کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خاک دل

عوض سعید


دسمبر کا آخری مہینہ،پھر دلی کی ہنگامہ خیز سردی،یوں لگتا تھا جیسے فضا کے ذرے ذرے میں شبنم کے بے شمار قطرے گھل مل گئے ہوں۔


       مجھے ٹھیک طرح یاد نہیں ہے شاید ۱۹۶۲ء کی بات ہے،میں فلورا میں بیٹھا چائے پی رہا تھا،ایک سرو قد گورا گمٹا نوجوان خراماں خراماں اندر داخل ہوا،پہلے اس نے سرسری انداز میں ہوٹل کے جغرافیے کا مطالعہ کیا پھر آپ ہی آپ مسکراتا ہوا میری ٹیبل کے قریب آ بیٹھا،اس نے آتے ہی چلّاتے ہوئے بوائے کو پکارا جو اس کی پشت کے قریب ہی کھڑا تھا۔


       ’’ ایک پلیٹ سیخ کباب اور نان ۔ فوری۔ ‘‘


       ’’بیرا آرڈر لے کر ابھی پلٹا ہی تھا کہ اس نے پھر آواز دی،دیکھنا سیخ کباب ہی لانا،نان کی ضرورت نہیں۔ ‘‘


       جب ہوٹل کے بیرے نے کباب کی پلیٹ اس کے سامنے لا کر رکھ دی تو وہ کانٹے اور چمچے سے کباب کا آپریشن کرنے لگا،ابھی اس کی پلیٹ بھری ہوئی تھی کہ اس نے بیرے کو پھر آواز دی۔ ’’ ایک پلیٹ اور۔ ‘‘


       بیرا تیزی سے دوڑتا ہوا کباب کی ایک اور پلیٹ لے آیا،وہ اس تیزی سے کھا رہا تھا جیسے اسے اس بات کا خدشہ ہو کہ کہیں فلورا کے کباب اچانک ختم نہ ہو جائیں،جب کباب کی دونوں پلیٹیں ختم ہو گئیں تو اس نے بیرے کو پھر آواز دی۔ اس بار اس کی آواز میں بڑی نرمی اور ملائمت تھی۔ بیرے نے اس کے قریب پہنچ کر پوچھا۔


       ’’ کیا اور کباب لاؤں صاحب۔ ‘‘


       ’’ کباب نہیں ہاف ٹرے چائے لاؤ جلدی۔ ‘‘ جب ہوٹل کا بیرا چائے کا آرڈر لیے کچن روم کی طرف گیا تو وہ مجھے کنکھیوں سے دیکھنے لگا،ہوٹل میں میرے علاوہ چند اور نوجوان بھی تھے جو خوش گپیاں کرتے ہوئے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے،پھر وہ اچانک مسکراتا ہوا میری سیٹ کے مقابل آ بیٹھا۔


       ’’ معاف کیجیے گا،میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے۔ ‘‘


       ’’ ہو سکتا ہے۔ ‘‘ میں نے بیزار لہجے میں کہا۔


       ’’ ہو سکتا ہے نہیں جی،میں نے بہر حال آپ کو دیکھا ہے۔ ‘‘


       دیکھیے جنا ب میرا دماغ نہ چاٹیے،آگے کچھ اور کہیں گے آپ ؟


       ’’ جی نہیں ‘‘ کہتا ہوا وہ کاؤنٹر پر بل ادا کر کے باہر چلا گیا۔


       جب وہ چلا گیا تو میں نے اطمینان کا سانس لیا کیونکہ وہ مجھے ایک نظر بھی نہیں بھاتا تھا، یوں بھی اس کی شخصیت میں کوئی ایسی بات نہ تھی جو میں اس کی ذات میں دلچسپی لیتا۔


       جب میں گھر پہنچا تو صبیحہ میرا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی،میں ابھی جوتے کے تسمے کھول ہی رہا تھا کہ صبیحہ نے برہمی سے کہا۔


