کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

فیصلہ

وقار مسعود


کبھی کبھار سطح ورق پر رنگینیاں بکھیرتے ہوئے جیسے قلم کی نوک اچانک کسی پیچیدہ سے موضوع پر لفظ اگلنے لگتی ہے ٹھیک اسی طرح اس کی زندگی کی سڑک جو شروع سے ہی پہاڑوں پر بنے زگ زیگ راستوں کی طرح تھی اچانک ایک پرخطر موڑ مڑ گئی اور یہ موڑ مڑنے کے بعد راستہ کچھ فاصلہ طے کر کے دل سوز منزل کے قدموں میں جا کر ضم ہو گیا۔آج چوبیس تاریخ تھی۔آج منزل پر پہنچنے کا دن تھا۔آج راستہ منزل کے قدموں میں تحلیل ہو جانا تھا۔

جیسے ہی بابر نے سردار رزاق خان پر گولی چلائی اسی لمحے پولیس کی ایک وین جو پیچھے سے زوں زوں کرتی دوڑی چلی آ رہی تھی رزاق خان کی لاش کے گرد لگے مجمع کے قریب آ کر رک گئی۔پولیس کا بے موقع ٹپک پڑنا بابر کے منصوبے میں شامل نہیں تھا۔اس نے قتل کرنے کے لئے کوئی انوکھا طریقہ استعمال نہیں کیا تھا۔سردیوں کی رات تھی اور اس نے اوڑھی ہوئی چادر کی اوٹ سے گولی چلا دی تھی۔گولی نے اس لئے بر وقت اثر دکھایا کیونکہ وہ رزاق خان سے چند گز کے فاصلے پر موجود تھا۔پولیس کی گاڑی کی بے وقت آمد نے اس کے بنے بنائے پروگرام کو خاک میں ملا دیا۔لوگوں کی نظر جیسے ہی گولی چلنے والی سمت پر پڑ ی تو وہ بد حواس ہو کر بھاگ کھڑا ہوا۔داتا دربار کے ساتھ والے بازار میں داخل ہوا اور پھر چھوٹی بڑی ان گنت گلیوں نے اس کو نگل لیا۔یہ اس کا آخری قتل تھا۔

اسے جانداروں ....خاص طور سے بے حس انسانوں سے بے حد نفرت تھی۔اس نفرت کے دائرے کا آخری شکار سردار رزاق خان بنا جو کہ داتا دربار پر نذرو نیاز چڑھانے آیا تھا۔اپنے ہی میر جعفر صفت دوستوں کی مخبری سے وہ پکڑا گیا اور اسے قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔اسی لئے آج چوبیس تاریخ تھی۔آج بابر کو پھانسی ہونی تھی....دشوار گزار راستے کا اختتام ہونا تھا۔

زندگی کسے کہتے ہیں۔ اس لفظ کو بہتر انداز سے سمجھنا یا اِس کی گہرائی میں اتر کر حقائق کو جاننا بابر کے لئے آسان نہ تھا۔اُس وقت وہ بمشکل تیرہ سال کا تھا۔آٹھویں جماعت کا طالبعلم جس کو ہنسنے ،کھیلنے اور شرارتوں کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا ،زیست جیسے فلسفیانہ اور سنجیدہ موضوع پر کچے دماغ کی مشینری کو حرکت میں کیوں لاتا۔لازماً اس کے سلسلہ حیات کی شاہراہ پر کوئی ایسی اونچ نیچ ہوئی ہو گی جس کی وجہ سے وہ پتنگیں اڑانے اور کنچے کھیلنے کی عمر سے بے نیاز ہو کر کائنات میں مقصدِ حیات کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوا۔وہ پڑھائی میں طاق تھا۔کرکٹ بھی نہایت عمدہ طریقے سے کھیل لیتا تھا اور گھر سے باہر کھیلنے کودنے کا یہی وقت اس کے لئے کل مسرت کا سامان تھا۔جیسے ہی وہ گھر کی چوکھٹ پر قدم رکھتا، آواز آ جاتی....

