کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی!

نصر ملک


’’تم لکھتے ہو؟‘‘ اس نے زور دیتے ہوئے پوچھا۔

          ’’تم کیچڑ اچھالتے ہو!‘‘ لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد اُس نے خود ہی جواب بھی دے دیا۔

          ’’کیا میں کیچڑ اُچھالتا ہوں ؟‘‘ میں نے خود سے پوچھا اور اس کے سوال کو گول کر گیا۔

          میرا ساتھی میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے،  یوں ڈگ بھرنے لگا تھا جیسے نشے میں دھت آدمی برف پر چل رہا ہو۔

          ’’یہ سچ ہے !‘‘ مجھے اُس کی سرگوشی صاف سنائی دی۔ ہجرت کے عمل کے اثرات،  جو تم لکھتے ہو،  وہ ماحول کے منصفانہ تجزیئے کی عکاسی کرتے ہیں۔ تم بے کار میں پریشان ہو رہے ہو۔ میں محض تمھاری بات نہیں کر رہا۔ تم تو گھبرا رہے ہو۔ ‘‘ وہ بولے جا رہا تھا۔ میں چلتے چلتے رک گیا اور ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔  چہرے سے پسینہ پونچھا۔ اب وہ بھی میرے سامنے بیٹھ چکا تھا۔ میرے جی میں آئی کہ جس پتھر پر بیٹھا ہوں وہی اُٹھا کر اُس کے سر پہ دے ماروں،  لیکن یہ محض میرا خیال ہی رہا۔

          ’’کاش تم جانتے ہوتے کہ غیر ملکی ماحول میں مہاجروں یا وہ جنہیں تم تارکینِ وطن کہتے ہو،  اُن کی الجھنوں اور روزگار کی مصیبتوں کے علاوہ اُن کی خانگی زندگیوں اور دو ثقافتوں کے پڑوں میں پستی ہوئی اولادوں کے حالات کا پس منظر کیا ہے؟‘‘ وہ مسلسل بولے جا رہا تھا۔

           ’’کاش تم واقعی میں جان سکتے ہوتے کہ یہ سب کچھ کیوں  اور کیسے رونما ہوتا ہے؟ تم نے کبھی غور کیا ہے کہ جن لوگوں کے بارے میں تم لکھتے ہو، اُن کے لئے اِن سماجوں میں کس خاص قسم کے حالات پیدا کئے جانے چاہئیں ؟‘‘

          میں خاموش بیٹھا اُس کی باتیں سُن رہا تھا۔ میں نے تہیہ کر لیا ہوا تھا کہ آج اُس سے بحث نہیں کروں گا۔ ایک تو وہ بڑی مدت کے بعد آج خود مجھ سے ملنے آیا تھا۔ اور پھر مجھے یہ بھی احساس تھا کہ اس طرح کی بحث یا بات چیت کے دوران جب بھی میں اُسے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتا یا اپنی صفائی میں کچھ کہتا،  بعد میں وہ میری بات کو اُلٹا میرے ہی خلاف ہتھیار بنا لیا کرتا تھا۔ اسی لئے میں محض ہوں،  ہاں سے کام چلاتے ہوئے،  اس سے ہمکلام تھا۔

          ’’چلو اگر ان مغربی یورپی سماجوں میں نہیں تو کم از کم اُس سماج ہی میں جسے یہ چھوڑ کر یہاں آ گئے ہیں،  وہاں کچھ ایسے حا لات تو پیدا ہونے چاہئیں کہ ان کے باقی ماندہ،   وہاں رہ جانے والے رشتہ دار تو ادھر کی خواہش نہ کریں۔ اور وہاں ہی ان کی گزر ہو سکے۔ تم چپ کیوں ہو؟‘‘ اُس نے سوال کی کیل ٹھونکی اور پھر بولنے لگا۔

