کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

جوگی

وقار مسعود


میرو بہت خوش تھا۔ پینٹ کی جیب میں اڑسے ہوئے بٹوے کا پیٹ نیلے ہرے نوٹوں سے پھولا ہوا تھا۔ آج اسے سیمو کو ڈنر پر لے کر جانا تھا ، بچوں کو فن لینڈ لے کر جانا تھا، اور اما ں ابا کے ہاں سے بھی فون آیا تھا ، کہ بیٹا بھول گئے تیرے ماں باپ زندہ ہیں۔

وہ تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا۔ اچانک اک نا مانوس سی آواز نے اس کے قدم روک دئیے۔ سامنے کافی رش سا نظر آ رہا تھا۔ فطرت انسانی ہے ، انسان ہر بات ، ہر چیز کے بارے میں یونہی بس یونہی تجسس کا شکار رہتا ہے۔ وہ بھی اس ہجوم کی طرف چل پڑا۔

پاگل پاگل۔۔۔۔۔۔ میں پاگل۔۔۔۔۔۔ تم پاگل۔۔۔۔۔۔ ہم سب پاگل۔۔۔۔۔۔ یہ دنیا پاگل۔۔۔۔۔۔ اس کے دھول سے اٹے لمبے سیاہ بال ہوا میں لمبی لمبی جھاڑیوں کی ما نند لہرا رہے تھے۔۔۔۔۔۔ اس کی قلمیں مونچھوں کی حدوں کو چھو رہی تھیں۔ اس کا گریبان زمانے کے ہاتھوں چاک ہو چکا تھا۔ وہ اک جوگی تھا۔ اس کے دونو ں لمبے بازو فضا میں پیسا کے مینار کی طرح بلند تھے۔ ہاتھوں میں پکڑی ہوئی گھنٹیاں جن کو وہ انتہائی سرعت سے اِدھر اَدھر گھما رہا تھا۔ ان کی ٹَن ٹَن اور ٹِن ٹِن آپس میں گڈ مڈ ہو کر سریلی جھنکار پیدا کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔ جیسے کالی رات میں خونی مندروں پر رقص کرنے والی چڑیلوں کے راگ اور سنگیت۔۔۔۔۔۔ اک کالی عینک والے شخص نے اس جوگی کو دس روپے کا نوٹ پکڑ ا نے کے کوشش کی تو جوگی نے وہ دس کا نوٹ واپس اس شخص کے منہ پر دے مارا۔ اور بولا۔ پاگل۔۔۔۔۔۔ تم لے لو یہ دولت۔۔۔۔۔۔ پاگل۔۔۔۔۔۔ تم پاگل۔۔۔۔۔۔ دنیا پاگل۔۔۔۔۔۔ ہم سب پاگل۔۔۔۔۔۔ اور پاگل دنیا والے۔۔۔۔۔۔ ان الفاظ کے ختم ہوتے ہی اس کے سوکھے سڑے گلے سے ایسا فلک شگاف قہقہہ نکلا جیسے مڈل سکول کے تہہ خانوں میں کالی کالی چڑیلوں کے باریک قہقہے چھوٹے دل والے بچوں کے دل دہلا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یا رات کے وقت سنگل پسلی پہرے دار کو چادر کے اندر تک دبک جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ جب سب لوگ ایک ایک کر کے سرکنے لگے تو جوگی نے اپنی تھیلی اٹھائی۔ تھیلی میں سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے تھیلی کو نوکیلا بنا رہے تھے۔ میرو جوگی کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔ اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔۔۔ جوگی نے مڑ کر اسے دیکھا تو اس کے انگارے ایسی آنکھیں میرو کے جسم کو داغتی ہوئی ، محسوس ہوئیں۔۔۔۔۔۔

مجھے تمہاری کہانی سننی ہے۔۔۔۔۔۔ میرو نے پہلے ہی داؤ پر اپنا پتہ شو کر دیا۔۔۔۔۔۔

جاؤ بابا جاؤ۔۔۔۔۔۔ کونسی کہانی۔۔۔۔۔۔ کام کرو اپنا۔۔۔۔۔۔ جوگی اپنے راستے کو ہو لیا۔۔۔۔۔۔

میرو بھاگ کر اس کے سا منے آ گیا اور انتہائی لجاجت سے بولا بابا مجھے اپنی کہانی سنا دو نا۔۔۔۔۔۔ اور پھر وہ دونوں فٹ پاتھ کے ٹھنڈے فرش پر آ کر بیٹھ گئے۔

جوگی بولا۔۔۔۔۔۔ وہ بھی اک مست دیوانہ تھا۔ اک ٹا نگ پر دھول جماتا تھا۔ لوگ ہر شام اس کے گرد جمع ہوا کرتے تھے۔ یہ کوئی آٹھ یا نو سال پہلے کی بات ہے۔

