کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اعتراف!

نصر ملک


’’اگر میرا مقدر یہی ہے تو یہی سہی!‘‘

          اس نے اپنے کمرے کے در و دیوار پر نگاہ دوڑاتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں سوچا۔ خدا،  مذہب و مسلک،  ایمان،  جزا و سزا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ان احساسات و خیالات سے جلد سے جلد دور ہو جانا چاہتا تھا جو اُسے اس بھیانک گھر میں جب وہ اکیلا ہوتا گھیر لیتے تھے۔ اس گھر کی دیواروں پر سجی پینٹنگز،  الماریوں میں بھری کتابیں،  ملکوں ملکوں سفر کے دوران اس کی جمع کی ہوئیں نادر اشیاء غرض سبھی کچھ،  ایسی حالت میں اس میں تنفر اور غصہ پیدا کرتی تھیں اور وہ خود کو کسی بوجھ تلے دبا محسوس کرتا تھا۔

          آج بھی وہ اسی صورتِ حال میں مبتلا تھا۔ وہ اپنے گھر کے اِس آسیب سے دُور،  بہت دُور چلا جانا چاہتا تھا،  لیکن کہاں؟  یہ اُسے خود بھی معلوم نہ تھا۔ ’’ہاں ! مجھے بڑے ریلوے اسٹیشن پر جانا چاہیے۔ ‘‘ اس نے سوچا۔ ’’ہو سکتا ہے وہ سبھی بھی وہاں ہوں۔ ‘‘ اُس کے ہونٹوں پر ایک خفیف سی مسکراہٹ آئی۔           ’’بیروزگاری الاؤنس یا پھر نقد سماجی امداد پر گزارہ کرنے والے دانشور،  سیاستدان،  دھرم پرچارک،  سبھی وہیں تو ہوں گے!‘‘ اس کے یہ سبھی جاننے والے وقت گزاری کے لئے،  دوپہر،  شام ہر وقت وہاں ٹہلتے رہتے اور، سستے کیفے ٹیئریوں میں بیٹھے وقت گزاری کرتے رہتے تھے۔ ’’اگر وہ وہاں نہ ہوئے تو  پھر؟‘‘ اسے خیال آیا۔ ‘‘ میں انہیں اُن کے دوسرے ٹھکانے پر جالوں گا،  آخر وہ اور کہاں جائیں گے؟ اپنی

 بقا کے لئے،  محبت کے لبادوں میں بس ایک دوسرے سے نفرت کرنے والے!‘‘ اُس نے اپنی مٹھی بھینچتے ہوئے دل ہی دل میں اُن کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا اور اپنا  بغچہ اُٹھا کر گھر سے باہر چل دیا۔

          ریل گاڑی میں بیٹھتے ہی اُس نے اپنے اردگرد کے مسافروں پر نگاہ ڈالی اور بے خیالی میں اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ایک بوڑھے ڈینش کو دیکھنے لگا۔ گاڑی نے ایک جھٹکا لیا،  پہیوں سے آوازیں نکلیں،  اس کے سامنے بیٹھے ہوئے ڈینش نے اپنے سینے پر صلیب کا نشان بنایا،  گاڑی رواں ہو چکی تھی۔ ’’اس سے پوچھنا تو چاہیے کہ ایسا کرنے سے اس کی مراد کیا ہے؟‘‘ اس نے ایک لمحے کے لئے سوچا ضرور،  لیکن ساتھ ہی اس کی نظروں کے سامنے پلیٹ فارم کا منظر آ گیا۔ پلیٹ فارم پر کھڑے لوگ ریل گاڑی میں بیٹھے اپنے عزیزوں کو ہاتھ ہلا کر رخصت کر رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ پیچھے بھاگے جا رہے ہوں۔ وہ ڈبے کے دوسرے مسافروں اور اپنے سامنے بیٹھے ہوئے بوڑھے سے بے خبر ہو چکا تھا اور اب کھڑکی سے باہر،  جاتی گرمیوں کی ہلکی دھوپ سے روشن ماحول کو دیکھ رہا تھا۔ ریل گاڑی کے ڈبے  پٹڑیوں کے جوڑوں پر ہمواری سے اچھلتے تو اسے یوں لگتا کہ باہر کا منظر بھی ہچکولے لے رہا ہے۔ ’’جد و جہد،  یکجہتی اور فتح!‘‘ پتھر کی دیوار پر لکھا مزدور تنظیم کا نعرہ آناً فاناً اس کی نظروں کے سامنے سے گزر گیا تھا۔ ڈبے کے ہچکولوں کے ساتھ تازہ ہوا کے جھونکوں میں سانس لیتے ہوئے وہ پھر سوچنے لگا تھا۔

          ’’یہ تو ہے! کسی ایک کی زندگی بھی دکھ درد سے پاک نہیں۔ تھوڑا یا بہت۔ زندگی میں ہر ایک کو کبھی نہ کبھی،  کچھ نہ کچھ تو دکھ،  اذیت اُٹھانی ہی پڑتی ہے۔ ‘‘ اس نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے بوڑھے ڈینش کو دیکھا جو اب اُونگھتا ہوا ہچکولے کھا رہا تھا۔ ’’کیا ہم ایسی لئے تخلیق کئے جاتے ہیں کہ دکھ جھیلیں،  کیا ہم نہیں جانتے کہ ہم سب ایسے ذرائع ڈھونڈتے ہیں جن سے دوسروں کو دکھایا جا سکے کہ ہم کتنے آسودہ ہیں،  کیا یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف نہیں ؟‘‘ اس کے ذہن میں سوال اُبھرا۔ بوڑھا ڈینش اب سنبھل چکا تھا اور اپنی نیم وا آنکھوں سے اُسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔ ’’جب سچائی سامنے آ جائے تو آدمی کیا کرے؟‘‘ اسے یوں لگا جیسے شاید بوڑھے ڈینش نے خود کلامی میں کچھ کہہ دیا تھا لیکن نہیں یہ تو وہ خود اپنے آپ سے مخاطب تھا۔ ’’ہاں،  ہاں ! جب سچائی سامنے آ جائے تو پھر آدمی کیا کرے؟‘‘ وہ زیر لب بڑبڑایا۔

