کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

غنڈہ

عوض سعید


وہ چوراہا پار کر کے گلی کی جانب مڑا ہی تھا کہ ایک ننھے منے بچے نے اس کا راستہ روک لیا۔


       ’’ آپ باجی سے کیوں نہیں ملتے۔ دیکھیے نا کتنے لوگ روز باجی سے ملنے آتے ہیں۔ ‘‘ ننھے نے بغیر سوچے سمجھے یہ بات کہہ دی۔


       اس نے ننھے کے گال سہلاتے ہوئے کہا۔ ’’منے ہم نے تمھاری باجی کو دیکھا ہی نہیں،دوستی کیسے کریں گے۔ تم ملا   گے تو دوستی ہو جائے گی۔ کبھی اپنی سالگرہ پر تم ہمیں بلانا۔ ہم ضرور آئیں گے اور ایک خوبصورت سا تحفہ بھی دیں گے۔ ہاں منے تمھارے بابا کیا کام کرتے ہیں۔ ‘‘


       ’’ بابا ہیں ہی نہیں تو کیا کام کریں گے۔ ‘‘


       ’’ اور ممی  ؟ ‘‘


       ’’ وہ بھی نہیں۔ ‘‘


       ’’ تم باجی کے ساتھ تنہا رہتے ہو۔ ‘‘


       ’’ تنہا کیوں رہنے چلا۔ باجی کے بہت سے دوست ہیں،جو دن رات گھر آتے رہتے ہیں۔ ‘‘


       ’’منے وہاں کس سے باتیں کر رہا ہے۔ پڑھے گا نہیں ؟ ‘‘


       یک بہ یک ایک نسوانی آواز گونجی جس میں پیار اور غصے کی ملی جلی مٹھاس تھی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا،کھڑکی میں ایک نوجوان صحت منت لڑکی جو دور سے عورت کی طرح لگ رہی تھی بظاہر منے سے مخاطب تھی۔


       ’’اچھا منے اب گھر جا ،تمھاری باجی تمھیں بلا رہی ہیں۔ ‘‘


       اس نے دوبارہ جب کھڑکی کی طرف نظر دوڑائی تو اس نے غصے سے کھڑکی بند کر لی۔


       اُس کی پہلی ملاقات اسی طرح ہوئی تھی۔ وہ اس محلے میں نیا نیا آیا تھا۔ یہاں اسے کوئی مناسب مکان نہیں ملا تھا۔ آفس کی قربت کے سبب اس نے ایک کمرہ لے رکھا تھا۔ بس آسانی اتنی تھی کہ باتھ روم اور دوسری چیزوں کی یہاں سہولت تھی۔


       دوسرے دن وہ آفس جانے کے لیے کمرے کو تالا لگا کر باہر آیا تو منا اس کے سامنے کھڑا تھا۔


       ’’کہاں جا رہے ہیں آپ ؟ ‘‘


       ’’آفس۔ ‘‘


       ’’ آفس کیا ہوتا ہے۔ ‘‘


       اس نے منے کے اس سوال پر قدرے سٹپٹا کر کہا۔ ’’آفس یوں سمجھ لو اس جگہ کا نام ہے جہاں کام کرنے پر تنخواہ ملتی ہے۔ ‘‘


       ’’تنخواہ کا کیا مطلب۔ ‘‘


       ’’پیسہ روپیہ۔ ‘‘


       ’’ یہ تو باجی کو بغیر آفس گئے بھی ملتا ہے۔ ‘‘


       وہ شک جو منّے سے پہلی بار ملنے کے بعد اس کے دل میں پیدا ہوا تھا۔ اب اس نے یقین کی صورت اختیار کر لی تھی۔ وہ سمجھ گیا کہ منے کی باجی ایک عورت ہے جو رات کے اندھیرے میں اپنا جسم بیچتی ہے۔


       ’’ منّے  پھر وہاں چلا گیا۔ پڑھائی میں دل نہیں لگتا، آوارہ بننے کا ارادہ ہے کیا ؟ ‘‘


