کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

فردا کا فردا ہونا!

نصر ملک


بہار کی اُس خوشگوار شام وہ اپنے کام سے گھر لوٹا ہی تھا  اور اپنے کپڑے بدل کر باورچی خانے میں کھانے کے لئے کچھ تلاش ہی کر رہا تھا کہ اچانک دروازے پر گھنٹی بجی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت آہستہ سے،  اور پھر قدرے زور کے ساتھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          ’’کون ہو سکتا ہے؟‘‘ اس نے سوچا۔ ابھی وہ کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ آہستہ سے پھر گھنٹی بجنے کی آواز آئی۔

          وہ بن بلائے یوں چلے آنے والوں سے سخت بیزار ہو تا تھا۔ خواہ مخواہ دخل در معقولیت دینے والوں سے بچنے کے لئے اُس نے اپنے دوستوں کے ساتھ گھنٹی بجانے کے کچھ اشارے بنا رکھے رکھے۔ یہ جو کوئی بھی تھا،  اُس کے دوستوں میں سے نہیں تھا تبھی تو وقفے وقفے سے آہستہ آہستہ گھنٹی بجا رہا تھا۔  شاید وہ خود تھکا ہوا تھا اور اس طرح گھنٹی بجانے والے کو سمجھ نہیں رہا تھا۔

          ’’ذرا صبر! میں آیا۔ ‘‘ آواز لگاتے ہوئے اُس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔ ایک نوجوان لڑکی،  ہلکا اُوور کوٹ پہنے دروازے کے باہر اُس کے سامنے کھڑی تھی۔ اُسے اِس لڑکی کو پہچاننے میں ایک لمحہ بھی صرف نہیں کرنا پڑا تھا۔ یہ آسیہ تھی۔ آسیہ،  اس کے کالج کی دوست۔ وہ دونوں دسویں جماعت سے کالج تک اکٹھے پڑھتے رہے تھے اور،  کالج کے زمانے میں تو وہ ’’رومیو اور جولیو‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ وہ متعجب خاموش کھڑا تھا۔

          ’’انہوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ ‘‘ آسیہ بڑی آہستگی سے بولی۔         

          ’’کس نے،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کب؟،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آؤ،  اندر آؤ۔ ‘‘ وہ ایک طرف ہٹتے ہوئے بولا۔

          ’’میں آج صبح ہی یہاں پہنچی ہوں۔ میں تمھارے گھر آنے کا انتظار کرتی رہی ہوں۔  ادھر گلی میں ریسٹورنٹ میں بیٹھی رہی ہوں۔ ‘‘ اب وہ دروازے سے اندر داخل ہو چکی تھی۔ اُس نے اس کا اُوور کوٹ اُتروانے میں اس کی مدد کی اور اسے ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔

          آسیہ حیران تھی کہ فریڈرک کے محبتی روّیے اور مہربانہ انداز میں کچھ بھی تو فرق نہیں آیا تھا۔ وہ یہ حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ وہی گرمجوشی،  وہی پیار اور وہی دوستانہ انداز۔ ’’فریڈرک!‘‘ اس نے سوچا ’’تم بھی کیا خوب ہو۔ ‘‘ کالج کے وقت سے لے کر انہوں نے کتنی ہی بار زندگی کے سفر کے منصوبے بنائے تھے۔

           کوئی سال بھر پہلے وہ ایک شام فریڈرک کے فلیٹ پر اُس سے ملنے آئی تھی اور جب فریڈرک نے آسیہ کی من پسند برانڈی کی بوتل سے اس کے لئے گلاس میں برانڈی ڈال کر اُسے پیش کی تھی تو آسیہ نے پینے سے انکار کر دیا تھا اور اپنے شانے جھٹکتے ہوئے گلاس میز پر پرے دھکیل دیا تھا۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا۔