          گاڑی آہستہ آہستہ چلتے ہوئے رک گئی تھی اور وہ بوڑھا ڈینش اپنا مختصر سا سامان لے کر ڈبّے سے باہر نکل گیا تھا۔ شاید اُس کا اسٹیشن آ گیا تھا۔ ڈبّے میں کچھ نئے مسافر سوار ہوئے اور ایک عورت اور مرد اُس کے سامنے والی سیٹوں پر آ کر بیٹھ گئے۔

                   ’’انسان کو عقل اسی لئے بخشی گئی ہے کہ وہ اُن چیزوں سے احتراز کرے جو اُسے پریشان کرتی ہیں۔ ‘‘ عورت نے مرد سے کہا۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے ہی کسی موضوع پر گفتگو کرتے آ رہے تھے۔ عورت اپنے کہے ہوئے فقرے سے مطمئن اور کافی خوش اور پر اعتماد دکھائی دے رہی تھی۔ جبکہ اس کا ساتھی مرد اپنے پائپ کو صاف کرتے ہوئے اپنی بڑی بڑی آنکھیں اُس کے چہرے پر جمائے ہوئے تھا۔

          عورت کے کہے ہوئے جملے نے شاید اُس کے سوالات کا جواب دے دیا تھا۔ ’’انسان کو اُن چیزوں سے احتراز کرنا چاہیے جو اُسے پریشان کرتی ہوں۔ ‘‘ اس نے اپنے دل ہی دل میں عورت کے جملے کو دہرایا اور اسے دیکھنے لگا۔ وہ بڑے آرام سے بیٹھی کوئی پرانی کتاب پڑھ رہی تھی۔  اس کا مرد ساتھی اب پائپ میں تمباکو بھر رہا تھا۔ اُس کے خیالات کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا تھا۔ گاڑی اپنی رفتار سے آگے بڑھتی اور کھڑکی سے دکھائی دینے والے مناظر کو بڑی تیزی سے پیچھے چھوڑتی جا رہی تھی۔

           ’’لیکن جب عقل عطا کی گئی ہے تو مطلب یہ ہوا کہ پریشان کرنے والی چیزوں سے احتراز کیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٹھیک! لیکن کیسے؟ کیا یہ سب کچھ جو ہے،  یہ مذہب و مسلک،  یہ ایمان، جزا و سزا اور خدا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا! کیا یہ سب کچھ غلط ہے؟ کیا یہ محض مفروضے ہیں ؟ کیا یہ سب کچھ اپنے آپ کو دھوکا دینے کے لئے ہیں ؟‘‘ اُس کی نگاہیں ابھی تک سامنے بیٹھی،  کتاب پڑھتی ہوئی عورت اور مرد پر تھیں جو عورت کے کاندھے سے سر کی ٹیک لگائے نیم وا آنکھوں سے کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اُس نے اپنا پائپ ہونٹوں میں دبا رکھا تھا۔

          ’’عام لوگوں میں اپنے مقدر کا علم و شعور ہوتا ہے۔ ‘‘ عورت اپنے کاندھے پر سے مرد کے سر کو ہٹاتے ہوئے بولی۔

          ’’ہاں،  ہوتا ہو گا،  لیکن اِس معاملے میں ذاتی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہو سکتی۔ ‘‘ مرد اپنا پائپ سنبھالتے ہوئے بولا۔

          ’’ذاتی رائے کی اہمیت کیوں نہیں ہو سکتی؟‘‘ عورت نے کتاب اپنے تھیلے میں رکھ دی تھی اور اس کے ہونٹوں پر ایک تسکین آمیز مسکراہٹ تھی۔

          ’’شاید تمھارے لئے ہو لیکن دوسروں کے لئے تو ایسا نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ علم و شعور،  عام لوگوں کے مقدر میں ! واہ،  کیسا خیال ہے تمھارا!‘‘ مرد اپنی گردن اونچی کرتے ہوئے بولا۔

          ’’کیوں نہیں !‘‘ عورت اب اس کے ساتھ شاید بحث کے موڈ میں تھی۔

          ’’مجھے نہیں معلوم کیوں،  لیکن اپنے قد کی اونچائی کی وجہ سے کوئی کچھ دور تک دیکھ تو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ اس دوری میں اُس قریبی کو بھی دیکھ سکے جو محض خاص خاص ہی پا سکتے ہیں۔ ‘‘ مرد اب اپنا پائپ سلگا رہا تھا۔ وہ اِن دونوں کی باتوں پر کان لگائے بظاہر یوں بیٹھا تھا کہ جیسے اُس کی بلا سے،  کوئی کیا کہہ رہا ہے۔ اُس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

          ’’میرا اپنا نظریہ تو یہ ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی برائیوں اور خرابیوں کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لیتا بلکہ اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسروں کی اچھائیاں اپنے ہی پلڑے میں ڈالے۔ میں تو اپنے آپ کو عام لوگوں میں سے ایک سمجھتی ہوں اور میں نے دیکھا ہے،  بلکہ میرا تجربہ ہے کہ عام لوگوں کی سوچ اُن کے افکار و مشاہدات ہی دراصل خاص لوگوں کا موضوع بنے رہتے ہیں۔ یہ خاص لوگ،  سیاستدان ہوں،  مذہبی منا دیا پھر کوئی اور،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ عورت بڑے تحمل اور اعتماد کے ساتھ بول رہی تھی۔ ’’تم نے کبھی اُن عام لوگوں کو وہ،  جنہیں تم خاص لوگ،  بے دین بھکاری کہہ کر پکارتے ہو،  انہیں کبھی دیکھا ہے وہ ایک دوسرے کا دکھ درد سنتے اور دردمندی کے ساتھ آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ خاص لوگ راتوں کو ڈرائنگ رومز میں جب اپنے اپنے نظریات کی صداقت ثابت کرنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے اپنے ہی اصولوں کی دھجیاں اُڑا رہے ہوتے ہیں تب یہ عام لوگ شہر کے گندے نالے کے کنارے،  ہیجڑوں کے پارک اور بڑے ریلوے اسٹیشن کی بیرونی سیڑھیوں پر اپنی اپنی بیٹھک لگائے آپسی درد ہی تو بانٹتے،  اپنے دکھوں کا اجتماعی حل ہی تو  ڈھونڈتے ہیں۔ کیا تم نے کبھی خاص لوگوں میں ایسی اجتماعیت دیکھی ہے؟ میرے نزدیک خاص لوگوں میں بظاہر کتنی ہی اجتماعیت ہو وہ اپنی اپنی نام نہاد انفرادیت سے کبھی بھی دست بردار نہیں ہوتے کیونکہ اس سے اُن کے خاص ہونے کی خاصیت کے وجود کی نفی ہی نہیں بلکہ اُن کی اپنی شخصی سیاسی،  دینی و سماجی موت بھی ہو جاتی ہے،  کیوں ہے نا؟‘‘ عورت نے معنی خیز انداز میں مرد کی جانب یوں دیکھا جیسے سننا چاہتی ہو کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ گاڑی کی رفتار سست ہو گئی تھی۔ شاید کوئی اسٹیشن آ رہا تھا تبھی تو وہ دونوں اُٹھنے کی تیاری کر رہے تھے۔