       آواز کے ساتھ ہی اس کی نگاہیں کھڑکی کی طرف اُٹھ گئیں مگر دوسرے ہی لمحے میں اس نے کھٹاک سے کھڑکی بند کر لی۔ اس بار اس نے غصے کا اظہار کیا تھا اور نہ پیار کا۔ ہاں وہ منے سے ناراض ضرور لگ رہی تھی۔


       اس نے گھڑی دیکھی نو بجنے ہی کو تھے۔ گویا ایک گھنٹے میں اسے ناشتے کے بعد آفس پہنچنا بھی ضروری تھا۔ قبل اس کے مناّ کچھ الٹے پلٹے سوالات کرے  وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔


       ’’ تم باجی کا کہنا کیوں نہیں مانتے۔ روز کیوں نہیں پڑھتے۔ ‘‘


       ’’ مجھے ماسٹر پسند نہیں۔ پھر باجی کے کمرے میں شور بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ‘‘


       ’’ دیکھو تمھارے دروازے کے پاس کون کھڑا ہے۔ ‘‘


       ’’ ارے یہ تو انکل ہیں،روز باجی سے ملتے ہیں۔ ‘‘


       ’’ دن میں آتے ہیں یا رات میں۔ ‘‘


       ’’ دن ہی میں آتے ہیں۔ ‘‘


       ’’ اچھا اب تم جا کر انکل سے باتیں کرو،ہم چلتے ہیں۔ ‘‘


       ’’ وہ  تو باجی ہی سے باتیں کرتے ہیں،مجھ سے تھوڑا ہی کرتے ہیں۔ بس مجھے ٹافیاں دیتے ہیں۔ ٹافی مجھے بہت پسند ہے۔ ‘‘


       ’’اچھا  منے پھر ملیں گے۔ ‘‘یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔ وہ تیز تیز چلتا ہوا چوراہے پر آیا۔ سامنے کیفے گرین تھا جہاں پہلے دن اس نے کھانا کھایا تھا۔ واجبی واجبی سا ہوٹل تھا جہاں کھانا اس کی  مرضی کے مطابق ملتا تھا۔


       آج اس کا جی کھچڑی اور قیمہ کھانے کو چاہا۔ بیرے کو بلا کر اس نے کھچڑی اور قیمہ لانے کو کہا۔ اس نے کھانے سے پہلے اپنی جیب سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی۔ ایک سگریٹ سلگا کر ناشتے کا انتظار کرنے لگا۔ سگریٹ کے کش لیتا ہوا وہ منے کی باجی کے تعلق سے سوچنے لگا۔ دو ایک منٹ ہی میں اس نے اپنے آپ سے بور ہو کر کہا۔ یہ کوئی نئی بات تھوڑے ہی ہے۔ ایسا ہر جگہ ہوتا ہے۔ ہر شہر میں ہوتا ہے۔ ہر ملک میں ہوتا ہے۔ اسے منے اور اس کی باجی سے کیا لینا دینا۔ وہ یہاں صرف ایک سال کی ٹریننگ کے لیے آیا ہے۔ وہ خواہ مخواہ ان جھمیلوں میں کیوں پڑے،مگر اس کی باجی اسے منے سے بات کرنے کیوں نہیں دیتی۔ دراصل وہ منے کو پکار کر اس کی توجہ اپنی طرف پھیرنا چاہتی ہے۔ اگر ایسی بات ہوتی وہ اچانک کھڑکی کیوں بند کر لیتی۔ محض نخرے اور کیا۔ وہ اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے ہر سوال کا جواب اس طرح دے رہا تھا جیسے کوئی رٹے رٹائے جملوں کو دہرا رہا ہو۔


       اب ناشتہ اس کے سامنے دھرا تھا۔ بیرے نے کب ناشتہ اس کے سامنے لا کر رکھا تھا  اسے یاد نہ تھا۔ اسے کوفت ہوئی کہ وہ خواہ مخواہ فضول باتوں پر اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہا ہے۔ وہ یہاں صرف ٹریننگ کے لیے آیا ہے۔ ٹریننگ پاس کرنے کے بعد فرم اسے اچھی پوسٹ دے سکتی ہے۔


