کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

قسط در قسط زندگی

نصر ملک


فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔

          کرستینا نے ریسیور اُٹھایا۔

                   ’’میں تجھے کئی بار فون کر چکی ہوں۔ ‘‘ یہ اس کی چھوٹی بہن کیتھرینا کی آواز تھی۔                                                                                                     

          ’’میں سو رہی تھی۔ ‘‘ کرستینا بولی۔

          ’’اس وقت! دن کا ایک بج رہا ہے!!‘‘

          ’’میں رات کو ٹھیک طرح سے سو نہیں سکی۔ ‘‘ کرستینا نے وضاحت کی۔

          ’’کیوں ؟‘‘

          ’’رات کو تین بجے کے قریب میری آنکھ کھل گئی تھی۔ ‘‘

          ’’کوئی بھوت آ گیا تھا کیا؟‘‘ کیتھرینا نے پو چھا۔

          ’’باورچی خانے میں پرانے فریج سے اتنی ڈرا دینے والی آوازیں نکل رہی تھیں۔ میں سمجھی کوئی گڑ بڑ کرنے والا ہے۔ ‘‘ کرستینا نے بتایا۔ ’’یہ تو تم جانتی ہی ہو کہ اخبارات آج کل کیا کیا لکھ رہے ہیں۔ بڑے بڑے شہروں کے پرانے وسطی علاقوں میں کسی عورت کا اکیلی ہونا اُس کی زندگی کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے۔ ‘‘

          ’’میں نے ایک ضروری کام کے لئے تمھیں فون کیا ہے۔ ‘‘ کیتھرینا بولی۔

          ’’بتاؤ۔ ‘‘

          ’’مجھے ایک کورس پر جانا ہے۔ ‘‘

          ’’تو پھر جاؤ نا۔ ‘‘

          ’’کیا تم میرے بچوں کی دیکھ بھال کر سکو گی؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔  صرف تین دن کے لئے!‘‘

          ’’ضرور کرتی،  مگر میں تو بیمار ہوں۔ ‘‘

          ’’لیکن اب تو تم ٹھیک ہو!‘‘ کیتھرینا نے اُس کی بات کاٹی۔ ’’میرے بچوں کی دیکھ بھال کر سکنے والا تمھارے علاوہ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا نا!،۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تم گھر پر ہی تو ہوتی ہو۔ ‘‘

          ’’ہاں،  لیکن بیماری کی وجہ سے میں ایسا نہیں کر سکتی۔ ‘‘ کرستینا نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔        

          کیتھرینا نے زور سے فون بند کر دیا تھا۔ ’’نامعقول،  کاہل،  ہڈ حرام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘ وہ نجانے کیا کیا کہہ رہی تھی۔

          کیتھریناکے ساتھ کرستینا کا یہ رویہ معمولی بات نہ تھی۔ اپنی بہن کے اس رویے پر کرستینا حیران و پریشان ہو کر رہ گئی تھی۔ اب اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اُس نے اعصابی قوت کی ایک گولی کھائی اور کمبل اوڑھ کر صوفے پر لیٹ گئی تھی۔ اُسے اپنی تنہائی کا بار بار خیال آ رہا تھا۔ تنہائی،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انفلوئینزا بخار اوپر سے اپنی بہن کی یوں طعنہ زنی۔ ’’کیا کیتھرینا میری صورتِ حال نہیں سمجھ سکتی؟‘‘ اس نے خود سے سوال کیا۔

          کمبل اوڑھے،  ابھی وہ آدھ موئی سے لیٹی ہوئی تھی کہ کوئی گھنٹے بعد،  فون کی گھنٹی پھر بجی۔ یہ اُس دکان کا مالک تھا جہاں وہ کام کرتی تھی۔

          ’’کیا تم کام پر واپس آسکتی ہو؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔ ’’اب تو تم صحت یاب ہو چکی ہو گی!‘‘ وہ مسلسل بولے جا رہا تھا۔ ’’سنو! آج کل ’’سیل کا سیزن‘‘ سر پر ہے۔ تمھاری موجودگی بہت ضروری ہے۔ ‘‘

          کرستینا بار بار اپنی بیماری کا بتا رہی تھی۔ لیکن وہ کرستینا کو کام پر آنے کے لئے اصرار کر رہا تھا۔ باتوں باتوں میں اُس نے یہ بھی جتلا دیا تھا کہ وہ اب تین ماہ سے غیر حاضر ہے۔  اور اگر اب بھی وہ بیمار ہی ہے تو پھر ’’سیزن کی سیل‘‘ میں اُس کی جگہ کوئی نہ کوئی نئی ملازمہ بھرتی کرنی پڑے گی۔

