کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

فیصلہ!

نصر ملک


’’سنو!‘‘

          ماہر نفسیات نے اس کے ساتھ گھنٹہ بھر تک گفتگو کرنے کے بعد،  اسے اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’تم ایک اچھے نوجوان ہو،  تم میں وہ سبھی خوبیاں موجود ہیں جو تمھاری عمر کے نوجوانوں میں ہونی چاہئیں،  لیکن ان خوبیوں کے علاوہ تم میں وہ برائیاں بھی ہیں جو تمھیں تمھاری عمر کے نوجوانوں سے الگ کرتی ہیں۔ تم ایک لیچڑ،  بد لحاظ،  باتونی اور ان سب سے بڑھ کر کسی نہ ماننے والے ہو۔ ‘‘ ماہر نفسیات رک رک کر ایک ایک لفظ پر روز دیتے ہوئے بولتا جا رہا تھا۔ اور اس کی گہری نگاہیں اپنے سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے امجد کے چہرے پر ٹکیں اس کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہی تھیں۔

          ’’تم اعصابی تناؤ کی وجہ سے ذہنی کمزوری کا شکار ہو جس کی وجہ سے تمھیں یادداشت کا مسئلہ درپیش ہے۔  تم آوارہ مزاج،  خیالی دنیا میں آوارگی کے رسیا اور کافی حد تک آرام طلب ہو اور سب کچھ تمھارے لیچڑ پن کا سبب بن رہا ہے لیکن،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ماہر نفسیات ایک لمحہ بھر کو کچھ کہتے کہتے رکا اور پھر بولا ’’چھوڑو ان سب باتوں کو،  اور غور سے سنو! یہ باتیں کسی بیماری کا نام نہیں اور نہ ہی تمھیں کسی قسم کی جسمانی یا ذہنی بیماری لاحق ہے،  ہاں البتہ!‘‘ ابھی ماہر نفسیات مزید کچھ کہنے ہی والا تھا کہ امجد نے ایک قسم کے اندرونی کرب کو اندر ہی اندر دباتے ہوئے کرسی پر پہلو بدلا اور ایک طرح سے ماہر نفسیات کے معائناتی کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے ماہر نفسیات کو گھورنے والی نگاہوں سے دیکھا۔ کمرے میں ایک لمحے کے لئے گہری خاموشی بلکہ سناٹا چھا گیا تھا اور وہ دونوں اپنی اپنی کرسی پر بیٹھے ایک دوسرے کو یوں ٹک ٹک دیکھ رہے تھے گویا پتھر کے دو بت ایک دوسرے کے سامنے روبرو ہوں۔

          ’’تم کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ آخر ماہر نفسیات نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنے سوال کا پتھر پھینکا۔ امجد نے اپنے بدن میں ایک چھوٹا سا جھٹکا محسوس کیا اور پھر جیسے وہ اپنے آپ میں لوٹ آیا۔

          ’’میں،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں توبالکل کچھ بھی نہیں سوچ رہا۔ مجھے تو خود تم نے بس سننے کو کہا تھا۔ ‘‘ اب وہ پھر پتھر کا بت بن گیا تھا لیکن اس کی آنکھوں کی پتلیاں بڑی تیزی سے اوپر نیچے حرکت کر رہی تھیں۔

          ’’سنو!،  یہاں میرے ہاں تمھیں کسی شرم و حجاب کی ضرورت نہیں،  بلکہ تمھیں اپنے آپ کو کھول دینا چاہیے۔ ‘‘ ماہر نفسیات نے اب پھر آہستہ آہستہ بولنا شروع کیا ْ ’’بیباکی اور ایماندارانہ بیباکی ہی تمھاری مشکلات کا ازالہ کر سکتی ہے اور جب تک تم قطعی طور پر میرے ساتھ کھل کر بات نہیں کرو گے مجھے تمھاری مدد کرنے میں مشکل ہو گی۔ ممکن ہے میں تمھاری مدد ہی نہ کر سکوں۔ ‘‘ ماہر نفسیات آگے کچھ کہتے کہتے رک گیا اور امجد کو گہری مطالعاتی نگاہ سے دیکھنے گلا۔ امجد ابھی تک ٹک ٹک دیدم،  کرسی پر بیٹھا اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنے گھٹنوں پر ایک طرح سے تھاپ دے رہا تھا۔ لیکن وہ پھر یکدم چونکا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’تم کہہ رہے تھے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ اتنی آہستہ آواز میں بولا کہ جیسے اس نے خود سے کوئی سرگوشی کی ہو۔

