کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

رشتوں کے بندھن

نصر ملک


موسم بالکل صاف تھا۔  ساری صبح پھوار سی پڑتی رہی تھی اور اب آسمان کھل گیا تھا اور ہلکی روپہلی دھوپ بھی نکل آئی تھی۔  کام سے چھٹی کی وجہ سے آج وہ گھر پر ہی تھا۔  ناشتہ وہ کر چکا ہوا تھا۔  ’’مجھے یہ قصہ آج ختم کر ہی دینا چاہیے!‘‘ اس نے سوچا۔  ’’مجھے اس روز روز کی چخ چخ کا کوئی نہ کوئی منطقی حل نکالنا ہی ہو گا۔  اس نے اپنا کوٹ لیا اور گھر سے باہر نکل کر اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا۔

          ’’ہاں یا نہ !‘‘ اس نے سوچا۔ ’’بہنوئی ہوا تو کیا؟ اب تو وہ بہنوئی بھی کاہے کا،  جب خود لوگوں کے گھروں میں جا کر کہتا پھرتا ہے کہ اس نے زینب کو طلاق دے دی ہوئی ہے تو پھر اس سے اب میرا رشتہ ہی کیا رہ جاتا ہے،  اور زینب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بیچاری تو بیٹے اور بیٹی کے ساتھ اکیلی کرائے کے مکان میں رہ رہی ہے،  اور یہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مردود۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘ اُس نے سوچا۔  ’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مردود! میں نے اسے مردود کہا؟‘‘ اس نے خود سے سوال کیا۔ ’’ہاں ! وہ مردود ہی تو ہے ! انسان ہوتا تو جہاں لوگوں میں بات پھیلاتا رہتا ہے،  زینب کو گھر سے نکال دینے کے بعد اب تک طلاق بھی دے دی ہوتی،  ویسے بھی جب جگہ جگہ طلاق کا ذکر کرتا پھرتا ہے تو اسلامی طور پر تو طلاق ہو ہی چکی نا، اب ایک سرکاری کاغذ ہی تو باقی ہے،  کر دئیے ہوتے اس پر دستخط،  یوں لٹکائے تو نہ رکھتا مردود۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کمینہ!‘‘ آج وہ اپنے اخلاق کی چادر پھاڑ چکا تھا۔ ’’مردود ہی تو ہے،  سال بھر سے زینب کو کیسے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے اور بچوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔  خود کتنی بے شرمی سے دن رات عیش کر رہا ہے،  بے غیرت کو احساس تک نہیں کہ وہ رات دن فیکٹریوں میں کام کر کے،  دھکے کھا کھا کر بچوں  کو پال رہی ہے۔  پچھلی سردیوں میں اُن کے پاس ڈھنگ کے کپڑے بھی نہیں تھے اور اب سردیاں پھر سر پر ہیں،  وہ کیا کریں گے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ بے حیا! کتنی ڈھٹائی سے اپنی دکان چلاتا ہے اور کتنی بے شرمی سے مسجد کمیٹی کا رکن بنا،  برادری کے معززین میں اکڑے پھرتا ہے۔  ’’شرافت علی خان! ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج تو اُسے فیصلہ کرنا ہی پڑے گا !‘‘ کار چلاتے ہوئے سٹیرنگ پر اسکی گرفت مضبوط ہو گئی تھی۔  ’’کمینے کو جب بھی فون کرو اسے کہیں نہ کہیں جانا ہوتا ہے۔ ‘‘ اس نے کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا۔  ’’آج تو ابھی گھر پر ہی ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھوڑوں گا نہیں،  بس ہاں یا نہ! زینب اور اس کے بچوں کا یہ حال اب نہیں دیکھا جا سکتا مجھ سے،  اب کیا باقی رہ گیا ہے،  میں اب اپنی اور بے عزتی نہیں ہونے دوں گا۔  میری بہن یوں فیکٹریوں میں دھکے کھائے اور لوگ مجھے طعنوں بھری آنکھوں سے گھوریں۔ ‘‘ وہ سوچتا جا رہا تھا۔  کچھ دن پہلے اُسے والد کا خط بھی تو آیا تھا۔  ’’شرافت کو سمجھاؤ!‘‘ ہاں یہی لکھا تھا انہوں نے بھی۔  زینب خود بھی اب اور کہاں تک برداشت کر سکتی ہے۔  ’’اب حد ہو گئی ہے۔ ‘‘

          اس نے سڑک کے کنارے شرافت خان کے بنگلے کے سامنے کار پارک کی۔  باہر نکل کر اپنا کوٹ درست کیا اور آگے بڑھ کر دروازے کی گھنٹی بجائی۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد دروازہ کھلا۔

          ’’او حنیف !۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج تم یہاں کیسے؟‘‘  شرافت خان،  دروازہ تھامے ہکا بکا اسے دیکھ رہا تھا۔

          ’’ہاں،  ایک ضروری بات کرنی تھی تم سے،  میں نے سوچا تم گھر پر ہی ہو گے،  میں چلا آیا۔ ‘‘ وہ اپنے غصے کو چھپاتا ہوا بولا۔  ’’کیا میں اندر آ سکتا ہوں ؟‘‘

          ’’ کیوں نہیں،  آؤ آؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمھارا اپنا ہی تو گھر ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آؤ اندر آؤ!‘‘ اس نے ہاتھ سے اندر کی جانب اشارہ کیا۔   

          ’’ بیٹھو،  کیا پیو گے،  چائے یا کافی؟‘‘  شرافت نے پوچھا۔  وہ دونوں صوفے پر بیٹھ چکے تھے۔

          ’’نہیں،  کچھ نہیں،  رہنے دو‘‘ اس نے ڈرائنگ روم میں ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔  وہ پہلے بھی کئی بار یہاں آ چکا تھا۔  زینب اس کی خالہ زاد تھی اور شرافت دور کا رشتہ دار۔ ان دونوں کی شادی بھی اسی نے ہی کرائی تھی،  کوئی بیس اکیس سال پہلے،  لیکن پچھلے ایک سال سے وہ آپس میں الگ ہو گئے تھے۔  منصور اور سیما،  دونوں ماں ہی کے پاس تھے۔

          ’’کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ شرافت بولا۔  وہ دو پیالیوں میں کچن ہی سے کافی بھر لایا تھا۔  ’’ابھی تازہ بنائی تھی۔ ‘‘ وہ پیالیاں میز پر رکھتے ہوئے بولا۔

