کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اب بس کرو ماں

ارشد نیاز


اُن دنوں کلکتے میں اتھل پتھل تھی ________

آزادی کی تحریک اپنے شباب پر تھی اور مجاہدین آزادی کی حصولیابی کے لئے آخر مرنے مارنے پر اتر آئے تھے جس کی وجہ سے انگریزی حکومت کا تختہ ہلنے لگا تھا۔

سڑکوں اور گلیوں سے نعروں کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔

’’انگریز ہندستان چھوڑو‘‘۔

انہی نعرے بلند کرنے والوں میں گڑیا ہاٹ کا رہنے والا شرون مکھرجی بھی شامل تھا۔ وہ بھی اُن لوگوں کی طرح نیتا جی کے اس فارمولے سے متفق تھا کہ انگریزوں کو بذریعہ طاقت مار بھگایا جائے مگر گاندھی جی کی اہنسا واد نے انہیں مجبور کر رکھا تھا کہ وہ صرف احتجاج کریں ، جلسے و جلوس نکالیں۔  اس نے تحریک میں ایک اہم سرگرم رکن کی حیثیت اختیار کر لی تھی کہ اسے ڈھاکہ جانا پڑا۔ اس کے پِتا جی وہاں سخت بیمار پڑ گئے تھے۔  وہاں بھی آزادی کے متوالے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔  اسی دوران پاکستان بنائے جانے کی بات اٹھی اور فسادات کا سلسلہ چل پڑا ________

ہندو مسلم جو کل تک ایک ساتھ انگریزوں کے خلاف متحد ہو کر لڑ رہے تھے آج ایک دوسرے کی گردن کاٹنے لگے۔

شرون سہما ہوا تھا۔

وہ کیا کرے ________ کہاں جائے؟

انہی حالات میں اس کے پتا جی بھی سورگ واس ہو گئے۔ وہ بہت گھبرایا مگر پتا جی کے دوست مسلمانوں نے اُسے سہارا دیا۔  وہ ان کے یہاں چھپا رہا۔

ہندستان کا بٹوارہ ہو گیا۔

ہنگامہ آرائی کے بعد آہستہ آہستہ حالات سازگار ہوئے اور اس کے پِتا کے دوستوں کی مدد سے اسے ایک کمپنی میں اچھا عہدہ مل گیا اور پھر وہیں ایک مہذب گھرانے کی لڑکی شیتل دیوی سے اس نے اپنی شادی رچا لی مگر اس پوربی پاکستان میں بھی انہیں مکمل طور پر سکون نہیں مل سکا۔  حالات دن بہ دن بگڑتے جا رہے تھے ________

آمرا بنگالی کی آواز گونجنے لگی تھی۔  بہاری اور بنگالی مسلمانوں کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی تھی۔

وہ یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔

مگر کہاں جائے ؟________

کیا اپنے دیس ؟____جہاں خونی بازار ابھی تک سرد نہیں ہو پایاتھا۔  کیا پچّھمی پاکستان؟ جہاں بہاری مسلمان بنگالی مسلمانوں سے ہی نفرت کر رہے تھے ! ________

اگر وہ، وہاں جائے گا تو دن دہاڑے ہی وہ لوگ اُسے ذبح کر دیں گے۔ بہتر ہے کہ وہ یہاں سے کسی دوسرے ملک کی طرف نکل جائے ،اپنے ستم سازآقاؤں کے ملک کی طرف_______

اس سلسلے میں اس نے جدوجہد شروع کی، مختلف با اثر ذرائع کا استعمال کیا اور بالآخر شیتل دیوی کے ساتھ لندن پہنچ گیا۔  وہاں بھی ایک کمپنی میں ملازمت مل ہی گئی۔

یہاں زندگی آرام سے کٹ رہی تھی مگر ٹیلی ویژن اور اخباروں کے ذریعہ ہندوستان و پاکستان کی خبریں اُسے مسلسل مل رہی تھیں ________

کلکتے میں فساد کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔

اسلام آباد بھی جل رہا ہے۔

ڈھاکہ میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔

ہندو مسلمان ایک دوسرے کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔

’’ہِے بھگوان، رحم کر‘‘__ اخبار پڑھتے پڑھتے وہ چیخنے لگتا ________

’’کیا ہم، اسی آزادی کے لئے لڑ رہے تھے۔  اگر ہاں تو ایسی آزادی پر لعنت ہے‘‘۔

وہ شیتل دیوی سے برجستہ کہتا۔  شیتل دیوی صرف اس کی ہاں میں ہاں ملا کر ہی رہ جاتی کیوں کہ اس نے محسوس کر لیا تھا________

یہ گورے بھی انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے ہیں۔

مگر وہ لوگ کیا کریں۔ زندگی کسی طرح سے گزارنی تھی۔  گزار بھی رہے تھے۔ اس طرح تقریباً دس سالوں بعد عین درگا پوجا کی نومی کے دن ان کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام ہی انہوں نے درگا رکھ دیا۔ درگا بالکل درگا ماں ہی کی طرح خوبصورت تھی۔ وہاں کے پڑوسیوں نے اُسے کھلونا بنا لیا تھا اور اپنی زبان کے مارے بیچارے انگریزوں نے درگا کو ڈورگا ہی بنا دیا ________

درگا بڑی ہو رہی تھی۔

اور ہندستان و پاکستان دوسری جنگ لڑ رہے تھے۔

درگا اسکول سے کالج جانے والی تھی ________ کہ مُکتی با ہنی فوج نے پوربی پاکستان کو آزاد کرا کے بنگلہ دیش بنا دیا۔

