کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تنہائی کا کرب

نصر ملک


 ’’بہار کی ایک خوبصورت دوپہر!‘‘

          اُس نے حیرت کے ساتھ اردگرد دیکھتے ہوئے اپنے آپ سے سرگوشی کی۔  ’’لیکن میں جا کہاں رہا ہوں ؟‘‘ اپنے اس سوال سے جتنا وہ خود کو پریشان سمجھ رہا تھا اُس نے محسوس کیا کہ وہ  اپنے احساس سے کہیں زیادہ پریشان ہے۔ وہ سوچ رہا تھا اور ماتھے پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ہوں ! اس نے یکبارگی بڑے اطمینان کے ساتھ زیر لب کہا اور دائیں پاؤں کو زمین پر زور سے یوں دے مارا جیسے وہ اپنے خیال ہی خیال میں کسی قطعی فیصلے تک پہنچ چکا ہو۔

          ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’یہ تو طے ہے۔ ‘‘ وہ زیر لب بڑبڑایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہی ہو گا؟‘‘ وہ بے ساختہ،  اچانک اور از خود اپنے ہی فیصلے کے متعلق بڑی بے چینی سے اپنے لئے کسی بد شگونی کا احساس محسوس کرنے لگا،  اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس کے اعصابی تناؤ میں کھچاؤ آنے لگا۔ اذیت ناک اور بے انتہا اکیلے پن اور اجنبی پنے کا غمناک احساس،  اچانک اُس کے دل پر شعوری طور سے طاری ہو گیا تھا لیکن،  شہر کے اِس خوبصورت ترین،   چھوٹی چھوٹی جھیلوں سے بھرے پارک میں ادھر اُدھر کیاریوں میں اُگے پھولوں پہ مچلتی تتلیوں کے درمیان وہ اپنے دلی جذبات کے اذیت ناک احساس کی بدبو نہیں پھیلانا چاہتا تھا لیکن اپنی صورت حال کی وجہ سے وہ اپنے لئے ایک بھی ’’انسانیت آمیز‘‘ لفظ تک تلاش نہیں کر پا رہا تھا۔ ’’یہ سب کچھ میرے اپنے اعمال کا نتیجہ ہی توہے۔ ‘‘ اس نے پھر خود سے سرگوشی کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ایک ملک میں سولہ سال قیام کے باوجود۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں آج بھی لوگوں کے لئے اجنبی ہی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا میں واقعی میں یہاں ابھی تک اجنبی ہی ہوں ؟‘‘ وہ زیر لب مسلسل بڑبڑا رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نہیں ! یہ محض میرا قیاس ہی ہو سکتا ہے،  یہ میرا واہمہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں کسی بھی طرح سے یہاں اجنبی نہیں ہوں۔ ‘‘ اچانک اُسے احساس ہوا کہ اس کا خود کو یوں اجنبی تصور کرنا کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرتا۔ اُسے اپنے کئی مقامی دوستوں کے نام اور ٹیلیفون نمبر تک یاد تھے۔ دفتر میں اُس کے شریک کار،  اُس کے محلے میں اُس کے ساتھ رہنے والے شناسا چہرے،  جن کے ساتھ اُس نے کتنی ہی بار شراب کے جام اُڑائے تھے،  اور پھر اُس کے اپنے ملک کے کتنے ہی دوسرے لوگ جو یہاں آ کر آباد ہو گئے ہوئے تھے اور ان میں اکثر کو تو وہ اپنے گھر کے افراد ہی کی طرح جانتا تھا۔ ’’تو پھر وہ اجنبی کیسے ہوا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’مجھے بہار کی چھٹیوں سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ ‘‘ اچانک اُسے اپنے فارغ پنے کا احساس ہوا۔ وہ بینچ پر سے اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ ایک لمبی انگڑائی لی اور،  چل پڑا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’کیا میں سچ مچ وہ بہار سے لطف اندوز ہو سکوں گا‘‘ وہ پھر اپنی ہی سوچ کی گرفت میں جکڑ گیا تھا۔

          اب وہ مسلسل چل رہا تھا۔ ’’گھر لوٹا جائے۔ ‘‘ اس خیال سے اچانک اس کی طبیعت بھر گئی۔  ’’گھر!‘‘ وہ اپنے خیال پر ہلکا سا مسکرائے بغیر بھی نہ رہ سکا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’وہ الماری نما بھیانک کمرہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھر کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ یہ سوچتا ہوا اب وہ ایک طرح سے ناک کی سیدھ میں چل رہا تھا۔

