کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کنہار کا کنارہ

عمر احمد بنگش


اوپر کے پہاڑوں سے بہتا ہے اور انھی پہاڑوں میں اپنے سے بڑے دریا میں جا گرتا ہے ۔ بہت شور مچاتا ہے تو اس کے قریب ہوں یا دور، نظرانداز نہیں کر سکتے ۔  اسے سننا بہت مشکل کام ہے ، اور پھر اسی کی رفتار سے اس کے ساتھ چلتے جانا اور بھی دشوار۔ اس کی دوستی اچھی اور نہ ہی دشمنی۔ ایسا کہیے ، زیادہ  قریب ہوئے تو بہے نہیں، دور گئے تو جیے نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کنہار کسی کام کا نہیں، شور مچاتے ہوئے بس بہتا چلا جاتا ہے ۔ اکھڑ سا  ہے ۔ اپنے قریب کسی کو پھٹکنے تک نہیں دیتا، کھیت اس سے سیراب نہیں ہو سکتے اور ہنگام دیکھو تو گویا ساری دھرتی سر پر دھرے پھرتا ہو۔ بہتا اس ٹھاٹھ سے ہے جیسے اس سا دوسرا کوئی نہ ہو ھا۔ غارت ہو کہ دریا ہونے کا قرینہ اسے  ہے ہی نہیں، بپھر جائے تو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا مگر  پھر بھی لوگ ہیں کہ اس کی جانب کھنچے چلے جاتے ہیں۔

 اب میں صرف برائی کیوں کروں، نظارے میں کچھ بھلا سا ہے تو لوگ تبھی اس کی جانب متوجہ رہتے ہیں۔ سویر ہوئی نہیں اور کئی من چلے اس کے کنارے ساتھ  چشم سیوا کرتے ہیں۔ تنہائی پسندوں کی یہ شام میں پسندیدہ جا ہے تو جلوت کے مارے ، شور کے دیوانے سارا دن اس کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ جو یہاں کے مقامی نہیں تو وہ سال میں جیسے تیسے ہو سکے ایک بار پروانوں کی صورت اس کی زیارت کو پہنچتے بالضرور ہیں۔ ان دنوں میں دیکھو تو ٹولیوں کی ٹولیاں کنہار کنارے  کو آباد رکھتی ہیں۔ رونق بھلی معلوم ہوتی ہے اور یہ بل کھاتا ہوا، شور مچاتا اپنی ہی دھن میں دھنا جیسے جیسے یہ بہتا جاتا ہے لوگ اس کی چال سے مبہوت ہوئے بس اس کے کنارے بیٹھے اس کو تاڑتے رہتے ہیں۔ ہمارا کنہار بانکا سا ہے تو کوئی بھی اس موئے کو نظرانداز نہیں کر پاتا۔

بچپن میں کبھی اس کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وجہ گنوائی جاتی تھی کہ یہ قاتل کسی کو نہیں بخشتا اور بچوں کو تو بالکل بھی نہیں جانے دے ہے ، ان کو گھیر لیتا ہے ۔ جیسے اور، ویسے میں باغی۔ اس کے قریب جانے سے چُوکا نہیں۔ تپتی دوپہروں میں گھر سے نظر بچا کر نکلتا اور اس کی طرف دوڑ لگا دیتا۔ شام تک اس کے آس پاس کبھی یہاں اور تبھی وہاں، اب کے یہ پتھر پھلانگتے اور پھر پھیلی ریت میں لوٹتا اس کو شور مچاتے سنتا رہتا اور جب تھک ہار کر گھر لوٹتا،  تو اس نافرمانی پر سزا کا حقدار ٹھہرتا۔ کنہار کے لیے خوشی خوشی لاٹھیاں کھاتا اور اگلی دوپہر  پھر کنہار واسطے مچل کر دیوانہ وار کنارے پہنچ جاتا۔ خود کے قابل ہوا تو لاٹھیاں برسنا تو ترک ہوئیں مگر کنہار کا جیسے متنبہ کیا تھا، اس نے بخشا نہیں۔ میرا من شفاف لہکتی ہوئی بانکی لہروں میں اٹک کر رہ گیا۔