یہ خبر سن کر شرون کمار بہت خوش ہوا مگر درگا اس کی خوشی سے بیگانہ ہی رہی کیونکہ اس کے ذہن و دل میں یہاں کی زمین، یہاں کی فضا اور یہاں کے ماحول کی خوشبو اس قدر رچ بس گئی تھی کہ باقی دنیا اس کے لئے بے معنی ہو گئی تھی۔ ۔۔

شرون اُسے گھنٹوں بیٹھا کر ہندوستان کی کہانیاں سنایاکرتا تھا کہ کس طرح انگریزوں نے ہندستان میں قائم مسلم حکومتوں کے تختے الٹ دئیے اور مسلم حکمراں اپنی لاپرواہی اور عیاشی کی وجہ سے کمزور ہو کر انگریزوں کے غلام بنتے گئے۔

درگا سب کچھ خاموشی سے سنتی اور پھر کچھ سوچ کر سوال کرتی۔

’’ ہندستان تو ہندوؤں کا ملک ہے، پھر مسلمان وہاں حکمراں کیسے بن گئے ؟ ! ‘‘

بیٹی کے سوال پر باپ مسکراتا اور میز پر رکھ ہوئے دو پیپرویٹ اٹھا کر ایک کو رکھتا اور دوسرے سے اُسے دھکا دیتا اور بالکل مفکرانہ انداز میں کہتا۔

'' Its the effect of force and motion"

درگا یہ سن کر مسکراتی اور ایک انگلی سے سرکھجلاتی پھر تجسس بھری نگاہوں سے باپ کو دیکھ کر پوچھتی ________

’’پاپا ، کیا واقعی مسلمان طاقتور ہوتے ہیں‘‘۔

’’ ہوتے تھے ، انہوں نے اپنی جانبازی اور ایک اللہ پر بھروسہ کر کے پوری دنیا کو دہلا دیا تھا۔  یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کم تعداد میں قیصر و کسریٰ کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا تھا  اور جب ہندوستان کا رُخ کیا تو ہمارے یہاں کے راجاؤں کو اپنے دربار کا غلام بنا لیا۔ اپنے دورِ حکومت میں انہوں نے بے شمار مندروں کو لوٹا ، مسمار کیا اور کچھ کو مسجد میں تبدیل کر دیا‘‘۔

’’کیا ہندوؤں نے احتجاج نہیں کیا؟‘‘۔

’’ کیسے کرتے کہ اُن مندروں میں عیاشی ہوتی تھی ‘‘۔

باپ اتنا ہی کہہ کر خاموش ہو جاتا اور وہ اپنے آپ کوسمجھاتی رہی۔

’’مذہب کچھ نہیں ہے بلکہ ایک حربہ ہے نادان لوگوں پر حکومت کرنے کا۔ مجھے یہ پسند نہیں ہے اور میں ان بیکار باتوں میں اپنا وقت ضائع بھی نہیں کرنا چاہتی۔ اس سے بہتر ہے کہ آدمی روحانیت کی طرف مائل ہو جائے ‘‘۔

بیٹی کو متفکر دیکھ کر شرون کمارمسکراتا ہوا اس کے گال تھپتھپاتا۔

’’ تمہیں ایک بار ہندستان ضرور جانا چاہئے۔  تمہیں جا کر دیکھنا چاہئے کہ تمہارے آباء و اجداد کا ملک کتنا خوبصورت ہے اور کتنے عجیب و غریب تواریخ کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے‘‘۔

بیٹی باپ کے مشورے پر مسکراتی اور پھر اٹھ کر چلی جاتی۔  شرون کمار وہیں بیٹھے دیر تک کچھ سوچتا رہتا۔  اس کے سامنے کلکتے کے مناظر گھومنے لگتے۔ بنگلہ دیش کی سڑکیں ، گلیاں چکر کاٹنے لگتیں اور اسے احساس ہونے لگتا کہ لندن میں آ کر انہوں نے اچھا نہیں کیا۔ اس کے بچے اپنی سنسکرتی سے دور ہو گئے۔  وہ انہیں اس ملک کا قدر کرنا نہیں سکھا سکے جو دیوی دیوتاؤں اور اوتاروں کا ملک رہا ہے۔ سوچتے سوچتے ندامت محسوس کرنے لگتا مگر یہ سب کچھ وقتی ہوتا، جیسے ہی وہ اپنی مصروفیت میں مشغول ہو جاتا، سب کچھ بھول جاتا اور اس درمیان الاپتا رہتا__

’’بہتر زندگی گزارنے کے لئے مسلسل محنت کی ضرورت پڑتی ہے‘‘۔

وقت یونہی آگے بڑھتا رہا۔ ۔۔

اب درگا اپنی زندگی کے سفرمیں ہم سفر تلاش کر چکی تھی۔  لڑکا نہایت ہی خوبصورت تھا اور Import Exportکا بزنس کرتا تھا۔ شرون کمار اور ان کی پتنی کو بیٹی کے انتخاب پر کوئی اعتراض نہیں تھا لہٰذا دونوں کی شادی کر دی ________

شادی تو ہو گئی لیکن مسئلہ ہنی مون کا تھا کہ کہاں منایا جائے۔  ان کی ماں شیتل دیوی بضد تھی کہ وہ کلکتہ ہی جائیں کہ اس درمیان درگا پوجا بھی ہے اور وہاں گھومیں پھریں اور اپنے آبا و اجداد کی جگہوں کے مناظر سے لطف اندوز ہوں ________

