کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

گرگٹ

نصر ملک


سوشل کلب کے سبھی ارکان اور بلائے گئے سبھی مہمان،  کلب کے ہال کمرے میں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔  انہوں نے پہلے سے بنائے گئے ’’وقتی اصول‘‘ کے تحت اپنے اپنے چہرے پر،  خوبصورت رنگوں والے پلاسٹک کے بنے،  نقاب چڑھائے ہوئے تھے۔

          عورتوں نے جو نقاب اوڑھ رکھے تھے وہ مختلف رنگوں والی تتلیوں سے مشابہ تھے۔ مردوں کے چہرے،  نقابوں کی وجہ سے ہاتھی،  شیر،  بھیڑیئے،  سور،  کتے اور اسی طرح کے دوسرے جانوروں کی طرح لگتے تھے۔

          سوشل کلب والوں نے،  تیسری دنیا کے ایک پس ماندہ ملک میں،  ایک عالمی امدادی تنظیم کے تحت جاری  ایک ’’ترقیاتی منصوبے‘‘ کے لئے چندہ اکٹھا کرنے کی غرض سے اس ’’خصوصی فینسی شو‘‘ کا بندوبست کیا تھا۔ اس شو میں حصہ لینے کے لئے دار الحکومت میں موجود تیسری دنیا کے سفارت خانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔  کسی نے شراب کی بوتلیں تو کسی نے سگریٹوں کے ڈبے بھجوائے تھے۔  کسی نے اپنی طرف سے کافی کے پیکٹ ارسال کئے تو کسی نے اپنے ملک کی نمائندگی،  وہاں کے پھلوں کے ٹوکرے بھجوا کر کی۔

          امریکہ اور کئی دوسرے یورپی ممالک کے سفارت کاروں نے،  سوشل کلب والوں کے اس ’’نیک اقدام‘‘ پر مبارک باد کے اپنے اپنے تحریری پیغامات بھجواتے ہوئے اس کی کامیابی کے لئے دعاؤں  کا اظہار کیا تھا۔ مشرق وسطیٰ کے بعض عرب ممالک کے سفارت خانوں کی جانب سے جہاں ’’چندے کے چیک‘‘ سفیروں کی بیگمات کی جانب سے جمع کرائے گئے تھے وہاں سفراء کی ایک بڑی تعداد اس ’’فینسی شو‘‘  میں خود بھی موجود تھی۔

          جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا،  ہال میں گہما گہمی بڑھتی جا رہی تھی۔ نقابوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو نہ پہچاننے کے باوجود،  لوگ ایک دوسرے کو یوں مل رہے تھے جیسے وہ ایک دوسرے کی خوب پہچان رکھتے تھے۔   

          مقررین کی روایتی تقاریر سننے کے بعد،  لوگ اب ہال کمرے میں اِدھر اُدھر کھڑے ایک دوسرے سے باتیں کر تے،  شراب کے گلاس اُڑا رہے تھے۔ مختلف ملکوں کے سفارت خانوں سے آئی ہوئی شرابوں کی مختلف اقسام پر باتیں ہو رہی تھیں۔ تیسری دنیا کے ممالک میں تیار شدہ شرابیں اپنے ذائقے اور نشے میں کسی بھی طرح،  یورپی ممالک کی شرابوں سے کم نہ تھیں۔

          آدھی رات بیت چکی تھی۔ عورتیں اور مرد جو رقص کرتے کرتے شاید اب تھک چکے تھے۔ وہ اِدھر اُدھر بیٹھے ’’خوبصورت وقت‘‘ کے ’’شیریں لمحات‘‘ اور رقص کے دوران دوسروں کی ’’حماقتوں ‘‘ کے بارے میں باتیں کرتے شراب اُڑا رہے تھے۔ بعض ایسے بھی تھے،  جو موسیقی کی دھنوں پر ابھی تک رقص میں مصروف تھے۔

