کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ساعتِ نزول

نصر ملک


ہنرک نے اپنے بائیں ہاتھ پڑی کیتلی سے چائے انڈیلی اور پیالی گاہک کو تھما دی۔

          بار کے عین سامنے بیٹھی ہوئی ایک عورت اپنی ساتھی عورت کو ایک ’’تجرباتی آرٹ گیلری‘‘ میں اپنی نئی ملازمت کے متعلق بتا رہی تھی۔ ایک آدمی نے گردن بڑھائی اور انہیں ’’جیز میوزک‘‘ کی دھنوں پر رقص کرنے کے لئے پاؤں کی جنبشوں کے بارے میں بتانے لگا۔

          جینز کی آدھ پھٹی پتلون پہنے،  کالج کے طالب علموں کی طرح دکھائی دینے والا ایک نوجوان،   اندر داخل ہوا اور سیدھا اُس میز کی طرف بڑھ گیا جہاں فنونِ لطیفہ اور ادب و آرٹ کے رسائل و جرائد پڑے تھے۔ اُس نے اپنی پتلون کی پشت والی جیب سے تہہ کیا ہوا ایک چھوٹا سا پمفلٹ نما رسالہ نکالا،  اسے میز پر رکھا اور وہاں سے ایک نیا رسالہ اُٹھا کر کوٹ کی اندرونی جیب میں ڈالا اور جس راستے سے کیفے ٹیریا میں داخل ہوا تھا،  اسی راستے سے باہر نکل گیا۔ کسی نے اُس کی موجودگی محسوس ہی نہیں کی تھی۔

          اُن دونوں عورتوں نے اپنے لئے ’’بلیک گولڈ‘‘ بیئر کے دو بڑے گلاسوں کا آرڈر دیا تھا۔ اُدھر ان سے ہٹ کر دروازے کے ساتھ والی ایک میز پر بیٹھیں سرخ لمبی جرابوں والی دو ’’لزبین‘‘ عورتوں کا موضوع گفتگو تنخواہوں میں اضافوں کے بارے میں،  پارلیمنٹ میں جاری سیاسی بحث و مباحثہ تھا۔

          ہنرک بار کے پیچھے کھڑا سوچ رہا تھا   -------’’کیا میں بھی کوئی انسان ہوں ؟ سارا وقت ایک ’’ربوٹ‘‘ کی طرح محض اِدھر سے اُدھر تھوڑی سی جگہ میں کام کاج کی غرض سے متحرک رہتا ہوں،  اور بس!‘‘  اُس نے اپنے آپ کا جائزہ لیا اور ایک گلاس اُٹھا کر ابھی برتن دھونے والی مشین میں رکھنے ہی والا تھا کہ اس کی نظر سامنے بیٹھے ہوئے،مصوروں،  دانشمندوں، ادیبوں اور شاعروں کی منڈلی پر پڑی۔ ’’یہ بھی تو روبوٹ ہی ہیں !‘‘  ہنرک نے سوچا۔ ’’میری ہی طرح کے ربوٹ،  ان کا کام بس بیٹھے رہنا ہے، نہیں،  نہیں ! یہ تو تخلیق کار ہیں،  مصوری کے،  شاعری کے،  ادبی شاہپاروں کے تخلیق کار!! -------- نت نئی جہتیں تلاش کرنے والے،   ذرّے کو آفتاب بنانے والے،  یہ ربوٹ۔ ‘‘ ابھی وہ کچھ آگے بھی سوچنے ہی والا تھا کہ یکایک دروازہ کھلا اور ایک ہشاش بشاش شخص کیفے ٹیریا کے اندر داخل ہوا۔ وہ اِدھر اُدھر نگاہ گھماتے ہوئے اب ایک کرسی کھینچ کر اُس پر بیٹھ چکا تھا۔ وہ کیفے ٹیریا کی دیواروں پر لگے ہوئے معروف عالمی دانشوروں،  ادیبوں،  شاعروں،  موسیقاروں اور مصوروں کی تصویروں والے پوسٹروں کو دیکھ رہا تھا اور پھر اچانک اس کی نگاہ بار کے پیچھے کھڑے ہنرک پر پڑی تو گویا وہیں رک گئی۔

