کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith


رات والا اجنبی

عوض سعید


بس پل بھر میں جیسے سب کچھ ہو گیا۔


       کہر اور دھند میں چھپی ہوئی رات کے آخری زینے سے کوئی آہستہ آہستہ اتر رہا تھا۔ اس نے اپنے دبلے پتلے منحنی جسم کو وولن کے گرم کوٹ میں اس طرح چھپا لیا تھا جیسے اگر سرد ہوا کا ایک جھونکا بھی اس کے جسم کو چھولے تو وہ وہیں ڈھیر ہو کر رہ جائے گا۔ اس نے سستے داموں خریدے ہوئے مفلر کو کانوں اور گلے سے کچھ اس طرح جوڑ لیا تھا کہ اس کے چہرے اور ناک کے علاوہ کوئی چیز ننگی نہ تھی۔ اس پر ہول سناٹے میں گھری ہوئی رات کے سینے پر وہ کسی فاتح سپہ سالار کی طرح چل رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں خون سے بھرا ایک لمبا چاقو تھا۔ چاقو کی دھار پر پھیلے ہوئے خون کے قطروں کو وہ احتیاط سے سنبھالے ہوئے تھا۔ گویا وہ  اس رات کا تنہا مسافر تھا جس کے دائیں بائیں آگے پیچھے کوئی اور آدمی نہ تھا۔ کوئی اور ہوتا بھی کیوں ؟ قاتل کے آگے بھلا کوئی سر اونچا کر کے چلا بھی ہے۔


       سنسان اور خاموش سڑک پر وہ ہ بے خوف و خطر چل رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں چاقو ابھی تک تھما ہوا تھا لیکن وہ سردی سے گھبرا رہا تھا۔ اس نے یکبارگی محسوس کیا جیسے موٹے موٹے گم بوٹوں کی دھما دھم سے زمین تڑخ رہی ہے۔ اس کے سامنے دو پولیس کے جوان ہاتھ میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھ رہے تھے۔ اس کے ہاتھ میں خون سے بھرا چھرا دیکھ کر بھی وہ چپ تھے۔ پولیس کو سامنے سے جاتا ہوا دیکھ کر بھی اسے ذرا خوف نہ آیا۔


       اس کے لیے بس ایک خون ہی کافی تھا۔ ۔ ۔ ایک قتل۔ ۔ ۔ جو ہزاروں لاکھوں قتل پر بھاری تھا۔ کتنا  ارمان تھا اسے اس قتل کا۔


       قاتل کتنا پیارا اور خوبصورت لفظ ہے۔ اس کے دبلے پتلے جسم پر چڑھے ہوئے ملگجے اوور کوٹ پر جب قاتل کا تمغہ لگ جائے گا تو وہ کتنا خوش ہو گا۔


       اس کی یہ کتنی خواہش تھی کہ یہ رات اچانک دن میں تبدیل ہو جائے اور لوگ اسے اس عالم میں دیکھ کر چونک پڑیں۔ خاص طور پر اس کے دوست،اس کے چاہنے والے عزیز۔


       لیکن رات کی ٹھٹھرتی ہوئی سیڑھی سے اترنے والا یہ آخری مسافر تھا،اور سارا شہر گہری نیند کے پنگوڑے میں پڑا موت کی نیند سو رہا تھا۔


       وہ سوچنے لگا۔ یہ لوگ کروٹ بدل کر اپنے خوابیدہ کواڑوں کو اس لیے وا نہیں کر سکتے کہ وہ اس سے بے پناہ خوف کھاتے ہیں۔ جیسے ذرا کسی نے دریچے سے جھانکا تو وہ ان پر حملہ آور ہو جائے گا، مگر اس نے جو قتل کیا تھا وہ ہزاروں قتل کے برابر تھا۔ اب اگر کوئی اس کا پیچھا بھی کرے تو وہ اپنے ہاتھ خون میں رنگنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ تو صرف اتنا چاہتا تھا کہ اچانک کوئی اس کے سامنے آ کر اس کارنامے پر اس کی پیٹھ ٹھونکے اور کہے ۔ ’’ یار     تو نے تو آج کمال کر دیا۔ ‘‘ مگر رات کی تاریکی نے جیسے سب کو ڈس لیا تھا۔ یہاں تک کہ پولیس کے ان جوانوں کو بھی جو اسے دیکھ کر چپکے سے کھسک گئے تھے۔


       لمبے لمبے وحشیانہ بوٹوں کی گھن گرج سے زمین لرز سکتی ہے،زمین سے چمٹے ہوئے ذرے موت سے گھبرا کر پناہ گاہوں کی طرف بھاگ سکتے ہیں لیکن وہ تو سینہ تانے قاتل ہونے کے باوجود سڑک پر فاتحانہ انداز سے چل رہا تھا۔ سڑک نیند کی گہری چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔ سڑک پر آوارہ گھومنے والے بے گھر کتے دور ہی دور سے اسے آتا دیکھ کر بھونک رہے تھے۔ بھوں بھوں۔ ۔ ۔ مگر آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آواز میں جو خوف کے بطن سے جنم  لینے والی لرزش تھی وہ ہر قدم ناپتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ اب تو کتّے بھی اسے قریب آتا دیکھ کر دم دبا کر بھاگ رہے تھے۔ سردی ہولے ہولے بڑھ رہی تھی۔ اب اسے علانیہ محسوس ہو رہا تھا  جیسے گرم اوور کوٹ کو پھلانگتے ہوئے سرد ہوا کے چبھتے ہوئے جھونکے اس کے بدن میں سرایت کرتے جا رہے ہیں۔ پتہ نہیں رات کا طلسم ٹوٹنے کی خواہش اب اس کی ذات میں کیوں باقی نہیں رہی تھی۔ اس نے جو ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنی معصومانہ خواہش کا اظہار آپ ہی آپ کرتے ہوئے سوچا تھا کہ یہ رات اچانک دن میں تبدیل ہو جائے۔ کہر میں ڈوبی ہوئی صبح میں لوگ اسے دیکھ کر۔ ۔ ۔