          ’’حنیف بھائی،  اس طرح کیا دیکھ رہے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب سے زینب نے منہ موڑا ہے نا،  یہ گھر،  گھر نہیں رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا حال ہے اُس کا،  منصور کیسا ہے؟ شرافت کافی کی چسکیاں لے رہا تھا۔  ’’سیمی تو اب بہت بڑی ہو گئی ہو گی؟‘‘

          ’’زینب کا کیا حال ہو گا!‘‘ حنیف پہلو بدلتے ہوئے بولا۔  ’’اس کا حال وہی ہے جو ایسی صورت میں کسی بھی بچوں والی اکیلی ماں کاہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تمھاری ان دنوں کبھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ‘‘

’’ملاقات کہاں ہو گی،  ایک تو رہتی ہی بہت دور ہے اور پھر تمھیں پتہ ہے آج کل کام کا سیزن ہے، اور زینب خود بھی تو نہیں چاہتی کہ میں بچوں سے ملوں۔  مجھ سے تو اسے بیر ہے ہی لیکن بچے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ آگے بھی کچھ کہنے والا تھا کہ حنیف نے اس کی بات کاٹ دی۔

          ’’بچے کیا!اس نے تو کبھی پابندی نہیں لگائی کہ تم ان سے نہ ملا کرو،  تم فون تو کر سکتے ہو!!‘‘

          ’’ہاں،  تم ٹھیک کہتے ہو لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

          ’’لیکن کیا؟‘‘ حنیف ذرا سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے بولا۔  ’’جب تم نے خود ہی سبھی تعلقات ختم کر دیئے ہیں،  ان بچوں کی کفالت بھی نہیں کرتے ہو تو پھر تمہیں بچوں کی کیا فکر! تم نے خود ہی تو کہا تھا نا کہ یہ ڈنمارک ہے،  تو اب بھگتو! زینب بھی اب اس ماحول کو شاید سمجھنے لگی ہے اور وہ بچے،  وہ تو پیدا ہی یہاں ہوئے ہیں۔ اٹھارہ اٹھارہ،  انیس انیس سال کے اب وہ صرف بچے تو نہیں،  حالات کو سمجھتے ہیں اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘  ابھی وہ اور کچھ کہنے ہی والا تھا کہ شرافت بول پڑا۔

          ’’بھئی میری سمجھ سے تو سب کچھ باہر ہے میں نے تو زینب سے کہا تھا کہ وہ چاہے تو سیمی کو بے شک اپنے پاس رکھ لے یا اپنی ماں کے پاس پاکستان بھیج دے،  اُس ماحول میں اس کی تربیت بھی ہو جائے گی  اور منصور اسے میں اپنے پاس رکھ لیتا ہوں لیکن وہ مانی ہی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب خدا کی طرف سے ہے یار،  خدا کے کاموں میں دخل کون دے سکتا ہے،  ہم کون ہیں جو خدا کے لکھے کو بدل سکیں !‘‘ وہ بڑی ڈھٹائی کے  ساتھ ا پنے کیے کی ذمہ داری خدا پر ڈال رہا تھا۔ ’’ہاں تو کیا بات تھی؟ جو تم کو آج ادھر لے آئی۔ ‘‘ وہ یوں بولا جیسے زینب کے معاملے میں اس کا اپنا کوئی دخل ہی نہیں تھا۔

          ’’بات تو تمھاری اور زینب ہی کی ہے۔ ‘‘ وہ کافی کی پیالی اپنے سامنے سے پرے ہٹاتے ہوئے بولا۔

          ’’یہ تو سب خدا کی مرضی ہے یا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

          ’’سنو! اس معاملہ میں خدا کو بیچ میں نہ لاؤ،   ایک انسان کے طور پر حالات کو سامنے رکھو اور یہ یا،  وہ کچھ نہیں،  مجھ پر اب اپنے اور زینب کے گھر والوں کی جانب سے بوجھ بہت بڑھ گیا ہے۔  اس معاملہ میں ہو سکتا ہے زینب بھی قصور وار ہو لیکن اصل قصوروار تم ہو،  اور اگر آج میرا منہ کھلواتے ہو تو میں صاف کہتا ہوں کہ سارا قصور تمھارا ہی ہے۔  وہ بیچاری تو دیہاتن گائے،  تمھارے ہر اشارے پر چلتی رہتی تھی۔ ‘‘

          اب وہ سنبھل کر بیٹھ چکا تھا اور شرافت کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔  ’’تم نے اسی کے نام سے بنک سے بھاری قرض لے کے پاکستان بھجوایا اور گاؤں میں حویلی بنوائی، یہاں دکان بھی اسی کے نام سے کھولی اور مال و سودا بھی اس کے نام سے کریڈٹ پر لیتے رہے اور یہ بنگلہ جو تم دونوں کے نام پر تھا یہ بھی تم نے اپنے نام کرا لیا اور وہ دوکان بھی،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نے چھوڑا کیا تھا اور وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تم سے کچھ بھی تو تقاضا نہیں کرتی تھی،  صرف اس نے اپنی بہن کی شادی کیلئے کچھ رقم مانگی تھی نا اور تم نے اس کی دھلائی کر دی اور کچھ بھی احساس کئے بغیر بچوں سمیت گھر سے نکال باہر کیا،  اس دن تمھاری حالت دیکھنے والی تھی،   غصّہ کیا،  اک بھوت نہیں شیطان سوار تھا تم پر! شرافت خان!!  میں سب کچھ جانتا ہوں اور تم بھی ہر بات سے آگاہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قصور کس کا ہے؟ چھوڑو،  تم یہ بتاؤ کہ جب تم علیحدگی لے چکے ہوئے ہو تو اب طلاق کیوں نہیں دے دیتے،  یہ ڈھونگ کیا ہے ؟یکدم حنیف نے محسوس کیا کہ شرافت کے کان پر جیسے کوئی جوں تک نہیں رینگ رہی تھی۔  ’’تم میری بات سن رہے ہو نا۔ ‘‘ وہ تھوڑا زور دیتے ہوئے بولا۔  ’’کیا فیصلہ کیا ہے تم نے؟‘‘ وہ حیران تھا کہ شرافت خاں جو زینب کے معاملے پر اپنے بارے میں ایک لفظ تک سننا گوارا نہیں کیا کرتا تھا آج یوں چپ سادھے کیوں بیٹھا تھا۔ ’’تم کچھ بولتے کیوں نہیں ؟‘‘ وہ صوفے سے اٹھ کر کرسی پہ جا بیٹھا تھا اور اب اس کی نظریں شرافت خان پر لگی ہوئی تھیں۔