          گلاس ابھی تک ہنرک کے ہاتھ ہی میں تھا کہ ایک خاتون بار کے عین اُدھر اُس کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ ’’تمھارا ستارہ کونسا ہے؟‘‘ اس نے ہنرک سے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

          ’’برج!‘‘ ہنرک بولا اور بار کے اوپر،  سجاوٹ کے لئے لٹکائے ہوئے ترازو کے ایک پلڑے میں گلاس رکھ دیا جس سے ترازو کا دوسرا پلڑا بہت ہی اوپر اُٹھ گیا۔ اب وہ خود ایک ’’سلائس‘‘ پر مکھن لگا رہا تھا۔

          مضبوط قدو کاٹھ کے دو ہٹّے کٹّے نوجوان کسی طوفانی بگولے کی مانند دروازے سے اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر ایک خالی میز کو مل کر اوپر اٹھایا اور فرش پر دے مارا۔ اب وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے یوں دیکھ رہے تھے گویا جانتے تھے کہ انہوں نے اپنا کام کر لیا تھا اور اب وہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اُن میں سے ایک نے کیفے ٹیریا میں بیٹھے دانشوروں،  مصوروں،  ادیبوں اور شاعروں کی ٹولی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور پھر پلک جھپکتے ہی اُن دونوں نے مل کر فرش پر گری ہوئی میز کو اوپر اٹھایا اور اُسے سیدھا کر کے رکھ دیا اور اس پر میز پوش بچھا کر اُسی طرح بگولے کی طرح باہر نکل گئے جیسے اندر آئے تھے۔

           دانشوروں نے اپنے اپنے سر اُٹھا کر گھوم کر دروازے کی طرف دیکھا۔  اس کے پاٹ ابھی تک ہل رہے تھے۔ ’’کیا یہاں کوئی آیا تھا؟‘‘ بار کے پیچھے کھڑے ہوئے ہنرک نے ایک دانشور کو ایک ادیب  سے بات کرتے ہوئے سنا۔ ’’کون تھے وہ؟ ‘‘ ہنرک نے سوچا،  جن کو دانشور ’’کوئی‘‘ کہہ رہا تھا۔

          ایک شاعر جو شام بھر سے اپنی ہی دھن میں،  سب سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا۔ اُس نے اپنی جیب سے پائپ نکالا اور اس میں تمباکو بھرتے ہوئے بار میں سجی،  مختلف شرابوں وا لی بوتلوں کو دیکھنے لگا تھا۔ تمباکو بھرنے کے بعد اُس نے پائپ کو ہونٹوں میں دبا کر سلگایا اور پھر ایک بھرپور کش لگا کر دھواں ہوا میں اُڑا دیا۔ ایک کش،  دوسرا کش،  دھواں،  ایک اور کش،  مزید دھواں،  دھواں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دھواں،  اور دھواں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب اس نے اپنا پائپ میز پر رکھ کر ماچس کی ڈبیہ کوٹ کی جیب میں ڈال لی تھی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بار پر جا کر کھڑا ہو گیا تھا۔

          ’’تمھیں کیا چاہیے؟‘‘ ہنرک نے شاعر سے پوچھا،  جس کے نتھنوں سے ابھی تک پائپ کا بچا کھُچا دھواں نکل رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’کچھ ہی دے دو۔ ‘‘  وہ بولا۔     

          ’’کچھ ہی دے دو!‘‘ ہنرک ایک گلاس اٹھاتے ہوئے زیرِ لب بڑبڑایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’پینا تو تم نے ہے نا!‘‘

          ’’ہاں،  ہاں !‘‘ مجھے ہی پینا ہے۔ ’’شاعر قدرے زور دیتے ہوئے بولا۔ ’’تم کچھ ہی دے دو،   میں پی لوں گا۔ ‘‘ اُس کی آواز میں قدرے لکنت تھی۔

