کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

زندگی

وقار مسعود


زندگی ہم غریبوں کے لئے۔۔۔کیا ہے زندگی؟... غلامی میں پیدا ہوئے ، غلامی کی،اور غلامی میں چل بسے ، نہ کوئی مقصد نہ کوئی منزل ، باپ دادا کو جہاں کام کرتے دیکھا وہیں پلے بڑھے، انہیں کے احسانوں کے بوجھ تلے جوان ہوئے، ان کی خدمت کی اور انہیں کے دیئے گئے کفن میں منوں مٹی تلے جا سوئے۔  اور پیچھے نام لیوا بھی کوئی نہ رہا۔یاسمین کی عمر ہی کتنی تھی جب اماں ابا نے اپنی جان چھڑانے کے لئے اسے کرم دین کے ساتھ بیاہ دیا تھا کہ جوان لڑکی ہر غریب پر بوجھ ہوتی ہے۔ماں تو یہی کہنے لگی تھی کہ شوہر اپنے آپ سنبھال کر رکھے گا، آخر کرم دین کرتا ہی کیا تھا، بیگم صاحبہ کے بنگلے میں ایک معمولی سا باغبان ہی تو تھا اور اوپر سے عمر، ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کیونکر کسی پینتیس سالہ مرد کے ساتھ خوشی سے بابل گھر جائے گی لیکن ماں باپ کی بات بے بات جھڑکیوں سے دور اسے کرم دین کا گھر بہتر محسوس ہوا کہ کم از کم اپنا چاہنے والا تو ہوگا، مرغیوں کے دڑبے جتنی ہی سہی اپنی چارد دیواری تو میسر ہوگی جہاں وہ من مرضی سے سانس لے سکے گی اور کرم دین کی بانہوں میں چھپ چھپا کر سو جایا کرے گی،غرض کہ رخصتی ہوئی تو ثروت بیگم کے بنگلے کا ایک چھوٹا سا سرونٹ کوارٹر اس کا سسرال ٹھرا۔ سفید رنگ کے کوارٹر کا حدود اربعہ اگر کھلے ہاتھوں بیان کیا جائے تو دو کمروں ،ایک چھوٹے سے برآمدے چھوٹے سے صحن اور ایک غسل خانے پر مشتمل تھا۔برآمدے کے ایک کونے میں گیس والا چولہا ،پیتل کے گنے چنے برتن اور چھری کانٹے سجا کر اس حصے کو باورچی خانے کا روپ دے دیا گیا تھا۔ایک بلند و بالا محل کے سائے میں بسنے والے مختصر سے تین رکنی کنبے کی یہی کل کائنات تھی۔

یہ بیگم صاحبہ کا حکم نامہ یا استدعا جو بھی تھا مگر یاسمین پر قہر بن کر ٹوٹا کہ اس کی پھول ایسی بچی بھی اب اپنے نرم و نازک ہاتھوں سے ان چمکتے دمکتے بھاری صوفوں اور درجنوں برتنوں کی صفائی کیا کرے گی۔اس کا بس چلتا تو وہ پر لگا کر اڑتی اور کرن کو اپنی کمر پر سوار کر کے یہاں سے بہت دور کہیں کوہ قاف میں چھوڑ آتی تاکہ ماں باپ کی طرح اس کی زندگی بھی پائی پائی کا محتاج نہ بن پائے۔ وہ معصوم جو ہر رات کو قبر کی لمبائی جتنے صحن میں لیٹے لیتے چمکتے دمکتے تاروں کو دیکھا کرتی تھی، تاروں کی قطاروں کو ملا کر گڈے گڑیوں ، کاروں ، بندروں اور پھولوں کی شکلیں بنایا کرتی تھی،وہ کیا جانتی تھی ایک حد تک اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا کر ، تھپکی دے کر اور لوری دے کر سلائے گی۔  اس کے بعد چاندنی رات کے عکس پر ظلمت کے سائے قبضہ جما لیں گے پھر اسے ایک ایک نوالے کے لئے تک و دو کر کے نہ صرف خود کو زندہ رکھنا ہوگا بلکہ وقتاً فوقتاً زمانے کے طنز و مذاق پر بھی ہنسنا مسکرانا ہوگا۔۔۔وہ مذاق۔۔ جو خود وقت اور زمانہ اس کے ساتھ کرے گا۔