          ’’ہاں میں کہہ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ماہر نفسیات نے بات آگے بڑھانے کے لئے ادھر اُدھر دیکھا اور پھر بولا۔ ’’میں کہہ رہا تھا کہ تمھیں پریشان ہونے یا ندامت محسوس کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور جو کوئی بھی بات ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو تم خاص طور پر کرنا چاہتے ہو،  بے دھڑک کرو،  میں پہلے بھی تمھیں دو بار اپنی ملاقاتوں میں یہی کہتا رہا ہوں۔ آج بھی تمھارے ساتھ گفتگو کے دوران میں نے اب تک جو کچھ محسوس کیا ہے وہ کوئی خاص نہیں،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کوئی خاص بات نہیں کہ تمھارا خیال ہے کہ تمھاری شادی اوّل تو ابھی ہونی ہی نہیں چاہیے تھی اور اب جو ہوئی ہے تو تمھاری مرضی کے خلاف ایک ایسی لڑکی سے جو تمھیں پسند نہیں اور تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس اس بات کو اپنے لئے روگ بنا بیٹھے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ماہر نفسیات نے محسوس کیا کہ امجد اب اس کی باتیں توجہ سے سن رہا تھا اور غالباً کان بھی دھر رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’تمھیں اپنے آپ میں مضبوط بننا اور خود اعتمادی پیدا کرنی ہو گی اور تمھیں اپنی زندگی،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا مطلب ہے،  اپنی ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ایک نیا موڑ مڑنا ہو گا۔ میں تمھاری ہر طرح سے مدد کرنے کو تیار ہوں اور تمھاری بھلائی چاہتا ہوں۔ ‘‘ ماہر نفسیات اب قدرے رک کر پھر بولا۔

          ’’میں تمھارے پاکستانیوں کے مذہب،  تمھاری ثقافت،  رسم و رواج اور پھر تم لوگوں کی خاندانی روایات کو بھی سمجھتا ہوں اور مجھے یہاں ڈینش معاشرے میں جوان ہونے والے تم نوجوان غیر ملکیوں میں پائے جانے والے سماجی و ثقافتی تضادات کا بھی علم ہے۔ اب جو کچھ میں کر سکتا ہوں کر رہا ہوں۔ میری دسترس اب صرف اور صرف تم تک ہے۔ میں تمھارے والدین کو وہاں نہیں لے جا سکتا جہاں سے وہ کوسوں آگے نکل جانے کے باوجود،  تمھارے خیال میں میلوں پیچھے ہیں۔ انہوں نے بھی آخر اس ’’اجنبی ماحول‘‘ کا کچھ تو اثر لیا ہے۔ ‘‘ ماہر نفسیات نے لمحہ بھر کے لئے امجد کو دیکھا اور اپنی بات جاری رکھی۔

          ’’میں تمھیں،  تمھارے والدین کے ماضی سے وابستہ کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہوں اور نہ ہی میرا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے والدین سے دور ہو جاؤ بلکہ میں تو چاہتا ہوں کہ اگر تمھارے اور تمھارے والدین کے درمیان فاصلہ کم نہیں ہو سکتا تو اسے مزید بڑھنا بھی نہیں چاہیے،  لیکن میری الجھن یہ ہے کہ یہ ممکن ہو تو کیسے؟ اس کے لئے تم کو ہی کچھ کرنا ہو گا۔ حالات سے سمجھوتے کے لئے خود اعتمادی،  یا پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ماہر نفسیات نے بات ادھوری چھوڑ دی اور اپنی گھڑی پر وقت دیکھنے لگا۔

          ’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر کیا؟‘‘ امجد نے بھی کمرے کی دیوار پر لگے ہوئے کلاک کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

          ’’پھر کیا! اس کا فیصلہ خود تمھیں کرنا ہو گا۔ میں تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر تم نے خود اعتمادی سے کوئی بھی فیصلہ کر لیا تو پھر تمھیں پریشانی نہیں ہو گی۔ ہاں،  بس ایک بات سمجھ لو کہ تمھیں اپنے آپ پر ہی اعتماد کرنا ہو گا،  اور یہ بھی جان لو کہ یہ بیکار کی باتیں،  ہر وقت کا لیچڑپن،  بے روزگاری،  گھر پر ماں باپ سے تو تو میں میں کی تکرار اور فرار،  ان سب سے بڑھ کر وہ جو تمھاری بیوی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔،  کچھ بھی ہے اخلاقی و قانونی لحاظ سے ابھی تک تمھاری ہی بیوی ہے اس سے تو تمھارا روّیہ یوں نہیں ہونا چاہیے۔ اب تمھیں کتنے دن ہو گئے ہیں گھر گئے ہوئے؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ تمھیں کم سے کم گھر والوں کو فون تو کرنا چاہیے۔ یوں اُن سے چھپے رہنے اور فرار اختیار کرنے کا فائدہ؟‘‘ ماہر نفسیات بولتا جا رہا تھا۔