       آفس اس کے کمرے سے کچھ زیادہ دور نہ تھا۔ اس نے سوچا کیوں نہ اپنا ا سکوٹر گھر سے منگوا لے۔ وہ اپنے بھائی کو کل ہی اس سلسلے میں خط لکھے گا۔ ا سکوٹر رکھنے والے کی تھوڑی بہت پوزیشن تو ہوتی ہی ہے۔ ا سکوٹر کے ساتھ ہی اسے اپنے ایک ساتھی کا جملہ یاد آیا۔


       ’’ یار     ا سکوٹر پر بیٹھنے سے ایسا لگتا ہے کہ آدمی کچھ اسٹرگل (Struggle) کر رہا ہے۔ ا سکوٹر سے زندگی کی طمانیت کا اظہار نہیں ہوتا۔ ‘‘


       وہ ہمیشہ کا پھکڑ ہے۔ خود اسے ا سکوٹر نصیب نہیں لیکن باتیں دلچسپ کرتا ہے۔ بہرحال وہ تو جلد ہی ا سکوٹر منگوا لے گا تاکہ آفس کی مصروفیتوں کے بعد وہ شہر میں گھومتا رہے لیکن اچانک وہ کچھ سوچ میں ڈوب گیا۔ ا سکوٹر آنے پر منا اسے بور تو نہیں کرے گا۔ ا سکوٹر پر بٹھائیے نا۔ بازار چلیے نا۔ زو گھومنے چلیے۔ وغیرہ وغیرہ۔


       مگر وہ منے کی بات کیوں مانے۔ اس کا کون لگتا ہے۔ کوئی رشتہ نہ ناطہ۔ کسی کو خوش کرنے کے لیے وہ بکرا کیوں بنے۔ توبہ یہ فضول سی باتیں وہ آج کیوں سوچ رہا ہے۔ اسے ا سکوٹر منگوانا ہے وہ بہرحال منگوائے گا۔


       وہ آج خلافِ معمول آفس دیر سے پہنچا۔ آدھا گھنٹہ لیٹ۔ اسے کوئی پوچھنے والا تو نہ تھا کہ وہ آج لیٹ کیوں آیا ہے۔ اس کا آفس میں بڑا امپریشن تھا،یہ اور  بات تھی۔ مگر آج وہ کچھ شرمندہ  شرمندہ سا تھا۔ اس نے ادھر ادھر فائلیں الٹ پلٹ کیں۔ اس کا جی کام میں نہیں لگ رہا تھا۔ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ اس کا مزاج بھی ٹھیک تھا مگر ذہن الجھا ہوا تھا۔ اس نے کافی منگوائی مگر آج اسے کافی بھی کڑوی سی لگی۔ اس نے میز کی دراز سے لفافہ نکالا۔


       بھائی صاحب    زحمت نہ ہو تو میری ا سکوٹر بک کر دیجیے، ٹرین سے بھجوانے میں آسانی رہے گی۔ لکھنے کو تو میں نے دو جملے لکھ دیے لیکن لفافہ بند کرنے سے پہلے وہ پھر ایک بار سوچ میں پڑ گیا۔ کہیں بھائی صاحب برا تو نہیں مانیں گے۔ اس نے لکھ دیا تھا کہ گھر سے اس کا آفس قریب ہے۔ ا سکوٹر کی ضرورت نہیں،مگر یہ سوچ کر وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کا بھائی ا سکوٹر کم ہی استعمال کرتا ہے۔ وہ خواہ مخواہ منے سے ڈر گیا ہے۔ وہ ایک عجیب کشمکش اور اذیت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ اس نے گھڑی دیکھی۔ ڈاک کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ وہ یہ خط آج پوسٹ بھی کر دے تو کل ہی نکلے گا۔ کیوں نہ اسے کل ہی پوسٹ کیا جائے۔ اس نے اپنے آپ سے کہا،لیکن وہ بدستور الجھا ہوا تھا۔ اس کی ہر حرکت میں اضطراری کیفیت تھی۔ وہ آفس سے نکلنے کے بعد ادھر ادھر گھومتا رہا۔ کوئی دس بجے جب وہ اپنے گھر آیا تو اس نے دیکھا منے کے گھر میں ایک نوجوان داخل ہو رہا تھا۔ بڑے بڑے ہپیوں جیسے بال،شرٹ کے بٹن کھلے ہوئے،ڈھیلا ڈھالا پینٹ پہنے ہوئے وہ مسخرہ لگ رہا تھا۔ اسے اس کی ڈھٹائی پر کوفت ہوئی۔ وہ اس قدر اطمینان  سے منے کے گھر میں داخل ہو رہا تھا جیسے وہ اُسی کا گھر ہو۔ آدمی شاید اپنے گھر میں اس طرح داخل نہیں ہوتا۔