          اس کے اعصابی تناؤ میں کھچاؤ بڑھنے لگا تھا۔ اس نے لا شعوری طور پر،  ایک کوشش سی کر کے،  کسی اندرونی خلش کے تحت،  خلش سے کہیں زیادہ غالباً ضرورت کے تحت ادھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارد گرد کی ہر چیز کو،  اپنے آگے پیچھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’لیکن وہ تلاش کیا کر رہا تھا؟‘‘ یہ تو غالباً وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ اور اگر اس سے آگاہ بھی تھا تو یہ محض اس کے تحت الشعور میں دبی ہوئی کوئی ایسی چیز ہو سکتی تھی،  جو ابھی نہ تو پوری طرح خیال بن کر اس کے ذہن میں آئی تھی اور نہ ہی ایسے احساس میں ڈھلی تھی جسے وہ محسوس کر سکتا۔ وہ بار بار اپنے خیالات میں غرق ہو جاتا تھا اور پھر جب چونکتا،  سر اُٹھاتا اور قدرے رک کر چاروں طرف نگاہ دوڑاتا تو فوراً ہی بھول جاتا کہ وہ ہے کہاں اور جا کہاں رہا ہے۔ اپنی اس حالت میں وہ اپنے خیالوں میں پارک سے باہر نکل آیا ہوا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیا!،  اتنا چلنے اور وہ بھی ناک کی سیدھ میں،  وہ ابھی تک اسی پارک ہی کے وسط میں تھا۔ ’’تو گویا میں ویسے ہی چکر لگاتا رہا ہوں۔ ‘‘ اس نے اپنے ارد گرد ہریالی اور پھولوں کی تازگی پر نگاہ ڈالتے ہوئے سوچا۔ کھلے ہوئے پھولوں کے شگفتہ رنگ،  اس کی تھکی ہوئی آنکھوں کو بھلے لگے۔ وہ ان رنگوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے کیاریوں کے ساتھ ساتھ چلنے لگا،  لیکن جلد ہی یہ نیا اور خوشگوار احساس ختم ہو گیا۔ اسے اپنی ٹانگیں بھاری سی محسوس ہونے لگیں اور کندھوں پر انجانا سا بوجھ بھی۔  اب وہ گھر لوٹ جانا چاہتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’گھر!‘‘ اس کے ذہن میں خیال ابھرا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’الماری نما بھیانک کمرہ‘‘ وہ چلتا چلتا،  خوبصورت پھولوں والی کیاریوں سے ہٹ کر جھیل کے کنارے کنارے،  خود رو جھاڑیوں کے ایک جھنڈ کے قریب پہنچ چکا تھا اور کھاس پر لیٹ گیا تھا۔ یہاں گھٹن نہیں تھی بلکہ جھیل کے اوپر سے ہو کر آتی ہوئی خنک ہوا جو پھولوں کی خوشبو سے مہک رہی تھی،  اسے بڑی بھلی لگی۔ اور پھر اُس نے آنکھیں بند کر لیں۔ نیند اُس پر غالب آ چکی تھی اور وہ فوراً ہی وہیں سو گیا تھا۔

          بے چارگی و اذّیت ناک صورت حال سے دوچار،  جب کوئی سو جاتا ہے تو اُسے اپنی نیند پر اختیار نہیں ہوتا اور ایسی نیند میں دیکھے اکثر خوابوں کی خصوصیّت بھی بڑی عجیب ہوتی ہے۔ ان کے واقعات،  وضاحتوں اور حقیقتوں میں غیر معمولی مشابہت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی یہ خواب بھیانک اور عجیب الخلقت تصویروں میں بدل جاتے ہیں تو کبھی ان خوابوں کے ماحول اور انسانی تخیّل کا سارا عمل اتنا قابل یقین ہوتا ہے اور اتنا عمدہ و نفیس اور غیر متوقع لیکن بھر پور تفصیل یوں رچی بسی ہوتی ہے کہ خود خواب دیکھنے والا جب بیدار ہوتا ہے تو خوامخواہ وہ خود کتنا ہی بڑا فنکار کیوں نہ ہو کبھی بھی اپنے خواب کے تصور کو حقیقت کے روبرو نہیں دیکھ سکتا،  حالانکہ خواب میں اُس نے شاید کتنی ہی چیزوں کو چھوا بھی ہو لیکن،  بیداری کے بعد اس کا ان چیزوں کو پا لینا تو درکنار وہ تو ان کو چھو بھی نہیں سکتا۔ اس طرح کے خواب،  خواب نہیں رہتے،  وہ ایک ایسا تصور بن جاتے ہیں جو کسی کی زندگی کا جز بن کر بہت دونوں،  برسوں تک یاد رہتے ہیں اور بعض خواب تو انسان کے مرنے تک اس کے ذہن میں یوں تازہ ہوتے ہیں گویا ابھی ہی دیکھے ہوں۔ ایسے خواب ہیجان سے بھرے ہوئے انسان کے پریشان و پراگندہ جسمانی نظام پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