          ’’میں اب تمھارے گھر میں کبھی بھی کچھ نہیں پیوں گی۔ ‘‘ ہاں اُس نے یہی کہا تھا۔ ’’میں آئندہ کبھی بھی تمھارے فلیٹ پر نہیں آؤں گی۔ خاص طور پر تم سے ملنے تو کبھی بھی نہیں آؤں گی۔ ‘‘ آسیہ کو خود بھی سال بھر پہلے کی اپنی بات یاد تھی۔ تب فریڈرک حیران و پریشان تھا کہ آسیہ کے اس روّیے کا مقصد و سبب کیا تھا اور وہ ایسا سب کچھ کیوں کہہ رہی تھی اور کیا واقعی میں وہ ایسا ہی کرنے والی تھی؟ لیکن آسیہ نے تو اُسے بولنے پوچھنے کا موقعہ ہی نہیں دیا تھا اور اپنا ہینڈ بیگ اُٹھا کر بھیگی آنکھوں کے ساتھ فلیٹ سے باہر نکل گئی تھی۔ اور اُس کے بعد اسے کبھی نظر نہیں آئی تھی۔ نجانے وہ کہاں چلی گئی تھی۔ فریڈرک نے اُسے کافی تلاش بھی کیا لیکن بے سود،  کسی کو بھی اُس کے بارے میں پتہ نہیں تھا۔ اُس کے والدین بھی شاید کسی اور جگہ گھر بدل گئے تھے۔ ’’آسیہ نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ یہ سوال اُس کے ذہن پر نقش ہو کر رہ گیا تھا۔ اور آج،  ایک سال بعد وہ اُسی کے فلیٹ میں پھر بیٹھی ہوئی تھی۔ فریڈرک نے اُسے اس کی پسندیدہ برانڈی پیش کرنے کا سوچا لیکن وہ اس پر عمل نہ کر سکا۔

          ’’انہوں نے اب مجھے چھوڑ دیا ہے۔ ‘‘ آسیہ اب خود ہی بولنے لگی تھی۔ ’’شاید تم میری کچھ مدد کر سکو۔ میں اس خیال سے تمھارے ہاں آئی ہوں کہ تمھیں بتا دوں کہ انہوں نے اب مجھے چھوڑ دیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم ناراض تو نہیں ہو؟‘‘

          ’’ناراض!میں ؟‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ناراض تو اُس شام تم خود تھیں۔ یاد ہے تم نے کیا کہا تھا؟ تم میرے فلیٹ پر کبھی نہیں آؤ گی۔ خاص کر مجھ سے ملنے تو کبھی نہیں آؤ گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور آج،  تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ اس سے آگے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ آسیہ نے اُس کی بات کاٹ دی۔

          ’’میں نے ایسا تو نہیں کیا تھا۔ ‘‘ آسیہ کے ہونٹوں پر ایک مردنی سے مسکراہٹ ابھر کر غائب ہو گئی تھی۔ ’’میں نے ایسا تو کبھی بھی نہیں کہا تھا۔ ‘‘ وہ قدرے زور دیتے ہوئے بولی۔

          ’’میں تمھاری زندگی میں کبھی بھی تم سے نہیں ملوں گی،  یاد ہے یہ تمھارے ہی تو الفاظ تھے۔ ‘‘ فریڈرک بڑی آہستگی سے بولا۔ وہ جانتا تھا کہ آسیہ جھوٹ بول رہی تھی یا پھر جس طرح کی بھی صورت حال سے وہ چار تھی اس کی وجہ سے،  ہو سکتا ہے وہ ایسا کرنے پر مجبور تھی۔ وہ ایسی غیر معمولی لڑکیوں میں سے تھی جو اس بات میں فرق نہیں رکھتی تھیں کہ کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے اور اپنے ہر خواب کو حقیقت نہیں سمجھتی تھیں۔ اب وہ دونوں ایک طرح سے آپس میں بحث کر رہے تھے۔

          ’’تم نے یہی کہا تھا۔ ‘‘

          ’’نہیں میں نے ایسا کبھی نہیں کہا تھا۔ ‘‘

          ’’تم نے کہا تھا!‘‘

          ’’نہیں !ہر گز نہیں !!‘‘

          اسی بحث کے دوران فریڈرک اب باورچی خانے میں جا کر ڈبل روٹی کے ایک ٹکڑے پر مکھن لگانے لگا تھا۔ آسیہ بھی چپکے سے دبے پاؤں اُس کے پیچھے جا کر کھڑی ہو گئی تھی۔ ’’کیا تم اکیلے ہی کھاؤ گے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

          ’’چاہو تو تم بھی مکھن لگا لو۔ ‘‘ فریڈرک نے ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا اُس کی جانب بڑھا دیا اور خود اُس نے وائین کی ایک بوتل کھولی اور اسے لے کر ڈرائنگ روم میں آ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔ آسیہ دو خالی گلاس لئے واپس آ کر اسی کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئی۔ اب وہ قدرے مطمئن دکھائی دے رہی تھی اور اُس کے گالوں پر شگفتہ مسکراہٹ ابھرنے لگی تھی۔ اس نے خود گلاسوں میں وائین انڈیلی اور ایک گلاس فریڈرک کو تھما دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’چیئرز!،  آج کی اِس شام کے نام!!‘‘ فریڈرک بولا۔ دونوں کے گلاس ٹکرانے سے ٹک کی آواز نکلی۔ آسیہ نے ہلکی سی چسکی لینے کے بعد گلاس میز پر رکھ دیا۔ اب وہ باتیں کرنے کے موڈ میں تھی۔

