کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سمجھوتہ

عوض سعید


’’ تم اس شخص کو جانتے ہو ؟ ‘‘ حمید نے ہاتھ کے اشارے سے ’’ میٹرو‘‘ سے نکلتے ہوئے ایک ادھیڑ عمر کے دبلے پتلے آدمی کی طرف میری توجہ مبذول کروائی۔


       ’’ ہو گا کوئی اُلّو کا پٹھا۔ مجھے اس سے کیا لینا دینا۔ ‘‘میں بے ساختہ بول اٹھا۔


       ’’ اُلّو کے پٹھے تو ہم ہیں یار جو چندہ کر کے کوالٹی میں کافی پینے جا رہے ہیں اور  وہ سالا ا سکاچ وہسکی  کے کئی پیگ چڑھا کر گھر لوٹ رہا ہے۔ ‘‘


       حمید نے کوفت اور حسرت کے ملے جلے جذبات میں ڈوب کر کہا۔


       حمید سے میری دوستی کوئی زیادہ پرانی نہ تھی۔ میں دہلی سے تبدیل ہو کر حیدرآباد آیا تھا جہاں مصنوعی زیورات بنانے والی ایک بڑی فرم میں میری پوسٹنگ ہوئی تھی۔


       گو  میری حیثیت یہاں سیلس منیجر کی تھی لیکن تنخواہ صرف ڈھائی سو روپے ہی تھی۔ حمید میرا ماتحت تھا،وہ بھی لگ بھگ دو سو روپے تنخواہ پاتا تھا لیکن حمید نے کبھی مجھے یہ محسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ میرا ماتحت ہے۔ وہ ہر وقت یوں لگتا جیسے وہ اس فرم کا منیجر ہے اور میں اس کا ماتحت


       کبھی کبھی تو مجھے احساس ہوتا جیسے حمید ضرورت سے زیادہ میری شرافت سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ میں اُس سے خائف تو نہیں تھا لیکن دہلی کو خدا حافظ کہتے وقت اکاؤنٹنٹ رائے چرن نے میرے ہاتھ ٹرانسفر آرڈر تھماتے ہوئے کہا تھا کہ تم وہاں حمید سے بگاڑ نہ کرنا،وہ بڑا تیز اور گھاگ آدمی ہے۔


       گو وہ میرے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالتا تھا لیکن دکان پر آنے والے سب ہی گاہک اسے حمید سیٹھ کہہ کر پکارتے تھے۔ خاص طور پر وہ لڑکیوں میں کافی مقبول تھا۔ جب سے مصنوعی زیورات کی مانگ بڑھ گئی تھی  دُکان  پر لڑکیوں کا ایک ہجوم سا لگا  رہتا۔ دُکان کی پیشانی پر فیشن سنٹر کا خوبصورت سائن بورڈ لٹکا ہوا تھا جسے بمبئی کے ایک مشہور پینٹر نے تیار کیا تھا۔ مرکیوری ٹیوب لائٹ کی روشنی میں دُکان کسی خوبصورت الھڑ دوشیزہ کی طرح دکھائی دیتی تھی جسے پانے کے لیے گاہک کھنچے کھنچے چلے آتے تھے۔


       ’’ مجھے ایک خوبصورت رِنگ چاہیے۔ ‘‘ ایک ناٹے قد کی معمر خاتون نے دُکان میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ اس کا رنگ پھٹا پھٹا سا اور آنکھیں بھی اس کے رنگ کی طرح بھدی اور میلی تھیں۔ اس کے سامنے کے دو دانت گر چکے تھے جو زبان کے لیے محراب کا کام دے رہے تھے۔


       ’’ مجھے ایک رِنگ چاہیے،خوبصورت اور سونا مافک۔ ‘‘


       اس نے دوسری بار اپنی اس بھونڈی فرمائش کو یوں دہرایا جیسے میں نے اس کی فرمائش نہ سنی ہو۔