          ’’مات کھا گیا سالا،  بولا نہیں !،  ذاتی رائے کو تو سمجھتا ہی کچھ نہیں۔ ‘‘ اُس نے مرد کی جانب دیکھا جو اب کھڑا ہو چکا تھا۔ اُس کے خیال میں وہ یونیورسٹی کا کوئی پروفیسر یا کوئی محقق قسم کا اپنے آپ میں رہنے  والا لگتا تھا۔ ابھی وہ آگے کچھ سوچنے ہی والا تھا کہ وہ عورت بھی اُٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی۔ اس نے پہلی بار اُسے غور سے دیکھا۔ ‘‘ یقیناً یہ بھی کوئی ناقد یا محقق ہو گی۔ ‘‘ اُس کی سوچ کا دھارا پھر بہہ نکلا۔

          گاڑی ایک جھٹکے کے ساتھ رک گئی تھی اور کچھ دوسرے مسافروں کے ساتھ وہ دونوں،  عورت اور مرد بھی ڈبے سے باہر نکل گئے تھے۔ باہر پلیٹ فارم پر وہی روایتی ریل پیل تھی۔ مرد عورتیں، بچے بوڑھے،  کوئی گاڑی میں سوار ہو رہا تھا تو کوئی اتر رہا تھا اور کچھ وہ بھی جو اپنے کسی عزیز کو لینے یا رخصت کرنے آئے ہوئے تھے۔ ابھی وہ اسی بھیڑ میں لوگوں کو ایک دوسرے سے ٹکراتے،  سنبھلتے،  آگے پیچھے بھاگتے دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ گاڑی پھر چل پڑی۔ اس والے ڈبے میں بھی چار پانچ مسافر سوار ہوئے تھے اور وہ ادھر اُدھر کی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔

           اب اُس کے سامنے والی دونوں نشستیں خالی پڑی تھیں۔ ’’میں بھی تو ایک آدمی ہی ہوں،  علم و شعور مجھے بھی تو حاصل ہے،  کیا اس کے لئے مجھے کسی ’’خاص‘‘ سے تصدیق کی ضرورت ہے!‘‘ اس نے لمحہ بھر کے لئے آنکھیں کیا بند کیں وہ پھر سوچوں کے گرداب میں پھنس گیا۔ ’’لیکن وہ جو بڑے ریلوے اسٹیشن پر منڈلی جمائے بیٹھے رہتے ہیں وہ سالے بھی تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔، ،  ابھی وہ یہیں تک سوچ پایا تھا کہ اُسے کسی کے قہقہے لگانے کی آواز سنائی دی۔ اُس نے نیم وا آنکھوں سے دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکی اور اُسی کی عمر کا ایک لڑکا اس کے سامنے والی نشستوں پر بیٹھے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے تھے۔ انہوں نے کالج امتحان پاس کرنے پر ملنے والی خصوصی امتیازی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں۔ معلوم ہوتا تھا جیسے وہ امتحان پاس کر لینے والے طلباء کی کسی تقریب میں شمولیت کے لئے جا رہے ہوں یا شمولیت کرنے کے بعد واپس آ رہے ہوں۔ ’’محبت سب کے لئے،  عداوت کسی ایک سے بھی نہیں۔ ‘‘ اُس کی نگاہ لڑکی کے بلاؤز کے کالر پر لگے ہوئے ایک بیج پر پڑی۔ لڑکی نے بھی شاید محسوس کر لیا تھا کہ وہ اس کے بیج کو دیکھ رہا ہے ’’محبت سب کیلئے،  عداوت کسی ایک سے بھی نہیں۔ ‘‘ لڑکی نے اُس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔ اس کا سرخ گلابی  چہرہ اسکی مے نوشی کی غمازی کر رہا تھا۔ ’’کیا تم اس سے متفق ہو؟‘‘ لڑکی نے بیج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہوا میں سوال چھوڑا۔ گاڑی اپنی رفتار پکڑ چکی تھی۔

           ’’کیا آپ مجھ سے پوچھ رہی ہیں ؟‘‘ وہ اس کے سوال کے لئے تیار تو نہ تھا لیکن اب سنبھل چکا تھا۔

          ’’تو اور کیا!‘‘ لڑکی قدرے بلند آواز میں یوں بولی گویا اُسے جانتی ہو۔

          ’’میں کسی سے بھی عداوت نہیں رکھتا۔ ‘‘ اُس نے خفیف سی مسکراہٹ سے جواب دیا۔

          ’’لیکن اپنی محبت کے بارے میں تو تم نے کچھ کہا نہیں۔ ‘‘ لڑکی شائد بے تکلفی پر اتر آئی تھی۔  

          ’’محبت! محبت،  میں اپنی طرف سے تو ہر ایک کے لئے محبت ہی رکھتا ہوں۔ ‘‘  وہ بولا۔

          ’’کسی سے عداوت نہ رکھنے بارے میں تو تمہیں اپنے آپ پر پورا اعتماد و یقین ہے لیکن تمھاری محبت سب کے لئے ہو،  اس بارے میں یقیناً تم غیر یقینی میں مبتلا ہو!،  ہے نا ایسا ہی؟‘‘

          ’’نہیں،  غیر یقینی میں تو مبتلا نہیں ہوں لیکن،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ آگے ابھی کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ لڑکی نے اس کی بات کاٹ دی۔ ’’لیکن کیا؟اگر تم کسی سے نفرت و عناد نہیں رکھتے ہو تو پھر تمہیں ہر کسی سے پیار و الفت،  محبت میں کیا عار یا مشکل ہو سکتی ہے؟‘‘ وہ بولتی جا رہی تھی۔