          ’’فریڈرک تم اپنی جگہ پر ٹھیک ہی کہتے ہو لیکن جھوٹ میں بھی نہیں بول رہی۔ اُس شام میں جب تمھارے ہاں آئی تھی تو میرے والدین یہ جان چکے ہوئے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے بہت ہی قریب ہیں۔ میں انہیں کئی ماہ سے سمجھاتی رہی تھی کہ ایسی ویسی کوئی بات ہی نہیں تھی اور یہ کہ ہم دونوں تو صرف دو دوستوں کی طرح ملتے ہیں،  باتیں کرتے ہیں۔ دنیا کی باتیں،  زندگی کے بارے میں،  ادب و آرٹ  اور سیاست کی باتیں !،  لیکن وہ مانتے ہی نہیں تھے۔ میرے باپ کا روّیہ تو بہت ہی سخت ہوتا جا رہا تھا۔ وہ کسی بھی صورت میں یہ برداشت کرنے پر تیار نہیں تھا کہ میں تمھارے ہاں آؤں اور تم سے ملوں۔ وہ تو کئی بار شہر میں ہمارے پیچھے ’’ٹوہ‘‘ لگاتا رہا کہ ہم کہاں جاتے اور کیا کرتے ہیں۔ ‘‘ آسیہ نے وائین کی ایک اور چسکی لی اور اپنی بات جاری رکھی۔

           ’’میں نے تمھیں یہ سب کچھ بتا کر پریشان کرنا مناسب نہ سمجھا کیونکہ ہم دونوں میں سوائے دوستی،  بے تکلفانہ دوستی کے کسی قسم کا اور کوئی تعلق تو تھاہی نہیں اور میں تمھیں ناراض کر کے کھونا نہیں چاہتی تھی لیکن،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس شام جب میں تمھارے ہاں آئی تھی تو بات ہی کچھ اور تھی۔ اس سے کوئی ڈیڑھ ماہ پہلے میری ماں پاکستان چلی گئی تھی اور میرے باپ نے بھی پاکستان جانے کا پکّا ارادہ کر رکھا تھا۔ وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر جانا اچھا نہیں سمجھتا تھا اور اپنے ساتھ لے جانے پر بضد تھا۔ وطن دکھانے کے لئے،  رشتہ داروں سے ملانے کے لئے۔ میری پاکستانی سہیلیوں کا کہنا تھا کہ میرا باپ دراصل مجھے میری شادی کے لئے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ میں اس بات کو ماننے پر تیار نہ تھی۔ ‘‘ فریڈرک اس کی باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا اور ساتھ ساتھ سینڈوچ کھاتا اور وائین کی چسکیاں بھی لے رہا تھا۔ آسیہ نے بھی ذرا رک کر اپنے سینڈوچ کا ایک لقمہ لیا،  وائین کی ایک چسکی لگائی اور اپنے بات جاری رکھی۔

          ’’میرا باپ اگرچہ بہت ہی سخت قسم کا بڑا مذہبی آدمی تھا لیکن،  میرے بارے میں اتنا بڑا فیصلہ وہ یوں مجھ سے پوچھے بغیر نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا مجھے پورا یقین تھا اور یہی میری بد قسمتی تھی۔ ‘‘ آسیہ نے وائین کا ایک گھونٹ لیا اور پھر بولی۔

          ’’اُس شام دراصل میں تمھیں سب کچھ بتانا چاہتی تھی کہ میرا باپ مجھے اپنے ساتھ پاکستان لے جا رہا ہے۔ نجانے میں یہ بات تمھیں کیوں نہ بتا سکی۔ خود مجھے ابھی تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔  شاید مجھ پر کسی کا خوف یا کوئی بوجھ تھا۔ میرے باپ کا اصرار تھا کہ اگر میں تم سے قطع تعلق کر لوں تو وہ مجھے اپنی پسند کی شادی کی اجازت دے دے گا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں نے جو کیا،  سو کیا۔ میرے باپ کو یقین کی حد تک اشک تھا کہ ہم دونوں کے درمیان ’’کچھ نہ کچھ‘‘ ضرور ہے۔ اب فریڈرک نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور اُسے آہستہ آہستہ مسل رہا تھا۔