          ’’کوئی بھی میری بیماری کو سمجھ کیوں نہیں پاتا؟‘‘ فون پر جب گفتگو ختم ہوئی تو کرستینا پھر سوچنے لگی۔ ’’یہ گفتگو تو نہیں،  یہ تو یکطرفہ دھمکی تھی،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملازمت سے بر طرف کر دینے کی دھمکی۔ ‘‘ وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔ ’’دوسروں کے لئے اپنی وجوہات کی بنا پر باتیں کرنا کتنا آسان ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید یہ لوگ مجھے محض بہانہ ساز سمجھتے ہیں۔ ‘‘ وہ پھر صوفے پر ہی ڈھیر ہو گئی تھی۔

          پچھلے کئی دنوں سے اُس کی یہ عادت سی ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رونا،  سونا،  سوتے میں ڈراؤنے خواب دیکھنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھنا،  رونا،  سوچنا اور پھر،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر کمبل اور پھر اسے یاد نہیں رہتا تھا کہ وہ سو رہی تھی یا محض لیٹی ہوئی تھی۔

          چند دنوں کے بعد کرستینا اپنے طبی معائنے کے لئے معینہ وقت پر اپنے ڈاکٹر کے ہاں گئی۔  ڈاکٹر نے معائنے کے بعد اُسے بتایا کہ وہ اب بالکل ٹھیک اور رو بصحت ہے۔ اپنی صحت یابی کا سن کر وہ ایک طرح سے چکرا سی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’لیکن میں کام پر نہیں جاؤں گی۔ ‘‘ وہ خود کلامی کے سے انداز میں زیر لب بولی۔ ’’سیزن کی سیل شروع ہونے سے پہلے تو ہر گز نہیں جاؤں گی!‘‘

          کرستینا نے اپنی صورتِ حال کی وجہ سے،  ڈاکٹر کو اپنی بے خوابی و اعصابی تناؤ اور چڑچڑے پن کے بارے میں بتایا۔ اُس نے اپنے لئے ڈاکٹر سے کوئی سخت قسم کی گولیوں کی درخواست کی۔ پہلے والی گولیاں کوئی خاص اثر نہیں دکھا رہی تھیں۔ اپنے اعصاب کو اعتدال اور قابو میں رکھنے کے لئے اُسے دن میں کئی کئی بار یہ گولیاں کھانی پڑتی تھیں۔ اور اس سلسلے میں وہ ڈاکٹر کی ہدایات کو بھی نظر انداز کرنے لگی تھی۔ وہ اکثر رات میں جاگ پڑتی تھی۔

          ڈاکٹر اُسے رو بصحت قرار دے چکا تھا۔ اُس کا اصرار تھا کہ اُسے اب مزید گولیوں کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اعصابی قوت اور خواب آور،  دو مختلف قسم کی گولیوں کا یوں ایک ساتھ،  مسلسل استعمال اور اس کا رد عمل،  کرستینا کی صحت کے لئے مستقبل میں سخت مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ کرستینا اپنے لئے گولیوں کو ضروری سمجھ رہی تھی۔

          ڈاکٹر نے اُسے مشورہ دیتے ہوئے زور دیا کہ وہ گولیوں پر انحصار کرنے کی بجائے،  لوگوں سے میل ملاپ کے ذریعے اپنے روز و شب میں تبدیلی کے لئے کوشش کرے۔ کیونکہ اس کی بیماری کی اصل وجہ یہی تھی کہ اُس نے اپنے آپ کو با لکل تنہا کر لیا ہوا تھا اور اپنے ہی اندر بند ہو کر رہ گئی ہوئی تھی۔     

           ’’کچھوے کو دیکھنے اور چلنے کے لئے اپنی آنکھیں اور ٹانگیں اپنی کھوپڑی سے خود ہی باہر نکالنی ہوتی ہیں۔ ‘‘ ڈاکٹر کا کہا ہوا جملہ اُسے یاد آ رہا تھا۔ ڈاکٹر نے گولیاں دینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ کرستینا سخت بھنی  ہوئی کلینک سے باہر نکلی۔ وہ اتنی بپھری ہوئی تھی کی اُس نے بس پکڑنے کی بجائے ٹیکسی لی اور سیدھی گھر پہنچ گئی۔

          اس نے اپنے لئے کافی کی ایک پیالی تیار کی لیکن،  اسے پینے کی اس میں ہمت نہ ہو سکی۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اور انگلیاں خود بخود،  مٹھی کی طرح بند ہونے لگی تھیں۔ اُس نے اعصابی تناؤ کی تین گولیاں ایک ساتھ کھائیں اور ٹھنڈی کافی کی دو تین چسکیاں لے کر،  منہ بناتے ہوئے پیالی واپس رکھ دی تھی۔