سہانی شام تھی۔ مغرب میں ہلکی ہلکی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ پرندے اپنے اپنے آشیانوں کے جانب محو پرواز تھے۔ دو چار نام کی ڈگریاں میری بغل میں دبی ہوئی تھیں جو فائل میں صرف اس لئے محفوظ تھیں کہ ان پر پلاسٹک کور چڑھا ہوا تھا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو اس دیوانے کا دھمال دیکھنے کے لیے شہد پر مکھیوں کی طرح جمع تھے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے بیوٹی پارلر سے ایک چہرہ پر نور، چشم بددور ، مجھے یاد کرنے دو۔۔۔۔۔۔ یہ کہنے کے بعد بابے نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور سوچ میں ڈوب گیا۔ کئی لمحے گزر گئے۔۔۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔۔۔ جوگی کی آواز نے میرو کو اندر تک دہلا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نکلتا ہوا قد تھا۔ لمبے سنہری بال کمر کی سطح پر لہرا رہے تھے۔ اس کی ناک لمبی مگر جاذب نظر تھی۔ اس نے ایک ادا سے چشمہ آنکھوں پر سجایا۔ دودھیا چہرے پر چھائی ہوئی بالوں کی لٹ کو اک شان بے نیازی سے پیچھے کی صرف جھٹکا دیا جیسے باد صبا نو خیز کلی کے گرد لہراتی ہے۔ اس نے اک ادا سے دائیں دیکھا۔۔۔۔۔۔ بائیں دیکھا اور پھر سامنے دیکھا۔۔۔۔۔۔ فلمی انداز سے ہاتھ چشمے تک لے کر گئی۔۔۔۔۔۔ چشمہ آنکھوں سے کھسکا کر ناک کی نوک پر ٹکایا۔۔۔۔۔۔ کسی پچاس سالہ ہیڈ مسٹریس کی طرح سر جھکا کر چشمے کی اوٹ سے اس جوگی کو رقص کرتا دیکھنے لگی۔ پھر اس نے فٹ پاتھ پر قدم رکھا۔ ڈرائیور نے چمکدار سیاہ کار کا دروازہ شاہی انداز میں اس کے لئے کھولا تو لڑکی نے ڈرائیور کے طرف دیکھے بنا انگلی سے دروازہ بند کرنے کا اشارہ کیا۔ اور ہجوم کی طرف آنے لگی۔۔۔۔۔۔ جب وہ لوگوں کے درمیان آ کھڑی ہوئی تو میں لا شعوری طور پر کھسک کر اس کی دائیں طرف جا کھڑا ہوا۔۔۔۔

یہ ناچ کیوں رہا ہے۔۔۔۔۔۔ لڑکی نے پوچھا

اس کا سوال سنتے ہی میرے علاوہ وہ دونوں افراد جو اس کے قریب کھڑے ہوے تھے اس کے طرف متوجہ ہوئے۔ مگر چاندنی کی نظروں کا محور میری ذات سلیم تھی۔

آئی ڈونٹ نو۔۔۔۔۔۔ میں نے ٹھیٹھ انگریزی میں جوا ب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو میں بات کرو مین اردو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بولی۔۔۔۔۔۔

مجھے نہیں معلوم۔۔ میں یہ کہہ کر واپس ہو لیا تو وہ بولی۔۔۔۔۔۔ اے مین۔۔۔۔۔۔ رکو رکو۔۔۔۔۔۔ بات سنو۔۔۔۔۔۔ واپس کیوں جا رہے ہو۔۔۔۔۔۔ ناچ نہیں دیکھو گے۔۔۔۔۔۔ مفت میں۔۔۔۔۔۔ دیکھو تو کیسے مینڈک کی طرح اچھل رہا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے وہ اپنے بازو ہوا میں سینے کی سطح تک لائی ، ہاتھ کی انگلیوں کو نیچے کے طرف کیا۔۔ اس سے پہلے کہ وہ مینڈک کی طرح اچھل اچھل کر اپنی بات کی تقلید کرتی میں مڑ کر چل پڑا۔۔۔۔۔۔ بگڑے ہوئے باپ کی بگڑی ہوئی اولاد لگتی تھی۔۔۔۔۔۔ میں دو قدم چلا۔۔۔۔۔۔ رکا۔۔۔۔۔۔ اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ کو کولہوں پر ٹکائے، سر دائیں طرف ڈھلکائے ، بھنووں کے الٹے سیدھے زاویے بنا بنا کر دیکھ رہی تھی۔ عینک ابھی تک اس کے سنگ مر مر سے ترشے ہوئے ناک پر تھی۔۔۔۔۔۔

آپ کا نام کیا ہے؟میں نے پلکیں جھپکاتے ہوئے کسی پانچ سالہ بچے کی سی معصومیت سی پوچھا۔۔۔۔۔۔

