کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دُعا

نصر ملک


’’یہ کیا ہو گیا ہے؟‘‘

          مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ میرے سامنے آنے والا میرا دوست احمد ہی تھا یا کوئی اور،  کل شام تو اس کی حالت ایسی نہیں تھی۔

          ’’ارے راحیل! کہاں گھوم رہے ہو؟‘‘ وہ میرے سامنے کھڑا تھا۔ بائیں بازو پر پلستر لپیٹے اور اسے گلے میں باندھی پٹی میں لٹکائے ہوئے،  اس نے سر بھی پٹی باندھ رکھی تھی۔

          ’’یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے تم نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کیا ہوا؟‘‘ میں نے اسے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔

          ’’چھوڑو یار،  آؤ کسی جگہ بیٹھتے ہیں۔ یہاں قریب ہی ایک کیفے ٹیریا پڑتا ہے،  وہاں چلتے ہیں۔ ‘‘ اس نے میری بات کا جواب دیئے بغیر دائیں ہاتھ سے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور میں اس کے ساتھ چل دیا۔

          ’’لیکن تمہیں یہ ہوا کیا ہے،  خدا نخواستہ کہیں ٹیکسی کا کوئی حادثہ تو نہیں ہو گیا تھا؟‘‘ میں نے پھر پوچھنے کی کوشش کی۔ میں نے دیکھا کہ اسے چلنے میں بھی دشواری محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اسے سہارا دینا چاہا تو وہ بولا ’’میں اتنا بھی نہیں مر گیا یار جتنا تم پریشان ہو رہے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کم سے کم میں اُس ’’سالی‘‘ کو تو مار کر ہی دم لوں گا۔

          میں اپنی دانست میں بات سمجھ چکا تھا۔ وہ ضرور اپنی حرکت سے باز نہیں رہا ہو گا اور انیتا کے ہاتھوں پٹا ہو گا۔

          احمد اور میں ایک ہی ٹیکسی کمپنی میں ملازم تھے۔ اور اس طرح ہماری جان پہچان اچھی دوستی میں بدل چکی ہوئی تھی۔ میں اکیلا ہی رہتا تھا اور احمد کی بیوی کو پاکستان سے آئے بمشکل ایک سال ہی ہوا ہو گا۔ اس کے آنے سے پہلے ہم دونوں ہر شام اکٹھے ہی رہا کرتے، اور گھوما پھرا کرتے تھے۔ پچھلے دو مہینوں سے جب سے احمد نے رات کو ٹیکسی چلانی شروع کی تھی ہماری سنگت کی پرانی راتیں پھر لوٹ آئی تھیں۔ ہم پانچ بجے شام سے رات ایک بجے تک اپنی اپنی ٹیکسی چلایا کرتے تھے،  جس کے بعد ہم ٹیکسیاں کمپنی کے حوالے کر کے تفریح طبع کے لئے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کے لئے کسی کلب وغیرہ میں چلے جاتے یا کسی ’’سر راہ کیفے یا بار‘‘ میں بیٹھ کر بیئر وغیرہ پی کر تھکن دور کرنے کی کوشش کر لیتے تھے۔ احمد اکثر و بیشتر گھر چلے جانے کا کہہ کر جلدی رخصت ہو جایا کرتا تھا اور پھر میں ’’کوپن ہیگن بائی نائٹ‘‘ دیکھنے کے لئے کسی کلب یا ناچ گھر میں چلا جاتا تھا۔

          کل رات بھی جب ہم اپنے کام سے فارغ ہوئے تو ہم ایک بار میں گھس گئے،  جہاں ہم بیئر کا ایک ایک گلاس لے کر ایک میز پر جا بیٹھے اور اپنے اپنے مسافروں کی زندہ دلی اور حماقتوں اور ڈینش معاشرے میں ہم تارکین وطن کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب و منافرت کے بارے میں باتیں کرنے لگے تھے۔

           ابھی ہمیں وہاں بیٹھے کوئی آدھ گھنٹہ ہی گزرا ہو گا کہ اتنے میں بائیس چوبیس برس کی ایک شوخ و ترنگ،  چنچل لڑکی وہاں اندر داخل ہوئی اور جونہی اس کی نظر ہم پہ پڑی وہ ایک طرح سے چھلانگ لگاتی ہوئی ہمارے پاس پہنچ گئی اور احمد کے گلے میں بانہیں ڈال کر اس گالوں پر بوسے نچھاور کرنے لگی تھی۔

          ’’ای ڈی ایٹ! کہاں ہوتے ہو؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سنا ہے تم نے شادی کر لی ہوئی ہے،  لیکن یہ بھی کیا نہ کبھی شکل دکھائی اور نہ ہی کبھی فون کیا،  کہو کیسے ہو؟‘‘ وہ یہ کہتے ہوئے احمد کی گود میں گر گئی تھی اور اس کے گلے میں بانہیں ڈالے اس کے چہرے پر دیکھ رہی تھی۔ احمد نے اس سے میرا تعارف کراتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ اس کی پرانی ’’گرل فرینڈ‘‘ انیتا تھی۔ احمد نے اب تین بیئر کے لئے آرڈر دے دیا تھا۔ لیکن احمد اور انیتا جب اپنی ہی باتوں میں کھو گئے اور میں نے محسوس کیا کہ وہ میری موجودگی کو بھول گئے ہیں تو میں نے ان سے اجازت چاہی۔ ۔ ۔ ۔ ’’اچھا یار احمد،  انیتا کا خیال رکھنا۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے میں اپنی کرسی سے اٹھا۔ ۔ ۔ ’’کہاں جا رہے ہو یار؟‘‘ احمد نے مجھ سے پو چھا۔