ماں کی ضد ، باپ کی خواہش اور بیٹی کی ہندوستان دیکھنے کی تمنا نے آخر یہ فیصلہ کروا ہی لیا کہ وہ کلکتہ جائیں گے مگر لڑکا اس فیصلے سے مطمئن نہیں تھا ________

اس کا کہنا تھا کہ جاہل ہندوستانی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ آئے دن کہیں نہ کہیں آگ لگ رہی ہے۔ ہر طرف نراجیت قائم ہو گئی ہے۔ وہاں زندگی محفوظ نہیں ہے، ایسے میں ہم نہ جائیں تو بہتر ہو گا۔ مگر اس کی ایک نہ چلی شرون کمار نے اسے مشورہ دیا کہ جاؤ دیکھو انگلینڈ کے لوگوں نے کس طرح ہندستان پر اپنا پرچم لہرایا تھا۔  کس طرح ہندوستانی مٹھی بھر لوگوں کا غلام بن گئے تھے۔  انگلینڈ کے راجاؤں کی نشانیاں بھی وہاں اس قدر تازہ ہیں جیسے ابھی ابھی ہم وہاں تھے۔

شرون کمار کی باتوں سے وہ بھی متاثر ہوا اور درگا کے ساتھ کلکتہ جانے کی تیاری کرنے لگا ________

وقت مشکلوں کو آسان بناتے ہوئے چپکے چپکے گزرتا رہا اور وہ کلکتہ کے سفر پر روانہ ہونے کے لئے کھٹے میٹھے تجربات سے گزر کر آخر ہوائی جہاز تک آ ہی گئے ________

اور جہاز ________

کچھ ہی توقف کے بعد اڑان بھرنے کے لئے رن وے پر سانپ کی طرح رینگنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہوا میں پرواز کرنے کے لئے ___ Pick up___لیا ہی تھا کہ تمام مسافر سکتے میں آ گئے ________

جہاز Hijackہو چکا تھا۔

اغوا کار فلسطینی تھے ________

اور وہ بار بار دھمکی دے رہے تھے کہ اگر ان کی مانگ پوری نہیں کی گئی تو وہ پورے جہاز کو اڑا دیں گے۔

مائیکل درگا کی طرف حیرتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

درگا لا شعوری طور پر کہہ رہی تھی !

’’یہ ہندستان نہیں ہے۔ یہ لندن ہے لندن ‘‘۔

مائیکل درگا کے طنزیہ جملے پر صرف مسکرا رہا تھا۔

مسافروں میں سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی ________جہاز مسلسل پرواز کر رہا تھا

 

نامعلوم منزل کی طرف۔ ۔۔

کچھ کے سروں پر موت رقص کر رہی تھی۔  کچھ کے دل تیزی سے دھک دھک کا ورد کرنے لگا تھا اور کچھ اپنی موت سے پہلے ہی دھیرے دھیرے دم توڑ رہے تھے۔

درگا اناپ شناپ بکتی جا رہی تھی کہ ان کے کلکتہ دیکھنے کا خواب دھواں بن کر ہوا میں تحلیل ہو رہا تھااور مائیکل درگا کے ماں باپ کے غلط مشورے پر برہم ہو رہا تھا ________

اگر وہ ضد نہیں کرتے تو وہ سوئٹزرلینڈ میں ہنی مون منانے کے لئے چل پڑے ہوتے۔

وہ اندر ہی اندر بُدبُدا  رہا تھا۔

’’ہندستانی جس قدر بھی ترقی کر جائیں آخر بے وقوف ہی رہتے ہیں۔ ‘‘

پھر وہ اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے یونہی چلایا۔

کہیں سے آواز آئی۔

ماسکو ماسکو

یہ سنتے ہی اُسے نہ جانے کیا سوجھی۔  اس نے درگا کو اچانک Kissکیا اورآہستہ سے کہا۔

’’سامنے موت ہے ، بہتر ہے ہم کچھ رومانس کر لیں‘‘۔

درگا نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا۔

’’ یہ وقت رومانس کرنے کا نہیں بلکہ گاڈ کو یاد کرنے کا ہے‘‘۔

’’تم یاد کرو اپنے گاڈ کو ، میں دیکھتا ہوں ‘‘

مائیکل یہ کہتے ہوئے تیزی سے اٹھا اور ایک نقاب پوش کی طرف جھپٹا ہی تھا کہ دوسری طرف سے گولی چلی اور درگا کے سامنے اندھیرا چھا گیا ________

جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو ایک اسپتال میں پایا۔ اسے اس اسپتال میں زیادہ تر اُس جہاز پر سوار مسافر ہی نظر آئے۔

وہ چیخی ________

مائیکل ، مائیکل !

تبھی کسی نے اس کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔

’’سوری میڈم!، آپ کے شوہر کو جہاز میں ہی مردہ پایا گیا ‘‘

یہ سن کر وہ بہت روئی مگر اس کے آنسو پوچھنے والا یہاں کوئی نہیں تھا۔ آخر اپنے آپ اس کی ہچکیاں بھی بند ہو گئیں۔ اب وہ ایک نوجوان ڈاکٹر سے اس انداز میں پوچھ رہی تھی جیسے اب وہ بالکل تنہا رہ گئی ہو۔ ۔۔

آخر اغوا کاروں کا کیا ہوا؟

’’ وہ سب مارے گئے ‘‘

’’ مگر انہوں نے جہاز کو اغوا ہی کیوں کیا تھا؟‘‘

’’وہ سرزمینِ فلسطین سے اسرائیل کے وجود کو مٹانا چاہتے ہیں‘‘

’’تو پھر وہ اپنی جنگ اسرائیل میں ہی کیوں نہیں لڑتے‘‘۔

’’ اس لئے کہ انہی طاقتوں کے بل پر اسرائیل کا وجود قائم ہے‘‘۔

ڈاکٹر کے جواب سے وہ مطمئن نہیں ہوئی ________

کچھ سوچتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور کھڑکی کے پاس آ کر باہر دیکھنے لگی۔ متحدہ روس(USSR) کا جھنڈا پھڑپھڑا رہا تھا۔

