کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مردے

وقار مسعود


کاکا میں اس واہیات نوکری سے عاجز آ چکا ہوں کل ہی تو بڑے ابو کہہ رہے تھے، رامو یہ نوکری چھوڑ دے سارا دن مردوں کے درمیان رہتا ہے ، خوب بھی مردوں جیسا ہو گیا ہے۔ ہنستا ہے نہ روتا ہے بس پتھر کے بت کی طرح ہر ایرے غیرے کی اناپ شناپ سنتا رہتا ہے، کبھی دیکھا ہے جود کو آئینے میں۔ ان کمبخت مردوں نے لال چہرے سے ہنسی نچوڑ کر رکھی دی ہے۔ اور کاکا ٹھیک ہی تو کہتے ہیں بڑے بابو جی جب بھی مردہ خانے میں کوئی نیا مردہ لایا جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کسی نے میرے  جسم میں کیل سا ٹھونک دیا ہے۔ کسی مردے کو چیک کرنے کے لئے اس کا خانہ کھولتا ہوں تو وہ زبردستی میرے جسم مین گھسنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان گندی گندی لاشوں کی سڑاند کی وجہ سے میرے انگ انگ سے بدبو کے بھبھوکے اڑ رہے ہیں۔وہ مردود مرحوم تو مزے سے درازوں میں پڑے سو رہے ہیں اور میرا جینا محال کر رکھا  ہے۔ لقمہ منہ میں ڈالنے لگتا ہوں تو خنزیر کی طرح منہ کھولے، لال لال زبانیں نکالے دوڑے چلے آتے ہیں۔کل صبح میں نہا رہا تھا تو میرے ارد گرد ناچنے لگے ، ذرا سی حیا نہیں آئی۔ خود انہوں نے پاجامے پہن رکھے تھے اور مجھے ایسے دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے۔

جیسے میں کالا بھجن رامو نہ ہوا، بالی وڈ کی کوئی حسینہ ہو گئی جو مست نشیلی صبح میں گنگا کنارے اشنان کے مزے لوٹ رہی ہو۔اور کاکا میں کہیں جاتا ہوں تو قافلہ بنا کر میرے پیچھے ٹرین کے ڈبوں کے طرح چھک چھک کر تے چلے آتے ہیں۔ میں کل ہی انسپکٹر صاحب سے کہے دیتا ہوں کہ یہ جلی سڑی نوکری مجھے نہیں کرنی ہے ،آگے جو ہوا سو دیکھا جائے گا۔ آخری دن رامو نے ہر مردے کا دراز کھول کھول کر ان کو زبان دکھائی ، زور زور سے بد مست قہقہے لگائے اور سب مردوں کا منہ دراز سے باہر نکال کر اک الوداعی تقریر کرنے لگا، مگر مچھ کے آنسو بہانے لگا۔ کیا دیکھتا ہے کہ تمام مردے ایک ایک کر کے اپنے اپنے درازوں سے مینڈک کی طرح اچھل کر باہر نکلے اور پھدک پھدک کر اس کے گرد جمع ہونے لگے ،چند مردے اس کے پاؤں میں پڑ گئے وہ بدک کر پیچھے ہٹا۔