       جی چاہتا تھا کہ اس خاتون کو بجائے رِنگ دکھانے کے ایک لاٹھی ہاتھ میں تھما دوں لیکن جی کڑا کر کے میں نے رِنگوں کا بکس اس کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے کافی دیر تک  مختلف رِنگوں کو دیکھنے  اور پرکھنے کے بعد ایسی انگوٹھی کو پسند کیا جو نسبتاً خراب تھی۔ جب وہ  رِنگ خرید کر حمید کے پاس پیسے ادا کرنے گئی تو ایک لمحے کے لیے حمید میری طرف دیکھ کر مسکرایا۔ اس کی مسکراہٹ میں طنز تھا۔


       دوپہر میں عموماً جب دُکان گاہکوں سے خالی ہوتی تو وہ کیش بک (Cask Book)  سنبھالے یوں ہی خاموش بیٹھا رہتا اور شام ہوتے ہی وہ بن ٹھن کر شوکیس کے اطراف ٹہلتا رہتا۔


       لڑکیوں کی آمد شروع ہو جاتی اور وہ مسکراتا ہوا ہر ایک سے باتیں کرتا۔ ہر ایک کی فرمائش پوری کرتا۔ شام کو وہ اکثر کیش بک اپنے کسی ساتھی کو دے دیتا اور خود سیلس منیجر کا روپ دھار لیتا۔ لڑکیاں حمید ہی کی طرف جاتیں۔ کبھی کبھار بھولے بھٹکے لڑکیوں کا کوئی غول میری طرف آ جاتا تو مجھے قدرے تسکین ہوتی لیکن ایسا کم ہی ہوتا۔


       گو ہر شخص اپنی صورت شکل کے تعلق سے تھوڑا بہت خوش فہم ضر ور ہوتا ہے لیکن میں یہ اچھی طرح جانتا تھا کہ بہر حال حمید سے اچھا ہوں۔ میر ا رنگ صاف ہے۔ ناک نقشہ بھی مناسب ہے۔ قد بھی اس سے اونچا ہی ہے لیکن اس چغد میں ایسی کیا بات ہے کہ لڑکیاں اس کی شخصیت کے گرد ہی گھومتی ہیں۔ اس کے خط و خال بھی ادھورے ادھورے سے تھے۔ ناک لمبی  ہوتے ہوئے بھی نیچے پہنچ کر تھاپ کھائے ہوئے پتنگ کی طرح خم ہو گئی تھی۔ ہونٹ بھی موٹے موٹے سے تھے۔ ہاں اس کی آنکھیں بڑی نشیلی تھیں۔ قدرے بھوری آنکھیں جن میں ہر وقت ایک خمار سا چھایا رہتا اور شاید یہی آنکھیں اس کی بھرپور شخصیت کا ایک اہم جزو تھیں۔


       ایک دن حمید دُکان سے غائب تھا۔ شام کے کوئی چھ بجے دُکان کے ملازم  رام داس نے مجھ سے آ کر کہا کہ آج حمید سیٹھ نہیں آئیں گے۔ ان کا مزاج ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا۔


       روز کی طرح آج بھی بازار میں کافی چہل پہل تھی۔ نئے نئے ماڈل کی خوبصورت کاریں دھرتی کے سینے کو روندتی ہوئی دوڑ رہی تھیں۔ آج فیشن سینٹر پر جانے کیوں اداسی رینگ رہی  تھی۔ شاپنگ کی دلدادہ لڑکیاں بھی منہ موڑے دُکان کے سامنے سے یوں گزر رہی تھیں جیسے اب زیورات کی مانگ ہی نہ رہی ہو۔ دو ایک خوبصورت لڑکیوں کو دُکان کی طرف آتا  دیکھ کر مجھے قدرے اطمینان ہوا لیکن وہ بھی ایک نگاہ غلط انداز ڈالتی ہوئی آگے نکل گئیں تو مجھے کوفت سی ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد اچانک ایک سانولی سلونی سی لڑکی ہاتھ میں سرخ رنگ کا پرس تھامے دکان میں داخل ہوئی۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا۔


