کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

جلا وطن

عوض سعید


وہ گہری نیند سو رہا تھا۔ اچانک اسے ایسا لگا جیسے کسی نے گہری کھائی سے اُسے آواز دی ہو۔ اس نے بستر سے اُٹھ کر چاروں اَور نگاہ ڈالی لیکن آواز خاموشی میں تبدیل ہو گئی تھی۔  یہ آواز عجیب تھی،کچھ کچھ مانوس سی۔ اس نے خوف اور حیرانی کے عالم میں لائٹ جلائی،کمرہ روشنی میں نہا رہا تھا۔ لیکن وہ اسی روشنی سے مطمئن نہیں تھا۔ کمرے کا دروازہ بند تھا اور کھڑکیوں کی سلاخیں توڑ کر کوئی گھر میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ مگر یہ آواز پھر کہاں سے آئی تھی۔ آواز سلاخوں،مقفل دروازوں اور بند دریچوں کی محتاج تھوڑا ہی ہوتی ہے۔ اس کے اندر کے انسان نے کہا۔ ضرور کسی نے اسے آواز دی ہو گی۔ ہو سکتا ہے سڑک پر کھڑے کھڑے کسی نے اُسے پکارا ہو۔ اس نے کھڑکی کے قریب آ کر نیچے جھانکا۔ سڑک لاش کی طرح خاموش تھی۔ نیچے کوئی نہ تھا تو گویا رات کافی جاچکی ہے۔ اس نے تکیے کے نیچے سے اپنی گھڑی نکالی۔ صبح کے چار بج چکے تھے۔ وہ سونے سے پہلے ریزگاری کے ساتھ گھڑی بھی سرہانے رکھ کر سونے کا عادی تھا۔ سوتے وقت بارہا گھر کی مسلسل ٹک ٹک کی آواز اس کی میٹھی نیند میں مخل ہوتی،لیکن سوتے میں بھی مداخلت اسے بھلی لگتی تھی۔ ایک طرح سے سونے اور جاگنے کی کیفیت میں گھڑی کی آواز اس کے دل کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہو جایا کرتی تھی۔ گھڑی کی ٹک ٹک میں جو روم(Rythm) اسے ملتا وہ اسے کسی خوبصورت آبشار کے قریب بیٹھنے سے بھی زیادہ بھلا لگتا ہے۔ مگر یہ آواز آخر کہاں سے آئی تھی۔ اس نے سوالیہ انداز میں اپنے آپ سے پوچھا کہیں سے بھی آ سکتی ہے آواز پر بھلا کس کی حکمرانی ہے۔ وہ تو آزاد ہے۔


       دو گھنٹے یوں ہی سوچتے ہوئے گزر گئے اور وہ جب گھر کو تالا لگا کر نیچے آیا تو سڑک پر موٹریں دوڑ رہی تھیں اور لوگ تیز تیز راستہ چلتے ہوئے اپنی اپنی منزلوں کی طرف لپک رہے تھے۔


       بھیڑ میں اسے ایک شناسا دکھائی دیا۔


       ’’ارے بھئی ذرا ٹھہرنا۔ ‘‘


       ’’جلد کہو بھائی ورنہ صبح کی ٹرین مِس ہو جائے گی اور مِل مالک کو نوٹس دینے کا ایک بہانہ مل جائے گا۔ ‘‘


       ’’کیا تم نے مجھے آواز دی تھی۔ ‘‘


       ’’نہیں یار میرے پاس وقت ہی کہاں ہے جو میں لوگوں کی نیندیں حرام کروں۔ ‘‘


       ’’کیا تم نے مجھے پکارا تھا؟‘‘


       ’’پاگل ہو گئے ہو کیا۔ ‘‘


       ’’اور تم نے‘‘


       ’’عجیب آدمی ہو میں تمہیں جانتا بھی نہیں اور تم ‘‘


       اسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کا دماغ بوجھل تھا۔ اس نے سرکو ایک جھٹکا دیا جیسے وہ اس حادثہ کو بھول جانا چاہتا ہو۔


سامنے سڑک کے کنارے والا نیا ہوٹل کھل چکا تھا۔ اس نے سوچا یہاں ناشتہ کرنا چاہئے ابھی اس نے کرسی سنبھالی ہی تھی کہ بیرے نے اس کا آرڈر نوٹ کر لیا۔ پراٹھے،قیمہ،کھچڑی اور کلیجی۔


       تھوڑی دیر بعد وہ ناشتہ حلق میں اتار رہا تھا۔ لیکن اس کا ذہن ابھی تک آواز کے تعاقب میں لگا ہوا تھا۔


       ’’ارے یار عارف چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ پیتے کیوں نہیں۔ ‘‘