وہ۔۔۔۔۔۔ اس نے مرمریں ہاتھ کی انگلی سے ایک ہوٹل کے طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔ ادھر چلو پھر بتاؤں گی۔ یہ کہتے ہی وہ اس طرف قلانچیں بھرنے لگی۔۔۔۔۔۔ شاید اسے یقین تھا کہ میں اس کے پیچھے آؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سر جھکائے دھوبی کے کتے کی مانند اس کے پیچھے چل پڑا۔

ہاں اب بولو۔۔۔۔۔۔ اس نے گھونٹ بھرنے کے بعد کافی کا کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

آپ کا نام۔۔۔۔۔۔ میں نے دوبارہ پوچھا۔۔۔۔۔۔

شیریں۔۔۔۔۔۔ کھٹ سے جواب آیا۔۔۔۔۔۔

میں نے کہا۔۔۔۔۔۔ بہت شیریں نام ہے۔۔۔۔۔۔

جوگی کی کہانی ابھی ادھوری تھی کہ اسے کوئی خیال آیا اور وہ اپنی جیبوں کو ٹٹولنے لگا۔ کچھ لمحوں کے بعد اس نے ایک مڑی تڑی تصویر نکالی جیسے الہٰ دین کے چراغ سے جن نکلتا ہے۔۔۔۔۔۔

یہ تصویر اس لالہ رخ کی۔۔۔۔۔۔ وہ بولا۔۔۔۔۔۔

بہت سندر ہے میرو نے کھلے دل سے تعریف کی۔۔۔۔۔۔

چلو اب کہانی کی طرف آتے ہیں۔ جوگی بہت جوشیلا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔

میں نے لڑکی سے کہا کہ بہت شیریں نام ہے۔۔۔۔۔۔ جواب میں شیریں نے شہادت کی انگلی سے میرے ہونٹوں پر دستک دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل تمہاری طرح۔۔۔

مجھے یاد ہے مجھے اس د ن رات کو گھر دیر سے پہنچنے پر اماں سے ڈانٹ پڑی تھی۔۔۔۔۔۔ ہفتے کا دن سہ پہر کا وقت تھا۔ اور میری بے چین و بے قرار نگاہیں گھڑی پر مرکوز تھیں۔۔۔۔۔۔ یا میں جلدی ا ۤ گیا تھا یا اسے آنے میں دیر ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔ پھر وہ آ گئی۔

ہم شاہ غازی کے مزار پر گئے۔ پھول چڑھائے۔۔۔۔۔۔ شاہ غازی کی قبر پر۔۔۔۔۔۔ پھول سجائے۔۔۔۔۔۔ شیریں کی پیشانی پر۔۔۔۔۔۔ ہم ساحل کی گیلی ریت پر چلے۔۔۔۔۔۔ ہماری ہر ملاقات پر ہم ساحل سمندر ضرور جاتے۔۔۔۔۔۔ کیونکہ جب ہم پتھروں پر سر جوڑ کر بیٹھے ہوتے تھے اور ہوا میں نمی ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔ ہمارے سامنے چھوٹی بڑی سیپیوں کے ڈھیر ہوتے تھے۔۔۔۔۔۔ اور گیلی ریت سے بنا اک گھروندا۔۔۔۔۔۔ کوئی پہچان نہیں سکتا تھا کہ ہماری آنکھوں سے نکلنے والے آنسو ہماری اندر کے تپش کا نتیجہ ہیں یا فضا کا اثر ہے

اس دن رات گیارہ بجے وہ گھر کو روانہ ہوئی۔ میں سنسان سڑک پر تنہا کھڑا ٹیکسی کا انتظار کر رہا تھا۔ میں شیریں کی خیالوں میں گم تھا کہ اچانک اس کی گاڑی چرر کی آواز کے ساتھ میرے قدموں میں آ کر رکی اور وہ بولی۔۔۔۔۔۔ میں بھول گئی تھی کہ تمہارے پاس گاڑی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ آؤ۔۔۔۔۔۔ آ جاؤ۔۔۔۔۔۔ اس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول دیا۔۔۔۔۔۔

میں تمہیں کیوں یاد رہ گیا۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔۔

مجھے ہر وہ شخص یاد رہتا ہے جو مجھ سے ملتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور تم سے ملتے کتنے لوگ ہیں۔ میں نے پوچھا۔۔

صرف تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثُر نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ مگر میں محسوس کر سکتا تھا کہ اس کی کالی آنکھوں کی پتلیوں میں قوس قزح کا ہر رنگ باری باری اتر رہا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے طلسمی ہونٹ پھڑپھڑا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور اس کی دائیں آنکھ سے ننھا سا شبنمی قطرہ لمبی ناک کی آڑ لیے خاموشی سے اس کے نرم ملائم گالوں سے ہوتا ہوا میرے اس ہاتھ پر آ گرا جو میں نے اس کے ہاتھ پر رکھا ہوا تھا۔ وہ شاید اک ہاتھ سے گاڑی چلانے میں ماہر تھی۔ کیونکہ افق کے اس پار تک سڑک سنسان تھی۔۔۔۔۔۔ زندگی کی سڑک۔۔۔۔۔۔ راستے میں ایسی کوئی رکاوٹ نہیں تھی جو اس کو دوسرا ہاتھ استعمال کرنے پر مجبور کرتی۔