          ’’میں تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ تم نے اگر اپنے والدین کے درمیان اس فاصلے کو طے کر لیا تو تمھیں پچھتانا نہیں پڑے گا اور نہ ہی یوں اپنے آپ میں موم بتی کی طرح جلتے اور پگھلتے رہنا پڑے گا۔ اپنی حالت تو دیکھو،  اور اس سے بڑھ کر کچھ تو سوچو کہ وہ بیچاری جو صرف تمھاری وجہ سے اب یہاں ڈنمارک آئی ہے اور تمھاری بیوی ہے اس طرح اُس سے علیحدگی،  اُس پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہو گی آخر کبھی اس پہلو پر بھی تو غور کرو،  اس بیچارگی کی اندرونی کیفیت کیا ہو گی؟‘‘ یہ کہتے ہوئے ماہر نفسیات نے اپنے میز پر جھک کر ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر اسے فائل میں لگا دیا۔ ’’ہاں،  میں نے تمھارے والدین کو بھی یہ مشورہ دیا تھا کہ تم دونوں کو،  میرا مطلب ہے تمھیں اور تمھاری بیوی کو اب اپنا الگ مکان یا فلیٹ لے لینا چاہیے تاکہ تم دونوں اکٹھے رہ کر اپنے مسئلہ کا شاید کوئی حل تلاش کر لو۔ ‘‘ اب ماہر نفسیات نے کاغذ کی ایک پرچی پر ایک تاریخ لکھ کر امجد کو تھمائی ’’اگلے ہفتے،  بدھ کے روز ٹھیک ایک بجے پھر آنا۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’ہاں آج گھر ضرور جانا اور اپنا رویہ ذرا درست رکھنا اور،  اپنی بیوی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کیا نام ہے اُس کا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں،  یاد آیا،  صوفیہ،  کتنا خوبصورت نام ہے اس سے پیار سے پیش آنے کی کوشش کرنا،  او،  کے!‘‘

          ماہر نفسیات کے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے امجد سے ہاتھ ملایا اور اسے ایک طرح سے اپنے کلینک کے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’اب اگلے ہفتے آنا یاد رکھنا۔ ‘‘

          امجد کلینک سے نکل کر لفٹ کے ذریعے،  چوتھی منزل سے جب سڑک پر آیا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی جیل کی بند کوٹھڑی سے کھلی فضا میں آ گیا ہو۔ اسے بازار کی رونق،  لوگوں کی بھیڑ بھاڑ،  مسکراتے چہرے بڑے پیارے لگ رہے تھے۔ وہ اس بھیڑ میں سے اپنا راستہ بناتا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ اب وہ چلتے چلتے شہر کے اُس چوراہے پر آن نکلا تھا جہاں سماج کے ہر پہلو پر احتجاج کرنے والے اور بے روزگار نوجوان لڑکے لڑکیوں کا ہر وقت ہجوم رہتا تھا۔ ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے وہ بھی دیوار کے ساتھ ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گیا۔ ’’حرامی پلّا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘ اس نے کچھ ہی دیر پہلے ماہر نفسیات کے ساتھ اپنی ملاقات کے متعلق سوچتے ہوئے خود سے سرگوشی کی۔ ’’اسے میرے والدین اور میرے درمیان فاصلہ تو نظر آتا ہے لیکن وہ اس کی وجہ کبھی نہیں جان پایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حرامی !‘‘ وہ مسلسل سوچ رہا تھا کہ اس کے احتجاج کے باوجود اس کے والدین نے اس کی شادی اس کی پھوپھی زاد،  صوفیہ سے کر دی تھی۔ اسے یاد آیا کہ کس طرح اس کے والدین اسے اپنے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لئے پاکستان لے گئے تھے اور جاتے ہی کس طرح انہوں نے اسے شادی کے بندھن میں باندھ دیا تھا۔  ’’گھبراؤ نہیں صوفیہ گھر ہی کی لڑکی ہے وہ تمھاری خوب خدمت خاطر کیا کرے گی،  بھئی وہ تو معصوم گائے ہے جو کہو گے کر لے گی۔ ‘‘اس کے والد نے اسے شادی کے روز گلے سے لگاتے ہوئے کہا تھا۔ اسے وہ واقعہ تو بہت اچھی طرح یاد تھا جب صوفیہ کے یہاں کوپن ہیگن آ جانے کے بعد وہ پہلی بار صوفیہ کے لئے ایک پتلون خرید کر لایا تھا۔ اس نے وہ پتلون پہن تو لی اور اس کی تعریف بھی بہت کی لیکن اس نے شام کو امجد کے ساتھ باہر کلب جانے سے صاف انکار کر دیا تھا اور اس پر گھر میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا۔ امجد کا باپ صوفیہ کی طرفداری کر رہا تھا اور ماں ان تینوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔

          ’’امجد تم نے کبھی مجھے کلب جاتے ہوئے دیکھا ہے،  یا کبھی تمھارے باپ نے اس طرح مجھ سے کوئی تقاضا کیا ہے؟ وہ اپنی بوڑھی ماں کی اس بات پر اس شام ہنسے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔ ’’ماں،  تمھارے دل میں اگر خواہش ہے تو کیوں پوری نہیں کر لیتی ہو،  آخر یہاں تمھاری عمر کی عورتوں کے بھی تو کلب ہیں۔ ‘‘ اسے اپنی کہی ہوئی بات آج بھی یاد تھی۔ اس کی اس بات پر اس کے باپ نے اسے تھپڑ دے مارا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ’’حرامی کی اولاد! اب تمھاری یہ جرأت،  ماں کو کلب جانے کا کہہ رہا ہے۔ ‘‘ اس کا باپ چیخ رہا تھا۔

