کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

قندیل

وقار مسعود


ہینڈز اَپ ! خبردار اگر کوئی حرکت کی تو....بولو جان پیاری ہے تمہیں ؟

ہاں !ہے پیاری....

تو پھر ہینڈز ڈاؤن....آنکھیں بند کر کے ہاتھ پیچھے باندھ لو اس کے علاوہ بدن میں جنبش نہیں ہونی چاہیے۔

اس نے خاموشی سے ہاتھ پیچھے باندھ لئے....

شاباش اب سچ سچ بتاؤ....مجھ سے کتنا پیار کرتے ہو....جھوٹ بولنے کی کوشش مت کرنا ورنہ ....فقرہ ادھورا چھوڑ دیا گیا....

زیّاد نے دونوں بازو کھول کر دائیں بائیں پھیلا دیئے اور منہ پھاڑ کر بولا....اتنا....اتنا پیار کرتا ہوں۔

ہاتھ پیچھے ہی باندھے رکھو جاہل.... کیا مرنے کا ارادہ ہے؟

ہاں ....تمہارے ہاتھوں ہی مرنے کا ارادہ ہے....میٹھے میٹھے ہاتھوں سے میٹھی میٹھی موت....

شٹ اَپ....وہ چلائی....فری ہو جاؤ....اور منہ بسور کر بیڈ پر جا کے بیٹھ گئی۔

وہ دونوں ایک دوسرے کی جان ہی تو تھے۔زیّاد اور قندیل کی جان ایک دوسرے کے جسم میں بسی تھی۔اور زیّاد کو اپنی جان پیاری کیوں نہ ہوتی۔اِسی وجہ سے اسے چار و ناچار قندیل کا ہر حکم بلا چوں چراں ماننا پڑتا تھا۔قندیل زیّاد کے ماموں کی بیٹی تھی۔قندیل نے بچپن سے اب تک ہر سانس اِسی گھر کی فضا میں لیا تھا۔ماں اسے جنم دیتے ہی چل بسی اور باپ اجنبی افراد کی گولیوں کا شکار ہو کر راہ عدم کو سدھار گیا۔اُس دن سے آج تک قندیل ماموں کے ہاں یعنی زیّاد کے ساتھ پلی بڑھی تھی۔

جب سے زیّاد کے رشتے کی بات چل رہی تھی تب سے قندیل کے سپنوں کی مشعل دن بہ دن دھیمی پڑتی جا رہی تھی۔قدموں میں سُست روی اور خیالوں میں نا شائستگی پیدا ہو رہی تھی۔وہ اکیلی کر بھی کیا سکتی تھی،صرف وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ دنیا کی آنکھ کے پسِ پردہ اندر ہی اندر ان کے دلوں میں محبت کے چراغ روشن ہیں ، عشق کی تانیں رقص کرتی ہیں۔نہ چاہتے ہوئے بھی اسے زیّاد کی شادی کے بارے میں کھسر پھسر میں شریک ہونا پڑتا، ماموں ممانی کو نت نئے مشورے دینے پڑتے،قندیل کو بچپن سے ہی سینے میں درد کی شکایت رہتی تھی۔ اب پتھروں جیسے بھاری بھاری دکھ اس کے دل پر باری باری برس رہے تھے اور وہ زیّاد کیسا لڑکا تھا کہ زبان پر خاموشی کا قفل باندھے لا پرواہ بندر کی اچھلتا پھرتا تھا۔کہتا تھا....

میری مرضی کے بغیر کون کرا سکتا ہے میری شادی....اوں ہوں ....ناممکن....تم دیکھنا کہ میری بارات تمہارے ہی در پر آئے گی۔تمہیں دلہنیا بنا کر ، ڈولی میں بٹھا کر، سجا کر اپنے گھر لے آؤں گا۔مگر افسوس کہ تم ڈولی میں نہیں بیٹھ سکتیں ....