یوں مجھے دیکھتے رہو گے تو میں گاڑی کسی کھمبے سے ٹکرا دوں گی۔۔۔۔۔۔

ٹکرا دو۔۔۔۔۔۔ زندگی نہ سہی موت تو تمہاری صحبت میں آئے گی۔۔۔۔۔۔

وہ ہماری دوسری ملاقات تھی۔ اور اس کی بعد ملاقاتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا۔۔۔۔۔۔

ہم تاروں کی باتیں کیا کرتے۔۔۔۔۔۔ ہم کہکشاؤں میں نام لکھا کرتے۔۔۔۔۔۔ کلیاں چنتے اور بہاروں میں رقص کیا کرتے۔۔۔۔۔۔ چاند ہمارے ساتھ آ کر باتیں کیا کرتا۔۔۔۔۔۔ اور ستارے ہمارے گرد جمع ہوا کرتے۔۔۔۔۔۔ ہم اک دوسرے کے آنسو پیتے تھے اور ا یک دوسرے کی زندگی جیتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن وہ میری گود میں سر رکھے لیٹی تھی اور میرے لب اس کے شبنمی ہونٹوں کے طرف بڑھ رہے تھے تو اس نے شی کر کے منع کر دیا اور بولی۔۔۔۔۔۔ ایسا مت کرو۔ اگر ان ہونٹوں کو تیرے ہونٹوں کے لمس کی عادت پڑ گئی تو میں مشکل میں پڑ جاؤں گی۔۔۔۔۔۔ یہ لب تڑپیں گے۔۔۔۔۔۔ ترسیں گے۔۔۔۔۔۔ اور مجھے ڈر ہے کہ یہ کبھی پیاسے نہ رہ جائیں۔

وقت کے دیو نے اس دن اپنا رخ میری طرف کیا جب میں اک بے فکرے جھینگر کی مانند ترانے گاتا چمن میں اڑان بھرتا تھا۔۔۔۔۔۔ اپنی تتلی کے ساتھ کلی کلی ، گلاب گلاب پھدکتا تھا۔۔۔۔۔۔ گلاب کی پتیوں سے شبنم چکھتا تھا۔۔۔۔۔۔ اور شبنمی ہونٹوں سے پیاس بجھاتا تھا۔۔۔۔۔۔ شاید وقت کو میری خوشی منظور نہیں تھی۔۔۔۔۔۔ کہ اس نے مجھے پیاسا ہی رکھا۔ اس کے والد ان لوگوں میں سے ایک تھے جن کا شہر میں سکہ چلتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور وہ گوری اپنے باپ کے ہر حکم کی غلام تھی۔۔۔۔۔۔ اک دن میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری ماں کہاں ہے؟ تو اس کی آنکھوں میں پانی سا آ گیا اور اس نے شہادت کی انگلی سے تین چار مرتبہ اوپر کی جانب اشارہ کیا۔ میں نے سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو ہر سو نیلے آسمان کی چادر تنی تھی۔ ہم دونوں کی نظریں ملیں توہم دونوں کی پلکوں پر ننھے ننھے قطرے جھلملا رہے تھے۔۔۔۔۔۔

اس کے باپ کی طرف سے فیصلہ ہوا کہ میں شیریں کا ہمسفر نہیں بن سکتا۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ میں شیریں کی یادوں کو یاد کرنے کی جرات بھی نہ کروں ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

مجھے اُس آستانے سے اتنے پیار کے ساتھ رخصت کیا گیا کہ جب میں گلی میں کھڑا خود کو اور اُس عظیم الشان بنگلے کو دیکھ رہا تھا تو مجھے پاگل پاگل کا شور سنائی دیا۔۔۔۔۔۔ مڑ کر دیکھا تو کتنے ہی بچے ہاتھوں میں سنگ لیے مجھے مارنے کا اشارہ کر رہے تھے۔

میں دو روز بعد شیریں کے گھر گیا۔۔۔۔۔۔ ابھی اس سے بات شروع ہوئی تھی کہ پل بھر میں وہ باپ کی مضبوط بانہوں میں گرتی پھسلتی اوپر کی جانب گھسٹتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔

مجھے اس کے باپ نے کہا کہ تم اس لڑکی کے بارے میں سوچنا بھی مت۔

وہ لڑکی جو ہوا کے ذرا سے جھونکے پر نرم ملائم شاخ کی طرح ڈولنے لگتی تھی۔ وہ لڑکی جو بادلوں سے برسے بارش کے پہلے قطرے پر مچھلی کی طرح تڑپتی تھی۔ اور کوئل بن کر کلیوں کے گرد گھوم گھوم کر گانا گایا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ لڑکی جو بات کرنے سے پہلے ہلتی تھی اور ہلنے کے بعد بولتی تھی۔۔۔۔۔۔ اپنے باپ کے اس فیصلے پر ذرا نہ ہلی۔۔۔۔۔۔ وہ ہل سکتی تھی مگر اس کی بد ن کے ذرّہ برا بر بال نے بھی ذرا سی جنبش نہ کی۔۔۔۔۔۔ اور میں جو ہر لمحہ پتھروں کی چٹان کی مانند پر سکون اور گندے جوہڑ میں کھڑے پانی کر طرح ساکت تھا جس پر کتنے ہی قسم کے حشرات الارض بھنبھناتے رہتے تھے۔۔۔۔۔۔ میں جو برگد کے پیڑ کی مانند بے حس و حرکت رہتا تھا اس فیصلے پر اس شدت سے مچلا کہ میرے انگ انگ میں لاوا سما گیا۔۔۔۔۔۔

شیریں کیا تم اس فیصلے پر تم خوش ہو؟

ہاں۔۔۔۔۔۔ تھوڑی سی خاموشی کے بعد اس شدت سے آواز آئی جیسے دور پہاڑوں سے کوئی گونج سنائی دیتی ہے۔

میں بولا۔۔۔۔۔۔ شیریں کیا تم بھول گئی ہو کہ ہم نے شاہ غازی کے مزار پر اک دوسرے کے نام کے کنگن پہنے تھے۔۔۔۔۔۔ مندر پر گئے تھے تو میں نے تمہاری سنہری زلفوں میں پیلے پیلے پھولوں والے گجرے سجائے تھے۔۔۔۔۔۔ اور تم نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔ تم نے کہا تھا یہ پیلے پھول میری زلفوں میں ہی رہیں۔ یا خدا ایسا موقع نہ آئے کہ میں زرد پھولوں کو جھولی میں ڈال کر پتی پتی آنسو بہاؤں۔۔۔۔۔۔ اور میں نے جھٹ سے تمہارے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ شیریں یاد کرو جب ہم سینما میں بیٹھے فلم دیکھتے تھے اور اک دوسرے کی آئس کریم کھاتے تھے۔۔۔۔۔۔ اک دوسرے کے سٹرا سے فانٹا پیتے تھے۔۔۔۔۔۔ لوگ کن انکھیوں سے ہماری جانب دیکھ کر مسکراتے تھے اور بڑبڑاتے تھے۔۔۔۔۔۔ شیریں وہ کہتے تھے کہ یا خدا اِن دونوں کو سدا خوش رکھ۔۔۔۔۔۔ شاید تم بھول گئی ہو کہ جب ہم سمندر کی گیلی ریت پر دوڑتے تھے تو لوگ ہمیں دیکھ دیکھ کر ہنستے تھے۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔ شاید وہ ہنس ہنس کر ہمیں دیکھتے تھے اور ہم سمندر میں دور تک پتھر پھینکتے تھے۔۔۔۔۔۔ تم نے کہا تھا کہ جس کا پتھر دور جائے گا وہ زیادہ محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور مجھے یاد ہے کہ میرا پتھر۔۔۔۔۔۔ تمہارے پتھر سے پیچھے گرا تھا۔۔۔۔۔۔ تمہیں شاید ریت پر بنائے ہوئے کچے گھروندے اور وہ تصویریں بھول گئیں ہیں جو ہم اک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر بناتے تھے۔ اور تمہیں شاید وہ کون آئس کریم والا یاد نہیں جو کمپنی باغ کے باہر کھڑا ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔ اور ہم دونوں کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر معنی خیز ہنسی امڈ آتی تھی۔۔۔۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ اک دن اس نے ہم دونوں کو مفت آئس کریم کھلائی تھی۔۔۔۔۔۔ اور اپنے جھریوں والے پوپلے ہاتھ ہمارے سر پر پھیرے تھے۔۔۔۔۔۔ اور سرگوشی کی تھی۔۔۔۔۔۔ تم نے وہ سرگوشی نہیں سنی تھی وہ کہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔ ؟

میں نے سر اٹھا کر دیکھا کہ میں کمرے میں اکیلا ہوں۔۔۔۔۔۔ شیریں اور اس کا باپ کب کے جا چکے تھے۔ مجھے خیال آیا کہ میری باتیں کون سن رہا تھا؟

