کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک عرصے بعد

نصر ملک


’’نہیں، نہیں !میں نہ ایسا کر سکتا تھا اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ میں نے ایسا کیا ہو!‘‘

          وہ ابھی تک بستر پر ٹانگیں پھیلائے بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام رکھا تھا۔ کیا واقعی میں نے اُسے قتل کر دیا ہے!‘‘ اس نے گہری کربناک اذیت کے ساتھ اپنے ذہن پر زور دیتے ہوئے سوچا اور ادھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیا۔ اسے نہ تو وہاں کوئی لاش دکھائی دی اور نہ ہی ایسے کوئی آثار جن سے پتہ چلے کہ کسی کو یہاں اُس کی خوابگاہ میں ابھی ابھی قتل کیا گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اور اگر میں نے کسی کو قتل نہیں کیا تو پھر یہ احساسِ جرم کیسا؟‘‘ اس نے خود سے سرگوشی کی اور بستر پر لیٹ کر چھت کو گھورنے لگا۔ اسے کچھ ہی دیر پہلے نیند میں دیکھا ہوا خواب یاد آنے لگا تھا۔

          ’’تھو! لعنت ہے شیطان پر۔ ‘‘ وہ ایک طرح سے بڑبڑایا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور بدن پسینے سے تر تھا اور یک ٹک نگاہ،  ابھی تک چھت پر ٹکی ہوئی تھی۔ اسے یوں لگا کہ جیسے وہ سرسامی کی حالت میں ہو۔ لیکن نہیں یہ تو محض اس کا اپنا وہم تھا۔ اس نے اپنے ماتھے پر اپنی ہتھیلی رکھ کر یہ جاننا چاہا کہ کہیں اسے بخار تو نہیں،  نہیں ایسا بھی نہیں تھا۔ ’’تو پھر یہ سب کچھ کیا ہے؟‘‘ اس نے خود سے سوال کیا اور ایک بار پھر بستر پر ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گیا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر بستر کے قریب پڑی ایک چھوٹی سی میز سے سگریٹوں کا پیکٹ اٹھانا چاہا،  لیکن اس کا ہاتھ میز پر رکھی،  شراب سے آدھی بھری ہوئی بوتل سے جا ٹکرایا اور وہ یکدم فرش پر گر پڑی،  جس سے سب کچھ،  فرش پر پڑا قالین،  اس کے جوتے اور اُن سے کچھ ادھر پڑی ہوئیں اُس کی جرابیں،  سب کچھ شراب سے تر بتر ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’سرخ شراب!‘‘ وہ بڑا بڑا کر بستر سے نکل پڑا۔ جلدی جلدی سب چیزیں سنبھالتے ہوئے وہ زیر لب بڑبڑایا ’’تو یہ تھا میرا خواب،  کم بخت،  سرخ شراب! لیکن نہیں میں نے تو اپنی خوابگاہ میں،  خون دیکھا تھا خون! قتل کرنے کے بعد، مقتول کے بدن سے بہتا ہوا سرخ خون!‘‘ وہ مسلسل سوچ رہا تھا۔ ’’اف لعنت ہے ان شیطانی خیالات پر۔ ‘‘ اس نے سب چیزوں کو ایک پرانے تولیے سے خشک کیا اور پھر اپنی خوابگاہ سے نکل کر تولیے کو باورچی خانہ میں پڑے ’’ڈسٹ بن‘‘ میں پھینک دیا۔ اب وہ قدرے مطمئن لگ رہا تھا۔