اگلے جمعے کو کرن نہا دھو کر بن سنور کر بنگلے میں آئی۔ وہ ہمیشہ بنگلے کے اندر جانے سے ڈرتی تھی، اسے تو بنگلے میں رہنے والے کل افراد کی تعداد بھی معلوم نہ تھی۔ اس دن اس نے بنگلے کی ہر چیز کو غور سے دیکھا۔ ا۔۔دیکھا اور سوچا۔۔اور پھر سوچنا چھوڑ دیا کیونکہ جس چیز تک انسان کی پہنچ نہیں وہاں تک سوچوں کے زاویے کیسے کھینچے جا سکتے ہیں وہ بھی اس صورت میں جب انسان زندگی بنانے کے ابتدائی مراحل میں ہو۔ وقت کچھوے ،خرگوش کی دوڑ کے موافق گزرتا رہا، صفائی ستھرائی کا بیشتر کام اب ماں کی جگہ کرن کو دیا جاتا کیونکہ اس کے جوان ہاتھوں سے محنت و مشقت کا رنگ بخوبی جھلکتا تھا۔

کہتے ہیں کہ ہر آنے والا دن مسرت کا پیامبر ہوتا ہے مگر ایسے ہی ایک نئے دن جب سورج مشرق سے سرا بھار کر چار سو روشنی بکھیری، وہاں یاسمین اور کرن کی صبح اندھیری ہو چکی تھی۔ دوسروں کے گلستان کی آبیاری کرنے والا اپنے چمن کو تشنہ لب چھوڑ گیا تھا۔کرم دین ان دونوں کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اگلے جہاں کے سفر پر روانہ ہو چکا تھا۔ ان دونوں کی ننھی منی دنیا پر غم و اندوہ کے بادل چھا گئے۔ مالکوں کی طرف سے برتاؤ میں کسی حد تک نرمی واقع ہوئی۔ اس قدر کمی کہ ثروت بیگم کا لاڈلا بیٹا عبید جب شفیق نظروں سے کرن کو دیکھتا تو وہ معصوم اندر کر دہل کر رہ جاتی،رواں رواں موسیقی کے آلوں پر کھنچی تاروں کی طرح کانپنے لگتا۔ اس نے جوانی کی دہلیز پر قدم تو رکھا تھا مگر وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ وہ عمر کے ایسے حصے میں داخل ہو چکی ہے جہاں گھر کی تمام کھڑکیاں دروازے اور چھتیں کمینوں کی حفاظت نہیں کر پاتیں۔کرن کا سولہواں جنم دن جس کی تاریخ اس نے کسی کاپی کتاب میں لکھ رکھی تھی اس مرتبہ چپ چاپ کوارٹر کے خاموش دروازے کو چھو کر گزر گیا۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں عبید کے ماموں اپنے بال بچوں سمیت ان کے یہاں سیر کرنے آئے تو عبید کو اپنا ہم عمر اور ہم خیال ماموں زاد عادل میسر آ گیا۔ دونوں نے مل کر کراچی کے ہر تفریحی مقام کی سیر کی، کلفٹن، منوڑہ،  ہاکس بے گھومے، شوقین مزاج تو سدا سے تھے ،سینماؤں میں فلم دیکھنا، ساحل پر تتلیوں کر چھیڑنا،حسن کی خرید و فروخت کرنا ان کے محبوب مشاغل میں شامل تھا۔ ان چھٹیوں میں دونوں نے مل کر ہر تفریح کا خوب لطف اٹھایا۔چند دنوں تک عبید کا رزلٹ آیا تو وہ آگے پڑھنے سے انکاری ہو گیا اور کاروبار میں دلچسپی لینے کی خواہش ظاہر کی۔ چار و نا چار والدین کو اکلوتے بیٹے کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالنے پرے اور وہ باپ کے ساتھ  دفتر جانے لگا۔ پیسہ ہاتھ میں آیا تو عیاشیوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔انہیں دنوں وہ کسی کاروباری سلسلے میں لاہور گیا تو عادل نے اس کی خوب خاطر تواضع کی، لاہور کا چپہ چپہ گھمایا، اسے بھر پور رفاقت مہیا کی، جس میں بد نام بازاروں زیارت سر فہرست تھی۔ عبید خوشگوار یادیں لے کر کراچی لوٹ آیا، بلاشبہ اسے لاہور بہت پسند آیا۔