          ’’بھئی میرا کیا ہے! سنسان گھر میں جا کر اکیلا کیا کروں گا۔ تمہیں تو پری مل گئی ہے،  میں بھی کوئی مچھلی پکڑنے کی کوشش کروں گا ۔ ‘‘ میں نے چلتے چلتے انیتا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

          ’’ہاں جزیروں کے اس دیس میں چاروں طرف کھلا سمند رہے بس کانٹا مضبوط ہونا چاہیے، آج تو ہم بھی ’’کوپن ہیگن بائی نائٹ‘‘ دیکھیں گے۔ احمد کی آواز میرا پیچھا کر رہی تھی۔ اگلے روز ’’ویک اینڈ‘‘ کی وجہ سے چھٹی تھی۔ میں نے بار کے دروازے سے باہر نکل کر ’’واٹر لو نائٹ کلب‘‘ کی راہ لی۔  میں اپنے خیالوں میں کھویا ہو ا تھا کہ احمد نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے متوجہ کیا۔ ’’یہ رہا کیفے چلو بیٹھتے ہیں۔ ‘‘

          کیفے میں کافی بھیڑ تھی اور ہمیں جگہ تلاش کرنے میں کچھ وقت لگ گیا تھا۔ ابھی ہم بیٹھے ہی تھے کہ کیفے میں کام کرنے والی لڑکی کولہے مٹکاتی ہمارے پاس آئی۔ ۔ ۔ ۔ ’’کیا چاہیے؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ابھی احمد کچھ کہنے ہی والا تھا کہ میں بول پڑا۔

          ’’تمھارے ہاں کیا مل سکتا ہے؟‘‘

          ’’سبھی کچھ،  بیئر،  وائینز،  وہسکی،  کافی چائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ شاید ابھی وہ کچھ اور بھی بتانے والی تھی کہ میں پھر بول پڑا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اور خود تمھارے اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘

          ’’شٹ اپ! احمد نے پلستر میں پلٹا ہوا اپنا بازو سہارے کے لئے میز پر رکھتے ہوئے مداخلت کی۔

          ’’تم اپنے دوست سے یوں ناراض کیوں ہوتے ہو،  میں ایسے مردوں کو خوب سمجھتی ہوں۔ ‘‘ اس نے احمد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ ابھی تک ہمارے آرڈر کے انتظار میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔

          ہمیں دو بیئر دے دو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور بس!‘‘ احمد نے کہا اور وہ کولہے مٹکاتی بیئر لینے کے لئے چلی گئی۔ میری نگاہیں ابھی تک اس کا پیچھا کر رہی تھیں کہ احمد نے مجھے متوجہ کیا۔ ’’تمھارے پاس سگریٹ ہیں ؟‘‘

          ’’ہاں یہ لو۔ ‘‘ میں نے جیب سے پیکٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ہاں یار،  احمد تمہیں یہ کیا ہوا ہے؟‘‘

          وہ کچھ لمحوں کے لئے تو خاموش رہا اور پھر میری جانب گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے ایک لمبی سانس لے کر کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ اتنی دیر میں ویٹرس ہماری میز پر بیئر رکھ گئی تھی۔ میں نے قدرے شرارت آمیز رنگ میں احمد کو چھیڑتے ہوئے پھر پوچھا۔  ’’یار بتاؤ تو وہ کل رات سالی انیتا سے تو کہیں کوئی گڑبڑ نہیں ہو گئی تھی؟‘‘

          ’’دیکھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راحیل،  تمہاری میری گیارہ بارہ برس کی دوستی اب محض دوستی نہیں رہی تم نجانے کیا سوچتے ہو گے لیکن میں تمہیں اپنا بھائی ہی سمجھتا ہوں۔ ‘‘ اس نے اپنے گلاس میں بوتل سے بیئر انڈیلی تو مجھے اس کا ہاتھ کانپتا ہوا لگا۔ ’’میں بھی تمہیں اپنا بھائی ہی سمجھتا ہوں۔ ‘‘ میں نے اس کی بات کو آگے بڑھانا چاہا۔ ’’آخر بات کیا ہے یار،  بتاتے کیوں نہیں ہو،  کیا میں کوئی مدد کر سکتا ہوں ؟‘‘ میں نے اپنے گلاس میں بیئر انڈیلتے ہوئے پوچھا۔

          ’’نہیں،  راحیل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیارے اب وقت گزر چکا ہے،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب تو بس ایک ہی حل باقی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طلاق،  طلاق۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور طلاق!‘‘ وہ زور دیتے ہوئے بولا۔

          میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیا ہے۔ میری حیرانگی بڑھ رہی تھی۔ کیا یہ اپنی بیوی کے بارے میں کہہ رہا ہے۔ میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ وہ بول پڑا۔

          ’’راحیل میں پریشان ہوں کہ جو بات میں کہنا چاہتا ہوں کہوں تو کیسے اور چھپاؤں تو کتنی دیر؟ کل رات تمھارے جانے کے بعد میں اور انیتا بار بند ہونے تک وہاں بیٹھے رہے وہ میرا پیچھا چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اور بضد تھی کہ میں اس کے ساتھ اور کچھ نہیں تو کم از کم ایک پیالی کافی کے لئے اس کے گھر چلوں۔ میں نے جب کوئی راہ نہ نکلتی دیکھی تو ہاں کر دی لیکن اس کے ساتھ جانے سے پہلے گھر فون کر دیا کہ میں دیر سے آؤں گا۔ انیتا مجھے اپنی گاڑی میں گھر لے گئی اور پھر وہاں پہنچتے ہی اس نے گزرے دنوں کی یاد میں وہسکی کے دو جام بنائے اور ہم دونوں پہلے تو پیتے پلاتے رہے اور اس نے بیتے دنوں کا قرض اتارنے کے لئے مجھ سے مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔ راحیل میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے اس کے ساتھ جی بھر کر ’’ہم بستری‘‘ کی،  گویا میں نے محض قرض ہی نہیں سود بھی چکا دیا۔ ‘‘