مردوں سے آمنا سامنا ہونا اس کا معمول کا کام تھا ، اور جس دن آتے جاتے، سوتے جاگتے اسے کوئی مردہ نہیں ٹکراتا تھا تو اسے پتہ چل جاتا تھا کہ آج ان شیطانوں کے ساتھ کچھ پرابلم ہو گئی ہے۔ اس دن رامو لازمی لازمی دو چار رکعت نفل نماز ادا کر کے سوتا تھا۔ اس کے گرد جمع ہونے والے مردوں میں ایک عورت بھی تھی۔وہ خراماں خراماں چلتی ہوئی رامو کے پیچھے آن کھڑی ہوئی، اور اس کی کمر  میں بازو ڈال کر بولی۔۔نہ جاؤ میرے پیارے رامو۔۔مت جاؤ ہر عورت کی آرزو ہوتی ہے کہ اسے کوئی جیتی جاگتی آنکھیں اس طرح پیار سے دیکھیں جیسے کوئی قصائی موٹی تازی بھینس کو دیکھ کر اپنے اوزار تیز کرنے شروع کر دیتا ہے۔ جب تم میرا دراز کھول کر مجھ پر جادو بھری نظر ڈالتے ہو تو میرا من کرتا ہے کاش تم بھی یہاں میرے ساتھ ہوتے۔۔دھت تیرے کی۔۔رامو نے دھکا دے کر اسے پیچھے ہٹایا اور دروازے کی طرف بڑھنے کی جستجو کرنے لگا۔اک معصوم سا بچہ اس کے سامنے اکھڑا ہوا اور انتہائی لجاجت سے بولا رامو کاکا۔میرے چاچا نے تو مجھے مار کر دریا میں پھینک دیا تھا۔اب تم ہی ہو جو میرا خیال رکھتے ہو، تمہارے دل میں میرے لیے جذبہ ترحم موجوں کی طرح سر اٹھاتا ہے اور مجھے یہ ہمدردی، یہ جنون یہ انسانیت کا روپ از حد سرور دیتا ہے۔ میرے ننھے سے دل میں چاشنی بھر دیتا ہے، میرے لیے رک جاؤ۔پلیز مت جاؤ۔۔چل ہٹ بڑا آیا تقریر کرنے والا۔ میں تیرے باپ کا غلام ہوں جو جیتی جاگتی رنگین دنیا چھوڑ کر تم خارش زدہ کتوں کے ساتھ آ کر اس قبر میں سو رہوں۔ ابھی رامو کی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ اک زور دار تھپڑ اس کے گال پر لگا، یہ کارنامہ سر انجام دینے والا موصوف اک ہٹا کٹا جوان مردہ تھا۔ اس کے حلق میں اک سوراخ تھا جس سے تازہ خون رس رس کر میلی گردن پر ندی نالے بنا رہا تھا۔ وہ مردہ خون میں انگلیاں تر کر کے بڑی رغبت سے چاٹ رہا تھا۔ غصے سے بولا۔بچے کو کیوں جھڑکتے ہو، آؤ میرے ساتھ بات کرو۔ وہ بدمعاش مردہ قدم بہ قدم اس کی طرف بڑھنے لگا۔ رامو سہم کر پیچھے دیوار کی جانب ہٹنے لگا تو کسی چیز سے اس کی کمر ٹکرائی اس نے ہاتھوں سے ٹٹول کر دیکھا تو کسی نرم نرم چیز کا احساس ہوا۔ اور اک قلقاریاں مارتا، ہکلاتا ، نسوانی قہقہہ بلند ہوا۔ رامو نے خوف سے مڑ کر دیکھا تو وہی پہلے والی عورت وہاں کھڑی ہنس رہی تھی ، رامو نے تنگ آ کر سب کو کوسنا شروع  کر دیا۔اور ان کی منتیں کرتے ہوئے بولا۔تم اگر خوش نہیں رہ سکتے تو کم از کم مجھ غریب پر رحم کرو۔ مجھے یہاں سے جانے دو۔۔ ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی ہے اور تو تجھے ذرا سی شرم آتی۔۔نجانے زندگی میں کتنے کتوں کو اپنے جسم کے گوشت کا ذائقہ چھکایا ہے، مرنے کے بعد بھی پیاس نہیں بجھی۔

رامو کی بہکی بہکی باتیں سن کر عورت غصے میں آ گئی، اس کے لمبے لمبے نوکیلے دانت نکل آئے، ناخن تلوار کی دھار کی طرح لشکارے مارنے لگے، آنکھوں میں لہو رقص کرنے لگا اور ا اس کی ہئیت دیکھ کر رامو کی پینٹ گیلی ہونے کو آ گئی۔ اس کو اپنی قضا سامنے نظر آ رہی تھی۔ اس نے اک گہرا سا سانس لیا اور کبوتر کی طرح آنکھیں موند لیں۔ مگر اسے کچھ لمحوں بعد ہونٹوں پر ٹھنڈے ٹھنڈے لبوں کا لمس محسوس ہوا۔ مردے ٹھنڈے ہی تو ہوا کرتے ہیں۔ یہ سوچ کر جب اس نے آنکھیں کھولیں تو پھر اسی عورت کو مہو تبسم نظر مجسم پایا۔ حقارت سے رامو نے اس کو ایک طرف دھکیل دیا اور بولا گرمی تو تجھ میں ذرا سی نہیں اور بدن سے چمٹی چلی جاتی ہے۔ رامو کی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا تھا کہ ان مردوں سے جان کیسے چھڑائے ،اچانک اس کے بھوسے بھرے دماغ میں اک چلبلا سا خیال جگمگایا اور وہ مردوں کے پیچھے کی جانب اشارہ کر کے کچھ چلایا۔ تمام مردوں نے سر گھما کر پیچھے دیکھا اور یہی وہ لمحہ تھا جس کا رامو کو انتظار تھا۔

