کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خوف

نصر ملک


میری جب آنکھیں کھلیں تو میں نے خود کو ہسپتال کے کمرے میں ایک بستر پر لیٹے پایا۔ میرے بستر کے ساتھ والی میز پر گلدان میں پھول سجے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’میں یہاں کیسے پہنچ گیا ہوں ؟‘‘ یہ خیال آتے ہی میرے ذہن میں دن بھر کی مصروفیات یاد آنے لگیں۔ آج صبح گھر سے کام پر جانے کے لئے نکلتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ ’’مالک نے اگر پوچھ لیا کہ تین دن کہاں رہا ہوں،  کام پر کیوں نہیں آیا تھا،  تو اسے کیا جواب دوں گا۔ ۔ ۔ ۔ نہیں،  نہیں ! وہ یہ کیوں پوچھے گا آخر میں نے فیکٹری میں فون تو پہلے ہی روز کر دیا تھا۔ اور فورمین کو اپنے بیمار ہونے کے بارے میں بتا بھی دیا تھا اور اُس نے مجھے جلد صحت یاب ہو جانے کی دعا دیتے ہوئے گھر پر ہی رہنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ ‘‘ میں سوچ رہا تھا۔ لیکن پھر بھی میرے ذہن پر نجانے کیوں ایک خوف سا تھا کہ آج فیکٹری میں سب کارکنوں کے سامنے مجھ سے پو چھا جائے گا کہ تین دن تک کہاں رہا؟

          مجھے ڈنمارک آئے ابھی کچھ زیادہ ماہ نہیں ہوئے تھے اور اگرچہ مجھے لفافے بنانے کی ایک فیکٹری میں ملازمت حاصل کرنے میں بھی کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی تھی لیکن میں یہ ملازمت کسی بھی طرح سے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ فیکٹری میں میرے ساتھ،  میرا ایک ہموطن بھی ملازم تھا اور میری ہی طرح وہ بھی ایک مشین پر کاغذ کاٹنے اور لفافے بنانے کا کام کرتا تھا۔ اس کام کے لئے کسی پیشہ وارانہ تربیت کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے پہلے ہی روز فیکٹری کے فورمین نے سمجھا دیا تھا کہ کاغذوں کے بڑے بنڈلوں کو کس طرح کاٹ کر مشین میں رکھنا اور گوند کے ڈبّے کو کیسے بھرنا اور مشین چلانے کے لئے کونسا بٹن دبانا ہے۔ بٹن دبا کر پھر کاٹے ہوئے کاغذ حسبِ ضرورت مشین میں رکھتے جاؤ اور لفافے خود بخود بن بن کر باہر نکلنے لگیں گے جنہیں سو،  سو کے ڈبوں میں بند کرتے جاؤ،  اور بس!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب اس کام کے لئے کسی خاص  تربیت کی ضرورت تو تھی ہی نہیں۔

          میں نے پہلے ہی دن مشین سنبھالنے کے بعد،  ایک لاکھ لفافے نہ صرف تیار کئے بلکہ انہیں سو،  سو کے ڈبوں میں بند کر کے فورمین سے شاباشی حاصل کی۔ فورمین نے میرے کاندھے تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا  ’’تم نے پہلے ہی دن اتنا کام کر کے ثابت کر دیا ہے کہ تم ایک اچھے کارکن بن سکتے ہو،  تمہیں ایسا ہی کام کرنا چاہیے۔ اس طرح تمہیں تنخواہ کے علاوہ ’’بونس‘‘ بھی اچھا ملے گا۔ ‘‘

          فیکٹری میں صرف دو فرد ایسے تھے جن کے ساتھ میں قہقہہ لگا کر بات کر سکتا تھا۔ ایک میرا ہموطن علی،  اور دوسرا فیکٹری کا فورمین۔ وقفے کے دوران کنٹین میں علی اور میں ایک ہی میز پر کھانا کھایا کرتے تھے اور یہ ہمارا معمول بن چکا ہوا تھا۔ علی کھانا بنانے میں ماہر لگتا تھا اور ہر روز گھر سے اپنے ساتھ پاکستانی کھانا بنا کر لایا کرتا تھا،  جس میں میں ویسے ہی حصّہ دار بن جایا کرتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’کھاؤ یار،  یہاں اور ہے کیا،  ہم نہ تو کسی اور سے اپنی زبان میں بات کر سکتے ہیں اور نہ ہی اِن ڈینشوں کا کھانا ہمارے حلق سے اتر سکتا ہے،  انہیں تو ہماری قوت و محنت مزدوری سے تعلق ہے یہ ہمارے اندر کا حال کیا جانیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں تو بس کام چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کام!‘‘ اور علی ابھی اسی طرح کی باتیں کر ہی رہا ہوتا کہ فورمین،  مارٹن اپنی بیئر کی بوتل لئے ہمارے پاس آ جاتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نا،  محمدنز! تم اکیلے کیوں بیٹھے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُدھر دوسروں کے ساتھ بیٹھا کرو۔ ‘‘  اور پھر وہ خود بھی ایک کرسی پر بیٹھ جاتا اور پھر ’’چیئرز‘‘ کہہ کر اپنی بوتل منہ سے لگا لیتا۔