          میں ابھی تک شوخی اور حیرانگی کے بیچ اٹکا ہوا تھا۔ احمد اپنی بیئر ختم کر چکا تھا اور خلا میں ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ وہ شاید اظہار کے لئے الفاظ تلاش کر رہا تھا۔

          ’’پھر کیا ہوا؟‘‘ میں نے پو چھا۔

          اس نے ایک لمحہ کے لئے میرے چہرے پر بھرپور نگاہ ڈالی اور پھر بولا ’’راحیل،  ہونا کیا تھا،  میں لٹ چکا ہوں ! میرے خاندان کی عزت خاک میں مل گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں تمھیں۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ پلستر میں لپٹا ہوا اپنا بازو سنبھالتے ہوئے رک رک کر بول رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ گہری سرخ ہو رہی تھیں۔ میں نے تسلی دینے کے انداز میں اس کے داہنے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سہلایا تو وہ کھل کر رونے لگا۔

          ’’راحیل تمھیں معلوم ہے کہ میرے اپنے آبائی گاؤں کی برادری کے کتنے لوگ ہمارے ساتھ ہی کام کرتے ہیں لیکن میں نے کبھی ان سے رابطہ نہیں رکھا اور نہ ہی کبھی ان کے کسی نفع نقصان میں شامل ہوتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن میرے بھائی! مجھے یہاں پردیس میں  میری ہی برادری کے ایک ’’کمینے‘‘ نے لوٹ لیا ہے۔ ‘‘ وہ ہچکیاں لیتے ہوئے مسلسل رو رہا تھا۔ کیفے کی ویٹرس چکر لگاتی ہماری میز کے قریب آ کھڑی ہوئی تھی۔ ’’تمھیں کچھ اور چاہیے؟‘‘ اس نے احمد کی خالی بوتل اٹھاتے ہوئے پوچھا اور میری آدھی بھری ہوئی بوتل کی طرف یوں دیکھنے لگی جیسے کہہ رہی ہو کہ ’’کیا حلق سے نہیں اترتی!‘‘

          ’’ہمیں دو بیئر اور دے دو۔ ‘‘ میں نے بوتل میں پڑی بیئر کو اپنے گلاس میں انڈیلا اور خالی بوتل ویٹرس کی طرف سرکا دی۔ اس نے خالی بوتل اٹھائی اور ہمارے لئے بیئر لینے چلی گئی۔

          ’’ہاں راحیل۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ احمد کچھ کہتے کہتے یوں رک گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے اسے اظہار کے لئے الفاظ نہ مل رہے ہوں یا پھر اسے مجھ پر اعتماد نہ ہو۔ ’’ہاں تومیں کہنے والا تھا۔ ‘‘ اس نے پہلو بدلا۔  ’’تم تو جانتے ہی ہو کہ شادی سے پہلے میں کس طرح کا تھا اور ہم دونوں،  تم اور میں،  کیسے رہا کرتے تھے۔ اور تم یہ بھی جانتے ہی ہو کہ شادی کے بعد جب سے میری بیوی یہاں کوپن ہیگن آئی ہے میں کتنا بدل چکا ہوں۔ محنت مزدوری کے لئے ٹیکسی چلانے کی وجہ سے اگرچہ گھر پر رہنے کو کم ہی وقت ملتا ہے لیکن میں نے گھریلو ضروریات کو پورا کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی اور تمھاری بھابھی کی ہر طرح کی خواہش پوری کرتا رہا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یار،  عورت عورت ہی ہوتی ہے اور پھر ہماری عورتیں جو کچھ لکھی پڑھی ہوتی ہیں،  ان کا تو طریقہ ہی اور ہے۔ ان کے والدین ان کی شادی کہیں بھی کر دیں،  ایسی عورتیں اپنے ’’پہلے پیار‘‘ کو کبھی نہیں بھولتیں۔ ان کے دل سے اپنے پہلے محبوب کا پیار کبھی نہیں نکل سکتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘  اُس نے بیئر کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’راحیل! میں جب شادی کرانے پاکستان گیا تو میرے بچپن کے چند ایک دوستوں نے باتوں باتوں میں اشارتاً مجھے بتایا کہ میری ہونے والی بیوی،  کسی اور کی منگیتر رہی ہے۔ مجھے ان کی باتیں مذاق کے سوا کچھ نہیں لگیں تھیں لیکن پھر بھی میں نے اپنے ماں باپ سے اس موضوع پر کھل کر بات کی تو انہوں نے الٹا مجھے ہی ڈانٹنا شروع کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’یہ ڈنمارک کے پانی کا اثر ہے تجھ پر،  جو اتنا منہ کھول کر بکواس کرنے لگا ہے،  تو ان کمینے شیطانوں کی باتوں پر یقین کر کے کسی کی بیٹی پر تہمت لگاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تیری اپنی بڑی بہن کی منگنی نہیں ٹوٹی تھی،  اور وہ بیچاری تو کسی کی پہلے کبھی منگیتر ونگیتر بھی نہیں رہی، اور رہی بھی ہو تو کیا طلاق یافتہ تو نہیں۔ ‘‘ میرا باپ تو گالیوں پر اتر آیا تھا لیکن میری ماں نے بیچ میں پڑتے ہوئے معاملہ ٹھنڈا کرا دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’بیٹا‘‘  وہ بولی ’’صغریٰ کی منگنی بچپن میں کسی کے ساتھ ہم نے سنا ہے ہوئی تھی لیکن اس کے والدین تو اسے مدتیں ہوئیں توڑ چکے ہیں،  اگر ایسی ویسی بات ہوتی تو تمھاری منگنی کے ان چھ مہینوں میں سامنے آ جاتی۔ ‘‘ مجھے ماں کی بات زیادہ وزنی لگی اور میں خاموش ہو گیا۔ میری شادی ہو گئی اور سہاگ کی رات میں نے صغریٰ کے ساتھ کھل کر باتیں کیں اور اس کی پہلی منگنی بارے میں بھی پوچھ لیا،  وہ خاموش رہی۔ ’’اب پرانی باتوں کا ذکر کیا کرنا۔ ‘‘ مجھے اچھی طرح یاد ہے اس نے یہی کہا تھا۔ پاکستان میں قیام کے دوران میں صغریٰ کو اپنے ساتھ لے کر اسے لاہو ر،  اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں رشتہ داروں سے ملاتا رہا اور اس کے بعد واپس ڈنمارک آ گیا۔ اور پھر یہ تو تمھیں پتہ ہی ہے کہ میں نے اسے یہاں بلوانے کے لئے کس طرح ویزے کا بندوبست کیا تھا،  ہوائی جہاز کا ٹکٹ بھجوایا تھا۔ وہ جب یہاں آئی تو میں نے زندگی کو بہتر بنانے اور گھر بار چلانے کے لئے رقم کمانے کی خاطر کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے۔ ‘‘ احمد اپنی بیئر کا گلاس ختم کر چکا تھا۔ میں نے ویٹرس کو آواز دیتے ہوئے اسے وہسکی کے دو پیگ لانے کو کہا اور خود سگریٹ سلگا کر ایک احمد کو دے دیا اور دوسرا خود پھونکنے لگا۔ اتنی دیر میں ویٹرس نے وہسکی کے دو گلاس لا کر میز پر رکھ دیئے۔