       ’’ عجیب آدمی ہیں آپ بھی،صبح سے شام کر دی،میں تنہا گھر میں کب تک بیٹھی رہوں،کسی ملازم کا انتظام بھی کیا ؟ ‘‘


       ’’ گھبراؤ نہیں دو چار دن میں ایک آدھ ماما آ ہی جائے گی۔ ‘‘


       ’’ کیا خاک آپ سے یہ کام ہو سکے گا،میں نے آج ہی ایک عورت سے بات چیت کی ہے،تین سو روپے تنخواہ میں ایک بار چھٹی،تم جانتے ہو معظم ابھی ہمارے ہاں کچھ سرمایہ ہے لیکن میں سوچتی ہوں اگر یہ ختم ہو جائے تو ہماری ہنستی گاتی زندگی کہیں نوحہ نہ بن جائے،دلی میں ہمیں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا۔ ‘‘


       اچھا اپنی لکچر بازی ختم کرو،مجھے بھوک لگ رہی ہے۔


       صبیحہ یکبارگی اٹھ کر باورچی خانے کی طرف چلی گئی اور ٹیبل پر کھانا چن دیا،کھانا کھا کر میں بستر پر لیٹا صبیحہ کے بارے میں سوچنا شروع کیا،کتنی گھلاوٹ ہے اس کی شخصیت میں،بیوی کی لازوال محبت،بہن کا انمٹ پیار،ماں کی ممتا سب ہی نعمتیں اس کی شخصیت میں پنہاں ہیں۔ وہ اگر چاہتی تو کسی امیر زادے کی حویلی کی زینت بن جاتی لیکن اس نے اپنا شریکِ حیات چنا بھی تو ایک ایسے نوجوان کو جو منہ میں چاندی کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوا،افلاس نے اسے جنم دیا،اندھیرے نے اس کی پرورش کی،کبھی کبھی میں سوچتا ہوں صبیحہ نے مجھے انتخاب کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ وہ مجھے آج بھی یاد ہے جب وہ ایک چھوٹا سا سوٹ کیس اٹھائے محبت میں سرشار میرے ساتھ بھاگ آئی تھی،میں نے اسے بہت منع بھی کیا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ہاں چلی جائے لیکن اس نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا تھا ’’ معظم اگر تم نے مجھے سہارا نہ دیاتو میں خودکشی کر لوں گی۔ ‘‘


       واقعی اگر میں نے اس سے شادی نہ کی ہوتی تو وہ کب کی یہ دنیا چھوڑ چکی ہوتی۔ ۔ ۔ میں خیالات کے تیز دھارے میں خس و خاشاک کی طرح بہتا چلا گیا،میری آنکھ کب لگی،خود مجھے اس کا پتہ نہ تھا۔ جب صبح کی سفیدی آہستہ آہستہ در و دیوار پر پھیلنے لگی تو میں نیند کی خمار آلود فضا سے باہر نکل آیا،اس وقت صبیحہ باورچی خانہ میں بیٹھی کسی سے باتیں کر رہی تھی،میں بستر پر پڑا پڑا سمجھ گیا،نئی کام والی آ چکی ہے۔


       ’’ معظم   اٹھو بھئی۔ ‘‘ باورچی خانے سے صبیحہ نے آواز دی۔


       ’’ اٹھ تو گیا ہوں۔ ‘‘ میں نے چلّاتے ہوئے کہا۔


       پھر وہ کام والی کو لیے میرے پاس آئی،یہ ہیں تمھارے صاحب   صبیحہ نے ماما سے مخاطب ہو کر کہا،اس نے بڑے سلیقے سے مجھے سلام کیا،میں نے اسے کچھ غیر ضروری اور کچھ ضروری ہدایتیں دیں جنھیں وہ چپ چاپ سر جھکائے سنتی رہی۔ میں نہا دھو کر جب اپنے کمرے میں آیا تو ٹیبل پر ناشتہ رکھا ہوا تھا،اصلی گھی میں تلے ہوئے گرم گرم پراٹھے،ابلے ہوئے انڈوں کے ساتھ شامی کباب کے ٹکڑے   مجھے بہت پسند آئے،میں نے ماما کو بلا کر اس کا نام پوچھا۔