بد ذات لڑکے! پھر اُن کتے کے پلوں کے ساتھ کھیلنے گیا تھا۔کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ اکرم خان کے بچوں کے منہ نہ لگا کر ،تجھے اُلی اور کائی کی طرح باسی کر چھوڑیں گے۔مگر تو ہے کہ پھر ان کی گلی کی طرف منہ کر کے اونٹ کی طرح دوڑا چلا جاتا ہے،تیرا باپ آنے والا ہے جا کر بازار سے دہی لے کر آ،میرے تو نصیب پھوٹے جو اس جہنم میں قدم رکھ دئیے۔ایک شوہر اور ایک ہی بیٹا....دونوں نکھٹو....

ایک شام کو وہ ریاضی سے سوال حل کر رہا تھا۔کمرے میں بجنے والے دھیمے دھیمے میوزک کے زیر اثر اس کا قلم روانی سے چل رہا تھا کہ ساتھ والے کمرے میں ماں باپ کے مابین نوک جھونک شروع ہو گئی۔لڑائی ہمیشہ ذرا سی بات پر شروع ہوتی تھی اور مار پیٹ پر آ کر ختم ہوتی تھی یعنی اس کی ماں شوہر سے مار کھا کر سارا غصہ تھپڑوں اور مکوں کی صورت میں بے وجہ اُس پر نکالتی تھی۔اِس دوران وہ کتاب الٹا کر دایاں گال میز کے بدن پر رکھے سوچوں میں گم ہو گیا۔

خادم کے ابو کتنے اچھے ہیں نا....روز اسے موٹر سائیکل پر سکول چھوڑنے آتے ہیں ،اتوار کے اتوار سیر کرانے کے لئے لے جاتے ہیں ،بازار جا کر اپنے ہاتھ سے کتابیں دلواتے ہیں ....اور میرے ابا....ہوں ....سکول میں داخل کروا نے کے بعد آج تک مجھے سکول چھوڑنے نہیں آئے۔واپسی پر لینے نہیں آئے۔یہ بھی نہیں سوچتے کہ سڑک سے کوئی لچا لفنگا بوری میں بند ہی کر لے جائے،پَر میں کیوں کسی سے ڈروں ، میں اب چھوٹا تھوڑی نہ ہوں ،اگر کسی نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی تو مار مار کر اس کا بھرکس نکال دوں گا۔جب وہ اداس ہوتا تھا تو اِس بے جان میز کے جسم کے لمس سے اس کو میٹھے جذبات کی وہ روح افزا حدت محسوس ہوتی تھی جو اس کے ماں باپ یا دوسری جاندار اشیاء اس کو نہیں دیتے تھے۔وہ انہی خیالوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ اس کی ماں غصے سے بپھری پیر پٹختے اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔تڑاخ کر کے ایک تھپڑ اس کے ریشم ایسے گال پر جڑ دیا۔اور بولی....

کمینے....تجھے ہوم ورک کرنے کا کہا تھا ....یہ نہیں کہ کمرے کو کنجر خانہ بنا کر میٹھے میٹھے سپنوں میں کھو جائے۔تیرے چاچا نے بھی نت نئی چیزیں لا کر تیری عادتیں بگاڑ دی ہیں ....خانہ خراب ہو اُس نا مراد کا.... اس کی ماں غصے میں بڑبڑاتی ٹیپ کی طرف بڑھی....اور اس کے گرم گرم آنسو لکڑی کی میز پر چشموں کی طرح بہنے لگے۔