       وہ کرسی سے اچانک اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’کیا ابھی ابھی آپ ہی نے مجھے آواز دی تھی۔ ‘‘’’نہیں تومیں اپنے دوست عارف سے مخاطب تھا۔ ‘‘اس اجنبی کے سامنے واقعی ایک سجیلا نوجوان بیٹھا کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ شاید وہ اس سے کہہ رہا تھا۔


       ’’میں بھی تو عارف ہوں۔ ‘‘


       ’’بھئی نام سے کیا ہوتا ہے۔ شکلیں تو بالکل خدا ہیں۔ پھر تم میرے لئے اجنبی ہو اور یہ میرے لئے اجنبی نہیں۔ ‘‘


       ’’کیا تم نے اسی سڑک پر اپنے دوست عارف کو آواز دی تھی۔ ‘‘


       ’’نہیں مجھے آواز لگانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ خود میرے پاس چلا آیا تھا۔ ‘‘


       ’’تو پھر رات میں کس نے مجھے آواز دی تھی۔ ‘‘خاموشی۔ سنّاٹا۔


       وہ صبح سے شام تک سڑکوں پر مارا مارا پھرتا رہا۔


       اور جب رات ہو گئی تو وہ بستر پر آ کر لیٹ گیا۔ نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ وہ کروٹیں بدلتا رہا۔ پھر ایک لمحہ ایسا آیا کہ اسے محسوس ہوا جیسے اس کی آنکھیں نیند کے خمار سے آہستہ آہستہ بند ہو رہی ہیں۔


       یکبارگی پھر کسی نے اسے پکارا —عارف


       وہ کچی نیند سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اِدھر اُدھر نگاہیں دوڑائیں۔ مگر کمرے میں کوئی نہ تھا۔


       یہ آواز وہی تھی۔ مانوس مانوس سی آواز۔ آواز دینے کا انداز بھی وہی تھا۔ لہجہ وہی تھا۔ جذبہ وہی تھا۔


       وہ لوگ جو کسی وقت اسے جان سے زیادہ عزیز تھے۔ وہ سب زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں پرائے بن چکے تھے۔ اسے اس وقت زندگی بڑی بکواس لگی تھی۔ اور وہ ایک دن چپکے سے اٹھ کر یہاں چلا آیا تھا۔


       سب کو علم تھا کہ وہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہے۔ مگر کسی نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اسٹیشن پر وہ تنہا تھا۔ کوئی ہاتھ ہلا کر وداع کرنے والا نہ تھا۔ کوئی آواز دینے والا نہ تھا۔ مگر اب وہ سب کو بھول چکا تھا۔


       کوئی اسے آواز دے رہا تھا۔ اس کا نام لے کر پکار رہا تھا۔


       یہ سب بکواس ہے۔ واہمہ ہے۔ اسے کسی نے نہیں پکارا۔ وہ تنہا پیدا ہوا ہے۔ اور تنہا ہی مرے گا وہ جب مرے گا تو کوئی کندھا دینے والا نہ ہو گا۔ کوئی قبر میں اسے نہیں اتارے گا۔


       وہ سوچ کی گہرائیوں میں آہستہ آہستہ اترتا جا رہا تھا۔ کل وہ اس شہر کو بھی خیر باد کہہ دے گا۔


       وہ سوچتے سوچتے نڈھال ساہو کر رہ گیا۔ اس نے کھڑکی سے جھانک کر نیچے دیکھا،مڈیکل شاپ کا بونا سا مالک شٹرس کھینچنے کی تیاری کر رہا تھا۔


       اس نے سوچا۔ آج کیوں نہ نیند کی گولیوں پر اکتفا کیا جائے۔ یوں نیند آنے سے تو رہی۔ اس نے نیچے اتر کر نیند کی دو گولیاں خریدیں۔ پے درپے تین گلاس ٹھنڈا پانی پیا۔ جس سے اسے بڑی طراوٹ کا احساس ہوا۔


       آنکھوں میں نیند آہستہ آہستہ اتر رہی تھی اور اسے لگ رہا تھا کہ وہ سو جائے گا۔ اسے فوری نیند آ جائے گی۔


       اور ہوا بھی ایسا ہی۔ اس نے تکیہ سیدھا کیا۔ گھڑی کی ٹک ٹک اُسے بری بھلی لگی ٹک ٹک—ٹک ٹک۔


       ’’کیا سو گئے ہو عارف۔ ‘‘


       ایک آواز ہوا میں تھرتھرائی اور وہ آواز کے ساتھ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اس کی نگاہوں کے سامنے ایک سایا منڈلایا،اسے ایسا لگا وہ اس سے بارہا مل چکا ہے۔ مگر جب وہ دوبارہ آنکھیں ملتا ہوا سائے کے قریب آیا تو وہاں کوئی نہ تھا۔ وہ ادھ موا سا بستر پر گر گیا۔ اس نے تکیہ سیدھا کرنے کے لئے جب ہاتھ بڑھایا تو اسے حیرانی ہوئی کہ آج خلافِ توقع گھڑی بند تھی۔