       ’’ ہاں تو زینب بی تم نوجوان لڑکیوں سے اچھا پکا لیتی ہو۔ ‘‘


       ’’ صاحب میرا نام زینب ہے زینب بی نہیں۔ ‘‘


      ،،زینب بیگم تو ہو گا ہی ‘‘ میں نے اُسے چھیڑتے ہوئے کہا۔


       ’’ اگر میں بیگم ہوتی تو آپ کے ہاں نوکری کرنے کیوں آتی۔ ‘‘


       میں نے اسے مزید چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔


       پھر جب وہ دوپہر کھانے کے لیے ترکاری خریدنے مارکیٹ گئی تو صبیحہ نے مجھے بتایا کہ وہ کسی وقت کھاتے پیتے گھرانے کی چشم و چراغ تھی لیکن ناموافق حالات نے اس کی زندگی کے بال و پر نوچ لیے،بڑی شریف خاتون ہے بے چاری۔


       ’’ تم نے پہلے ہی دن زینب کی شرافت تسلیم کر لی،کم از کم میں تو اتنی جلدی کسی کے بارے میں اچھی رائے قائم کرنے کا عادی نہیں ہوں۔ ‘‘ میں نے صبیحہ سے طنزاً کہا۔


       آدمی کو آدمی پر بھروسہ رکھنا چاہیے،اب یہی دیکھیے نہ،اگر میں آج سے آپ پر بھروسہ کرنا ترک کر دوں تو زندگی اجیرن ہو جائے گی۔


       ’’ تم آج ایک دو ٹکے کی کام والی سے میرا تقابل کر رہی ہو۔ ‘‘


       ’’ آپ تو خواہ مخواہ بال کی کھال نکالتے ہیں،میں بھلا آپ کا تقابل اس سے کیوں کرنے چلی،میں تو یہ کہنا چاہتی تھی کہ آدمی کے بارے میں خراب رائے نہیں رکھنی چاہیے۔ ‘‘


       تھوڑی دیر یوں ہی خاموشی طاری رہی،پھر صبیحہ نے میری بانہوں میں ہاتھ ڈال کر پیار سے کہا ’’ معظم تم مجھ سے بچوں کی طرح کیوں الجھتے ہو،تمھاری یہ سیمابی کیفیت آخر کب دور ہو گی،یہ کہہ کر اس نے میرے گالوں پر ہلکی سی چپت جڑ دی۔ اس دوران زینب ہاتھ میں گوبھی کے پھول لیے آ دھمکی اور ہم دونوں کو یکجا دیکھ کر معنیٰ خیز انداز میں مسکراتی ہوئی باورچی خانے میں چلی گئی۔


       ایک دن میں اجمیری گیٹ سے گزر رہا تھا اچانک میری مڈبھیڑ اس نوجوان سے ہوئی جو گذشتہ دنوں فلورا میں بیٹھا کباب کھا رہا تھا۔


       ’’ارے آپ ؟‘‘ اس نے مجھے دیکھ کر بے تکلفانہ انداز میں کہا۔


       ’’ جی میں،فرمائیے۔ ‘‘


       ’’ آپ مجھے دیکھ کر اس طرح برہم کیوں ہو جاتے ہیں،میں نے آپ کی شان میں کوئی گستاخی تو نہیں کی ہے۔ ‘‘


       اس نے بڑے دکھ بھرے لہجے میں کہا اور نہ جانے میرا دل کس جذبے کے تحت پانی پانی سا ہو کر رہ گیا۔


       ’’ دیکھیے بھائی صاحب میں غالب  کی اس دلی میں چار سال سے مقیم ہوں لیکن کوئی معقول سا مکان ملتا ہی نہیں،اس سلسلے میں میں آپ کی مدد کا طلب گار ہوں۔ ‘‘