          ’’میں نے کوئی قتل وغیرہ نہیں کیا یہ محض میرا خواب اور اس کی وجہ سے پیدا ہو جانے والا صرف ایک واہمہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس واہمہ اور کچھ بھی تو نہیں۔ ‘‘ اب وہ ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’کتنا بھیانک خواب تھا میرا۔ ‘‘ اس نے سوچا۔ ’’شاید یہ شراب کی وجہ سے تھا۔ ‘‘ سوچ کی لکیر ابھرنے لگی تھی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سے مسکراہٹ ابھری۔ ’’آخر میں نے ہمت کیسے کر لی اسے قتل کرنے کی،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی تو کہا کرتی تھی کہ میں تو بلّی تک نہیں مار سکتا۔ ‘‘ اس نے سگریٹ کا گہرا کش لگایا اور اسے راکھدان میں بجھا دیا اور کھڑے ہو کر ایک بھر پور انگڑائی لی اور اچانک ایک بے تعلق خیال نے یکبارگی اسے تقریباً قہقہہ لگانے کی حد تک ہنسا دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’میں قتل کر سکتا ہوں،  کم از کم خواب میں تو میں نے ایسا ہی کیا ہے۔ ‘‘ وہ یہ سوچتے ہوئے غسلخانے کی طرف چل دیا۔ وہاں سے فارغ ہو کر اُس نے اپنے لئے کافی بنائی اور صوفے پر بیٹھ کر پینے لگا۔

           ’’تو اب کیا کیا جائے؟‘‘ اس نے کافی کی پیالی سے اُٹھتی ہوئی بھاپ کو دیکھتے ہوئے خود سے سوال کیا۔ اسے کافی کی خوشبو بہت بھلی لگ رہی تھی اور اب وہ اپنے آپ کو بہت ہلکا محسوس کر رہا تھا۔ وہ بستر ٹھیک کرنے کے خیال سے اُٹھ کر اپنی خوابگاہ کے اندر گیا لیکن بستر ٹھیک کرنے میں لگ جانے کی بجائے پلنگ پر بیٹھ کر ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ سرخ شراب کے دھبّے ابھی پوری طرح خشک نہیں ہو پائے تھے۔ اس کی نظریں ان دھبّوں پر ٹکی ہوئی تھیں اور اس کا خیال پھر نیند میں دیکھے ہوئے خواب کی طرف چلا گیا۔

          ُ’معاملہ آج یہاں تک بڑھ گیا تھا کہ مائیبریٹ نے اُس کے منہ پر تھوک دیا تھا اور اس کے ساتھ ہی وہ نہایت غیظ و غضب میں اُسے گالیاں بھی دے رہی تھی۔ کمینہ ! گھر کی پیسٹری چھوڑ کر دوسروں کی ڈبل روٹی پر جھپٹنے والا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مَردود۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حرامی پلّا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری زندگی خراب کر دینے والا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سور!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اور اب اُس نے اس کے گریبان کو پکڑنا چاہا ہی تھا کہ اس نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھانے کی میز پر پڑی ہوئی روٹی کاٹنے والی

 چھری اُٹھا کر مائیبریٹ کے سینے میں گھونپ دی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ خون میں لت پت،  ہلکا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’میری حد سے زیادہ محبت کا یہ صلہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بھی مجھے قبول ہے۔ ‘‘ اُس کی کھلی ہوئی مردہ آنکھیں اس کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اس کے گالوں کا سرخ سیبی رنگ پیلا پڑ چکا تھا اور وہ ابھی تک اس کی لاش کے قریب کھڑا تھا۔ خون میں تر بتر چھُری ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھی۔ ‘‘

          اپنے خواب میں دیکھے ہوئے اس منظر پر وہ ایک پاگل کی طرح کھل کر ہنسا اور پھر یکدم اس پر جیسے جمود طاری ہو گیا ہو۔ وہ برسوں پہلے کی اپنی دنیا میں جا چکا تھا۔ اسے مائیبریٹ کے ساتھ اپنے کالج اور یونیورسٹی کے گزرے ہوئے ماہ و سال اور گھریلو زندگی کے شب و روز یاد آنے لگے تھے۔ وہ اس کے ساتھ کتنی ہی گہری اور بھر پور محبت کرتی تھی۔ سدا مسکراتے رہنے والے چہرے اور گھنے لمبے سنہری بالوں اور گہری نیلی آنکھوں والی معصوم صورت،  مائیبریٹ!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُسے اُس سے جدا ہوئے اب ایک سال کا عرصہ ہو نے کو آیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نجانے اب کہاں ہو گی؟‘‘ اس نے ایک لمبی ٹھنڈی آہ بھری۔ وہ شاید اپنے خواب کو بھول گیا تھا اور مائیبریٹ کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کیا سوچنے لگا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تو خود خیالات تھے جو اس کے ذہن میں ابھر رہے تھے۔ ’’اطاعت گزار! وہ تو مجسمۂ اطاعت تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری ہر بات کو بخوشی قبول کر لینے والی،  مائیبریٹ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میں !،  تھو ہے مجھ پر!! آخر وہ کب تک یہ سب کچھ برداشت کرتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس نے ٹھیک ہی تو کیا،  مجھ سے الگ ہو گئی۔ ‘‘