وہ سوچتی رہی ________

یہ اژدہا ایک دن دنیا کو نگل لے گا۔

وہ دیکھتی رہی ________

کارواں در کارواں مفلسی اور بھوک کی آگ سے نجات کا راستہ تلاش کرتا رہا اور لینن کے قد آور مجسمہ کے نیچے سے جم غفیر گزرتا رہا ________

وہ یہاں کچھ دن رہنا چاہتی تھی ________

معلوم کرنا چاہتی تھی اس دیو قامت ملک کے بارے میں جواب دوسری عالمی جنگ کے بعد Super Powerبن چکا تھا کہ یہاں کے لوگ کس طرح زندگی گزارتے ہیں۔ کس طرح ایک دوسرے کے دکھ اور درد کو سمجھتے ہیں اور کیسے بلا تفریق ایک دوسرے کا کامریڈ بن کر رہتے ہیں ، لہٰذا اس نے اپنے سفارت خانے سے رجوع کیا اور یہیں ایک کم کفایتی ہوٹل میں شفٹ ہو گئی جب کہ باقی مسافر اپنے وطن لوٹ چکے تھے اور ساتھ میں اس کے ممی و پاپا کے لئے اس کا اپنا لکھا ہوا خط بھی لے کر گئے تھے جس میں مائیکل کے کھو جانے کے غم کا شدت سے اظہار ہوا تھا ________

درگانوکری حاصل کرنے کے لئے یہاں زیادہ پریشان نہیں ہوئی بلکہ معمولی کوشش سے ہی ایک پرائیوٹ آفس (Private Office) میں کلرک کی حیثیت سے نوکری کرنے لگی۔  اسی آفس میں اسے چیخوف سے ملاقات ہوئی اور پھر ________

بات آگے بڑھی اور بغیر ماں باپ کی اجازت کے اس نے چیخوف سے شادی کر لی۔

چیخوف ایک ذہین نوجوان تھا ________

اُسے روس کی عظمت بہت پیاری تھی مگر اسے ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ وہ کسی ہندوستانی لڑکی سے ہی شادی کرے گا۔ یہی و جہ تھی کہ وہ درگا کو شریک حیات بنا کر بہت خوش تھا۔

درگا اب چیخوف کی خوشی تھی اور چیخوف کے لئے درگا اس کی زندگی تھی۔  وہ ایک شوہر کی حیثیت سے درگا کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتا تھا مگر درگا کا زمانہ ماضی برابر اس کے تعاقب میں لگا رہا ________

وہ خوشی کی کھیتی اُگانا چاہتی تھی۔

مگر ایک خوف ________ ایک انجانا ڈر اس کی چھٹی حِس (Six Sense) سے نکل کر اس کے ذہن پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔

اس سرزمین سے اٹھنے والی بغاوت کی بو اس کے نتھنوں کو اپنی زد میں لے رہی تھی۔

کیونکہ ________

اُس نے یہاں لوگوں کو اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا کہ وہ کتابوں میں پڑھی تھی۔

مفلسی ، بھوک کا نہ تھمنے والا رقص شباب پر تھا۔

سڑکوں، گلیوں اور کوچوں میں بدمعاشوں کا راج بھی اور نوجوانوں میں لینن ازم کے خلاف ایک نفرت بھی۔

لوگ سہمے ہوئے تھے ________

کب کہاں گولی چلے گی۔  کون کیسے مر جائے گا۔

گھر سے نکلا ہوا مسافر واپس لوٹ کر آئے گا بھی یا نہیں ، یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔

اس سے اچھا میرا انگلینڈ ہی تھا۔

خوف کی سرزمین پر اپنا گھر بسانے والی درگا اندر ہی اندر بُدبُدا کر رہ جاتی۔

کسی آوارہ پرندے کی طرح یہاں سے اڑ جانا چاہتی تھی۔

مگر چیخوف کی محبت نے اس کے پیروں میں بیڑیاں ڈال رکھی تھیں اور وہ چیخوف کی خوشیوں کا حصہ بنتی گئی۔ جس کے عوض میں اس رشین خوبرو نوجوان کو سرکاری ملازمت حاصل ہو گئی اور وہ زینہ بہ زینہ ترقی کرنے لگا کہ اسی دوران افغانستان سے Russian Militantsکی واپسی کا اعلان ہو گیا اور چیخوف سفارت کار کی حیثیت سے بغداد میں Nominateکر دیا گیا لہٰذا درگا بھی شوہر کے ساتھ ولیوں کے دیش میں آپہنچی۔۔۔

یہاں آ کر اسے عجیب و غریب تجربے حاصل ہوئے۔۔۔

اسے معلوم ہوا کہ مسلمان کتنے حیرت انگیز لوگ ہوتے ہیں۔  اپنے مہمانوں کی کتنی عزت کرتے ہیں۔  اپنے پڑوسیوں کا اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ وہ اپنے گھر کے ممبروں کا خیال رکھتے ہیں ________

ان کی دنیا دیگر قوموں کی دنیا سے بالکل الگ تھلگ اسے نظر آئی۔

 وہ مزید ان کے متعلق جاننے کا مشتاق ہوئی اور تواریخ کا سہارا لے کر انہیں سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہاں آ کر اس کے طور طریقے اسلامی طرز کے ہونے لگے تھے۔ کوئی انجانی سی طاقت اُسے مسلمانوں کے مذہب کی طرف مائل کرتی چلی جا رہی تھی۔