یک روز موسم بے حد خوشگوار تھا۔ بدلیوں نے سورج کو اپنے تن کی اوٹ میں ڈھانپا ہوا تھا،کرنیں بادلوں کے پیچھے سے چھپ چھپ کر جھانکتی تھیں۔ عبید دفتر میں بیٹھا کھڑکی سے موسم کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ گھر سے فون آ گیا ،امی ابو کسی تقریب کے سلسلے میں باہر جا رہے تھے اور اسے گھر جلدی آنے کی تاکید کر رہے تھے۔ وہ کسی خیال سے اٹھا اور گاڑی نکال کر گھر کے راستے پر ہو لیا۔سارے راستے اس کا ذہن ان گنت خیالوں کو جنم دیتا رہا ،گھر پہنچتے ہی سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھا اور کرن کو پانی لانے کا حکم دیا۔ چونکہ یاسمین کی طبیعت خراب تھی اس لئے کرن نے اصرار کر کے ماں کو آرام کرنے کے لئے واپس بھیج دیا تھا۔ تمام بنگلے میں اکیلی کرن کام میں مصروف تھی۔ سہانے موسم نے کرن پر بھی شوخی بکھیری ہوئی تھی ،موسم چنچل پن پر اتر آئے تو جوانی جوبن پر آنے میں دیر نہیں لگاتی، اس لئے کرن پانی دینے کے لئے بے خیالی میں دستک دیئے بغیر عبید کے کمرے میں داخل ہو گئی۔غلطی کا احساس ہوتے ہی پلٹنے لگی تو عبید نے منع کر دیا۔

کرن پانی کا گلاس پکڑانے کے لئے آگے بڑھی تو عبید نے اس کی نازک کلائی کو پکڑ کر زور سے اپنی طرف کھینچا۔شیشے کا گلاس دیوار سے ٹکرا کر چھنا کے سے ٹوٹ گیا۔کرن کا دل ہچکولے کھانے لگا۔ وہ اس کی گرفت میں ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگی، سرونٹ کوارٹر دور تھا،چیخوں التجاؤں اور مدد کی آواز بنگلے کے بند کمرے کی موٹی موٹی دیواروں سے ٹکرا کر گونج کر رہ جاتی تھی، زمانہ آنکھیں میچ کر اپنے کام میں مگن تھا، آسمان چپکے چپکے تک رہا تھا،سورج بے قراری سے ادھر ادھر پہلے بدل رہا تھا اور بے حد بے کس نظر آتا تھا،جوانی کی نو آموز کلی مسلی جا چکی تھی۔عبید ذرا سی دیر بعد اسے دھکا دے کر اٹھ کھڑا ہوا اور مفتوح شہسوار کی مانند اپنے ہونٹوں پر دشمن کے لگائے گئے چرکوں سے بہنے والا خون صاف کرنے لگا۔کرن اضافی بوجھ کی مانند کمرے میں پڑی رہی، آنسو بے کار فرش پر بہنے لگے اور تمام آہ و فغاں جاتی رہی۔ پھر وہ بیچاری لرزتے بدن کے ساتھ سہمی سہمی اٹھی ، انجان اور خالی نگاہوں سے عبید کی طرف دیکھا اور گرتی پڑتی کوارٹر میں لیٹی ماں کے پاؤں میں جا گری۔۔۔اتنا روئی کہ زمانہ کربلا کے دن بھی اس قدر نہ رویا ہوگا۔۔۔دریا موجوں سے بھر گئے۔۔کھیت کھلیان سیراب ہوئے اور ادھر اس ندی کا کنارہ ہی اس سے چھین لیا گیا۔ندی کا پانی دوسرے کھیت کھلیانوں کو میں پھیل کر ان کی پیاس بجھا گیا۔ ماں نے گزرے ہوئے لمحے کی داستان سنی تو ہلکان ہو گئی اور بین کرنے لگی۔۔اے خدا آج آبرو محفوظ کیوں نہیں۔۔کہاں گئے وہ عرب کے صحرا و بیابان جہاں عورت آنکھ بند کر کے ہزاروں میل بے دھڑک چلی جائے تو بھی کوئی میلی نظر اس کی طرف نہیں اٹھتی۔۔آہ ہمارے محافظ کے ہاتھوں ہماری املاک لٹ گئی۔