          ’’یہ تم جو اِن لوگوں کو ’’تارکینِ وطن‘‘ لکھتے ہو،   اور یوں اُن ہی میں سے ہوتے ہوئے،  خود کو اُن سے فاصلے پر رکھ لیتے ہو اور سمجھتے ہو کہ مقامی سماج میں یہ تم ہی ہو،  جو آگے بڑھ پائے ہو،  کیا تم نے کبھی ان کی ہجرت کی وجوہات پر غور کیا ہے؟ انہوں نے یہ خود ساختہ جلاوطنی کیوں اختیار کی ہے؟‘‘ وہ بولے جا رہا تھا۔ ’’تم نے کبھی اُن دیہاتوں کو قصبوں کو دیکھا ہے،  جہاں سے یہ لوگ آئے ہیں ؟ کاش تم کو معلوم ہوتا کہ جس ملک کے گاؤں میں ایک پرائمری سکول کھولے جانے کے محض زیر غور منصوبے ہی کو وہاں کے جاگیردار اپنی جاگیرداری اور حکام اپنے آمرانہ تسلط کے لئے زبردست خطرہ تصور کرتے ہوں،  یہ لوگ وہاں تہذیب سیکھ سکتے تھے؟ کیا یہ علم حاصل کر سکتے تھے؟ استاد جو دنیا بھر میں ایسا فنکار مانا جاتا ہے جو قوم کا معمار ہوتا ہے،  تم جانتے ہو ہمارے ملک میں وہ کیا ہوتا ہے؟ محض مزدور! وہ بھوکا رہتا ہے۔ دبا ہوا، کچلا ہوا،  مسلسل اس خوف میں مبتلا کہ کہیں دو وقت کی روٹی سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔ حویلیوں اور کوٹھیوں والے اُسے ڈانٹتے پھٹکارتے رہتے ہیں۔ وہ تو ’’کمّی‘‘ سے بھی ’’کمترین‘‘ سمجھا جاتا ہے،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے نا!‘‘ شاید وہ اپنی بات کی مجھ سے تصدیق چاہتا تھا۔ مجھے سگریٹ سلگاتے دیکھ کر وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا اور پھر یکدم بولا۔

          ’’تم نے کبھی اُس ملک کی سل زدہ تنگ کوٹھریوں میں گزر بسر کرنے،  اور زندگی کو محض آگے دھکا دینے کے لئے پتھر کوٹنے والے لوگوں کو دیکھا ہے؟ وہ تیس بتیس سال کی عمر ہی میں،  ورم،  حنجرہ،  گٹھیا اور تپ دق کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تم نے کبھی سوچا ہے کہ وہاں کا نوجوان طبقہ کیسی کیسی تنہائیوں کا شکار ہے۔ تم اور تمھارے جیسے کئی دوسرے اپنی کہانیوں اور عشقیہ شاعری سے محض اِن نوجوانوں کے جذبات بھڑکاتے ہو۔ اُن کے اندر جنسی حِسوں کو بیدار کر کے اُن میں آگ تو لگا دیتے ہو لیکن اس کے ٹھنڈا کرنے کا مداوا نہیں کرتے ہو۔ یہ آگ ان معصوموں کو راکھ بنا دیتی ہے۔ کتنا گھناؤنا ہے یہ سب کھیل،   جس میں تم سب لکھاری اور وہاں کی ساری ریاستی مشینری،  کانسٹیبل سے لے کر دربار سرکار تک اور،   ملّاؤں سے لیکر ادیب و شعراء سبھی سماج کو سدھارنے،  طبقاتی اونچ نیچ ختم کرنے اور فرقہ وارانہ یکجہتی پیدا کرنے کے نام پر مذہب و سیاست اور ادب کی آڑ میں سب کچھ تہس نہس کر رہے ہیں۔ ‘‘ اس نے تھوڑا سا وقفہ لیتے ہوئے مجھے یوں دیکھا جیسے اندازہ لگانا چاہتا ہو کہ میں واقعی میں اس کے سامنے ہی بیٹھا ہوا ہوں۔ اب وہ پھر گویا ہوا۔

          ’’میں تو جب بھی اپنے ملک جاتا ہوں اور یہ سب کچھ ہوتا دیکھتا ہوں تو کسی حد تک اپنے آپ کو بھی اس کے لئے قصوروار سمجھنے لگتا ہوں۔ ‘‘ میں نے دیکھا کہ وہ اب چوکڑی دے کر گھاس پر بیٹھ گیا تھا اور مجھے گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ گویا جیسے اُس نے اب خم ٹھونک لیا ہو۔

          ’’کتنا نا معقول اور بد سلیقہ ہے ہمارا ملک،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’مملکتِ خداداد!‘‘ جس کے لئے خدا نے لاکھوں انسانوں کی جانیں بطور نذرانہ وصول کیں۔ ‘‘ وہ ہلکا سا قہقہہ لگانے کے بعد پھر بولا۔