یہ سنتے ہی قندو روشن دان کی طرح غصے سے آنکھیں کھول کر پوچھتی....کیوں ؟....اور وہ دانش مندی سے سمجھانے بیٹھ جاتا....دیکھو بھئی ....ایک ہی گھر کی اوپر والی منزل سے نیچے قدم رنجہ فرمانے کے لئے ڈولی تو نہیں منگوائی جا سکتی لیکن میں زینوں پہ ہتھیلیاں اور پلکیں بچھا دوں گا۔قالین کو گلاب پتیوں سے سجا دوں گا۔اور قندو بڑی مشکل سے اپنے منہ زور دل کو سمجھا پاتی کہ بندیا اسی کے ماتھے پر سجے گی۔

زیّاد کی غیر موجودگی میں جب رشتے کروانے والی ماسیاں بڑے زور و شور سے ممانی کو کسی لڑکی کے اوصاف گنوا کر انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتی تو قندو بڑی معصومیت سے اس لڑکی کی صورت سیرت میں خامی نکال کر اسے قطار سے باہر کروا دیتی۔ممانی کے رشتہ داروں میں بھی دور پار تک کوئی جوان جہان لڑکی نہ تھی کہ اسی کو زیّاد سے بیاہ دیتے اور قندو پر ان کی نظر ہی کیوں پڑتی۔وہ تو شروع سے زیاد کے ساتھ کھیلتی کودتی جوان ہوئی تھی۔مگر بے حس ماموں ممانی کو یہ کون سمجھا پاتا کہ بچپن سے اکٹھے پروان چڑھنے والے ایک دوسرے کے لیے اپنے مزاج بدل دیتے ہیں اور ایسا ہی تو ان دونوں کے درمیان ہوا تھا۔

پچھلے پانچ سات بر س کے کسی سرمئی موسم میں ایک دن جھجکتے ہوئے زیّاد نے اس سے کہا....قندو میں تمہارے بنا جی نہیں سکتا....اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی....اپنے جذبات کا ایسا بھونڈا مذاق بنتا دیکھ کر پہلے تو اُس کی رگِ مردانگی پھڑکی لیکن وہ شرافت سے سوالی بنا بیٹھا رہا۔پھر بولا....

قندو مجھے تم سے....لیکن گردن جھکا کر خاموش ہو گیا۔

ہاں بولو....بولو شاباش ....تم بول سکتے ہو....تم میں ہمت ہے....قندو نے اسے دلاسہ دیا....وہ ٹانگیں پلنگ سے نیچے لٹکائے بیٹھی تھی۔

زیّاد فرش پر آلتی پالتی مار کے بیٹھ گیا۔ہتھیلیاں قندو کے گھٹنوں پر رکھ کر وہاں اپنا چہرہ رکھ دیا اور گلا کھنکھار کر بولا....تم کتنی اچھی ہو نا....

وہ تو میں ہوں ....قندیل نے فضا میں ہاتھ لہرائے....

مجھے تم سے پیار ہے....پیار کرتا ہوں میں تم سے....وہ رکے بغیر بولتا چلا گیا....جیسے مال گاڑی کے ڈبے پٹڑی پر کھیلتے بچوں کی ٹمٹماتی آنکھوں کے سامنے سے ایک ایک کر کے گزرتے چلے جاتے ہیں ،اسی طرح وہ بھی کہتا چلا گیا۔

قندو نے سکون سے اس کے چہرے کو ہٹایا اور بیڈ پر لیٹ گئی۔زیّاد نے نیچے بیٹھے بیٹھے گدے پر ہی چہرہ ٹکا دیا اور کہنے لگا۔کچھ کہو نا تم بھی....

وہ آہستگی سے بولی....ہم بچپن سے پیار ہی تو کرتے آئے ہیں۔ہمارے کھیل کود، لڑائی جھگڑے،ضد اور من مانی میں محبت کا عنصر ہی تو شامل ہے۔کیا وجہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں۔دور بھی تو ہو سکتے تھے۔لازمی تو نہیں کہ ایک ہی ماحول میں دو خون اگر اکٹھے رہیں تو ان میں مماثلت پیدا ہو جائے....یگانگت پید ا ہو جائے۔مگر ایسا ہی ہوا....کیونکر ہوا....زیّاد اس کی وجہ پیار ہی تو ہے۔تم نے مجھے محبت کی مورت بنا دیا ہے۔اپنی ذات کے ذرے ذرے کو میرے جسم میں بسا دیا ہے۔مَیں مَیں نہیں تم ہوں ....تم ہو زیّاد تم ہو۔مجھ میں تم زندہ ہو۔میرا جسم میرا اور نام میرا ہے۔باقی سب کا سب تم ہو اور آئندہ یہ بات میں تمہیں کبھی نہیں سمجھاؤں گی۔وہ کروٹ بدل کر سسکیاں لینے لگی۔

اس روز کے بعد انہوں نے ایک دوسرے کو یقین دلانے کے لئے قسمیں نہیں اٹھائیں۔کوئی مصدقہ دلائل پیش نہیں کیے۔آنکھوں ہی آنکھوں میں مستقبل کے عہد و پیمان باندھ رکھے۔

ایک دن بابا نے زیّاد کو بلوایا اور بولے....بیٹا تم تو جانتے ہو کہ آج کل تمہاری شادی کی بات چل رہی ہے تو تم اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کر لو....