       مگر یہ کیا وہ تو رات کے زینے سے اترنے والا آخری مسافر تھا۔ وہ تو شکست کے لبادے کو تار تار کر کے فاتح بن چکا تھا۔ زندگی کو موت کی وادی میں دھکیل آنے ولا مسافر۔


       وہ سوچ رہا تھا۔


       یہ رات آگے جا رہی ہے یا پیچھے۔ کوئی اس کا تعاقب کیوں نہیں کرتا۔ کیا زندگی نے پھر ایک بار موت پر فتح پالی ہے یا پھر موت نے زندگی کا منہ نوچ لیا ہے۔


       اس لمبی سڑک پر چلتے چلتے وہ تھک سا گیا تھا۔


       اچانک بے ارادہ جب وہ سامنے والی گلی میں مڑ گیا تو اسے سامنے سے ایک جنازہ آتا ہوا دکھائی دیا۔ جنازے کے ساتھ چار خستہ حال آدمی ڈولے کو سہارے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتے ہوئے گلی پار کر رہے تھے۔ رات کے سناٹے میں وہ اسے بھوتوں کی مانند لگ رہے تھے۔


       اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ چاروں آدمی آنکھیں بند کیے سڑک پار کر رہے تھے جیسے وہ پیدائشی نابینا ہوں۔


       یہ منظر اسے بڑا عجیب لگا۔ وہ سوچنے لگا۔ اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید چیخ مارکر وہیں ڈھیر ہو جاتا۔ مگر وہ بزدل نہیں ہے۔ ۔ ۔ وہ بزدل نہیں تھا۔


       وہ تو رات کے زینے سے اترنے والا۔ ۔ ۔ وہ آپ ہی آپ مسکرایا۔ کتنے دنوں بعد اس کے ہونٹوں نے مسکراہٹ کا مزہ چکھا تھا۔ زندگی کا چہرہ کیا اتنا حسین بھی ہو سکتا ہے۔ کیا رات کے زینے سے اترنے والا مسافر مسکرا بھی سکتا ہے،لیکن رات کی بانہیں سمٹ رہی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے لبوں پر آتی ہوئی مسکراہٹ مٹ رہی تھی۔


       اب اسے یہی خوف تھا کہ کہیں سرما کی یہ طویل تھرتھراتی ہوئی رات صبح کی روشنی کو گلے سے نہ لگا لے، مگر سڑک پر پھیلے ہوئے اونچے نیچے مکانوں کے کمرے بند تھے۔ کھڑکیوں پر گہرے کالے رنگ کے ماتمی پردے لہرا رہے تھے لیکن یہ اس کی بدبختی تھی کہ رات سسکتی ہوئی مر رہی تھی اور صبح کی سپیدی کے آثار آہستہ آہستہ ظاہر ہو رہے تھے۔ آسمان سے سیاہی کا غلاف دھیرے دھیرے اتر رہا تھا۔ کہیں کہیں آسمانی کلس پر دو ایک مدھم ستارے رات کے خاتمے کا جیسے اعلان کر رہے تھے۔ و ہ صبح کی سپیدی سے بغل گیر ہونے سے پہلے موت کو ترجیح دینا چاہتا تھا۔


       اب تو رات واقعی ڈھل رہی تھی اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے لوگ سڑک پر تیز تیز چلنے لگے تھے۔ وہ اپنی دھن میں مست تھے۔ انھیں ذرا بھی فرصت نہیں تھی کہ وہ  اس کی طرف دیکھتے۔ وہ سڑک کے بیچوں بیچ تیزی سے چل رہا تھا۔ اسے یہ جان کر شدید صدمہ ہوا کہ خون میں بھرا ہوا ننگا چاقو ہاتھ میں تھامے رہنے کے باوجود کسی کو اپنی طرف متوجہ نہ کر سکا تھا۔ لوگ اس کے سامنے یوں گزر رہے تھے جیسے اس کا وجود ان کے لیے کوئی اہمیت نہ رکھتا ہو۔ لوگوں کا اس طرح خاموشی سے گزر جانا اس کے لیے حد درجہ اذیت ناک تھا۔ اس کا وجود اب اسے گندی نالی میں پرورش پانے والے حقیر کیڑے کی طرح لگ رہا تھا۔ سڑک پر لوگوں کا ایک جال سا پھیلتا جا رہا تھا۔ ۔ ۔ رات بھاگ رہی تھی اور وہ لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو تنہا محسوس کر رہا تھا۔ اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہے تھا۔ کہر میں لپٹی ہوئی رات کی آغوش بھی اب اس کے لیے خالی تھی۔ ۔ ۔ وہ دیوانہ وار سڑک پر بھاگ رہا تھا۔


       ’’ارے اس آدمی کو تو دیکھو،کیسے تیز بھاگ رہا ہے جیسے ریل چھوٹنے ہی والی ہو۔


       اب سارے لوگوں کی توجہ اسی طرف منعطف ہو چکی تھی۔


       اب اپنی عقل اور بساط کے مطابق ہر آدمی کوئی نہ کوئی فقرہ اس پر کس رہا تھا۔ یکبارگی اُسے ایسا لگا جیسے اس کا بکھرا ہوا وجود تکمیل پاچکا ہو  


***