           ’’یہ سب کچھ تمھارا ہی کیا دھرا ہے،  ہمارا ایک ہی تو بچہ ہے،  کہہ کہہ کر تم نے اسے ناک پر چڑھایا اور اب اس کی یہ ہمت کہ تمھیں کلب جانے کا مشورہ دے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ حرامی پاکستانی،  اپنے آپ کو ڈینش سمجھتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ڈینش کتا!‘‘ صوفیہ یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہی تھی اور خوفزدہ بھی تھی،  اسے ڈنمارک آئے ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئے تھے۔

          امجد وہیں بیٹھے بیٹھے خیالات کے دھارے میں بہت پیچھے نکل گیا تھا۔ اسے اپنی ہم جماعت مارینا کی یاد آئی جو سکول سے کالج تک اُس کے ساتھ پڑھتی رہی تھی۔ اپنی شادی کے بعد جب کبھی گھر میں اس کی باپ کے ساتھ تو تکار ہوئی یا صوفیہ سے ان بن،  وہ کتنی ہی بار مارینا کے گھر پر راتیں بسر کر چکا تھا۔  وہ اکیلی رہتی تھی اور کسی جگہ ’’جزوقتی ‘‘ملازمت بھی کرتی تھی۔

          ’’وہی تو ہے جو مجھے،  میرے جذبات اور میرے خیالات کو سمجھتی ہے۔ ‘‘ اس نے اپنے جوتے کا تسمہ ٹھیک سے باندھتے ہوئے خود کلامی کی۔ پھر اسے کوئی دو ماہ پہلے کا وہ واقعہ یاد آ گیا جب وہ اپنی گلی کے موڑ پرمارینا کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ اس کا باپ،  جو اپنے کام سے فارغ ہو کر گھر آ رہا تھا وہ وہاں آن نکلا اور اس نے کچھ جانے پوچھے بغیر نہ صرف خود اسے بلکہ مارینا کو بھی برا بھلا کہنا شروع کر دیا تھا اور جاتے جاتے وہ مارینا کو اس کی ٹانگیں توڑ دینے کی دھمکی بھی دے گیا تھا۔ در اصل اس دن سے امجد کے دل میں اپنے باپ کے خلاف نفرت کی جڑیں اور بھی گہری ہو گئی تھیں۔  پچھلے دو ماہ سے جب سے اس کی ماں پاکستان گئی ہوئی تھی وہ گھر بھی نہیں آیا تھا اور’ ’نوجوانوں کے ایک فلاحی گھر‘‘ میں رہ رہا تھا۔

           امجد کالج سے فارغ ہونے کے بعد کمپیوٹر کا ایک کورس کرنے کے باوجود بے روزگار تھا اور محض ’’بے روزگاری الاؤنس‘‘ پاتا تھا جو اس کا باپ ہتھیا لیتا تھا کہ پاکستان میں زیر تعمیر کوٹھی کے لئے رقم کی ضرورت تھی۔ امجد کی شادی ہوئے اب کوئی ایک سال ہونے کو آیا تھا لیکن صوفیہ کے ساتھ اس کی ابھی تک بن نہیں پائی تھی۔ صوفیہ نے اس کی توجہ حاصل کرنے کے لئے کئی جتن کئے لیکن امجد کے روّیے میں کوئی فرق نہ آیا۔ امجد اسے محض دیہاتن اور وہ بھی ایسی جو گاؤں کی تنگ و تاریک کوٹھڑی سے اٹھ کر کوپن ہیگن جیسے شہر کی چکا چوند،  آنکھوں کو چوندھیا دینے والی روشنی میں آ گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’چمگادڑ‘‘ اس کے سوا وہ صوفیہ کو اور کچھ بھی نہیں سمجھتا تھا۔

          اسے یاد آیا کی کس طرح ایک دن جب ہلکی ہلکی دھوپ میں وہ اور صوفیہ گھر کے پچھواڑے میں باغیچے میں بیٹھے تھے اور وہ اسے مختلف پھولوں کی اقسام اور ان کے خوش رنگوں اور ناموں کے متعلق بتا رہا تھا کہ وہ یکدم اچھل کر کودی۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ’’دیکھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو،  وہ ادھر،  اوی اللہ! مینڈکچی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مینڈکچی!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہائے اللہ یہ یہاں بھی ہوتی ہیں ؟‘‘ وہ یہ کہتی ہوئی قہقہے لگاتی امجد کو متوجہ کر رہی تھی اور وہ حیران کھڑا سوچ رہا تھا کہ اس دیہاتن کو گھاس میں گھسی چھپی ہوئی مینڈکچی تو نظر آ گئی لیکن وہ پھولوں پر اڑتی ہوئیں رنگ برنگی تتلیوں کو نہیں دیکھ سکی تھی۔ وہ اپنے خیالوں میں کھویا ہوا اپنے دوست فرمان کے متعلق سوچنے لگا۔ وہ دونوں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ فرمان کے والدین لاہور سے تھے اور اس نے پڑھائی ختم کرتے ہی اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر دو کمروں والا ایک فلیٹ کرائے پر لے لیا تھا اور وہاں رہنے لگا تھا۔ اس کے والدین پہلے تو اسے پسند نہیں کیا تھا اور انہوں نے اس پر احتجاج بھی کیا لیکن پھو خود ہی خاموش بھی ہو گئے تھے۔ اسے یاد آیا کہ فرمان نے کس طرح اپنی زندگی خود بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک جگہ کام بھی شروع کر دیا ہوا تھا اور اب تو اس کے پاس اپنی کار بھی تھی۔