          ’’تو کیا میں اسے ابلتا ہوا کوکا کولا دے دوں ؟‘‘

’’ نہیں،  نہیں ! اس کے لئے تو چاکلیٹ کے بغیر’’کیپوچینو‘‘ کی ایک نیم گرم پیالی بہتر رہے گی یا پھر اسے ’’برننگ وائین‘‘ اور ’’کمپاری‘‘ کا مرکب پلانا  چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں۔ ‘‘ خیالات بڑی تیزی سے ہنرک کے ذہن میں آ رہے تھے۔ ایسے تجرید پسند کے لئے تو سبھی شرابوں سے بنی ’’کاک ٹیل‘‘ اور اس پر ’’پاپکون‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں،  ہاں !۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’پاپکون کاک ٹیل‘‘ کا ایک گلاس ہونا چاہیے۔ ‘‘

          بار کے ساتھ کھڑی خاتون،  جس نے ہنرک سے اُس کی قسمت کے ستارے کے بارے میں پوچھا تھا وہ بھی اخبار ایک طرف رکھتے ہوئے اب ہنرک کو بڑی حیرت اور تجسس سے دیکھ رہی تھی۔ اُس کے ہونٹوں پر اب ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھر آئی تھی۔

          ’’تو یہ لو،  یہ رہی میری پسند!‘‘ ہنرک نے گلاس شاعر کے آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

          ’’یہ کیا ہے؟‘‘  اُس نے بڑی ہچکچاہٹ کے ساتھ گلاس پکڑ کر بار کے میز پر رکھتے ہوئے پوچھا۔

          ’’یہ!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ!!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘  ہنرک نے اُس کے کان میں ایک لمبی سرگوشی کی۔

          ’’اچھا تو یہ بات ہے!‘‘ شاعر گلاس اُٹھاتے ہوئے بڑی حیرانگی سے بولا۔ ’’چیئرز!‘‘

          ’’ہاں،  چیئرز لیکن یہاں نہیں۔ تمھیں کہا تھا نا کہ تم اسے کیفے سے باہر لے جا کر پیو گے۔ دیکھو تو وقت‘‘ ہنرک نے دیوار پر لگے ہوئے کلاک کی طرف اشارہ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اُدھر باہر گلی میں۔ ‘‘

          شاعر نے سو کرونر کا ایک نوٹ ہنرک کو دیا اور اپنا گلاس اٹھا کر واقعی باہر جانے کے لئے دروازے کی طرف چل دیا تھا۔  اُسے یاد ہی نہیں رہا تھا کہ وہ اپنا پائپ میز ہی پر چھوڑ گیا تھا۔          

’’تم نے اس کے ساتھ یہ کیسا عملی مذاق کیا ہے؟‘‘ خاتون نے گہری مسکراتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ہنرک سے پوچھا۔

          ’’مذاق! کیسا مذاق؟کیا میں مسخرہ دکھائی دیتا ہوں ؟‘‘ ہنرک بولا۔ ’’تمھارا اشارہ اگر ’’پاپکون کاک ٹیل‘‘ کی جانب ہے تو پھر شاید تم پہلی بار یہاں اس کیفے ٹیریا میں آئی ہو۔ جانتی نہیں ہو کہ یہ  ’پاپکون کاک ٹیل‘‘ بنانے کا فارمولا پیرس کے کسی سیانے نے دریافت کیا تھا،  لیکن رجعت پسندوں نے اسے قبول نہیں کیا تھا،  مگر اس کے باوجود،  جانتی ہو کہ اب یہ ’’پاپکون کاک ٹیل، ،   پیرس میں جدیدیت پرستوں کا مقبول ترین مشروب ہے اور جدید آرٹ و ادب اور فنونِ لطیفہ کے کم و بیش سبھی کیفے ٹیریوں میں،  دانشمند،  سیانے،  کیا ادیب کیا شاعر و مصور،  سبھی اسے بڑے شوق و اشتیاق سے پیتے ہیں اور ایک دوسرے کو پیش کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے تم فرانس نہیں گئی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرانس ہی کیا یہ ’’پاپکون کاک ٹیل‘‘  تو اب ایشیاء،  لا طینی امریکہ اور افریقہ کے کئی ممالک میں رجعت پرستوں کے خلاف ایک ’’احتجاجی مشروب‘‘ کے طور پر مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تعجب ہے تم اس کیفے ٹیریا میں آنے کے باوجود ابھی تک اس سے بے خبر ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روایتی کاک ٹیل کا زمانہ تو کب کا لد چکا،  تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم،  اب بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اچانک ہنرک کی نظر دیوار پر لگے کلاک پر پڑی۔ بارہ بجنے والے تھے۔