          سوشل کلب کے اعلیٰ عہدیدار ’’فینسی شو‘‘ کے بارے میں بات چیت اور اس کے حساب کتاب کے لئے ہال سے ملحقہ کلب کے انتظامی دفتر میں ایک بڑی میز کے گرد جمع تھے۔ میز پر کلب کے حساب کتاب کے کاغذات سامنے کھلے پڑے تھے۔ شراب کی مختلف اقسام والی بوتلوں کے کارک اُڑائے جا چکے تھے۔ ایک فعال رکن شراب گلاسوں میں انڈیل کر عہدیداروں کے سامنے رکھ چکا تھا۔ ’’چیئرز!‘‘ عہدیداروں نے اپنے اپنے گلاس ہوا میں بلند کئے اور ایک ایک گھونٹ پی کر میز پر واپس رکھ دیئے تھے۔ اُن کے چہروں پر پڑے نقاب بڑے عجیب لگ رہے تھے لیکن کیا ہی کیا جا سکتا تھا۔  یہ اصول انہوں نے خود ہی بنایا تھا کہ تقریب کے اختتام تک نقاب نہیں اتارے جائیں گے۔

          ان نقابوں کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے چہرے تو نہیں دیکھ سکتے تھے،  لیکن ان کی آپس کی گفتگو سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کی حرکات و سکنات اور آنکھوں کے اشاروں سے ایک دوسرے کو پہچانتے ضرور تھے۔

           ’’اچھا تو پچھلے کھاتے پر نگاہ ڈال لینی اور حساب کتاب کر لینا چاہیے۔ ‘‘ ایک بھاری جثّے والا نقاب پوش بولا۔

          ’’ضرور!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ضرور!!‘‘ دوسروں نے بڑی تعظیم کے ساتھ اُس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا،  اور اپنے اپنے سامنے پڑے ہوئے حساب کتاب کے کاغذوں کو اُلٹ پلٹ کر دیکھنے لگے۔

          ’’مجھے تو یہ سب کچھ ٹھیک ہی لگتا ہے۔ ‘‘ بھیڑیئے کے نقاب والا ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ انتظامی امور کے دفتر کا دروازہ ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ کھلا اور ایک عجیب الجثّہ نقاب پوش لڑکھڑاتا ہوا،  اندر داخل ہوا۔ اُس نے آتے ہی میز پر پڑے ہوئے کاغذوں کو اِدھر اُدھر نیچے گرا دیا اور شراب کی ایک بوتل میز سے اُچک کر منہ سے لگا لی۔ اب وہ خود کو ایک کرسی پر گرا چکا تھا۔

           ’’یہ سب کیا بکواس ہے؟‘‘ اس نے گرجدار آواز میں پوچھا۔ ’’تم سب یہاں سر جوڑے کیا سازش کر رہے ہو؟‘‘  میز کے گرد بیٹھے سوشل کلب کے عہدیداروں نے حیران و پریشان ہوتے ہوئے،  اپنے اپنے نقابوں کے سوراخوں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اُن کی آنکھیں ساکت دکھائی دے رہی تھیں۔

          ’’آپ بہت نا معقول شخص معلوم ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ کیا بے ہودگی کا مظاہرہ کیا آپ نے!،  آخر آپ ہیں کون؟‘‘ ایک نقاب پوش نے ہمت کر کے منہ کھولا اور کرسی میں گرے ہوئے نشے میں دھت شخص کی طرف گھور کر غراّیا۔

          ’’بکواس بند کر!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے جو کہا،  سنا نہیں تھا کیا تم نے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے تم سے آتے ہی کہا تھا نا۔ ۔ ۔ ۔ ۔  !‘‘ عجیب الجثّہ نقاب پوش نے شراب کی ایک خالی بوتل،  میز سے اُٹھا کر فرش پر دے ماری،  جو ایک چھنّا کے سے ٹوٹ کر اِدھر اُدھر بکھر گئی۔