           ’’میرے خیال میں تو تمھارا کوئی،  معاف کرنا، پیچ ڈھیلا لگتا ہے،  تم دو قابل قبول اور قابل عمل ’’عملیات‘‘ میں یقین تو رکھتے ہو لیکن عمل اِن میں سے صرف ایک پر کرتے ہو اور دوسرے کو مسترد بھی نہیں کرتے۔ جب تمہیں اپنے آپ پر یقین ہے کہ تم کسی ایک سے بھی نفرت نہیں کرتے تو تمہیں اس بارے میں غیر یقینی کیوں کہ تم اِن دونوں عملیات میں سے ایک پر عمل کر کے،  دوسرے کو پورا کرنے سے بچ سکتے ہو اور اگر تم ان میں سے ایک کے بارے میں شک رکھتے ہو تو دوسرے پر کیسے یقین رکھ سکتے ہو؟ سوچو تو!‘‘

          وہ شاید آگے بھی کچھ کہنا چاہتی تھی کی اس کا ساتھ نوجوان جھولتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا تھا اور اسے بھی اُٹھنے کو کہہ رہا تھا۔ شاید اُن کا اسٹیشن آنے والا تھا۔ وہ اب گومگو کی صورتِ حال میں،  آنکھیں اُٹھائے اسے دیکھ رہا تھا۔ لڑکی اُٹھی۔ اُس نے اپنے سر پر ٹوپی کو ٹھیک طرح سے رکھا اور اچانک جھک کر اس کے گالوں کو تھپتھپایا اور ڈبے سے باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھ گئی۔

           یہ سب کچھ اتنی جلدی،  اچانک اور غیر متوقع طور پر ہوا کہ وہ کچھ سوچ بھی نہیں پایا تھا۔  لڑکی کا ساتھی اُس کا شانہ تھپتھپا رہا تھا ’’سنو! محبت کرنا سیکھو نفرت سے تم دور رہو گے!‘‘ گاڑی کے پہیوں نے بڑے زور سے پٹری سے رگڑ کھائی اور گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی۔ اس کی نظریں اُن دونوں کو ایک دوسرے کی کمر میں بانہیں ڈالے ڈبے سے باہر نکلتے،  بھیڑ میں دور تک اس وقت تک اُن کا تعاقب کرتی رہیں جب تک وہ غائب نہیں ہو گئے تھے۔ ’’

          عجیب بات کر گئے ہیں دونوں۔ ‘‘ اس نے پہلو بدلتے ہوئے سوچا۔ ڈبے میں نئے مسافر سوار ہو چکے تھے اور خالی نشستوں کے لئے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ اس کے سامنے والی دونوں نشستوں پر دو معصوم سے بچے کود کر اچھلنے لگے تھے۔ ایک بڑھیا ہاتھوں میں پھولوں سے بھری ایک ٹوکری لئے کھڑی ان بچوں کو نرمی سے ڈانٹ رہی تھی۔ ‘‘بندر مت بنو،  دوسروں کے آرام کا خیال کرو،  ٹھیک سے اپنی اپنی جگہ پر بیٹھو!‘‘ وہ ان بچوں کی نانی یا دادی ماں لگتی تھی۔

          ’’آیئے آپ یہاں بیٹھ جائیں۔ ‘‘ بڑھیا کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے اپنا بغچہ سنبھالا اور اپنی نشست سے اُٹھ کھڑا ہوا۔  ’’آپ کا بہت بہت شکریہ،  ہمیں اگلے اسٹیشن پر اترنا ہے،  وہ بڑے اسٹیشن پر۔ ‘‘ بڑھیا بولی۔ ’’معاف کرنا،  اگر بچوں کے غل مچانے سے آپ کو کوفت ہوئی ہو۔ ‘‘ بڑھیا سیٹ پر بیٹھ چکی تھی۔ ‘‘ یہ لو میری طرف سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک پھول،  تمھارے لئے۔ ‘‘ بڑھیا نے اپنی ٹوکری سے ایک پھول اُٹھا کر اُس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔ اس نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پھول کو پکڑا ہی تھا کہ بڑھیا پھر بولی ’’جانتے ہو ان پھولوں کا نام کیا ہے؟‘‘ ابھی وہ کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ بڑھیا نے اپنے سوال کا خود ہی جواب بھی دے دیا۔ ’’انہیں ’’بَرانے کِیالیہِدز بَلامسٹہ ‘‘ کہتے ہیں یعنی وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ،  محبت کی آگ کے پھول کہتے ہیں۔ ‘‘ وہ ہاتھ میں پھول پکڑے،  کھڑا دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہچکولے کھا رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’یعنی  گلِ آتشیں محبت‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس نے اپنی یادداشت کی اردو لغت میں اس ڈینش پھول کا نام تلاش کرنے کی کوشش کی۔ گاڑی چل پڑی تھی۔

          ’’آپ کو جانا کہاں ہے؟‘‘ بڑھیا نے ایک اور پھول اُسے تھما دیا تھا۔ ’’یہی بڑے ریلوے اسٹیشن تک۔ وہ قدرے جھکتے ہوئے بولا۔ ایک پھول اس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گیا تھا۔ بڑھیا نے بڑی پھرتی سے اُسے اٹھایا اور اس کی جانب بڑھا دیا۔ ’’محبت کے پھولوں کو گرایا نہیں کرتے۔ ‘‘ وہ بولی۔ اسے اس کے لہجے میں ایک عجیب سی مٹھاس اور آنکھوں میں چمک سی دکھائی دی۔ ’’نہیں،  بالکل نہیں ! معاف کرنا وہ میں ذرا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ابھی وہ اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ ایک بچے نے اپنی سیٹ پر پھر سے اچھلنا شروع کر دیا تھا۔ ’’میں ڈبے کی چھت کو چھوؤں گا،  میں چھت کو چھوؤں گا۔ ‘‘ وہ شور مچا رہا تھا۔ دوسرا بچہ اس کی پتلون کھینچتے ہوئے اُسے نیچے بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ ان دونوں کو یوں الجھتے دیکھ کر محظوظ ہو رہا تھا۔ بڑھیا نے اِن دونوں بچوں کو بڑی شفقت سے سمجھاتے ہوئے ایک ایک چاکلیٹ تھما دیا تھا اور وہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ کر اپنا اپنا چاکلیٹ کھانے لگے تھے۔