          اُس نے خواب میں دیکھا کہ وہ کس طرح کوپن ہیگن کے عالمی ہوائی اڈّے پر جہاز سے باہر نکل رہا تھا۔ اگرچہ یہ سولہ برس پرانا واقعہ تھا لیکن خواب میں،  جہاز سے باہر اترنے کا منظر وہ بالکل ویسے ہی دیکھ رہا تھا جیسا کہ اُس کے حافظے میں محفوظ رہ گیا ہوا تھا۔ لیکن نہیں ! یہ منظر تو حافظے میں محفوظ رہ گئے ہوئے منظر سے بھی کہیں زیادہ صاف تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر یکے بعد دیگرے ڈنمارک میں اس کے پچھلے سولہ برسوں کی فلم اُس کی آنکھوں کے سامنے یوں چلنے لگی،  گویا وہ واقعی ایسی ویڈیو فلم کو دیکھ رہا ہو جو کسی نے اسے بتائے بغیر اسی کے شب و روز کے متعلق،  اُس کا پیچھا کر کے بنائی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس نے دیکھا کہ نو برس پہلے کیسے وہ ایک لڑکی سے یونیورسٹی کمپاؤنڈ میں ملا اور پھر اِن دونوں کی ملاقات پہلے گہری دوستی میں اور بعد میں ایک دوسرے سے شادی میں بدل گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر،  اس کے سامنے خواب میں جو منظر بدلا،  تو وہ اپنے پانچ سالہ بچے کا بازو تھامے کپڑوں کی ایک دوکان میں داخل ہو رہا تھا۔ اُس نے اپنے بیٹے کی معصوم خواہش کے عین مطابق اس کے لئے انہیں رنگوں والے کپڑے خریدے جن کے لئے بچے نے اصرار کیا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ دکان پر کام کرنے والی عورت دونوں باپ بیٹے کی معصوم شرارتوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’خدا ہر خاندان کو تمھاری طرح خوش رکھے۔ ‘‘ ہاں وہی دعا تواب وہ خواب میں سن رہا تھا جو اس عورت نے دی تھی۔ اُس نے دکان سے باہر نکل کر اپنے بیٹے کو خوشی سے،  بازوؤں میں لے کر پہلے تو اسے ہوا میں اوپر اچھالا اور پھر اپنے کندھوں پر بٹھا لیا لیکن اسی دوران۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی دوران بچے کے ایک پاؤں سے اُس کا جوتا زمین پر گر گیا تھا جسے اٹھانے کے لئے جونہی وہ جھکا تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہاں نہ تو زمین پر کوئی جوتا پڑا تھا اور نہ ہی اس کے کندھوں پر اس کا بیٹا موجود تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس کی آنکھ کھل چکی تھی وہ نیند سے پوری طرح بیدار ہو چکا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’خواب!‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا میں محض خواب دیکھ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے زیر لب بڑبڑایا۔ ’’نہیں یہ خواب نہیں ہو سکتا یہ تو میری اپنی زندگی کی عکس بندی کا حقیقی منظر تھا۔ ‘‘ وہ اب اپنے اردگرد سے بے نیاز گردن جھکائے ہاتھ کی انگلی سے گھاس پر لکیریں کھینچ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک،  دو،  تین چار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تیرہ،  چودہ،  پندرہ،  سولہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سولہ برس!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو کیا میں سولہ برسوں سے یہاں بیٹھا ہوں ؟‘‘ اس نے خود سے سوال کیا اور خود ہی تمسخرانہ انداز میں مسکراتے ہوئے گھاس پر یوں ہتھیلی پھیرنے لگا گویا اپنی زندگی کے سولہ برسوں کو جو اس کے سامنے لکیروں کی صورت میں تھے،  مٹا دینا چاہتا ہو یا پھر انہیں اپنی زندگی سے خارج کر دینا چاہتا ہو۔