          ’’میں نے کہا نا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ میں تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ شرافت نے بولنا شروع کیا۔  ’’تم آج بڑے جذباتی ہو رہے ہو،  لیکن اگر تم سننا ہی چاہتے ہو تو جیسے میں نے تمھاری بات آرام سے سنی ہے تم بھی سنو،  تم نے تو بڑی آسانی سے سارے الزامات میرے سر رکھ دیئے۔  میں مانتا ہوں کہ میں نے زینب کے نام پر کاروبار شروع کیا،  قرض لیا،  مکان بنایا،  تم جانتے ہو کہ میں نے یہ سب کچھ کیوں کیا!میں نے یہ سب کچھ اپنے بال بچوں ہی کے لئے تو کیا۔ باقی رہی زینب کی بات تو کیا اس کے پاس وہ سب کچھ نہیں جو وہ چاہتی تھی !‘‘

          ’’وہ کیا چاہتی تھی؟ فیکٹریوں میں دھکے کھانا،  برادری کی عورتوں کے طعنے سننا اور تو اور مرد بھی اس کے بارے میں اب باتیں کرنے لگے ہیں اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ آگے کچھ کہتے کہتے رک گیا تھا۔

          ’’دیکھا نا تم پھر تاؤ کھانے لگے۔ بھئی ہم گھر پر بیٹھے ہوئے ہیں آرام سے بھی بات ہو سکتی ہے۔  شرافت خان اب صوفے پر چوکڑی مار کر بیٹھ گیا تھا۔  ’’ہاں تو میں کہہ رہا تھا۔ ‘‘ اس نے پھر بولنا شروع کیا۔

          ’’بات دراصل یوں تھی کہ معاملہ زینب کی بہن کی شادی کیلئے پیسوں کا نہیں تھا وہ تو ایک معمولی بات تھی جسے اس نے طوفان بنا دیا تھا۔ دراصل وہ منصور کی منگنی اپنی بڑی بہن کی بیٹی وہ کیا نام ہے اس کا ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رضو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں رضو سے کرنا چاہتی تھی۔  تم نے تو دیکھا ہوا ہے نا اسے!۔  میں نے اسے سمجھایا کہ وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔  لیکن وہ مانتی ہی نہیں تھی۔ میں تم سے چھپاؤں گا کچھ نہیں۔  میرا ارادہ تھا کہ منصور کی شادی اس کے تایا کی بیٹی زہرہ سے ہو،  ابھی پچھلے سال ہی وہ کالج میں گئی ہے اور منصور کی ہم عمر بھی ہے۔  پچھلے سال جب میں پاکستان گیا تھا تو بھائی صاحب اور بھابھی جی کو زبان بھی دے آیا تھا۔  زینب کو میں نے بہت سمجھایا کہ منصور ہمارا ایک ہی تو بیٹا ہے۔  اس سے ہمارے خاندان کا نام چلنا ہے۔  بیٹی تو پرائی ہوتی ہے۔  ہم ایسا کرتے ہیں کہ منصور کی منگنی زہرہ سے کر دیتے ہیں اور جب وقت آئے گا تو سیمی کی منگنی اس کی پھوپھی کے بیٹے اعجاز سے کر دیں گے۔ اس طرح خاندانی رشتے اور بھی مضبوط ہو جائیں گے اور پھر جو کچھ ہم نے یہاں رہ کر پاکستان میں بنایا ہے اور جو تھوڑی بہت موروثی زمین اور خاندانی جائیداد ہے وہ بھی ان بچوں ہی کے پاس رہے گی،  لیکن زینب تو اس سلسلے میں بات بھی سننا گوارا نہیں کرتی تھی۔  اس پر تو بس اپنی بڑی بہن اور اس کی بیٹی کا بھوت سوار تھا۔  حنیف صاحب! دوش میرا نہیں !!  چھوٹی بہن کی شادی  کے لئے پیسوں کا تو محض اک بہانہ تھا،  بہانہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حنیف میاں !  زینب تو اپنی بات منوانے کے لئے اس حد تک آگے نکل گئی تھی کہ وہ مجھے بھی میری حدود اور حقوق جتانے لگی تھی۔  دراصل اس کے اردگرد والیوں نے پتہ نہیں اس کے کانوں میں کیا کیا بھر دیا ہوا تھا۔  مجھے ڈینش قانون بتانے لگی تھی۔  ہر چیز سے بے دخل کر دینے کی دھمکیاں دینے لگی تھی۔  بچوں کے سامنے ناشتے کی میز پر،  رات کے کھانے پر مجھے طعنے دیتے رہنا تو اُس کا وطیرہ بن چکا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم اور کافی پیو گے؟‘‘ اس نے حنیف سے پوچھا اور پھر جواب کا انتظار کئے بغیر میز پر سے دونوں خالی پیالیاں اُٹھا کر کچن کی طرف چل دیا۔

          ’’یہ آج میں کیا سن رہا ہوں ؟‘‘ حنیف نے اسے کچن کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر اپنے ذہن میں سوچا۔  ’’زینب نے تو خود منصور کیلئے مجھ سے حمیرا کے رشتے کیلئے زور دے دے کر ہاں کہلوائی تھی۔ ‘‘ وہ سوچ رہا تھا۔  ’’بھائی صاحب،  حمیرا اور منصور،  دونوں ڈنمارک کی ہی پیدائش ہیں،  بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہاں کے ماحول کو سمجھتے ہیں یہیں پڑھ رہے ہیں،  ان کو مستقبل میں اپنی ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کو سمجھنے کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہو گا،  ہاں یہی تو کہا تھا اس نے اور حمیرا کی ماں سے اس کی ایک تصویر بھی لے گئی تھی۔ ‘‘ اس کی سوچ کی ڈوری الجھنے لگی تھی۔ ’’نہیں یہ نہیں ہو سکتا،  یہ ضرور اس کی کوئی نئی چال ہے مجھے زینب سے بد ظن کرنے کے لئے ضرور یہ کوئی پانسہ پلٹنا چاہتا ہے۔  زینب ایسا کیوں کرے گی ! حمیرا کی ماں کو تو اس نے یہ بھی بتا یا تھا کہ اس نے خود منصور کے کہنے پر ہی حمیرا کے رشتے کے لئے ہاتھ پھیلا یا تھا۔ اور پھر اب حمیرا اور منصور بھی تو ایک دوسرے کو ملتے جلتے رہتے ہیں ابھی پچھلے دنوں ہی تو وہ ویک اینڈ کیلئے ہمارے ہاں ٹھہرا ہوا تھا اور حمیرا کے کالج کے کام میں اس کی مدد کرتا رہا تھا۔ ‘‘ وہ ابھی آگے کچھ سوچنے ہی والا تھا کہ کچن میں کسی چیز کے چھناکے سے گرنے کی آواز آئی اور اس کے خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا۔  ’’کیا ہوا؟‘‘ وہ بے اختیار بول پڑا۔ ‘‘