          وہ کچھ کہے بغیر ڈبے کے ہچکولے کھاتا ہوا وہاں سے ہٹ کر دروازے کے قریب آن کھڑا ہوا تھا۔ گاڑی فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔ اُس نے غیر ارادی طور پر ڈبے کے مسافروں پر نگاہ ڈالی۔ ایک دو بڈھے پنشنرز،  بیئر پی رہے تھے۔ اُدھر ایک کونے میں بیٹھی شوخ مزاج سی ایک نوجوان عورت اپنے ہونٹوں  پر سرخی لگانے میں مصروف تھی۔ ’’کوئی سیکریٹری ہو گی،  کتنی بن سنور رہی ہے۔ ‘‘ اُس نے سوچا اور پھر ساتھ ہی اُس کو پچھلے اسٹیشن پر اتر جانے والی لڑکی لڑکے کی بات یاد آ گئی۔ ’’محبت سب کے لئے،  عداوت کسی ایک سے بھی نہیں،  ہاں،  اُس لڑکی نے یہی کہا تھا اور اُس کے بیج پر بھی تو یہی لکھا ہوا تھا،  لیکن اس کا ساتھی لڑکا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تو کہہ رہا تھا ’’محبت کرنا سیکھو نفرت سے تم دور رہو گے۔ ‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ نوجوان دو یقینی عملیات میں سے صرف ایک کو پورا کر رہا تھا۔ یعنی محبت تو وہ ہر کسی سے کرتا تھا اور امیدوار تھا کہ نفرت اُس سے دور رہے گی،  واہ واہ،  فرار کی کیا راہ اختیار کر رکھی ہے اُس نے!،  اور وہ لڑکی،  عجیب شے تھی وہ بھی!‘‘ محبت ہر کسی سے اور نفرت کسی ایک سے بھی نہیں،  واہ رے واہ! دونوں ’’عملیات‘‘ پر یکساں عمل!! کمال ہے بھئی۔ ‘‘ بے اختیارانہ طور پر اس کا ایک ہاتھ اُس کے اپنے ہی گالوں کو چھو رہا تھا۔ اسے ایک عجیب قسم کی بہت ہلکی سی خوشبو آ رہی تھی۔ ‘‘دھت سالی کی!‘‘ ہر ایک کے لئے محبت اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ استعمال کرے ہے ‘‘پوآیزن‘‘ جیسی خوشبو!‘‘ یہ خوشبو اُسے اپنے ہی تو گالوں سے آ رہی تھی اور یقیناً یہ اُس لڑکی کے ہاتھوں سے ہی اُس کے گالوں پر لگ گئی تھی۔ ’’کتنے عام لوگ بھی کتنی اہم بات کر جاتے ہیں اور کیا لطیف ذوق رکھتے ہیں ’’عام لوگ!‘‘ وہ چونکا،  اسے عورت کی کہی ہوئی بات یاد آ گئی تھی۔ ’’عام لوگوں میں بھی علم و شعور ہوتا ہے،  خاص لوگ،  عام لوگوں کی سوچ و افکار پر ہی تو اپنی دانشمندی،  اپنی سیاست استوار کرتے ہیں۔ یہ سیاستدان،  یہ دینی مناد،  عام لوگوں کے بغیر ہیں کیا؟ کچھ بھی تو نہیں ! اگر ہم عام لوگ ہی ان کی پیروی نہ کریں اور اپنی رائے اپنی سوچ و فکر کو اپنا لیں تو ہم خاص لوگ ہی گنے جائیں گے۔ گنے کیا جائیں گے،  ہم عام لوگ ہی تو حقیقتاً وہ خاص ہوتے ہیں جو خاص الخاص ہیں۔ بڑھیا کے دیئے ہوئے دو پھولوں میں سے ایک اُس نے اپنے کوٹ کے کالر پر اٹکا لیا تھا۔ اُس کی نگاہیں ابھی تک اس سیکریٹری نما نوجوان عورت پر تھیں جو ایک چھوٹا سا آئینہ ہاتھ میں لئے اپنا میک اپ ٹھیک کرنے میں محو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تھی ’’پسِ آئینہ کوئی اور ہے‘‘ اسے کسی اردو غزل کا مصرعہ یاد آ رہا تھا۔ ’’اپنے آپ کو کسی کے لئے سنوارنا،  تیار کرنا!‘‘ اس نے سوچا۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ’’ہمارا اپنا آپ ہی تو ہمارا نہیں،  ہم ہر وقت جو بھی کچھ کرتے ہیں کسی اور ہی کے لئے کرتے ہیں۔ ‘‘ اس کی سوچوں میں تیزی آ گئی تھی۔ ’’ہم تو خدا کو بھی محض دوسروں کی خوشنودی کے لئے مانتے اور مسجدوں میں ٹکریں مارتے ہیں،  ایسا نہ کریں تو بے دین و منکر کہلوائیں،  سزا سے بچنے اور جزا کے حصول کے لئے مفروضوں پر ایمان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنے دل ہی دل سے اُٹھتی ہوئی اپنی عقلی تحریک کو خود ہی کچل دینا،  اپنے عقل و شعور کی رائے کو پہلے دوسروں کے سامنے منظوری کے لئے پیش کرنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا خود اپنے آپ سے کوئی تعلق نہ ہونے کی دلیلیں ہی تو ہیں !۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوں نہ کرنا اس لئے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یوں دل و دماغ اور عقل و شعور سے اُٹھی ہوئی کسی تحریک کو خود ہی دبا دینا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارے اپنے وجود کی نفی ہی تو ہے!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم کیا ہیں ؟،  میں خود بھی تو ایسا ہی ہوں،  اپنی ہی سوچ پر عمل کر سکنے یا نہ کر سکنے بارے فیصلہ نہ کر پانے والا!‘‘ وہ قدرے اداس سا ہو گیا تھا۔ گاڑی کی رفتار اب آہستہ ہونے لگی تھی۔  بڑا اسٹیشن قریب آ رہا تھا۔         