یہ سب اچانک....وہ چونک پڑا....لیکن لڑکی کون ہے؟

تم بے فکر رہو....کسی بہت ہی اچھے گھرانے کی سلیقہ مند لڑکی ہو گی۔

قندیل کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا....زیاد آخر کار بول ہی پڑا....

وہ مسرت کے عالم میں کمرے میں ٹہل رہے تھے۔یکدم رک گئے اور بولے....تم اتنے بڑے ہو کر بھی بچوں جیسی باتیں کرتے ہو یہ مجھے آج معلوم ہوا۔

اس میں بچگانہ بات کونسی ہے۔اس نے برا سا منہ بناتے ہوئے پوچھا۔

طفلانہ بات یہ ہے برخوردار کہ تمہاری شادی اگر اس سے کروانی ہوتی تو میں تم سے یہ کہتا کہ جلد از جلد تمہاری شادی قندو سے ہونے والی ہے مگر تم نے میری بات چیت کے دوران کہیں اس کا نام سنا؟

لیکن میں اس سے پیار کرتا ہوں بابا....ہم دونوں کا بچپن کا ساتھ ہے۔میں وہ سب کیسے بھلاؤں گا اور وہ بھی....

میں تمہاری زندگی کو رسے کے پل کے ساتھ نہیں باندھ سکتا زیّاد....کہ ہواؤں کے جھکڑ سے اکھڑ کر گہری کھائی میں بے یارو مددگار لٹکتا رہ جائے۔

لیکن اُس میں ایسی کونسی خرابی ہے بابا؟ وہ میرے ساتھ جینے کے سپنے دیکھتی ہے اور وہ ہی نہیں ، میں بھی تو شریک ہوں خواب سجانے میں ....

تو دیکھنے دو سپنے....سجانے دو محل....وہ ہماری بیٹی ہے۔ہمارا فرض ہے کہ کسی بہت ہی اچھے گھر میں اس کی شادی کروائیں۔وہ بہت خوش رہے....آگے اس کی قسمت کہ زندگی کتنے دن اس کے جسم میں بسیرا کرتی ہے۔مگر تم اس کو یکسر بھول جاؤ....

آپ مجھے نا فرمانی کرنے پر مجبور کر رہے ہیں ....

زیّاد ! وہ طیش میں آ گئے۔پھر موقع کی مناسبت کو سمجھتے ہوئے شفقت سے بولے....یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ بیمار ہے۔ذرا سی بات اس کو ہسپتال پہنچا دیتی ہے۔میں تمہاری زندگی اس کے ساتھ باندھ نہیں سکتا۔مجھے معاف کر دینا بیٹا۔میرے جیتے جی یہ ناممکن ہے اور وہ تیزی سے باہر نکل گئے۔

شِٹ....اس نے غصے سے میز پر مُکّا دے مارا۔پھر درد کی شدت سے ہاتھ کو سہلانے لگا۔یہ درد اس نے خود ہی تو پالا تھا۔ضروری تو نہیں تھا کہ وہ شروع سے اکٹھے رہتے آئے ہیں تو ایک دوسرے کی ذات میں پناہ تلاش کرتے....یہ درد اس نے خود ہی تو پالا تھا....بالکل اِس مُکّے کے درد کی طرح....

شام کو وہ قندو کو بابا کے فیصلے سے آگاہ کرنے کے لئے اس کے کمرے میں گیا تو اسے دیکھتے ہی وہ بولی....

ہینڈز اَپ....پھر دروازے سے گردن باہر نکال کر ادھر اُدھر دیکھا۔اور جھٹ سے دروازہ بند کر کے کنڈی چڑھا دی۔واپس پلٹ کر بولی....اپنی خیریت چاہتے ہو؟

ہاں ....