اس کا قصور نہیں، کنہار کنارے بیٹھ کر میں نے اس کی سفید جھاگ سے اٹھکیلیاں کی ہیں، ریت پر دراز ہو کر سگریٹ کے کش پر کش اڑائے ہیں اور اس کے دھلے پتھروں کی اوٹ میں اس سے راز و نیاز کیا ہے ۔ کنہار یاروں کا یار، دل کا دلدار اور میرے رازوں میں رازداں ہے ۔ یہ بے کار، بھلے کسی کام کا نہ ہو۔۔۔ میرا شریک بن گیا۔

ارے صرف یہی نہیں، میں نے محبت بھی تو کنہار سے ہی سیکھی تھی۔ محبوب کون ہوتا ہے ، کنہار کو دیکھ کر یاد آیا تھا۔

قصہ کچھ یوں ہے اک روز میں نے کنہار کنارے ریتلے بیلے میں دراز کیکر کی چھاوں تلے ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے مخمور، ذاتی سا سوال کیا،

"میاں، یہ جو تم بانکے بنے پھرتے ہو اور فائدہ کسی کو دو ٹکے کا نہیں پہنچاتے ۔ لوگوں کو دیکھو کہ پھر بھی تیرے واری چلے جاتے ہیں۔۔۔ تو تیری بے نیازی اور یہ رویہ کچھ غیر سا نہیں؟"

کنہار جیسے شانے اچکاتا ہو، ٹھنڈی ٹھار لہر، بیچ کے ڈھلکے پتھر کے اوپر سے مجھ  پر اڑائی اور فقط اتنا کہا،

"میں لوگوں بارے کیا جانوں، میں تو اپنے من کا موجی ہوں"۔

"تو ان کا محبوب ہے ؟"، میں نے ریت پر سیدھے بیٹھ کر سنجیدگی سے پوچھا تو وہ جھینپ گیا۔

خدا جانے اس معمولی بات پر اس کے من میں کیا سمائی؟ پورے تین دن تک بچوں کی طرح بے وجہ شور مچاتا رہا۔ اللہ غارت کرے ، کانوں میں پڑی آواز نہیں سنائی دیتی تھی۔ اور پھر اسی حالت میں چوتھے روز وادی میں وہ طوفان برپا کیا کہ سبھی عاجز آ گئے ۔ کنہار بپھر گیا۔ آبادیوں کو لتاڑتا، زمین کی مٹی کاٹتا گیا، درخت بہاتے  پورے دو دن اور تین راتیں اس نے  سب کو ہراساں کیے رکھا۔ میں بے یقینی سے بس اس کے یہ رنگ دیکھتا رہا اور اس کی اجنبیت کا کچھ بھی نہ کر سکا۔

اور جب سب شانت ہوا تو میں بجھا بجھا جا کر اس کے پہلو میں جا بیٹھا۔ کنہار نے اپنے کنارے پراتھل پتھل کر کے رکھ دیا تھا۔ اللہ کی پناہ، ایسی بے ترتیبی تھی کہ مجھے کنارے کا سارا نقشہ تک بھول گیا۔ من غصے میں بھُن گیا۔ اندازہ کرو، ساری عمر جس کنارے کے ایک ایک پتھر، ریت کی تہوں اور بیلے کے بوٹے بوٹے تک واقف تھا، دو دن میں سب غارت ہو گیا۔

خوب لعن طعن کر چکا تو یہ نہایت متانت سے میرے پیر گدگدا کر بولا،

"تو نے ایسا کیوں کیا؟"

اب یہ اس کی ادا تھی، خود اس کی محبت میں چور یا لہجے میں عاجزی، میرا دل پسیج گیا۔ سارا کرودھ ہوا ہو گیا اور من میں غصے کی جگہ بس ٹھنڈک بھر گئی۔ میں نے بے اختیار اس کی گیلی ریت سے لپٹا مار لیا۔ کنہار کی  ہر دلعزیز ٹھنڈک میری ریڑھ کی ہڈی میں  سرایت ہوئی تو میری گرمائش اس کے وجود کو پگھلا گئی۔ کنہار، دھاڑیں مار کر رویا  اور جب  من پنکھ کے جیسے ہلکا ہو چکا تو آہستگی سے ریت کی تہہ کے نیچے سے ٹھنڈی لہروں سے میری پیٹھ تھپتھائی اور تفصیل سے پوچھنے لگا،