شا ید وہ سرخ رنگ کا فون۔۔۔۔۔۔ میں دوڑ کر فون کے پاس گیا۔۔۔۔۔۔ اور بولا

تم سب کی باتیں سنتے ہو۔۔۔۔۔۔ تم نے میری گریہ ہ و زاری بھی سنی ہے۔ تو یہ سب باتیں شیریں کو بتا دینا۔ پھر میں نے کرسی پر چڑھ کر اس کلاک کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ جو آٹھ بجے کا راگ الاپ رہا تھا۔ میں نے کلاک اتار کر ہاتھ میں تھام لیا اور بولا۔۔۔۔۔۔ وقت۔۔۔۔۔۔ اے وقت۔۔۔۔۔۔ تو سب کی سنتا ہے۔۔۔۔۔۔ جو تیری نہیں سنتا۔۔۔۔۔۔ تو اسے بھول جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ اے وقت دیکھ میں تیری ٹک ٹک سن رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ دیکھ میں نے تجھے ہاتھوں میں تھام رکھا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن تو رکتا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ شیشے کے جیسی رکاوٹ کیا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ لمبی سی کالی سوئی اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے اور تجھے مجھ سے دور کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔ رک جا۔۔۔۔۔۔ اے وقت رک جا۔۔۔۔۔۔ دیکھ۔۔۔۔۔۔ تو نے میرے ساتھ کیا کیا۔ پھر میں شاید میز پر سجی سرخ رنگ کی اس مورتی کی طرف گیا۔۔۔۔۔۔ اور بولا۔۔۔۔۔۔ سنا تھا کہ پریاں غیبی امداد کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔ میری پیاری لال پری۔۔۔۔۔۔ دیکھ میرے آنسووں میں بھی تیرا عکس جھلکتا ہے۔۔۔۔۔۔ ذرا دیر کو سانس لے کہ میں تمہیں اپنی کتھا سنا سکوں۔ کمرے کی ہر چیز کو میں نے اپنا دکھ سنایا۔۔۔۔۔۔ مگر کوئی شے میرے دکھ میں ہمسفر نہ بن سکی۔۔۔۔۔۔ اچانک اوپر والی منزل سے دوڑنے کی آواز آئی۔۔۔۔۔۔ شیریں زرق کپڑوں میں ملبوس نیچے لپکی اور چلائی۔۔۔۔۔۔ مر جاؤ۔۔۔۔۔۔ خود بھی مر جاؤ۔۔۔۔۔۔ اور مجھے بھی ختم کر دو۔۔۔۔۔۔ مگر یہ الم، یہ دکھ ، یہ باتیں ان بے زبان اشیاء کے ذہن میں نقش نہ کرو کہ کالی سیاہ راتوں میں یہ سب چیزیں مجھے بچھوؤں کی طرح ڈنک ماریں گی۔۔۔۔۔۔ طوفانی راتوں میں ایک ایک کر کے میرے گرد خوفناک ہیولوں کی طرح رقص کریں گی۔۔۔۔۔۔ شیریں مجھے باہر کے دروازے کی طرف دھکیلنے لگی اور دروازہ کھٹ سے بند کر دیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما اور ناگا ساکی کے شہریوں کو ایٹم بم گرنے کے بعد محسوس ہوا ہو گا کہ ان کی زندگی کا پردہ یکدم تاریک ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔ میں ہر روز اس کے گھر گیا۔۔۔۔۔۔ واپس آیا تو میرے جسم کا کوئی نہ کوئی حصہ چیخ چیخ کر ان لوگوں کی میزبانی کا اعتراف کر رہا ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔ اور میرے قمیض کے کسی نا کسی کونے میں اک نیا چیتھڑا نمودار ہو چکا ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔ پھر اک دن وہ بازار کو نکلی۔۔۔۔۔۔ میں اس کے سامنے آ گیا۔۔۔۔۔۔ مجھے سامنے پا کر وہ اس طرح بدک کر رکی جیسے کوئی معصوم سا چوہا بے خبری میں کسی موٹی تازی بلی کے سامنے آ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس دن وہ ذرا دیر سے گھر پہنچی۔۔۔۔۔۔ اس لیے کہ ہم نے کچھ دیرکمپنی باغ میں اک بڑی سی جھاڑی کے پیچھے بیٹھ کر باتیں کی تھیں۔۔۔۔۔۔

پھر خوش قسمتی سے وہ مجھے گھر میں مل گئی۔۔۔۔۔۔ کتنا خوبصورت تھا وہ لمحہ۔۔۔۔۔۔ بالکل چودھویں کی رات کی طرح۔۔۔۔۔۔ اس کے لبوں کے جام اور اس کی آنکھوں سے نکلے شراب کے قطرے، جنہیں چلو میں بھر کر میں نے حلق میں انڈیل لیا تھا اور سرور کی کیفیت سے میرے انگ انگ میں مستی چھا گئی تھی۔ اس دن اس نے کہا تھا کہ ذرا اِن لبوں کو تیرے ہونٹوں کا لمس محسوس کر لینے دو۔۔۔۔۔۔ شاید کہ ساری عمر پیاسا رہنا پڑے۔۔۔۔۔۔ اور میں نے شی کر کے اس کو منع کر د یا کہ کہیں عادت نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔ پھر اک گاڑی گیراج میں آ کر رکی۔۔۔۔۔۔ اس کے باپ نے ہم دونوں کو دیکھا تو آپے سے باہر ہو گیا۔ اس نے دراز سے پستول نکالا اپنی کنپٹی پر رکھا اور بولا۔۔۔۔۔۔

