کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

فیرنی

عوض سعید


نیم کے دو رویہ درختوں کے درمیان ایک لمبا اونچا کافی پھیلا ہوا برگد کا پیڑ سر اونچا کیے اس طرح کھڑا تھا جیسے وہ اپنی اونچائی اور عظمت پر نازاں ہو۔ پیڑ کی شاخیں کہیں کہیں سوکھ رہی تھیں اور ہرے ہرے پیلے پیلے برگد کے پتّے ہوا کے بوجھل جھونکوں کے ساتھ آہستہ آہستہ نیچے گر رہے تھے۔ نیچے لیٹا ہوا بوڑھا ان پتوں کو گرتا ہوا دیکھ کر آپ ہی آپ مسکرا رہا تھا۔ اس نے دیکھا بوڑھا بوسکی کا ڈھیلا ڈھالا کرتہ اور سفید شلوار پہنے اطمینان سے لیٹا ہوا تھا۔


       وہ اپنے گھر سے نکل کر یونہی اس طرف چلا آیا تھا۔ درخت پر ایک خوبصورت سی فاختہ چپ چاپ بیٹھی تھی۔ چاروں اَور سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس کے سامنے پرانی چپل کے دو جوڑ تھے جو دونوں کے دونوں نہایت خستہ تھے۔ بوڑھا درخت کے نیچے پاؤں پھیلائے اس طرح لیٹا ہوا تھا جیسے اس بھاگتی دوڑتی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔


       وہ بوڑھا تھا لیکن اُس کے داڑھی نہیں تھی۔ ہاں سفید مونچھیں کچھ اتنی بڑی تھیں کہ خواہ مخواہ احساس ہوتا تھا کہ وہ داڑھی منڈوانے سے پہلے اپنی مونچھیں ترشوانا بھول گیا ہو۔ وہ اب اس کے بالکل قریب کھڑا تھا لیکن قدموں کی آہٹ پا کر بھی بوڑھے نے پلٹ کر دیکھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ بنتا ہے سالا۔ مگر جب اس نے اسے غور سے دیکھا تو اُس کی آنکھیں نیم وا تھیں۔ وہ کچھ سونے اور جاگنے کی اذیت میں مبتلا تھا۔ وہ تھوڑی دیر یوں ہی کھڑا رہا۔ پھر کچھ سوچتا ہوا سامنے والی پگڈنڈی کی طرف چل پڑا۔ سامنے کار سے ایک گورا چٹا نوجوان ہپی اتر رہا تھا،اس کے ساتھ ایک نوعمر خوبصورت لڑکی تھی۔ ان دونوں نے بوڑھے کے قریب پہنچ کر سامنے پڑی ہوئی چپلوں کو بڑی عقیدت سے چھوا۔ پھر بے تحاشا اپنے گال بوڑھے کے پیروں سے گڑنے لگے۔ اسے یہ منظر عجیب سا لگا۔ اس نے دیکھا وہ بوڑھا ابھی تک سو رہا تھا۔ وہ دونوں بڑی دیر تک بوڑھے کے پاس ہی بیٹھے رہے پھر جب وہ کار کی طرف آئے تو اس نے  معذرت چاہتے ہوئے اس غیرملکی نوجوان سے پوچھا۔ ’’یہ بوڑھا کون ہے۔ ‘‘ نوجوان نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہا۔ ’’تم ہندی ہو کر یہ بھی نہیں جانتا کہ یہ کون ہے۔ یہ گریٹ آدمی ہے۔ اسے بھوک ہی نہیں لگتی۔ یہ کچھ کھاتا ہی نہیں۔ ہمیشہ سوتا رہتا ہے یا لیٹا رہتا ہے،یہ کسی سے بات بھی نہیں کرتا۔ ویل اتنا سب کچھ جان کر بھی کیا تم بوڑھے کے چرن نہیں  چھوئے گا۔ ‘‘ مگر اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔


       کار آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہوئی پگڈنڈیوں میں غائب ہو گئی۔ پھر اس نے نکڑ پر بس پکڑی اور شہر کی ایک  اہم شاہراہ پر اتر پڑا۔ سامنے بہرام جی کا بار کھلا ہوا تھا۔ دروازے پر سفید ڈریس میں ملبوس نوجوان بیرا استقبال کے لیے کھڑا تھا۔ اُس نے بیرے سے سلام لیا اور اندر داخل ہوا۔ لوگ کرسیوں پر جمے ہوئے شراب کی چسکیاں لے رہے تھے،ٹیبل پر کچھ خالی اور کچھ بھرے ہوئی جام تھے،سوڈے کی بوتلیں تھیں اور نمکین کاجو کے پلیٹ۔ گرمی کے پیشِ نظر اس نے بئیر پینا ہی مناسب سمجھا۔ مگر یہ اپنے آپ کو دلاسا دینے کی فضول سی کوشش تھی۔ بئیر کا گلاس جب بیرے نے اس کے سامنے لا کر رکھا تو اسے احساس ہوا کہ وہ کئی دنوں بعد یہاں آیا ہے اور وہ بھی ایک گلاس بئیر کے لیے۔ وہ سوچنے لگا،کاش    وہ اس بوڑھے کی طرح ہوتا جو نہ پیتا ہے اور نہ کھاتا ہے،بس سوتا ہی رہتا ہو۔ کم از کم آج اسے یہ دکھ تو نہ  ہوتا کہ وہ بئیر کا دوسرا گلاس نہیں منگوا سکتا اور نہ نمکین کاجو کی پلیٹ۔


       بئیر کا گلاس ختم کر کے جب وہ بہرام جی کے بارے میں اٹھا تو اسے اپنی بے چارگی کا احساس ہوا۔ ۔ ۔ بندھے ٹکے پیسے اور اس کے اطراف گھومنے والی جوان زندگی کے بجتے ہوئے ساز۔


       ’’صاحب لڑکی چاہیے۔ ‘‘ سڑک کے کنارے بوسیدہ کوٹ پہنے ہوئے بروکر نے کھسرپھسر کی۔ ‘‘


       ’’فری اگر ملتی ہے تو چاہیے۔ ‘‘


       ’’ سالا لڑکی بھی فری چاہتا ہے،کڑکا کہیں کا۔ ‘‘


       ’’ کیا ادھار بھی نہیں چلے گی۔ ‘‘ مگر شاید بروکر نے اس کی آواز نہیں سنی۔ وہ آگے نکل گیا۔ اس نے کہیں یہ سن رکھا تھا کہ یہاں کی بعض لڑکیاں بڑے شوق سے پیسے دے کر اپنا شوق پورا کرتی ہیں۔ آخر وہ لڑکیاں کہاں مر گئیں۔ وہ بوجھل قدم ڈالے اپنی قیام گاہ کی طرف لوٹنے لگا۔ راستے میں اسے ایک بہت ہی پرانا یار ملا۔ صاف ستھرے قیمتی شرٹ پر نکٹائی ڈالے وہ حیدرآباد کے مخصوص کرسچنوں کی طرح لگ رہا تھا جو فل سوٹ کی زحمت سے بچنے کے لیے کوٹ کبھی نہیں پہنتے۔


       ’’لگتا ہے بہت خستہ زندگی گزار رہے ہو۔ ‘‘ اپنے پرانے یار کی زبان نے جب یہ جملہ اُگلا تو  اسے سخت ناگوار لگا لیکن وہ صرف پھیکی مسکراہٹ کا مظاہرہ ہی کر کے رہ گیا۔


       ’’ تم کیا کر رہے ہو ؟ اس نے جواباً پوچھا۔


       ’’ بہت بڑھیا کاروبار، لڑکیوں کے تلوے چاٹتا ہوں۔ ‘‘


       ’’ میں کچھ نہیں سمجھا۔ ‘‘


       ’’ ارے اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ بھئی لڑکیوں کے تلوے چاٹنے اور جسم سونگھنے میں جو مزا ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں۔ ‘‘


       ’’ تلوے تم ہی چاٹنے ہو یا چٹواتے بھی ہو۔ ‘‘


       ’’ بیک وقت دونوں کام کرتا ہوں۔ تم اگر چاہو تو کسی خوبصورت لونڈیا کے تلوے چٹوا دوں۔ یقین جانو کھیر اور فیرنی سے زیادہ مزا آئے گا۔ ‘‘


       ’’ یار     سرِ دست فیرنی ہی چکھا دو۔ فیرنی نہ کھائے ہوئے عرصہ ہو چکا ہے۔ ‘‘


       ’’بڑے بد ذوق ہو یار۔ تم سے ہمارے بات نہیں بنے گی۔ تم تو بہت پچھڑے ہوئے آدمی ہو۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے آگے نکل گیا۔