          اب اس کے ہونٹوں پر ایک کھسیانی سی ہنسی تھی اور وہ یہ بھول ہی گیا تھا کہ وہ اپنی خوابگاہ میں کیا کرنے آیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’مجھ سے الگ ہو گئی تھی!‘‘ اس نے پھر سوچنا شروع کر دیا۔ ’’وہ مجھ سے الگ کیا ہوتی،  یہ تو میں خود ہی تھا جس نے اُسے نکال باہر کیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس میں اتنی ہمت ہی کہاں تھی جو وہ مجھ سے کبھی جدا یا الگ ہو جانے کا سوچتی بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تو میرا اپنا اعتماد تھا جو مجھے دھوکا دے گیا۔ ‘‘ اس نے اپنے شانے اچکائے اور اپنے سر کو جھٹکا دے کر اپنے خیال کو مسترد کرنا چاہا۔ ۔ ۔ ۔ ’’۔  نہیں،  نہیں ! یہ میرا اعتماد نہیں تھا،  دھوکا خود اُس نے مجھے دیا،  وہی تو کہا کرتی تھی کہ وہ میرے بغیر ایک لمحہ نہیں گزار سکتی اور نہ میرے بغیر وہ زندگی کا تصور کر سکتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بائیس برس کی رفاقت و قربت پر کمینی نے اُس روز میرے ذرا سے غصے کو بھی برداشت نہ کیا،  لیکن آج وہ یوں اس طرح میرے ذہن میں کہاں سے ٹپک پڑی؟‘‘ اس نے سوچا اور پلنگ پر بیٹھے بیٹھے ایک جمائی لی اور پھر اُٹھ کر الماری میں سے کپڑے نکال کر پہننے لگا۔ کپڑے پہن کر وہ ڈرائنگ روم آ گیا اور کھڑکی کے پردے ہٹا کر باہر دیکھنے لگا۔

          ’’میں نے ٹھیک ہی تو کیا،  جو اُسے نکال باہر کیا تھا۔ وہ اپنی محبت کے عوض شاید مجھے غلام سمجھنے لگی تھی اور مجھے ’’ایک ہی تھالی کا کتا‘‘ بنا کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری آزادی کو اپنی مٹھی میں بند رکھنا چاہتی تھی۔ ‘‘ اس نے کھڑکی سے باہر دور دور تک دیکھتے ہوئے ایک بار پھر مائیبریٹ کے متعلق سوچا۔ اسے ایک طرح کی خوشی کا احساس ہوا اور اُس نے اپنے اس بد طینت احساس کو ذہن میں مضبوط کرتے ہوئے آگے بڑھ کر کھڑکی کھول دی۔ اسے باہر سے اندر آنے والی تازہ ہوا میں بھیگی مٹی کی باس محسوس ہوئی،  سامنے کے سر سبز پارک میں جا بجا خوش رنگ پھولوں کی کیاریوں پر جونہی اس کی نظر پڑی اُسے اپنے اندر ایک عجیب انجانے ہیجان کا احساس ہوا۔ وہ کچھ دیر کھڑکی کے قریب کھڑا باہر کے دلفریب منظر اور اندر آنے والی ٹھنڈی ہوا کے پر سکون جھونکوں سے لطف اندوز ہوتا رہا اور پھر اُس نے کھڑکی بند کر کے پردہ گرا دیا اور ڈرائنگ روم میں بے معنی سا ادھر اُدھر ٹہلنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ کیا!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تو اب گھر کے دروازے سے باہر سڑک پر کھڑا تھا۔