          ’’ہاں تو احمد۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ میں نے وہسکی کا ایک گلاس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے،  متجسسانہ انداز میں بات کو آگے بڑھانا چاہا۔ ۔ ۔ ۔ ’’پھر کیا ہوا؟‘‘

          اس نے وہسکی کا پیگ اٹھایا اور ایک ہی گھونٹ میں حلق سے اتارتے ہوئے بولا۔ ’’ڈنمارک آنے کے بعد میں نے یہاں اپنے گاؤں کے چند ایک کنبوں سے صغریٰ کا تعارف کرا دیا تھا اکثر کو تو وہ پہلے ہی سے جانتی بھی تھی۔ میں نے اسے ان خاندانوں سے ملنے کی کھلی اجازت دے رکھی تھی اور چاہتا تھا کہ میرے کام کی وجہ سے گھر سے باہر رہنے کے دوران صغریٰ تنہائی کا شکار نہ ہو جائے اور ان لوگوں کے ساتھ ملنے ملانے سے نہ صرف اس کا جی بہلا رہے گا بلکہ وہ خود بھی جب ادھر اُدھر تھوڑا بہت نکلے گی تو اس میں ’’خود اعتمادی‘‘ بڑھ جائے گی،  لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راحیل!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس کے آنسو نکل آئے اور ہونٹ کانپنے لگے تھے۔ میں نے دیکھا کہ میز کے کونے پر اس کے ہاتھ کی گرفت بھی سخت ہو گئی تھی اور اس کے ہاتھ کی نسیں تن سی گئی تھیں۔ ’’راحیل،  یہ میری کم عقلی تھی،  میں نے دیہاتن گائے کے گلے سے بیچ بازار رسّہ کھول دیا تھا۔ اور یہ نہ سوچا تھا کہ وہ آزاد ہوتے ہی پہلے مجھے ہی سینگوں پر اٹھا کر دے پھینکے گی۔ ‘‘ وہ بولا۔