          ’’کچھ نہیں یار،  بس ایک پیالی گر کر ٹوٹ گئی ہے،  تھوڑی سی دیر اور لگے گی دراصل میں تازہ کافی بنا رہا ہوں،  تمھیں جلدی تو نہیں نا، بس چند ایک منٹ اور لگیں گے۔ ‘‘ شرافت نے وہیں کچن ہی سے جواب دیا۔

          حنیف ایک بار پھر اپنے خیالوں میں الجھ گیا تھا۔  ’’زینب تو کہہ رہی تھی کہ وہ منصور کی شادی میں دیر نہیں کرنا چاہتی اور اس کے کالج سے فارغ ہوتے ہی اپنے اس فرض کو پورا کر دینا چاہتی ہے۔  اسی لئے تو وہ بھی شرافت سے اپنے معاملے کو جلد از جلد ختم کر دینا چاہتی تھی اور وہ خود بھی اسی سلسلے میں آج شرافت کے ہاں آیا تھا۔ ہاں یا نہ!‘‘

          ’’کیا سوچ رہے ہو؟ ‘‘ شرافت نے کافی کی پیالیاں میز پر رکھتے ہوئے پوچھا۔

          ’’یہی کہ اب تمھارا کیا ارادہ ہے؟ زینب کے معاملہ میں،  کب تک اسے لٹکائے رکھنا چاہتے ہو؟ میں تم سے یہی سننے آیا ہوں۔ مجھے ہاں یا نہ میں دو ٹوک جواب چاہیے۔ ‘‘حنیف نے کافی کی پیالی اٹھاتے ہوئے کہا۔

          ’’حنیف میاں ! یہ معاملات جلد بازی میں طے نہیں کئے جا سکتے۔  میں نے زینب کو بہت ڈھیل دی ہے کہ وہ سنبھل جائے۔  میرے ساتھ وہ نہیں رہنا چاہتی نہ رہے لیکن بچوں کے معاملات میں میری ذمہ داریوں اور میرے حقوق کا تو لحاظ رکھے لیکن اس کے کان پر تو جوں تک نہیں رینگتی۔  میں تمھیں بتاؤں کوئی مہینہ ڈیڑھ مہینہ پہلے کی بات ہے میں کچھ خریدنے کیلئے ’’بلکا‘‘ گیا تھا وہاں میں نے زینب اور بچوں کو دیکھا،  میرا خیال ہے منصور نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا اور ملنے کے لئے میری جانب بڑھ ہی رہا تھا کہ زینب نے اسے پیچھے سے کھینچ لیا۔ خیر میں نے آگے بڑھ کر منصور اور سیمی کو بازوؤں میں لینا چاہا تو اس نے مجھے بھی ایک طرف دھکیل دیا۔  اور مجھے ڈانٹے لگی۔  میں نے آنکھ بچا کر سیمی کو پانچ سو کرونر کا نوٹ تھمانا چاہا تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا۔  زینب بک بک کر رہی تھی اور منصور سر جھکائے چپ چاپ کھڑا تھا۔ میراجی تو چاہا کہ زینب کو دو ہاتھ دکھا دوں لیکن میں بچوں کی وجہ سے خاموش رہا اور وہ ان کو لے کر چلی گئی۔ حنیف یار! اب تم ذرا اپنے آپ کو اس صورتِ حال میں ڈال کر دیکھو تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ مجھ پر کیا بیت رہی ہے!‘‘اس نے کافی کا گھونٹ لیا اور پھر حنیف کی جانب دیکھنے لگا۔

          ’’شرافت میاں !تم جو کچھ کہہ رہے ہو،  میں خوب سمجھتا ہوں۔  جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار تم ہی ہو لیکن اس سارے معاملہ میں جس طرح میں پس رہا ہوں اس کا تمہیں احساس تک نہیں۔  پاکستان سے گھر والوں کا دباؤ اور یہاں تمھاری مسجد کمیٹی والے اور برادری کے لوگ جو باتیں کرتے ہیں،  میں یہ اب برداشت نہیں کر سکتا۔   میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کی اب تمھارا فیصلہ کیا ہے؟ طلاق دیتے ہو یا نہیں ؟‘‘ اس نے اپنے سامنے میز پر پڑی کافی کی پیالی پرے سرکا دی تھی اور اب وہ شرافت کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے اس کے منہ سے صرف ’’ہاں یا نہ‘‘ میں سے ایک لفظ سننا چاہتا ہو اور بس!