       سڑک کے ہجوم نے جیسے دیکھتے ہی دیکھتے اسے نگل لیا۔ اب وہ چوڑی چکلی سڑک کے سینے پر زخمی پرندے کی طرح پھڑ پھڑا رہا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے تعاقب میں جیسے بھاگ رہے تھے۔ کوئی کار کے نرم گدوں پر بیٹھا ہوا تھا۔ کوئی ا سکوٹر پر چمٹا ہوا تھا۔ سڑک ریس کا میدان بنی  ہوئی تھی اور وہ اپنے آپ کو تنہا ہارا ہوا جواری تصور کر رہا تھا۔


       یہ لوگ آخر کہاں جاتے ہیں۔ اپنی اپنی محبوباؤں کے گھر۔ ۔ ۔ پینے پلانے۔ ۔ ۔ جوا کھیلنے۔ ۔ ۔ یا گدرائے ہوئے خوبصورت جسموں کی خوشبو سونگھنے۔


       گدرائے ہوئے خوبصورت جسم کی خوشبو کے ساتھ اس کے ذہن میں اچانک اس کا پرانا یار آگیا۔ راستہ ناپتی ہوئی خوبصورت دوشیزاؤں کی ننگی ٹانگوں کو دیکھ کر اس کا بے اختیار فیرنی کھانے کو جی چاہا۔ لیکن لڑکیوں کے تلوے چاٹنے،کنوارے بدن کی خوشبو سونگھنے اور فیرنی کھانے میں جو فاصلہ تھا وہ اس فاصلے کو ناپ دینے کے موقف میں نہ تھا۔ اب تو اسے رات کے کھانے کے لالے پڑے ہوئے تھے ،کیونکہ گذشتہ چند دنوں سے اس نے ناشتے کے ساتھ دوپہر کے کھانے کی بھی عادت اپنے اوپر مسلط کر لی تھی یعنی وہ دو دو وقت کا کھانا ایک ہی ساتھ کھا لیا کرتا تھا تا کہ دوپہر کی جھنجھٹ ہی نہ رہے۔


       کسی وقت وہ ایک مقامی ا سکول میں پارٹ ٹائم ٹیچر تھا۔ لڑکوں کو اس نے جو بنیادی سبق پڑھایا تھا وہ یہ تھا کہ آدمی بنیادی طور پر جانور ہے۔ کبھی ایک آدمی دوسرے آدمی سے مل کر خوش نہیں ہوتا۔ نتیجتاً ہیڈ ماسٹر نے اسے یہ کہتے ہوئے ا سکول سے ہمیشہ کے لیے چھٹی دے دی تھی کہ ’’ایک جانور دوسرے جانور کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔ ‘‘


       ہیڈ ماسٹر کی یہ بات اسے پسند آئی تھی اور وہ چپکے سے اپنے شاگردوں کی طرف حسرت سے نگاہ ڈالتا ہوا رخصت ہو گیا تھا۔


       مگر یہ کیا۔ ان باتوں کو یا د کرنے سے بھلا بھوک کی خوشبو،فیرنی کا ذائقہ لڑکیوں کے ننگے تلوں کو چاٹنے کی اشتہا کا کیا تعلق۔ وہ یوں ہی سوچتا رہا۔ چلتا رہا۔ اب وہ اپنی قیام گاہ کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آگیا۔ اپنے بند کمرے کو یوں دیکھا جیسے وہ کہیں اور تو نہیں آگیا ہے۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ یہ کمرہ اسی کا ہے تو اس نے جیب سے چابی نکال کر تالے  میں گھمائی۔ کھٹاک سے تالا کھل گیا اور وہ بستر پر گر گیا۔


       دوسرے ہی لمحے اسے ایسا محسوس ہوا جیسے برگد کے ہزاروں سوکھے پتّے اس کے اطراف درخت سے ٹوٹ کر ڈھیر ہو رہے ہوں۔ چیونٹیاں اس کے ننگے تلوں سے چمٹ گئی ہوں۔


       اس کی آنکھیں ہولے ہولے بند ہو رہی تھیں۔ اس نے محسوس کیا جیسے وہ ہپی لڑکی اسے محبت سے فیرنی چٹا رہی ہو۔


***