       ’’ کیا چاہیے میڈم۔ ‘‘


       ’’ مجھے چاہیے تو بہت کچھ مگر پہلے یہ بتائیے کہ حمید صاحب ہیں بھی یا نہیں ؟ ‘‘


       مجھے پھر ایک بار کوفت سی ہوئی۔


       ’’ آج حمید نہیں آئیں گے۔ ‘‘ جونہی میری زبان سے یہ جملہ نکلا وہ نگاہوں سے اوجھل  ہو گئی۔


       ابھی میں دل ہی دل میں حمید کو گالیاں دے رہا تھا کہ ایک خوبصورت سی کار دُکان کے سامنے آ رُکی۔ ڈرائیور نے بڑھ کر کار کا دروازہ کھولا۔ ایک نوجوان خوبصورت سی لڑکی ہاتھ میں پرس لیے خراماں خراماں دُکان میں یوں داخل ہوئی جیسے کوئی شہزادی خواب گاہ میں داخل ہو رہی ہو۔ میں آگے بڑھ کر اس کا استقبال کرنا ہی چاہتا تھا کہ وہ ایک لمحے کے لیے لوٹ کر کار کی طرف گئی اور ایک لفافہ ہاتھ میں تھامے میرے قریب آئی۔


       ’’ کیا چاہیے میڈم۔ ‘‘


       میرے اس سوال پر وہ مسکرائی۔ اس کی مسکراہٹ میں بے شمار کشش تھی۔


       ’’مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ حمید کدھر ہے ؟ ‘‘


       ’’ وہ آج نہیں آئے گا۔ ‘‘ میں نے ملائم لہجے میں جواب دیا۔


       ’’ کیوں نہیں آئے گا۔ ‘‘ اس نے قدرے ترشی سے کہا۔


       ’’ اسے بخار ہے۔ ‘‘


       ’’ اور رام داس۔ ‘‘


       ’’ وہ ابھی چائے پینے باہر گیا ہے۔ ‘‘


       ’’ تو گویا اس وقت سیٹھ صاحب آپ ہی ہیں۔ ‘‘


       ،جی یوں ہی سمجھ لیجیے۔ ‘‘


       ’’ آپ اس دُکان پر کب سے کام کر رہے ہیں۔ ‘‘


       ’’ یہی کوئی چھ ماہ سے۔ ‘‘


       ’’ اور اِن چھ مہینوں میں آپ نے مجھے جاننے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ ‘‘


       ’’ یہ میرا کوئی فرض نہیں ہے۔ ‘‘


       ’’ آپ بڑے مغرور اور سنکی آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ مجھے ایسے لوگوں سے بڑی محبت ہے۔ میرا ایک کلا فیلو تھا مجیب۔ بالکل آپ ہی کی طرح،اکثر مجھے الٹے سیدھے جوابات دیا کرتا تھا۔ پھر ایک دن اس نے خودکشی کر لی۔ محض اس  شبہہ پر کہ میں کسی اور کو چاہتی ہوں۔ ۔ ۔ پاگل کہیں کا۔ مگر یہ سب باتیں میں آپ کو کیوں سنا رہی ہوں ؟  مجھے تو حمید سے کام ہے۔ ۔ ۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ تیز تیز قدم ڈالتی ہوئی موٹر میں جا بیٹھی اور جب ڈرائیور نے موٹر اسٹارٹ کی تو اس نے ہاتھ ہلا کر مجھے خدا حافظ کہا۔


       میں یک بارگی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ یہ یقیناً اس شرابی سیٹھ کی لڑکی ہو گی جسے حمید نے میٹرو سے نکلتے ہوئے مجھے بتایا تھا۔


       پھر دوسرے دن جب حمید دکان آیا تو میں نے کل والی روداد سنائی۔


       حمید نے طنز آمیز لہجے میں کہا۔ ۔ ۔ ’’ لونڈیا کو پیسوں کی ضرورت پڑ گئی ہو گی اس لیے حمید کے پاس بھاگ آئی لیکن اس بار میں اسے ایک پائی بھی نہیں دوں گا۔ اس بوڑھے نے بھی مجھے تاکید کی ہے۔ ‘‘ لیکن ابھی حمید نے بات ختم ہی کی تھی کہ سامنے وہی خوبصورت کار آ رُکی۔