          ’’مجھے ڈر تھا کہ میرے اچانک پاکستان جانے کا سن کر شاید تم ناراض ہو جاؤ گے اور یہی کہو گے کہ میں واقعی میں پاکستان شادی کے لئے جا رہی تھی۔ ‘‘ آسیہ بولتی جا رہی تھی اور اُس کی آواز میں اعتماد تھا۔

          ’’شاید یہی وجہ تھی۔ میں تمھیں کسی بھی صورت اداس نہیں دیکھنا چاہتی تھی اور ویسے بھی ہمارا پروگرام دو ہفتوں کے بعد واپس آ جانے کا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آسیہ نے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے آہ بھری اور پھر اُس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ فریڈرک نے آگے بڑھ کر اُسے اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا اور اُس کے بکھرے ہوئے لمبے سیاہ بالوں کو اپنے گالوں سے سہلانے لگا۔ اِن بالوں کی بھینی بھینی خوشبو اُسے کالج اور اُس کے بعد کے اُس وقت میں لے گئی جب وہ اور آسیہ،  دونوں ساحلِ سمندر پر گھنٹوں بیٹھے ایسے ہی ایک دوسرے کا لمس محسوس کرتے،  فضا میں آبی پرندوں کی آزادانہ پروازوں کو دیکھ دیکھ کر لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ آسیہ قدرے خاموش رہنے کے بعد اب پھر بولنے لگی تھی۔

          ’’فریڈرک! تمھیں کیا بتاؤں،  پاکستان جاتے ہی میرے با پ نے مجھے ایک طرح سے گھر میں بند کر دیا۔ میں گھر کی چار دیواری میں ادھر اُدھر گھوم تو سکتی تھی لیکن گھر سے باہر قدم رکھنے پر مکمل ممانعت تھی اور میرے باپ نے گھر کے چوکیدار کو خفیہ طور پر مجھ پر کڑی نگاہ رکھنے کا حکم دے رکھا تھا۔ میری ماں اُس کے روّیے سے اتنی خوش نہیں تھی،  لیکن تم شاید نہیں جانتے ہو کہ پاکستان میں ایک مرد کو اپنی بیوی پر کیسے کیسے خدائی حاکمانہ اختیارات حاصل ہیں۔ گھر میں میری شادی کی چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں اور اب تو مہمانوں کی عجیب آمد بھی شروع ہو گئی تھی۔ اور پھر میرے باپ اور ماں نے ایک شام مجھے اکیلے کمرے میں لے جا کر بتایا کہ وہ میری شادی گاؤں کے جاگیردار کے بیٹے سے کرنے والے ہیں اور اِس کے لئے اب مکمل تیاری کی جا چکی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ آسیہ کی آواز بھرا گئی اور وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بولی ’’میں تمھیں تفصیلات  کیسے بتاؤں،  میرے لاکھ احتجاج کے باوجود میری مرضی کے خلاف زبردستی سے میری شادی کر دی گئی،   اور  میرے نام نہاد خاوند کے گھر والوں نے مجھے اپنے گھر لے جا کر اپنی حویلی میں بند کر دیا۔ اس جاٹ دیہاتی گھرانے کی کسی عورت نے گھر سے باہر گلی میں کبھی قدم نہیں رکھا تھا۔ مجھ پر بھی باہر نکلنے کے سبھی دروازے بند کر دیئے گئے تھے۔ یہ جاٹ جاگیردار خانوادہ اپنی عورتوں کے بارے میں بڑا سخت گیر روّیہ رکھنے میں،  گاؤں بھر میں مشہور تھا،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فریڈرک!‘‘ آسیہ نے وائین کا ایک گھونٹ لیا اور پھر بولی۔

          ’’فریڈرک، میں تمھیں کیا کیا بتاؤں کہ میرے ساتھ کیا کیا ہوا!‘‘۔ ۔ ۔ ۔ اب اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔

          فریڈرک نے اپنی انگلیوں سے اُس کے بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے اب اُس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ ’’پھر اب تم یہاں تک واپس کیسے پہنچی ہو؟‘‘ فریڈرک نے حیرانگی سے پوچھا۔