          ’’راحیل،  کل جب میں انیتا کے گھر سے صبح کے چار بجے کے قریب اپنے گھر پہنچا اور دروازے کی گھنٹی بجانے ہی والا تھا کہ میرے کان چونکے،  دروازے کی دوسری طرف سے گھر کے اندر سے کسی مرد کی آواز آ رہی تھی۔ ایک لمحے کے لئے تو میں نے شراب کے نشے کی وجہ سے اسے اپنا واہمہ سمجھا لیکن اس کے ساتھ ہی،  دروازے کی گھنٹی کی طرف بڑھا ہوا میرا ہاتھ ساکت ہو کر رہ گیا۔ میں نے اپنے کان دروازے میں ’’پوسٹ ہول‘‘ کے قریب لگا دیئے۔ ’’میں تو تمھیں آج بھی پہلے دن ہی کی طرح چاہتا ہوں،  یاد ہے جب ایک روز تم گاؤں سے باہر کھیتوں میں اپنے باپ کے لئے دوپہر کا کھانا لے کر جا رہی تھی اور میں نے تمھیں روک کر ’’پہلا بوسہ‘‘ دیا تھا۔ تمھارا غصہ بڑے غضب کا تھا۔ لیکن تم نے اپنے وعدے کے مطابق ا پنی بات پوری نہیں کی تھی،  تم نے اپنے باپ سے میری شکایت نہیں کی تھی۔ ‘‘ مجھے مرد کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ ’’اچھا ہے وہ مردود کسی شرابی کو اس وقت ٹیکسی میں بٹھائے کہیں لے جا رہا ہو گا،  تو اسے بس کمائی چاہیے،  کمائی!،  راحیل مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔  یہ میری بیوی کی آواز تھی۔ میرا تن بدن جل اٹھا اور سارا نشہ ہرن ہو گیا۔ میں نے نہایت محتاط ہو کر اپنی جیب سے چابی نکالی اور بڑی احتیاط کے ساتھ تالا کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ’’خنزیر‘‘ پتلون پہننے کی کوشش کر رہا ہے اور موم بتی کی ہلکی مدھم روشنی میں،  صغریٰ،  نیم عریاں،  کہنی کے سہارے،  سر اوپر کئے صوفے پر لیٹی ہوئی ہے۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اس مردود کی گردن دبوچنے ہی والا تھا کہ اس نے میرے پیٹ میں اپنی ٹانگ جڑ دی اور میں لڑکھڑاتا ہوا فرش پر گر گیا۔ اس سے پہلے کہ میں سنبھلتا اور اسے جہنم پہنچاتا وہ حرامی کی اولاد اپنے کپڑے اور جوتے اٹھا کر فرار ہو گیا۔ میں نے آگے بڑھ کر صغریٰ کی چوٹی پکڑ لی اور گھسیٹے ہوئے صوفے سے نیچے دے مارا۔ ابھی میں اسے جھک کر اوپر اٹھانے اور مُکّہ مارنے ہی والا تھا کہ اس نے ہاتھ بڑھا کر میز سے پیتل کا ’’کینڈل سٹینڈ‘‘ اٹھا کر میرے سر پر دے مارا اور میں چکراتا ہوا ایک طرف لڑھک گیا۔ اتنی دیر میں اُس سالی نے ایک کرسی اٹھا کر مجھ پر دے ماری جو میرے سینے اور بازوؤں پر یوں لگی کہ میں بے بس سا ہو کر وہیں فرش پر لیٹ گیا۔ وہ باؤلی کتیا کی طرح چیخ چیخ کر جھاگ اگل رہی تھی اور کمینی مجھے خالص دیہاتی زبان میں ماں بہن کی ننگی گالیاں دے رہی تھی۔ میں خود کو سنبھالتے ہوئے اب اس پر جھپٹنے ہی والا تھا کہ دروازے پر بڑے روز سے گھنٹی ہوئی۔ میں سمجھا کہ یہ وہ کمینہ ’’عظمت‘‘ ہی ہو گا جس نے صغریٰ کی عزت سے کھیل کر میری عزت لوٹ لی تھی۔ میں صغریٰ کو ایک طرف دھکا دیتے ہوئے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھولتے ہوئے کچھ دیکھے بغیر اپنے سامنے والے پر جھپٹ پڑا اور پھر مجھ پر دائیں بائیں دونوں اطراف سے کوئی خونخوار کتوں کی طرح جھپٹ پڑے،  راحیل! میری قسمت ڈوب چکی تھی۔ وہ کمینے پولیس والے تھے جو میرے دروازے پر کھڑے تھے۔ یہ اسی سالے عظمت نے ہی بھجوائے ہوں گے۔ انہوں نے مجھے قابو میں لے کر اندر چلنے کو کہا۔  صغریٰ اتنی دیر میں اپنے کپڑے پہن چکی تھی اور ٹسوے بہا رہی تھی۔ ’’یہ مجھے گھر سے نکالنا چاہتا ہے۔ ‘‘ وہ چیخ چیخ کر اپنے بال نوچ رہی تھی۔ ’’اس نے مجھے مار مار کر آدھ موا کر دیا ہے۔ ‘‘ پنجابن گائے یوں انگریزی بول رہی تھی جیسے گوری میم ہو۔ پولیس والے ابھی تک مجھے پکڑے ہوئے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ ہمارا گھر ہے اور میں اس کا خاوند ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی میں اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ وہ ذلیل شور مچانے لگی۔  ’’یہ شرابی ہر رات نشے میں دھت گھر آتا اور میری درگت بناتا ہے۔ میں اسے یہاں نہیں دیکھنا چاہتی یہ پھر مجھے مارے گا۔ ‘‘ وہ کمینی فرش پر بیٹھی رانوں میں سر دبائے یوں بین کر رہی تھی جیسے اس کی ماں مر گئی ہو۔ اس دوران ایک پولیس والے نے مجھے چھوڑ کر اپنی جیب سے ایک نوٹ بک نکالی اور اُس سے اسکا نام وغیرہ پوچھ کر اس میں درج کرنے لگا۔ میرے سر سے قدرے خون نکل آیا ہوا تھا اور بازو میں درد سا اٹھنے لگا تھا۔ دوسرے پولیس والے نے مجھ پر اپنی گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی جگہ سے مت ہلوں۔ پھر اس نے ایک طرف گری ہوئی کرسی اٹھا کر مجھے اس پر بیٹھ جانے کو کہا۔ اتنی دیر میں اس کا پہلا ساتھی صغریٰ کا بیان لے چکا تھا۔ اب اس نے میری طرف گہری کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے مجھ سے میرے شناختی کارڈ کا نمبر،  میرا نام اور جھگڑے کی وجہ وغیرہ پوچھی اور اپنی نوٹ بک میں درج کرتا رہا۔  میں نے انہیں سب باتیں صاف صاف بتا دیں۔ پھر اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ کچھ کھسر پھسر کی اور مجھے اٹھنے کو کہا۔ میں نے جب پوچھا کہ کیا مجھے ان کے ساتھ جانا ہو گا تو ان میں سے ایک کہنے لگا ’’تمھیں اب یہاں نہیں چھورا جائے گا،  ممکن ہے تم دن نکلنے تک ہمارے ہاں مہمان رہو۔ ‘‘ وہ آگے کچھ کہتے کہتے رک گیا اور اس نے اپنا سر میز کے اوپر رکھ دیا۔ اس کے ہاتھ کی انگلیوں میں سگریٹ جل رہی تھی جسے میں نے پکڑ کر ایش ٹرے میں بجھا دیا اور اس کی گردن پر آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ پھیرنے لگا۔

