کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

نسل

وقار مسعود


نارنگ پور شہر سے کچھ کلو میٹر دور چند ہزار نفوس پر مشتمل اک سر سبز گاؤں تھا۔سائیں دین محمد،مولوی شاہ محمود،افضل حکیم اور نمبر دار علاقے کے گنے چنے معزز افراد میں شمار کئے جاتے تھے۔گاؤں اینٹوں کی اک نا ہموار سڑک کے ذریعے شہر جانے والی شاہراہ سے ملحق تھا۔گاؤں کی سڑک کے دونوں طرف لہلہاتے کھیت پھیلے ہوئے تھے۔اک کچا نالہ سڑک کے ہمراہ دور تک بہتا چلا جاتا تھا جس کا پانی بیک وقت کپڑے دھونے،ڈھور ڈنگروں کی پیاس بجھانے،اور کھیتوں کو سیراب کرنے کے کام آتا تھا۔اپنے اپنے موسموں میں گندم ، باجرے کی فصلوں کے سنہرے خوشے تازہ ہوا میں جھوم جھوم گاتے تھے۔کھیتوں کے درمیان کہیں کہیں کچے پکے مکانات بنے ہوئے تھے۔ جن میں سے چند میں ٹیوب ویل اور رہٹ لگے تھے۔آبادی شروع ہونے سے پہلے سائیں کا ڈیرہ آتا تھا۔جہاں روزانہ غروب کے بعد ہاری لوگ مل بیٹھ کر دکھ بانٹا کرتے تھے،حقے گڑگڑایا کرتے تھے،اور کبھی کبھی شراب، شباب کی محفلیں بھی جم جایا کرتی تھیں۔گاؤں کا اکلوتا بازار آبادی کے درمیان واقع تھا۔بازار میں دائیں طرف والی دوکانوں میں سے اک دوکان نورے کی تھی۔سامنے جاؤتو راستے میں کئی ٹیڑھی میڑھی گلیاں سانپ کے بِل کی طرح بَل کھاتی دائیں بائیں نکلتی جاتی تھیں۔اِنہیں میں سے ایک گلی کی نکڑ پر مسجد تھی،جس میں مولوی شاہ محمود صبح سے شام تک نیم کی چھڑی سے بچوں کی کھال ادھیڑتا رہتا۔گلی کے آخر میں اینٹوں سے بنا ایک مکان تھا، جس کی عقبی دیوار کے ساتھ بندھی د و بھینسیں صبح سے شام تک جگالی کرتی رہتیں ،اور شام ڈھلے دودھ کے کٹورے بھر دیتیں۔مکان کے مقابل سامنے گاؤں کا قبرستان تھا۔ ارد گرد فصلیں اگی ہوئی تھیں۔یہ مکان نورے کا تھا جس میں وہ اپنی ماں ”بے بے“ کے ساتھ سالوں سے رہ رہا تھا۔ نورا کوئی آ ٹھ سال کا ہو گا جب اس کا باپ دنیا سے رو ٹھ کر سامنے والے قبرستان میں جا سویا۔ ماں نے زرد موسموں اور سرد زمانوں کے ستم سہہ سہہ کر نورے کو اس قابل بنا یا تھا کہ آج وہ ایک کریانے کی دوکان کا مالک تھا۔ چار بہاریں گزرنے کو آ ئی تھیں .... نورا پار والے گاؤں سے نندنی کو بیاہ کر لایا تھا۔ نندنی کے آنے کی وجہ سے بے بے کو ہاتھ بٹانے والا ایک فرد میسر آ گیا ، اور وہ دنیا کے جھمیلوں سے بے نیاز ہو کر یاد اللہ میں مشغول ہو گئی۔دن رات سبک رفتاری سے اپنے اپنے راستوں پر گامزن تھے۔ مگر اِ ن راستوں کی منزل، جن کا انتظار نورا اور نندنی ہر نویں مہینے کرتے تھے،ابھی ان کو نہ مل سکی تھی۔ ابھی تک نندنی کی گود سونی تھی۔ بے بے بہت ضعیف الاعتقاد واقع ہوئی تھی،اس کا ماننا تھا کہ اللہ کے نیک بندوں کے توسط سے انسان خدا سے چھپڑ پھاڑ کر مانگ سکتا ہے۔وہ شب و روز کسی نہ کسی پیر، فقیر کے آستانے پر حاضری دینے کو تیار رہتی۔اب تک وہ کئی مزاروں اور آستانوں کی خاک پر ماتھا ٹیک چکی تھی ، بہت سے پیروں کی لحد کے سرہانے رکھا نمک نندنی کو چکھایا تھا مگر نندنی ہنوز اک نامکمل عورت تھی۔اس کی کو ئی اولاد نہیں تھی۔ نورے کو ماں کی یہ ضعیف الاعتقادی نہایت گراں گزرتی تھی۔ اس نے کئی مرتبہ ماں کو اِن جھوٹے پیروں ، مرشدوں کی اصلیت سے آگاہ کرنے کی کوشش کی مگر ماں سے تو تو میں میں کرنے میں ہار اسی کی ہوتی۔اور وہ بادل ِ نخواستہ بے بے کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا۔