رات تک کا وقت کیسے گزرا یہ وہ دونوں ہی جانیں ، ثروت بیگم نے گاڑی سے نیچے قدم رکھا ہی تھا کہ یاسمین ان کے قدموں میں گر گئی وہ پریشان ہو کر پیچھے ہٹیں اور پوچھنے لگیں آخر ماجرا کیا ہے؟

ادھر سے سسکیوں نے الفاظ کا روپ دھارا،۔۔بیگم صاحبہ آبرو ہر انسان کی ذاتی میراث ہے، کسی انسان کو دوسرے انسان کی عزت سے کھیلنے کا حق نہیں آپ ہمارے مالک خدا۔۔خدا آپ کی صورت میں ہمیں رزق دیتا ہے۔۔کیا آپ کا فرض نہیں بنتا کہ ہماری عصمت کی حفاظت کریں اس صورت میں کہ آپ ہی ہمیں سر چھپانے کے لئے چار دیواری اور چھت مہیا کی۔

ہاں وہ پریشان ہو گئیں پھر پوچھنے لگیں۔۔آخر بات بھی تو پتہ چلے؟

یہ عبید، آپ کی اپنی اولا د، ہماری عزت و جان کی حفاظت کرنے والے نے ہم پر حملہ کیا، میں خدا سے فریاد کروں یا اپنا گریبان چاک کر کے لہو لہان چھاتی کا تماشہ اس دنیا کو دکھاؤں۔؟۔۔ہم نے آپ کی خدمت کی۔۔آپ کا نمک کھایا مگر آج نمک کھلانے والے نے ہی نمک حرامی کا ثبوت دیا اور اس کے ساتھ ہی یاسمین نے بے جان کرن کو کندھوں سے پکڑ کر بیگم صاحبہ کے سامنے کر دیا۔ثروت بیگم پھٹی پھٹی نگاہوں سے کرن کے ٹوٹے پھوٹے وجود کو دیکھتی رہ گئیں۔ عبید سے معاملے کی سچائی کے برے میں پوچھا تو اس نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔۔وہ سر پیٹ کر رہ گئیں۔۔۔ایک طرف اولاد اور دوسری جانب نمک حلال خدمتگار۔۔مجرم اپنا مدعی پرایا۔۔۔فیصلہ کیا ہو؟ آخر کار بول پڑیں۔۔۔تمہاری شادی اسی مہینے کرن سے ہوگی اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔عبید سیماب کی طرح تڑپا اور چلایا۔۔۔کیا میں اس دو ٹکے کی نوکرانی سے شادی کروں گا؟ اس کے جواب میں ثروت بیگم دو قدم آگے بڑھیں ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا اور تحکمانہ لہجے میں بولیں۔ جوانی کا کھیل کھیلتے ہوئے یہ احساس کس جگہ چھپ کر بیٹھ گیا تھا کہ یہ بے ذات پات کے لوگ ہیں۔ اس وقت کیوں عقل گم ہو گئی تھی۔ فیصلہ یہی ہے تمہاری شادی اسی ماہ کرن کے ساتھ ہوگی اور اس کے ساتھ وہ اپنے بیٹے کی طرف تھوکتی ہوئی کرن کی طرف بڑھیں۔۔اس کی پیشانی کو دونوں ہاتھوں میں لے کر ایک بھر پور بوسہ دیا۔۔اسے دیوانہ وار چوما۔۔پھر یاسمین کی طرف رخ کیا۔۔آنکھ سے آنسو صاف کئے اور ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو گئیں۔اور اس کے بعد زار و قطار روتی ہوئیں بنگلے میں داخل ہو گئیں۔آخر وہ بھی دو بیٹیوں کی ماں ایک عورت اور ایک انسان تھیں۔