          کیفے ٹیریا بند ہونے کو تھا۔ اُس نے دیکھا کہ غلطی سے در آنے والے کم و بیش سبھی گاہک جا چکے تھے۔ دونوں موسیقار اپنی اپنی گٹار اور وائیلن سنبھالے ایک دوسرے سے مصافحہ کر رہے تھے۔ وہ بھی جانے والے تھے۔ چاروں شاعروں نے اپنی اپنی بیاضوں اور کتابوں والے تھیلے اپنی اپنی بغل میں دبا رکھے تھے۔ وہ ایک قطار میں باہر جانے والے دروازے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ ساتوں مصور بھی مصوری کا ۱پنا اپنا سامان سمیٹنے میں مصروف تھے۔ ان میں سے ایک دو تو کھڑے ہو کر انگڑائیاں لے رہے تھے۔ وہ جانے ہی والے تھے۔ یہ روزمرہ کا معمول تھا۔

          ’’تو کیا ’’پاپکون کاک ٹیل‘‘ کا ذائقہ میں بھی چکھ سکتی ہوں ؟‘‘ خاتون نے اُسے پھر متوجہ کیا۔ وہ جلدی جلدی استعمال شدہ خالی گلاس،  پیالیاں اور پلیٹیں وغیرہ برتن دھونے والی مشین میں ڈال رہا تھا۔

          ’’کیا تم بھی کوئی ادیبہ،  شاعرہ یا مصورہ ہو؟‘‘ اُس نے دیوار کے ساتھ لٹکے ہوئے ایک تولئے سے اپنے ہاتھ صاف کئے۔

          ’’بس بس رہنے دو،  میں تو ابھی پہلی ہی سیڑھی پر ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس مصوری اور شاعری!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں،  شاعری اور مصوری،  میرا مطلب ہے اِن دونوں میں طبع آزمائی!!‘‘  وہ بولی۔

          ’’ایک سو کرونر!‘‘  ہنرک نے ’’پاپکون کاک ٹیل‘‘ سے بھرا ہوا گلاس بار کی میز پر رکھتے ہوئے خاتون کے چہرے پر نگاہ ڈالی۔ اس کی آنکھوں میں غیر معمولی چمک تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’شرط یہ ہے کہ تم آدھا گلاس ایک ہی گھونٹ میں خالی کر دو۔ ‘‘ وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔

          ’’یہ بھی کوئی بات ہوئی،  آدھا گلاس ایک ہی گھونٹ میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ اوپر تیرتی ہوئی مکئی کون چبائے گا۔ ‘‘ خاتون اُسے ایک سو کرونر کا نوٹ تھماتے ہوئے بولی۔

          ہنرک نے نوٹ تہہ کر کے اپنی جیب میں رکھا۔  بار کے پیچھے سے نکل کر کیفے ٹیریا کا باہر والا دروازہ اندر سے بند کر کے ہنرک واپس آ رہا تھا کہ وہ خاتون ’’پاپکون کاک ٹیل‘‘ کا آدھا گلاس ہاتھ میں تھامے مسکرا رہی تھی۔ ’’اس کا ذائقہ ہی عجیب نہیں بلکہ سرور بھی عجیب کیفیت آمیز ہے،  مجھے اپنے بدن میں ایک عجیب سی لہر محسوس ہوتی ہے۔ ‘‘  وہ بولی۔ ’’لگتا ہے میں تو ہوا میں اُڑ رہی ہوں۔ تم نے دروازہ کیوں بند کر دیا ہے؟ کیا یہ کیفے دو بجے تک کھلا نہیں رہتا؟ مجھے تو لگتا ہے میں ہوا میں اُڑ رہی ہوں،  تمھاری پاپکون۔ ۔ ۔ ۔ کا۔ ۔ ۔ ۔  کاک!‘‘