افضل حکیم نے بارہا بے بے کو سمجھایا کہ نورے اور نندنی کا چیک اپ کروا لو شاید کسی ایک کو کوئی مرض ہو مگر بے بے اس بات سے قطعاً  متفق نہ تھی۔اول تو وہ حکیم صاحب کی حکمت و دانائی کی پھلجھڑیاں سننے کو تیار نہ تھی ،دوم اگر حکیم صاحب کی بات کو اہمیت دے دی جاتی تو وہ سر پیٹنا شروع کر دیتی۔لا محالہ ما ں کی یہ حالت دیکھ کر حکیم صاحب کو نراش کر کے ان کے اقوال زریں کو ان کے اپنے پاس رکھنے کو کہا جاتا اور نورا خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا۔

نورا خود یہ مانتا تھا کہ حکیم صاحب کو کم از کم اک دفعہ دکھا دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر ماں کی ہٹ دھرمی کے آگے اس کا بس نہیں چلتا تھا۔کچھ روز گزرے بے بے پھر کسی نئے پیر کا مزار دریافت کر آئی اور نندنی کے ساتھ مل کر سفر کی تیاری شروع کر دی۔آتے جاتے نورے نے سینکڑوں بار ماں کو اُن ڈھونگیوں اور فتنہ پرور بہروپیوں کی شر انگیز حرکات سے آگاہ کرنا چاہا مگر بے بے اللہ اللہ کا ورد کرتی،پلو میں بندھے کاغذ کے ٹکڑے کو دیکھتی جاتی جس پر مزار والے گاؤں کا پتہ لکھا ہوا تھا۔وہ کہتی تھی پیر صاحب بہت پہنچے ہوئے ہیں۔ان کی پہنچ بہت اوپر تک ہے وہ....وہاں ، اس نے دھندلی آنکھوں سے آسمان کی گہرائیوں میں اترنے کی کوشش کی کہ شاید کسی کونے کھدرے میں اللہ تعالی کان دھرے اس کے من کی بات سن رہا ہو ،ویسے بھی اس نے سن رکھا تھا.... اللہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اور یہی سوچ سوچ کر کبھی کبھی اس کے گلے کے اندر رگوں میں خارش بھی ہوتی تھی۔ بے بے بتا رہی تھی کہ اس پیر کے مرشد ایسا تعویذ دیتے ہیں کہ برسوں کی بانجھ عورت بھی ماں بن جاتی ہے۔اور دیکھنا تیرے ہاں بھی ایک گل کھلے گا۔نورا ماں کی یہ فرسودہ باتیں سن کر سر پیٹ کر رہ گیا اور بے سری کے عالم میں کمرے میں جا لیٹا....