          اسے یہ پتا ہی نہیں چل پایا تھا کہ وہ گھر سے کب اور کیسے باہر نکلا اور کس طرح سڑک پر پہنچا تھا۔ ’’کہیں یہ بھی خواب ہی کا حصّہ تو نہیں ؟‘‘ اسے ایک بار پھر خواب کا خیال آیا۔ ’’کیا بیوقوفی ہے،  ایسا ہو ہی نہیں سکتا!‘‘ اپنے اس فیصلہ کن چوکنے پن پر اسے خود بے یقینی کا احساس بھی ہو رہا تھا۔ وہ سر سبز پارک میں رنگا رنگ پھولوں کی کیاریوں کو دیکھنا چاہتا تھا لیکن وہ تو کسی اور ہی طرف جا رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہاں ؟ یہ شاید اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔ اب وہ کسی بھی چیز کے بارے میں سوچ نہیں رہا تھا۔ بس یوں ہی کچھ خیالات،  کچھ تصورات،  بالکل بے ترتیب اور بے ربط۔ ۔ ۔ ۔ ۔،  وہ مسلسل چلے جا رہا تھا۔ لیکن جونہی وہ اپنی اس بے خیالی میں سڑک پر لگی ٹریفک لائٹ سے بائیں طرف مُڑ کر ذرا آگے بڑھا،  اس کی نظر کلیسا کے گھڑیال پر پڑی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اچھا تو ایک بجنے والا ہے! اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ کلیسا سے باہر نکل رہے تھے۔ ’’کاش میں بھی اِن لوگوں میں شامل ہونے کے قابل ہوتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں بھی خداوند کے حضور دعا کرتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے گناہوں کی معافی کے لیے۔ ‘‘اس نے لمحہ بھرکے لئے سوچا اور پھر خود ہی اپنے خیال کو مسترد کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’گناہ! کیسے گناہ!!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں  نے تو کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں،  وہ قتل!‘‘ وہ اپنے اس خیال پر مسکرایا۔  ’’وہ تو محض خواب تھا۔ اس نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا۔  سڑک کنارے اُگی کھاس پر دانہ چُگنے والے کبوتر پر پھڑپھڑاتے ہوئے ہوا میں اُڑ گئے۔ اس نے کبوتروں کو اُڑتے دیکھا تو ضرور لیکن اس کی رفتار میں کمی نہیں ہوئی تھی۔