          فیکٹری کے مالک اور ایک دو،  دفتری ملازمین کو چھوڑ کر فورمین،  مارٹن ہی تھا جو اچھی انگریزی بول سکتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اسے جب بھی موقع ملتا وہ علی یا میرے ساتھ بات کر لیا کرتا تھا۔

          میں نے جب کام کرنا شروع کیا تو میں نے دیکھا کہ فیکٹری کا مالک ہر صبح ایک ایک کارکن کے قریب سے مسکراتا ہوا گزرتا انہیں ہاتھ ہلا کر سلام کرتا اور اپنے دوسرے دفتری عملے کے ساتھ پچھلے دن کی پیداوار کی جانکاری کیا کرتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اُس کا روزمرہ کا معمول تھا۔ وہ بہت ہی کم گو ضرور تھا لیکن اُس کے ہونٹوں پر ہر وقت ہلکی سی مسکراہٹ اس کی زندہ دلی کی علامت ہی ہو سکتی تھی۔

          میں نے ایک دن دیکھا کہ مالک اپنے بائیں کان میں ایک ’’چھلّا‘‘ پہنے ہوئے ہے۔ میری ہنسی نکل گئی۔ میرے اپنے ملک پاکستان میں کوئی بھی ایسا مالک ایسی حرکت نہیں کر سکتا تھا کہ خواہ مخواہ کان میں چھلا پہن کر ایک مسخرہ بن جائے،  اور لوگ اُس کا تمسخر اُڑائیں۔ مارٹن نے شاید مجھے مالک کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے دیکھ لیا تھا وہ میرے پاس آ کر پوچھنے لگا ’’بہت ہنس رہے تھے،  کیا بات تھی؟‘‘ میں نے مارٹن سے پوچھا کہ اگر اُس نے مالک کے کان میں پڑا ’’چھلّا‘‘ دیکھا ہے؟‘‘

          ’’نہیں تو! ‘‘ وہ اچھل پڑا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’کیا پاؤل نے کان میں ’’چھلّا‘‘ پہن رکھا ہے؟‘‘

          ’’ہاں تو،  اُس نے بائیں کان میں چھلّا پہن رکھا ہے۔ ‘‘ میں نے اپنی بات دہرائی۔ مارٹن بھی اپنی ہنسی ضبط نہ کر سکا۔  ’’پاؤل نے ایک اچھا کام کیا ہے۔ ‘‘ وہ بولا۔

          ’’کیا کہا تم نے؟‘‘ میری حیرانگی بڑھنے لگی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’پاؤل نے کیا اچھا کام کیا ہے؟‘‘ میں نے پو چھا۔

          ’’سنو! بوڑھے کا اس عمر میں کبھی کبھی دماغی توازن ٹھیک نہیں رہتا۔  یہ اکثر عجیب و غریب حرکتیں کرتا رہتا ہے۔ ‘‘ مارٹن ہنس ہنس کر مجھے بتا رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی مجھے مشین پر محتاط رہنے کی نصیحت بھی کر رہا تھا۔ ’’کیا تم نے دیکھا نہیں کہ پچھلے دنوں یہ ہیٹ پہن کر ہم لوگوں کے کام کا معائنہ کرنے لگا تھا اور پھر اس نے نکٹائی لگانی بھی شروع کر دی تھی۔ اب اس میں تعجب کی کیا بات ہے،  اگر وہ اپنے کان میں چھلّا ڈال کر گھومے یا گلے میں کیتھولک پادریوں کی طرح صلیب لٹکائے پھرے۔ ‘‘