اس نے خرگوش کی طرح جست لگائی اور اس برق رفتاری سے وہاں سے رفو چکر ہوا کہ جتنی دیر میں بدمعاش مردہ اس کو پکڑنے کی کوشش کرتا وہ آنکھوں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ اک گلی میں پہنچ کر دیوار کے سائے میں آرام کرنے کی غرض سے بیٹھا اور بڑبڑانے لگا ناہنجار کہیں کے۔ اک جیتے جاگتے انسان کو مرحوم بن جانے کی پیش کش کر رہے تھے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے۔ نہیں پسند یہ نوکری تو نہیں پسند۔۔اچانک کوڑے کے ڈھیر کے پیچھے سے اک کھڑا کھڑا تا قہقہہ سنائی دیا۔۔ وہاں سے بوڑھا مردہ نمودار ہو رہا تھا۔۔تت تت تم یہاں بھی پہنچ گئے۔۔جیتے جی کیا گھڑ دوڑ میں حصہ لیتے رہے تھے بوڑھے گھوڑے۔۔یہ کہنے کے بعد رامو وہاں سے ایسا رفو چکر ہوا کہ پھر کبھی اس نے مردہ خانے کے راستے کا رخ نہیں کیا۔

بڑے بابو نے رامو کو شیخ صاحب کی دکان پر ملازم رکھوا دیا۔مگر ان مردوں نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ اک دن وہ اکیلا گھر میں لمبی تان کر سو رہا تھا کہ اسے چوڑیوں کے کھنکنے کی آواز آئی وہ چونک کر اٹھا آواز لگاتا اپنی ساز و ترنم کے ساتھ اس کی قوت سماعت سے ٹکرا رہی تھی۔ بلی طرح اس کے کان کھڑے ہو گئے، لومڑی کی طرح دماغ نے کام کرنا شروع کر دیا اور وہ کتے کی طرح سونگھتا سونگھتا چور قدموں سے آواز کی جانب جانے لگا۔ آواز کچن سے آ رہی تھی۔ کیا دیکھتا ہے کہ وہی مردہ خانے والی اس کی دیوانی عورت انتہائی سلیقہ شعاری سے کچن میں کام کر رہی تھی۔اس کا منہ دروازے کی طرف تھا۔ وہ رامو کو دیکھ کر ڈری اور رامو اس سے ڈر کے کچن کی دیوار سے جا ٹکرایا۔ رامو کی تو گھگی بندھ گئی۔ اتنے میں غسل خانے سے بد معاش مردہ نچلے دھڑ پر تولیا لپیٹے باہر نکلا، بغلوں میں منوں پاؤڈر چھڑکا ہوا تھا۔ رامو تنک کر  لگتا ہے پہلی دفعہ نہائے ہو ماٹے گینڈے۔ شاید ساری عمر گندے پانی میں لاتیں پسار کر جگالی کرتے رہے ہو۔ ابھی رامو اس کی شان میں قصیدے پڑھ رہا تھا کہ کاکا کے کمرے سے بوڑھا مردہ کاکا کی بنیان اور دھوتی پہنے سر پر تیل لگاتا بر آمد ہوا۔ اسے دیکھ کر رامو کا پارہ چڑھ گیا۔ وہ چلاتے ہوئے بولا۔ یہ میرے کاکا کی دھوتی ہے۔ اتار اسے بوسیدہ بدن سے۔۔رامو اس کی طرف بڑھا مگر اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔اس کے بعد گھر کے کونے کونے سے عجیب الاقسام شکل والے بیسیوں مردے بھانت بھانت کا روپ دھارے کمرے میں جمع ہونے لگے۔ رامو چیخا تو مردے بھی چیخنے لگے۔ اس نے اک مردے کو مکا لہرا کر دکھایا تو جواب میں مردوں نے شیم شیم کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔ بے بسی سے رامو کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تو مردوں نے دھاڑیں مار مار کر سینہ کوبی شروع کر دی۔ رامو تلملا کر رہ گیا۔ بھلا وہ ان مرے ہوئے مردوں کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ اسی دوران سردار مردہ صحن سے بڑے بابو جی کی شیروانی پہنے اندر آیا اور رامو سے مخاطب ہوا۔ سن رامو ہماری دنیا تیرے سنگ آباد تھی۔ تیرے ساتھ رہنے اور تیری صورت دیکھنے کی عادت سی ہو گئی تھی۔اچھا رہے گا اگر تو ہماری دنیا اور اپنی نوکری پر واپس لوٹ آئے، ورنہ یاد رکھ۔ساری عمر دم نہ لینے دیں گے یہ کہتے ہی سب کے سب مردے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو گئے۔ اس نے جی بھر کر ان بد ذات مردوں کو صلواتیں سنائیں ، مکے دکھائے مگر اب کی بار اسے کوئی جواب نہیں ملا۔ وہ مایوسی کے عالم میں چارپائی پر جا لیٹا اور اپنے پیدا ہونے کو کوسنے لگا۔ جب کاکا گھر لوٹا تو اسے گم سم دیکھ کر پریشانی کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔ رامو کے جذبات کا کچا پل چھناک کر کے ٹوٹا اور الفاظ شکووں ، شکایتوں ، دکھ ، غم اور کانٹوں کی طرح اس کے بے بس دل و دماغ سے رہ رہ کر ابھرنے لگے، جیسے مدو جزر میں طوفانی لہریں اڑ اڑ کے چاند کی سطح کو چھو لینے کو بے تاب ہوتی ہیں۔

بڑی خونخوار اور پیاسی کچھ مہینوں میں نے ان کی رکھوالی کیا کی۔ مجھے اپنے اماں ، ابا، شوہر ، عاشق، بہن ، بھائی سمجھنے لگے۔ اچانک اس کو اپنی کسی سنگین غلطی کا احساس ہوا تو اس نے کھی کھی کرتے ہوئے ماں اور بہن کا لفظ ان رشتوں میں سے نکال دیا۔کہنے لگا۔ ابھی سب کے سب عدالت لگا کر گئے ہیں۔فیصلہ یہ سنایا ہے ان کے سردار نے کہ میں دوبارہ مردہ خانے کی نوکری کرنی شروع کی ہے تو نفسیاتی مریض بن گیا ہے، اب چھوڑ بھی دی ہے پھر بھی ان منحوسوں کے اثرات تجھ پر باقی ہیں۔ ڈاکٹر سے علاج کروا اپنا جا کر کاکا نے اس کو دلاسے دینے کی بجائے اس کو لیکچر دینا شروع کر دیا۔