          فرمان کبھی کبھی امجد سے ملنے اس کے گھر بھی آ جایا کرتا تھا۔ اس موقعہ پر امجد کا باپ اگر گھر پر ہوتا تو وہ نہ صرف فرمان کے سامنے امجد کی بے عزتی کرنے میں پیچھے نہ رہتا بلکہ وہ فرمان کو بھی خوب سناتا۔    ’’ذلیل! سوچو تو تمھارے ماں باپ نے تمھاری کونسی خواہش پوری نہیں کی اور تم نے ان کو یہ صلہ دیا کہ پوری برادری میں ان کی کاٹ کٹوا دی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب کتے کی طرح نہ گھر کے ہو نہ گھاٹ کے!‘‘

          فرمان یہ لعن طعن سننے کے باوجود بس مسکرا دیا کرتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’چچا جی۔ ۔ ۔ ۔ روز روز کی کھینچا تانی سے یہ بہتر ہے کہ میں ہی الگ ہو گیا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن میں نے ان سے بالکل تعلق بھی تو نہیں توڑا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اس کا ایک ہی جواب ہوتا تھا۔ ’’میرے والدین میرے سر آنکھوں پر لیکن میری زندگی میری ہے انہیں کیا اختیار کہ وہ مجھ سے بات تک کئے بغیر میرے متعلق فیصلے کرتے پھریں،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا جی! میں کوئی نیلامی کا مال تو ہوں نہیں !‘‘

          فرمان کا خیال آتے ہی امجد اپنی قسمت میں اذیت ناکی اور ازدواجی بے رحمی کے لئے خود کو الزام دینے لگا۔  ’’میں بھی فرمان کی طرح پہلے ہی والدین سے الگ ہو گیا ہوتا،  تو یہ دن اور یہ نوبت تو نہ آتی۔ ‘‘ اب وہ پھر گہری سوچ میں تھا۔ ’’اگر صوفیہ تم کو قبول نہیں تو پھر اس سے الگ کیوں نہیں ہو جاتے ہو؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طلاق دے دو!‘‘ اسے فرمان کا مشورہ یاد آ رہا تھا۔ ’’آخر کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی،  پاکستان میں بھی تو لوگ طلاق دیتے ہی ہیں نا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر اس کا بھی تو سوچو،  وہ کیسے بسر کر رہی ہو گی!‘‘

          وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور چلنے ہی کو تھا کہ اسے احساس ہو ا کہ اس کے جوتے کا تسمہ پھر ڈھیلا پڑ گیا تھا۔ اس نے جھک کر تسمہ کس کر باندھا اور ایک بھر پور انگڑائی لے کر آگے چل دیا۔ ایک طرح سے بے خبری میں وہ اپنے سامنے والی سڑک پر نکل آیا تھا اور اپنے اردگرد کی بھیڑ سے بے خبر جا رہا تھا۔ ’ دو ماہ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے خیال آیا کہ وہ پچھلے پورے دو ماہ سے نہ گھر گیا تھا اور نہ ہی کبھی اس نے کوئی فون کیا تھا۔ ’’نوجوانوں کے فلاحی گھر‘‘ میں رہتے ہوئے اسے اپنے ارد گرد کی خبر ہی نہیں رہی تھی۔ بس مہینے میں ایک بار ماہر نفسیات سے ملاقات اور پھر آج کی بات چیت اور وہ بھی بے فائدہ۔ وہ اکثر و بیشتر اپنے کمرے میں پڑا رہتا تھا یا پھر وقت گزاری کے لئے آوارہ گردی اس کا معمول بن چکا تھا۔ ’’اچھا تو پھر آج ایسا ہی سہی‘‘ اس نے تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے خود سے سرگوشی کی۔ ’’اس کی وجہ سے میں کیوں مصیبت اٹھاتا پھروں۔ ‘‘ اس نے فیصلہ کن انداز میں سوچا۔ ’’آج میں یہ قصّہ پاک ہی کر دوں گا!‘‘

          اب وہ ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے اندر داخل ہو چکا تھا۔ ’’ابھی کچھ وقت ہے۔ ‘‘ اس نے ٹکٹ خریدنے کے بعد،  دیوار پر لگے بڑے کلاک پر نگاہ ڈالتے ہوئے سوچا اور کیفے ٹیریا کی طرف چل دیا۔

