کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اس کی ماں کی ماں

نصر ملک


’’میری ماں اگر واقعی میں مجھ سے محبت کرتی ہوتی اور اسے اگر میری کچھ بھی قدر و قیمت کا احساس ہوتا تو پھر اسے میرے بچپن ہی میں ہی یوں اپنی زندگی ختم کر دینے کی کیا ضرورت تھی!‘‘ کارین تیز تیز قدم اٹھاتی گھر جا رہی تھی۔ ’’اسے یہ خیال بھی نہ آیا کہ اس کی بیٹی کا کیا بنے گا؟ وہ اگر واقعی مجھ سے محبت کرتی ہوتی تو کم از کم اتنا تو ضرور سوچتی،  خود کشی تو نہ کرتی۔ ‘‘ کارین تیزی سے چلتی جا رہی تھی۔ ’’بہتر یہی ہے کہ سبینا کو اس بارے میں کبھی معلوم نہ ہو۔ ‘‘

          اس شام گھر میں داخل ہوتے ہی کارین اپنی بیٹی کا منہ چڑھانے لگی تھی۔ سبینا حیران تھی کہ ماں کو کیا ہو گیا تھا۔ وہ مذاق سمجھ رہی تھی،  لیکن اس کی شوخیوں نے کارین کو اور بھی غصہ دلا دیا تھا اور وہ بہانے بناتی ہوئی اُس پر برس رہی تھی۔ ’’سکول سے آ کر تم نے ابھی تک اپنا لباس بھی تبدیل نہیں کیا،   تمھارے جوتے ڈرائنگ روم میں کیوں پڑے ہیں ؟ ذرا اپنے بال تو دیکھو!‘‘

          سبینا خاموش ہو گئی تھی اور پھر اپنی چیزوں کو ٹھیک کر کے اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر کے بستر پر گر گئی تھی۔ اُدھر کارین بھی باورچی خانے میں مصروف ہو گئی تھی۔ اُس نے اپنے لئے کافی کی پیالی بنائی اور صوفے پر آن بیٹھی۔ ’’آج کا دن بھی بے کار کیفے ٹیریوں کی نذر ہو گیا۔ ‘‘ اُس نے سوچا۔ ’’میں کسی بھی طرح محض ’’بیکار عورت‘‘ نہیں ہوں،  میرا بھی وجود ہے اور اس وجود کی اہمیت بھی! میں کوئی لایعنی چیز نہیں ہوں۔ ‘‘ وہ سوچ رہی تھی۔ ’’میرے ساتھ جو سلوک میری ماں نے کیا ہے میں وہ کبھی بھی سبینا کے ساتھ نہیں کروں گی۔ ۔ ۔ ۔ سبینا میری بچی!‘‘

          سبینا اب اپنے کمرے سے آنکھیں ملتی ہوئی ڈرائنگ روم میں آ گئی تھی اور باتھ روم کی طرف جاتے ہوئے اُس نے بڑی گہری نگاہوں سے ماں کو دیکھا۔ ان دونوں کی آنکھیں چار ہوتے ہی کارین نے اپنی نظریں جھکا سی لی تھیں اور سبینا باتھ روم میں چلی گئی تھی۔  ’’اس میں سبینا کا کیا دخل ہو سکتا ہے جو زندگی مجھ سے یوں بیزار ہے۔ ‘‘ کارین ابھی تک گردن جھکائے ہوئے تھی۔ کافی کی پیالی کا اُسے احساس ہی نہ رہا تھا۔

          باتھ روم سے نکل کر سبینا پھر اپنے کمرے میں جا کر بستر پر لیٹ گئی تھی۔ کچھ دیر بعد کارین اپنی جگہ سے اٹھی اور اس کے کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک دیتے ہوئے،  جواب کا انتظار کئے بغیر اندر داخل ہو گئی اور جاتے ہی سبینا کو اپنی بانہوں میں جکڑ کر اس کے ساتھ لیٹ گئی تھی۔ سبینا نے پہلے تو بڑی شدت کے ساتھ خود کو اس کی بانہوں سے آزاد کرانے کے لئے زور لگایا لیکن پھر خود ہی اس کے ساتھ چمٹ گئی۔ اور آہستہ آہستہ سسکیاں بھرنے لگی۔ ’’نہیں میری ننھی شہزادی میرا مقصد غصّے ہونا نہیں تھا،  کبھی ماں بھی ۱پنی اولاد سے ناراض ہو سکتی ہے،  نہیں ! نہیں،  میری بچی!!‘‘ کارین،  سبینا کے لمبے سنہری بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں بولے جا رہی تھی۔ سسکیاں بھرتے بھرتے،  تھوڑی دیر کے بعد جب سبینا کی آنکھ لگ گئی تو کارین بڑی آہستگی کے ساتھ اُٹھ کر،  چپکے سے ڈرائنگ روم میں آ گئی۔