وہ یادگاروں کی طرف بڑھی ________

نجف میں جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی درگاہ پر گئی تو اسے احساس ہوا کہ وہ اس دور کی خاتون ہے جب اسلام عرب میں پنپ رہا تھا۔کربلا میں حسینؓ کی یادوں کا سیلاب امڈ آیا ________

اُس نے محسوس کیا ________ اس کے اندر کربلا کا میدان ظاہر ہو رہا ہے اور وہ اس میدان میں ایک اکیلی کوفیوں کے حصار میں چیخ رہی ہے ________

خدا سے ڈرو۔ اس کے قہر سے پناہ مانگو ، لوٹ جاؤ۔

مگر اُس نے اپنے بدن کو تیروں سے چھلنی ہوتے ہوئے محسوس کیا۔

اُف خدایا! یہ تیری کیسی بندگی ہے‘‘

بالآخر وہ چیخ پڑی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تھے۔

’’وہ کیوں رو رہی ہے؟ ! ‘‘

اُس نے اپنے آپ سے پوچھا مگر اسے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس دن وہ بہت مطمئن تھی۔  چیخوف اسے دیکھ کر بول پڑا۔

دیکھا ، یہ مسلمانوں کا وہی شہر ہے جہاں سے یہ نصف دنیا پر اپنی حکومت کے احکام جاری کیا کرتے تھے مگر اب سرحدی اختلاف نے ان میں نفاق کا بیج بو دیا ہے۔ یہ ملک تقریباً پانچ سالوں سے ایران سے مسلسل لڑ رہا ہے مگر ان دونوں میں اب تک کسی بھی مصالحت کی صورت نظر نہیں آتی‘‘۔

درگا نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔

’’مجھے ان کی موجودہ ہسٹری سے کہیں زیادہ ان کی مذہبی تواریخ نے متاثر کیا ہے‘‘۔

چیخوف ہنسنے لگا ________

’’یہ آج بھی وہی ہیں جو برسوں پہلے تھے ‘‘۔

درگا اس کی باتوں پر غور کرتی اور مسلمانوں کی تواریخ کے مطالعہ میں جٹ جاتی۔ ۔۔

یوں دن ________ہفتوں میں

ہفتے ________ مہینوں میں

اور مہینے ________سالوں میں ، تبدیل ہو رہے تھے کہ اچانک روس میں بغاوت کی آگ لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے گورباچوف کی قیادت میں متحدہ روس ٹکڑوں میں بٹ گیا۔

درگا چیخوف کے ساتھ روس واپس آ گئی ________

یہاں دوبارہ آنے پر اس نے انگلینڈ ماں اور پِتا جی کے پاس ٹرنک کال کیا مگر اسے وہاں سے کوئی خبر نہیں ملی ،لہٰذا پِتا جی کے ایک قریبی دوست سے رجوع کیا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے جانے کے بعد ہی اس کے پِتا جی شیتل دیوی کے ساتھ کلکتہ لوٹ گئے ہیں۔

اس نے معلوم کیا ________

وہ لوگ کلکتہ کہاں گئے ہوں گے؟

اُسے با اثر ذرائع سے خبر ملی ________

اُن کے کچھ پرانے دوست گڑیا ہاٹ میں ابھی بھی موجود ہیں اور ویسے بھی اُن کی اچھی خاصی پراپرٹی ابھی بھی وہاں موجود ہے لہٰذا وہ وہیں جا بسے ہیں۔

یہ خبر ملتے ہی درگا چیخوف کو کلکتہ چلنے پر اصرار کیا مگر چیخوف آج کل اس قدر مصروف ہو چکا تھا کہ وہ کہیں جا نہیں سکتاتھا پھر بھی درگا کا دل رکھنے کے لئے اس نے کہا _______

’’درگا ، تم اکیلی کلکتہ چلی جاؤ ‘‘۔

درگا نے کچھ سوچتے ہوئے بہت دھیمے لہجے میں جواب دیا۔

’’دیکھو ، ان دنوں تمہارے ملک میں جنگ جیسی صورت پیدا ہو گئی ہے۔  روپئے کی قیمت روزبروز گرتی جا رہی ہے۔  مہنگائی آسمان چھونے لگی ہے۔  ایسا کرتے ہیں کہ ہم دونوں ساتھ ہی چلیں‘‘۔

چیخوف نے اس کی بات پر صرف سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔

’’اچھے وقت میں وطن میرے ساتھ تھا۔ آج وطن بُرے وقت میں ہے، تو میں اسے چھوڑ دوں ، ہرگز نہیں ، اور ویسے بھی میرا تبادلہ سفارت کار کی حیثیت سے امریکہ ہونے والا ہے۔ میرا مشورہ ہے، تم میرے ساتھ امریکہ ہی چلو ‘‘۔

درگا چیخوف کی بات سے متفق ہو گئی اور وہ کچھ ہی دنوں میں واشنگٹن جا پہنچے _____

روس پر امریکہ کے بڑھتے ہوئے سیاسی ، سماجی اور معاشی دباؤ کی وجہ سے چیخوف پر بھی کام کا بہت زیادہ بوجھ بڑھ گیا تھا۔  اسے فرصت نہیں ملتی کہ وہ درگا کو امریکہ گھمائے ، لہٰذا درگا نے بھی ایک قدم آگے بڑھایا اور بہت جلد کچھ اہم سہیلیاں بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ جن میں پاکستانی سفیر کی بیگم رابعہ خاتون سے اس کی بہت زیادہ قربت ہو گئی جب کہ باقی وہائٹ ہاؤس میں کام کرنے والی تھیں اور کچھ سوشل ورکرس تھیں۔  ان کا ملنا جلنا رابعہ کے گھر ہی ہونے لگا۔ ۔۔