ارے کاکا اسے مذاق مت سمجھو۔۔تیری قسم وہ آئے تھے۔پوری انتخابی مہم چلا کر گئے ہیں اور اپنی پارٹی کا ٹکٹ مجھے دے کر چوکیدار کے عہدے کے لئے نامزد کیا ہے۔ اور تو اور اس نامراد بوڑھے مردے نے تمہاری دھوتی اور بنیان بھی پہنی تھی۔ کیا کاکا کے حلق کی گہرائی سے شیطان کی آنت جتنا اک ناچتا لہراتا کیا بر آمد ہوا۔۔تھوک پوپلے گلے میں اٹک کر رہ گیا۔۔اور کاکا ہونق بنا رامو کو دیکھنے لگا۔۔اس دن کے بعد روزانہ کوئی نہ کوئی مردہ اسے کسی نا کسی روپ میں ملتا، کبھی صبح صبح رامو دوکان کھولتا تو کوئی مردہ شیخ صاحب کی گدی پر قبضہ جمائے چنے چبا رہا ہوتا۔۔باغ میں جوگنگ اور ورزش کرنے والے لوگوں کے آگے پیچھے ننگ دھڑنگ مردے الٹا سیدھا ڈانس کرتے ہوئے نظر آتے۔۔اس کے محلے میں کسی فلم کے اشتہاری پوسٹر جگہ جگہ آویزاں تھے۔جب رامو بڑے چاؤ اور آس بھری نگاہوں سے پوسٹر پر چھپی ہوئی ہیروئن کے خدو خال دیکھتا تو وہ تصویر مردہ عورت کی صورت اختیار کر جاتی، اک دوپہر کو تو زندگی میں پہلی دفعہ ڈاکیا اس کے دروازے پر آیا اور اس کے نام چھٹی دے گیا۔رامو نے تجسس سے کھولتا تو وہ مردوں کی طرف سے لکھی گئی تھی۔اور رامو کے لئے نیک خواہشات کا اظہار اور لوٹ آنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس دن رامو کو پتہ چلا محکمہ ڈاک بھی مردوں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔

جمعے کو رامو شیو کرانے گیا تو بوڑھے مردے کو ایک کونے میں دبکے ہوئے، اور اپنے زمانے کا کوئی اخبار پڑھتے ریکھا۔رامو کے آنے پر اس بوڑھے نے سر اٹھانے کی بجائے کن انکھیوں سے رامو کو اندر داخل ہوتے دیکھا اور اس کی آمد کی پرواہ کیے بغیر اخبار پڑھنے میں مگن رہا۔ رامو کو اس کی بے رخی بہت بری لگی۔اس کا دل چاہا۔۔نائی کے استرے سے اس کی پرانی لٹکتی بوٹیوں کا قیمہ بنا دے۔۔

اک رات تو حد ہو گئی۔وہ مردہ عورت رامو کی چادر میں گھس آئی، وہ تو مہربانی کاکا کی مزاحمت کی آواز سن کر وہ وقت پر آن پہنچا ورنہ آج کام ہو چلا تھا۔وہ چھوٹا بچہ جسے رامو نے بڑے عمدہ طریقے سے ڈانٹا تھا، رامو کو راستے میں پتھر مارتا ،اس کے سامنے آ کر اپنا پاجامہ اتار دیتا ، کئی مرتبہ تو رامو کو ملے او تھپڑ بھی پڑے۔ کبھی کبھار نہاتے ہوئے پانی کا نل بند ہو جاتا، جب کہ اس کا سیاہ بدن صابن کی سفید جھاگ میں چھپا ہوتا تھا اور اس پر غضب یہ کہ تولیا بھی غائب ہوتا تھا۔ ہر شخص رامو کو نفسیاتی مریض سمجھنے لگا۔ یہاں تک کے کاکا بھی اس سے کھچا کھچا رہنے لگا۔