          اب وہ چلتے چلتے نہر کے دوسرے کنارے پر پہنچ چکا تھا۔ اس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ ایک دوسرے سے بے خبر ادھر اُدھر گھوم رہے تھے۔  کچھ ریت پر لیٹے آفتابی غسل کر رہے تھے،  کیا مرد کیا عورتیں،  بوڑھے،  جوان،  بچے سبھی اپنی اپنی لے میں تھے۔ کچھ جوڑے ایک دوسرے سے سرمستیاں کر تے اپنے من کی دنیا میں گم تھے۔ وہ بھی ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اب ایک بینچ پر بیٹھ چکا تھا۔ اتنی خوشگوار روپہلی دھوپ اور رنگین ماحول کے باوجود اسے اپنا سر چکراتا محسوس ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اف میرے خدایا!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر یہ سب کچھ کیا ہے؟‘‘   اُس نے بینچ پر بیٹھے بیٹھے اپنے جوتے کی نوک سے ریت پر ایک گہری لمبی لکیر کھینچتے ہوئے سوچا۔ ’’اس خواب کے کیا معنی ہو سکتے ہیں اور کیا خواب بھی کچھ معنی رکھتے ہیں ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خواب کی تعبیر! کاش کوئی جان سکتا!!‘‘ اب وہ اپنی نظریں نہر میں بہتے ہوئے صاف و شفاف پانی کی سطح پر جمائے ہوئے تھا۔ ’’کتنا بھیانک تھا میرا خواب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ہاتھ سے قتل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عمداً قتل،  اور وہ بھی مائیبریٹ کا قتل!‘‘ اس نے سگریٹ کا پیکٹ نکالنے کے خیال سے جیب میں ہاتھ ڈالنا چاہا لیکن یہ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیب سے سگریٹوں کا پیکٹ نکالنے کی بجائے وہ اپنے ہاتھ سے اپنے سینے پر صلیب کا نشان بنا رہا تھا۔ اب وہ خود محسوس کر رہا تھا کہ وہ بے حد اداس،  کھویا کھویا سا اور بہت ہی بے ڈھنگے پن سے تشویش و تردد میں مبتلا تھا۔  اب وہ سگریٹ نکال کر سلگا چکا تھا اور لمبے لمبے کش لے رہا تھا۔ اسے اپنی تشویش سے ڈر لگنے لگا تھا۔ اس کی نظریں نہر کے پانی میں ابھرتی ڈوبتی لہروں پر جمی تھیں اور ذہن میں خیالات کے بھنور گرداب کے صورت ابھر رہے تھے۔ ’’تو کیا واقعی میں مائیبریٹ کے ساتھ ایسا ہونا چاہیے تھا!‘‘ اچانک اس نے اپنا داہنا ہاتھ جھٹک کر سگریٹ ریت پر پھینک دیا ’’کم بخت نے انگلیاں ہی جلا دی ہیں۔ ‘‘ وہ زیر لب بڑبڑایا۔ وہ اپنی سوچ میں اتنی گہرائی میں اتر چکا تھا کی اسے انگلیوں میں دابے جلتے ہوئے سگریٹ کا بھی دھیان نہیں رہا تھا۔

          ’’آخر یہ خواب،  یہ خیالات،  یہ سوچ،  یہ سب کیا ہے؟‘‘ وہ خالی آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے فلسفے کی گنجلیاں سلجھانے کی کوشش میں سوچنے لگا تھا۔ ’’قتل تو میں نے کیا نہیں !‘‘ اس نے قطعی طور پر فیصلہ کرتے ہوئے خود سے سرگوشی کی۔  ’’خواب محض خواب تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور بس! مجھے یہ بھول ہی جانا چاہیے۔ ‘‘

          اب وہ اپنے آپ میں آنے لگا تھا،  لیکن وہ بینچ سے اُٹھتے اُٹھتے پھر وہیں بیٹھ گیا تھا۔ مائیبریٹ کا خیال آج اسے اس طرح کیوں آنے لگا تھا۔ وہ پھر سوچنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’کیا میرے اندر اُس کے لئے کہیں

 پھر دوبارہ محبت تو نہیں پھوٹ رہی؟‘‘ اس نے خود سے سوال کیا۔ ’’نہیں،  نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا نہیں ہو سکتا،  اس روز میں ہی نے تو اسے دھتکار کر گھر سے باہر نکال دیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن کیا میں سچ مچ ایسا ہی کرنا چاہتا تھا؟‘‘ اسے یاد آیا کہ مائیبریٹ سے الگ ہونے پر اُس کے دوستوں نے اسے کیا کیا لعنت ملامت نہیں کی تھی اور اسے کس کس انداز سے مورد الزام نہیں ٹھہرایا تھا اور پھر وہ آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے اُس سے دور ہوتے گئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نہیں،  نہیں یہ تو میں خود ہی تھا جس نے اُن سے کنارہ کشی کر لی تھی۔ وہ تو خود چاہتے تھے کہ کسی طرح میرا گھر تباہ ہو جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کمینے! ایک دوسرے کی منگیتروں اور بیویوں پر نگاہ رکھنے اور اُن سے مباشرت کرنے والے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حرامی پلّے!‘‘ وہ اپنے دوستوں کے متعلق اپنی اس دلیل پر اپنی ہنسی ضبط نہ کر سکا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’میں بھی تو انہی میں شمار ہونے  لگا تھا۔ ‘‘ اس نے سوچا اور پھر اچانک اسے وقت گزرنے کا احساس ہوا۔ شام کے سائے پڑنے لگے تھے۔ ’’کیا میں نے یہیں بیٹھے بیٹھے دن گزار دیا ہے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں بھی الّو ہی ہوں !۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ ایک طرح خود سے الجھتے ہوئے اُٹھا اور گھر جانے کے خیال سے چلنے لگا۔