  وہاں اس نے اپنے لئے ’’بلیک لیبل‘‘ کی ٹھنڈی بیئر کی ایک بوتل خریدی اور ایک کونے میں جا بیٹھا اور بڑے اشتیاق کے ساتھ بیئر کو گلاس میں انڈیل کر غٹاغٹ یوں پی گیا جیسے مدتوں کا پیاسا ہو یا سپنے میں لگی آگ بجھا رہا ہو۔ ابھی اس نے آخری گھونٹ حلق سے نیچے اتارا ہی تھا کہ اسے اپنا سر قدرے چکراتا ہو ا لگا۔ اب اسے یاد آیا کہ وہ تو صبح سے ہی بھوکا تھا۔ اسے اپنی پیٹھ پر ہلکی سی کپکی کا احساس ہوا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور کیفے ٹیریا سے باہر نکل کر آہستہ آہستہ پلیٹ فارم کی طرف چل دیا۔ اس کے خیالات اب ابھر کر اس کے سامنے آنے لگے تھے۔ اس کے لئے دو ٹوک فیصلے کا وقت قریب آ رہا تھا۔

          ابھی وہ پلیٹ فارم پر پہنچا ہی تھا کہ ویلبی جانے والی گاڑی بھی پہنچ گئی۔ وہ مسافروں کی بھیڑ میں اپنے لئے راستہ بناتا ہوا گاڑی کے کمرے میں داخل ہو ا اور پھر خود کو ایک نشست پر گرا دیا۔

           ’’آج یہ معاملہ طے ہو کر ہی رہے گا۔ ‘‘ وہ گہری سوچ میں گم تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ادھر یا اُدھر!‘‘ وہ زیر لب بڑبڑایا۔

          ریل گاڑی فراٹے بھرتی جا رہی تھی اور خیالات اس کے ذہن میں گاڑی کی رفتار سے بھی تیزی کے ساتھ آ جا رہے تھے۔

           ’’کتنا ہی اچھا ہو اگر ماں پاکستان سے واپس نہ آئی ہو،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج تو میں باپ کو بولنے کا موقع ہی نہیں دوں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’طلاق،  طلاق اور بس قصہ پاک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘ اور پھر گاڑی ویلبی اسٹیشن پر رکی تو وہ یوں چھلانگ لگاتا ہوا کمرے سے باہر نکلا جیسے وہ تندور کی آگ میں گرا ہوا تھا۔ اب وہ اپنے آپ میں قدرے مطمئن دکھائی دے رہا تھا اور کوشش کر رہا تھا کہ کسی جاننے والے کی نظر میں نہ آئے۔

          اس نے اسٹیشن کی عمارت سے باہر نکل کر سیدھا گھر کا رخ کیا۔ خیالات ابھی تک اس کے ذہن میں تانے بانے بن رہے تھے۔ ’’آج تو بس روز روز کا جھگڑا ختم ہو جائے گا۔ ‘‘ اس نے چلتے چلتے سوچا اور گردن گھما کر پیچھے دیکھا۔  یہ محض اس کا وہم تھا،  اپنے پیچھے اسے اپنے لمبے سائے کے سوا کوئی بھی تو دکھائی نہیں دیا تھا۔ اس نے چلتے چلتے اپنے کوٹ کی بائیں جیب میں پڑے سکوں کو اپنے ہاتھ کی مٹھی میں دبا لیا۔ اسے اپنی مٹھی میں سکوں کے علاوہ ایک کاغذ کی موجودگی کا بھی احساس ہوا جسے اس نے باہر نکال کر

 دیکھا تویہ ماہر نفسیات کی دی ہوئی ’’ملاقاتی تاریخ‘‘ والی پرچی تھی۔ ’’حرامی سوچتا ہے کہ میں بار بار اسی کے ہاں آتا رہوں گا۔ ‘‘ اس نے پرچی مروڑ کر ایک طرف پھینکتے ہوئے سوچا اور آگے چلتا گیا۔ اب وہ اپنے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر تھا کہ وہ اپنے آپ میں اس طرح بھینچ گیا جیسے سردی کی وجہ سے ٹھٹھر رہا ہو۔ پھر اس نے اپنی ساری قوت جمع کر کے چلتے چلتے اپنے بازوؤں کو ہوا میں یوں لہرایا جیسے اڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔ وہ اس عجیب اتفاق پر دل ہی دل میں خوش تھا کہ گلی میں کسی جاننے والے سے سامنا نہیں ہوا تھا ورنہ یہاں اس وقت کوئی نہ کوئی تو ضرور مل جایا کرتا تھا۔ اسے ایک لمحے کے لئے ’’مارینا‘‘ کا خیال آیا۔ ’’شاید بار میں ہو،  لیکن بھاڑ میں جائے اس وقت۔ ‘‘ اس نے سوچا۔ ’’آج تو بس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘ وہ اس سے آگے کچھ نہ سوچ سکا اب وہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا گھنٹی بجا رہا تھا۔ دو تین بار گھنٹی بجانے کے باوجود بھی جب کسی نے دروازہ نہ کھولا تو اس نے ایک بار پھر زور سے گھنٹی بجاتے ہوئے غصّے کے ساتھ زمین پر تھوکا۔ ’’کم بخت پتہ نہیں کہاں مر گئے ہیں ؟‘‘ وہ زیر لب بڑبڑایا۔ عین اسی لمحے پڑوس والا پاکستانی اکبر نجانے کہاں سے نمودار ہو گیا۔ ’’تم اب آئے ہو!‘‘ وہ امجد کو کھا جانے والے نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔ ‘‘ اب آئے ہو جب  کچھ بھی نہیں رہا۔ تمھارا باپ تو پاکستان چلا گیا ہے اور ماں تمھاری  پہلے ہی وہاں ہے۔ ‘‘