          ’’سنیئے !آپ کوئی بھی ہوں،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ بڑے ہی بیہودہ قسم کے آدمی اور مجلسی آداب سے یکسر کورے دکھائی دیتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ نقاب پہنے سور کی طرح دکھائی دینے والا،  ٹھگنے قد والا عہدیدار فرش پر بکھرے،

 ٹوٹی ہوئی بوتل کے ٹکڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’یہ کیا مکروہ حرکت کی آپ نے!‘‘

          عجیب الجثّہ نقاب پوش کرسی پر بیٹھا کچھ بڑ بڑا رہا تھا۔ اس کا سر ایک طرف کو لڑھکا ہوا تھا۔ اس کی آواز دفتری عہدیداروں تک پہنچ تو پا رہی تھی لیکن ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کہہ کیا رہا تھا۔ شراب کے نشہ کی وجہ سے وہ پورے جملے ادا کرنے سے یکسر خالی لگ رہا تھا اور محض لفظوں کی جگالی کر رہا تھا۔

          ’’اس کا کیا کیا جائے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کون ہو سکتا ہے؟‘‘ نقابوں کے پیچھے اپنے چہرے لئے سبھی عہدیدار ایک سوال بنے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔

          ’’یہی تو مشکل ہے کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ بد تمیز ہے کون؟‘‘ اُن میں سے ایک ’’چمگاڈر کے نقاب والا بولا۔

           ابھی وہ دم بخود کھڑے سوچ ہی رہے تھے کہ دفتر کا دروازہ پھر کھلا اور تتلیوں کے نقاب پہنے،  نشے میں دھت،  قہقہے لگاتیں دو خواتین ایک دوسری کی کمر میں بانہیں ڈالے جھومتی جھامتی، اندر داخل ہوئیں۔  اپنے لباسوں سے وہ یقیناً امراء کے طبقہ سے تھیں۔

          ’’تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟ سنتے نہیں ہو،   وہاں ہال میں سب کو اکٹھا ہونے کے لئے بلایا جا رہا ہے،   چلو جلدی کرو!۔ ۔ ۔ ۔ ۔  وہ لوگ اب جمع شدہ چندے کی رقم کا اعلان کرنے والے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چلو جلدی کرو،   نکلو یہاں سے!‘‘ اُن میں سے ایک جو شوخ رنگ کا بلاؤزر پہنے،  سینے کے بٹن کھولے،  سنہری تتلی کے پروں کا نقاب پہنے ہوئے تھے بولی۔ ’’چلو جلدی کرو!،۔ ۔ ۔ ۔ ۔  وہاں چندے کی رقم کے عطیہ کا اعلان ہونے والا ہے اور یہ یہاں خر مستیاں کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔  چلو نکلو بھی اب!‘‘ اس نے اتنا کہا اور پھر ایک عہدیدار کو بازو سے پکڑ کر دروازے کی جانب دھکیلنے ہی والی تھی کہ اس کی نظر،  کرسی میں گرے،  خراٹے لیتے ہوئے عجیب الجثّہ نقاب پوش پر پڑی۔

          ’’اور یہ کون ہے یہاں ؟ دفتر کو ساس کا گھر سمجھے یہاں سونے والا!‘‘ خاتون نے بڑی جلدی سے آگے بڑھ کر کرسی پر گرے ہوئے نقاب پوش کو بازو سے پکڑ کر ابھی اپنی جانب کھینچا ہی تھا کہ عجیب الجثّے والے کا نقاب اُس کے چہرے سے کھسک کرن یچے گر گیا۔

          دفتر میں موجود سبھی عہدیدار اور وہ دونوں خواتین بھی ساکت و جامد،  خاموش اپنی اپنی جگہ پر بت بنے کھڑے تھے۔

          ہال کمرے میں لاؤڈ سپیکر پر کئے جانے والے اعلان کی آواز اب دفتر میں صاف سنائی دے رہی تھی۔  ’’عزت مآب سفیر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سے مؤدبانہ درخواست کی جاتی ہے کہ وہ سٹیج پر تشریف لائیں اور عطیہ کی رقم قبول فرمائیں۔ ‘‘ 

٭٭٭