          ’’میں نے اپنے نام نہاد خاوند کو بتا دیا تھا کہ میرے بدن کا تو وہ اپنے آپ کو ’’زبردستی کا مالک‘‘ سمجھ سکتا ہے لیکن وہ میرا دل کبھی بھی نہیں جیت سکے گا۔ اُسے خود بھی شک تھا کہ میں ڈنمارک میں ڈینش لڑکوں کے ساتھ رہی ہوں گی۔ میں نے اُس کے اِس شک کا فائدہ اُٹھایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ مجھ سے کچھ دور رہنے لگا تھا اور پھر،  ایک دن جب ہم اُس کے کسی رشتے دار کے گھر دعوت پر مدعو تھے تو وہاں میرا اور اُس کا جھگڑا ہو گیا۔ کسی نے مجھے طعنہ دیا کہ میں ڈنمارک میں لڑکوں کے ساتھ رہتی تھی اور بس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے وہاں خوب شور مچایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ہاں،  ہاں ! میں رہتی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں وہاں لڑکوں کے ساتھ رہتی تھی۔ ‘‘ میں شور مچا رہی تھی کہ میرے نام نہاد شوہر نے مجھے بھری محفل میں تھپڑ دے مارا اور واپس گھر لا کر ایک کمرے میں بند کر دیا اور پھر دوسرے روز میرے باپ کو بلوا کر اُسے ساری کہانی سنائی اور مجھے طلاق دینے کا فیصلہ سنا دیا اور بس،  پھر یہ سب کچھ آناً فاناً ہی ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس نے مجھے چھوڑ دیا۔ اور میرا باپ مجھے اپنے ساتھ گھر لے آیا اور پھر،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب،  دیکھ لو میں یہاں تمھارے پاس ہوں۔ ‘‘ آسیہ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اُس کی آواز میں ایک نرم سی شریر ہنسی کی آمیزش تھی۔

          فریڈرک نے اب اپنے دونوں بازو اُس کی کمر کے گرد ڈال کر اُسے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا تھا اور اب اُس کے گالوں پر بوسے دے رہا تھا۔ اُس نے اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا بوسہ دیا،  ایک بوسہ،۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ایک اور بوسہ اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بوسہ،  لیکن آسیہ کے ہونٹ تو جیسے سلے ہوئے تھے۔  فریڈرک نے اپنی زبان کی نوک کی دھار سے اس کے ہونٹوں کو کھولنے کی کوشش کی لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آسیہ نے اپنے آپ کو فریڈرک کے بازوؤں کے گھیرے سے آزاد کراتے ہوئے اپنے آنسو پونچھے۔ اب وہ اُٹھ کر کمرے کے ایک کونے میں جا کھڑی ہوئی تھی اُس کا منہ دیوار کی جانب تھا۔ فریڈرک بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کر آہستہ سے اُس کے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا۔

          آسیہ ابھی تک خاموش کھڑی تھی۔ الفاظ شائد اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے یا اب بولنا اُس کے لئے ممکن ہی نہیں رہا تھا۔ دیوار اُس کی آنکھوں کے سامنے تھی۔

          ’’کاش میں وہاں نہ گئی ہوتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کاش!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں وہاں نہ گئی ہوتی۔ ‘‘ آسیہ کی آواز کہیں گہری کھائیوں سے آتی سنائی دے رہی تھی۔ وہ بے حس و حرکت کھڑی دیوار پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ فریڈرک اب اُس کے لمبے سیاہ بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کر رہا تھا اور اُس کی سانسوں کا لمس آسیہ اپنی گردن پر محسوس کر رہی تھی۔ آسیہ نے اب گھوم کر اُس کے چہرے کو دیکھا۔ دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں اور آسیہ نے پھر اپنی آنکھیں بند سی کر لیں۔ فریڈرک اُس کے گالوں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے ہونٹوں سے خشک کر رہا تھا۔

          فلیٹ کی ایک کھلی کھڑکی سے بہار کی خوشگوار شام کی مہکتی ٹھنڈی ہوا اندر آ رہی تھی اور اب وہ دونوں بیڈروم میں ایک ساتھ بستر پر لیٹے ہوئے تھا آسیہ کروٹیں بدل رہی تھی اور فریڈرک کو اُس کے بدن کا لمس اور بالوں کی مہک بہت بھلی لگ رہی تھی۔ اُس نے بڑی آہستگی سے اُس کے کولہوں پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے کمبل اوپر کھینچ لیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اپنی آزادی کی یہ پہلی رات کیا سو کر ہی گزار دو گی؟‘‘ فریڈرک نے آسیہ کے کان میں سرگوشی کی۔

٭٭٭