          ’’تم نہیں جانتے ہو کہ وہاں چودہ پندرہ برس کی عمر میں ہی لڑکیوں کی پیاری پیاری آنکھوں پر حسرت و یاس اور غم کی سیاہ بدلیاں چھا جاتی ہیں۔ ان کے گالوں پر سیاہ شکنیں اُبھر آتی ہیں،  ان کا جوبن لڑھک جاتا ہے۔ وہ نسوانیت سے محروم بس بچے پیدا کرنے والی مشینیں بنا دی جاتی ہیں۔ تم لوگ جو لفظوں کے ’’آمین‘‘ ہو تم اُن کے خوابوں کی قدر و قیمت کے شناسا ہو۔ تم ان کی تقدیر بدلنے اور پاؤں میں پڑی رہنے والی سماجی زنجیروں سے اُن کو آزاد کرانے کے لئے عملاً کیا کرتے ہو؟‘‘ اس کا لہجہ اب اداس اور زیرِ لب طنزیہ ہنسی تھی۔

          ’’یہ تمھاری دیدہ دانستہ خاموشی یا پھر کیا کہوں،  تمھارا یہ صبر و تحمل،  یہ تو آج انعام کا مستحق ہے۔ ‘‘ وہ پھر بولا۔ ’’آج تو تم یوں خاموش ہو جیسے پتھر،۔ ۔ ۔ ۔ ۔،  پتھر !،  جس پر تم بیٹھے ہوئے ہو۔ میں بھی کتنی منحوس باتیں کئے جا رہا ہوں۔ ‘‘اُس کی باتیں مجھے بدحواس بنا رہی تھیں۔ اور اس کے الفاظ تیروں کی طرح مجھے زخمی کر رہے تھے۔ لیکن میں واقعی خاموش تھا۔ نہ سی،  نہ ہاں نہ ہوں،  بس خاموش!،   پتھر!!

          ’’تم ایک کہانی،  غزل یا نظم لکھ کر سمجھ لیتے ہو کہ تم نے اُن کے حالات سدھارنے کا اپنا فرض پورا کر لیا ہے۔ دراصل تم لوگ داد و تحسین کے لئے،  سرکاری مشینری،  اجارہ داروں،   جاگیرداروں کے ہاتھوں پسے ہوئے اِن مظلوموں کی تضحیک کرتے ہو۔ یہ تم ہی ہو جو انعام و اکرام اور حسن کارکردگی کے تمغوں کے لئے اجارہ داروں اور سرکار کے قصیدہ خواں بن جاتے ہو۔ وہ غریب مسکین،  لاچار لوگ تو تمھاری ’’ادبی تخلیقی بھٹیوں ‘‘ کا ایندھن اور خام مال ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خام مال!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں نا؟‘‘ وہ ہاتھ کی انگلی سے زمین پر یوں ایک لکیر کھینچتے ہوئے بولا گویا اپنے اور میرے درمیان ’’حدِ فاصل‘‘ کھینچ رہا ہو۔

          ’’تمہیں اپنی سوچ،  اپنی فکر اور اپنی زبان میں بات کرنی چاہیے۔ تم کو خود اپنا تشخص بحال اور مضبوط رکھ کر قدم اُٹھانا چاہیے‘‘ لیکن تم تو اُسی بحرۂ شمالی میں مدغم ہوتے جا رہے ہو،  جس کا زہر آلود پانی یہ مغربی اقوام ہمارے لوگوں کی رگوں میں بظاہر نئی زندگی پیدا کرنے کے لئے امرت کے طور پر انڈیل رہی ہیں۔ تم جانتے ہو! یہ دراصل اُن کے بچے کھچے خون میں زہر ملایا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمھاری اپنی انفرادیت کہاں ہے؟ تم اپنے سماج کو،  یہاں پر اپنے لوگوں کو یہ ضمانت کیسے دے سکتے ہو کہ تم اُن سے ہمدردی رکھتے ہو؟ کیا تم واقعی میں کہہ سکتے ہو کہ تم جو لکھتے ہو وہ اُن کی تضحیک یا تمسخر نہیں بلکہ اُن کے مسائل کی نشاندہی ہے اور اُن کے مسائل کو حل کرنے کی ممکنہ راہ بھی!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم یہ ضمانت دے سکتے ہو؟ تم تو اپنے بارے میں بھی شاید یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ تم جو لکھتے ہو وہ اپنے لوگوں کے حق میں لکھتے ہو!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسانیت کے لئے لکھتے ہو!!‘‘ وہ شاید جذباتی ہو رہا تھا،  لیکن میں یہ ضرور سوچنے لگا تھا کہ اُسے آج یہ کیا ہو گیا تھا؟ اُ س کا یہ مبلّغانہ انداز اس سے پہلے تو کبھی اتنا سخت نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ پہلے تو اس نے کبھی ایسا رویہ اختیار ہی نہیں کیا تھا۔