          ’’تم نے تو بڑی آسانی سے کہہ دیا،  طلاق! ہاں ! ہاں یا نہیں !! تم مجھ سے فیصلہ چاہتے ہو،  مجھ سے! جس کی توہین کی جا رہی ہے جسے گھر گھر جا کر بدنام کیا جا رہا ہے کہ میں نے زینب پر ظلم کیا ہے۔ ‘‘ شرافت خان بڑے نرم لہجے میں بول رہا تھا لیکن اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ اس کے اندر کے غصے کی عکاسی کر رہے تھے۔  ’’تم شاید نہیں جانتے ہو کہ میں نے معاملے کو ختم کرنے کے لئے کیا کیا جتن کئے ہیں۔ میں نے زینب کے آگے ہاتھ جوڑے ہیں کہ اب ایک دوسرے کو برا بھلا نہ کہیں جو ہو گیا سو ہو گیا۔  اگر وہ واپس نہیں آنا چاہتی نہ آئے۔ جو کچھ وہ مجھ سے،  اس گھر سے لینا چاہتی ہے لے لے بس منصور کو میرے پاس رہنے دے۔  میں تو سب کچھ اس کے حوالے کرنے کو تیار ہوں۔  سیمی کو وہ اپنے پاس رکھے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔  حنیف میاں ! میں تو سب کچھ اس کے حوالے کرنے کو تیار ہوں۔  وہ الگ رہنا چاہتی ہے شوق سے رہے۔ تمھیں مجھ سے نہیں زینب سے بات کرنی چاہیے۔ اسے اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر سوچنا چاہیے۔  میں منصور کو ہر صورت میں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں اور اس کی شادی بھی وہیں ہو گی جہاں میں چاہوں گا۔  زینب کو اپنے فیصلہ کی کوئی تو قربانی دینی ہی پڑے گے۔  وہ جو چا ہے مجھ سے مانگ لے،  لے جائے سب کچھ جو بھی اس گھر میں ہے لیکن منصور کو تو میرے پاس رہنے دے۔  میری اتنی سی بات بھی وہ ماننے پر تیار نہیں۔  حنیف میاں !میں جانتا ہوں منصور مجھ سے کتنا پیار کرتا ہے۔  میں اس کے لئے سب کچھ کر سکتا ہوں۔ ‘‘ اس نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے حنیف کی جانب دیکھا جو اپنے ہی خیالوں میں تھا۔ ’’مجھے امید ہے تم معاملے کو سمجھ گئے ہو گے! کیا سوچ رہے ہو؟ شرافت نے پوچھا۔

          ’’میں سوچ رہا ہوں کہ تم اس بات کو اتنا ضروری کیوں قرار دیتے ہو کہ منصور تمھارے ہی پاس رہے۔  تم خوب جانتے ہو کہ زینب ایسا کبھی نہیں چاہے گی،  تم اس کی ممتا کی اس کمزوری کا ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہو۔ ‘‘حنیف کا لہجہ نرم پڑچکا تھا۔  ’’تمہیں ان کی صورت حال سے کوئی غرض نہیں۔  تم اچھی طرح جانتے ہو کہ زینب تم سے کچھ بھی نہیں مانگے گی۔  وہ تو صاف کہتی ہے کہ اسے تم سے کچھ بھی نہیں چاہیے۔ وہ تم سے مانگنے کی ہمت ہی نہیں رکھتی۔  مکان،  کار،  دکان سبھی کچھ تو اب تمھارے ہی نام ہے،  اور یہ تم خوب جانتے ہو۔  سرکاری طور پر تو وہ اب کچھ بھی مطالبہ نہیں کر سکتی۔  وہ تو صرف اس اذیت سے باہر نکلنا چاہتی ہے جس میں وہ مبتلا ہے اور یہ صرف تمھاری طرف سے طلاق دے دینے سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔  فیصلہ تمھیں کرنا ہے! تمہیں !! حنیف اپنی بات کہہ چکا تھا۔

          ’’نہیں،  بالکل نہیں۔ ذرا بھی نہیں !‘‘  شرافت خان بھی اسی ہی کے لہجے میں زور دیتے ہوئے بولا۔  ’’فیصلہ مجھے نہیں زینب کو کرنا ہے اور تم اس کی جس اذیت ناک صورت حال کو بار بار جتا رہے ہو میں جانتا ہوں کہ اس سے کسی کا بھی فائدہ نہیں۔ میں تو صرف ایک بات کہتا ہوں،  تم چاہو تو ان کی صورت حال کو  بدل سکتے اور بہتر بنا سکتے ہو اور مجھے بھی اس سے چھٹکارا دلا سکتے ہو اور اس میں تمھارا کوئی نقصان بھی نہیں۔  میں زینب کو طلاق دے دوں گا وہ منصور کو میرے ساتھ رہنے دے۔  چلو مجھے ان دونوں ماں بیٹے  کے آپس میں ملنے جلنے پر بھی اعتراض نہیں ہو گا اور یہ بات میں لکھ کر دینے کو بھی تیار ہوں۔ اور کیا چاہیے اسے؟‘‘ شرافت خاں نے ہاتھ بڑھا کر حنیف کی پیالی اس کے آگے سرکا دی تھی۔  ’’تم کافی تو پیو،  یہ ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ ‘‘

          ’’میں تم سے جو کہنے آیا تھا وہ کہہ چکا اب اگر تم نے ایک آدھ دن میں فیصلہ نہ کیا تو میں زینب سے یہی کہوں گا کہ پاکستان چلی جائے اور وہاں سے خود تمھیں طلاق بھجوا دے۔  وہاں تو یہ معاملہ ایک ہفتے میں طے ہو جائے گا۔ تم نہیں جانتے کہ گھر سے میاں جی مجھ پر کتنا دباؤ ڈال رہے ہیں انہوں نے ہی اب کہا ہے کہ زینب پاکستان آ جائے طلاق کا فیصلہ عدالت سے وہ خود کرا دیں گے۔  اب سوچ لو! فیصلہ تمھیں ہی کرنا ہے!!‘‘ اس نے اتنا کہا اور اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ ’’میں اب چلتا ہوں۔ میری مانو تو وکیل سے مل کر معاملہ ڈنمارک ہی میں طے کر لو اور اسے طلاق دے دو اب نہ وہ تمھارے پاس آئے گی اور نہ ہی منصور یا سیمی۔ وہ دونوں جوان ہیں۔  ان پر دباؤ نہ ڈالو،  ایسا نہ ہو کہ ان کے دل میں جو تھوڑی بہت تمھاری عزت ہے وہ بھی جاتی رہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شرافت میاں،  یہ ڈنمارک ہے دونوں بچے بالغ ہیں۔  وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ تمہیں شکر کرنا چاہیے کہ زینب نے انہیں اپنے ماحول میں رکھا ہوا ہے ورنہ تم بھی جانتے ہو کہ اس مادر پدر آزاد ماحول میں کیا نہیں ہوتا۔  ایشیائی طلاق یافتہ گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں کیا کیا گل کھلا رہے ہیں۔ ‘‘ اس نے اپنا کوٹ اُٹھایا اور اس سے پہلے کہ وہ جانے کے لئے دروازے کی جانب بڑھتا،  شرافت خان بھی صوفے سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا اور کچھ کہے بغیر حنیف کے چہرے پر نظریں جمائے دیکھ رہا تھا۔