اس کے گھر کا ماحول ایسا ہی تھا۔باپ کتابوں کے لئے پیسے دینے کے ساتھ ساتھ گالیاں بھی دیتا تھا۔کبھی کبھی تو لگتا تھا کہ وہ بن باپ پیدا ہوا ہے۔وہ سوچتا تھا کہ ابا نے اگر پیسے دینے ہی ہوتے ہیں تو محبت اور پیار سے کیوں نہیں دیتا۔ماں نے کوئی بات سمجھانی ہوتی ہے تو اپنے ساتھ چمٹا کر،چھاتی سے لگا کر چوم چوم کر لاڈ اور پیار سے کیوں نہیں سمجھاتی۔ہاتھ اور جوتی سے مار کر کیوں سمجھاتی ہے۔کیا میں اس کے بدن کا حصہ نہیں ہوں۔اس نے سن رکھا تھا کہ ہر بچہ ماں کے جسم کا حصہ ہوتا ہے اور یہاں اسے محسوس ہوتا کہ وہ بہت بڑا ہو گیا ہے۔اسے زندگی کا مفہوم سمجھ آنے لگا ہے۔مگر سب کی زندگی ایسی کیوں نہیں ہوتی۔میں تو سائنس کے فوائد پر چند سطروں سے زیادہ مضمون نہیں لکھ سکتا اتنی بڑی بڑی باتیں کیوں سوچنے لگا ہوں۔مجھے شاید بیماری ہو گئی ہے۔بڑوں جیسی باتیں سوچنے والی بیماری....

آہستہ آہستہ اسے ہر جاندار سے نفرت ہونے لگی۔وہ چیونٹیوں کو مسلنے لگا۔اپنی کتابوں سے باتیں کرتا،آئینے کے روبرو کھڑے ہو کر اپنے عکس کی آنکھوں سے آنسو پونچھتا۔اسے ہر اس بے جان چیز سے انس ہونے لگا تھا جو چپ چاپ اس کے گلے شکوے سنتی تھی۔انسانوں سے اسے ہول اٹھنے لگا تھا۔ماں باپ سے دوری ہونے لگی تھی۔دل چاہتا تھا قید خانے جیسے اس گھر سے بھاگ جائے۔

جب وہ دسویں میں ہوا تو بھی گھر میں لڑائی جھگڑے،نفرت،مار پیٹ،تنگی اور کھینچا تانی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔اتوار کو اسے چھٹی ہوتی تھی۔مگر ماں نے سختی سے اسے باہر نکلنے سے منع کیا ہوا تھا۔کہتی تھی....

خبردار جو گھر سے باہر قدم نکالا۔تیرا باپ بھی سارا دن گھر سے غائب رہتا ہے۔شام کو دو پیسے کما کر لاتا ہے،پیٹ کا تندور بھر کر ساری گرمی مجھ پر نکالتا ہے....تو بھی اس کی طرح نکما اور ہوس خور بن جائے گا۔باہر کے خبیث لوگوں سے نہ ملا کر ....

بابر یہی سوچتا رہ جاتا کہ اللہ میاں نے اسے اس دنیا میں قیدی بنا کر بھیجا ہے۔اس کی قسمت میں ہنسنا،کھیلنا کودنا نہیں بلکہ گھر کی چار دیواری میں گھٹ گھٹ کر جینا لکھا ہے۔

اِس اتوار بھی وہ باہر نہیں جا سکا۔ٹیپ اُس دن سے ماں کے کمرے میں تھی۔گانے بھی نہیں سن سکتا تھا۔صبح اٹھا تو ابا کہیں جانے کی تیاری کر رہے تھے۔کپڑے استری نہ ہونے کی چھوٹی سی وجہ پر ماں سے لڑنا شروع کر دیا۔روز مرہ کے ان ہنگاموں سے وہ تنگ آ چکا تھا۔وہ چپکے سے صحن میں چلا آیا۔تازہ تازہ صبح نے اس کے تھکے ماندے ذہن کو از حد تسکین پہنچائی۔اس نے طوطے کے لٹکتے ہوئے پنجرے کو اتارا اور ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا۔پیار سے بولا....تمہارا یہ سبز رنگ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔میری بھاری بھاری آنکھوں کو طراوت بخشتا ہے....وہ طوطے کو پنجرے سے نکال کر پیار کرنے لگا۔طوطے نے اس کی انگلی اپنی نازک سی چونچ میں دبا لی۔درد کی مزیدار سی ٹیس اٹھ کر اس کے پورے بدن میں پھیل گئی۔بہت مزا آیا....بولا.... کاٹ شوق سے کاٹ....اور کاٹ....ہاں اور زور سے .... شاباش .... اسے درد میں بہت سکون ملتا تھا....کبھی کبھی وہ شہادت کی انگلی کو دانتوں میں دبا لیتا اور اس کے بدن میں میٹھا سا کرنٹ دوڑ جاتا۔دانت رسیلے ہونٹوں میں گاڑ دیتا۔اس طرح اس کے دل کو تسکین پہنچتی تھی، سرور ملتا تھا....بلی کے بچوں اور کتوں کو ستانے میں اس کو بڑا مزا آتا تھا....