اس واقعے کے بعد عبید بے حد مایوس ہو چکا تھا۔ماں باپ کی حکم عدولی کے نتیجے میں اسے در در کی ٹھوکروں کے سوا کچھ نصیب نہ ہوتا تھا یہاں تک کہ کرن سے شادی کر لے اور عیش و عشرت کی زندگی کو جاری رکھے۔ اسے ایک دن عادل کا خیال آیا تو اسے منت سماجت کے بعد کراچی بلوا لیا دونوں مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنے لگے۔ انہوں نے کرن کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا مگر اس کے نتیجے میں شک سرا سران پر جاتا تھا۔ اس دوران عبید نے عادل کو بے تحاشا لالچ دیئے کہ وہ کچھ دن پاکستان میں گزار کر کسی دوسرے ملک چلے جائیں گے۔ عادل بھی یہ سوچ کر کہ زندگی مزے سے گزارنے کا موقع مل جائے گا اس کی اس آفر پر آمادہ ہو گیا اور وہ دونوں گھر اور بینک سے تمام نقدی اور زیور نکال کر چند دنوں کے لئے سندھ کے وسطی علاقوں میں روپوش ہو گئے۔ ان علاقوں کے بارے میں انہوں نے سن رکھا تھا کہ مجرموں کو پولیس سے چھپا کر پناہ دی جاتی ہے۔

دن، ہفتے اور پھر پورا مہینہ گزر گیا ،پولیس ان دونوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہی،والدین غم سے نڈھال ہو گئے، کرن کی دنیا بستے بستے اجڑ گئی، مگر خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے،اگر وہ مظلوم کی آہ سن کر بھی پوری نہ کرے تو کم از کم ظالم کو ضرور سزا کے کنویں میں دھکیل دیتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں جہاں وڈیروں اور جاگیرداروں کی حکمرانی ہوتی ہے اور قانون چپ کا کمبل اوڑھ کر لاغر مریض کی طرح سویا رہتا ہے۔ایسے ہی ایک علاقے میں وہ دونوں عادت سے مجبور ہو کر کسی وڈیرے کی نوکرانی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑے گئے۔

وڈیرے کے کارندوں نے ان کو مالک کے حضور پیش کر دیا۔سزا کے طور پر ان کا تمام نقدی زیور چھین لیا گیا اور انہیں زبردستی ذاتی جیل دھکیل دیا گیا جہاں وہ چوبیس گھنٹے نگرانی میں رہتے تھے۔اس کے بعد دوسرے قیدیوں کی طرح ان کو بھی کھیت میں بیلوں کی جگہ ہل چلانے کے لئے جوت دیا گیا ،اب وہ ہر دم ایک دوسرے کو کوستے رہتے تھے ،عادل خواہ مخواہ  عیاشی سے بھر پور زندگی چھوڑ کر عبید کے ساتھ آ پھنسا تھا اور عبید کو ہر وقت جلی کڑھی سناتا رہتا تھا۔ دونوں کی نازک کمر پر ہل کے گہرے نشان ثبت ہو چکے تھے۔ آنکھوں سے زندگی کی رمق دمق ختم ہوتی جا رہی تھی۔ اس پر مزید ستم یہ ہوا کہ دونوں کو الگ الگ جگہوں پر بھیج دیا گیا۔