       وہ روز رات یہی کچھ تماشا دیکھتا رہا اور خواہ مخواہ کڑھتا رہا۔ منے سے بچنے کے لیے وہ رات دیر گئے گھر آنے لگا۔ کبھی تو منا نظر آ بھی جاتا تو وہ کمرے ہی میں اس کے جانے کا انتظار کرتا۔ مگر اب تو کچھ اور ہی بات ہو گئی تھی۔ محلے کے لڑکوں نے بھی اس سے دوستی بڑھائی تھی۔ کچھ تو منے کی وساطت سے اور کچھ لڑکوں نے اپنی جسارت کو کام میں لاتے ہوئے اس کی باجی سے خاصی دوستی کر لی تھی۔


       اب وہ جب کبھی کھڑکی کے سامنے سے گزرتا وہ ڈھیٹ بنی کھڑی رہتی۔ جیسے کوئی اسے دیکھ نہ رہا ہو۔ وہ اس پر اچٹتی ہوئی نگاہیں ڈالتا ہوا آگے بڑھ جاتا۔


       اس کے چلے جانے کے بعد کھڑکی خود بہ خود بند ہو جاتی۔ باجی کی اس تبدیلی پر وہ حیران تھا۔ اسے خوشی بھی تھی اور ساتھ ساتھ افسوس بھی۔ خوشی اس بات کی تھی کہ کوئی اس کی طرف محبت بھری نگاہ سے دیکھ بھی سکتا ہے۔ کوفت اس بات کی تھی کہ اس کے دیکھنے میں شریفانہ قسم کی کوئی بات نہ تھی۔


       وہ چلتے چلتے پلٹ کر پھر گھر آیا جیسے وہاں کوئی خاص چیز بھول گیا ہو۔ دراصل وہ اپنا بیگ بھول گیا تھا۔ بیگ لے کر لوٹا تو کھڑکی کھلی تھی اور منے کی باجی فیروزی رنگ کی ساری میں ملبوس بڑی خوبصورت لگ رہی تھی۔   


       ’’اندر آ جائیے۔ ‘‘ اُس نے بڑی بیباکی سے کہا۔


       اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ وہ اس طرح اندر داخل ہوا جیسے کسی نے اس پر سحر کر دیا ہو۔


       آدھ گھنٹہ بعد جب اس کی آغوش سے اُٹھا تو منے کی باجی نے نفرت آمیز لہجے میں کہا۔ ۔ ۔ ’’میں تمھیں ایک شریف آدمی سمجھتی تھی مگر تم تو نرے غنڈے نکلے۔ ‘‘


       اس عجیب و غریب کمنٹ  پر وہ بوکھلا سا گیا۔ ندامت سے سر جھکاتا ہوا باہر آیا تو اس کے کانوں میں باجی کی آواز گونجی۔


       ’’منے یہی ہے  نا تمھارے دوست جن کی تم نے تعریف کی تھی۔ ‘‘


       اور منے کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی تھی کہ آج باجی نے اسے غنڈہ کیوں کہا  ؟  


***