"تو نے ایسا کیوں کیا، محبت کو میرے منہ پر کیوں لا کھڑا کیا؟" میں اس کی بات نہیں سمجھا تو ٹھہر ٹھہر کر سمجھانے لگا، "میں خوفزدہ ہو گیا تھا، سارا بانک پن ہوا ہو گیا۔۔۔ اس روز پوری رات بہتا رہا اور مجھے خبر تک نہ ہوئی کہ کب میرے اندر تلاطم برپا ہوا۔ خدا جانتا ہے کہ کیا ہوا اور صبح تک محبوب ہونے کا احساس میرے اندر اس قدر خوف بھر گیا کہ میں بے اختیار اپنے کنارے سے پھوٹ پڑا۔ تو بھی تو دیکھ، کتنا شور مچایا، تجھے پکارتا رہا مگر تو بھی تو لوٹ کر نہیں آیا اور میں نے ناحق لوگوں کو پریشان کر دیا، تو نے ایسا کیوں کیا؟"

میں لاجواب سا ہو کر چُپ چاپ اس کے پہلو سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے جسم پر لگی بھیگی ریت تک نہیں جھاڑی۔ یوں ہی واپس لوٹ آیا۔ سارے رستے تیز ہوا کنہار کی ریت کے ذروں کو سکھا سکھا کر گراتی رہی۔ اور جیسے ہی کوئی ریت کا زرہ سُوکھ کر میرے وجود سے نیچے گرتا ساتھ ہی میرا اندر بھی زرہ زرہ ہو کر بکھرتا چلا گیا۔ میں پورے دو ہفتے سامنا نہیں کر پایا۔ دور کہیں اس کا بس دھیما سا شور سنائی دیتا تھا اور بعض اوقات میں خود ایسا ماؤف ہو جاتا کہ خود کو نہ سن پاتا تو کجا اس کی آواز؟

پھر ایک روز ہمت مجتمع کی۔ گم سم، جاتے ہی اس کے یخ پہلو میں دھڑام سے گر گیا اور میرا پورا وجود اس کے لمس کی ٹھنڈک سے جمتا چلا گیا۔ یہ اس کا لمس تھا جس نے میری کنہار سے محبت پر مہر ثبت کر دی۔ میں کنہار سے دور نہیں رہ سکتا تھا، اور کنہار تھا کہ اس بات سے بپھر جاتا تھا کہ وہ میرا محبوب ہے ۔ ہم دونوں میں ہی محبت کو قبول کرنے کی ہمت نہ تھی اور محبت کو دیکھو تو وہ سامنے کھڑی ہمارا منہ چڑاتی تھی۔

تھک ہار کر نڈھال ہوئے تو کنہار ہی کہنے لگا،

"محبت ظالم ہوتی ہے ، کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ اس سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔ ایک دوجے سے فرار کی سعی  ہمیں برباد کر دے گی۔ تو خود کے اندر ہی اندر غرق ہو جائے گا اور میں ایسے ہی اپنے کناروں سے بپھر کر پھوٹتا رہا ہوں گا۔ ہمیں محبت کو قبول کرنا ہو گا۔ اس کو خود میں جگہ دینی ہو گی اور اس کے ناز اٹھانے ہوں گے ، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں"۔

میں بلند قہقہہ ہنسا تو وہ تھوڑا پریشان ہو گیا۔

"ہنس کیوں رہا ہے بے ؟" نہایت بھنا کر بولا تو میں نے اپنا سر ریت سے اٹھا کر نیچے کہنی سمو کر اس کی اٹھتی لہروں سے آنکھیں ملا کر بتایا،