          وہ بڑھیا اور دونوں بچے بھی اپنی اپنی جگہ سے اُٹھ چکے تھے۔ وہ نوجوان عورت بھی اب اپنا ہینڈ بیگ بند کر رہی تھی۔ بڈھے پنشنرز اپنی بیئر کی خالی بوتلوں کو ڈسٹبن میں ڈال رہے تھے۔ پٹریوں پر ریل کے پہیوں کے زور سے گھسنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ بڑھیا دونوں بچوں کو سنبھالتی ہوئی بالکل اُس کے قریب آ چکی تھی۔ ’’تمھارے کالر پر یہ سرخ پھول خوب سجا ہے۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’آج موسم بھی کتنا اچھا اور خوشگوار ہے!‘‘

          اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے ہاتھ میں تھاما ہوا دوسرا پھول بڑھیا کی ٹوکری میں رکھ دیا تھا۔ ’’اب یہ میری طرف سے آپ تینوں کے لئے،  محبت کا ایک پھول۔ ‘‘ وہ بولا اور بچوں کے گالوں کو تھپتھپانے لگا۔ گاڑی ایک معمولی سے جھٹکے کے ساتھ رک گئی تھی۔ بڑا اسٹیشن آ گیا تھا۔ گاڑی کے آٹو میٹک دروازے خودبخود کھل گئے تھے۔

          ڈبے سے باہر نکل کر،  پلیٹ فارم پر دوسرے مسافروں کی بھیڑ میں وہ قہوہ خانوں،  چھوٹی چھوٹی دکانوں اور ریسٹورانوں والے حصے کی جانب بڑھ رہا تھا،  لیکن کہاں ؟ وہ شاید بھول گیا تھا کہ وہ گھر سے بڑے اسٹیشن تک کیوں آیا تھا۔ منہ اُٹھائے ابھی وہ اِدھر اُدھر گھوم ہی رہا تھا کہ اُدھر تھوڑی دور کونے میں اس کی نظر ڈی ایس بی کیفے کے باہر کرسیوں پر پڑی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آہا،  وہ اچھل سا پڑا،  جیسے یکدم اُسے کچھ یاد آ گیا ہو۔  ’’سالے کیسے نشست جمائے بیٹھے ہیں۔ ‘‘ اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔ وہ جن سے ملنے کا سوچ کر گھر سے نکلا تھا وہ اُدھر کرسیوں پر بیٹھے آتے جاتے مسافروں کو دیکھ رہے تھے۔

          ’’او یار،  تم زندہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صحیح سلامت!،  شکر ہے خدا کا تم آج اِدھر تو آئے ہو۔ ‘‘  اسے اپنے پیچھے سے ایک آواز  سنائی دینے کے ساتھ ہی اپنے کاندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔ اُس نے پلٹ کر دیکھا۔

          ’’ملّا کھرپی! ارے تم!!‘‘ بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا۔       

          ’’او منکر! تم اِدھر کہاں ؟‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو تب سے جانتے تھے جب کوئی بیس پچیس سال پہلے ڈنمارک اکٹھے آئے تھے۔ یہ القابات بھی انہوں نے خود ہی ایک دوسرے کو دے رکھے تھے۔

          وہ کوئی جواب دیئے بغیر ابھی تک ملّا کھرپی کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی گھنی سیاہ داڑھی جس میں اب یہاں وہاں سفیدی آنے لگی تھی۔ سر پر وہی سبز رنگی بے ڈھنگی سی پگڑی،  سفید شلوار کے پائنچے،  ٹخنوں سے پنڈلیوں تک اوپر اُٹھے ہوئے،  نسواری رنگ کا لمبا کرتا اور گلے میں کلمہ طیبّہ والا سبز رنگ کا پٹکا،  چہرے پر وہی مسکراہٹ،  آنکھوں میں سرمے کی چمک،  وہ ملّا کا جائزہ لے رہا تھا۔

          ’’ربّا خیر! آج تو بڑے چمکے ہوئے ہو،  یہ کالر میں پھول، ------- کسی کے شکار کا ارادہ ہے یاکسی نے یہاں وقت دے رکھا ہے۔ ‘‘ ملّا ایک ہی سانس میں سوال کئے جا رہا تھا۔

          ’’نہیں یار میں تم لوگوں سے ہی ملنے آیا ہوں۔ ‘‘ وہ کھسیانی سی ہنسی کے ساتھ بولا۔ وہ ابھی تک ملّا کے سراپے پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ سینکڑوں کی بھیڑ میں وہ کتنا منفرد نظر آ رہا تھا۔ ’’مسخرہ!‘‘ اُس کے منہ سے نکلا۔

          ’’تم نے مجھے کچھ کہا؟‘‘ ملّا اپنا دایاں کان کھجاتے ہوئے بولا۔ ’’آؤ یار تمہیں اُن سے ملواؤں،  کتنے ہی دنوں سے وہ تمہیں یاد کرتے ہیں۔ ‘‘ ملّا اُس کا ہاتھ کھینچتے ہوئے بولا۔

          ’’ملّا یار تم ابھی تک وہی کے وہی ہو،  بدلے بالکل نہیں ہو۔ ‘‘ وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا بولا۔

          ’’چھوڑ یار!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب تو ایک ڈھونگ ہے۔ بدلنا کیا اور نہ بدلنا کیا،  اندر کی بات تو تم بھی جانتے ہو،  اب دیکھو نا،  مجھے اس طرح رنگ رنگیلا دیکھ کر ہر کوئی میری جانب متوجہ ہوتا ہے،  مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے،  تجسس میں رہتا ہے کہ میں کون ہوں،  کہاں سے آیا ہوں،  میری نسل میرا دین کیا ہے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یار یہ ان مقامی لوگوں کا میرے متعلق یہ تجسس،  مجھے اپنا آپ یاد دلاتا رہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اپنے آپ کو اپنے اندر موجود پاتا ہوں،  باہر دیکھتا ہوں،  خوش ہوتا ہوں،  اپنے آپ سے،  دوسروں سے،  رب کی مخلوق سے۔ ‘‘ ملّا بولے جا رہا تھا۔ ’’یار خالق کے ہمشکلوں سے،  وہ تم نے سنا نہیں ہے خالق نے ہم سب کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے،  او منکر! رب رسول تو اپنے دل میں ہے۔ دل نے مان لیا،  مان لیا،  نہ مانا چھوڑ دیا۔ عقل بڑی کہ بھینس! فیصلہ اپنے ہاتھ میں ہے،۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ہے کہ نہیں ؟ سوچوں میں نہ پڑا کر!‘‘ ملّا بولے ہی جا رہا تھا۔