          اُس نے الماری میں سے وائین کی ایک بوتل نکالی اور اسے کھول کر ایک گلاس وائین سے بھرکر ہوا میں بلند کیا۔ ۔ ۔ ۔  ’’چیئرز کارین!‘‘  اپنے آپ سے مخاطب ہوتے ہوئے اس نے پورا گلاس ایک ہی گھونٹ میں خالی کر دیا اور بوتل سے پھر گلاس میں وائین انڈیل لی۔ وہ کافی دیر یوں ہی بیٹھی،  خلا میں گھورتی وائین پیتی رہی۔ اس رات وہ صوفے پر ہی سو گئی تھی۔

          رات کے پچھلے پہر جب اُس کی آنکھ کھلی تو اُسے اپنا گلا خشک ہوتا محسوس ہوا۔ اس نے بوتل میں بچی کھچی وائین گلاس میں انڈیل کر اس سے اپنا حلق تر کیا۔ اُسے اپنے کاندھوں پر اپنا سر بہت بھاری لگ رہا تھا۔  ’’مجھے اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے۔ ‘‘اس نے وائین کی خالی بوتل کو دیکھتے ہوئے سوچا۔ اب وہ پھر صوفے پر ہی لیٹ گئی تھی۔ ’’تمھیں ہمیشہ اپنے آپ کو ایک اچھی لڑکی ثابت کرنا چاہیے۔ ‘‘ نجانے اسے اپنی ماں کی یہ نصیحت اس وقت کہاں سے اور کیسے یاد آ گئی تھی۔  ’’ایک اچھی لڑ کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ انہی خیالوں میں وہ ایک بار پھر سو گئی تھی۔

          جیسا کہ یہ روزمرہ کا معمول بن چکا ہوا تھا۔ آج صبح بھی اُسے سبینا ہی نے جگایا تھا۔ جونہی کارین نے آنکھیں کھولیں اور سامنے کھڑی سبینا کے چہرے کو دیکھا تو وہ اس سے آنکھیں ملانے کی تاب نہ لا سکی۔ اُسے یوں لگا جیسے نو سالہ سبینا کی آنکھیں اُسے بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔ کہہ کہا وہ تو شاید اُسے ملامت کر رہی تھیں۔ ۔ ۔ ۔  ’’شرم کرو،  شرم ! ماں تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے؟ تم نے تو کہا تھا کہ تم  رات کو اب وائین نہیں پیو گی! اپنی اس حالت کی تم خود ذمہ دار ہو،  تم خود ماں !‘‘ ننھی سبینا شراب کی بوتل کو گھورتی ہوئی باتھ روم کی طرف چل دی تھی۔ سبینا نے جن نگاہوں سے اپنی ماں کو دیکھا تھا اس کا مطلب تو صاف ظاہر تھا لیکن،  کارین کو اُن کے پیچھے چھپی ہوئی بیکراں محبت کا بھی احساس تھا۔ ’’ایک بیٹی کی اپنی ماں کے لئے محبت!‘‘

          سبینا باتھ روم سے فارغ ہو کر اب ڈرائینگ روم میں آ چکی تھی اور اپنی ماں کو بازوؤں سے پکڑ کر اُسے اوپر اُٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ’’تم نشے میں ہو، سبینا بولی اور پھر اُسے چھوڑ کر اپنے میں چلی گئی۔  ایسا ہر روز ہی ہوتا تھا۔ کارین اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے اب باتھ روم کی طرف جا رہی تھی اور جونہی اس کی نظریں وہاں آئینے پر پڑیں اُسے اپنی صورت سے وحشت سی ہونے لگی۔  کھلے بے ترتیب سے بال،   لال سرخ سوجھی ہوئیں آنکھیں اور اُن کے گرد نیلگوں مائل سیاہ حلقے۔ وہ بڑی مشکل سے سنبھلنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اپنا آپ برقرار نہ رکھ سکی اور دھڑام سے نیچے گر گئی تھی۔ اس کے گرنے کی آواز سن کر سبینا دوڑتی ہوئی باتھ روم میں آئی اور اسے اوپر اُٹھانے لگی۔ ’’میں تمھاری مدد کرتی ہوئی ماں ! چلو تم اپنا چہرہ تو دھولو۔ ‘‘ وہ ماں کو سہارا دے کر اوپر اُٹھاتے ہوئے بولی۔