کاکا نے اس کو رستے سے اٹھا کر پالا تھا۔دوست یار سب بھوت پریت کا سایہ جان کر اس سے کنارہ کرنے لگے۔ شیخ صاحب نے اس کو نوکری سے نکال دیا۔ یوں وہ نوکری سے بھی گیا اور چھوکری سے بھی۔۔لڑکی والا اک علیحدہ قصہ ہے۔ در اصل شیخ کبھی کہیں کسی کام کی غرض سے جاتا تھا تو اپنی بیٹی کو دوکان کا خیال رکھنے اور تاک جھانک کرتے رہنے کی تاکید کر کے جاتا تھا۔شیخ کا مکان دوکان کے پیچھے ہی تھا۔دوکان اور مکان کے درمیان اک دروازہ تھا۔ شیخ کی لڑکی جب تانک جھانک کے بہانے آتی تھی تو سیدھا آتی تھی اور باقی کا فعل رامو اور اس کا ذاتی معاملہ تھا۔اک دن کیا ہوا کہ بوڑھا مردہ اس لڑکی کا روپ دھار کے آ گیا اور اس وقت رامو کی شکل دیکھنے والی تھی۔بالکل کارٹون جیسی مضحکہ خیز کہ بوڑھا گلا پھاڑ پھاڑ کہ ہنسنے لگا۔ رونے لگا  اور رونے ہنسنے کا یہ پراسس کئی دیر تک جاری رہا۔ ہر جگہ رامو کر مردے ملنے لگے۔ یہ شہر اس کو قبرستان لگنے لگا، ہر شخص اس کو مردہ لگنے لگا۔ تنگ آ کر وہ پولیس اسٹیشن گیا تو باہر چپڑاسی کی جگہ ایک سنگل پسلی مردہ مائع لگی وردی میں بیٹھا سگریٹ پینے میں مشغول تھا۔ رامو کو دیکھتے ہی اس کے حضور جھک کر آداب بجا لایا اور آنکھ مارتے ہوئے بولا۔ کیوں جی۔رپٹ درج کرانے آئے ہو۔ مردوں کے خلاف ایف آئی آر لکھوانے  کا ارادہ ہے۔ جاؤ شوق سے اندر جاؤ سب اپنی ہی برادری ہے۔ رامو کو اس کی بات میں تب سچائی نظر آئی جب اس نے ہر طرف پولیس والوں کی بجائے جانے پہچانے مردوں کو ادھر ادھر گھومتے دیکھا۔صرف انسپکٹر کی جگہ اصل انسپکٹر بیٹھا تھا۔ رامو کو پہچان کر سب مردے خوشی سے تالیاں بجانے لگے، اچھلنے کودنے لگے، رامو نے انسپکٹر کے تاثرات دیکھنے کی کوشش کی تو اک مردہ مریل سی آواز میں فلمی اسٹائل سے بولا نہ نہیں بالکل نہیں وہ بیچارہ دوربین بھی لے آئے تو ہمیں نہیں دیکھ سکتا۔ اور پھر اس مردے نے کانوں پر ہاتھ رکھ کر رامو کو زبان دکھا دی۔ محرر کی طرف رامو کی نظر گئی تو انکی ہی رہ گئی وہی دیوانی عورت محرر کے سامنے پلو میں سمٹی اپنی بپتا سنا رہی تھی۔ کہہ رہی تھی۔ میرا رامو۔۔ہائے میرا رامو۔۔اسے ڈھونڈ کر لے آؤ۔۔مجھ غریب پر رحم کھاؤ۔۔اس کو منا کر لے آؤ۔۔میں اب اس کو تنگ نہیں کروں گی۔ محرر نے اپنے پیلے پیلے دانت نکالتے ہوئے رامو کی طرف دیکھا اور عورت سے بولا۔۔وہ رہا تیرا رامو۔۔عورت نے رامو کو دیکھا تو خوشی سے اک لمبی چھلانگ ماری۔۔اور اک ہی ڈگ بھر کر رامو کو آ لیا۔