          ’’حوصلہ رکھو احمد! تم نے مجھے بھائی کہا ہوا ہے،  میں تمھیں بھائی ہی بن کر دکھاؤں گا،  سر اٹھاؤ،  مجھے بتاؤ پھر کیا ہوا؟‘‘ میں نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔

          اس نے اپنے سر کو میز پر قدرے ایک طرف لڑھکاتے ہوئے میری جانب دیکھا۔ مجھے اس کی پرنم آنکھوں میں وہ کرب دکھائی دیا جو اس بھیڑ یا بکری کی آنکھوں میں ہوتا ہے جس کے گلے پر قصاب کی چھری تیزی سے چل رہی ہوتی ہے۔ میں نے اپنی وہسکی کے گلاس کو اس کی طرف بڑھا دیا۔ ’لو پیؤ،  میں اور منگواتا ہوں،  سر اٹھاؤ،  حوصلہ کرو۔ ‘‘ میں نے ایک بار پھر اسے تسلی دی۔

          ’’کیا بتاؤں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یار!‘‘ اس نے اپنے سر کو اوپر اٹھاتے ہوئے اپنی کمر سیدھی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے،  آنکھیں میز ہی پر جھکائے رکھے،  آہستہ سے کہا۔ ’’میں جب پولیس کی تحویل میں چلنے لگا تو وہ کمینی پھر مجھ پر بھونکنے لگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اب رات تو گزر ہی چکی ہے تمھارا دن بھی اچھا گزرے گا۔ سنا ہے یہاں کی جیلیں بھی آرام دہ ہوتی ہیں۔ ‘‘  میں نے پلٹ کر اسے ٹھوکر مارنی چاہی تو دونوں پولیس والوں نے مجھے پھر اپنے شکنجے میں لے لیا۔ ’’ہوش کے ناخن لو،  یہ ڈنمارک ہے کوئی اسلام آباد نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ان میں سے ایک غرایا ’’ گڑبڑ کرو گے تو ہتھکڑی لگا دوں گا۔ ‘‘ ان میں سے ایک نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور دوسرے نے مجھے پیچھے سے باہر دھکیلتے ہوئے دروازہ بند کر دیا۔ دوسری منزل سے سیڑھیاں اتر کر ہم جب پولیس کی کار کے قریب پہنچے تو میں نے دیکھا کہ ایک سفید کار ہم سے کچھ فاصلے پر آن کر کھڑی ہو گئی۔ ابھی میں اسے دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک پولیس والے نے اپنی کا ر کا پچھلا دروازہ کھول کر مجھے اندر دھکیل دیا اور خود میرے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس کے دوسرے ساتھی نے اگلا دروازہ کھولا،  اندر گھسا اور کار سٹارٹ کر دی۔  عین اس وقت جب ہم اس سفید کار کے قریب سے گزر رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راحیل کیا بتاؤں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس میں سے وہی مردود،  کمینہ،  عظمت،  ٹائی لگائے باہر نکل کر میرے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ مجھے یوں لگا کہ اس کا خون بھی اس کی کار کے رنگ کی طرح سفید ہو چکا تھا۔ بے غیرت پیچھے مڑ مڑ کر پولیس کی گاڑی کو دیکھ رہا تھا۔ میرا یقین ہے کہ وہ سالا ابھی تک اُس کتیا ہی کے ساتھ ہو گا اور اسے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نئی راہیں دکھا رہا ہو گا۔ ‘‘ احمد نے وہسکی کی چسکی لینے کے بعد اپنی بات جاری رکھی۔ ’’پولیس اسٹیشن پہنچ کر ایک بار پھر میرا بیان لیا گیا۔ میں نے ہر بات بتا دی۔ پولیس نے مجھے متنبہ کیا کہ خبردار اب جو میں صغریٰ کو فون کئے بغیر اور اُس کی پیشگی اجازت لئے بغیر گھر جاؤں اور گھر جاؤں تو اپنے آپ کو قابو میں رکھوں اور جھگڑے فساد سے باز رہوں۔ انہوں نے ایک ٹائپ شدہ بیان پر میرے دستخط لئے اور مجھے ہسپتال جانے کا مشورہ دیتے ہوئے حکم دیا کہ اب اپنی بیوی سے دور رہوں کیونکہ وہ مجھے اب ملنا ہی نہیں چاہتی۔ ‘‘

