کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کنواں کود لوں؟

عمر احمد بنگش


"بھادوں کی حبس بُری ہوتی ہے " بولی تو ناک مزید چڑھا لیا، "خواہ مخواہ کی چِپ چِپ اور پھر بندہ کہیں آنے جانے کا بھی نہیں رہتا

"آنے جانے کا کیا ہے کبھی بھی، کہیں بھی جایا جا سکتا ہے " میں نے اسے رد کیا تو بھڑ گئی،

"بدھو نہ بن۔ بارشیں شروع ہوتی ہیں تو ہوتی ہی چلی جاتی ہیں۔ آنا جانا ختم۔ بس گھر میں گھس کر بیٹھ رہو اور وہاں حبس چین نہیں لینے دیتی۔ پھر دیکھو، میں تم سے ملنے کو کیسے کیسے جتن نہیں کرتی۔ پورے ایک ہفتے بعد موقع ملا ہے ۔ گھر سے نظر بچائی، ماں کو الگ رام کیا اور پھر یہ راستہ۔ توبہ، کتنا کیچڑ ہو جاتا ہے ۔ فصل، وہ بھی پک رہی ہے تو حبس علیحدہ۔ یہ بھادوں بہت برا ہوتا ہے ، آنا جانا مشکل کر دیتا ہے ۔" اپنی بات کا رد ہونا، اسے چڑا دیتا  اور ایسے میں جب وہ بولے تو بولتی ہی چلی جاتی،

"تمھیں تو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے ۔ تم سے کون پوچھتا ہے ، وہاں  موئے موٹرسائیکل پر سوار ہوئے اور فر سے یہاں آن بیٹھتے ہو۔ کوئی روک ٹوک نہیں، منہ اٹھا کر کہیں بھی گھس جاؤ، جیسے میرے جی میں گھس گئے ۔ میں یا دوسرے تمھیں زیادہ سے زیادہ کیا کہیں گے ، لوفر؟ تمھیں کیا پتہ، مجھ سے پوچھو یہ آنا جانا کتنا مشکل ہے ، مجھے کیا کیا مسئلے ہیں؟"

"اچھا میری ماں! معاف کر دے ۔ بات نکلتی نہیں منہ سے کہ تم اچک لیتی ہو۔ ہر وقت  ہی خواہ مخواہ بھڑتی ہو"، میں جنجھلاہٹ میں بولا تو اس کو روک لگی۔ مگر پھر ایک  دم سے سیدھی ہو کر بیٹھی، تو اب کے تیور کچھ اور تھے ،

"دیکھ گڈو، تو مجھے ایسے مت کہا کر،مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔  مولویانی کہتی ہے کہ اپنی ماں سے بھڑوں تو مجھے گناہ پڑے گا، ابا کے سامنے سرتک نہیں اٹھا سکتی اور بھائی تو ہر وقت میری جان کو آتے ہیں، ہمت ہی نہیں پڑتی۔ اب تو بھی مجھے ایسا کہے  گا تو بول میں کدھر جاؤں، تجھ سے بھی نہ بھڑوں تو بتا۔۔۔ کنواں کود لوں؟" 

وہ ایسی ہی تھی۔ شوخ،  ہنستی بلا کا  اور ہر وقت۔ جلد گندمی مگر جیسے سرخی کا پرت چڑھا ہو،  اور ڈیل ڈول سے کہو تو  مومن کافر کر دے ۔ کچر  کچر زبان چلتی اور بولتی تو بس نہ کرتی، مگر پھر جب چپ لگتی تھی تو مت پوچھو۔ سایہ آ جاتا  اس پر، گندمی جلد کی سرخی دیکھتے ہی دیکھتے میلی زردی  میں  بدل جاتی اور آنکھیں اتنی گہری ہو جاتیں کہ ان میں جھانک کر دیکھنے کی تاب نہ ہوتی۔ ایسا وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہی کرتی تھی، الجھتے ہی اس کی ہر بار بات یہیں آن کر دم توڑتی کہ تجھ سے بھی نہ بھڑوں تو بتا۔۔۔کنواں کود لوں؟

نہ معلوم، یہ اس نے کہاں سے سیکھ لیا تھا، کنواں کودنا۔ تب نوک جھونک خوب ہوتی تھی، میں نے چھیڑا،

"کنواں ہی کیوں، کوئی زہر کھا مرو، کوئی پنکھا لٹک کر جیسے ؟" تو تنک کر بولی،

"ہے ہے ، میں کوئی کوہڑی تھوڑی ہوں کہ ایسی ذلیل موت مر جاؤں۔ کنواں کودوں گی یا دیکھ لیجیو، مری تو دریا میں تیرتی ملوں گی۔ دفع دور، زہر کھانا بھی کوئی موت ہوئی؟"