رامو اس اچانک افتاد پر بوکھلا کر رہ گیا۔سوچا پولیس کا محکمہ بھی ان مردوں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ لگتا ہے ان مردوں کے تعلقات بہت اوپر تک ہیں۔ رامو مشکل سے جان چھڑا کر انسپکٹر کی میز پر گیا اور اپنا مد عا بیان کیا۔ پہلے پہل تو انسپکٹر خالی خول نظروں سے اس کو گھورتا رہا۔ چہرے پر سو پچاس کے زاویے بناتا رہا۔ اور پھر بولا۔تو تو نفسیاتی مریض ہے۔ جن چڑھیں ہیں تجھ پر۔۔جن نہیں۔۔جن نہیں۔۔سرکار۔۔مردے۔ مجھے مردے چڑھ گئے ہیں مردہ خانے کے عزت مآب مردے۔۔اک وہ بوڑھا فلرٹی مردہ، وہ بھوکی شیرنی، اور اس گینڈے کو تو میں بھول ہی گیا کمبخت جس کی گردن میں پولیس کی گولی نے سجاوٹ کی ہوئی ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی انسپکٹر صاحب کئی قابل ذکر شخصیات۔۔کیسی الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہو۔۔میں نے کہا تھا نہ تم نفسیاتی مریض ہو۔۔اب پتلی گلی سے نکلو اور کسی اچھے سے ڈاکٹر سے اپنا علاج کرواؤ۔۔رامو نے بہت منتیں کیں کہ اس کی زندگی موت کا سوال ہے۔۔یہ مردے اسے جینے نہیں دیں گے وغیرہ وغیرہ۔مگر انسپکٹر منہ موڑ کر بیٹھ گیا۔۔رامو۔۔مایوس ہو کر سر جھکائے باہر نکلا۔۔تو وہی چپڑاسی مردہ اس کو دیکھ کر قہقہے لگاتے ہوئے بولا۔۔کیوں کرا دی رپٹ درج۔۔ہی ہی ہی ہی۔۔اس کی مکروہ ہنسی پر رامو کو اتنا طیش آیا کہ اس نے کچھ لمحوں کے لئے خود کو دھوبی تصور کرتے ہوئے چپڑاسی مردے کی ساری ہنسی کالی میل کی طرح نکال پھینکی۔ وہ بیچارہ نچڑے ہوئے کپڑے کی طرح سڑک پر گرا پڑا تھا  کہ یکدم اچھل کھڑا ہوا۔۔رامو نے جب دیکھا کہ اس عزت افزائی کا مردے پر کوئی اثر نہیں ہوا تو وہ درد بھرے لہجے میں بولا۔۔تم ہی بتاؤ میں کیا کروں نوکری واپس لینے گیا تو اس انسپکٹر نے نفسیاتی مریض کہہ کر دھتکار دیا۔۔ ہر کوئی مجھے پاگل سمجھنے لگا ہے۔۔ میرا قصور کیا ہے؟ نہ میں نے اس گینڈے کی گردن میں نقش و نگار بنائے ، نہ ہی میری غلطی ہے کہ وہ عورت پیاسی کنواری مری ،،مرنے سے پہلے مجھے ملتی تو سب پیاس بجھا دیتا۔۔میری خطا بس اتنی ہے کہ میں نے تم لوگوں کی دیکھ بھال کی۔۔ اب اپنے سردار سے کہنا۔۔خود ہی اس انسپکٹر کا کچھ علاج کرے۔۔ اگلے روز رامو کو انسپکٹر اپنی جیپ پر خود لینے آیا تو رامو کی حیرت کی انتہا نہ رہی انسپکٹر بولا۔۔سمجھ نہیں آتی اک چپڑاسی کے لئے اتنا بڑا سرکاری افسر خود تھانے چل کر آیا ہے۔