          اس نے ہچکی آمیز لمبا سانس لیتے ہوئے پھر کہنا شروع کیا۔ ’’راحیل میں ابھی ہسپتال سے آیا تھا،  اچھا ہوا تم مل گئے۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس کمینی کو فون کروں تو کیسے اور گھر جاؤں تو کس منہ سے،  اوّل تو میں وہاں جانا ہی نہیں چاہتا اور دوسرا وہ مجھے اجازت ہی نہیں دے گی۔ میں اس کمینی حرامن کے تیور دیکھ چکا ہوں،  نجانے کب سے وہ ذلیل یہ کھیل رچائے ہوئے ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کاش مجھے وہ کمینہ یہاں بازار میں کہیں نظر آ جائے،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت تو وہ اس ماں کی گود میں ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ احمد نے پلستر میں لپٹے ہوئے اپنے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے یوں سہلایا جیسے اپنی قوت کا اندازہ لگا رہا ہو۔

          ’’تم میرے ساتھ میرے گھر چلو،  میں تو اکیلا ہی رہتا ہوں۔ ہم اس مسئلہ کا کوئی حل ڈھونڈیں گے۔ ‘‘ میں نے اسے پیشکش کرتے ہوئے ایک سگریٹ سلگا کر پیش کیا۔

          ’’مسئلہ کا حل تو میں ڈھونڈ چکا ہوں۔ ‘‘ اس نے پہلی بار میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔ ’’میں ان دونوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا!‘‘ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح سرخ ہو رہی تھیں۔

          ’’دیکھو یہ ڈنمارک ہے،  ہم کچھ بھی ہو جائیں یہاں کے لوگ ہمیں اجنبی سمجھتے ہیں،  یہاں جذبات نہیں عقل سے کام لینا پڑتا ہے۔ پاکستان ہوتا تو ہم کبھی کا بدلہ چکا دیئے ہوتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں تمھاری کیفیت سمجھتا ہوں،  چلو گھر چلتے ہیں۔ جب مجھے بھائی کہہ چکے ہو تو،  میری بات بھی مانو،  وہ تمھارا ہی تو گھر ہے،  چلو چلتے ہیں،  مل کر سوچیں گے کہ کیا کیا جا سکتا ہے اور کیا نہیں !‘‘

          میں نے ویٹرس کو بل لانے کا اشارہ کرتے ہوئے،  احمد کی جانب دیکھا۔ وہ خاموشی سے ٹک ٹک میز کو دیکھ رہا تھا۔ ویٹرس بل لائی تو میں نے اسے پیسے ادا کرتے ہوئے احمد کو چلنے کے لئے کہا۔ وہ ابھی تک خاموش بیٹھا پتھر کا بت لگ رہا تھا۔ ’’صبر کرو،  کچھ نہ کچھ بہتر ہی ہو گا۔ ‘‘ میں نے اسے اوپر اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے حوصلہ دلایا۔

          ہم کیفے ٹیئریا سے باہر نکلے اور میں نے ایک ٹیکسی رکوائی اور ہم دونوں اس میں بیٹھ گئے۔  ’’ویلبی‘‘ میں نے ڈرائیور کو اپنی گلی کا نام اور مکان نمبر بتاتے ہوئے چلنے کو کہا۔ احمد سارا رستہ خاموش رہا البتہ کبھی کبھی اپنے دائیں ہاتھ کو زور زور سے اپنے گھٹنے پر مار کر غصے کا اظہار کرتا اور آپ ہی بڑبڑاتا رہا۔

          گھر پہنچ کر میں نے کافی بنائی اور احمد کو پیش کرتے ہوئے،  اسے آرام کرنے اور ٹھنڈے ذہن سے سوچنے کا مشورہ دیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اگر اسے بھوک لگی ہو تو فریج میں سالن وغیرہ تیار رکھا ہے میں گرم کئے دیتا ہوں۔ اس کے انکار پر میں نے اصرار کرنا مناسب نہ سمجھا۔

          شام کے اب پانچ بجنے والے تھے اور مجھے اپنے دور کے ایک رشتہ دار کو ملنے ٹاسٹروپ جانا تھا وہ صبح پاکستان جانے والا تھا۔ میں نے احمد سے اجازت لیتے ہوئے اسے بتایا کہ اگر اسے بھوک لگے تو فریج میں رکھا ہوا سالن گرم کر لے۔ میں نے اپنے سگریٹوں کے دو پیکٹ بھی اسے دے دیئے اور الماری میں رکھی وہسکی اور شراب کی دوسری بوتلیں بھی دکھا دیں۔ ’’یہ سب کچھ اپنا ہی سمجھو۔ ‘‘ میں نے چلتے چلتے کہا۔ ’’شاید میں وہیں رک جاؤں اگر ایسا ہوا تو صبح بہت جلدی آ جاؤں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوشش کرو اور کچھ نیند لے لو‘‘ میں واپس آ جاؤں گا تو کچھ نہ کچھ سوچ ہی لیں گے۔ ‘‘ میں نے اس کے کاندھے تھپتھپا کر اسے تسلی دی اور خود وہاں سے رخصت ہو گیا۔ احمد نے کسی قسم کا اظہار نہیں کیا تھا۔