بے بے اور نندنی تین ہی دن میں اس مزار پر حاضری دے کر، نذر و نیاز چڑھا کر واپس لوٹ آئے۔ان کی واپسی سے گھر کا ویران آنگن ثروتِ بہار کا عکس دینے لگا۔ساری رات نورا بیوی کے سرہانے بیٹھا اس سے حال احوال پوچھتا رہا،اس کے دکھی دل کو دلاسے دیتا رہا،نندنی پر خوشی کی لہر چھائی ہوئی تھی۔اک بات جو نورے نے خاص طور پر محسوس کی کہ نندنی بار بار اُس سے نظریں چرا رہی تھی۔وہ رات گزری اور پھر بہت سی راتیں گزر گئیں۔

ایک دن نورے کو نجانے کیا سوجھی کہ وہ دوکان کے کسی کام کی غرض سے شہر گیا۔شام کو تھکا ہارا واپس آیا اور بے بے کو بتایا کہ دوکان کا مزید سامان لانے کے لئے پرسوں دوبارہ جانا پڑے گا۔دو دن بعد وہ پھر شہر گیا.... واپس لوٹا تو اس کے گندمی چہرے پر  پیلاہٹ چھائی ہوئی تھی۔آنکھوں میں ویرانی کا ڈیرہ تھا۔اس کی یہ حا لت دیکھ کر نندنی پریشان ہو گئی، بار بار پو چھا ، کو ئی پریشانی ہے،مگر نورا دم سادھے بت کی مانند بس چپکے لیٹا رہا۔وہ اپنا کچھ ذاتی سامان بھی لایا تھا جو اس نے بے بے کے ہاتھ اُس صندوق میں رکھوا دیا تھا جس کو بے بے بھی کبھی نہیں کھولتی تھی۔نورے کو یہی صندوق سب سے محفوظ ٹھکانہ محسوس ہوا۔

دن گزرتے گئے، نورے کا رویہ دن بہ دن خراب ہوتا گیا۔بات بات پر لال ہو جاتا، ہر بات میں نقص نکالتا،اک دن نندنی کو پیٹ میں درد اٹھا،حکیم دیکھنے آیا تو معلوم پڑا وہ ماں بننے والی ہے۔شام کو نورا گھر آیا تو نندنی نے یہ خوشخبری اس کو سنائی۔یہ سنتے ہی اس کے حواس گم ہو گئے،دماغ کی شریانوں میں ہلچل ہونے لگی۔گلا سوکھ گیا اور وہ دیوار کا سہارا لے کر چارپائی پر جا لیٹا۔ارے کیا ہوا....نندنی اس کی طرف بڑھی مگر اُس نے خاموشی سے نندنی کو باہر پانی لانے کے لیے بھیج دیا۔اس دن کے بعد سب نئے آنے والے مہمان کا انتظار کرنے لگے۔

نورا نندنی کی خوب دلجوئی کرتا،اس کے ساتھ بیٹھ کر مستقبل کے میٹھے میٹھے خواب سجاتا،کبھی کبھی اس پر نجانے کیا مرض طاری ہوتا کہ وہ فالج زدہ مریض کی طرح ساکت کسی کونے کھدرے میں پڑا رہتا۔ پھر خود بخود ٹھیک ہو جاتا۔نویں مہینے نندنی نے ایک پیارے سے گول مٹول بچے کو جنم دیا۔اس دن نورا بہت کھویا کھویا سا لگ رہا تھا۔بے بے نے تو اس پیر کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا دئیے۔پورے گاؤں کو اس کی من گھڑت کرامات کے قصے سنائے،دیسی گھی کے لڈو بانٹے گئے، دیگ چڑھائی گئی، اور قرآن خوانی کروائی گئی....

بچے کا نام مجید رکھا گیا۔ابتدا میں نورا مجید سے کھچا کھچا رہتا مگر رفتہ رفتہ اس نے مجید کو توجہ دینا شروع کر دی،اسے پیار دینا شروع کیا ،باپ کی موجودگی کا احساس دلانا شروع کیا۔ مجید نے آہستہ آہستہ بچپن اور لڑکپن کے تمام مراحل طے کرتے ہوئے جوانی کے دور میں قدم رکھا۔نورے نے دن رات ایک کر کے اسے پڑھایا، شہر بھیجا اور اس کو انجینئر بنایا۔مجید شہر میں نوکری کرتا تھا۔اس کی دلی آرزو تھی کہ وہ لوگ گاؤں والا پرانا گھر چھوڑ کر شہر میں ایک چھوٹا سا مکان لے لیں۔اسی دوران بے بے کا انتقال ہو گیا۔وہ گھر کے سامنے والے قبرستان میں جا سوئی۔اس دن نورا بہت اداس لگ رہا تھا۔ شفقت کے سائے اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔مجید کی ضد کی وجہ سے وہ شہر آ گئے۔گاؤں کی زمیں پر مزارعے بٹھا دئیے۔گاؤں والے گھر کا فالتو سامان اونے پونے داموں بیچ ڈالا۔بچے کھچے سامان میں بے بے کا وہ صندوق بھی شامل تھا۔جس میں نورے نے اپنے کوئی قیمتی چیز سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔بے بے کے مرنے کے بعد بھی وہ اِس صندوق کو نہایت احتیاط سے رکھتا۔ نندنی یا مجید کسی کو اُس کے قریب پھٹکنے کی اجازت نہ تھی۔گاؤں کا سامان بھی شہر میں شفٹ ہو گیا۔ناقابلِ استعمال چیزیں علیحدہ کمرے میں رکھ دی گئیں۔اُن میں وہ صندوق بھی شامل تھا۔