عبید کی ایک ملازمہ سے زبردستی شادی کروا دی گئی۔منگنی ،مہندی کی رسموں اور برقی قمقموں سے پاک وڈیروں نے مولوی بلا کر تو میری میں تیرا کہلوا کر دونوں کو چھٹی دے دی۔ چند دنوں کے بعد عذاب و مشقت کا پرانا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا۔جس ملازمہ سے عبید کی شادی کروائی گئی تھی۔ اس کا نام کلثوم تھا۔ سال دو سال میں ان کے یہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام انہوں نے زریں رکھا ، کلثوم وڈیرے کی حویلی میں صفائی کے کام پر مامور تھی۔ اکثر اوقات وڈیرے کے کارندوں کی زور زبردستی پر ڈیرے کا چکر بھی لگاتی رہتی تھی۔ عبید اب گھر سے بھاگنے والے اپنے احمقانہ فیصلے پر پچھتا رہا تھا۔ یہ زندگی اس کے لئے عذاب بن چکی تھی، گذشتہ زندگی اس نے اپنے ہاتھوں برباد کی تھی۔ زریں کے بعد اولاد پیدا کرنے کی خواہش عبید کے دل میں دم توڑ چکی تھی زمانہ اپنی رفتار چلتا رہا اور زرین زندگی کی سترہ بہاریں دیکھ کر اب اٹھارہویں سال میں داخل ہو چکی تھی۔

باپ کے کپکپاتے ہاتھوں میں پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے اسے گلاس گر جانے کا خدشہ ہوتا تھا۔ عبید کا یہ حال اس کی عمر کی بجائے فطرت کے بر عکس مشقت بھرے کام کرنے سے ہوا تھا ، احساس جرم نے اسے وقت سے پہلے مار دیا تھا، بدن کی آرام طلب مشینری زبردستی چل چل کر اب جواب دے چکی تھی۔ زرین اپنی ماں کے ساتھ وڈیرے کے ہاں کام پر جایا کرتی تھی۔ ایک دن شام کو گھر لوٹی تو باپ کو نلکے کے نزدیک خون کی قے کرتے ہوئے پایا، گردن لقوے کے باعث ایک طرف کر مڑ چکی تھی، بخار اور کھانسی نے حالت مزید بگاڑ کر رکھ دی تھی، دعا نہ دوا تھی۔ عبید بیٹی کا سہارا لئے چارپائی پر آ بیٹھا۔ زریں نے پانی کا گلاس باپ کے ہونٹوں سے لگایا ، ابھی دو گھونٹ ہی بھرے ہونگے کہ کھانسی کا شدید دورہ پڑا، پانی سانس کی نالی میں اتر گیا۔ سانس رک رک کر آنے لگی۔ آنکھیں تکلیف کی شدت سے باہر کو ابل آئیں ، ہاتھ بے اختیار دل کی جانب اٹھا مگر دل تک پہنچنے سے پہلے ہی ہوا میں جھول کر رہ گیا۔یہ واقعہ زریں اور کلثوم کے لئے عذاب سے کم نہیں تھا۔وڈیرے کی طرف سے کفن دفن کا انتظام ہوا، دوسروں کی خوشیوں کو لوٹنے والا خالی ہاتھ غموں کے بوجھ تلے سسک سسک کر دم توڑ گیا۔نازے کو عزیزوں کا کندھا تک نصیب نہ ہوا ، بد نصیب کے لاشے پر کوئی ماں دھاڑیں مار مار کر نہ رو سکی، دعائے مغفرت اور آہ و بکا کے لئے دو سے زائد ہتھیلیاں بھی میسر نہ آئیں۔

تپتی دوپہر تھی۔ زریں حویلی کے تندور جیسے دہکتے صحن میں جھاڑو لگا رہی تھی کہ مالکن نے بلا بھیجا اور اٹھتے ہوئے بے اختیار اس کی زباں پر یہ لفظ رقص کرنے لگے۔۔زندگی ہم غریبوں کے لئے۔۔۔کیا ہے زندگی؟ غلامی میں پیدا ہوئے ، غلامی کی، اور غلامی میں چل بسے، نہ کوئی مقصد نہ کوئی منزل، باپ دادا کو جہاں کام کرتے دیکھا ،وہیں پلے بڑھے، انہیں کے احسانوں کے بوجھ تلے جوان ہوئے ان کی خدمت کی، اور انہیں کے دیئے گئے کفن میں منوں مٹی تلے جا سوئے اور پیچھے نام لیوا بھی کوئی نہ رہا۔

٭٭٭