریل کی پٹڑی اور سڑک کئی میل تک ساتھ چلتے ہیں۔ ریل گزر تے ہوئے کئی بار اپنی گاڑی کی رفتار بڑھا دی کہ اس کے ساتھ دوڑ سکوں۔ لمحہ بھر کو ایسا ہوتا ہے کہ ریل اور گاڑی ایک ہی رفتار سے چلتے ہیں اور پھر ریل کی پٹڑی مڑتی جاتی ہے ۔ آپ ایک جانب اور ریل دوسری طرف بڑھ جاتی ہے ۔"  میں اکتایا سا اس کو سن  رہا تھا، "ریل بڑی عجیب چیز ہوتی ہے ، پھس پھس کرتا انجن بوگیوں کے لوہے کو نیچے بچھے لوہے پر رڑھتا جاتا ہے ۔ تمھیں پتہ لنڈی کوتل یا  پھر وہاں بلوچستان میں کوئی جگہ،وہاں ریل کے آگے پیچھے دو انجن نصب ہوتے ہیں۔ اگلا انجن کھینچتا ہے اور پچھلا دھکیلتا جاتا ہے ، تو ہی ریل پہاڑوں پر اوپر ہی اوپر چل سکتی ہے ،ورنہ تو انجن آگے نکل جائے اور ریل کی بوگیاں پیچھے لڑھکتی رہیں۔ مقصد پورا ہی نہ ہو  اور نقصان۔۔۔۔"

" اوئے ۔۔۔ بھوتنی کے !" میں بالکل اکتا گیا تو ہتھے سے اکھڑا،"تو ریل پر کبھی سوار  نہیں ہوا  اور  تفصیل  ایسے  بتا رہا ہے جیسے پہلی ریل تیرے باوا نے ہی روانہ کی تھی۔ بند کر یہ چُر چُر، مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔"

اسے ٹوک کر چائے کی پیالی میں نے واپس  منہ سے لگائی تو دور کہیں ریل کی چھک چھک سنائی دے رہی تھی۔ کمرے میں بیٹھ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریل اسے نظر نہیں آئے گی پر پھر بھی وہ اچک کر کھڑکی سے لگ کر کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے منہ بھر کر گالی دی تو جھینپ کر واپس میرے پاس آن بیٹھا۔ دیر تک ہم اکٹھے رہے ، وہ مجذوب سا چُپ بیٹھا اور میرا وجود اس کے لیے غلیظ گالی بنا اس کا منہ چڑاتا رہا۔

صفوت میرا ہم عمر ہی ہو گا۔ بانکا سا، جوان آدمی۔ ہم ایک سے تھے ، ایک جیسے خیال رکھنے والے مگر اس میں بڑی خرابی تھی۔ کسی بھی شے پیچھے لگتا تو جیسے خود  اور وقت کو برباد کر نے کی حد تک  پیچھے ہو لیتا۔  اس کو پرواہ ہی نہ ہوتی کہ دنیا  اور بھی معاملات، اشیاء سے بھری پڑی ہے ۔ اس کے دماغ میں کچھ سما جاتا تو جیسے اسی کا  ہو کر رہ جاتا۔  جیسے آجکل اٹھتے بیٹھتے اس کے سر ریل گاڑیوں کا سودا سمایا ہوا تھا۔ صبح سے شام تک وہ بس ریل کی باتیں کرتا رہتا اور ہر بار  گھنٹہ دو گھنٹہ بعد مجھ سے غلیظ گالیاں سنتا تو کہیں جا کر اس کو چُپ لگتی۔ مجھے یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ جی دار بندہ تھا تبھی ہم  اکٹھے تھے ۔ کام ایک ہی دفتر میں تو اس لحاظ سے تقریباً دن کے چوبیسوں گھنٹے ساتھ بیتتے اور جلد ہی ہمارا ایک دوسرے سے طرز تخاطب آپ سے تو، تڑاک تک پہنچ گیا۔ ہم کوئی عرصہ تین سال سے ساتھ رہ رہے  تھے اور میں نے ہمیشہ ایسا ہی دیکھا۔ بیٹھے بٹھائے اس کے دماغ میں کچھ سماتا اور پھر دنوں،ہفتوں اور بسا اوقات  مہینوں وہ اسی  کا ہو رہتا۔