          ’’یار ہر ایک کو اپنے ہی ناپ کا جوتا آرام دیتا ہے۔ مختلف ناپ کے جوتے پہننے والوں کے پاؤں تو ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں نا!،  انگلیاں،  تلوے اور ایڑھیاں یہ سب کچھ ایک ہی طرح کے ’’ماس‘‘ کے ہوتے ہیں نا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یار تو موٹی بات سمجھتا کیوں نہیں !! اپنے دل سے پوچھا کر،  منکر یار !یہ سرکس میں تنے ہوئے رسے پر چلنے کی بازی گری چھوڑ،  اپنا ہو جا،  اپنا! سیدھی سڑک پر آ جا تجھے اپنا توازن برقرار رکھنے کے لئے بانسوں کے سہاروں کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ منکر یار! رب کے بندوں سے پیار رب ہی سے تو محبت ہے۔ یار تو ان مولویوں کی نہ سنا کر،  یہ تو اللہ رسول کے ساتھ اپنے تعلق کو ایسی بے شرمی سے بیان کرتے ہیں جیسے نعوذ باللہ،  وہ ہر ویک اینڈ کو اُن کے ہاں کھانا کھاتے ہوں۔ ‘‘ ملّا کی اس بات پر وہ اپنی ہنسی ضبط نہ کر سکا۔

          ’’یار کھرپی! تُو تو آج کل بہت بدل گیا ہے!‘‘ وہ بولا۔

          ’’او گرو! تم آج اِدھر کدھر!‘‘ ان میں سے ایک نے شاید ملّا اور اسے اپنی جانب آتے دیکھ لیا تھا اور اب ان کو آواز دے رہا تھا۔ جونہی وہ اُن کے قریب پہنچے اُن سب نے کھڑے ہو کر اُس سے مصافحہ کیا۔ حال احوال پوچھا۔ اب وہ سبھی پھر سے کرسیوں پر براجمان ہو گئے تھے۔ ملّا اور وہ بھی ایک ایک کرسی گھسیٹ کر اپنی اپنی جگہ بنا چکے تھے۔

          ’’سناؤ یار کسی راہ پر آئے کہ ابھی تک بغچے میں فلسفہ دبائے،  دوائے دل ہی ڈھونڈتے پھرتے ہو؟‘‘ اس کے پاس بیٹھے ہوئے رشید نے امجد کو کہنی ماری۔

          ’’دیکھتے نہیں ہو جناب! بابو آج بھی کالر میں پھول ٹکائے ہوئے ہے۔ ‘‘ امجد بولا۔

          ’’نہیں یار یہ پھول تو گاڑی میں ایک بڑھیا نے یوں ہی دے دیا تھا۔ میں نے لگا لیا۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’تم لوگ کلب وغیرہ نہیں جاتے کیا۔ ہفتے کی رات کیا کرتے ہو؟‘‘

          ’’چھوڑ باؤ! نعیم جو اب تک خاموش بیٹھا،  اسے دیکھ رہا تھا،  بولا۔ ’’باؤ ہماری ہفتے کی رات چھوڑو تم بتاؤ تمھارا اتوار کی صبح کا کیا پروگرام ہوتا ہے۔ کیا اب بھی چرچ جاتے ہو تم،  انسانیت ملی کہ نہیں ؟ تم بہت تلاش کیا کرتے تھے اسے!‘‘

          ‘‘ میں کہاں آ گیا ہوں !‘‘ اس نے لحظہ بھر کے لئے سوچا۔ ’’یہ سب مجھے اس طرح اجنبی سی آنکھوں سے کیوں دیکھ رہے ہیں،  وہ اِن کی بیئر کی بوتلیں،  وہسکی کے گلاس اور ایک دوسرے کو دکھاتے رہنے والی لڑکیوں کی تصویریں سب کچھ کدھر گئیں ؟‘‘ اُس نے تھوڑا غور سے دیکھا تو اُن میں سے کوئی چائے پی رہا تھا تو کوئی کافی اور ایک دو کولڈ ڈرنک۔

          ‘‘کھرپی یار! یہ معاملہ کیا ہے؟ ان سب کو بھی صوفی بنا لیا تم نے!‘‘ وہ بولا۔

          ’’یہ داتا کا کرم ہے باؤجی! یہ سب من موجی ہیں،  اپنا اپنا کام کرتے ہیں،  جی میں آتی ہے تو جمعہ کے روز مسجد چلے جاتے ہیں۔ کلب ولب بھی ہو آتے ہیں۔ باؤ! بات وہی ہے،  جو میں تم سے کہہ چکا ہوں،  کیوں یار جی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ملّا نے امجد کی جانب دیکھا۔ ’’بات ہوتی ہے من کے اندر کی،  من مان گیا تو مسجد کیا مندر کیا اور یہ چرچ،  وہاں تو خدا اور حوروں کا جلوہ ایک ساتھ دکھائی دیتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ مکے نہ مدینے،  نہ متھرا نہ کاشی کی یاترا،  وہیں پادری کو سو کرونر دیئے اور پچھلے گناہوں کی بخشش موقعہ پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں امجد؟’’ملّا نے جیب سے تسبیح نکال لی تھی۔ اور اب اپنی ہی ترنگ میں تھا۔

          ’’او منکر!تم آج یہ تو بتاؤ کہ ہم لوگوں کو چھوڑ کر تم کو ملا کیا ہے،  دیکھ یار ہم آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے شروع میں تھے اور تم،  منکر! تم نہ اپنے نہ کسی اور کے،  چھوڑ یار میرے منہ سے بھی آج سچ سن ہی لیا ہے تم نے،  یار سچ بتا،  تیرے من کو سکون ہے! مسجد،  گرجے،  ہیپیوں اور ہیجڑوں کے ڈیرے،  ہم جنس پرستوں کی محفلیں،  یار تم کو کیا ملا ہے؟‘‘ ملّا سانس لئے بغیر جتنی تیزی سے بول رہا تھا اتنی ہی تیزی سے اس کے ہاتھوں میں تسبیح چل رہی تھی۔