       حمید سٹپٹا کر رہ گیا۔ اس نے اپنی کوٹ کی جیب سے دس دس کے کئی نوٹ نکالے اور اس کے ہاتھ میں تھما دئیے۔ کار فراٹے بھرتی ہوئی چلی گئی۔


       ’’ یہ لونڈیا دُکان کا دیوالیہ کر کے ہی دم لے گی۔ پاگل کہیں کی۔ ‘‘        


       مجھے بے اختیار وہ دن یاد آگیا جس دن حمید نے مجھے چندہ کر کے کوالٹی میں کافی پلائی تھی۔ یہ سالا اچھا خاصا فراڈ معلوم ہوتا ہے۔


       ’’ ہاں ضمیر اس لڑکی نے تمھیں کچھ سخت سست تو نہیں کہا۔ ’’حمید نے میری طرف مخاطب ہو کر کہا۔


       ’’ نہیں تو۔ ۔ ۔ الٹا میں نے ہی اس کی تھوڑی بہت خبر لی۔ ‘‘


       ’’ یہ اچھا کیا تم نے۔ ۔ ۔ لو اس خوشی میں یہ پیڑے کھا ۔ متھرا سے میری مسز نے بھجوائے ہیں۔ ‘‘


       اس نے مختصر سا ڈبہ میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔


       میں نے تکلفاً دو ایک پیڑے اٹھائے تو اس نے بڑے خلوص سے کہا۔ ’’سب ہی لے لو یار یہ تمھارے ہی ہیں۔ ‘‘


       پیڑے واقعی لذیذ تھے۔ پھر حمید نے اپنی بیوی کی قصیدہ خوانی شروع کر دی۔ رنگ روپ سے لے کر خاندانی وجاہت تک ساری منزلیں اس نے باتوں باتوں ہی میں سر کر لیں۔


       پھر وہ کسی کام سے باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد پچھلے دروازے سے رام داس داخل ہوا۔


       ’’ پیڑے کھا رہے ہو بابو ؟ ‘‘


       ’’ ہاں رام داس لو تم بھی کھا ۔ ‘‘


       ’’ ہم تو بہت کھا چکے ہیں۔ اب تم ہی کھا ۔ کبھی ضرورت ہو تو بابو مجھ سے کہہ دینا۔ میں دیا رام حلوائی کے ہاں سے لا دیا کروں گا۔ کل حمید سیٹھ نے بھی دو ڈبے میرے ہاتھ منگوائے تھے۔


       میں بھونچکا سا رہ گیا۔ حمید نے مجھ سے یہ جھوٹ بات کیوں کی۔ سالے کی بیوی بھی یقیناً متھرا کا پیڑہ ہی ہو گی۔ قسمت مجھے کھینچ لائی بھی تو ایسی جگہ جہاں ایک سے بڑھ کر ایک فراڈ موجود تھا۔ نت نئی الجھنیں منہ پھاڑے میری طرف تیزی سے بڑھ رہی تھیں۔ رام داس سے لے کر حمید تک سب ہی پُر اسرار دکھائی دیتے تھے اور وہ شرابی سیٹھ بھی اپنی ذات سے کسی جاسوسی کردار سے کچھ کم نہ تھا۔


       میں یہ نوکری جلد ہی چھوڑ دوں گا۔ مگر۔ ۔ ۔ مگر۔ ۔ ۔ ؟  میں ان ہی خیالات میں ڈوبا ہوا تھا کہ حمید ٹیکسی سے اترتا ہوا دُکان میں داخل ہوا۔ مجھ سے معذرت چاہی اور کہا۔ ’’ ضمیر    یار  میرا  دماغ بھی سالا عجیب سا ہو کر رہ گیا ہے۔ یہی دیکھو نا کل تمھارے نام آیا ہوا خط میں دینا ہی بھول گیا۔ ‘‘ یہ کہہ کر لفافہ اس نے میرے ہاتھ میں تھما کر پھر ایک بار معافی چاہی،جلد جلد دُکان بند کی، مجھے ٹیکسی میں فلیٹ تک چھوڑ کر اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کہیں چلا گیا۔