          میں جب ٹاسٹروپ میں اپنے عزیز رستم کے ہاں پہنچا تو وہاں پہلے ہی سے چند ایک مہمان موجود تھے جو غالباً میری ہی طرح رستم کو خدا حافظ کہنے آئے ہوئے تھے۔ میں بھی وہاں ان کے درمیان بیٹھ گیا۔ وہ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے،  وطن کی باتیں،  رشتے داروں،  دوستوں اور جاننے والوں کی باتیں،  فلاں کو سلام دینا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تحفہ فلاں کے گھر خود جا کر دینا۔ وہ رستم سے طرح طرح کی فرمائشیں کر رہے تھے۔ ’’یار واپسی پر آتے ہوئے گھر کا بنا ہوا اچار ضرور لیتے آنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہاں ’’ہمدرد‘‘ کی بنی ہوئی کارمینا کی گولیاں ضرور لانا یا ر میرا تو ہاضمہ ہی خراب رہتا ہے۔ ‘‘ آہستہ آہستہ کر کے جب مہمان جانے شروع ہوئے تو میں نے بھی رستم سے اجازت چاہی۔ لیکن اس نے مجھے روک لیا۔ ’’کہاں جاؤ گے یار؟ کل اتوار ہے تمہیں کونسا کام کرنا ہے۔ یہیں رک جاؤ،  کونسے تمھارے بچے ہیں جو انتظار کریں گے!‘‘ وہ زور دینے لگا تھا۔ مجھے احمد یاد آ رہا تھا۔ وہ کیا سوچے گا۔ میرے گھر میں ٹیلیفون نہیں تھا ورنہ میں رستم کے گھر سے اسے فون کر دیتا۔ ‘‘ میں خیالوں میں کھویا ہوا تھا کہ رستم نے متوجہ کیا۔ ’’کیا سوچ رہے ہو؟ادھر آؤ سامان پیک کرانے میں میری مدد نہیں کرو گے؟‘‘ میں نے ہاں کہہ دی اور رات کو وہیں رک جانے کا فیصلہ کر لیا۔    

          رات کا کھانا وغیرہ کھانے کے بعد میں نے اس کا سامان بکسوں میں بند کرانے میں اس کی مدد کی اور اسی دوران ہم ادھر اُدھر کی باتیں بھی کرتے رہے۔ ’’یار اب کی بار تو شاید میں اکیلا واپس نہ آؤں۔ ‘‘ رستم نے مجھے بتایا کہ اس کے والدین کی خواہش ہے کہ اب اس کے وطن آنے پر اسے شادی کرنی ہی پڑے گی۔ لڑکی والے کب تک انتظار کرتے رہیں گے اب تو ایک سال منگنی کو بھی ہونے والا تھا۔ ‘‘ پھر اس نے ڈرائنگ روم میں ایک گدّا ڈال کر میرے لئے سونے کا بندوبست کر دیا اور خود اپنے سونے کے کمرے میں چلا گیا۔ میں احمد کے بارے میں مسلسل سوچ رہا تھا،  پھر مجھے یاد نہیں کہ کب میری آنکھ لگ گئی۔

          صبح جب میری آنکھ کھلی تو رستم باورچی خانے میں چائے بنا رہا تھا۔ میں نے منہ ہاتھ دھونے کے بعد ناشتہ بنا نے میں اس کی مدد کی اور جب ہم دونوں مل کر ناشتہ کر رہے تھے تب بھی مجھے احمد کا خیال آ رہا تھا۔ شاید بیچارے نے شام کا کھانا کھایا تھا یا نہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب تک وہ اپنے غصے پر کچھ تو قابو پا چکا ہو گا اور مستقبل کے بارے میں اس نے کچھ تو سوچا ہو گا۔

          اب دس بجنے والے تھے اور رستم کو اپنے پڑوس میں رہنے والی ایک پاکستانی فیملی کے ہاں جانا تھا جس نے اسے اپنی کار میں ایئرپورٹ تک پہنچانے کا بندوبست اور وعدہ کر رکھا تھا۔ میں نے اس سے اجازت چاہی۔ ہم دونوں گلے ملے۔  وہ مجھے اپنے سینے کے ساتھ بھینچتے ہوئے بولا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’یار،  راحیل! دعا کرنا،  خدا میری عزت رکھ لے۔ میں آج تک اپنی ساری کمائی والدین کو بھیج دیا کرتا تھا اور اب بھی جو کچھ بچا رکھا ہے وہ بھی ساتھ لے کر جا رہا ہوں،  یار بس برادری میں عزت رہ جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمھیں پتہ ہی ہے کہ ہمارے ہاں شادی بیاہ پر کتنا خرچ اٹھ جاتا ہے۔ ‘‘

          رستم کو الوداع کہہ کر میں اس کے گھر سے نکلا اور پیدل ہی ریلوے اسٹیشن کی طرف چل دیا۔ رستے میں سگریٹ خریدنے کے لئے میں ایک دکان میں داخل ہوا تو اچانک میری نظر ’’اخبارات کے سٹینڈ‘‘ پر پڑی تو میں دم بخود،  چونک کر رہ گیا ’’ایک پاکستانی نے اپنے ہی ہم وطن کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے جلدی میں ’’ایکسٹرا بلیڈٹ‘‘ کا ایک پرچہ اور سگریٹ کا ایک پیکٹ خریدا اور دکان سے باہر نکل کر وہیں کھڑے کھڑے خبر پڑھنی شروع کر دی،  اف میرے خدا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’احمد نامی ایک پاکستانی نے اپنی بیوی کے ایک پاکستان یار کو قتل اور اپنی بیوی کو چاقو کے وار کر کے شدید زخمی کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ قاتل مفرور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تفصیل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اندر کے صفحات پر ملاحظہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اخبار میرے ہاتھوں میں پھڑپھڑانے لگا اور سگریٹوں کا پیکٹ زمین پر گر گیا۔ ’’خدایا رستم کی شادی نہ ہونے دینا۔ ‘‘ زمین سے سگریٹوں کا پیکٹ اٹھاتے ہوئے بے اختیار میرے منہ سے دعا نکلی۔  میری گاڑی چھوٹ چکی تھی۔

٭٭٭