          وہ اپنا بغچہ گود میں دبائے،  کچھ کہے بغیر یوں بیٹھا تھا جیسے کوئی مجرم کسی عدالت میں عینی گواہوں  کا سامنا کر رہا ہو۔ ’’ملّا اب چھوڑ بھی دے اسے،  تُو تو اس کے پیچھے ہی پڑ گیا ہے،  دیکھتا نہیں،  ریوڑ سے بچھڑی بھیڑ اپنے قبیلے میں واپس آ گئی ہے۔ ‘‘ کالو دور کی لاتے ہوئے بولا۔ گورا رنگ،  گھنے گھنگریالے بال،  بھوری آنکھیں،  ہر وقت مسکراتے رہنے والا،  کلیم! جانے اُس کا نام ’’کالو‘‘ کیسے پڑ گیا تھا،  اسے بڑی گہری نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔

          ’’بھئی بیئر پینی ہے تو ملّا سے کہو میں تو یہی پیش کر سکتا ہوں۔ ‘‘ رشید اس کے لئے بن پوچھے ہی کافی لے آیا تھا۔ ’’سناؤ بھئی کہاں ہوتے ہو؟ مدت ہی ہو گئی ہے محفل جمائے، تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ابھی وہ رشید کی بات کا کوئی جواب دینے ہی والا تھا کہ نہ جانے کہاں سے کالج کے لڑکے لڑکیوں کی ایک ٹولی ابابیلوں کے ایک جھنڈ کی طرح نمودار ہوئی۔ وہ سب بانہوں میں بانہیں ڈالے دیوانہ وار رقص کرتے،  گیت گاتے اب عین اُن کے سا منے آ گئے تھے۔

           ملّا کھرپی کو نجانے کیا سوجھی کہ اس نے اچانک خرگوش کی طرح ایک جست لگائی اور رقص کرتے ہوئے ٹولی میں جا ملا۔ وہ سب کھڑے ہوکر تماشا دیکھ رہے تھے۔ آنے جانے والے مسافر بھی کچھ دیر کے لئے رک گئے تھے۔ ملّا اپنا پٹکا ہوا میں لہراتا ہوا،  بھنگ کے بھر پور نشے میں دھت کسی درگاہ کے مجاور کی طرح رقص کر رہا تھا۔ ’’دم مست مست،  دم مست مست‘‘ ملّا اپنے گردو پیش سے بے خبر اب دو لڑکیوں کو دائیں بائیں بازوؤں میں لئے دائرے کی صورت میں چکر لے رہا تھا۔ ’’ڈم مسٹ،  ڈم مسٹ،  مسٹ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈم،  ڈم مست،  ڈم،  ڈم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب نوجوان ملّا کی تان میں تان ملا رہے تھے۔ ریلوے اسٹیشن کا یہ کونہ ایک عجیب تماشا گاہ بنا ہوا تھا۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بیٹھے لوگ بھی باہر آ گئے تھے۔ اور اب نوجوان لڑکے لڑکیاں سبھی مّلا کے گرد ہالہ بنائے،  تالیاں بجاتے،  رقص کر رہے تھے۔ ایک راہگیر نے اپنی گٹار سنبھال لی تھی اور مّلا کی آواز سے ساز ملا رہا تھا۔

           وہ اس ’’ھیپننگ‘‘ سے ابھی دل ہی دل میں لطف اندوز ہو رہا تھا اور اس کی نظریں ملّا پر جمی ہوئی تھیں کہ امجد اور کلیم اچانک اُسے دائیں اور بائیں بازو سے کھینچتے ہوئے ناچنے والوں کی ٹولی کے عین درمیان میں لے آئے۔ ’’آج ہو جائے! رشید بھی آوازہ لگاتے ہوئے اُن میں شامل ہو گیا تھا۔ اور اب وہ سب ملّا کی لے پر مست مست،  دم مست گا تے،  رقص کر رہے تھے۔ ایک آدھ لمحہ کے لئے وہ جھجکا لیکن پھر یکدم اچھل کر رقص میں شامل ہو گیا۔ ’’ملّا تو برحق ہے!‘‘ اس کی نظر ملّا سے ٹکرائی جو ایک ہاتھ میں تسبیح اور دوسرے میں پٹکا،  ہوا میں لہراتا،  دنیا و مافیہا سے بے خبر ’’نچ کے منا لَے یار نوں ‘‘ کے آوازے لگا رہا تھا۔ ’’مست مست،  دم مست۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نچ کے منا لَے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یار نُوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسٹ مسٹ،  ڈم ڈم،  نچ نچ،  نچ مست نچ،  نچ نچ-- اب تو حد ہو گئی تھی،  لڑکے لڑکیاں،  ایک دوسرے کی کمر میں بانہیں ڈالے،  ہالہ بنائے،  ایک دوسرے کے اوپر نیچے گرتے،  اٹھتے سنبھلتے،  ناچ رہے تھے۔ اب وہ بھی بازو ہوا میں بلند کئے اپنے ایک پاؤں کی ایڑی پر لٹو کی طرح گھوم رہا تھا۔ آج پہلی بار اُسے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کسی نے اُس کے پاؤں کی ساری بیڑیاں توڑ دی ہوں اور ہتھکڑیاں کھول دی ہوں۔ اُس کے دل پر دھرا رہنے والا ’’میں یوں کروں گا تو،۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ‘‘ کا بھاری پتھر سرک چکا تھا اور وہ دم مست مست کی لے پر رقص میں محو یہ بھی محسوس نہ کر سکا کہ ملّا سمیت،  لڑکے لڑکیاں سب ناچنا بند کر کے،  اب اُس کے گرد دائرہ بنائے کھڑے ردھم سے تالیاں بجا رہے تھے اور وہ اکیلا  ہی رقص کر رہا تھا۔ ہجوم میں راہ بناتی،  آگے بڑھتی ہوئی ایک بڑھیا،  بازو میں لٹکتی ہوئی پھولوں کی ٹوکری سے اُس پر پھول نچھاور کر رہی تھی۔ اس کے دائیں بائیں شریر سے دو بچے مسکرا رہے تھے۔ اب ملّا نے آگے بڑھ کر اُسے اپنے بازوؤں میں لے لیا تھا۔ ہجوم آہستہ آہستہ کم ہونے لگا تھا اور کالجی لڑکے لڑکیوں کی ٹولی جیسے نمودار ہوئی تھی ویسے ہی اب غائب بھی ہو چکی تھی۔

   &n