          کارین کو اپنی حالت سے زیادہ ننھی بیٹی پر رحم آنے لگا تھا،  لیکن وہ تو خود ابھی تک نیچے گری ہوئی تھی۔ ’’نہیں میری بیٹی،  یہ بڑوں ہی کا کام ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔  میں تم سے تمھارا بچپنا ہرگز نہیں چھیننا چاہتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم بچی ہو اور تمہیں ابھی بچی ہی رہنے کا مکمل حق ہے۔ ‘‘ کارین غوں غان کر رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے بالکل وہی منظر اُبھر آیا تھا جب وہ خود سبینا کی عمر کی تھی اور اپنی ماں کی اسی طرح مدد کیا کرتی تھی جس طرح آج اُسے سبینا سہارا دے رہی تھی۔

          ’’میں نے واقعی میں اپنے آپ کو بیوقوف اور پاگل بنا رکھا ہے۔ ‘‘ اب وہ اُٹھ کر بیٹھ چکی تھی اور سبینا کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے تھی۔ ’’میں تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ اب تم مجھے چھوڑو اور اپنے سکول جانے کی تیاری کرو،  کیا تم نے ناشتہ کر لیا ہے؟‘‘ وہ اپنے چہرے پر پانی کے چھینٹے ڈالتے ہوئے بولی۔

          ’’ماں تمہیں پتہ بھی ہے اب دس بج چکے ہیں۔ ۔ ۔ ۔  اب سکول جانے کا فائدہ؟‘‘ سبینا بولی۔  ’’میں تمھارے ساتھ گھر ہی پر رہوں گی،  سکول جا کر اپنا مذاق کیوں اُڑواؤں !‘‘ یہ کہہ کر وہ باتھ روم سے باہر چلی گئی۔ کارین کے پاس اُس سے بحث کرنے کے لئے نہ تو الفاظ تھے اور ہی کوئی ہمت۔  وہ سبینا سے کسی بھی طرح الجھنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی آنسو بہا رہی تھی اور،  جب آنسوؤں کی دھندلاہٹ کم ہوئی تو اُس نے آئینے میں بڑے غور سے اپنے چہرے کا جائزہ لیا اور پھر اپنے سراپے پر ایک نظر ڈالی۔ وہ بتیس برس کی تھی لیکن اس کا طور طریقہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ آگے کچھ سوچنے ہی والی تھی کہ اسے سبینا کا خیال آ گیا۔ ’’سبینا،  میری بچی! تم کتنی مددگار ہو،  مجھے خود اگر اپنے لئے نہیں تو کم از کم تمھارے لئے خود کو اب ضرور بدلنا ہو گا۔ ۔ ۔ ۔  سبینا،  میری بیٹی،  میں اپنے آپ کو  بدلوں گی!‘‘

          کارین اب باتھ روم سے ڈرائینگ روم میں آ گئی تھی جہاں سبینا پہلے ہی سے بیٹھی ہوئی تھی۔ ’’یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ تم سکول نہیں گئی ہو۔ ‘‘ وہ وائین والا خالی گلاس میز سے اُٹھاتے ہوئے بولی۔ اس کے لہجے میں کرختگی ضرور تھی لیکن محبت کا عنصر غالب تھا۔ ’’مجھے چند گھنٹوں کے لئے باہر جانا ہے لیکن میں تم کو ساتھ نہیں لے جا سکوں گی مجھے ’’ایمپلائمنٹ بیورو‘‘ میں جانا ہے۔ ‘‘

          ’’یہ ’’ایمپلائمنٹ بیورو‘‘ کیا ہوتا ہے؟‘‘  سبینا نے پوچھا۔

          ’’ایسی جگہ جہاں ملازمت کے لئے لوگوں کو کام دلوایا جاتا ہے۔ ‘‘ وہ بولی۔

          ’’کیا تم نے وہاں کوئی وقت لے رکھا ہے؟‘‘ سبینا کے لہجے میں تجسس تھا۔

          کارین ہاں کہنے ہی والی تھی کہ اچانک سوچتے ہوئے بولی  ’’نہیں،  میں نے وقت تو نہیں لے رکھا۔ ‘‘