س کی سفارش کی ہے۔ آج سے تم اپنی نوکری پر واپس آ چکے ہو۔ رامو کو پتہ چل گیا کہ یہاں پر بھی جس محکمے کے افسر نے سفارش کی ہوگی ضرور اس کے مردوں سے کچھ نہ کچھ ناجائز تعلقات ہوں گے۔

اگلے دن رامو سینہ تان کر مردہ خانے یعنی اپنی ریاست میں غرور اور تکبر سے داخل ہوا۔ پورا مردہ گھر سجا ہوا تھا۔ ہر طرف چکا چوند روشنی تھی۔ رونق تھی۔ فضا دھیمی سی خوشبو سے معطر تھی۔ تقریب کا سماں تھا۔ رامو کی اس عاشق عورت نے رامو کو بے خبری کے عالم میں جا لیا اور بولی۔اب تم پورے کے پورے میرے ہو۔۔چل چل۔گرمی تو تجھ میں ذرا سی نہیں وہ نفرت سے بولا اسی اثنا میں اس کو اسٹیج پر بلایا گیا۔ سردار مردے نے اس کے صبر کی ہمت افزائی کی۔۔مردہ خانے کا چارج دوبارہ سنبھالنے کے فیصلے کو سراہا اور بولا صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس لوٹ آئے تو اس کو بھولا نہیں کہتے۔ہمارا بچھڑا ہوا ساتھی آج دوبارہ ہم میں موجود ہے۔۔ کسی کو کوئی شک؟ نہیں۔۔ایک اور صرف ایک زور دار آواز گونجی اور یہ کس کی آواز ہو سکتی تھی۔۔بلاشبہ اسی عورت کی۔

٭٭٭