"میاں، میری تو خیر ہے ۔ تجھ سے محبت ہے اور میں بندہ بشر سا ہوں۔ میرا خمیر ہی ایسا ہے تو مجھے محبت قبول کرنے میں کوئی عار نہیں۔ گھٹنے ٹیکنے میں شاید کچھ پس و پیش کروں مگر بالآخر قبول کر لوں گا، پگھل ہی جاؤں گا۔ اس اڑی کرنے والی محبت کے دامن میں گرتا چلا جاؤں گا۔ مسئلہ تمھارا  ہے ، ایک تو تم اکھڑ ہو اور پھر محبوب ہو گئے ۔ تمھاری شان نرالی اور تم خاطر میں کسی کو نہیں لاتے ۔ مجھے ، تم پر ہنسی آتی ہے ، تمھارا کیا بنے گا؟" اس پر کنہار کا رنگ فق ہو گیا۔ سٹپٹا گیا اور پھر تھوڑی دیر میں سنبھلا تو یوں بول کر ہارا کہ،

"دیکھو، مجھے قبول کرنے دو۔ مجھے گھٹنے ٹیکنے دو۔ کہاں کا محبوب۔۔۔ میں تو خود تیری محبت میں چُور چُور ہوں۔ تجھ میں اور مجھ میں کچھ بھی تو فرق نہیں رہا۔ میں اکھڑ جل ہوں تو کیا ہوا اور تم زرخیز خاک سہی تو پھر بھی کیا؟  ہم محبت کے خمیر میں گندھ کر ایک ہو جائیں تو ایک ہی ہیں۔ بانکپن، میری خصلت ہے اور بقایا رہے گی۔ میں تجھ پر واری جاؤں گا مگر دنیا واسطے وہی نکٹھو مگر سحر انگیز رہوں گا۔ اس محبت کے واسطے ، تیری بات جدا ہے ۔ تیرے لیے اپنی خصلت سے ہٹ جانا بھی مجھے درست لگے ہے ۔" اس پر میں چونک رہا تو یہ مجھے ٹوک کر پھر بولا،

"مجھے محبت قبول ہے ، مجھے تو قبول ہے ۔ اور مجھے اپنا آپ قبول ہے ۔ اب  مجھے اس سے خوف نہیں آتا۔ میں بے بس ہو گیا ہوں، بھاگ جانا کوئی حل نہیں، اس سے مزید خرابی ہو جاوے ہے ۔ تو مجھے ، اپنے رنگ میں رنگ گیا۔۔۔ میں تو میری جان اب اپنے اندر ہر دم تیری محبت کا سوندھ پن سموئے بہتا ہوں۔ میں ایسا ہی ہوں ورنہ تیرا کیا خیال ہے کہ لوگ مجھ سے نکمے پر واری کیوں چلے جاتے ہیں؟" مجھے لاجواب ہوتا دیکھ کر بھی وہ چُپ نہ ہوا۔ مزید کہنے لگا،

"میرے عزیز، ہر بار قبول کرنا مشکل رہتا ہے مگر گھٹنے میں تب ہی ٹیک جاتا ہوں جب کوئی میرے سامنے محبت لا کھڑی کرتا ہے ۔ اب تک تو بس کہو تو، تیرے لیے خود کو۔۔۔ ہر شے ، درست یا غلط سے بالاتر ہو کر تیار کیے جاتا تھا۔ مجھے قبول ہے ، مجھے تجھ سے محبت ہے !۔"

اتنا کہا اور اس نے مجھے گیلی ریت سے اٹھا کر اپنی یخ لہروں کے حصار میں بھینچ لیا۔ میرے جسم سے پھوٹتی حرارت اور اس کی لہروں کی میں دبی ہوئی محبت کی تھپکیاں ہم دونوں کو ہی دھیرے دھیرے شانت کرتی چلی گئی۔ میرا خاکی وجود کنہار کی شفاف آبی لہروں میں جیسے گُندھتا چلا گیا۔

میرے واسطے اب بھی کنہار یکتا ہے اور وہ محبوب سا ہے ۔ اب بھی کبھی کبھار بپھر جائے تو میں جان جاتا ہوں کہ ضرور پھر کسی نے محبت کو اس کے منہ پر لا کھڑا کیا ہے ۔

٭٭٭