          ’’تو پھر میں بھی تمھارے ساتھ جاؤں گی۔ ‘‘ سبینا زور دیتے ہوئے بولی۔ کارین کو یوں محسوس ہوا جیسے اُس کے اندر کا چور پکڑا گیا ہو۔ سبینا اُس پر یقین نہیں کر رہی تھی کہ وہ واقعی ہی ’’ایمپلائمنٹ بیورو‘‘ ہی جانا چاہتی تھی۔ اب اس بندریا کو بھی ساتھ ہی لے جانا ہو گا۔

                 بیورو کی طرف جاتے ہوئے کارین نے راہ میں کئی بار سوچا کی کسی کیفے یا بار میں بیٹھ کر اگر وہ ایک گلاس وائین یا بیئر پی لے تو شاید اس طرح اُس کا اعصابی تناؤ نہیں رہے گا۔ لیکن جب بھی وہ کسی بار یا کیفے کی طرف مڑنے لگتی،  سبینا اُسے آگے کھینچ لیتی۔ ’’ماں، ماں ! ہمیں جلدی چلنا چاہیئے۔ ‘‘ وہ اس کی ٹانگوں سے لپٹ جاتی۔

          ایمپلائمنٹ بیورو میں کارین کی توقع سے بھی کہیں زیادہ مہربان قسم کے لوگ تھے۔ لیکن اس نے جب ملازمت کے لئے اُن سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ اس کی قابلیت کے مطابق اُسے کسی بھی روزگار کی پیشکش نہ کر سکے۔ وہ نہ تو تربیت یافتہ نرس تھی اور نہ ہی ایسی کہ کسی فیکٹری میں کام کر سکے۔ بیورو کے ایک ملازم نے اُسے ایک جگہ دفتری کلرک کی عارضی خالی آسامی پُر کرنے کے لئے وہاں جانے کا مشورہ دیا،  اور اس کے سامنے ہی اُس دفتر میں فون بھی کر دیا جہاں اگلے روز کارین کو کام کے لئے ’’رپورٹ‘‘ کرنا تھی۔ ننھی سبینا اچھل اچھل کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہی تھی کہ اس کی ماں کو ملازمت ملنے والی تھی۔

          بیورو سے باہر نکلنے کے بعد،  واپس گھر جاتے ہوئے،  کارین کو پھر کسی کیفے یا بار میں جانے اور وائین پینے کا خیال آیا۔ ’’اس طرح تھکن بھی دور ہو جائے گی‘‘ اس نے سوچا لیکن،  جونہی وہ ایک بار کے دروازے سے اندر داخل ہونے لگی سبینا نے اس کا بازو کھینچ لیا ’’ماں ! ہمیں گھر جانا ہے،  یہ تو شرابیوں کی جگہ ہے!‘‘ کارین کچھ بھی نہ بول سکی اور پھر چلنے لگی۔

          گھر پہنچتے ہی سبینا نے کھانے کے لئے شور مچانا شروع کر دیا تھا اور کارین نے وائین کی بوتل کھول لی تھی۔ ’’تم تب تک کچھ نہیں پیؤ گی جب تک مجھے پہلے کھانا نہیں دو گی۔ ‘‘ سبینا وائین کی بوتل اُٹھا کر اپنے کمرے کی طرف بھاگنے ہی لگی تھی کہ پھسل کر فرش پر گر پڑی،  بوتل سے وائین بہہ کر فرش پر پھیل رہی تھی۔ کارین نے بڑے غصّے میں اچانک سبینا کو تھپڑ دے مارا اور وہ روتی،  چیختی،  بڑبڑاتی اپنے کمرے میں جا کر بستر پر جا گری۔

          اب فرش صاف کرتے ہوئے،  کارین خود بھی رو رہی تھی۔ گھر میں وائین کی یہ آخری بوتل تھی اور وہ خوب جانتی تھی کہ وائین کے بغیر اُس کے لئے رات گزارنا کتنا مشکل تھا۔ فرش صاف کرنے کے بعد اُس نے سبینا کے کمرے میں جھانکا۔ سبینا سسکیاں بھر رہی تھی اور غالباً اُسے اپنے کمرے میں اب ماں کی موجودگی کا پتا ہی نہیں تھا۔ کارین نے چپکے سے باہر نکل کر آہستہ سے دروازہ بند کر دیا۔  ’’سو گئی ہے شاید۔ ‘‘ اس نے سوچا اور صوفے پر بیٹھتے ہوئے،  فرش کو دیکھنے لگی۔ اسے اپنا گلا خشک محسوس ہو رہا تھا اور ہاتھ کانپنے سے لگے تھے۔ وہ فرش سے بوتل اٹھانا بھول گئی تھی۔ اب وہ خود کلامی کے سے انداز میں بڑبڑا رہی تھی۔