تو پھر آنکھیں بند کر کے ہاتھ پیچھے باندھ لو....کسی قسم کی کوئی حرکت نہیں ہونی چاہیے۔وہ اُس کے گر د گول گول گھوم کر طواف کرنے لگی۔

وہ تنگ آ کر بولا....مجھے تمہارے ساتھ ضروری بات کرنی ہے۔

چپ....جو بھی بولنا ہے اپنی آخری خواہش پوچھے جانے پر بتانا۔جان پیاری ہے نا....

ہاں ....تم تو مجھے بہت پیاری ہو....

پھر بولے....قندو نے اس کی بغل میں گدگدی کی اور وہ پتنگ کی طرح لہرایا۔

اچھا بابا....فری ہو جاؤ....بولو بتاؤکیا بات ہے....وہ کرسی پر جا کر بیٹھ گئی۔

وہ سر جھکا کر منمنایا....بابا نے ہماری شادی سے انکار کر دیا....

کیا....قندو کو ایک زور دار شاک لگا۔وہ اسپرنگ کی طرح اچھل کھڑی ہوئی اور اِدھر اُدھر ٹہلنے لگی۔آہستگی سے بڑبڑائی....تو پھر....دل میں کوئی غلط سا خیال تلملایا....اونچے سے بولی تو پھر....چند ساعتوں بعد زور سے چلّائی تو پھر اور نیچے گر پڑی....بلبلانے لگی....میرا سینہ....اف....پانی....

زیّاد بھاگ کر پانی لے آیا۔بابا کو آواز دی اور ماں بھی آ گئی۔پھر وہی تماشا دونوں نے برا سا منہ بنایا۔قندو کو ہسپتال پہنچایا گیا۔دو دن زندگی موت کی جنگ لڑنے کے بعد اسے ہوش آیا تو کانوں میں کچھ لوگوں کے باتیں کرنے کی آواز سنائی دی۔

جمال صاحب!لڑکی کو سخت ذہنی صدمہ پہنچا ہے۔دل میں نقص ہونے کے باعث اعصابی جھٹکے کا دل پر بھی اثر پڑا ہے۔

تو کیا دل کا دورہ....انہوں نے پریشانی سے پوچھا....

نہیں ....آپ جانتے تو ہیں کہ اِس کے دل میں سوراخ ہے۔

یہ سنتے ہی قندو کے حواس سو ڈگری سینٹی گریڈ پر پہنچ گئے۔وہ جھٹ سے اٹھ بیٹھی۔بے چین نظروں سے ارد گرد دیکھنے لگی۔

تمہیں ہوش آ گیا....ڈاکٹر اس کی طرف بڑھا۔تو اس نے پوچھا....ڈاکٹر صاحب میرے دل میں سوراخ ہے؟

ڈاکٹر یہ سن کر ششدر رہ گیا۔تعجب سے جمال صاحب سے پوچھنے لگا۔آپ لوگوں نے اس بیماری کے بارے میں اس کو بتا رکھا ہے۔

نہیں ....آپ لوگ باہر جا کر بات کرنے کی بجائے ادھر ہی بحث کر رہے تھے تو میں نے سن لیا۔قندو نے خود ہی جواب دیا۔

گھر واپسی پر قندیل بے حد بجھی بجھی سی رہنے لگی۔شادی بیاہ کی باتیں جو نصف مہینے سے چل رہی تھیں اب تھم سی گئیں۔دن سوکھے بادلوں کی طرح گزرنے لگے۔ایک روز وہ بلا جھجھک ماموں کے کمرے میں داخل ہو گئی۔وہ بیڈ پر لیٹے کسی کتاب کے مطالعے میں مشغول تھے۔اسے دیکھتے ہی فوراً اٹھ بیٹھے اور بولے....قندو بیٹا خیریت تو ہے آج بغیر اجازت ....

مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔اس نے درمیان میں ہی ان کی بات کاٹ دی۔

تو بولو بیٹا....

آپ اس وجہ سے میری شادی زیّاد سے نہیں کرنا چاہتے کہ مجھے دل کی بیماری ہے۔موت ہر پل تلوار کی طرح میرے سر پر لٹکتی رہتی ہے۔

نہیں قندو....ایسی کوئی بات نہیں ....

تو پھر کیا سبب ہے کہ آپ نے ایک نگاہ بھی مجھ پر نہیں ڈالی....

وہ لاجواب ہو کر دائیں بائیں دیکھنے لگے....