میں اسے کبھی جان نہیں پایا۔ جب وہ مرنے کی بات کرتی تو مجھے کجا فکر نہ ہوتی، مگر جب یہ کہتی کہ

"تجھ سے بھی نہ کہوں تو  بتا۔۔۔کنواں کود لوں؟ " تو جیسے میرے جھرجھری سی آ جاتی۔ میں ڈر جاتا۔ یہ انتہائی غیر معمولی سی بات تھی، بالخصوص جس یقین سے وہ مجھ پر یہ حق جتاتی تب یہ بالکل بھی معمولی بات نہ رہتی تھی۔

اس کی ماں گھریلو سی تھی، انٹر پڑھی ہوئی مگر اپنے بچوں کی خوب تربیت کی۔ ایک ہی بیٹی تھی، جس کو اس نے دل کھول کر، لڑ بھڑ کر پڑھایا۔ روز صبح خود اس کو حجاب میں چھپا کر، تاکید سے پڑھنے کو رخصت کرتی تھی اور سارا دن اپنی عزت کی حفاظت کو مصلٰی پر پڑی رہتی۔ ابا ٹیکس افسر تھے اور ٹھیٹھ مذہبی۔ خوددار اور حلال کما کر کھانے والا، جس کی علاقہ بھر میں ایمانداری پر لوگ منہ پر خوب عزت کرتے ، پر  پیٹھ پڑتے ہی  بیوقوف جانتے ۔دو بھائی تھے ، خوب بابو سے ، ماشاء اللہ پڑھے پڑھائے مگر بہن سے زیادہ، انھیں اس کے پردے کی فکر کھائے جاتی تھی۔ دے دلا کر یہ تھا کہ اس کی ماں اس کی ہمراز تھی جو  بات توجہ سے سنتی، اس کو سمجھتی تھی۔ مگر پھر بھی جب وہ مجھ سے کہیں الجھ جاتی تو عجب  انداز میں انتہائی جتا کر کہتی کہ،

"تجھ سے بھی نہ  کہوں تو بتا۔۔۔ کنواں کود لوں؟"

یہی نہیں، وہ نہ جانے کیسے یکدم ہی میرے قریب تر آ گئی تھی۔ ہمیں ملے بمشکل ابھی چار ماہ بھی پورے نہیں ہوئے ہوں گے کہ وہ مجھ سے ایسے گھل مل گئی، جیسے برسوں سے جانتی ہو۔ پہلی بار میں نے اسے کمپنی باغ میں دیکھا  اور جب دوسری بار وہاں گیا تو وہ میرا راستہ دیکھ رہی تھی۔ ویسی ہی، چادر میں لپٹی ہوئی وہ دیر تک چپ چاپ میرے پاس بیٹھی رہی اور پھر خود ہی اٹھ کر چل دی۔ جیسے ، خود کو حوالے کر گئ ہو۔ بغیر کہے سب کچھ طے کر کے اٹھ گئی اور میں وہیں مبہوت بیٹھا  رہ گیا۔ جیسے بن کچھ مانگے ، بغیر کسی وجہ کے غیر مشروط وہ اپنا آپ میرے حوالے کر گئی ہو۔ میں رات دیر تک  وہیں باغ کے بینچ پر بیٹھا تاریکی میں خود کو ٹٹولتا رہا۔ نجانے کیا تھا کہ تب میں ڈر کے مارے تھر تھر کانپتا رہا تھا۔ بعد اس واردات وہ دنوں تک غائب رہی، پر جب  واپس آئی تو  چنچل سی، لڑنے بھڑنے والی اور کچر کچر زبان، گندمی جلد پر سرخی کی پرت  والی۔ گھنٹوں اپنی باتیں کرتی رہی اور مجال ہے کہ مجھ سے میری بابت ایک بھی سوال کرے ۔ جیسے وہ میرے بارے سب کچھ جانتی ہے ۔ مجھے تہہ تک جانتی ہو۔ اسے میری بابت کچھ بھی پوچھنے کی حاجت نہیں ہوئی مگر بڑی توجہ سے ایک ایک تفصیل اپنی بیان کرتی چلی جاتی یہاں تک کہ میری دلچسپی ختم ہو جاتی۔