       میں نے اطمینان سے تالے میں چابی گھمائی اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ سوئچ آن کرنے کی کوشش کی لیکن لائٹ آف تھی۔ کرنٹ شاید فل ہو گیا تھا۔ اطراف و اکناف کے مکانوں میں اندھیرا ڈول رہا تھا۔ میں تھوڑی دیر اندھیرے میں یوں ہی ٹھہرا رہا۔ سگریٹ سلگائی اور ماچس کی تیلیاں یوں ہی لگاتا ر جلاتا رہا  تاکہ اندھیرے کا احساس ختم ہو جائے،مگر لائٹ سلگنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ رات کے دس بج چکے تھے اور سامنے بازار کی بہت ساری دُکانیں بند ہو چکی تھیں۔ چند ایک دُکانیں کھلی ضرور تھیں لیکن ان کے بھی پٹ اب آہستہ آہستہ بند ہو رہے تھے۔ میں بڑی جلدی سے باہر نکل آیا تاکہ موم بتی خرید سکوں،لیکن مجھے موم بتی خریدنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ میرے اس خیال کے ساتھ ہی لائٹ آ چکی تھی۔ میں نے تیزی سے خط چاک کیا۔ میرا دل بے طرح دھڑک رہا تھا اور انگلیوں کی پوروں میں اماں بی تحریر کا ایک ایک لفظ جیسے سر اٹھائے مجھ سے پوچھ رہا تھا۔ ۔ ۔ ’’کیا تم ہی ضمیر ہو۔ ۔ ۔ کیا تم ہی ضمیر ہو۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘


       یوں لگتا تھا جیسے جلد ہی ایک طوفان آئے گا۔ ایک بھیانک طوفان جس کے تیز بہا  میں اُس کی شخصیت کے سارے پہلو تنکے کی طرح بہہ جائیں گے اور پھر کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔ اماں بی نے لکھا تھا۔ فرحت اب بائیس برس کی ہو چکی ہے۔ کل جب وہ کھڑکی میں کھڑی قلفی والے کو پکار رہی تھی تو مولانا صابری نے اسے دیکھا اور چند قلفیاں اس کے پاس بھجوائیں۔ جاتے جاتے انھوں نے تسبیح کے دانوں پر ہاتھ پھیرا اور فرحت کو زیرِ لب مسکراتے ہوئے خدا حافظ کہا۔ یہ بات کل مجھے فرحت نے سنائی۔ وہ رو رہی تھی،کہہ رہی تھی۔ میں کسی وقت اس بوڑھے کی داڑھی نوچ کر رکھ دوں گی۔ وہ اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے۔ میں نے فرحت کو سمجھایا کہ مولانا صابری بڑے نیک بزرگ آدمی ہیں۔ انھوں نے تجھے بیٹی کے ناطے قلفی بھجوائی ہو گی، لیکن وہ نہیں مانی۔ وہ آخر وقت تک یہی کہتی رہی کہ وہ بڑا خبیث آدمی ہے۔ جب فرحت نے مولانا کی شان میں گستاخی کی تو میں نے اس کے منھ پر تابڑ توڑ کئی طمانچے مارے لیکن وہ ہر بار یہی کہتی رہی کہ وہ بڑا شیطان ہے،لفنگا ہے۔ وہ کھڑکی کی طرف روز جھانکتا ہوا خواہ مخواہ کھنکھارتا ہے۔


       لیکن جب پرسوں مولانا نے محلے کی ایک بڑھیا کے ذریعے یہ بات کہلوائی کہ وہ فرحت کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں تو میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ میں نے گھر جا کر خوب خوب صلواتیں سنائیں۔ گو وہ اپنی سٹی بھول گیا لیکن اُس نے تیزی  سے اپنے گھر کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔ ’’ تم فرحت کی شادی مجھ سے کیوں کرو گی،اُس سے تو آگے چل کر پیشہ کروانا ہے۔ ‘‘