بول شیریں کون چاہئے؟

شیریں نے میری طرف دیکھا اور پھر اپنے باپ کی طرف اور پھر سامنے کلاک کو دیکھا۔۔۔۔۔۔ آٹھ بج رہے تھے۔۔۔۔۔۔ اس نے کرب کی شدت سے گردن بائیں طرف اپنے باپ کی طرف ڈھلکا دی۔ اِس دفع آنسو اس کی دائیں آنکھ سے نکلا تاکہ میں یہ دیکھ سکوں کہ یہ اس کے دل کا فیصلہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ میری زندگی شیشے کے اتنے چھوٹے چھوٹے ذرات میں تقسیم ہو کر رہ گئی کہ کوئی اسے شیشہ ماننے پر تیا ر نہ تھا۔

میں چیخا۔۔۔۔۔۔ چلایا۔۔۔۔۔۔ میری ہر فریاد بے اثر گئی۔۔۔۔۔۔ چند ساعتوں میں مجھے نرم و دبیز قالین سے مٹیالے فرش پر لا کھڑا دیا گیا۔۔۔۔۔۔ میرے سامنے فولادی دروازہ تھا جسے میں ساری عمر بھی ٹکریں مارتا تو اس کی ایک میخ بھی اپنی جگہ سے ہلنے نہ پاتی۔ کتنے ہی لمبے لمبے دن اور کتنی ہی سرد راتیں میں نے اس کے گھر کے باہر گزار دیں مگر ایک مرتبہ بھی اوپر کے کمرے کی بتی روشن نہ ہوئی۔۔۔۔۔۔ کسی ایک پل کو بھی کھڑکی کے پردے میں سرسراہٹ نہ ہوئی۔۔۔۔۔۔ میں روتا رہا۔۔۔۔۔۔ گھومتا رہا۔۔۔۔۔۔ ادھر ادھر۔۔۔۔۔۔ کوچہ کوچہ۔۔۔۔۔۔ قریہ قریہ۔۔۔۔۔۔ کونہ کونہ۔۔۔۔۔۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ ہر شام آٹھ بجے کلاک سے باتیں کرتی ہو گی۔ اور پوچھتی ہو گی کہ میں کیا کہہ کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ وہ اس لال پری کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھتی ہوگی۔۔۔۔۔۔ ٹھوڑی میز پر ٹکاتی ہو گی اور دونوں ہاتھوں سے اس مورتی کو پیار کرتی ہو گی۔۔۔۔۔۔ روتی ہو گی اور اس سے پوچھتی ہو گی کہ میرا ساجن کیا کہہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔ اور روتی روتی اس میز پر سر ٹکا کر سو جاتی ہو گی۔۔۔۔۔۔ پھر کسی وقت سرخ فون کی گھنٹی اس کی نیند میں دخل انداز ہوتی ہو گی اور کمرے کے پردے طوفان باد و باراں سے اڑنے لگتے ہوں گے۔۔۔۔۔۔ کمرے کی ہر شے اس کے گرد رقص کر تی ہو گی اور چاند اپنا چہرہ کھڑکی سے ہٹا لیتا ہوگا۔۔۔۔۔۔

اس لڑکی کی چا ہت مجھے جیل لے کر گئی۔۔۔۔۔۔ اس کی وجہ سے مجھے ہسپتال کے اتنے چکر کاٹنے پڑے کہ لوگ مجھے ہسپتال کے عملے کا فرد سمجھنے لگے۔۔۔۔۔۔ اور میں قسمت کے ہاتھوں میں دربدر کی ٹھوکر یں کھاتا لاہور پہنچا ہوں۔

جوگی نے شیریں کی تصویر جسے میرو بہت مگن ہو کر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ سے کھینچ لی اور بولا، کہانی ختم، پاگل اب جاؤ۔۔۔۔۔۔ پاگل۔۔۔۔۔۔ وہ اٹھا اور سر دھنتا ہوا اپنے راستے کو ہو لیا۔۔۔۔۔۔

میرو نے آسمان کی جانب دیکھا تو چاند سفر طے کرتا کرتا اس کے سر پر آن پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔ یاد آیا سیمو کا ڈنر۔۔۔۔۔۔ یاد آیا بچوں کا فن لینڈ۔۔۔۔۔۔ یاد آئی اماں ابا سے ملاقات۔۔۔۔۔۔ اور جوگی کی درد بھری داستان۔۔۔۔۔۔