           نہر کے کنارے گھومنے پھرنے اور سر مستیاں کرنے والے لوگ وہاں سے کبھی کے جا چکے تھے اور جو باقی تھے وہ بھی اپنی اپنی راہ لینے کی تیاریوں میں تھے۔ اس نے ایک لمحہ کے لئے رک کر ایک انگڑائی لی۔ اُسے یوں لگا جیسے اُس کی انا کا حصار ٹوٹ چکا ہو۔ اپنی ہی پیدا کردہ لاکھ وجوہات کے باوجود وہ مائیبریٹ کو کسی بھی وجہ سے مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’وہ دیہاتن‘‘ اس نے سوچا۔  اب وہ ناک کی سیدھ میں چلتا جا رہا تھا اور اپنے آپ میں ایک نئی تحریک محسوس کرنے لگا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس زندگی کو آگے بڑھنا ہی چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر کہاں تک ایسے ہی رہا جائے گا۔ ‘‘ وہ مسلسل چلتا جا رہا تھا۔ اب وہ بڑی سڑک پر نکل آیا تھا۔ اچانک اُس نے قطعی طور پر محسوس کیا کہ اسے اب اپنے آپ سے سوالات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں،  لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی وقت اچانک ایک خیال بڑی وضاحت کے ساتھ اُس کے سامنے آیا جیسے انتظار میں تھا کہ اُس پر قطعی وار کرے۔  ’’آخر کس لئے،  اب کس لئے میں اُس کے پاس جاؤں۔ ۔ ۔ ۔ مجھے اُس کی آنسوؤں کی ضرورت نہیں اور نہ ہی میں اس کے خوف کے پتھر کھانا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اب پھر وہ خیالات کے بھنور میں گر چکا تھا اور ادھر اُدھر دیکھے بغیر بھیڑ میں سے اپنی راہ بناتا چلتا جا رہا تھا۔ لیکن یہ راہ تو اس کے گھر کو نہیں جاتی تھی اور اب وہ جا کدھر رہا تھا اس بارے میں شاید اُس نے خود بھی نہیں سوچا تھا۔ اسے اپنے سامنے،  سے ایک شرابی آتا ہوا دکھائی دیا جو آگے جا کر ایک بار میں داخل ہو گیا تھا۔ اب اُسے یہ معلوم ہی نہ ہو سکا کہ وہ خود بھی تو اُسی بار کے دروازے سے اندر داخل ہو چکا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اپنے لئے ٹھنڈی بیئر کی ایک بوتل لی اور وہیں کھڑے کھڑے اسے غٹاغٹ پی گیا۔ اب جو اُس نے بار میں ادھر ادھر دیکھا تو  سوائے سگریٹوں کے بے تحاشا دھوئیں اور کچھ بوڑھے شرابیوں کے اور کچھ اسے وہاں دکھائی نہیں دیا تھا اور وہ شرابی جو اس نے بار میں داخل ہوتے دیکھا تھا اب نجانے کہاں تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس نے بیئر کی ایک اور بوتل خریدی اور کچھ دیر وہیں کھڑے کھڑے اُسے ختم کر کے بار سے باہر نکل آیا۔