          مارٹن نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بیئر کی بوتل سے ایک گھونٹ حلق میں اتارتے ہوئے بڑے رازدارانہ لہجے میں بولا ’’میں نے کہا نا اس کا دماغ ذرا چل گیا ہے اور اس غیر متوازن دماغ کو ٹھیک رکھنے کے لئے اس نے بائیں کان میں چھلّا پہن لیا ہے،  تاکہ اُس کے ذہن کا دایاں اور بایاں پہلو برابر ہم وزن رہیں۔ ‘‘

           مارٹن قہقہے لگا رہا تھا اور میں اس کی رگِ ظرافت کے یوں پھڑکنے پر خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔ اُس نے مالک کے بائیں کان میں چھلّا ہونے کی وجہ بتاتے کے لئے انوکھی ہی تشریح کر دی تھی۔ میں نے علی کو یہ قصّہ سنایا تو اس نے ہنسے بغیر صرف اتنا کہا کہ یہ ڈینش بھی عجیب ہوتے ہیں،  اِن کا مذاق بھی ہم نہیں سمجھ سکتے اور یہ نہ تو ہمارا مذاق سمجھتے ہیں اور نہ ہی مزاح ! اب اس سے پوچھو کہ کان میں چھلّے کی کیا تُک ہے؟

          مجھے اگر علی کی ضرورت نہ ہوتی تو میں اسے مارٹن اور اپنی ہنسی اور قہقہوں کی وجہ ضرور بتاتا اور اُسے ڈینش مزاح پربھی شاید ایک تقریر جھاڑ دیتا لیکن پھر میں شاید ہر روز اُس کے لائے ہوئے اُس کے کھانے میں شریک نہ ہو سکتا۔ اُس نے تو میری تنخواہ میں اضافہ کے لئے مجھے گر بتانے کا وعدہ بھی کر رکھا تھا۔ میری سمجھ سے یہ بات باہر تھی کہ آخر وہ ہر وقت ڈینشوں پر تنقید ہی کیوں کرتا رہتا ہے۔ مجھے یہ احساس،  بلکہ خوف سا رہتا تھا کہ اگر میں نے کبھی علی سے کھل کر یہ بات پوچھ لی تو وہ خواہ مخواہ ناراض ہو جائے گا اور میں یہ ناراضگی مول نہیں لینا چاہتا تھا۔ فیکٹری کے اٹھارہ ملازموں میں ہم دو ہی تو غیر ملکی تھے اور وہ بھی ہموطن!

          اُس روز جب میں کام پر پہنچا تو فیکٹری کے بڑے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی میری ملاقات گریٹے سے ہو گئی۔

          ’’صبح بخیر‘‘ میں نے اُسے سلام کیا۔ وہ فیکٹری کے دفتر میں کام کرتی تھی۔

          ’’صبح بخیر،   خان کیسے ہو؟‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔ ’’پاؤل کل ہی تمھاری صحت کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ ’’کہو اب ٹھیک تو ہو نا!‘‘

          ’’ہاں،  گریٹے۔ ‘‘ میں نے مختصر سا جواب دیا اور اپنے کپڑے بدلنے کے لئے ساتھ والے کمرے کی طرف ہو لیا۔ جلدی میں کپڑے بدل کر جب میں اپنی مشین پر پہنچا تو مارٹن وہاں پہلے سے کھڑا مشین کو یوں گھور کر دیکھ رہا تھا گویا اسے نیلامی پر بھجوانا ہو۔ وہ ایک ہاتھ میں اوزار لئے اور دوسرے میں بیئر کی بوتل تھامے خود سے باتیں کر رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اُس کے چہرے پر ایک طرح سے رونق سی آ گئی تھی۔ ’’اے خان،  صبح بخیر،  اچھا ہوا تم آ گئے،  اب دیکھتے ہیں یہ مشین کیسے کام نہیں کرے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لو ذرا یہ بوتل تھامو،  میں اس کی خبر لیتا ہوں !‘‘ اس نے مجھے اپنی بوتل تھما دی اور خود مشین کی مرمت کے لئے اُس پر جھک گیا۔

          بوتل ہاتھ میں تھامے میں اُس کے قریب ہی کھڑا تھا کہ اتنے میں علی بھی وہاں آ گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’خان صاحب کیا حال ہے،  اتنے دن کہاں رہے،  کوئی چھوکری مل گئی تھی کیا؟‘‘ اس نے آتے ہی پوچھنا شروع کر دیا تھا۔ ’’دنمارک میں یہی تو مزہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ’’نوکری کرو تے چھوکری مفت‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں خان صاحب،  تین دن تو مزے لوٹے ہوں گے!‘‘