اس نے طوطے کے نرم ملائم ہڈی والے سر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔اچانک اس کی گردن کے گرد گرفت مضبوط کر دی۔جی چاہا کہ گیلے کپڑے کی طرح مروڑ کر رکھ دے مگر اس کے اندر سے کوئی بولا....اپنا غصہ اس بے زبان پر کیوں نکالتا ہے....مگر اس سے بھی اونچی ایک آواز آئی۔کیوں چھوڑے گا اسے....کیا تجھے ماں کے سینے سے لگنا نصیب ہوتا ہے۔جبکہ ماں روز اس طوطے سے گھنٹوں بیٹھی باتیں کرتی ہے۔اسے پیار کرتی ہے۔باپ تجھے کبھی سیر کرانے نہیں لے کر گیا۔ماں نے کبھی چمکار چمکار کر تجھ سے پسندیدہ کھانے کا نہیں پوچھا۔جبکہ یہ کمبخت روزانہ چاٹ مصالحوں سے تیار شدہ امرود کھاتا ہے۔ہر وقت ماں تجھے جلی کٹی سناتی رہتی ہے،مارتی ہے،خرم،علی،خادم اور حسن کے امی ابو تو ان کے ساتھ ایسا نہیں کرتے۔تیرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہے۔اس نے طوطے کو دونوں ہاتھوں میں دبایا .... بھینچا .... زور لگا کر....اور زور لگا کر اسے دبا ڈالا....بابر کا دل پھٹ رہا تھا۔جسم پر لرزہ طاری تھا۔ذ ہن میں ملے جلے خیالات ناچ رہے تھے۔دو مختلف فیصلے اس کو اپنی اپنی طرف کھینچنے لگے۔یک دم اس کو جسم میں کسی بھاری سی چیز کے بیٹھ جانے کا احساس ہوا۔طوطے کے نرخرے سے خر خر کی آوازیں نکلنے لگیں۔بابر کا پھنسا ہوا سانس نکل گیا۔اس کے دل میں کوئی چیز تڑ سے ٹوٹ گئی۔بے قرار سی روح بدن میں حلول کر گئی۔متلی سی محسوس ہونے لگی۔اس نے ایک دوسرے سے جڑے دونوں ہاتھ کھولے تو جھٹ سے کوئی چیز نیچے آ گری۔بابر پھٹی پھٹی نگاہوں سے زمیں پر پڑی طوطے کی مڑی تڑی لاش کو دیکھتا رہ گیا۔سبز رنگ اس کی بھاری بھاری آنکھوں کو طراوت بخشتا تھا۔اس کا حلق سوکھ گیا اور وہ نڈھال ہو کر زمین پر بیٹھ گیا۔یہ اس کا پہلا قتل تھا۔

یہیں سے اس کی زندگی کی سڑک نے وہ انوکھا موڑ کاٹا جس کے بعد راستہ کچھ فاصلہ طے کر کے روح فرسا منزل کے قدموں میں جا کر دم توڑ گیا۔اسی لئے آج چوبیس تاریخ تھی۔آج فیصلے پر عمل درآمد کا دن تھا۔آج اسے پھانسی ہونی تھی۔

٭٭٭