          ’’وہ کب پاکستان گیا۔ ۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ اور،  وہ صوفیہ!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا وہ بھی پاکستان چلی گئی ہے؟‘‘ ایک طرح کی اپنی اندرونی کپکپی پر قابو پاتے ہوئے امجد نے بوڑھے پنشنر اکبر سے پو چھا۔

          ’’یہ اسی کمینی ہی کی تو کرتوت ہے!‘‘ اکبر غصّے کے ساتھ زور دیتے ہوئے بولا اور پھر یکدم اس کا لہجہ دھیما پڑ گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’یہ اس کی کرتوت نہیں،  یہ قصور تمھارا ہے،  صرف تمھارا!،  نہ تم ایسا کرتے اور نہ تمھارے والدین اور خاندان کو یہ دن دیکھنے پڑتے۔ ‘‘

          ’’کون سے دن؟،   میں تمھاری بات نہیں سمجھ سکا۔ ‘‘ امجد بولا۔

          ’’یہی دن! وہ تمھاری بیوی دو ہفتے ہوئے گھر چھوڑ کر پاکستان چلی گئی تھی اور جانے سے پہلے تمھارے باپ کے نام خط چھوڑ گئی تھی کہ وہ تم سے طلاق لے رہی ہے اور بس ‘‘ اکبر دانت پیستے ہوئے بولا۔           ’’تمھاری ماں تو ابھی پاکستان سے واپس نہیں آئی تھی۔ تمھارا باپ کیا کرتا،  پاگلوں کی طرح اس نے خود تمھیں تلاش کیا۔  تمھارے دوستوں سے پوچھا،  وہ کہاں کہاں نہ گیا،  تمھارا کوئی اتا پتا نہ چلا۔  تمھارے دوستوں نے تو تمھارے بارے میں شائد کچھ بھی نہ بتانے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔ تمھارے باپ کا خیال تھا کہ تمھاری بیوی کو پاکستان بھجوانے میں بھی تمھارے ہی کسی دوست کا ہاتھ ہے۔  اب وہ خود بھی پچھلے ہفتے سے پاکستان چلا گیا ہوا ہے اور وہ کہتا تھا کہ وہ وہاں تمھاری پھوپھی سے مل کر معاملہ ٹھیک کر لیں گے اور وہ تمھاری بیوی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اسے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ساتھ لے کر ہی واپس آئیں گے۔ ‘‘ اکبر اپنے غصّے پر قابو پاتے ہوئے بولے ہی جا رہا تھا اور امجد گم سم پتھر کے بت کی طرح کھڑا اسے مسلسل گھورے جا رہا تھا۔ ’’تو مطلب یہ ہوا کہ اس نے مجھے فیصلہ کرنے کی بھی مہلت نہیں دی۔ ‘‘ امجد کے ذہن میں خیال آیا۔ ’’وہ گائے نہیں مکار لومڑی سے بھی بد تر نکلی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہلے ہی مجھ پر وار بھی کر گئی۔ ‘‘ اب وہ مزید کچھ نہیں سننا چاہتا تھا اور وہاں سے واپس مڑ جانا چاہتا تھا۔ ابھی وہ ایسا کرنے کے لئے سوچ ہی رہا تھا کہ سامنے سے گلی کی نیم روشنی میں دو سائے اسے اپنی جانب آتے دکھائی دیئے لیکن اس نے کوئی خاص توجہ نہ دی بلکہ وہ اپنی ہی سوچ میں گم یوں کھڑا تھا گویا اس کے وجود میں جان ہی نہ ہو۔ ابھی وہ پوری طرح سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اسے اکبر کی غصّے سے کانپتی ہوئی آواز سنائی دی۔

          ’’تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو،  تو کمینی ابھی تک یہاں ڈنمارک ہی میں ہے،  اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ،  مردود!،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کون ہے،  تیرا یار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

          اکبر کے چلانے سے امجد اپنے آپ میں ذرا سنبھل چکا تھا۔ اس کے سامنے دو سائے نہیں بلکہ اب اس کا اپنا دوست فرمان کھڑا تھا اور اس نے صوفیہ کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔

          ’’فرمان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘ اس نے دیکھا کہ فرمان اور صوفیہ گھر کے دروازے کی طرف قدم اٹھا رہے تھے۔

          ’’ہاں،  امجد! صوفیہ اپنا سامان لینے آئی ہے۔ ‘‘ فرمان چلتے چلتے رک گیا تھا۔ ’’صوفیہ کا وکیل اس کی طرف سے تمھیں علیحدگی کا نوٹس پہلے ہی بھیج چکا ہوا ہے۔ تم جانتے ہو یہ ڈنمارک ہے پاکستان نہیں،  ہم دونوں نے اب اکٹھا رہنے اور پھر شادی کر لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ فرمان بڑے اعتماد کے ساتھ بول رہا تھا اور اُس کے ہر ایک لفظ میں وزن تھا۔ ’’تم خود بھی یہی چاہتے تھے نا کہ اس سے الگ ہو جاؤ۔ ‘‘ ادھر صوفیہ گھر کے دروازے کی دہلیز پر کھڑی ’’چابی‘‘ ہوا میں اچھالتے ہوئے اسے بلا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمان!‘‘

          اکبر پنشنر یہ سب کچھ دیکھنے اور سننے کے بعد دم بخود رہ گیا تھا اور اُس نے وہاں سے کھسک جانے ہی میں اپنی بھلائی سمجھی۔

           ’’یہ ہمارا اپنا قصور ہے جو اپنی اولادوں کو اس مادر پدر آزاد ملک میں لے آئے۔ ‘‘ وہ چلتے چلتے زیر لب بڑبڑا رہا تھا۔  ’’ہم نے اپنے بچوں کے عوض دولت کو ترجیح دی۔ ‘‘

          امجد کچھ کہے بغیر سر جھکائے آہستہ آہستہ اکبر کے پیچھے پیچھے ہو لیا لیکن چند ہی قدم چلنے کے بعد رک گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے دائیں جوتے کا تسمہ پھر ڈھیلا پڑ گیا ہے۔ اس نے جھک کر اسے کس کر باندھنا چاہا،  لیکن نہیں،  تسمہ ڈھیلا نہیں پڑا تھا بلکہ ٹوٹ چکا تھا۔ اب وہ ایک پاؤں میں بن تسمے کے جوتا پہنے یوں چل رہا تھا کہ اسے اپنا توازن برقرار رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔ اب وہ گلی کے موڑ پر بار کے قریب پہنچ چکا تھا اور خود کو ہلکا سمجھ رہا تھا اور اس کے چہرے پر ایک طرح سے تازگی اور ہونٹوں پر بناوٹی سی مسکراہٹ تھی۔ ابھی وہ بار کے دروازے سے اندر داخل ہونے ہی والا تھا کہ کسی نے دوسری طرف اندر سے یکدم دروازہ کھول دیا جس کی وجہ سے خود اسے دروازے سے کچھ پیچھے ہٹنا پڑا۔ ایک نوجوان ہٹّ اکٹّا ’’سکن ہیڈ‘‘ ڈینش،  نشے میں دھت ایک لڑکی کو اپنے بازوؤں پر اُٹھائے بار سے باہر نکل رہا تھا۔

          ’’اے پاکی باسٹڈ!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیچھے ہٹو!!‘‘ وہ سکن ہیڈ آگے بڑھتا ہوا چلایا۔

          امجد نے ذرا گردن گھما کر دیکھا تو وہ لڑکی ’’مارینا‘‘ تھی۔ اس کے بال کھلے ہوئے تھے اور اسکرٹ ہوا سے اڑ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’مارینا۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘ وہ ہکا بکا رہ گیا اور بار میں داخل ہونے کی بجائے تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا ریلوے اسٹیشن کی طرف چل دیا۔ تھوڑی دور آگے چل کر وہ لمحہ بھر کے لئے ایک جگہ رک کر یوں نیچے جھکا جیسے کچھ تلاش کر رہا ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب وہ پھر چلنے لگا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ چل نہیں بلکہ اب بھاگ رہا تھا۔ اس کی گاڑی چلنے میں زیادہ منٹ باقی نہیں رہ گئے تھے۔

          گاڑی میں داخل ہوتے ہی اس نے ایک گہرا لمبا سانس لیا۔ وہ ایک طرح سے ہانپ بھی رہا تھا۔ اب اُس نے سیٹ پر بیٹھ کر بڑے اطمینان سے گہرا سانس لیا اور اپنی بند مٹھّی کھول کر کچھ دیکھنے لگا۔  ’’اگلے ہفتے،  بدھ کے روز،  ٹھیک ایک بجے۔ ‘‘ یہ ماہر نفسیات کی دی ہوئی وہ پرچی تھی جو اس نے واپسی پر جھک کر اٹھائی تھی۔ اس نے اسے تہہ کر کے جیب میں ڈالتے ہوئے اپنی آنکھیں موند لیں۔  گاڑی اپنی پوری رفتار سے خراٹے بھرتی کوپن ہیگن کی طرف جا رہی تھی۔

٭٭٭