           ’’اچھا اب میں چلتا ہوں،  تم سوچنا اب اور دیر نہیں ہونی چاہیے۔ ‘‘ حنیف یہ کہتا ہوا اب دروازے کے قریب پہنچ چکا تھا۔  شرافت خان آگے بڑھ کر ابھی دروازہ کھولنے ہی والا تھا کہ شاید اسے کچھ یاد آ گیا تھا۔  ’’تمھیں پتہ ہے کل منصور کے امتحان کا نتیجہ نکلنے والا ہے؟ میں نے اس سے بہت پہلے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اچھے نمبروں پر پاس ہوا تو اس کو کار لے کر دوں گا،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب تو شاید۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اس کی آواز کپکپانے لگی تھی اور اس نے دروازہ کھول دیا تھا۔  حنیف نے ایک لمحے بھر کے لئے اسے دیکھا اور پھر چپکے سے باہر نکل گیا۔

           شرافت خان نے دروازہ بند کیا اور واپس صوفے پر بیٹھ کر اپنی بچی کھچی ٹھنڈی کافی کی چسکیاں لینے لگا۔ ’’خنزیر نے سارا دن ہی خراب کر دیا،  نجانے صبح ہی صبح کدھر سے آ نکلا منحوس!،  گیدڑ کی اودلاد!!، اسے گھر  کے باہر کسی کار کے سٹارٹ کئے جانے کی ہلکی سی آواز سنائی دی۔

          ’’منصور کو کار خرید کر دے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مردود!‘‘ حنیف خان کار کا رخ موڑتے ہوئے بڑبڑایا۔ ’’اسے منصور کے کالج کے نتیجے کا پتہ ہے کہ کل نکل رہا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اس کی ماں کس عذاب میں مبتلا ہے۔ ‘‘سٹیرنگ پر اس کی گرفت مضبوط ہو گئی تھی۔  ’’اب تو اس معاملے کو میں ختم کرا کے ہی دم لوں گا۔ ‘‘ اس نے کار کی رفتار تیز کر دی تھی اور جلدی سے گھر پہنچنا چاہتا تھا۔ ’’کل منصور کا نتیجہ نکلے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ زیر لب مسکرایا۔ ۔ ۔ ۔ ’’۔ لیکن یہ بات مجھے پہلے معلوم کیوں نہ تھی؟‘‘ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ ’’حمیرا یا اس کی ماں نے بھی کوئی ذکر نہیں کیا اور ابھی تو پرسوں ترسوں ہی زینب بھی ہمارے ہاں آئی ہوئی تھی اس نے بھی تو کچھ نہیں بتایا تھا۔ شاید بیچاری بھول گئی ہو۔ اس کے اپنے غم کیا کم ہیں۔  ہو سکتا ہے وہ حمیرا کی ماں کو بتا گئی ہو اور وہ مجھے بتانا بھول گئی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔،  وہ منصور بھی تو ایک دو ہفتوں سے نظر نہیں آیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خیر اب کہاں جائے گا حمیرا کا امتحان اگلے سال ہو جائے گا اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ اپنے ہی خیالات میں گم گاڑی چلاتے ہوئے یہ بھی بھول گیا تھا کہ اسے گھر جانے کیلئے کس موڑ سے مڑنا تھا۔  اس نے ایک لمبا چکر کاٹ کر گاڑی کو اپنے گھر جانے والی سڑک پر ڈال دیا تھا۔ منگنی تو ہو ہی چکی ہوئی ہے اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حمیرا کی ماں شاید ٹھیک ہی کہتی ہے کہ حمیرا کے امتحان کا انتظار کئے بغیر منصور اور اس کی شادی کر دینی چاہیے۔ یہ اچھا خیال ہے۔  شرافت خان کو اپنی کرتوتوں کے لئے اور وقت بھی نہیں ملے گا اور منصور چاہے گا تو اپنی پڑھائی بھی جاری رکھ سکے گا اور حمیرا بھی اپنا امتحان دے دے گی۔ ڈنمارک میں ایسا تو ہوتا ہی ہے لڑکے لڑکیاں شادی کر کے بھی اپنی اپنی پڑھائی جاری رکھتے ہیں اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور بیشتر تو بن بیا ہے والدین ہوتے ہیں۔ پوچھو کہ کیا کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بن بیا ہے والدین! یونیورسٹی میں پڑھنے والے سٹوڈنٹ! ‘‘  وہ آپ ہی آپ مسکرایا اور بڑے زور سے گاڑی کی بریک لگا دی۔  وہ اپنے گھر کے سامنے تھا۔  گاڑی کو گیراج میں بند کر کے اس نے اپنا کوٹ لیا اور اسے اچھالتا، لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا ڈرائنگ روم میں جا داخل ہوا۔

           ’’بھئی کوئی ہے؟‘‘ اس نے آواز لگائی۔  وہ حیران تھا کہ ڈرائنگ روم میں کوئی موجود نہیں تھا۔  ’’حمیرا کی ماں،  بھئی کہاں ہو ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نکل آؤ پردے سے کوئی غیر نہیں یہ میں ہوں،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں !‘‘ وہ شاید اب شوخی پر اترا ہوا تھا۔

          ’’کیا شور مچا رہے ہیں آپ؟‘‘ اسے اپنے پیچھے سے آواز سنائی دی۔ ’’ارے تم یہاں صوفے پر لیٹی ہو اور میں آوازیں دے رہا ہوں۔ ‘‘ وہ بولا اور آگے بڑھ کر حمیرا کی ماں کے پہلو میں بیٹھ گیا۔  

          ’’کیا بات ہے سائرہ تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ اس نے سائرہ کے ماتھے کو چھوتے ہوئے پوچھا۔ ’’حمیرا نہیں آئی کالج سے کیا؟‘‘ وہ بولے جا رہا تھا۔ ’’تمھیں پتہ ہے کل منصور کا نتیجہ نکلنے والا ہے۔ ‘‘ وہ کار کی کنجی ہاتھوں میں اچھالتے ہوئے بولا۔

          ’’ہاں ہاں،  مجھے پتہ ہے!‘‘ سائرہ بولی اور اُٹھ کر بیٹھ گئی۔  اس کے بال بے ترتیبی سے کھلے ہوئے تھے اورچہرے سے تھکاوٹ ظاہر ہو رہی تھی۔

          ’’تمھیں اگر پتہ تھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا تھا؟‘‘ اس کے لہجے میں حیرانگی کا عنصر تھا۔