رابعہ نہایت ہی مہمان نواز تھی۔  اپنی سہیلیوں سے کبھی بھی اکتاتی نہیں تھی۔  ان کی گفتگو کے موضوع میں گھریلو زندگی سے لے کر بین الاقوامی مسائل شامل رہتے تھے اور کبھی کبھی فلموں اور سیاست دانوں کے معشوقوں کے متعلق بھی وہ جم کر باتیں کرتیں۔آج بھی وہ کچھ اسی طرح کی باتوں میں سرگرم تھیں کہ درگا ہنستی ہوئی بول پڑی ________

’’مائی ڈیئر رابعہ ! چھوڑو ان باتوں کو ، دیکھو اپنے ملک کے پرائم منسٹر کو جب سے وہ بیٹھی ہیں بچے پر بچہ جنتی جا رہی ہیں‘‘۔

رابعہ کے ساتھ باقی سہیلیاں بھی یہ سن کر ہنس پڑیں۔

’’ارے بھائی اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے۔ وہ جہاں پرائم منسٹر کے فرائض ادا کر رہی ہیں وہیں ایک عورت ہونے کا فرض بھی ، مگر درگا تم یہ بتاؤ ، تمہاری شادی ہوئے ایک عرصہ ہو گیا مگر تم ابھی تک ما ں کیوں نہیں بن سکی‘‘۔

درگا یہ سنتے ہی کچھ اداس سی ہو گئی مگر میڈم کوری نے اسے سنبھال لیا۔

’’رابعہ یہ جدید عورت ہے جب چاہے گی ماں بن جائے گی‘‘۔

رابعہ ہنس پڑی۔ درگا کی طرف دیکھتے ہوئے بول پڑی۔

’’ماں بن جانا ، وہ بھی اس دور میں آسان کام نہیں ہے۔ یہ درگا ہی جانتی ہو گی ‘‘۔

آخر درگا کو مجبوراً صفائی پیش کرنی پڑی۔

’’میرے دادا کی جب شادی ہوئی تھی تو میرے پِتا جی کے پیدا ہونے میں دس سال لگ گئے تھے۔  میری پیدائش ، میرے ماتا و پِتا جی کی شادی کے بارہویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی ‘‘۔

میڈیم کوری ٹپک پڑی۔

’’اس لئے تمہیں ماں بننے میں ابھی کچھ اور وقت لگے گا۔‘‘

یہ سن کر وہ صرف مسکرا رہی تھی اور باقی سہیلیاں سن رہی تھیں، ہاں ہوں کر رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سب ان تینوں کی شخصیت سے بہت زیادہ مرعوب تھیں اور احساس کمتری میں مبتلا بھی تھیں۔  یہی وجہ تھی کہ وہ کھل کر ان کی گفتگو میں حصہ نہیں لے رہی تھیں _______

اسی دوران روزانہ کی روایت کے مطابق چائے آ گئی اور وہ چائے پینے میں مصروف ہو گئیں۔

’’درگا تمہیں معلوم ہے، تمہارے ملک میں کس قدر اُتھل پتھل کا ماحول ہے۔ اندراجی کی حادثاتی موت کے بعد ہی سے تمہارے ملک میں مسلسل آگ و خون کا رقص جاری ہے۔  ابھی ابھی یہ خبر بھی ملی ہے کہ راجیو گاندھی بھی مارے گئے۔ ‘‘

درگا یہ سن کر حیران نہیں ہوئی اس نے دھیرے سے کہا۔

’’ میری پیدائش اس ملک میں نہیں ہوئی تھی۔  اس لئے وہ میرا ملک نہیں ہے اور رہی بات ہندوستان میں افراتفری پھیلنے کی تو اس سے کم پاکستان بھی نہیں ہے۔ ضیاء الحق مارا گیا، قبائلی جنگیں آج بھی ہو رہی ہیں۔  مسجدوں میں گولیاں چل رہی ہیں اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو جانوروں کی طرح مار رہاہے۔‘‘

میڈم کوری بیچ میں بول پڑیں۔

’’کہیں امن نہیں ہے۔ عراق نے کویت پر حملہ کیا اور نتیجتاً اب اُسے جنگ جھیلنا پڑ رہی ہے۔  تم ہندو مسلم، مسجد مندر کی آگ میں جل رہے ہو۔  سمالیہ بھوک کی دلدل سے نکل بھی نہیں پایا تھا کہ یورپ میں جنگ کا نقارہ بج اٹھا۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے‘‘۔

درگا بول پڑی۔

’’ ہے میرے پاس ہے کہ سب خدا کو بھول رہے ہیں‘‘۔

درگا کا کہنا تھا کہ خاموشی چھا گئی۔ ۔۔

ایسی خاموشی جو کچھ توقف کے بعد ہی ختم ہوئی اور پھر وہ مختلف موضوعات پر گفتگو کر کے اپنی اپنی رہائش گاہ چلی گئیں۔  درگا بھی فکر کے ہچکولے کھاتی ہوئی اداس چہرے کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہوئی ________

چیخوف اس کی سرد چال اور فکر مند آنکھیں دیکھ کر سمجھ گیا کہ درگا کسی بات کو لے کر اپنے آپ سے جنگ کر رہی ہے۔