       اگر تو نے فوری ہمیں بلوانے کی کوشش نہیں کی تو سمجھ لے ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔ یہ تو تو جانتا ہے کہ اس بوڑھے کا بستی میں کافی اثر ہے۔ وہ خواہ مخواہ نت نئی افواہیں اڑائے گا اور ہمیں بدنام کرے گا۔


       میں نے پٹرول پمپ کے اوپر لگی ہوئی عمارت کے اوپر ایک چھوٹا سا فلیٹ کرائے پر لے رکھا تھا۔ مکان مجھے ابھی ملا نہیں تھا۔ گو اس سلسلے میں میں نے حمید سے بارہا کہا تھا کہ وہ مجھے کوئی چھوٹا سا صاف ستھرا مکان دلوائے لیکن حمید نے ہر بار مکانوں کی قلت کا رونا رو کر مجھے اسی فلیٹ میں رہنے پر اُکسایا تھا۔ گو موجودہ فلیٹ کوئی برا نہ تھا۔ نل لائٹ فلیش سے آراستہ۔ کرایہ بھی کچھ زیادہ نہ تھا لیکن مجھے تو کمرے سے زیادہ مکان کی ضرورت تھی۔ دہلی چھوڑتے وقت میں نے اماں بی  سے وعدہ کیا تھا کہ جلد ہی کوئی کرائے کا مکان لے کر میں انھیں بلا لوں گا۔ فرحت کی بھی یہی خواہش تھی لیکن کئی مہینے گزر جانے پر بھی میں اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہ کر سکا تھا۔ وہاں میں نے دوسری ملازمت کے لیے کیا کیا نہ جتن کیے لیکن ہر بار نوکری ایک بے وفا دوشیزہ کی طرح میرے پہلو سے دور بھاگتی رہی اور میں ایک ہزار میل کا لمبا سفر طے کر کے یہاں چلا آیا تھا۔


       آج اماں بی کا خط پا کر میرا خواب چکنا چور ہو گیا تھا۔


       مجھے بار بار احساس ہو رہا تھا جیسے میں نے دلی چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ گو میں تنخواہ کا ایک بڑا حصہ ہر ماہ فرحت کے نام منی آرڈر کر دیا کرتا تھا لیکن عورت کی زندگی میں مرد کی بڑی اہمیت ہوتی ہے،خواہ وہ بہن ہو یا ماں یا بیوی۔


       میں جلد ہی انھیں یہاں بلوا لوں گا۔ دو دن بعد میں نے انھیں سو روپے بھیجے اور خط میں تاکید بھی کی کہ اپنی آمد کی تاریخ سے فوری مطلع کریں۔ ایک ہفتہ یوں ہی گزر گیا لیکن اماں بی اور فرحت کے آنے کا کچھ پتہ ہی نہ تھا۔ مجھے رہ رہ کر تشویش ہو رہی تھی۔ عجیب تذبذب کے عالم میں میں نے کئی راتیں کاٹ دیں،پھر ایک شام حمید نے آ کر یہ مژدہ سنایا کہ اماں بی فرحت آج آ گئی ہیں اور اس نے انھیں اپنے گھر ٹھہرا لیا ہے چونکہ اس کا مکان وسیع اور آرام دہ ہے اس لیے وہ نہیں چاہتا تھا کہ میرے مکان میں انھیں تکلیف ہو۔ پھر اس کے گھر میں ماما بھی ہے۔ وہ ان کی ہر طرح دیکھ بھال کر لیا کرے گی۔ جب حمید نے مجھے یہ خبر دی تو میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ میں سیدھے اماں بی اور فرحت سے ملنے حمید کے گھر گیا۔ اماں بی نے مجھے پیار سے گلے لگایا۔ فرحت مجھ سے لپٹ کر رونے لگی اور ایک لمحے کے لیے میری غصہ کافور ہو گیا۔