           ’’کیا اس کو پتا چل گیا ہے کہ کہانیوں کی میری نئی کتاب بازار میں آ گئی ہے؟‘‘ میں نے اپنی بغل کے نیچے اپنے تھیلے کو مضبوطی سے دبا لیا۔

          ’’سنو! میں تم پر محض تنقید نہیں کر رہا ہوں۔ تم اور تمھارے ساتھیوں کا مقصد نیک ہی سہی،  لیکن اُن لوگوں کی بھی تو خبر لینا چاہیے جو ہمارے ملکی سماج میں،  سرکار دربار میں اعلیٰ عہدوں پر جمے بیٹھے ہیں۔ جنہوں نے اپنی ناک سے آگے تو کبھی دیکھا نہیں اور وہ ملّا پیر،   وہ حجروں میں عصمتیں لوٹنے والے بھیڑیئے اور وہ سرکاری گرانٹوں پر پلنے والے دانشور چوہے!،  وہ دعوے کرتے ہیں سماج سُدھارنے کے،  یہی انصاف کے وہ ناسور میں جو لوگوں کی قسمتوں کے فیصلے کرتے ہیں اور جن کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہم جیسے نقلِ مکانی کرنے اور دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے اپنی دھرتی،  اپنے لوگوں اور اپنی ہر راحت کو قربان کر دینے پر مجبور کر دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے ادیبوں کو شاعروں،  دانشوروں کو،  آج بھی ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جو ہمدردی کے چوغے پہنے،  بڑی منافقت و بے رحمی کے جابرانہ ہاتھوں سے قوم کے ذہن و شعور کی فکری و روحانی متاع تباہ کر رہے ہیں،  لیکن ہو کیا رہا ہے؟ ائیر کنڈیشن کوٹھیوں میں سمگلنگ کے ولایتی ساز و سامان سے آراستہ ڈرائنگ روموں میں سازشیں ہو رہی ہیں۔ قوم کو قابو میں کیسے رکھا جائے؟ سیاستدان،  ملّا،  وہ دین کے اجارہ دار،  جاگیردار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب لوگوں کے احساسات و خیالات کو اپنی مرضی کے تابع رکھنے کی تدبیریں سوچتے رہتے ہیں۔ منصوبے بناتے رہتے ہیں اور یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔  ادیب شاعر اور دانشوریہ کھیل نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ ان کی اکثریت،  سرکار دربار کی آشیرواد کے لئے،  بے وقعت،  معمولی سی،  وقتی شہرت کے لئے،  اس کھیل میں شامل بھی ہے۔ کتنی شرمناک بات ہے یہ۔ ‘‘ وہ بولا۔

          پچھلے کئی دنوں سے میں ایک مضمون لکھنے کے لئے سوچ رہا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ آج فارغ ہونے کی وجہ سے یہ مضمون قلم بند کر لوں گا۔ ’’میں کیوں لکھتا ہوں !‘‘ عنوان بھی میرے ذہن میں تھا اور مضمون کا خاکہ بھی۔ لیکن یہ کم بخت آج صبح ہی آن نکلا اور زبردستی ضد کر کے مجھے گھر سے باہر لے جا کر پارک میں ادھر ادھر گھماتا رہا اور پھر میں تھک کر ایک بڑے پتھر پر بیٹھ گیا تھا۔ اب شام ہونے والی تھی اور میں واپس گھر جانے کے لئے اُس سے اجازت لینے کے لئے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ بول پڑا۔