          ’’مجھے واقعی اتنی گولیاں نہیں کھانی چاہئیں۔ ‘‘ جوں جوں اس کی طبعیت سنبھلتی جا رہی تھی،  وہ سوچ رہی تھی۔ ’’پیٹر کا یوں اُسے طلاق دے دینا،  تنہائی،  انفلوئینزا بخار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔ یہ سب کچھ پیٹر ہی کی وجہ سے ہوا تھا۔ وہ اس کی پشت میں چھرا گھونپ گیا تھا۔

          کرستینا آج شام ہی سے سوتی رہی تھی۔ جب اُس کی آنکھ کھلی تو رات کا کچھ حصہ ابھی باقی تھا۔ رات،  کمرے کا سناٹا اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تنہائی،  اور اس ماحول میں وقفے وقفے سے کہیں سے آنے والی آوازیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ابھی تک نیم وا آنکھوں سے،   بستر ہی میں لیٹی ہوئی تھی۔

          اب صبح ہو چکی تھی۔ اس کے ذہن میں پچھلے روز کے واقعات اُبھرنے لگے تھے۔ ’’ڈاکٹر کو اُسے گولیاں دینے میں کیا ممانعت تھی!‘‘ وہ ڈاکٹر کے سخت رویے پر سوچ رہی تھی۔ ’’کیا تھا اگر وہ نسخہ لکھ دیتا! میں ابھی کام نہیں کر سکتی۔ دوکان پر کھڑے ہو کر گاہکوں کو بھگتانا،  یہ کیسے ممکن تھا؟‘‘

          پچھلے کافی عرصے سے گھر پر ہی رہنے سے وہ کھانا کھانے میں بھی پابند نہیں رہی تھی۔ چاکلیٹ،  بسکٹ اور اسی طرح کی دوسری اشیاء اس کا مرغوب کھاجا بن چکی تھیں۔ اس کا وزن بڑھ گیا تھا اور اپنے آپ کو ہی بھدی دکھائی دینے لگی تھی۔ ’’اتنے بھدے بدن کے ساتھ دوکان پر گاہکوں کا سامنا؟‘‘ وہ سوچ رہی تھی۔ ’’گاہک دوکان میں ضرورت کی اشیاء سے کہیں زیادہ کام کرنے والی لڑکیوں پر نگاہیں ڈالتے ہیں۔ مجھے اپنا وزن ہر صورت میں کم کرنا ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک دو ہفتوں میں،  ہاں،  میں اپنی پہلی والی جسامت بحال کر سکتی ہوں !‘‘

          وہ بستر سے اٹھی اور ڈرائنگ روم میں آ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔ اُس نے اپنے کام والی دوکان پر مالک کو فون کیا۔ ’’میں ایک دو ہفتوں میں بالکل ٹھیک ہو جاؤں گی۔ میں نے ڈاکٹر سے معائنہ کرایا تھا،۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 میں سیزن کی سیل تک تو کام پر ضرور آ جاؤں گی۔ ‘‘ اس نے مالک کو بتایا۔ اُس نے اپنی دوسری مشکلات کا ذکر جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔ مالک فون پر اس کی باتیں یوں سن رہا تھا گویا اسے پرواہ ہی نہیں تھی۔ وہ محض ہوں،  ہاں کے سوا کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کر رہا تھا اور،  جب کرستینا اُسے یقین دلا رہی تھی کہ وہ ایک دو ہفتوں میں کام پر واپس آ جائے گی،  تو وہ بڑی بے رخی سے بولا۔ ’’کرستینا میں نے خود بھی تمھارے ڈاکٹر سے بات کی تھی۔ تم جو کہہ رہی ہو،  تمھارا ڈاکٹر تو اس کا بالکل اُلٹ بتا رہا تھا۔ ‘‘ کرستینا کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ مالک بول رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’کیا یہ اتنی کمینی حرکت بھی کر سکتا ہے؟ اور وہ ڈاکٹر،  حرامی پلّہ! سور!!‘‘ اس نے فون بند کر دیا تھا۔