          ’’نہیں بھائی،  میں تو بیمار رہا ہوں۔ گھر سے نکل تک نہیں سکتا تھا۔ مجھے فلو ہو گیا تھا اور پھر ساتھ میں ہلکا سا بخار بھی تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب آرام ہے،  چلا آیا ہوں۔ ‘‘ میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی مارٹن کی بیئر کی بوتل قدرے اپنے پیچھے چھپاتے ہوئے جواب دیا،  لیکن علی شاید اسے پہلے ہی بھانپ گیا تھا۔ ’’اب پینے بھی لگے ہو۔ ‘‘ اُس نے ایک طرح سے مجھے گھورتے ہوئے بوتل کی طرف اشارہ کیا اور پھر کچھ کہے بغیر چلا گیا۔

           مارٹن ابھی تک مشین پر جھکا ہوا اُس کی مرمت میں مصروف تھا اور پھر اُس نے وہیں سے مجھے آواز لگاتے ہوئے اپنی بیئر کی بوتل دینے کو کہا۔ ’’اس کے بغیر کام نہیں ہو سکتا،  خان،  میں تو کہوں گا تم بھی پینی شروع کر دو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں کے موسم اور رسم و رواج دونوں ہی کے لئے یہ ضروری ہے۔ ‘‘ مارٹن نے میرے ہاتھ سے بوتل پکڑتے ہوئے کہا۔

          ’’مجھے اِس میں اعتراض نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ابھی میں یہی کہہ پایا تھا کہ مارٹن لقمہ دیتے ہوئے بولا ’’یہی نا کہ تم محمڈن ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا کہو پھر علی سے ڈرتے ہو؟‘‘

          ’’نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں۔ ‘‘ میں نے کہا اور ایک طرح سے بات ختم کرنے کے لئے اُس سے پوچھا ’’کیا مشین ٹھیک ہو گئی ہے؟‘‘

          ’’مشین! یہ کیسے ٹھیک نہیں ہو گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھتے نہیں ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ہاتھ میں کیا ہے!‘‘ مارٹن نے  بیئر کی بوتل کو ہوا میں اچھالتے ہوئے قہقہہ لگایا اور بولا ’’تم اسے اب چلا سکتے ہو،  اور ہاں سنو،  بیماری کے بعد آج تمھارا پہلا دن ہے،  بونس کا مت سوچنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رفتار کم رکھنا،  کام تو ہوتا ہی رہے گا۔ ‘‘ اس نے مشین میں گوند ڈالنے اور کاغذ رکھنے کے دوران میری کچھ مدد کی اور دوسری مشینوں کی طرف جانے کے لئے مُڑا تو میں نے اُس سے پو چھا کہ کیا مالک اپنا دورہ کر چکا ہوا ہے۔

          ’’تم یہ ’’مالک‘‘ کا لفظ استعمال کرنا کب چھوڑو گے،  خان! یہ جنوبی افریقہ یا پاکستان نہیں،  سنو! اس بڈھے کو ’’پاؤل‘‘ کہا کرو،  پاؤل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاؤل!،  اور ہاں دیکھنا اب اُس نے اپنا چھلّا بائیں کان سے نکال کر دائیں کان میں ڈال دیا ہوا ہے۔ ‘‘ میری اصل بات کا جواب دیئے بغیر مارٹن بھر پور انداز میں قہقہہ لگاتا ہوا وہاں سے چل دیا۔

          مارٹن کے جانے کے بعد میں نے مشین سٹارٹ کی اور اس کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے مشین کی رفتار بھی معمول سے کہیں زیادہ کم رکھی۔ میں اپنے دل ہی دل میں مارٹن کی زندہ دلی سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ عجیب شخص ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’پیتا بھی ہے اور اسے مالک کو خوف بھی نہیں !‘‘ پھر میرے ذہن میں خیال آیا کہ وہ پینے کے باوجود،  ہشیار اور متحرک رہتا ہے اور مجال ہے کہ کوئی بھی مشین خراب پڑی رہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ادھر مشین خراب ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مارٹن کو آواز دو،  اس کے آتے اور ہاتھ لگاتے ہی مشین یوں کام کرنے لگتی تھی گویا خراب ہوئی ہی نہیں تھی۔

          میں انہیں خیالوں میں لفافے ڈبوں میں بند کر کے ایک طرف رکھتا جا رہا تھا اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے مشین پر نئے کاغذ رکھنے کے علاوہ گوند بھی ڈال دیتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گوند ڈالتے ہوئے نہایت احتیاط سے ایک بٹن کو دبائے رکھنا پڑتا تھا ورنہ ساری گوند مشین میں بہہ جانے کا خطرہ ہوتا تھا۔ مارٹن نے  مجھے یہ بات اچھی طرح سمجھا دی ہوئی تھی اور میں بھی محتاط رہتا تھا۔