          ’’اف میں کس قدر گر چکا ہوں۔ ‘‘ بار سے باہر سڑک پر نکلتے ہی جب وہ ایک راہگیر سے ٹکرایا تو اسے احساس ہوا کہ غالباً یہ جلدی میں پی ہوئی بیئر کا اثر تھا۔ وہ سنبھلنے کی کوشش میں آگے بڑھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اُسے ایک جوڑا ایک دوسرے کی کمر میں بازو ڈالے،  اٹھکیلیاں لیتے،  اپنے سامنے سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ تھوڑی دیر کے لئے رک کر اس جوڑے کو دیکھنا لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن بالکل غیر ارادی طور پر اُسے یوں لگا کہ وہ جیسے نہ صرف اپنے دوستوں،  اپنے جاننے والوں سے الگ ہو چکا تھا بلکہ وہ تو اپنے آپ سے بھی الگ ہو چکا ہوا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’میری ساری امیدیں،  اپنے بارے میں میری خیالات اور منصوبے،  وہ سب کچھ کیا ہوئے؟‘‘ اس نے خود سے سرگوشی کی اور پھر چلنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’مجھے اپنی ضرورت کا اعتراف کر لینا چاہیے۔ ‘‘ اب اُسے بھوک کا احساس ہونے لگا تھا۔ ’’مجھے خود کو کسی سے وابستہ کر ہی لینا چاہیے‘‘ اب وہ شہر کے ایک با رونق چوراہے میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ کدھر جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ہاں ! کیفے سمر سکو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اسے خیال آیا کہ ایک مدت سے وہ اپنی پسند کے اس کیفے کو کیسے بھولے رہا۔ اب وہ پھر چلنے لگا تھا، اپنے ادر گرد کے ماحول سے بالکل بے خبر۔

          اب اُس کے ذہن میں ’’کیفے سمر سکو‘‘ کا منظر تھا۔ وہی کونے والی مخصوص میز،  دوستوں کے حلقے میں بیٹھے خوش گپیاں،  علم و ادب اور فنون لطیفہ کے مختلف موضوعات پر لمبی بحثیں اور حالات حاضرہ کی تشریحات اور پھر رات گئے وہاں سے اُٹھ کر،  مائیبریٹ کی کمر میں بازو ڈالے،  گلیوں بازاروں سے ہوتے ہوئے گھر تک کا سفر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ زیر لب مسکرایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اگر وہاں کوئی جاننے والا مل گیا تو کیفے ٹیریا میں اتنی مدت سے نہ آنے کی اپنی وجہ کیا بتاؤں گا؟‘‘ اس نے خود سے سوال کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اس وقت وہاں شاید ہی کوئی جاننے والا ملے گا اور اگر کوئی ہوا بھی تو ضروری نہیں کہ وہ یہی سوال پوچھے گا۔ ‘‘ اب وہ ایک طرح سے مطمئن دکھائی دیتا ہوا کیفے ٹیریا کے دروازے سے اندر داخل ہو چکا تھا۔ اس نے ارد گرد کے ماحول پر اچکتی سے ایک نگاہ ڈالی اور آگے بڑھ کر کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی کو اپنے لئے کھانے کا آرڈر دے دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’لیم اور چیز کے دو سینڈوچ۔ ‘‘ یہاں تو عملہ بھی پہلے والا دکھائی نہیں دیتا۔ ‘‘ وہ یہ سوچتا ہوا خود کونے والی اپنی اسی مخصوص میز کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ کبھی دوستوں کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا۔ میز پر بیئر سے آدھا بھرا ایک گلاس اور آدھی خالی بوتل یوں پڑی تھی جیسے کوئی بیئر پیتے پیتے اُکتا کر اپنی پیاس ادھوری چھوڑ کر چلا گیا ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس کی نگاہ گلاس کے کنارے پر رک گئی۔ وہاں لپ سٹک کے رنگ سے ہونٹوں کے نشان پڑے ہوئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’معلوم نہیں اسے ایسی کیا جلدی ہو گی جو اپنی بیئر بھی ختم نہ کر سکی۔ ‘‘ اس نے ہاتھ بڑھا کر گلاس اور بوتل کو میز کے ایک کونے کی طرف سرکا دیا اور  اور ایک کرسی گھسیٹ کر اُس پر بیٹھ گیا اور کھانے کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔

          اس نے غیر ارادی طور پر،  گلاس کے کنارے پر ثبت لپ سٹک سے بنے ہونٹوں کے نشان کو پھر دیکھا اور اپنے بازو میز پر پھیلا کر اُن کے درمیان اپنا سر یوں پھینچ لیا گویا اُسے ڈر ہو کہ کوئی اس کا سر اُٹھا کر لے جائے گا۔ اسے خیال آیا کہ محض ایک خواب کی وجہ سے اس کا سارا دن یونہی بیکار گزرا ابھی وہ اور کچھ سوچنے ہی والا تھا کہ عین اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ ویٹرس کھانا لے آئی تھی۔ اُس نے اپنے سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو ہکا بکا رہ گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’مائیبریٹ!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم،  یہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اُس کی آواز حلق سے بمشکل نکل رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’تم،  تم آج ادھر کیسے؟‘‘

          ابھی وہ دونوں ایک دوسرے سے اچھی طرح آنکھیں چار بھی نہیں کر پائے تھے کہ مائیبریٹ کے پیچھے کھڑی ویٹرس نے آگے بڑھ کر اُس کے لئے میز پر کھانا لگا دیا۔ ۔ ۔ ۔ ’’نوش جان!‘‘ وہ کھانا لگا کر جا بھی چکی تھی۔

          مائیبریٹ ابھی تک بت بنی کھڑی،  میز پر پڑی بیئر کی آدھی بوتل اور گلاس کو دیکھ رہی تھی۔ ’’تو کیا،  یہ تم یہاں بیٹھی بیئر پی رہی تھیں ؟‘‘ اس نے ایک طرح سے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے پوچھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھانا کھانے والی چھری اور کانٹے پر اُس کی گرفت مضبوط ہونے لگی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نہیں،  نہیں ! ایسا نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ وہ بے خیالی میں جھنجلاتے ہوئے بڑبڑایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’میں ایسا نہیں ہونے دوں گا!‘‘

          ’’تم کیا نہیں ہونے دو گے؟‘‘ مائیبریٹ نے اُس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنی بیئر کی چسکی لی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک اور مقناطیسی نوعیت کی کشش تھی۔ ’’نوش جان۔ ‘‘ وہ ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم لاتے ہوئے بولی ’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نوش جان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ کیا تم ساتھ نہیں دو گی؟‘‘ اس نے سر اُٹھا کر پہلی بار مائیبریٹ کے چہرے پر نگاہ ڈالی۔ اُس کی اپنی آنکھیں نمناک ہو رہی تھیں۔ اس نے دھندلی دھندلی نظر سے دیکھا کہ مائیبریٹ نے پلیٹ سے ایک سینڈوچ اُٹھا لیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے ہاتھ سے کھانے والی چھری چھوٹ کر میز سے نیچے فرش پر گر پڑی تھی جسے اُس نے پاؤں تلے زور سے دبا رکھا تھا،  اور اب ہاتھ ہی سے سینڈوچ کھانے لگا تھا۔

          ’’بڑے لذیذ ہیں یہ سینڈوچ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ دونوں ایک ساتھ بولے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ہاں،  شاید ایک عرصے بعد جو یوں اکٹھے کھا رہے ہیں،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں ایک ساتھ بیٹھے۔ ‘‘ مائیبریٹ بولی۔ ’’یہ تمھارے گال پر ’’چیز‘‘ کا ایک ٹکڑا گر گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ اُس کی طرف ایک کاغذی رومال بڑھاتے ہوئے بولی۔  لیکن وہ تو اب اُس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کے قطرے خشک کر رہی تھی۔ ادھر ایک دوسرے کونے میں،  کیفے ٹیریا کا پرانا بوڑھا ویٹر جو نجانے کہاں سے نمودار ہو گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھڑا،  اُن دونوں کو کنکھیوں سے دیکھتا ہوا،  مسکرا رہا تھا۔

٭٭٭