مجید نے بارہا ماں سے اس صندوق کے بارے میں پوچھا ........اِس میں ایسا کونسا خزانہ چھپا ہے کہ ابا اس کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا۔اور نندنی جل کڑھ کر یہی کہتی۔ ہو گا تیرے دادے دادی کا کوئی زیور سامان، خاندانی مال و زر اور پھنکار کر چپ ہو رہتی....

جمعے کے روز مجید نہا دھو کر دفتر پہنچا تو اسے اطلاع ملی کہ اس کے باپ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے اور اس کو اسپتال لے جایا گیا ہے۔وہ بجلی کی تیزی سے ہسپتال پہنچا مگر سانسیں نور احمد عرف نورے کے جسم سے ہجرت کر چکی تھیں۔جو آہ و بکا ہونی تھی ہوئی،تدفین کا انتظام ہوا۔اور وہ قبر کی اندھیری کوٹھڑی میں جا سویا۔نندنی اور مجید پر کئی دن سوگواری کا عالم طاری رہا۔ دفتر میں مجید کا من نہیں لگتا تھا۔ایک روز کام میں مصروف اس کو اُسی صندوق کا خیال آیا۔گھر واپسی پر اس نے ماں سے صندوق کھولنے کی بات کی۔تجسس کی ماری نندنی ذرا سے پس و پیش کے بعد مان گئی حالانکہ شوہر نے اسے ہمیشہ وہ صندوق کے نہ کھولنے کی ہدایت کی تھی۔صندوق کا تالا توڑا گیا تو اس میں سے چند پرانے کپڑے، چاندی کے ہلکے زیورات اور کچھ تصاویر بر آمد ہوئیں۔مجید بجھ سا گیا۔کہ یہی تھا وہ سونا چاندی جس کو اتنا سنبھال سنبھال کر رکھا گیا۔ غصے میں اس نے صندوق کو الٹ دیا۔ اچانک تہہ میں بچھے اخبار کے نیچے سے کچھ کاغذ زمیں پر گرے۔اس نے غصیلے انداز سے جھک کر وہ کاغذ اٹھائے۔

پہلا کاغذ کافی بوسیدہ اور زردی مائل تھا۔وہ کسی دیسی دوا خانے کے حکیم کا لکھا ہوا پرچہ تھا۔لکھا تھا۔

جلال احمد........عمر پینتیس 35 سال........قوت ِ اولادی سے محروم....اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں ....جلال احمد اس کے دادا کا نام تھا....

اس نے جھٹ سے دوسرا کاغذ دیکھا۔یہ پیلا سا کاغذ غالباً بائیس 22سال پرانا تھا۔شہر کے کسی معروف ڈاکٹر کے ہسپتال کا پتہ درج تھا۔لکھا تھا....

نام ........نور احمد ولد جلال احمد

عمر ........چونتیس سال (34)

جنسی نظام میں نقص کے باعث قوت ِ اولادی سے محروم

مجید کا دل پھٹنے کو آ گیا۔سانسیں حلق میں پھنس گئیں۔اس نے سر اٹھا کر ماں کی طرف دیکھا جو جسم کا وزن گھٹنوں پر ڈالے، رکوع کی حالت میں جھکی ہوئی بار بار اس سے ان پرچوں کی بابت پوچھ رہی تھی....

٭٭٭