          مشین چلائے ہوئے مجھے ابھی کوئی آدھ پون گھنٹہ ہی گزرا ہو گا کہ جونہی میں گوند بھرنے لگا میں نے،  مالک کو مشینوں کا دورہ کرتے ہوئے اپنی طرف آتے دیکھا۔ گوند ڈالتے ہوئے،  میرے ذہن میں اچانک خیال آیا ’’کیا وہ میری بیماری کو میری غیر حاضری کی وجہ مان لے گا،  کہیں وہ مشین کی سست رفتاری پر ناراض نہ ہو جائے۔ ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب وہ اور میرے نزدیک آ چکا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محض،  ایک دو میٹر کے فاصلے پر۔ مجھے اُس کے دائیں کان میں لٹکتا ہوا چھلّا صاف نظر آ رہا تھا اور مارٹن کی بات بھی میرے ذہن کے کسی کونے سے نجانے کیسے سر نکال رہی تھی ’’اس بڈھے کے دماغ کا کبھی دایاں تو کبھی بایاں پہلو متوازن نہیں رہتا‘‘ اپنے خیالوں کی وجہ سے میں نے غور تو کیا ہی نہیں تھا کہ آج تو وہ سر پر ہیٹ بھی پہنے ہوئے تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب وہ مزید میرے نزدیک آ چکا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نہیں وہ مجھ سے میڈیکل سرٹیفکیٹ کا مطالبہ کیا کرے گا۔ ‘‘ میں نے اُس کی طرف سے نگاہیں ہٹا کر خود کو سنبھالنا چاہا۔ اب وہ بالکل میرے قریب تر تھا اور مجھے اُس کے قدموں کی آواز اپنی مشین کے شور سے بھی زیادہ سنائی پڑتی محسوس ہو نے لگی۔ میں انہیں خیالوں میں ڈوبا اب مشین پر جھکا ہوا گوند ڈال رہا تھا کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے اپنی پشت پر اُس کے ہاتھ کا وزن محسوس کیا اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس کے بعد مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہوا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          ہسپتال کے کمرے میں بستر پر لیٹے ہوئے میں نے جب پہلو بدلنا چاہا تو درد کے مارے ایک طرح سے میری چیخ سی نکل گئی۔ میرے بائیں بازو پر پلستر چڑھا ہو تھا اور میری ٹانگوں میں درد کی لہریں اُٹھ رہی تھیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ سب کچھ میرے ساتھ کیسے ہو گیا تھا۔  میں تو کام پر تھا،  کیا وہاں  کوئی حادثہ ہو ا تھا۔ مجھے کب اور کیسے یہاں لایا گیا؟ میرا سر چکرانے اور میری آنکھوں کے آگے اندھیرا آنے لگا اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک نرس ہاتھوں میں پھولوں کا ایک گلدستہ لئے دبے پاؤں اندر داخل ہوئی۔  میں نے اپنی پوری قوّت جمع کر کے ہوش بحال رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے اُس سے پوچھا کہ یہ مجھے کیا ہوا ہے؟

          ’’کچھ بھی تو نہیں،  بس معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا کا شکر کرو،  تمھارا صرف بازو ٹوٹا ہے ورنہ،  جس طرح یہ مشین میں آیا تھا کٹ گیا ہوتا۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے نرس نے میرے بستر کے قریب پڑی ہوئی چھوٹی سے اس میز پر پھولوں کو ایک اور گلدان میں سجا دیا جہاں پہلے بھی ایک گلدان میں پھول سجے تھے۔           ’’یہ پھول تمھارے فورمین نے بھیجے ہیں،  اور یہ خط بھی ساتھ ہے۔ ‘‘

          نرس نے ایک چھوٹا سا لفافہ پہلے میری طرف بڑھایا اور پھر بولی ’’تمھارے بازو پر پلستر چڑھا ہے کہو تو میں تمھارے لئے اسے پڑھ دوں۔ ‘‘

          ’’ہاں ! تمھاری مہربانی ہو گی۔ ‘‘ میں نے دبی ہوئی آواز میں اپنی کراہت کو چھپاتے ہوئے کہا۔