          وہ اپنے خیالات اور سوالات پر دیر تک جھنجھلاتا رہا۔ اب وہ خواب میں دیکھے ہوئے اپنی زندگی کے مختلف مراحل پر غور کرنے لگا تھا۔ ’’ہاں،  ہاں بالکل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے خواب نہیں دیکھا یہ تو میرے تحت الشعور کا ظہور تھا۔ ‘‘ وہ خود ہی بڑبڑایا۔ ’’گزرے ہوئے پچھلے واقعات کا تصور بھی بعض اوقات کتنا گھناؤنا اور اذیت ناک ہوتا ہے۔ ‘‘ وہ ابھی تک سوچ رہا تھا۔  اب اُس کی بیوی کو اُس سے الگ ہوئے دو برس ہونے کو آئے تھے اور وہ یہ بھی نہیں بھولا تھا کہ اُس نے اپنے بیٹے کو کچھ نہیں تو چھ ماہ پہلے تب نئے کپڑے خرید کر دیئے تھے،  جب اُس کی پانچوں سالگرہ تھی اور اس کی ماں نے خاص مہربانی سے کام لیتے ہوئے اسے اجازت دے دی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ کچھ وقت گزار سکتا ہے۔  اُسے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنی تنہائی کے احساس کو ایک نئے رخ سے دیکھنے کی اگرچہ تحریک ہوئی لیکن شاید وہ پیچھے مڑ کر دیکھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ اُسے خیال آیا کہ کس طرح پچھلے مہینے،  سر راہ،  جب وہ اپنی ہی سوچوں میں گم کہیں جانے کے خیال میں ایک طرح سے بڑی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا تھا تو کس طرح اچانک ایک بچے نے لپک کر اُس کے لمبے اُوور کوٹ کو پکڑ لیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’پاپا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاپا،  تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘ یہ اس کا اپنا بیٹا ہی تو تھا جو اپنے ننھے پاؤں کے بل کھڑا،  بازو اوپر اُٹھائے اس کا بوسہ لینے کو بیتاب ہو رہا تھا۔ ’’ارے تم،  میرے ننھے یار!،  تم کہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں کس کے ساتھ گھوم رہے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمھاری امی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘ اور وہ ابھی اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ کسی نے اچانک اسے اپنے بازوؤں میں لے کر اپنے ساتھ بھینچ لیا تھا۔ یہ اس کی سابقہ بیوی اور اس کے بیٹے کی ماں تھی۔

           ’’میں تو تمھیں دیکھ ہی نہیں پائی تھی لیکن اس ’’چھوٹے شیطان‘‘ نے تمھیں اتنی بھیڑ میں بھی پیچھے سے پہچان لیا۔ ‘‘ ہاں اس نے یہی تو کہا تھا۔ اسے سب کچھ یاد آنے لگا تھا۔

          ’’یہ تم نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ سوچو تو،  اپنے لئے تو زندہ رہنا سیکھو!‘‘ یہی تو وہ کہہ رہی تھی اور اس کا بیٹا جسے اس نے اب اٹھا رکھا تھا،  ابھی تک بے ترتیبی سے بڑھے ہوئے اس کے بالوں کو اپنی ننھی انگلیوں سے سلجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ اس موقع پر خاموش ہی رہا۔ ہاں اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس نے کچھ بھی تو نہیں کہا تھا اور پھر وہ دونوں ماں بیٹا اسے خدا حافظ کہتے ہوئے اُس کی نظروں کے سامنے سے دور ہوتے گئے تھے۔ اس کا بیٹا کتنی ہی دیر خدا حافظ کہنے کے انداز میں اپنا ننھا سا ہاتھ لہراتا رہا تھا،  لیکن اُس کی ماں نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’وہ مڑ کر کیوں دیکھتی!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن میں یہ سب کچھ کیوں سوچ رہا ہوں ؟‘‘ اب وہ پھر ایک نئی سوچ میں اتر گیا تھا۔