          تم ابھی زمین پر اُتر آؤ گی،  باقی کاک ٹیل بھی تو ختم کرو،  تم خود بخود کسی شاعر کی محبت بھری ساحرانہ نظم میں بدل جاؤ گی۔ ‘‘  ہنرک نے آگے بڑھ کر بار کے کونے میں پڑے شمعدان میں موم بتی جلا ئی

 اور کیفے ٹیریا کی روشنیاں بند کر دیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’دیکھا اتنی چھوٹی سی شمع اور کتنی ساحرانہ رومانوی روشنی!‘‘  وہ بولا۔

          کیفے میں ہلکی موسیقی کا کیسٹ چل رہا تھا۔ اُس نے آگے بڑھ کر خاتون کا خالی کیا ہوا گلاس اُٹھانا چاہا لیکن فرش پر پڑے ہوئے ایک کاغذ کو دیکھ کر رک گیا تھا۔ اُس نے جھک کر وہ کاغذ اُٹھایا۔ ۔ ۔ ۔ ’’کیپو چینو،  دو کپ،  چھتیس کرونر،  موزے ایک جوڑا،  بیس کرونر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہیمبرگر،  دس کرونر،  کافی تین کپ،  اکیس کرونر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ریل ٹکٹ،  ساڑھے گیارہ کرونر،  سگریٹ بتالیس کرونر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متفرق،  پندرہ کرونر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کسی ادیب یا شاعر کے روزمرہ کے اخراجات کے حساب والا کاغذ تھا۔

           ’’کیا کوئی اپنی نظم بھول گیا ہے؟‘‘ خاتون نے آگے بڑھ کر بڑے اشتیاق و تجسس سے پو چھا۔

          ’’ہاں ! عظیم محبت بھری ایک نظم،  جسے خدا نے خود لکھا اور عین اِس لمحے ہم پر نازل کی ہے۔ ‘‘  ہنرک بولا۔ وہ کاغذ کا پرزہ تہہ کر کے اپنی پتلون کی پچھلی جیب میں رکھ چکا تھا۔ شمع کی لو کپکپانے لگی تھی۔

          ہنرک اب گلاس اُٹھانے کے لئے آگے بڑھا ہی تھا کہ خاتون کو عین اپنے سامنے کھڑا پا کر ایک لمحہ کے لئے وہیں رک گیا اور پھر،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر،  پھر وہ خاتون کے بازوؤں میں تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں،  نہیں خاتون اُس کے بازوؤں میں تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں،  دراصل وہ دونوں ایک دوسرے کے بازوؤں میں تھے اور ابھی وہ  مل کر محبت کی نظم کا پہلا لفظ ادا کرنے کے لئے اپنے اپنے ہونٹ ایک دوسرے کے قریب لائے ہی تھے کہ باہر والے دروازے پر کسی نے بڑے زور سے دستک دی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک اور  دستک،  پھر دستک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دستک اور پھر دروازہ مسلسل بج رہا تھا۔

          ’’اس وقت یہ حرامی کون ہو سکتا ہے؟‘‘ ہنرک نے یہ کہتے ہوئے دروازے پر جا کر شیشے سے باہر جھانکا۔ کوئی شرابی کھڑا،  دروازہ کھولنے کا اشارہ کر رہا تھا۔ اُس نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر باہر کھڑے،   نشے میں دھت اُس شخص سے کچھ بات کی۔ اب اُس نے اپنی پتلون کی جیب میں سے ایک کاغذ نکال کر باہر کھڑے آدمی کو تھما دیا اور دروازہ بند کرنے ہی والا تھا کہ اُسے اپنے پیچھے سے اپنے شانے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔ اُس نے گردن موڑ کر دیکھا وہی خاتون کھڑی تھی۔

          ’’نزول کی گھڑی جاتی رہی۔ ‘‘  خاتون نے ایک طرح سے ہنرک کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے دروازہ کھولا۔ اب وہ گلی کے بیچ کھڑی قدرے لڑھک رہی تھی۔

           ہنرک جہاں تھا وہیں ہکّا بکّا کھڑا رہ گیا تھا۔ باہر گلی میں اب ایک جوڑے کے گانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ گیت گاتے ہوئے بہک  بہک جاتے تھے لیکن،  اُن کے گانے کے بول ایک ہی تھے۔                                          

٭٭٭