’’کیا ہوا میری زندگی اتنی اداس کیوں ہے؟‘‘

درگا بلا جھجک بول پڑی۔

’’ایک عورت جب تک ماں نہیں بنتی ہے، خوش نہیں رہتی ہے‘‘۔

یہ سنتے ہی چیخوف ہنس پڑا اور پھر ایک عورت کو ماں بنانے کی ہر ممکن جتن کرنے لگا_____

وقت گزرتا رہا۔

درگا کی اداسی چھٹتی رہی ________

تخلیق کے کرب سے گزرتی رہی۔

او ر پھر وہ دونوں ماں باپ بننے کی دہلیز تک پہنچ ہی گئے کہ اسی دوران درگا کا اتیت پھر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔  کلکتہ دیکھنے کا خواب پھر جاگ اٹھا۔  وہ چیخوف کو سمجھاتی رہی مگر وہ بھی مائیکل کی طرح بر صغیر نہیں آنا چاہتا تھا۔ اس کا کہنا تھا ________

’’ ہم ایسے ملک میں نہیں جا سکتے جہاں مندر مسجد کے جھگڑوں نے انسان کو پاگل بنا کر رکھ دیا ہے۔ تم یہیں رہو اور اپنے بچے کو یہیں جنم دو تاکہ بچے کو کم از کم American Citizenshipتو مل جائے گی۔‘‘

درگا چیخوف کی بات سے متفق ہو گئی مگر اسے ایسا لگتا کہ ا س کی ماں اور اس کے پتا اس سے کہہ رہے ہیں۔

’’بیٹا ہندستان ضرور آؤ، کلکتہ ضرور دیکھو ، دیکھو ہم تمہارا یہاں انتظار کر رہے ہیں۔  یہاں کی گلیاں ، سڑکیں اور پارک سب تمہارے لئے منتظر ہیں۔ دیکھو کالی گھاٹ میں کالی ماں کب سے تمہارے استقبال کے لئے کھڑی ہیں۔ گنگا جی بھی منتظر ہیں تمہاری آتما کی پیاس بجھانے کے لئے اور درگا جی ہر سال آتی ہیں تمہارے آنے کی راہ تکتی ہیں اور پھر اداس ہو کر لوٹ جاتی ہیں ________

آؤ درگا ! ایک بار تو آؤ ‘‘۔

درگا اپنے اندر سے نکلتی ہوئی آواز کو سن کر رونے لگتی مگر کیا کرتی شوہر کی مرضی پر اسے لبیک بھی کہنا تھا لہٰذا وہ صبر و تحمل سے وقت گزار رہی تھی۔ اس طرح ان کی زندگی کا وہ اہم دن بھی آگیا جب وہ ماں اور باپ بن گئے ________

چیخوف کے گھر پر بدھائی دینے والوں کا تانتا بندھ گیا تھا۔

وہ GIFTلیتے لیتے تھک سا گئے تھے مگر دینے والوں کا سلسلہ تھکا نہیں تھا ____

چیخوف خوشیوں میں سرشار باہر نکلا اور جیسے ہی دس بارہ قدم آگے بڑھا ہی تھا کہ گشتی پولِس گاڑی کے سائرن کی آواز گونج اٹھی۔ گولیاں چلنے لگیں ______

چاروں طرف دہشت پھیل گئی۔  چیخوف بھی ادھر ادھر بھاگ رہا تھا۔

ایک دہشت گرد تیزی سے چلتی ہوئی کار سے نیچے گن لئے کُود پڑا اور گولیوں کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہو گیا ________

چیخوف اس کھیل کا ریفری سا بن گیا تھا۔موت اس کے سرپر منڈلا رہی تھی ____ وہ کسی طرح بھی گھر واپس لوٹ جانا چاہتا تھا ________

اپنے ننھے سے بچے کو گود میں لے کر درگا سے کہنا چاہتا تھا کہ آج اس دنیا میں کوئی بھی ایسی جگہ نہیں ہے جسے ہم محفوظ کہہ سکیں چلو ہندستان چلتے ہیں۔

مگر اس کی یہ چاہت اچانک تاریکی میں ڈوب گئی۔  ایک گولی ٹھیک اس کے سینے کو چھیدتی ہوئی پار ہو گئی۔

درگا کو جیسے ہی اس حادثے کی اطلاع ملی، وہ بالکل ساکت ہو گئی۔

رونا چاہی۔۔۔ مگر آنکھوں کے آنسو خشک ہو گئے تھے۔

پاگلوں کی طرح اپنے سرکو دیواروں سے ٹکرا کر پاش پاش کر دینا چاہا مگر نوزائیدہ بچے کے رونے کی آواز نے اس کے اندر کی ممتا کو مرنے سے روک لیا۔

کرب و الم میں گھری درگا نے چیخوف کی نشانی کو اپنی چھاتی سے لپٹا لیا______

زخم بھرتا گیا اور وہ بچے پر بھرپور توجہ دینے لگی۔

بچہ جس کا نام اس نے مائی کرشنا رکھا تھا آہستہ آہستہ عہد طفولیت کو عبور کر رہا تھا اور خود وہ دھیرے دھیرے انسانی کھنڈر میں تبدیل ہو رہی تھی۔

کرشنا ماں سے ضد کرتا۔۔۔

’’کوئی کہانی سناؤ نا ، ماں ‘‘

درگا بیٹے کی طرف شفقت بھری نگاہوں سے دیکھتی اور اپنی ماں کی سنائی ہوئی اُن دیوی دیوتاؤں کی کہانیاں سناتی جن کا تعلق بنگال سے رہا تھا۔