          ’’جس معاشرے میں تین چوتھائی افراد کم عمری ہی میں روزی روٹی کی جد جہد شروع کرنے پر مجبور ہو جائیں اور انہیں اپنے لئے ہی نہیں بلکہ دوسروں کا پیٹ بھرنے کے لئے بھی محنت مشقت کرنی پڑے،  تم بتاؤ وہ تعلیم کہاں سے سیکھیں گے،   وہ علم کیا سیکھیں گے،  تہذیب کہاں سے لائیں گے؟ بولو!،  شعور کے دروازے اُن پر کیسے کھلیں گے؟ آئے دن روٹی روزی کی جد و جہد میں مصروف رہنے سے زیادہ اُکتا دینے والا کام اور کیا ہو سکتا ہے؟ یہ تو زندگی کی ساری مسرتیں،  راحتیں،  وہ خوشیاں،  جو تم ان لوگوں میں دیکھنے کے متمنی ہو،   انہیں چھین کر آدمی کو بالکل ہی بے امنگ کر دیتا ہے۔ ‘‘ وہ بولے جا رہا تھا۔ ’’جس معاشرے میں ڈاکٹر کا اپنا مرض اُس کے مریضوں کی نسبت کہیں زیادہ ہو،  کہیں بڑھ کر اذیت دہ ہو،  وہاں عوامی صحت کا معیار تو درکنار،  عام حال کیا ہو گا؟ جہاں ادیبوں کی کتابیں،  شعراء کے مجموعہ ہائے کلیات کے اوراق،  پان کی گلوریاں باندھنے کے لئے استعمال ہوں اور وہ پان کھانے والے بھی وہی ادیب،  شعراء اور مصنف ہوں جن کی کہانیوں اور فکری احساس کے مجموعے اور کلیات کی کتابوں کے اوراق پنساریوں کی دکانوں اور پکوڑے بیچنے والوں کے ٹھیلوں پر ورق ورق کر دیئے جاتے ہوں،  تو پھر ایسے ماحول میں ان دانشوروں،  ادیبوں،  شاعروں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے،  جو اپنی ہی روح کے قتل پر خاموش رہتے ہیں۔ تم اور تمھارے ساتھی،  اچھے موسم،  اچھی فصل اور پر مسرت رومانس کی امید صرف امید میں ہی جینے کے عادی ہو،  تم تو محض خواب دیکھنے والے ہو،  خواب! اور یہی حال تم نے قوم کا کر رکھا ہے،  جس کا ہر فرد راتوں رات امیر بننے،  کوٹھی،  بنگلہ،  کار اور بنک کھاتوں کا مالک بن جانے کے خواب دیکھ رہا ہے!!‘‘ اب اس کی آواز میں کرختگی کے ساتھ قدرے دھیما پن آ گیا تھا۔ اس نے لمحہ بھر کے وقفے سے میری طرف دیکھا اور پھر بولا۔

          ’’میں نے کبھی کسی کو نہیں دیکھا جو عقل مند ہو جانے کی آرزو رکھتا ہو،  علم کا متلاشی ہو!،  اور پھر علم و عقل کے ساتھ زندگی میں نئی امنگ پیدا کرنے کی جستجو کرنے والا ہو،  ہے کوئی تمھارے سمیت ایسا تمھارے حلقے میں ؟ اُس نے میری جانب اپنے سوال کا تیر پھینکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔

          ’’میں جانتا ہوں تم خاموش رہ کر بھی خاموش نہیں ہو۔ تمھاری یہ خاموشی مجھے بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ آج جب میں تم سے ملاقات کے لئے آیا تھا تو لگتا تھا جیسے میں کسی ادیب کے پاس آیا ہوں،  دل میں جھجک تھی اور ذہن پر تمھاری کہانیوں کا اثر بھی۔ ایک طرح کا کچھ خوف بھی تھا کہ تم سے بات کیسے کروں گا۔ دراصل میں تم کو کچھ بتانا چاہتا تھا۔ میں بتانا چاہتا تھا کہ میں بھی کچھ ہوں !،  میں،   میں ہوں ! میں !!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں محض ایسا کردار نہیں ہوں جسے تم اپنی ہر کہانی میں در لاتے ہو،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں،   میں ہوں ! میں !!،   میری انفرادیت و حیثیت کا مجھے اب خوب احساس ہے۔ میں اپنی یہ شعوری انفرادیت،  اجتماعیت کے اندر رہ کر صرف اُسی کے لئے وقف کر چکا ہوں !‘‘  میں نے دیکھا کہ وہ اب میری طرف پشت موڑے،  سامنے پارک میں کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھ رہا تھا۔ شاید وہ اپنا مدعا کہہ چکا تھا۔

           ’’تمہیں تو شاید ابھی یہیں بیٹھنا ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔،   میں چلتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘  میں نے کھڑے ہو کر اپنے بغل والے تھیلے سے اپنی کہانیوں کا نیا مجموعہ نکالا اور اس کی طرف بڑھاتے ہوئے پتھر پر رکھ دیا۔

           ’’چاہو تو اسے پڑھ لینا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتابت و طباعت کی کچھ غلطیاں ہیں،  لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ میں اس سے آگے کچھ بھی نہ کہہ پایا اور لمبے ڈگ بھرتا ہوا گھر کی طرف چل دیا۔ میرے قدم یوں پڑ رہے تھے جیسے نشے میں دھت آدمی برف پر چل رہا ہو۔

٭٭٭