       ’’ہاں اماں یہ بتائیے کہ حمید کے ہتھّے آپ کیسے چڑھ گئیں۔ ‘‘


       ’’ ہتھے چڑھنے کی بھی ایک ہی رہی۔ وہ تیرا دوست تو بڑا نیک بخت  انسان معلوم ہوتا ہے۔ یہی دیکھ ناکہ وہ تیرے بجائے ہمیں اسٹیشن لینے گیا،اپنے مکان میں پناہ دی،ہماری خاطر مدارت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ‘‘


       ’’یہ سب کچھ تو ٹھیک ہے لیکن میں ایک منٹ کے لیے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ آپ میرے ہوتے ہوئے حمید کے گھر مقیم رہیں۔ ‘‘


       ’’ اگر ایسا ہو بھی تو کیا قباحت ہے،آخر وہ تیرا دوست ہی تو ہے۔ پھر یوں بھی وہ کہہ رہا تھا کہ تیرا فلیٹ بہت ہی مختصر ہے۔ ‘‘


       ’’ اب رہنے دیجیے اماں۔ چلیے میرے ساتھ۔ ‘‘


       ’’ارے حمید کو تو آنے دے۔ وہ اس طرح بغیر اطلاع دئیے چلے جانے سے کیا سوچے گا؟


       پھر اچانک دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی اور حمید آہستہ سے اندر داخل ہوا۔


       ’’ میں نے سب کچھ سن لیا ہے میرے دوست،تم نے میرے خلوص کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ میں صرف چند دنوں کے لیے اماں بی اور فرحت کو یہاں روکنا چاہتا تھا تاکہ اس دوران تم کوئی دوسرا مکان دیکھ سکو لیکن تم انھیں لے جانا چاہتے ہو تو میں روکنے والا بھلا کون ؟ ‘‘


       میں حمید سے بغیر کچھ کہے اماں بی اور فرحت کو لیے اپنے فلیٹ میں منتقل ہو گیا۔


       ’’لیکن اماں بی کو میرا فلیٹ قطعی پسند نہ آیا۔ وہ دہلیز پر قدم رکھتے ہی کیڑے نکالنے لگیں۔ ‘‘


       ایسے تیسے دو دن یوں ہی گزر گئے،لیکن اماں بی کا غصہ جوں کا توں رہا۔ وہ ہر وقت نیا مکان لینے پر اصرار کرتی رہیں۔


       جب سے اماں بی اور فرحت دلی سے یہاں آئے تھے،گھر میں حمید کا آنا جانا کچھ زیادہ ہی ہو گیا تھا۔ وہ روز چند گھنٹوں کے لیے دُکان آتا،پھر کسی نہ کسی بہانے غائب ہو جاتا۔ اس کی غیر حاضری گو  مجھے کھلتی تھی لیکن وہ اُس کا کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈ نکالتا تھا۔ شام جب میں گھر لوٹتا تو مجھے محسوس ہوتا جیسے گھر میں دبے دبے کوئی انجان سی تبدیلی آ رہی ہے۔


       ابو کی موت کے بعد اماں بی نے ہاف سلیفز بلا ز پہننا ترک کر دیا تھا۔ اب انھیں پھر سے فیشن کا شوق چرّایا تھا۔ گو  وہ نماز اب بھی پڑھتی تھیں لیکن گاہ گاہ۔


       ایک دن میں نے اماں بی کے جسم پر جارجٹ کی قیمتی ساری اور فرحت کے گلے میں سونے کی خوبصورت مالا دیکھی۔ مجھے یوں لگا جیسے کسی نے سرِ بازار میرے منہ پر تھوک دیا ہو۔


       ’’ یہ مالا تمھیں کس نے پہنائی ہے بولو۔ ‘‘ فرحت چپ تھی۔


       ’’ بو لو  ورنہ میں اس گھر کی ایک ایک چیز کو آگ لگا دوں گا۔ ‘‘


       ’’ یہ مالا مجھے اماں بی نے پہنائی ہے۔ ‘‘


       ’’اماں بی نے یا حمید نے ؟ ‘‘ میں نے غصے کی آگ میں جلتے ہوئے کہا۔


       ’’اگر میں یہ کہوں کہ حمید نے یہ مالا پہنائی ہے تو،تو ہمارا کیا بگاڑ لے گا۔ تیرا ابو بھی مجھے ایسی ہی دھمکیاں دیا کرتا تھا۔ کان کھول کر سن لے میں فرحت کی ماں ہوں،اس کا اچھا برا سب جانتی ہوں تو ہماری فکر نہ کر۔ ‘‘