          ’’پیارے خان۔ ‘‘ نرس نے خط پڑھنا شروع کیا۔

          ’’تمہیں جلد صحت نصیب ہو۔ ‘‘ نرس نے یہ جملہ پڑھتے ہوئے گویا اس میں اپنی دعائیں بھی شامل کردی تھیں۔  ’’میں کام ختم کرنے کے بعد،  شام کو تمہیں جب ملنے آؤں گا تو تمھارے کپڑے بھی لیتا آؤں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی پھر ملاقات پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نیک خواہشات کے ساتھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مارٹن۔ ‘‘

          نرس نے خط پڑھ کر اسے میز پر رکھے گلدستے کے قریب رکھتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ اگر مجھے کسی چیزکی ضرورت ہو تو بتا دوں۔ مجھے بھلا کیا ضرورت ہو سکتی تھی۔ میں تو جاننا چاہتا تھا کہ میرے ساتھ یہ حادثہ ہوا کیسے؟ نرس شاید کچھ کچھ جان گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’تم ایک دو روز میں فارغ کر دیئے جاؤ گے اور ممکن ہے کہ کل شام تک ہی فارغ کر دیئے جاؤ،  اب آرام کرو،  زیادہ سوچو نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو اِس بٹن کو دبا دینا میں خود یا کوئی اور تمھاری مدد کرنے کے لئے آ جائے گا۔ ‘‘ اُس نے بستر کے ساتھ لگے ہوئے ایک بٹن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پلستر میں لپٹے ہوئے میرے بازو کو نہایت آرام سے میرے پہلو سے اُٹھا کر میرے سینے پر رکھ دیا اور مسکراتی ہوئی،  کمرے سے باہر نکل کر دروازہ بند کر گئی۔

          اس کے جانے کے بعد مجھے اپنے زخموں کے درد کا پھر احساس ہوا اور میں نے آنکھیں موند کر پھر سو چنا شروع کر دیا کہ آخر میرے ساتھ یہ حادثہ ہوا کیسے؟ میں ابھی تک اس سوال کا جواب تلاش نہیں کر

 پایا تھا اور انہیں خیالوں میں الجھا ہوا تھا کی دروازے پر کسی نے دستک دیتے ہوئے میرے جواب کا انتظار کئے بغیر دروازہ کھول دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ مارٹن تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اے خان! کیسے ہو؟‘‘ وہ میرے سامنے،  بازو پھیلائے یوں کھڑا تھا گویا مجھ سے بغلگیر ہونا چاہتا ہو۔ میں نے اس سے ہاتھ ملانے کے لئے بستر سے اٹھنا چاہا تو درد کی ٹیس میرے بدن میں دوڑ گئی۔ مارٹن نے مجھے لیٹے ہی رہنے کا اشارہ کیا اور پھر بستر کے نزدیک پڑی ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ اُس نے اپنے اُوور کوٹ کی اندرونی جیب سے بیئر کی ایک بوتل نکالی،  اسے کھولا اور ’’تمھارا جام صحت‘‘ کہتے ہوئے اس منہ سے لگا کر بیئر پینے لگا۔ ایک دو گھونٹ حلق سے اتار لینے کے بعد وہ خود ہی بولا ’’میں تمھارے کپڑے لے آیا ہوں،  یہ لو، یہ رہا تمھارا تھیلا۔ ‘‘

          میں ابھی تک خاموش تھا اور مارٹن کو دیکھ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ’’او خان!‘‘ وہ گویا ہوا۔ ’’میں نے صبح تمھیں کہا تھا کہ مشین تیز نہ چلانا اور دیکھا عمل نہ کرنے کا نتیجہ،  خیر کوئی بات نہیں تم جلد ہی ٹھیک ہو جاؤ گے۔ ‘‘

          مارٹن نے مجھے بتایا کہ میں کس طرح حادثے کا شکار ہوا۔ اس کے خیال میں جب مالک صبح حسب معمول گشت کرتے ہوئے میرے قریب پہنچا تو نجانے کیا ہوا کہ مشین یکدم رفتار کی آخری حد تک تیز ہو گئی اور پھر گوند اپنے ڈبّے سے نکل کر مشین کے کل پرزوں پر بہنے لگی اور وہ لیور جو مشین کی رفتار،  وقفے وقفے سے بڑھاتا ہے ایک دھماکے سے ٹوٹ گیا اور میں مشین پر گر گیا جس سے میرا بازو ٹوٹ گیا تھا۔ مارٹن نے بتایا کہ یہ مالک ہی تھا جس نے فوراً مشین کھڑی کر کے مجھے بیہوشی کی حالت میں اُٹھا کر فرش پر لٹایا اور ایمبولینس کے لئے ہنگامی فون کیا۔  یہ سب کچھ بتاتے ہوئے مارٹن ساتھ ساتھ بیئر کی چسکی بھی لگاتا جاتا تھا۔

