کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بولو

راجندر سنگھ بیدی


’’بولو‘‘   انسپکٹر گپتے نے عاجز ہو کر کہا۔ اس کی آواز اب باز گشت ہو کر رہ گئی تھی، بلکہ ٹھیٹ رلائی۔ جب اس نے ملزم سے پوچھا ’’ک،کون تھا اس قتل کے پیچھے؟‘‘ ملزم ونائی (ونائیک) بدستور خاموش تھا۔ گپتے اور اس کے ساتھی اجگاؤ نکر وغیرہ نے ونائی پر تیسری ڈگری کے سب گُر استعمال کیے تھے، اور اب وہ ڈر گئے تھے کہ کہیں مار کے نشان ملزم کے بدن پر رہ گئے، تو وہ خود دھر لیے جائیں گے۔ ریمانڈ کے چودہ دنوں میں سے صرف تین دن باقی تھے، جب کہ اُنھیں ونائی کو چارج شیٹ کے ساتھ میٹروپالیٹن مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا تھا، جو خود شکل ہی سے قاتل معلوم ہوتا تھا۔ قتل کے پیچھے سازش کا ثبوت فراہم کرنے کے سلسلے میں گپتے اور اجگاؤنکر کی ہر تفتیش اندھی کالی راہوں سے ٹکرا کر خاک و خون اُڑاتی، روتی ، چلاتی، ونائی ہی پر لَوٹ لوٹ آتی تھی۔ پیلا چوکی کا یہ پولس اسٹیشن راجدھانی کے معمار لیوفٹسن نے نہیں، کسی مقامی ہوَنّق نے بنایا تھا اور اس بات کا خیال رکھا تھا کہ کہیں ہوا کا رُخ حوالات کی طرف نہ ہو۔ فضا میں رطوبت اس کی سیلن کا باعث ہے۔ پھر اور باتیںتادیب، تھرڈ ڈگری وغیرہ۔ اب تک ان دیواروں پر ہیبت کے نقشے بن چکے تھے۔ انسان کے اندر کا ڈر باہر آ کر دیواروں پر مصوّر ہو گیا تھا۔ ان تجریدی تصویروں کے سامنے چینی، جاپانی ڈریگن، تبتّی مہاکال، افریقی بیہولا وغیرہ کچھ بھی نہ تھے۔ چھت پر جو شکلیں بنی ہوئی تھیں، انھیں دیکھ کر تو کوئی معصوم سے معصوم بھی چِلاّ اٹھتا— ’’گلّو کو میں نے مارا ہے، حسن توبہ کا قتل میں نے کیا ہے۔ توبہ‘‘… کرسی جس پر گپتے بیٹھا ہوا تھا، اس کا ایک بازو غائب تھا اور جہاں اجگاؤنکر براجمان تھے، اس کے دونوں… وہ دونوں بازو، دایاں اور بایاں، یا تو ونائی پر استعمال ہوئے تھے اور یا پھر ملکی سیاست میں حصہ لینے چلے گئے تھے۔ اوپر ہزار واٹ کا ہنڈہ اور ایسی کچھ اور چیزیں جمہور کی طرح نَو تھیں۔ حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے حبس باہر جھانک رہا تھا، جہاں ہال میں ڈیوٹی آفیسر تین چار غنڈوں کا بیان لے رہا تھا۔ وہ عادی مجرم ایک عجیب قسم کی بے نیازی سے بیٹھے پورے انسانی جُرم سے منکر ہو رہے تھے۔ گویا وارداتیں انھوں نے نہیں، ہمزادوں نے کی ہیں۔ ایک تو بار بار اپنا ہاتھ ران پر مارتا تھا، جیسے پہلوان لوگ اکھاڑے میں اترنے سے پہلے چیلنج کے انداز میں مارتے ہیں۔ کوئی ننگا ہو اور اپنی برہنگی کا احساس رکھے تو ہر آتا جاتا اسے دیکھتا ہے، لیکن اگر وہ اپنی اس صورت پر شرمائے نہ لجائے، اُلٹا ڈھٹائی سے دوسروں کو دیکھتا جائے تو سب کی نظر نیچی ہو جاتی ہے۔ کانسٹبل ، میٹروپالیٹن بمبئی کے نیلے بھوت، ہتھکڑیوں کے پس منظر میں بیکار، صرف حکم کے منتظر تھے۔ ان کا بس چلتا تو ہر شہری کے ہاتھوں میں وہ لوہے کا زیور پہنا دیتے۔ محرّر کا قلم جسے ہر وقت خارش رہتی تھی، دوات میں ڈوب رہا تھا اور وہ خود بے کار بیٹھا جماہیاں لے رہا تھا اور ایف، آئی، آر کا رجسٹر ان سب لوگوں کے کرم خوردہ مسوڑھوں اور جبڑوں کی طرح سے کھُلا سامنے میز پر پڑا تھا۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ بے کار کی کِن مِن کِن مِن…… یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ بغیر کسی وجہ، کسی سازش کے ونائی ایک خوبصورت نوجوان عورت کا قتل کر دے؟ ایشے (یشو وہا) کے گلے میں منگل سُوتر، ناک میں پھُلّی، بانہوں میں چوڑیاں جوں کی توں موجود تھیں۔ کارونر کی رپورٹ میں جبر تو ایک طرف کسی جھپٹ کا بھی اندراج نہ تھا۔ کوئی نئی یا پُرانی دشمنی بھی ثابت نہ ہو سکتی تھی، کیونکہ ایشے وڈالہ کے نمک والے، بیرک نما کوارٹروں میں اپنے شوہر نارائن اور دو بچوں کے ساتھ رہتی تھی، جب کہ ونائی اس سے فرسنگ پر ے— ورلی کے کولی واڑے میں، جہاں بومِل مچھلی کی بو چوبیس گھنٹے انسان کے جسم و ذہن کا احاطہ کیے، اس کے پور پور میں بس جاتی… ونائی کی محبوبہ شکود ڈالے کے پاس رہتی تھی البتہ — انیٹوپ ہِل کے نیچے، ہاربر برانچ کی ریلوے لائن کے بازو میں، جہاں بے شمار جھونپڑیاں برسات اور تڑاکے کے میل جول سے جیسے اپنے آپ اُگ آئی تھیں۔ مگر اس کا ایشے سے کیا تعلق؟ ایشے اور اس کا میاں برہمن تھے۔ شکو اور اس کے ماں باپ کولی، جو ڈاکٹر امبیڈکر کی شہ پر بدھ ہو گئے تھے۔ اس پر بھی نہایت ہی لاپذیر ہندو سماج، انھیں عزت سے بلانے کی بجائے بدھو کہتا تھا۔ موقع پڑتے ہی ان کی جھونپڑیاں تک جلا ڈالتا۔ انھیں جسمانی اور روحانی عذاب پہنچاتا۔ گویا بدھ ہو جانے پر بھی یہ لوگ اَچھوت کے اَچھوت ہی رہے۔ حالاں کہ تاریخ کے دھندلے ادوار میں انہی کولی، ماہی گیر لوگوں کی ایک حسینہ مگس گندھا نے پانڈوؤں کے باپ سے شادی کی تھی اور آج جن لوگوں کے سامنے ہمیں سر جھکانا پڑتا ہے، ان کی ماں بنی تھی… پھر نارائن کا رقیب بھی نہ تھا کوئی۔ البتہ الزام ہی لگانا، قانون کو پدانا ہو، تو ہر آدمی اس مرد کا رقیب ہوتا ہے، جس کی عورت ایشے ہو! ایشے معمول کی طرح گنپتی وسرجن کے لیے مرد عورتوں کے ساتھ سیوڑی والے ساگر کی طرف گئی تھی۔ بھوکے، ننگے لوگ… پیٹ میں پاپڑی نہیں، تن پہ چتھڑا نہیں۔ مگر جا رہے ہیں۔ ناچ اور گا رہے ہیں، چاہے سوکھا ہو چاہے برسات، وہ خود نہیں، بیوڑہ اُنھیں گھسیٹے لیے جا رہا تھا شاید۔ اور یا پھر مذہبی جوش، جو بیچ میں جنون ہو ہو اُٹھتا تھا۔ جب وہ کسی کی بھی بے عزتی کر دیتے۔ اندر کی کسی جلن سے کاروں کے شیشے توڑ دیتے اور کسی کی مجال نہ تھی انھیں کچھ کہنے کی۔ کیسے کہتے۔ کیونکہ پوری قوم، قومیت تھی ان کے پیچھے تھی اور شوسینا۔… جیسے محرم میں تعزیہ نکالنے والوں کے پیچھے پوری شیعہ قوم نہیں ہوتی؟ آٹھ بازوؤں والی دُرگا کے پیچھے بنگالی نہیں ہوتے؟ چاہے وہ گھاس ہوں یا نکسل باڑی؟ ایسے ہی جیسے بیوڑہ بنانے اور بیچنے والوں کے پیچھے انڈر ورلڈ ہوتی ہے، مافیا ہوتا ہے، ایک معمولی سے ٹریفک کانسٹبل کے پیچھے پوری سرکار ہوتی ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ونائی کے پیچھے صرف ونائی ہو؟ ایک، بے آڑ ، غیر مامون جذبے تلے گنپتی وسرجن والے مورتی لے جاتے، ناچتے گاتے ہوئے جا رہے تھے— گنپتی بابا مُوریا، پڑچے ورشی لَو کر آ۔ یعنی کہ اگلے برس جلدی آ۔ مگر یہ پرارتھنا تو پچھلے اور اس سے پچھلے برس میں بھی کی تھی ان لوگوں نے، پھر سمپتی دینے والے گنپتی بابا نے کیا دیا تھا انھیں؟کِس کِس کے گھر بھر دیے تھے؟ اُلٹا اس کی لمبی سونڈ اور پھیلی ہوئی توند کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا تھا، جیسے سب کے حصے کا وہ خود ہی کھا گیا ہے۔ ایرانی ہوٹل والے راشٹر پتی کی سفارش سے ایک پاو دیتے تھے۔ شکر بازار سے یونہی غائب ہو گئی تھی۔ گھاسلیٹ کے لیے میل میل، ڈیڑھ ڈیڑھ میل کے کیو لگتے تھے۔ اس کی نایابی کی وجہ سے گھروں میں چولھے جلنے بند ہو گئے تھے۔ کوئی زمانہ تھا عورت سونے کی کوئی چیز یا اچھی سی ساری دیے جانے پر اپنا سب کچھ دے بیٹھتی تھی، لیکن اب وہ گھاسلیٹ کے چھوٹے سے ٹِن پر چلی آئی تھی… گنپتی بابا مُوریا، کے وِرد سے یہ لوگ تھک جاتے تو کسی زٹل قافیے پر چلے آتے، جو پوری زندگی ہو گیا تھا۔ پاؤڈر والے دُودھ کی بالائی مار گئی! اور پھر ’مار گئی‘ کی مناسبت سے وہ اس کی   بے شمار گندی گردانیں کرتے ہوئے چلتے۔ بھیگی ہوئی چھوکریوں کے نمایاں پچھواڑوں کی چُٹکیاں لیتے، اپنے اور ان کے اگاڑے مشتعل کرتے… ایشے بھی ان کے ساتھ تھی۔ اس کا بدن جو ایک ہی مرد کے مسلسل مماس سے سو گیا تھا، جاگ جاگ اُٹھتا۔ اسے گمان بھی نہ تھا کہ پڑچے برس تو ایک طرف، پڑچے پل ہی میں ونائی کا رامپوری چاقو اس کے آر پار ہو گا اور یہ انوکھا مماس اسے کہاں سے کہاں پہنچا دے گا ،اور اس غریب کا اپنا وسرجن پانی کی بجائے آگ میں ہو گا۔ ساگر میں کا بڑوا نل کہتا ہے، آگ پانی سے بھی بڑی ہے۔ کیا معلوم؟ بائیس چوبیس کی ہو گی ایشے ۔ یعنی اس عمر کی جس میں کہ ہر عورت اپنے وجود ہی سے کہتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ میں ہوں۔ مغربی گھاٹ کی پیداوار ہونے کی وجہ سے سب ناریل اور ان میں کا سارا کھوپڑا اس کے بدن کو بنانے میں لگ گیا تھا۔ پھر کیا کیا گولائیاں، بالائیاں چلی آتی تھیں اس پر۔ اوپر کچھ ولندیزیوں، عربوں کا خون مل گیا تھا، جو بھارت کے پچھمی ساحل پر تجارت کرنے کے لیے آئے تھے۔ ان کے کارن نہ صرف ایشے کا رنگ سُرخ و سپید تھا، جلد ریشمیں، بلکہ آنکھیں بھی عرب ساگر کی طرح سے زمردّیں ہو گئی تھیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد جب نارائن کو اس کی لاش ملی، تو وہ اسے اپنے نمک والے کوارٹروں میں لے آیا۔ سب تماشائیوں کو ہنکال کر اس نے ایشے کو ایک کمرے میں بند کر لیا اور قریب ڈیڑھ دو گھنٹے اس کے ساتھ اکیلا رہا۔ جب دروازہ کھلا تو لوگوں نے دیکھا۔ ایشے دُلھناپے کا کاشٹا لگائے پڑی ہے، اُس کی ناک میں پھُلّی کی بجائے کھڑا ہے، پانْو کی انگلیوں میں بچھوا … کتنا پیار کرتا تھا نارائن اس سے۔ شادی کے بعد ایک بار جب ایشے مائیکے گئی تو کسی نے پوچھا— کَے دن رہ گئے بہو کے آنے میں؟ نارائن نے ترنت جواب دیا — بیس دن اور اکیس راتیں! جب نارائن مسکرا بھی نہ رہا تھا— ——اب ایشے کی ارتھی نکلی تو وہ رو بھی نہ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے آنسو کہاں چلے گئے تھے، یہ کیا معلوم ۔ ابھی اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سب اڑوس پڑوس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔ اپنے سُرخ کاشٹے، کفن میں ایشے اور بھی گوری چٹی لگ رہی تھی۔ وہ ایک ایسی نیند سو رہی تھی، جو شبِ زفاف میں دلہن چار چھ بار نکل جانے کے بعد سوتی ہے۔ ارتھی اُٹھ جانے کے بعد اس کے بچّے — ناتھو اور سبھا بار بار پوچھتے تھے— ’’آئی کُٹے؟ (ماں کہاں ہے؟) اور ایک راشٹر بھاشی جواب دیتا، آئی تو گئی…ایسی معمولی سی ترکیب وضع کر لینے سے اس کی لسانی شہوت تسکین کو پہنچ جاتی۔ صرف دو دن رہ گئے تھے ریمانڈ میں، جب کہ انسپکٹر گپتے نے ونائی کی تفتیش کا آخری پتھر مارا۔ ونائی اپنی جگہ سے ہل گیا۔ اس کے ہونٹ تھوڑا بھنچ کر فوراً ہی معمول کے ہو گئے۔ ایک ٹھنڈے غصّے میں جانے وہ کیا کچھ پی گیا۔ گرم غصّے میں آنکھیں لال ہو جاتی ہیں اور شریانوں کی گانٹھیں، ان میں سُرخ دھبّے ، خون کا دباؤ ایکا ایکی بڑھ جانے سے تنفس گھوڑ چال ہو جاتا ہے۔ نتھنے پھولنے لگتے ہیں،ہونٹوں پہ کف چلی آتی ہے، بدن کی رگیں اور پٹھے تن جاتے ہیں، کوئی نئے اور ممکن وار اپنے اوپر لینے کے لیے۔ مگر وہ — ونائی، رنگ کا کالا، بدن کا کھردرا ، جات کا کولی، جیسے گوشت پوست سے نہیں، کسی عقیدے کی فولاد سے بنا تھا۔ جسمانی یا روحانی مار کا اس پر کوئی اثر ہی نہ تھا۔ اس سارے سلسلے میں یا تو وہ آگے کی بہت سی صدیاں گن گیا تھا اور یا پیچھے کی۔ وہ دلت پنتھروں کے ساتھ فلرٹ کرتا تھا اور کبھی کبھی شیوسینا کے رسالے ’’مارمِک‘‘ میں کسی دوسرے نام سے لکھتا بھی تھا۔ اس وقت وہ تخفیف کے انداز میں کھڑا تھا، جیسے کوئی بھگت سنگھ دیس کی آزادی کے لیے پھانسی لگنے جا رہا ہو —الٹا اس کی آنکھیں کچھ اور سپیدی پکڑ گئی تھیں، کفن کی تہوں میں چھپی ہوئی نیلاہٹ اُمڈ آئی تھی، جن میں ساگر ڈوب رہے تھے، اپنے اندر پوری لوکائی کا وسرجن لیے ہوئے۔ اس کا غصّہ اوپر اور اوپر، لاشعور کی تہوں میں جا چھپا تھا، جہاں ساری خدائی ملتی ہے اور وہ — غصّہ، کسی ایک فرد کا ہو کر رہ جانے کی بجائے پورے اجتماع کا ہو جاتا ہے… باہر آج بھی بارش ہو رہی تھی اور انسان کے نفس، اس کی سائیکی کا بیڑا غرق کر رہی تھی۔ کہاں تو پورے جولائی اور اگست کے مہینے خالی گئے تھے اور کہاں اب ستمبر کے آخر میں یوں لگ رہا تھا، جیسے ورن دیوتا بیئر کے کیگ کے کیگ پی کے دنیا کو اپنی چھوٹی حاجت کا شکار بنارہا ہے۔ خریف کی فصل تباہ ہو رہی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ خدا فارسی نہ جاننے کی وجہ سے ربیع اور خریف کے معنی نہ سمجھتا تھا۔ فصلوں میں اسے کوئی تمیز نہ رہی تھی۔ وہ تھوڑا ہبرو، تھوڑی سنسکرت اور عربی میں شُد بُد رکھتا تھا اور بس۔ معلوم ہوتا تھا کہ اسے ایک ہی زبان آتی ہے، جس کا نام ہے— آہ! جب سرکار کے میٹ ڈیپارٹمنٹ کے لوگ، خدا کے نمائندے بنے، ایک بلیٹن شائع کر دیتے۔ خلیج بنگال میں ایک ٹرف، ایک کونڈا پیدا ہو گیا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ ٹائی فون بن کر اڑیسہ کے بے شمار گانووں کو تباہ کرتا ہوا ذہن کینل کے ضلع کی طرف نکل جائے۔ (جہاں کھاد کا کارخانہ ہے) اور یا پھر مدھیہ پردیش سے مراٹھ واڑ، بمبئی کی طرف چلا جائے۔ کچھ علاقوں کو تو وہ باڑھ سے برباد کرگیا، اور کینول میں سوکھا بو گیا اور لوگوں کو اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے چھوڑ گیا کہ ان کے لیے بھوکا مرنا اچھا ہو گا، یا ڈوب کر جان دینا؟ چاروں طرف ہاؤ ہو کا نقارہ بج رہا تھا— بے زبان ، بے سُر ، بے تال۔ — اور ونائی چپ تھا۔ چُپ، صابر جابر کے سامنے تن جائے تو بڑے بڑوں کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ سازش کی تفتیش کے سلسلے میں گپتے اتنا تنگ آ گیا تھا، کہ اس کا جی چاہتا تھا کہ پیٹی اور پتلون اتار کر ونائی کے سامنے لیٹ جائے… اسے ریمانڈ کے پہلے چند دن یاد آ رہے تھے، جب اس نے ونائی سے پوچھا تھا— ’’تم نے ایشے کو کیوں مارا؟‘‘ ونائی نے یونہی سا سر ہلا دیا۔ جس کا مطلب تھا، ایسے ہی۔ ’’اس لیے کہ وہ اونچی جات والی تھی؟‘‘ ’’نہیں۔‘‘ ’’امیر عورت تھی؟‘‘ ’’نہیں۔‘‘ ’’خوب صور