          وہ ابھی تک ٹانگیں زمین پر پھیلائے وہیں بیٹھا ہوا تھا اور اپنے آپ میں کُڑھ رہا تھا۔ خود اپنے آپ سے اپنے ہی سوالات،  اس کے لئے اذیّت ناک جھنجھناہٹ پیدا کر رہے تھے۔ اگرچہ وہاں بیٹھا بیٹھا وہ اس خواب ہی کو دہرا رہا تھا جو اُس نے وہیں نیند میں تھوڑی دیر پہلے دیکھا تھا لیکن آخر اُسے ایسے خواب کیوں دکھائی دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب اس کا اب کسی سے ربط ہی نہیں رہا تھا،  تو کوئی خواب میں آ کر اس طرح کا تاثر کیوں دے کہ وہ سمجھنے لگے کی اُس نے جو خواب دیکھا وہ سچ ہی ہے،  اور اگر سچ ہی ہے تو پھر یہ حقیقت میں اُس کے سامنے اس طرح کیوں نہیں آتا کہ وہ اس خواب کے کرداروں کو چھو سکے،  انہیں اپنے ہاتھوں سے محسوس کر سکے۔ اب شام ڈھل رہی تھی اور پارک میں ایک عجیب طرح کا ماحول چھانے لگا تھا۔  اچانک جیسے وہ ہوش میں آ گیا ہو۔ اُس نے یکدم کھڑے ہو کر ایک لمبی انگڑائی لی،  اور چلنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہاں،  اس سے شاید وہ خود بھی بے خبر تھا۔ اب وہ ایک طرح سے بے خیالی میں بھاری قدموں کے ساتھ آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ ’’ہاں یہ تو طے ہے!‘‘ اس نے خود سے سرگوشی کی اور جھیل میں اترتے ہوئے پرندوں کو کھڑا ہو کر دیکھنے لگا،  لیکن جلد ہی اس کی نظر جھیل کنارے ایک دوسرے پر گردنیں جھکائے،  پیار کرتے ہوئے دو آبی پرندوں پر جا ٹھہری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب وہ زیر لب مسکرایا اور اپنا ہاتھ پتلون کی جیب میں ڈال کر کچھ ٹٹولنے لگا۔  اُس کے ہاتھ پچّیس اُورے کا ایک سکّہ لگا،  جسے اُس نے آگے بڑھ کر بڑی احتیاط کے ساتھ کہ شور نہ ہو،  جھیل کے پانی میں پھینک دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’تم زندگی بھر اسے طرح پیار کرتے رہو‘‘ یہ دعا دیتے ہوئے اُس کی نظریں پھر آبی پرندوں کو تلاش کرنے لگیں تھیں جو ابھی ابھی وہاں ایک دوسرے کو پیار کر رہے تھے،  لیکن اب ان پرندوں کی جگہ محض ایک بگلا کھڑا ہوا تھا اور وہ بھی ایک ٹانگ پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’میں بھی تو ایک بگلا ہی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بگلا،  اور اُس پہ پگلا بھی۔ ‘‘ اس نے تمسخرانہ انداز میں سوچا۔ اُسے خیال آیا کہ اِس آوارگی سے آخر حاصل کیا ہے؟ کیا وہ محض وقت گزار رہا ہے یا وقت ہی اس کے ہاتھوں سے خود بخود نکلے جا رہا ہے۔ اب وہ پھر چلنے لگا تھا۔ پھولوں کی کیاریوں کے کنارے کنارے،  اس نے ایک ہاتھ بڑھا کر ایک پھول کو شاخ سے توڑا اور کوٹ کے کالر میں لگانے کے لئے سوچا۔ لیکن یہ کیا ’’میں نے کوٹ تو آج پہنا ہی نہیں ہوا‘‘ وہ سرگوشی کے انداز میں بولا۔ وہ تو محض ایک سویٹر پہنے ہوئے تھا۔  ’’مجھے پھول نہیں توڑنا چاہیے تھا۔ ‘‘ اس نے اپنے آپ سے بات کی اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ سامنے کھڑی ایک بڑھیا اس کی توجہ اس بورڈ کی طرف دلا رہی تھی جس  پر لکھا تھا ’’پھول توڑنا سخت منع ہے۔ ‘‘ اس نے آگے بڑھ کر توڑا ہوا پھول نہایت انکساری کے ساتھ بڑھیا کو پیش کر دیا۔ بڑھیا نے بڑی خندہ پیشانی سے پھول تو قبول کر لیا لیکن اس کی مسکراہٹ میں چھپی طنز اسے دل میں اترتے ہوئے تیر کی طرح لگی۔ اب وہ پھولوں کی کیاریوں سے دور نکل آیا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ کئی جوڑے ایک دوسرے کی کمر میں بازو ڈالے،  قہقہے لگاتے چلے جا رہے تھے۔ چھوٹے بچے اپنے والدین کے ساتھ تھے،  خوش رنگ لباسوں میں اچھلتے کودتے،  کتنے بھلے لگ رہے تھے۔ ’’کبھی ہم تینوں بھی تو اسی طرح یہاں آیا کرتے تھے۔ ‘‘ اسے وہ دن یاد آ گیا جب وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ،  شہر کے اسی پارک میں دوپہر سے شام تک پکنک مناتا رہا تھا۔