ایک دن جب وہ ریل کی پٹڑی کے بیچ لگی لکڑی پر خدا جانے کتنی دور کی کوڑی ڈھو ڈھو مجھ پر انڈیل رہا تھا تو میں نے اس کو ٹوکا دیا،"ابے او،شکر کر تو کسی ناری حسینہ کے پیچھے کبھی خوار نہیں ہوا۔۔۔ یہی  دیکھ ابھی، تیری ریل کی ماں کی آنکھ  بارے ہم ہفتوں سے سن رہے ہیں۔ تب تو یہ ساری زندگی کا رولا ہو جاتا۔ اللہ معاف کرے ، تجھے کون برداشت کرتا؟"

صفوت نے آنکھ میچ کر کہا،"بچے ، تو مجھے کیا جانے میں تو تہہ تک سے  نکال لاتا جس کے پیچھے لگ جاتا۔ اور دیکھ لیجیو،تیری بھابھی بھی ایسے ہی ڈھونڈ ڈھانڈ کر لاؤں گا۔پھر پھرتے رہیو، اپنے اس چہرے پر اور بھی نحوست اٹھائے ، تیری۔۔۔"تڑکہ لگا نے کو اس نے  ساتھ چُن کر گالی بھی دے ڈالی۔ میں کمینگی سے ھنسی ھنس رہا۔

اس کا کہنا تھا کہ اس کا کبھی ریل سے واسطہ نہیں پڑا مگر اسے ریلوں سے بولو تو عشق ہو گیا ہے ۔ اب بھلے ریل سے کسی کو کیا دلچسپی ہو سکتی ہے ؟ مجھے معلوم تھا کہ میں اس سے پوچھوں گا تو وہ گھنٹوں ریلوں بارے بے مصرف معلومات مجھ پر اچھالتا رہے گا اور مجال ہے کہ مجھے میرے سوال کا وہ سیدھا سادہ جواب  ایک آدھ فقرے میں دے ڈالے ۔ گھماتا پھراتا، ایک سے دوسری معلومات کو ساتھ جوڑتا۔۔۔ کہانی سی بنا کر آگے پیچھے پروتا ہوا سب کی سب باتیں بتاتا رہتا۔ اس بات کی قطعاً کوئی پرواہ نہ ہوتی کہ سامنے بیٹھا شخص شاید اس بابت واقف ہو گا یا اسے اس معلومات سے چنداں دلچسپی نہ ہو۔ صرف یہی نہیں، مثال اب کے اگر ریل سے اس  کو پتہ نہیں کیا رغبت  ہوئی تھی تو وہ ریل کو ایسے دیکھتا، اس بارے ایسے توجہ سے بات کرتا کہ کچھ پہلو تشنہ نہ صرف اس سے رہ نہ جائے ، بلکہ اس کا سامع بھی محروم نہیں جانا چاہیے ۔

کڑوا گھونٹ تھا مگر ایک دن میں نے جی کڑا کر کے اس سے پوچھ ہی لیا، "تو ریلوں بارے اتنا کاہے کو جی جلاتا رہتا ہے ۔ ریل ہے ، مسافر ڈھوتی ہے ۔ انجن بوگیاں کھینچتا ہے ، لوہے کی لمبی سی بدشکل گاڑی ہے اور کسی کو کیا دلچسپی ہو سکتی ہے اس میں؟"