سیمو نے حسب روایت پتھر چہرے کے ساتھ میرو کا استقبال کیا۔۔۔۔۔۔ باقاعدہ بچوں کے کمرے کا دروازہ کھول کر ان کا درشن کروایا کہ وہ صدیوں سے انتظار کرتے کرتے نیند کی آغوش میں جا سوئے ہیں۔۔۔۔۔۔ مگر ان کی پلکیں لمحہ بہ لمحہ پھڑپھڑا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔ تم کبھی وقت پر نہیں آئے۔۔۔۔۔۔ میری کوئی قدر نہیں۔۔۔۔۔۔ میں صرف اس لیے ہوں کہ کھانا بنا کر رات گئے تک تمہارا انتظار کروں۔۔۔۔۔۔ وہ اٹھ کر سیمو کے پاس گیا۔۔۔۔۔۔ اور بولا سیمو وہ کلاک دیکھ رہی ہو۔ آج اس کلاک کا وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یہ فون دیکھ رہی ہو سیمو۔۔۔۔۔۔ ہم ایک دوسرے کے دکھ فون کو نہیں سناتے۔۔۔۔۔۔ اور سیمو وہ شیشے کی گڑیا دیکھ رہی ہو جس کے ہاتھ میں ستارے والی چھڑی ہے۔۔۔۔۔۔ میں ڈرتا ہوں کہ مجھے یا تمہیں کبھی میز کنارے بیٹھ کر اس گڑیا سے باتیں نہ کرنی پڑیں۔۔۔۔۔۔ میری دنیا تم ہو۔۔۔۔۔۔ باقی سب پاگل۔۔۔۔۔۔

کلاک بارہ بجے کا گیت سنا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ کھڑکیوں کے پردوں سے چاندنی چھن چھن کر آ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ دونو ں میاں بیوی کمرے کے درمیان بغل گیر تھے۔۔۔۔۔۔ کمرے کی ہر شے ان کے گرد رقص کر رہی تھی۔ ان کو معلوم ہی نہ ہو سکا کہ دروازے کی جھری سے دو بچوں کی آنکھیں ان دونوں کو دیکھ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔ آخر کو بچے بھی باپ کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ اچانک بچے باہر کو دوڑ آئے اور ماں باپ کے گرد رقص کرنے لگے۔۔۔۔۔۔ گانے لگے۔۔۔۔۔۔ پاگل پاگل۔۔۔۔۔۔ ساری دنیا۔۔۔۔۔۔ پاگل پاگل۔۔۔۔۔۔

اگلے دن میرو دفتر سے لوٹتے ہوئے پھر اس جوگی کا ناچ دیکھنے کے لیے رک گیا۔۔۔۔۔۔ موسم خنک تھا۔۔۔۔۔۔ جہاں زمین اور آسمان لب بہ لب ہوتے ہیں وہاں سرخی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ فضا میں دو کبوتر چونچیں لڑا رہے تھے۔۔۔۔۔۔ اک کوئل گیت گا رہی تھی۔ اور کسی کو تلاش کر رہی تھی۔

انجن کا ہارن بجا۔۔۔۔۔۔ گاڑی اسٹیشن پر آ کر رکی۔ خوبصورت کپڑوں میں ملبوس اک عورت دوڑتی ہوئی ہجوم کی طرف آئی۔۔۔۔۔۔ لوگوں نے اس کے لیے اس طرح راستہ بنایا جیسے دریائے نیل نے موسیٰ کی قوم کے لیے راستہ بنایا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ عورت جوگی کے قریب آئی۔۔۔۔۔۔ زمین سے دو مٹھی مٹی بھر کر اپنے سر پر ڈالی۔۔۔۔۔۔ پھر اپنے کپڑوں کو مٹیالہ کیا۔۔۔۔۔۔ آستین پھاڑی۔ جوگی کا ہاتھ پکڑا۔ دونوں نے بازو فضا میں بلند کیے۔۔۔۔۔۔ سر جھکائے۔۔۔۔۔۔ سر ہلائے۔۔۔۔۔۔ دائیں سے بائیں۔۔۔۔۔۔ بائیں سے دائیں۔۔۔۔۔۔ اور پیر تھپک تھپک کر رقص کرنے لگے۔۔۔۔۔۔ سر دھننے لگے۔ اب کی بار ایک گھنٹی جوگی جبکہ دوسری گھنٹی جوگن کے ہاتھ میں تھی۔ لوگوں کا ہجوم تیزی سے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اور فضا اِن الفاظ سے گونج رہی تھی

پاگل پاگل۔۔۔۔۔۔ ہم سب پاگل۔۔۔۔۔۔ تم سب پاگل۔۔۔۔۔۔ دنیا والے سارے پاگل

میرو نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا کہ کوئل خاموش تھی اور اپنے ساتھی کے ساتھ اڑان بھر رہی تھی۔ اس نے گھڑی پر وقت دیکھا۔۔۔۔ آٹھ بجے تھے۔ یہ وقت کراچی سے آنے والی گاڑی کا تھا۔ وہ مسکرایا اور آگے بڑھ گیا۔

٭٭٭