           ’’میں نے سوچا آج تنخواہ کا دن ہے کیوں نہ کام سے جلدی چھٹی کر لوں،  بازار بھی جانا تھا،  اس لئے کام ختم کرنے سے پہلے ہی چھٹی لے کر آ گیا ہوں،  تم اب آرام کرو،  ویسے بھی شام ہونے کو ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہو سکے تو کچھ سو لینا،  اب میں چلتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہاں،  یاد آیا‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مارٹن چلتے چلتے رک گیا تھا۔

           ’’علی نے تمہیں سلام بھیجا ہے اور تمھاری خیریت بھی پوچھنے کو کہا تھا،  اسے آج اُوور ٹائم کرنا ہے اس لئے کل شاید تمہیں دیکھنے آ سکے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اچھا،  خدا حافظ۔ ‘‘ مارٹن مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔ وہ اپنی خالی بوتل پھولوں کے گلدستے کے قریب میز پرہی چھوڑ گیا تھا۔

          میں بستر پر لیٹے ہوئے طرح طرح کے خیالوں میں کھویا ہوا تھا۔  ’’شاید گھر سے کوئی خط آیا ہو آج صبح ڈاک بھی تو نہیں دیکھی تھی۔ فیکٹری میں ملازمین نے آج اپنی اپنی تنخواہ وصول کر لی ہے،  نجانے مجھے کب ملے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے کتنے روز یہ پلستر بازو پر لپیٹے رکھنا ہو گا،  کیا مجھے بیماری کے دنوں کا کوئی الاؤنس ملے گا،  اور کیا کہیں کام سے غیر حاضری کی وجہ سے مجھے ملازمت سے بر طرف تو نہیں کر دیا جاؤں گا؟‘‘

          میں مسلسل چھت کی طرف نظر جمائے گھور رہا تھا کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اور ایک ہنستی مسکراتی نرس ہاتھوں میں ایک ٹرے لئے اندر داخل ہوئی۔  ’’یہ رہا تمھارا کھانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں تمھاری مدد کرتی ہوں۔ ‘‘ اس نے کھانا میز پر رکھ کر،  مجھے اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ’’میں تمھارے لئے خصوصی طور پر سبزیوں کا سوپ اور بھوجی لاؤں ہوں،  ہسپتال کے باورچی خانے میں تمھاری فیکٹری سے کسی مارٹن نے ہمیں بتایا تھا کہ تم خنزیر وغیرہ کا گوشت نہیں کھاتے ہو،  اور سبزی خور ہو۔ ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بولے جا رہی تھی۔

          ’’یہ تم گاندھی کے ہموطن گوشت کیوں نہیں کھاتے ہو؟‘‘ اُس کی اِس بات پر مجھے قدرے ہنسی آ گئی۔ اچھا ہوا وہ مجھے ہندوستانی سمجھ رہی تھی کم از کم میرا ملک تو اس بدنامی سے محفوظ تھا کہ ہم پاکستانی گوشت نہیں کھاتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں بھلا اسے یہ کیوں بتاتا کی گاندھی دنیا والوں کے لئے کچھ ہی کیوں نہ ہو،  ہم اُسے اپنا ہیرو تسلیم نہیں کرتے!

          اُس نے مجھے بڑے خلوص سے کھانا کھلایا،  میرا منہ صاف کیا اور پھر کافی کا ایک کپ پلانے کے بعد مجھے بستر پر واپس لٹا کر اس نے اپنے برتن سنبھالے اور چلنے لگی تو اُس کی نظر میز پر رکھی،  مارٹن کی چھوڑی ہوئی بیئر کی خالی بوتل پر پڑی اور پھر اُس نے کنکھیوں سے مجھے دیکھا۔

          ’’جب تم بیئر پی سکتے ہو تو خنزیر کا گوشت کیوں نہیں کھا سکتے؟‘‘ اس نے جاتے جاتے سوال کر ڈالا۔ میں نقاہت کی وجہ سے جواب نہ دے سکا اور وہ مسکراتی ہوئی ’’شام بخیر‘‘ کہہ کر کمرے سے چلی گئی،  کم عقل کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایک ہندو اور ایک مسلمان میں کیا فرق ہے! مجھے معلوم نہیں کب میری آنکھ لگ گئی اور،  صبح جب اُٹھا تو یہی کوئی چھ،  سات بجے ہوں گے کہ میرے کمرے کا دروازہ کھلا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ہسپتال کے ڈاکٹر کے ساتھ میری فیکٹری کا مالک بھی اندر داخل ہو رہا ہے۔ میں نقاہت اور بازو میں درد کے باوجود اُٹھ کر بستر پر بیٹھ گیا۔