صفوت شاید سُر میں تھا تو گلا کھنکار کر بولا، "ہونہہ، تو کیا جانے ریل گاڑی کیسی پیاری چیز ہے ۔ تجھے اپنی شکل جیسے ہر چیز میں نحوست ہی نظر آتی۔ یہ بھلے جیسی ہو۔۔۔ دیکھ تو سہی کیسے صبر سے چھکا چھک چھکا چھک ایک ہی رو،اپنی ہی دھن میں چلتی جاتی ہے ۔بانک پن  دیکھ اس کی، تم سڑک پر گاڑی میں جاؤ یا پیدل چلو۔۔۔ تم اس سے چال ملا سکتے ہو وہ تم سے کبھی چال نہیں ملائے گی۔" چونکہ اب وہ رواں ہو چکا تھا اور اس بار ریل کی خصلت پر بیان کر رہا تھا تو میں نے دلچسپی سے سگریٹ سلگا لیا، "ریل کی سب سے بڑی خوبی اس کی بے نیازی ہے ، وہ محبوب ہوتی ہے ۔ تم اس کے قدموں میں قدم رکھو گے اور یہ طے ہے ۔ میں اپنی گاڑی بھگا کر اس کی رفتار پکڑوں گا، وہ میری نہیں۔ پھاٹک آیا تو مجھے رکنا پڑے گا اسے نہیں۔ تم ہمیشہ اس کی زبان بولتے ہو اور وہ تمھاری زبان کبھی نہیں بولے گی۔" ادھ جلا سگریٹ مجھ سے ہتھیا یا اور مزید بولا، "ریل بانکی ہوتی ہے تو اس کی پرواہ کرنی پڑتی ہے ،  پرواہ نہ کرو گے تو دیکھو، اس کے ساتھ سے محروم ہو جاؤ گے ۔ ہر چیز ناپ تول کر بالکل اسی کے تعدد میں ہر وقت تمھیں رواں رکھنی پڑتی ہے ، جیسے وہ خود ناپ تول کر چلتی ہے ۔"

اس کی باتوں میں دلچسپی تو تھی پر اب میں  اکتا رہا تھا تو اس نے بھانپ کر بات ختم کر دی، "ریل کے ساتھ کبھی اسی کی رفتار سے چلو، اس کے رنگ میں رنگ کر تو دیکھو۔ ایکدم سے جیسے تم اور وہ ایک جان ہو جاتے ہو۔ تم بالکل  ریل سا محسوس کرتے ہو؛  بے نیاز، بانکا، من موج۔چھکاچھک چھکا چھک۔۔۔ پُوووووں!"

اس کے منہ سے اس آخری احمقانہ ریل کی آواز پر میں نے اسے غلیظ گالی دی اور سگریٹ کا ٹوٹا جو اس نے  نیچے فرش پر گرایا تھا، کوڑے کے ڈبے میں پھینکا اور محفل برخاست کر دی۔

یہ صفوت کا پاگل پن تھا۔ ہر شے جس میں اس کی دلچسپی ہوتی اس کو تہہ تک کرید کرید کر جانتا، اس بارے باتیں کرتا رہتا اور اب جیسے ریل بارے ایک فلسفہ گھڑ رکھا تھا ویسی ہی عجب خصلت  باتیں کرتا رہتا جو کم از کم میں کبھی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ ریل میرے لیے ایک سہولت تھی  مگر اس نے اسے خود کے لیے کیا سے کیا بنا لیا تھا؟ میں اس کی اس عادت سے بہت زچ رہتا۔ بات صرف سننے کی نہیں تھی، اس میں اتنا ہیجان برپا ہوتا کہ باقیوں کا جینا حرام کر دیتا۔ بھلے آپ اسے لاکھ سمجھاتے پھریں۔ وہ بسا اوقات مروت میں چوک بھی جاتا مگر باز کبھی نہ آتا۔ کتے کی دُم۔