تیسری دفعہ جب وہ مجھے ملی تو آتے ہی متنبہ کیا۔

"دیکھ، میں تجھ پر واری چلی جاؤں گی۔۔۔پر مجھے جان لیجیو،  میں عام  لڑکی نہیں ہوں"۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا،"کیسی عام  لڑکی نہیں ہو؟" پہلی بار مجھے اس نے گڈو کہہ کر مخاطب کیا،

"دیکھ گڈو، میں اپنی ماں کی عزت ہوں اور ابا کی شہرت۔ بھائی میرے پردے پر واری جاتے ہیں اور میں تیرے واری چلی جاؤں گی، میرا کچھ بھی نہیں پر تو ان کا ضرور ہی خیال  کریو"۔ میں انجان بن کر بیٹھ گیا۔ پچکار کر بولی،

"مجھے بڑا مان ہے تجھ پر، مگر تجھے بتانا ضروری ہے "۔

میں بھڑک اٹھا، اپنی تربیت کا پٹارہ جھٹ سے اس کے سامنے وا کیا  اور جب لمبی بحث ختم ہوئی تو وہ یہی کہے جاتی تھی، "تجھ سے بھی نہ کہوں گی تو بتا۔۔۔ کنواں کود لوں؟" تب سے یہ اس کا معمول ہو گیا۔

میں سمجھا، اس نے یہ بحث اسی واسطے کی تھی کہ عین موقع پر وہ مجھ پر یہ حق بھی واضع کر دے ۔  اس تُرش بحث کے بعد، اہم ترین واقعہ یہ ہوا کہ اجنبیت بالکل ہوا ہو گئی۔ میں اس کے لیے گڈو ہو گیا  اور  اپنے تئیں سمجھا کہ اسے جاننے لگا ہوں،  اور میری بابت اس کے لیے بھی یہی خیال تھا  ورنہ اس کی بات کچھ اور تھی۔ وہ پہلے دن سے ہی جیسے میرے بارے پورا جان چکی تھی۔ بغیر بتائے اس کو میری ہر بات سے آگاہی تھی۔ واللہ علم، کیسے اس نے میری طبیعت تک سے آشنائی کر لی تھی۔

انھیں محبت ہو جائے تو ڈھل جاتی ہیں۔  خود کو ایسے وا کرتی ہیں کہ کُوچ کر اپنے اندر سے باقی سب کچھ نکال دیں۔ مجاور ہو جاتی ہیں، اپنا آپ تک بھلا دیتی ہیں۔ ایسے بھلا دیتی ہیں کہ آپ ان کی رُو رُو میں بس رہیں،پر آپ کو یہ دور سے کہیں، آپ پر اپنا آپ نچھاور کرتی صرف دکھائی دیتی ہیں۔  واحد رشتہ وہ رہتا ہے جو آپ سے استوار کر دیں، باقی سب سے اجنبیت تان کر آپ کی آشنا بن جاتی ہیں۔ آپ کو مرکز مان لیتی ہیں اور خود گھیر در گھیر چکر لگاتی ہیں۔ اسی وجہ سے میں اسے کبھی جان نہیں پایا، مجھے کبھی بھی وہ سمجھ نہیں آئی۔ ایک دن اسی بات کا شکوہ کیا تو بڑی  متانت سے جیسے کچھ عرض کرے ، کہنے لگی،

"گڈو، تو صرف مجھے سنا کر۔ میرے الفاظ نہیں، میری آواز۔۔۔" اور میں دیر تک ہونق بنا اسے دیکھتا رہا۔

جب من مندر میں کوئی مجھے پوجتا ہو، تو اس نشے میں کہاں سمجھ رہتی ہے کہ مخاطب کو کیا کیا مسئلے درپیش ہیں؟ محبت کی دلپذیر ٹھنڈک جب چادر تان لے تو کون جانے کہ بھادوں کی حبس کیسی بری ہوتی ہے ؟ اپنا آپ تک وار دینے والا جب موجود ہو تو کس کو پرواہ ہے کہ فاصلے کیا معنی رکھتے ہیں؟  اس نے بہت بڑی غلطی کر دی، مجھے اپنی عادت بنا لیا اور میں لت کی طرح اس کی جان کو چمٹ گیا۔

جب اندازہ ہوا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ پہلی نشانی گندمی جلد پر سرخی کے میلی زردی میں ڈھلنے کی صورت ظاہر ہوئی اور تب وہ گہری آنکھوں میں ڈرا دینے جیسا پاتال لے کر پہلے پہل یقین مگر اواخر دور میں انتہائی بے بسی سے کہتی جاتی،

"میں کہاں جاؤں، تجھ سے بھی نہ کہوں تو بتا۔۔۔ کنواں کود لوں؟"۔

٭٭٭