          ’’مجھے بھی آج ہی پتہ چلا ہے۔ زینب آئی تھی آج اس نے بتایا تھا۔  لیکن آپ کہاں چلے گئے تھے بن بتائے صبح سویرے ؟‘‘

          ’’زینب آئی تھی! خیر تو تھی؟‘‘ میں آج ذرا شرافت کی خبر لینے گیا تھا۔ جب تم حمیرا کو کالج چھوڑنے گئیں تو میں نے سوچا کیوں نہ آج اس سے بات کروں۔  ابھی وہیں سے آیا ہوں۔  کیا کہہ رہی تھی زینب؟وہ تو آج خوش ہو گی کہ کل منصور نتیجہ نکلنے والا ہے۔ ‘‘ وہ بولے جا رہا تھا۔  ’’یہ تم چپ چپ سی کیوں ہو؟‘‘

          ’’منصور پچھلے تین دنوں سے گھر نہیں آیا،  دوستوں کے ساتھ پولینڈ میں کہیں ہے اور وہیں سے کل صبح کالج پہنچے گا اپنا نتیجہ سننے اور ٹوپی لینے۔ ‘‘ سائرہ اتنا کہہ کر خاموش ہو گئی تھی اور اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔

          ’’تو اس میں فکر کی کیا بات ہے؟ کالج کے آخری دنوں میں نتیجوں کے موقعوں پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ آ جائے گا وہ بھی۔ ‘‘ وہ بولا۔

          ’’زینب بڑی پریشان تھی،  کہہ رہی تھی کہ منصور نے کل شام جب گھر فون کیا تھا تو وہ اپنے آپ میں میں نہیں لگتا تھا۔  بہکا بہکا سا تھا اور باتیں بھی اکھڑی اکھڑی سی کر رہا تھا۔ جیسے خدانخواستہ اس نے کوئی نشہ کر رکھا تھا۔ وہ پریشان تھی کہ کل نتیجے کے وقت وہ پہنچ بھی پائے گا یا نہیں۔ ‘‘

 

          ’’ارے اس عمر میں اور ایسے موقعوں پریہ کالجی لڑکے ذرا شوخ ہو جاتے ہیں۔ گھبرایا نہیں کرتے۔ وہ کل صبح دس بجے تک پہنچ جائے گا۔  پولینڈ سے پہلی گاڑی آٹھ ساڑھے آٹھ بجے کوپن ہیگن پہنچتی ہے۔ تقریب کا وقت تو ساڑھے دس بجے ہے نا؟ وہ پہنچ جائے گا! میں زینب کو فون کر دیتا ہوں۔  کل ہم بھی تقریب میں چلیں گے۔ ‘‘ وہ سائرہ کو دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’تم اتنی اداس سی کیوں ہوں ؟‘‘

          ’’اداس میں نہیں دراصل مجھے زینب کا بڑا احساس ہے۔ ‘‘ سائرہ اپنی آنکھیں پونچھتی ہوئی بولی۔ ’’وہ بیچاری پہلے ہی سے بہت دکھی ہے اور اب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ .یہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ کچھ کہتے ہوئے رک گئی تھی۔

          ’’تم کہنا کہا چاہتی ہو،  کیا زینب نے کچھ کہا ہے؟ حمیرا کہاں ہے،  کالج سے نہیں آئی ابھی کیا؟‘‘  وہ گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے بولا۔  

          ’’زینب کہہ رہی تھی کہ اگر اس کی طلاق کا معاملہ طے ہو چکا ہوتا تو وہ اب جب منصور کا نتیجہ کل نکلنے والا ہے وہ ایک آدھ مہینے میں اس کی شادی بھی کر دیتی اب نہ جانے اور کتنا انتظار کرنا پڑے گا اُسے۔ آپ گئے تھے شرافت کے پاس کیا کہا اس نے؟‘‘

          ’’وہ کمینہ تو منصور کے لئے زور دے رہا تھا۔  اسے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے اور اپنی بھتیجی زہرا سے اس کی شادی کرنا چاہتا ہے۔ وہ کہتا ہے زینب یہ مان لے تو وہ فوراً طلاق دے دے گا۔  ذلیل کا لمبا منصوبہ ہے،  لیکن میں نے اسے کہہ دیا ہے کہ زینب اب پاکستان جا رہی ہے اور پاکستان جاتے ہی اسے طلاق دے دے گی۔  اس کا رنگ اُڑ گیا تھا یہ سن کر۔ ‘‘  حنیف،  سائرہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔ ’’تم دیکھنا اب راہ پر آئے گا! یہ بھی اچھا ہے کہ منصور اور حمیرا کی منگنی کا اس کو کچھ بھی پتا نہیں۔ ‘‘

          ’’زینب خود بھی یہی کہہ رہی تھی کہ وہ پاکستان جا کر وہاں سے شرافت کو طلاق بھجوا دے گی،  لیکن وہ منصور کے بارے میں قدرے فکر مند تھی۔ اس کا خیال ہے کہ وہ پولینڈ میں نہیں، یہیں کہیں کوپن ہیگن میں ہے۔ ‘‘

          ’’پولینڈ میں ہے یا کوپن ہیگن میں،  اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔  تم بھی گھبرا گئی ہو،  ارے میں نے کہا نا ایسے موقعوں پر یہ کالجی لڑکے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی اُس نے اتنا ہی کہا تھا کہ اسے دروازے سے حمیرا کمرے میں داخل ہوتی دکھائی دی۔  ’’آؤ،  آؤ! حمیرا بیٹی ہم تمھاری ہی باتیں کر رہے تھے آؤ امّی کے پاس آؤ اسے سر میں کچھ درد سا ہے۔ ‘‘ وہ صوفے سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔  ’’اسے منصور کے پولینڈ میں ہونے بارے نہ بتانا!‘‘ اس نے سائرہ کے کان میں سرگوشی کی۔  حمیرا نے آگے بڑھ کر ماں باپ کو سلام کیا اور سیدھی اپنے کمرے کی جانب چل دی۔

          ’’لو بھئی اب حمیرا آ گئی ہے، میں ذرا شہر ہو آؤں۔  تم اُٹھو اور نہا لو،  تازہ ہو جاؤ گی۔ فکر نہ کرنا۔  کل منصور کی تقریب میں چلیں گے اور ہاں میں واپس آتا ہوں تو زینب کو فون کریں گے۔ حمیرا کو بھی کہنا کہ وہ بھی تیاری رکھے۔ ‘‘ اس نے اپنا کوٹ اُٹھایا اور دروازے کی جانب چل دیا۔