تب ریلوں بارے ہی اپنی پرانی تال پھر سنائی۔ کہنے لگا، "کیا تم جانتے ہو ریل جیسا تم چل ضرور سکتے ہو، مگر زیادہ دیر اس کی رفتار میں رفتار نہیں ملا سکتے ۔ تم اس کے جیسے ہو سکتے ہو مگر زیادہ دیر یہ کیفیت برقرار نہیں رکھ سکتے ۔ ایسا کرو گے تو منہ کے بل گرو گے ۔ بس، وہ چند لمحے ہی ہوتے ہیں جو تم اس کے جیسے ، اس کے تعدد پر گزار سکتے ہو، نہ کم اور نہ ہی زیادہ۔ کم گزارو گے تو تشنگی اور زیادہ کی کوشش میں منہ کی کھاؤ گے ۔" اب اس کی یہ بپتا کون سمجھتا؟

اسی روز وہ  ملتان سے راجن پور جانے کو شام میں  اکیلا نکلا تو میری گالیاں سن کر ہی روانہ ہوا تھا، تب بھی سر میں ریل کی تال الاپ رہا تھا۔ کوئی گھنٹہ بھر ہی  گزرا ہو گا کہ ہسپتال سے پیغام موصول ہوا۔ صفوت حادثے کا شکار ہو گیا۔ دوڑا دوڑا ھسپتال پہنچا تو وہ شدید زخمی حالت میں ڈاکٹروں اور مشینوں کے رحم و کرم پر تھا۔ کوئی چھ گھنٹے تک میں کبھی باہر اور پھر اندر چکر لگاتا رہا اور جب رات گئے اس کی حالت کچھ سنبھلی تو مجھے بھی سنبھالا ہوا۔ اس کا  ایک بھائی کے علاوہ کوئی نہ تھا جو بیرون ملک رہائش پذیر تھا۔ اس کو اطلاع کر دی گئی۔ دو دن تک میں اس کی دیکھ بھال کرتا رہا اور جب اس کو ہوش آیا تو میں اس کے سرہانے تھا۔ ڈاکٹر اس کا معائنہ کر کے نکلے تو میں اس کے پہلو میں جا بیٹھا۔

تب، اس نے بڑی ہمت جمع کی۔ باوجود میرے منع کرنے کے وہ رک رک کر بولا،

"ریل   بھی،  زیبا جیسی ہی نکلی!"۔

"زیبا کون؟"

مجھے نظرانداز کر کے پھر گویا ہوا، "زیبا بھی ایسی تھی، بانکی بے نیاز۔" سانس پھر جمع کی، "میں اس سا ہونے کی چاہ کرتا رہا۔ اس کے رنگ میں رنگنے کی۔۔۔۔۔" صفوت کھانسنے لگا۔ میں نے اس کے سرکو سہارا دیا اور پیٹھ پر ہلکے سے تھپتھپایا  تو کچھ تھما۔ بولنے سے باز پھر بھی نہ آیا، "میں اس جیسا کبھی نہ رہ سکا۔ اس کی چال میں چلا تو مگر حال برقرار نہ رکھ سکا۔ وہ مجھ سے اپنا آپ کیونکر ہم آہنگ کرتی؟ ریل بھی، زیبا جیسی نکلی۔ ریل کے ساتھ بھاگا مگر وہ من موج، زیبا کی طرح اپنے ہی راستے مڑ گئی۔ میں پھر منہ کے بل گر گیا۔ میں سا۔۔۔"

اس کی سانس اکھڑ گئی۔  ڈاکٹر کو پھر سے طلب کیا اور کوئی دو گھنٹے بعد اس کی حالت سنبھلی تو بمشکل سلایا۔

صفوت نے پہلی بار مجھے گالی دینے جوگا بھی نہ چھوڑا تھا، اور اب جبکہ میں اس سے گھنٹوں بات کرنا چاہتا تھا۔ اس نے پہلی بار کوئی حقیقت مجھ سے بانٹی تھی۔ سیدھا جواب دیا تھا۔ میں اس کو تسلی دینا چاہتا تھا، اس کی حالت بانٹنا چاہتا تھا مگر افسوس اس رات وہ جو بمشکل سلایا گیا تھا، دوسرے دن ڈاکٹروں کی سرتوڑ کوشش پر بھی نہ جاگ سکا۔

صفوت، ریل تال کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا۔

٭٭٭