       اماں بی کے اس غیر متوقع جواب نے میرے سارے حوصلے پست کر دئیے۔ میں سوچنے لگا۔ کاش میں نے انھیں یہاں نہ بلایا ہوتا۔ وہ دہلی ہی میں رہتیں تو کم از کم مجھے ان الجھنوں سے واسطہ نہ پڑتا۔ شاید اماں بی نے اچانک فرحت کو حمید کے سپرد کرنے کی ٹھان لی تھی۔ اگر حمید نے فرحت سے شادی کر لی تو سوائے تباہی کے اور کیا ہو سکتا تھا۔ حمید کی چکنی چپڑی باتیں،اس کی شخصیت کی تہ داری نے شاید اماں بی کا دل موہ لیا تھا۔ وہ انھیں علانیہ فریب کی وادی میں گھسیٹ لے جا رہا تھا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے یوں چلی جا رہی تھیں جیسے کسی نے اُن پر سحر کر دیا ہو۔


       میں نے اماں بی کو سمجھانے کی لاکھ کوشش کی لیکن میری باتوں پر دھیان دینا شاید وہ  تضیع اوقات سمجھتی تھیں اس لیے میں نے چپ رہنے کی ٹھان لی۔ اب گھر میں میری حیثیت ایک خاموش تماشائی کی سی تھی،لیکن تابہ کے۔


       ایک دن میں چپکے سے قیام گاہ اٹھ آیا لیکن کوفت،خلش اور غم میں ذرا بھی کمی نہ ہوئی۔


       اب میں اماں بی سے قریب رہ کر بھی دور تھا۔ یہ دوری جان لیوا تھی۔ کبھی کبھی خواہ مخواہ مجھے احساس ہوتا تھا کہ اماں بی آج نہیں تو کل سمجھا منا کر مجھے واپس لے جائیں گی۔ یہ صرف میرا خیال تھا،ایک خوش فہمی تھی جس نے خلوص اور پیار کے اَن مٹ بطن سے جنم لیا تھا۔


       پھر ایک دن آسماں پر بھورے بھورے بادلوں کے قافلے دوڑ رہے تھے۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی نے طوفانی بارش کی صورت اختیار کر لی تھی۔ لوگ دُکانوں کے شیلٹر کے نیچے دبکے ہوئے ٹھٹھر رہے تھے۔ شیشے چڑھی ہوئیں کاریں آہستہ آہستہ سیمنٹ روڈ کے سینوں پر رینگ رہی تھیں۔


       میں ایک چھجے کے نیچے کھڑا ایک نامعلوم سی سوچ میں گرفتار تھا۔ جس جگہ میں کھڑا تھا،وہاں اور بھی لوگ کھڑے تھے جو آپس میں یا تو باتیں کر رہے تھے یا جسم میں گرمی پیدا کرنے کے لیے حسبِ حیثیت سگار اور سگریٹ پی رہے تھے۔


       ’’شادی تو کر لی ہے سالے نے،ایک رات بیوی کی آغوش گرمائے گا اور پھر لونڈیا کو سیٹھ کے حوالے کر دے گا۔ یہ حمید حرامی بھی بڑا چارسو بیس ہے۔ ‘‘ کسی نے کہا۔


       ’’ارے نہیں یار حمید تو بڑا شریف آدمی ہے۔ اب یہی دیکھ نا کہ اس نے لونڈیا کو چھوڑ کر اس کی ماں سے شادی کر لی۔ ‘‘


       ’’چھجے سے دفعتاً ایک سائے نے حرکت کی اور بارش میں بھیگتا ہوا بگولے کے مانند چلا گیا۔ شاید یہ ضمیر تھا۔ میری شخصیت کا دوسرا روپ۔


       اور میں چھجے کے ملبے تلے جیسے دفن ہو چکا تھا۔


***