           ’’صبح بخیر،  خان!‘‘ مالک نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’خدا کرے،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم اب ٹھیک لگتے ہو۔ ‘‘ ڈاکٹر نے میرے بازو کو ادھر اُدھر ہلا ہلا کر دیکھا اور پھر ایک پرچے پر کچھ اوٹ پٹانگ لکھ کر میرے حوالے کرتے ہوئے،  مجھے خوشخبری دی ’’تم ہفتے ڈیڑھ ہفتے کے اندر ٹھیک ہو جاؤ گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب ہماری طرف سے تم فارغ ہو بس ذرا احتیاط کرنا،  ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جمعہ کے روز پھر آ جانا ہم پلستر اتار کر دیکھیں گے۔ ‘‘ اُس نے اتنا کہا اور کمرے سے باہر جانے کے لئے دروازے کی طرف چلنے لگا۔ ’’شاید تم دونوں کو کچھ باتیں کرنی ہوں،  خدا حافظ۔ ‘‘

          ڈاکٹر کے چلے جانے کے بعد مالک نے مجھے ایک لفافہ دکھاتے ہوئے اُسے میز پر رکھ دیا۔

           ’’یہ تمھاری تنخواہ ہے،  لفافے میں بونس کی رقم بھی رکھی ہوئی ہے،  اور ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب یہاں سے فارغ ہوتے ہی،  تمھیں گھر جانا ہو گا۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالا اور پھر وہاں سے کچھ نکال کر میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا ’’سنو! بس وغیرہ پر مت جانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کچھ پیسے ہیں،  ٹیکسی لے لینا اور سیدھا گھر جانا،  ٹھیک ہو جاؤ گے تو کام پر واپس آ جانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب میں چلتا ہوں ورنہ فیکٹری سے دیر ہو جائے گی۔ ‘‘ وہ جانے کے لئے مُڑنے ہی والا تھا کہ میں نے دیکھا،  آج وہ کان میں چھلّا نہیں پہنے ہوئے تھا اور اُس کے سر سے ہیٹ بھی غائب تھا،  ہاں اس کی گردن میں نکٹائی ضرور لٹک رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے مارٹن یاد آ رہا تھا۔

          میں نے نرس کو بلانے کے لئے گھنٹی کا بٹن دبایا تو وہ یوں حاضر ہو گئی گویا میں نے کوئی الہ دین کا چراغ رگڑا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’کیا بات ہے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صبح بخیر!‘‘ وہ بولی۔

          ’’مجھے ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے،  گھر جانا چاہتا ہوں،  کیا تم میرے لئے ایک ٹیکسی بلوا سکتی ہو؟‘‘ میں نے کہا۔

          ’’او۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں نہیں !‘‘ اس نے اپنے لمبے سنہری بال شانوں پر بکھیرتے ہوئے کہا اور، ٹیکسی کے لئے فون کرنے چلی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          تھوڑی ہی دیر بعد وہ واپس میرے پاس آ گئی۔ ’’میں نے فون کر دیا ہے،  ٹیکسی ابھی آتی ہی ہو گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آؤ میں تمہیں ٹیکسی تک چھوڑ آتی ہوں۔ ‘‘ اس نے میری طرف بڑھ کر مجھے سہارا دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

          میں نے اپنے کپڑوں والا تھیلا اٹھایا اور سوچا کہ اب گھر پہنچ کر ہی کپڑے بدلوں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’پھولوں کے یہ گلدستے ساتھ نہیں لے جاؤ گے کیا؟‘‘ نرس نے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’ہاں،  کیوں نہیں !‘‘ میں نے کہا اور گلدستے بھی اٹھا لئے۔ اب وہ ہسپتال کے دروازے تک مجھے چھوڑنے کے لئے میرے ساتھ ساتھ چلنے لگی،  میں نے کمرے سے نکلتے ہوئے پیچھے مڑ کر ایک بار اندر دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مارٹن کی چھوڑی ہوئی بیئر کی خالی بوتل ابھی تک میز پر پڑی تھی۔

٭٭٭