          اُس رات وہ صوفے پر ہی سوتی رہی تھی۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو اسے بیڈروم میں سے کچھ کھٹ کھٹ کی سی آواز سنائی دی۔ ’’شاید کوئی چور ہے،  یہ اندر کیسے داخل ہوا،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا میں اتنی ہی بے خبری سے سوتی رہی ہوں۔ میں نے نیند کی گولیاں تو نہیں کھائیں تھیں !،  شاید کھائی تھیں ؟‘‘ وہ انجانے خوف میں سوچ رہی تھی۔ خوف،  گھبراہٹ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خوف،  آوازیں بڑھتی جا رہی تھیں۔ اُس نے پولیس کو فون کرنے کے لئے ابھی سوچا ہی تھا کہ بیڈ روم سے ایک جھٹکے کی آواز سنائی دی۔ ’’اوہ!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں بھی کتنی بیوقوف ہوں۔ کمرے کی کھڑکی تو میں نے خود ہی کھلی رکھی تھی۔ تیز ہوا کے جھونکوں سے یہ کھڑکی ہی کے پٹ ہل رہے ہیں۔ ‘‘ ابھی صبح ہونے میں دیر تھی۔

          کرستینا نے اپنی خواب آور گولیوں والی شیشی اُٹھائی۔ ’’صرف دو ہی گولیاں !‘‘ اس نے سوچا۔  ’’یہ کیسے؟ میں نے شام کتنی گولیاں کھائیں تھیں ؟‘‘ اسے کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا۔

          اس نے اُٹھ کر الماری میں کتابوں کے پیچھے چھپائی ہوئی ایک شیشی تلاش کی۔ اس میں کچھ گولیاں تھیں۔  خواب آور اور اعصابی قوت کی گولیاں۔ اس نے سخت ضرورت کے تحت استعمال کی غرض سے یہ گولیاں خود ہی چھپا رکھی تھیں۔ اس کا سر پھٹ رہا تھا اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔ چور کا خوف دل میں پھر داخل ہو گیا تھا۔ وہ سب کچھ بھول جانا چاہتی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چور،  خوف،  دوکان مالک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر،  پیٹر،  کیتھرینا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس نے گولیاں کھائیں اور پھر وہ صوفے کی طرف لڑکھڑا رہی تھی۔

          اُسے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لئے تھپتھپا رہا ہو اور کوئی دوسرا اُس کی چھاتیوں اور ناف کے درمیان اپنے ہاتھوں سے اُس کے پیٹ کو دبا رہا تھا۔ اُسے اپنا حلق خشک،  سانس

 رکتی ہوئی اور سر درد سے پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ عجیب طرح کے کپڑے پہنے،  اجنبی چہروں والے سائے اس کے گرد جمع تھے۔ وہ ہڑبڑا اٹھی۔ ’’یہ سب کچھ کیا ہے؟ کیا میں کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہی ہوں ؟ میری گولیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہاں ہیں ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری گولیاں ! میری گولیاں !! وہ ایک طرح سے چیخ رہی تھی۔ ’’میں کہاں ہوں ؟‘‘

          ’’تمھیں کوئی گولی وغیرہ نہیں چاہیے!‘‘ اسے ایک تحکمانہ سی افسرانہ آواز سنائی دی۔ ’’تم پہلے ہی بہت زیادہ گولیاں نگل چکی ہو!‘‘ اس کے سامنے کچھ چہرے سے اُبھرنے لگے تھے۔ کیتھرینا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور،  سفید وردیوں والے ہسپتال کے عملے والوں کے چہرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’یہ سب کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔،  میں کہاں ہوں ؟‘‘ اب وہ ہسپتال کے بستر پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ’’تو میں کوئی خواب نہیں دیکھ رہی ہوں۔ ‘‘ اس نے سوچا۔ کیتھرینا نے اُسے اپنی بانہوں میں لے رکھا تھا۔     

          ’’کیتھرینا! تم یہاں کیسے؟ یہ سب کچھ،۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہسپتال؟‘‘ کرستینا کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آ رہا تھا۔ اُسے یہ بھی خیال نہیں تھا کہ اب رات نہیں تھی بلکہ آدھا دن بھی گزر چکا تھا۔ ایک ڈاکٹر نے اُسے بازو سے پکڑ کر بستر سے نیچے اترنے میں مدد کی۔ وہ مسکرا تو رہا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں کرستینا کے لئے ایک عجیب قسم کا انتباہ بھی تھا۔

          کیتھرینا کا سہارا لئے،  ٹیکسی کے ذریعے جب وہ گھر پہنچی تو اسے معلوم ہوا کہ صبح سویرے،  بہت تڑکے،  کیتھرینا نے اُسے یہ بتانے کے لئے فون کیا تھا کہ بچوں کی نگہداشت کا بندوبست ہو گیا تھا اور اسے فکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کئی بار گھنٹیاں بجنے کے بعد،  جب کرستینا نے فون اُٹھایا تو اس کی آواز عجیب مردنی سی تھی اور وہ بات کرنے کی بجائے غوں غاں کر رہی تھی۔ اس کی سانس اکھڑی اکھڑی،  خراٹوں کی طرح سنائی دے رہی تھی ------- اور پھر ریسیور گر گیا تھا۔ کیتھرینا جب یہ سب کچھ بتا رہی تھی،  کرستینا کو کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا۔