مگر بچہ بڑا شرارتی تھا ________

ماں کے بالوں کو نوچتا اور کہتا۔

’’یہ سب جھوٹی باتیں ہیں۔  ہمیں سچی کہانی سناؤ ‘‘۔

درگا حیرت سے پوچھتی۔

’’کیسی سچی کہانی ؟‘‘

’’جیسی جونؔ کی ماں سناتی ہے۔ افریقہ کے جنگلوں کی کہانی۔  چاند پر آرم اسٹرانگ کے جانے کی داستان۔  مریخ پر Challengerبھیجنے جانے کے بعد انسان کو بھیجے جانے کی پلاننگ اور ان اجنبی لوگوں کی داستان جو دوسری دنیا سے ہماری دنیا میں آنے کے لئے مہم جوئی میں لگے ہوئے ہیں‘‘۔

درگا مائی کرشنا کی باتیں سن کر دنگ رہ جاتی !۔

’’ہم نے تو کبھی ایسے قصے نہیں سنے‘‘۔

مائی کرشنا ہنستے ہوئے کہتا

’’ماں، دنیا Advanceہو گئی ہے اور ہر فرد صداقت کے سہارے جینا سیکھ رہا ہے۔ اب جھوٹی کہانیاں محض ایسے لوگوں کے لئے ہی ہیں جن کی شخصیت ہی جھوٹی ہوتی ہے‘‘۔

درگا یہ سن کر اور بھی پریشان ہو جاتی اور سوچنے لگتی۔

مائی کرشنا، کرشن کی زمین کی پیداوار نہیں ہے۔ یہ تو اس ملک کا شہری ہے جس کے ایک اشارے پر دنیا ادھر سے ادھر ہو جاتی ہے۔ یہ حاکم ہے اسے محکومیت نہیں آتی ہے۔

وہ بیٹے کی اس ادا سے جہاں خوش تھی وہیں ایک دکھ بھی اس میں جگہ بنائے ہوئے تھا کہ اس کا بیٹا دیوی دیوتاؤں کے ملک کی طرف رخ بھی نہیں کرے گا۔ بہرحال بیٹے کی پرورش اور اس کی شخصیت کی تعمیر میں درگا یوں جٹ گئی گویا شہد کی مکھی شہد بنانے میں اپنی زندگی صرف کر رہی ہو ________

وقت چلتا رہا ________

___ New World Order___ کا بھوت دنیا میں چکر لگاتا رہا اور دہشت گردوں کی تنظیم دنیا کے ہر ایک شہر میں اپنی شاخیں پھیلاتی رہی ________

امریکہ اقوام متحدہ کا رول اکیلے نبھاتا رہا۔

اور ________

درگا ہندستان آنے کا خواب دیکھتی رہی کہ مائی کرشنا ۱۲۵ منزلہ عمارت کی کسی Globalکمپنی میں Asst. Managerکی حیثیت سے کام کرنے لگا تھا۔  صرف وہ کام ہی نہیں کر رہا تھا بلکہ اس نے اپنے لئے ایک خوبصورت سی شریک حیات بھی تلاش کر لی تھی۔ ۔۔

اس کی زندگی میں اب درگا کی اہمیت زیرو ہوتی جا رہی تھی۔

درگا۔ ۔۔ اب دن بہ دن اجنبی بنتی جا رہی تھی۔

’’ اسے واپس اپنے پُرکھوں کے دیس جانا ہی چاہئے ‘‘۔

اس نے سوچااور اس کی سوچ کو عملی صورت دینے کے لئے مائی کرشنا سے زیادہ اس کی Wifeنے دلچسپی دکھائی ________

درگا کا Migrationسرٹیفیکٹ تیار ہو گیا۔

دس ستمبر کی رات کو اس نے اپنے بچے اور اس کی بیوی کو آخری بوسہ دیا اور دیوی و دیوتاؤں کے ملک کی طرف پرواز کر گئی ________

اسکے ساتھ کچھ نہیں تھا صرف اس کی اپنی زندگی کی وہ داستان تھی جس کے سہارے وہ جی رہی تھی۔  وہ اپنے ہمراہ کچھ لے کر نہیں آ رہی تھی بلکہ۔ ۔۔

ایک امید _____ ماں باپ سے مل جانے کی۔

ایک خواب ________ اپنے وطن میں زندگی گزارنے کا۔

جس دن وہ اپنے اتیت میں اتری، وہ بہت خوش تھی۔  گڑیا ہاٹ پہنچی تو اسے خبر ملی کہ اس کے ماتا و پِتا جی سورگ واس ہو گئے ہیں۔  کچھ دیر آرام کے بعد کالی گھاٹ جا پہنچی______

مندر کے اندر ابھی اس کے پاؤں بھی نہیں پڑے تھے کہ شور اٹھا ________

World Trade Centreکسی آسیبی محل کی طرح دھواں میں تبدیل کر دیا گیا۔ ہزاروں لوگ دیکھتے ہی دیکھتے موت کی آغوش میں سوگئے۔

یہ سن کر وہ تلملا اٹھی ________

آگے بڑھی اور زور سے چیخی ________

’’اب بس کرو ماں ، بہت ہو گیا‘‘۔

اور پھر ________

درگا کالی کے چرنوں پر اپنا سر رکھے آرام سے سوگئی۔

اب وہ کہیں نہیں جائے گی ________

کوئی حادثہ اس کے روبرو نہیں ہو گا۔

وقت بھی اب اس کا پیچھا نہیں کرے گا ________

اب وقت اس میں سمٹ گیا ہے اور وہ خود وقت بن گئی ہے، نہ مٹنے والا۔ ۔۔ !!!

٭٭٭