       بھئی دلی میں مکان ملنا بہت مشکل ہے،یوں بھی میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ میں سنجیدگی کے ساتھ مکان کی تلاش میں لگا ر ہوں۔


       میرے اس جواب سے اس کا چہرہ قدرے سکڑ گیا لیکن وہ زیرِ لب مسکرا کر رہ گیا،گو اس وقت مسکرانے کا کوئی محل نہ تھا،میں جس جگہ کھڑے ہو کر اس سے باتیں کر رہا تھا اس کے بالکل مقابل ایک سندھی ہوٹل تھا،جب میں اس کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوا تو میں نے اسے دیکھا۔ بوڑھا سندھی کاؤنٹر پر بیٹھا چائے کی چسکیاں لے رہا تھا،ہوٹل کے اندر کی بیشتر کرسیاں گاہکوں کے انتظار میں پڑی اونگھ رہی تھیں لیکن بوڑھا سندھی جاگ رہا تھا،جونہی اس نے میرے ساتھی کو دیکھا تو بے اختیار اس کی زبان سے نکل گیا۔


       ’’ ارے جمیل میاں کہاں ہیں آپ،دو ماہ سے صورت تک نہ دکھائی۔ ‘‘


       ’’ میں میرٹھ گیا تھا روپ چند،پچھلے دنوں ہی وہاں سے لوٹا ہوں،اچھا ذرا اسپیشل چائے تو بھیجنا،یہ میرے نئے دوست ہیں اور پہلی دفعہ تمھارے ہوٹل میں آئے ہیں۔ ‘‘


       بڑی خوشی ہوئی صاحب آپ سے مل کر،بوڑھے سندھی نے اپنے بے ڈھنگے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا،پھر کاؤنٹر سے اس نے ہانک لگائی۔


       ’’ ارے جھینگوی  صاحب لوگوں کے لیے دو اسپیشل کپ چائے فوری لاؤ۔


       تھوڑی دیر بعد ایک ناٹے قد کے آدمی نے جس کے لمبے لمبے بال تیل میں چپڑے ہوئے تھے بالائی سے لب ریز دو چائے کی پیالیاں ہمارے سامنے لا کر رکھ دیں۔


       مجھے چائے کے گھونٹ پیتے ہوئے یوں لگ رہا تھا جیسے عید کے دن کسی عزیز کے گھر بیٹھا شیر خرما پی رہا ہوں،جب چائے ختم ہوئی تو میں نے جمیل سے کہا ’’ اب چلنا چاہیے۔ ‘‘


       ’’ کہاں۔ ‘‘ اس نے بے ساختہ کہا۔


       ’’ میرا مطلب ہے کہ اب آپ مجھے اجازت دیجیے،پھر کبھی ملاقات ہو گی۔ ‘‘ وہ میرے اس جواب کو سن کر بوکھلا گیا اور ٹھیک ہے کہتا ہوا مجھے باہر گھسیٹ لایا۔


       ’’ ارے تم نے ہوٹل کا بل پے نہیں کیا ؟‘‘ آپ اس کی فکر نہ کرنا سائیں جی میرا مقروض ہے۔ ‘‘


       پھر میں جمیل سے چھٹکارا پا کر کناٹ پیلس چلا گیا،جہاں میں نے صبیحہ کے لیے سلک کی دو خوبصورت ساریاں خریدیں اور ٹیکسی میں بیٹھ کر گھر گیا تو میں نے دیکھا صبیحہ دروازے کی چوکھٹ پر کھڑی بے چینی سے انتظار کر رہی تھی۔


       ’’ صبیحہ دیکھنا میں نے تمھارے لیے کتنی خوبصورت ساریاں خرید لائی ہیں۔ ‘‘


       ،،انھیں ٹیبل پر رکھ دیجئے میں پھر کبھی دیکھ لوں گی،‘‘صبیحہ نے لاپرواہی سے کہا۔


       ’’آج تم اتنی مرجھائی ہوئی کیوں ہو،کیا بات ہے۔ ‘‘


       ’’ میں پریشان ہوں معظم،کام والی دوپہر سے غائب ہے،میں نے اسے سو کا نوٹ بھنانے کو دیا تھا لیکن وہ ابھی تک نہیں لوٹی۔ ‘‘