          اسے اب اپنے آپ پر غصّے سے زیادہ رحم آ رہا تھا اور وہ ابھی تک مسلسل چل رہا تھا لیکن،  اسے جانا کہاں تھا؟ یہ شاید وہ ابھی خود بھی نہیں جانتا تھا۔  ’’یہ شاید میرے غرور اور تکبّر ہی کا کیا دھرا ہے‘‘ اسے خود پر غصّہ آیا۔ ’’آخر میں اُس پر اتنا یقین کیوں کرتا تھا،  میں یہ کیوں بھول گیا تھا کہ مشرق،  مشرق ہے اور مغرب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مغرب ہی ہے۔ ‘‘ وہ پھر اپنی سابقہ بیوی کے متعلق سوچنے لگا تھا۔ ’’لیکن اب کیا دھرا رہ گیا ہے،  جب وہ ہی نہ رہی اور بچہ بھی جدا ہو گیا،  تو پھر باقی کیا رہ گیا!‘‘ وہ عجیب طرح کے خیالات اور ان خیالات کے سبب وسوسوں میں الجھتا جا رہا تھا۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ وہ اپنی سابقہ بیوی کی بیوفائی پر اپنی،  تمام تر دلیلوں کے باوجود،  اس کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکا تھا۔ وہ کچھ بھی سوچتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الزام خود اپنے ہی سر لے لیتا۔ ’’میری تنہائی کی وجہ بھی تو میں خود ہی ہوں،  کیا میں بھی کوئی اور ساتھی نہیں ڈھونڈ سکتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شریک حیات!،  بیوی کے طور پر نہ سہی،  وقت گذاری ہی کے لئے جزوقتی ہی سہی،  آخر اس سماج میں سبھی کچھ تو ہے،  بن بیاہی مائیں،  شادی شدہ داشتائیں،  حرامی مرد،  مردوں کے عاشق،  زنانِ زن باز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر کیا کچھ نہیں یہاں ہوتا،  میں بھی تو اسی ڈینش سماج ہی کا اب ایک حصّہ ہوں۔ ‘‘ وہ قدرے جھنجھلایا اور زور سے پاؤں زمین پر پٹخ دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نہیں،  نہیں ! یہ ڈینش سماج مجھے کب اپنا حصّہ سمجھے گا!‘‘ اس نے خود کلامی کی۔ ’’غیر ملکیوں کے سبب ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈینش اقتصادیات میں خسارہ ان غیر ملکیوں کی طرف سے یہاں سے کمائی ہوئی بھاری رقوم کو اپنے اپنے ملک بھجوانے کی وجہ ہی سے تو ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ غیر ملکی ہماری معاشیات کے لئے ایک بڑا خطرہ اور بوجھ ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں ان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہماری مختصر سی آبادی کو اقلیت میں بدل دیں گے،  انہیں نکال باہر کیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اسے پچھلے دنوں اخبارات میں شائع ہونے والی سرخیاں اور ’’عوامی بحث مباحثوں ‘‘ کے موضوعات یاد آنے لگے تھے۔

           ’’یہ سب بکواس ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ محض غیر ملکیوں کو بدنام کرنے کے متعصبانہ ہتھکنڈے ہیں۔ ‘‘ اس کے دل سے آواز اُٹھی۔ ’’ہم غیر ملکیوں نے اس ملک کی ترقی میں کیا کچھ قربان نہیں کر دیا۔ اپنی جوان بانہوں کے قوت،  اپنے سر کے بال،  اپنے بدن کے خدوخال اور،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اب خاندان کی بھی بھینٹ چڑھا چکے ہیں اور یہ ڈینش سماج۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘ اس سے آگے وہ کچھ نہ سوچ سکا اور آگے چلتا گیا۔

          اب وہ جھیل کے کنارے آخیر پر پہنچ چکا تھا۔ ’’وقت بھی عجیب چرکے لگاتا ہے۔ ‘‘ اُس نے جھیل کے پانی میں ڈوبتے ہوئے سورج کا عکس دیکھتے ہوئے سوچا۔ ’’دن بھر کی آوارگی کے بعد ڈوبے گا نہیں تو کیا کرے گا۔ ‘‘ اس نے سورج کی حالت پر ترس کھاتے ہوئے کہا۔ ’’میں تو سورج نہیں ہوں !،  نہیں نہیں،  نہیں ! میں نہیں ڈوبوں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر گز نہیں !!‘‘ اس نے اپنی حالت کا سورج سے موازنہ کرتے ہوئے،  ایک طرح سے اپنے بارے میں خود ہی فیصلہ دے دیا تھا۔

          اب وہ پارک سے نکل کر سڑک پر پہنچ چکا تھا اور آگے بڑھنے کے لئے ’’سبز بتّی‘‘ کے انتظار میں کھڑا تھا۔ اتنا اُسے یاد تھا پھر اچانک ہی اُسے اپنا وہ خواب یاد آ گیا جو اس نے تھوڑی دیر پہلے پارک میں جھاڑیوں کے قریب سوتے میں دیکھا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’آخر ایسے خواب،  میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتے؟‘‘ اس نے خود سے سوال کیا۔  اب وہ سبز بتی دیکھتے ہوئے سڑک پار کر رہا تھا۔ ’’بہر حال یہ کوئی نئی بات بھی نہیں۔ ‘‘ اس نے اپنے سوال کا خود ہی جواب بھی تلاش کر لیا تھا۔ ’’یہ خواب جو آج میں نے دیکھا ہے ’’اچانک‘‘ بھی تو نہیں دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب وہ اپنے جواب کی خود ہی دلیلیں بھی دینے لگا تھا۔ ’’یہ انہی پرانے،  اذیّت ناک حالات کا ہی تو نتیجہ ہے جو مجھے پچھلے ڈھائی برس سے گھیرے ہوئے ہیں۔ ‘‘یہ سوچ کر وہ بڑا اداس ہو گیا۔  اسے قدم اُٹھانا محال لگنے لگا۔ اُسے محسوس ہوا کہ آج وہ جس صورت حال سے دوچار ہے اور یوں کُڑھ رہا ہے در اصل یہ تو پچھلے کئی مہینوں اور خاص کر پچھلے چند ہفتوں سے اُسے کوفت پہنچا رہی ہے اور اُسے پریشان رکھے ہوئے ہے۔ اور آج اس میں یہ جو بھیانک و اذّیت ناک پہلو اُبھر آیا ہے اور دل و دماغ کو اذّیت پہنچا رہا ہے شاید یہ اذّیت و کربناکی کسی فیصلے کا تقاضا کر رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’فیصلہ!‘‘ اس نے سوچا۔ ’’وہ تو طے ہی ہے! نہ ادھر کا رہا نہ اُدھر کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب تو کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ورنہ،  ورنہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اب وہ سڑک کے کنارے بھیڑ بھاڑ سے ہوتا ہوا آگے بڑھتا اور سوچتا جا رہا تھا۔