          ’’حمیرا کپڑے بدل کر آئی تو سائرہ ابھی تک صوفے پر ہی بیٹھی تھی۔  حمیرا بھی اس کے پہلو ہی میں بیٹھ گئی۔

          ’’امی،  ابو کہاں چلے گئے؟ آپ صبح تو ٹھیک تھیں یہ اچانک کیا ہو گیا؟‘‘ اس نے امی کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے پوچھا۔   

          ’’کچھ نہیں بیٹی! بس یوں ہی سستی سی ہے۔  تمھارے ابو شہر گئے ہیں۔ سائرہ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بولی۔  حمیرا تمھیں پتہ ہے نا کل منصور کا نتیجہ نکلنے والا ہے؟ اس نے پوچھا۔

          ’’ہاں امی! میں نے آپ کو بتایا نہیں۔  میں اس کے لئے کوئی اچھا سا تحفہ لینا چاہتی ہوں لیکن وہ تو نہ فون پر ملتا ہے اور نہ ویسے ہی۔  کالج سے فارغ  ہو کر بس دوستوں کا ہو کر رہ گیا ہے۔ میں نے کل فون کیا تو آنٹی نے بتایا کہ وہ کہیں دوستوں کے ساتھ نکلا ہوا ہے اور آج بھی میں نے اسے رستے میں اسٹیشن سے فون کیا لیکن گھر پر کوئی تھا ہی نہیں۔ اور تو اور پچھلے چند ایک دنوں سے تو سیمی بھی گھر پر نہیں ملتی۔  امی میں چاہتی تھی کہ منصور کی پسند کی کوئی خاص چیز اسے تحفہ دوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ حمیرا نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔  وہ بہت اداس دکھائی دیتی تھی۔

          وہ دونوں ماں بیٹی پہلے تو کچھ دیر خاموش ایک دوسری کے پہلو میں بیٹھی رہیں پھر سائرہ نے حمیرا کو تسلی دیتے ہوئے،  زینب کے آنے کا بتایا اور یہ بھی کہ اسے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ منصور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ’’یولینڈ‘‘ میں ہے اور کل صبح کی پہلی گاڑی سے پہنچ رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آج شام ہی آ جائے۔  سائرہ نے اپنی پریشانی کو چھپاتے ہوئے حمیرا کو تسلی دی۔ ’’تمھارے ابو تو گئے شہر،  اب مجھے بتاؤ کہ تم منصور کے لئے کیا تحفہ خریدنا چاہتی ہو؟ چلو ہم دونوں بازار چلتی ہیں،  تم اٹھو اور تیار ہو جاؤ۔ میں بھی منہ ہاتھ دھو لیتی ہوں۔ اٹھو!‘‘ حمیرا کچھ کہے بغیر اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف چل دی۔ سائرہ بھی صوفے سے اٹھ کر باتھ روم کی طرف چل دی تھی۔

          شاپنگ سنٹر میں مختلف دکانوں پر گھومتے،  حمیر ا کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ منصور کے لئے خریدے تو کیا،  اس کی ماں نے ایک دو چیزوں کے نام تو لئے لیکن حمیرا کو وہ پسند نہیں تھیں۔ آخر حمیرا نے ایک گھڑی پسند کی۔  قیمت بہت زیادہ ہونے کے باوجود سائرہ نے وہ گھڑی خرید کر ایک خوبصورت ’’گفٹ پیکٹ‘‘ میں پیک کرائی اور حمیرا کے حوالے کر دی۔ ’’تمھارے اور منصور کے لئے تو میں کچھ بھی خرید کر دینے کو تیار ہوں۔ ‘‘ دوکان سے باہر نکلتے ہوئے وہ بولی۔ حمیرا نے ماں کو بازوؤں میں لیتے ہوئے اس کی پیشانی پر ایک بڑا جذباتی بوسہ دیا ’’شکریہ امی آپ کتنی اچھی ہیں !‘‘ وہ بولی۔ بیٹی کو خوش دیکھ کر سائرہ مطمئن تھی اور دن بھرکی اپنی کوفت بھول چکی تھی۔

          جب وہ دونوں گھر پہنچیں تو حنیف خان ان سے پہلے ہی گھر آ چکا ہوا تھا۔ ’’تم دونوں ماں بیٹی کہاں گئیں ہوئی تھیں ؟‘‘ اس نے انہیں اندر داخل ہوتے دیکھ کر پوچھا۔

          ’’حمیرا منصور کے لئے کوئی تحفہ خریدنا چاہتی تھی۔ ‘‘ سائرہ بولی۔

          ’’بھئی،  ہمیں بھی تو دکھاؤ! کیا لائیں ہیں آپ ماں بیٹی؟‘‘ حنیف، حمیرا کو اپنے کمرے کی جانب جاتے دیکھ کر بولا۔

          ’’ابو ایک گھڑی ہے کل دیکھ لینا۔ ‘‘ حمیرا شرما سی گئی اور تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی اپنے کمرے کو چل دی تھی۔

          ’’آپ گھر کب آئے؟‘‘ سائرہ  نے پو چھا۔

          ’’یہی کوئی گھنٹہ پون گھنٹہ ہوا۔ میں جب آیا تو فون کی گھنٹی بج رہی تھی۔  میں نے فون اٹھایا تو یہ زینب تھی۔ وہی باتیں دہرا رہی تھی جو وہ صبح تم سے کہہ گئی تھی،  لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ حنیف آگے کچھ کہتے کہتے رک گیا۔

          ’’لیکن کیا؟ آپ رک کیوں گئے۔ کیا کہا تھا زینب نے؟ ‘‘ سائرہ بے چینی سے بولی۔  ’’آپ یقیناً کوئی بات چھپا رہے ہیں۔ بتائیے نا !کیا کہا تھا اس نے؟‘‘ وہ زور دے رہی تھی۔

          ’’پریشان تھی بیچاری۔ اپنے حالات کا رونا رو رہی تھی۔  میں نے تسلی دی اور یہ بھی بتایا کہ میں  آج ہی اُس ذلیل شرافت کے پاس بھی گیا تھا۔ میں نے زینب سے کہا کہ وہ تسلی رکھے اور ہو سکے