       ’’ شکر کرو کہ وہ سو کا نوٹ ہی لے گئی،اگر نظریں بچا کر کچھ زیورات بھی اپنے ساتھ لے جاتی تو ہم اس کا کیا بگاڑ لیتے،نئے آدمی پر بھروسہ کرنے کا نتیجہ دیکھ لیا نا۔ ۔ ۔ ‘‘


       ’’ معظم یوں طعنے دینے سے کیا فائدہ،تم پولیس میں رپورٹ کر دو،شاید کچھ پتہ چلے۔ ‘‘ صبیحہ نے غم انگیز لہجے میں کہا۔


       میں نے الٹے پاؤں پولیس اسٹیشن میں جا کر زینب کے خلاف رپورٹ درج کروا دی۔


       شام کو تھکا ماندہ گھر میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا زینب باورچی خانے میں گھسی چائے بنا رہی ہے،اس کے برابر بیٹھی صبیحہ باتیں کر رہی تھی،میرے قدموں کی آہٹ پا کر صبیحہ باورچی خانے سے دوڑ کر آئی اور کہا۔


       زینب کو ڈانٹنا مت،اس کے ساتھ حادثہ ہو گیا ہے،کسی تانگہ والے نے ٹکر ماردی،بیچاری کے سیدھے پاؤں پر چوٹ آئی ہے۔ ‘‘


       ’’ یہ تو ٹھیک ہے لیکن اس نے سو روپے واپس کیے یا نہیں۔ ‘‘


       ’’ ہاں کیے ہیں،صبیحہ نے پرس میں سے نوٹ نکال کر مجھے دکھائے۔ ‘‘


       ’’ وہ نوٹ بھنا کر لوٹ ہی رہی تھی کہ تانگے سے ٹکرا گئی۔ ‘‘


       ’’پھر تم اس غریب سے کیوں کام لے رہی ہو۔ ‘‘


       ’’ میں نے منع بھی کیا کہ وہ دو ایک روز آرام کرے لیکن وہ ہنس کر ٹال گئی،معظم عجیب عورت ہے اپنے حادثے کا حال مجھے ہنس ہنس کر سنا رہی تھی۔ ‘‘


       ذرا میں بھی اس کی مزاج پرسی کر لوں،میں نے اس کے قریب جا کر پوچھا ’’ زینب سنا ہے تمھیں چوٹ آئی ہے،ذرا پاؤں تو مجھے دکھانا۔ ‘‘


       ’’ نہیں معمولی سا زخم ہے،وہ اپنے آپ بھر جائے گا۔ ‘‘


       بعض  زخم ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں بھرتے دیر لگتی ہے۔ ‘‘


       ’’لیکن یہ زخم اُن زخموں میں سے نہیں ہے،میں نے کئی گھاؤ سہے ہیں،یہ زخم تو معمولی سا ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے کھولتے ہوئے پانی میں لاسا کی پتی انڈیل دی جب وہ چائے کی کشتی ہاتھ میں تھامے میرے قریب آئی تو میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔


       رات ہوئی تو صبیحہ میرے کمرے میں آ گئی،وہ روز کی طرح آج بھی مجھ سے میٹھی میٹھی باتیں کر رہی تھی اور میں اس کے لمبے خوبصورت بالوں میں انگلیوں سے آہستہ آہستہ کنگھی کر رہا تھا۔


       اچانک مجھے کسی کے کراہنے کی آواز آئی اور میری انگلیاں صبیحہ کے بالوں کی گرہ میں پھنس کر رہ گئیں،صبیحہ کی سرشار آنکھیں ایک لمحے کے لیے جھکیں،وہ مجھے خالی خالی نگاہوں سے دیکھنے لگی،اس نے میرے گالوں پر پیار سے چپت لگاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ یکایک تمھیں کیا ہو گیا ہے معظم۔ ‘‘