آپ خاموش کیوں ہیں ....مجھے بتائیے کہ مجھ میں ایسی کونسی کمی ہے ؟آپ شاید اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ میں کسی لمحہ بھی موت کی آغوش میں جا سکتی ہوں۔لیکن آپ کو خدا نے ایسی کونسی سند عطا کر رکھی ہے جو اس بات کا ثبوت ہو کہ صحت مند ہوتے ہوئے بھی آپ مجھ سے زیادہ عرصہ جی لیں گے۔

تم حدِ ادب سے باہر نکل رہی ہو....وہ طیش میں آ کر بولے....

تو ٹھیک ہے نا ماموں جی....آپ کو اتنا احساس نہیں کہ میں دنیا میں اکیلی ہوں ،ماں باپ ،بہن بھائی کا پیار کیا ہوتا ہے مجھے کچھ معلوم نہیں۔آپ کے سائے تلے جیتی آئی ہوں۔میرے دل میں جذبات کا انبار لگا ہے اور مجھے زیّاد ہی کی قربت نصیب ہوئی ہے۔میں نے اپنے د کھ درد،اور تمنّائیں اُسی کو سنائی ہیں۔اُسی نے مجھے سمجھا اور مجھ میں زندہ رہنے کی امنگ پیدا کی اور آپ زندگی کا وہ واحد سہارا بھی مجھ سے چھین لینا چاہتے ہیں۔

وہ غصے میں آ کر بولے....ہاں تمہاری بیماری کی وجہ سے میں اس کی شادی تم سے نہیں کروانا چاہتا۔میں نے ایک باپ ہونے کا فرض نبھایا ہے۔تم ہمارے گھر کا نمک کھاتی آئی ہو ،ہم نے تمہیں رہنے کے لئے چھت مہیّا کی ،تمہیں پناہ اور پہچان دی ہے۔اسی احسان کے پیش ِ نظر تمہیں چاہیے کہ ہمارے فیصلے کے آگے سر نگوں کر دو۔زیّاد سے تمہاری شادی کسی طور پر نہیں ہو سکتی۔تم خود زندہ نہیں اس کی زندگی کیوں داؤپر لگاتی ہو،روز ہسپتال سے موت کے منہ سے بچ کر آتی ہو....نا ممکن....تم اِس لائق ہی نہیں ....

یہ سنتے ہی وہ چند لمحوں کے لئے اپنی جگہ پر ساکت ہو کر رہ گئی۔پھر ہوا میں لہرا کر زمین پر آ رہی۔ابھی تو مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ موت کے شکنجے سے بچ کر گھر لوٹی تھی۔اِس سانحے کے بعد اُسے ہسپتال تک لے جانے کی مہلت بھی نہ مل سکی۔

زیّاد بند کمرے میں بیٹھا اس کی تصویر کو دیکھے جا رہا تھا۔روتے ہوئے بولا۔میری جان........تمہارے جسم میں تو میری جان تھی....مرا تو میں ہوں ....اسی خیال کے زیرِ اثر وہ دوڑتا ہوا صحن میں آیا جہاں قندو کی لاش بین کرتی عورتوں کے درمیان کفن میں سجی پڑی تھی۔وہ دور سے چلّایا....

قندو فری ہو جاؤ....دیکھو میں تمہیں اپنی آخری خواہش بتانے آیا ہوں ....اُس دن تم نے نہیں پوچھی تھی....حرکت کرو....ہلاؤاپنے ہاتھوں کو....تم تو میری جان تھی....تمہارے بدن میں تو میں بستا تھا....مرا تو میں ہوں ....تم اٹھ جاؤ....دیکھو میری جان تم میرے بدن میں زندہ ہو....پلیز کوئی تو بات کرو....تمہیں اپنی جان پیاری ہے نا....پھر پوچھ رہا ہوں تمہیں میں یعنی اپنی جان پیاری ہے تو اٹھ بیٹھو....کھولو اپنی آنکھوں کو........میں تمہیں سے شادی کروں گا....بس ایک دفعہ آنکھیں کھول دو....اور وہ سکون سے موت کی آغوش میں میٹھی اور ابدی نیند سوتی رہی۔شام آٹھ بجے اس کا جنازہ تھا۔لیکن اگلے روز فجر کے وقت گھر سے اکٹھے دو جنازے نکلے....آخر اُن دونوں کی جان ایک دوسرے کے جسم میں بسی تھی....

٭٭٭