          ’’ماں،  تمھیں خود کشی کرنی ہی تھی تو مجھے جنم دینے کی وجہ کیا تھی؟ فلیمنگ!حرامی سؤر!! تو سبینا کی پیدائش تک بھی میرا ساتھ نہ رے سکا اور مجھے اکیلا چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ ‘‘ اسے اپنی ماں،  اپنی طویل بیروزگاری،  تنہائی اور ماں کی بے وفائی اور فلیمنگ کی طرف سے دھتکار دیئے جانے کے احساس اور سبینا سے بے توجہی برتنے کی فکر نے جکڑ لیا تھا۔ اس نے ٹانگ بڑھا کر فرش پر گری بوتل کو اپنی طرف لڑھکایا اور پھر کچھ دیکھے سوچے بغیر اس کو منہ سے لگا لیا۔ وائین کے چند بچے کھچے قطرے اس کا حلق تر کرنے کے لئے کافی نہ تھے۔

          وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور سبینا کے کمرے میں جا کر اُس پر ایک کمبل اوڑھ دیا۔  سبینا کے گال ابھی تک آنسوؤں سے تر تھے۔ ’’سبینا میری بیٹی،۔ ۔ ۔ مری ہمدرد!‘‘ کارین نے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے خود کلامی کی۔ اسے یہ بھی یاد نہیں تھا کہ سبینا نے کچھ کھایا بھی تھا یا نہیں۔

          اب وہ اپنے محلّے کی بار میں بیٹھی وہسکی کا ایک ڈبل پیگ پی رہی تھی۔  ایک اور ڈبل پیگ اور پھر ایک اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اسے سبینا  کا گھر پر اکیلے ہونے کا خیال بھی آیا لیکن اسے یقین تھا کہ وہ سو ہی رہی تھی۔ وہسکی کا ایک پیگ اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’صبح دس بجے‘‘۔ ۔ ۔ اسے خیال آیا کہ اُسے تو اُس کمپنی کے دفتر جانا ہے جہاں ’’ایمپلائمنٹ بیورو‘‘ والوں نے اُس کے لئے عارضی ملازمت کا بندوبست کیا تھا۔ ایک اور وہسکی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب وہ پوری طرح نشے میں جھول رہی تھی۔  اُسے یہ بھی یاد نہیں تھا کہ اتنی جلدی میں وہ کتنے پیگ چڑھا چکی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ماں،  فلیمنگ،  تنہائی،  بیروزگاری،  سبینا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ‘‘ اُس نے گلاس سے وہسکی کا آخری گھونٹ پیا اور گھر واپس جانے کے لئے لڑکھڑاتی،  ہچکولے کھاتی ہوئی،  بار کے دروازے سے باہر نکل آئی۔ اُسے اپنے آپ کو بحال رکھنا مشکل ہو رہا تھا بلکہ ایسا کرنا اب اُس کے بس ہی میں نہیں رہا تھا۔

اُس کے پاؤں بری طرح سے لڑ کھڑا رہے تھے اور چلتے چلتے وہ کبھی دائیں تو کبھی بائیں جانب لڑھک جاتی تھی اور ایک بار تو وہ منہ کے بل گرتے گرتے بچی۔  وہ مین روڈ کے بیچوں بیچ  سے گزر کر بائیں جانب والی گلی میں موڑ مڑنے ہی والی تھی کہ سامنے سے آتی ہوئی ایک تیز رفتار کار اسے ٹکر مارتی ہوئی کچھ آگے جا کر رک گئی تھی۔

          دوسرے دن گیارہ بجے کے قریب کارین کے گھر فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔  یہ بیورو والے تھے جو جاننا چاہتے تھے کہ وہ ابھی تک کام پر کیوں نہیں پہنچی تھی۔ سبینا بھی گھر پر نہیں تھی۔  پولیس اور سماجی

 فلاح کے ادارے والوں نے اُسے وقتی طور پر اپنے ’’بہبود و تحفظِ اطفال‘‘ کے ادارے والوں کے سپرد کر دیا تھا۔

٭٭٭