          اب وہ اچانک بس سٹاپ پر پہنچ گیا تھا۔ اُس نے کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی پر وقت دیکھا۔ شام کے چھ بجنے والے تھے۔  ’’میں سات بجے تک گھر پہنچ جاؤں گا۔ ‘‘ اس نے سامنے سے آتی ہوئی بس کو دیکھتے ہوئے سوچا۔ بس آئی تو وہ اس میں سوار ہوکر ایک خالی سیٹ پر ایک طرح سے جا گرا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’خواہ مخواہ سارا دن بیکار میں ضائع ہو گیا ہے۔ ‘‘ اس نے بس کی کھڑکی سے باہر دیکھا اور آنکھیں بند کر کے غالباً سستانے لگا تھا،  لیکن خیالات اور اِن سے پیدا ہونے والے سوالات کی مکھیاں اُس کے ذہین میں پھر بھنبھنانے لگیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’راضی خوشی اپنے مقدر کو قبول کر لو،  جیسا بھی ہے،  اب ہمیشہ کے لئے ایک سچائی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم اس کا اعتراف کیوں نہیں کر لیتے ہو،  اپنی زندگی اب تم کو خود بسر کرنی ہے۔ ‘‘ وہ سوچ رہا تھا۔           ہچکولے کھاتی ہوئی بس،  اپنے مقررہ سٹاپوں پر کھڑی ہوتی،  کچھ مسافر اترتے اور کچھ نئے اس میں سوار ہوتے،  لیکن وہ ان سب سے بے خبر،  اپنے ہی پیدا کردہ جبر کے نیچے دبا ہوا تھا۔ اُس کے ذہن میں ایک تلاطم بپا تھا۔ ’’اپنے اندر کے احساس کا گلا گھونٹ دو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زندہ رہنے،  عمل کرنے اور محبت کرنے اور کسی کی طرف سے اپنا لئے جانے کے حق سے انکار کر دو!‘‘ یہ مشورے اُسے کون دے رہا تھا۔ وہ یہ جاننے سے قاصر تھا اور اس کی سوچ کیا واقعی اُس کی اندرونی ذات کے کرب کا نتیجہ اور اظہار تھی! وہ اس معاملہ کو سلجھانا چاہتا تھا لیکن یہ ایک معمہ بنتا جا رہا تھا۔  ’’جب کہیں جانے کا ٹھکانا ہی نہ رہ جائے تو اس کا مطلب کیا ہو تا ہے؟‘‘ وہ ایک بار پھر چونک پڑا۔ ’’اس کا مطلب تو ایک ہی ہو سکتا ہے،  ہر شخص کے لئے کہیں بھی جانا نا ممکن ہو،  کہیں بھی،  کسی بھی جگہ،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں کسی بھی جگہ!،  میں بھی تو اب جا ہی رہا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھر!،  وہ الماری نما بھیانک کمرہ!‘‘ اس نے اپنے اعصاب میں تناؤ محسوس کرتے ہوئے سوچا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’خیال اچھا ہے،  گھر!‘‘

          اُس نے اپنی ساری قوّت سے خود کو مضبوط کرتے ہوئے پہلو بدلا اور کسی بھیانک اور انجانی مصیبت کا سامنا کرنے کے لئے خود کو تیار کرنے لگا۔ اُسے محسوس ہوا کہ دن بھر کی سوچ بچار اور بھرے بازاروں کی رونق،  پارک کا اپنا ہی ماحول اور اُس کی آوارگی میں ’’تلاش کا پہلو‘‘ بھی تو اُس کی تنہائی کا مداوا نہیں کر سکا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’بہار کی چھٹیاں !‘‘ یہ سوچتے ہوئے اُس کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ اُبھری۔ اپنے بارے میں اُس کا سارا غرور پاش پاش ہو گیا تھا۔ وہ حالات سے خود کو بے خبر رکھنے کی کوشش میں اندھی قسمت کے کسی فیصلے کے مطابق تباہ ہو چکا تھا اور یہ ضروری خیال کرنے لگا تھا کہ اُسے اپنے آپ کو سکون مہیا کرنے کے لئے اب اپنے فیصلے کی ’’نا معقولیّت‘‘ کے سامنے ذلیل و خوار ہونا ہی پڑے گا۔ یہ سوچ کر اُس نے ایک لمبی سانس لی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں ’’آخر یہ بھی تو زندگی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پچھتاوا،  ایک جھلستا ہوا پچھتاوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نے اپنے آنسو پی لئے۔ پچھتاوے کے اِن آنسوؤں پر اُسے کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔

          بس ایک جھٹکے کے ساتھ رکی تو ڈرائیور نے ’’آخری سٹاپ‘‘ کا اعلان کیا۔ وہ بھی دوسرے مسافروں کے ساتھ ہی بس سے نیچے اُتر آیا اور گھر کی طرف جانے کی بجائے،  ایک بار کی طرف ہو لیا۔

          ’’ٹھنڈی بیئر کی ایک بوتل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اُس نے اپنے لبوں پر ذائقہ محسوس کیا۔ ’’آخر گھر کے آدھے راستے ہی پر میں کیوں ٹھہروں ؟‘‘ اس نے سوچا اور پھر بار میں جانے کی بجائے،  گھر کی طرف ہو لیا۔ اُسے اپنا یہ انداز بے تکا تو ضرور لیکن احمقانہ نہیں لگا تھا۔ ’’مجھے خود کو یہ قدم اُٹھانے کی اجازت دینے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے تھا کہ میں زندگی بسر کرنے لگا ہوں۔ ‘‘ وہ سر جھکائے،  اب اپنے گھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چوتھی منزل پر جانے کے لئے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔

          وہ ابھی دروازے سے گھر میں داخل ہو کر اپنے جوتے اتارنے ہی والا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بڑے زور سے بجی۔ وہ اچانک چونکا تو ضرور لیکن پھر سنبھلتے ہوئے اُس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا،  یہ اس کا اپنا بیٹا تھا جو آگے بڑھ کر اُس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’بابا! تم اکیلے کہاں گھومتے رہتے ہو؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم مجھے ساتھ کیوں نہیں رکھتے ہو؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں کب سے تمھارے انتظار میں تھا۔ ‘‘ اس کا بیٹا ایک طرح سے ٹسوے بہا رہا تھا۔ اُس نے بے ساختگی سے اسے اُٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑی اپنی پڑوسن کو ایک لمحہ کے لئے بھول ہی گیا تھا۔

          میں نے آج اِس کی ماں کو اپنے ایک کام کی غرض سے گھر پر بلایا تھا۔  وہ جانے لگی تو یہ ضد کرنے لگا کہ اپنے باپ سے ملے بغیر نہیں جائے گا۔ تم گھر پر نہیں تھے،  وہ اِسے میرے پاس چھوڑ گئی۔ ‘‘ پڑوسن طوطے کی طرح بولے جا رہی تھی۔ ’’آج لورا اور پیٹر بھی گھر پر نہیں تھے۔  وہ دونوں اپنے اپنے باپ کے پاس گئے ہوئے ہیں،  لیکن اِس نے کچھ تنگ نہیں کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٹی وی پر بچوں کے لئے ایک فلم تھی بس وہ دیکھتا رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھانے کے لئے میں نے پوچھا تو کہنے لگا کہ باپ کے ساتھ ہی مل کر کھائے گا۔ ۔ ۔ ۔ اس کی ماں نے کہا تھا وہ کل صبح آ کر اسے لے جائے گی،  ہو سکتا ہے اس نے تمھیں فون بھی کیا ہو،  لیکن تم تو گھر پر ہی نہیں تھے۔ ‘‘ پڑوسن مسلسل بول رہی تھی۔ وہ اپنے بیٹے کو سینے سے لگائے اس کے گالوں پر بوسے دے رہا تھا جن پر نمکین آنسو بہہ رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’بایا! اب اس طرح اکیلے کہیں نہیں جانا۔ ‘‘ بیٹا بھی اس کے گالوں پر بوسے دے رہا تھا ْ ’’اچھا ہوا،  میرے ننھے یا ر تم آ گئے،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آؤ،  اندر چلتے ہیں،  میں تمھارے لئے خود کھانا بناتا ہوں۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس نے پڑوسن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے،  بیٹے کو نیچے اتارا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن،  یہ کیا،  وہ تو خدا حافظ کہہ کر جا بھی چکی تھی،  اس کا اُسے خیال ہی نہیں رہا تھا۔

٭٭٭