          کیتھرینا کے خیال میں کرستینا نے زیادہ تعداد میں گولیاں کھا لی تھیں اور وہ شاید خود کشی کرنے والی تھی۔ وہ اپنے تمام کام کاج چھوڑ کر،  کرستینا کے گھر آ گئی تھی اور اُس نے پیٹر کو بھی فون کر دیا تھا۔ اور وہ بھی پہنچ گیا تھا۔ کرستینا کو ہسپتال لے جانے کے لئے،  ایمبولینس کو فون بھی اسی ہی نے کہا تھا۔ اور پھر ہسپتال میں ڈاکٹروں نے اس کا معدہ خالی کر کے اُسے بچا لیا تھا۔ اور اب وہ پھر اپنے گھر پر تھی۔ پیٹر بھی ہسپتال گیا تھا لیکن اُس کو ہوش میں آتے دیکھ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔ پیٹر کو ڈر تھا کہ وہ اسے دیکھ کر اُس پر برس پڑے گی۔ کیتھرینا اور پیٹر دونوں کو یقین تھا کہ اس نے خود کشی کی کوشش کی تھی۔ اُسے ہسپتال لے جانے سے پہلے وہ دونوں گھر پر اُس کی گولیوں والی خالی شیشی دیکھ چکے تھے۔ اُن کو کسی اور ثبوت کی ضرورت ہی نہ تھی۔ یہ پوری شیشی کرستینا ہی نے تو خالی کی تھی۔

          وہ اکیلی بیٹھی،  گہری سوچ میں غرق تھی۔ کیتھرینا اُسے تسلی دے کر جا چکی تھی۔ ’’میں انہیں کیسے یقین دلاؤں کہ میں نے خود کشی کی کوشش نہیں کی تھی۔ ‘‘ سوچ کے سمندر میں بھنور پڑنے لگے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیٹر! وہ تو کبھی مانے گا ہی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ان سب کو یہ کیسے یقین کراؤں کہ میں زندہ رہنا چاہتی ہوں۔ زندگی ہی کی خواہش میں،  میں نے اعصابی تناؤ دور کرنے اور کچھ نیند لینے کے لئے گولیاں کھائیں تھیں۔ سوچتے سوچتے اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے اور انگلیاں،  ہتھیلیوں کی جانب اندر کو مڑنے لگیں تھیں۔ گولیاں !۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خالی شیشی!! اپنی اس صورت حال پر اُسے کچھ بھی نہیں سوجھ رہا تھا۔ وہ اپنی پوری قوت جمع کر کے اٹھی اور اپنے علاقے کے محکمۂ صحت کے دفتر میں فون کر دیا۔

          ’’میں اپنا ڈاکٹر بدلنا چاہتی ہوں،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں،  ہاں ! اسی وقت!!  مجھے نیا ڈاکٹر چاہیے۔ ‘‘ وہ دوسری طرف سے کچھ سنے بغیر بولے جا رہی تھی،  میرا نام کرستینا ہے،  کرستینا آنڈرسن،  اور شناختی کارڈ نمبر ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں،  اچھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں میں جانتی ہوں،  وہ ڈاکٹر،  ہاں تم اسے فون کر دو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت اچھا،  ہاں، ہاں میں سمجھ گئی۔  میں اس کا کلینک جانتی ہوں۔ تمھارا شکریہ،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں سمجھ گئی ہوں۔ ٹھیک ہے۔ ‘‘ اُس نے فون بند کر دیا تھا۔

          نئے ڈاکٹر کے کلینک سے باہر نکلتے وقت اس کے ہاتھ میں اعصابی قوت کی گولیوں کی ایک نئی شیشی تھی۔ نئے ڈاکٹر نے اُسے خواب آور گولیاں خریدنے کے لئے نہ صرف نسخہ بھی لکھ دیا تھا بلکہ ایک ماہر نفسیات کے ہاں ملاقات کا وقت بھی مقرر کرا دیا تھا۔

          ’’کرسٹینا کبھی خود کشی نہیں کرے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کرستینا زندہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کرستینا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زندہ رہے گی۔ ‘‘ ایک ٹیکسی کو رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ خود کلامی کر رہی تھی۔

٭٭٭