       ’’ مجھے یوں لگ رہا ہے صبیحہ جیسے زینب اپنے کمرے پڑی کراہ رہی ہے۔ ‘‘


       ’’ یہ تمھارا وہم ہے،زینب بڑی صابر عورت ہے۔ ‘‘


       اس نے میری توجہ پھیرنے کی کوشش کی،لیکن میری دہکتی ہوئی انگلیاں صبیحہ کے بالوں سے اچانک باہر نکل آئیں اور میرے قدم غیر شعوری جذبے کے تحت زینب کے کمرے کی طرف بڑھنے لگے،جب میں اس کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ نیند میں کراہ رہی تھی،اس کے ادھ کھلے منہ سے بڑے درد ناک سُر نکل رہے تھے۔


       ’’ جمیل میرے بچے تو کب ٹھیک ہو گا اور میں کب سر اونچا کر کے کہہ سکوں گی کہ میرا بیٹا شریف ہے،غنڈہ نہیں۔ میں تجھے پچاس روپے لا کر کہاں سے دوں بیٹا،ابھی ابھی تو میں نوکری سے لگی ہوں۔ ‘‘


       میں زینب کے سرہانے کھڑا اس کی المیہ زندگی کے کرداروں سے متعارف ہو رہا تھا،جب اُس نے کراہتے ہوئے پہلو بدلا تو میں چپ چا پ اپنے کمرے میں چلا آیا۔


       صبیحہ میرا انتظار کر کے سو چکی تھی،اس کا منہ چھوٹے بچے کی مانند کھلا ہوا تھا اور اس کے سفید سیپی جیسے دانت بیڈ لیمپ کی روشنی میں موتیوں کی مانند چمک رہے تھے۔


       صبح جب صبیحہ نے مجھے نیند سے بیدار کیا تو سرما کی نرم و ملائم دھوپ دبے پاؤں میرے بستر میں گھس آئی،میں نے مندی مندی آنکھوں سے صبیحہ کو دیکھا جو میرے دیر سے جاگنے پر پیار بھرے انداز میں احتجاج کر رہی تھی۔


       ’’ ناشتہ تیار ہو چکا ہے معظم میاں۔ ‘‘ زینب نے باورچی خانے سے آواز دی۔


       جب میں منہ ہاتھ دھوکر کھانے کے روم میں آیا تو وہ پراٹھے اور آملیٹ کی دو پلیٹیں لیے مسکراتی ہوئی داخل ہوئی،اس کے چہرے پر رات کے گھاؤ کے دور دور تک نشان نہ تھے،یوں لگتا تھا جیسے دن کا اجالا اس کی زندگی ہے اور رات ایک بیکراں غم کا لامتناہی سلسلہ۔


       جب وہ ناشتے کی پلیٹیں رکھ کر لوٹی تو میں نے دھیرے سے پکارا زینب  


       وہ یکبارگی رک گئی۔ ’’ میں پانی کا جگ ابھی لاتی ہو۔ ‘‘


       ’’ نہیں نہیں جگ تو سامنے ہی دھرا ہے۔ ‘‘


       اس نے کونے میں رکھے ہوئے جگ اور گلاس کو دیکھ کر کھسیانے انداز میں کہا۔


       ’’ میاں اب تو حافظہ بھی جواب دے رہا ہے۔ ‘‘


       زینب تمھیں پچاس روپیوں کی ضرورت ہے نا،وہ آج مجھ سے پیشگی لے لینا،میں نے بڑی نرمی سے کہا۔


       زینب جیسے چکرا کر رہ گئی،اس کے احساسات کے دریچے اچانک کھل گئے،وہ حیرت و استعجاب کے دوراہے پریوں کھڑی تھی جیسے اس کی زندگی کے المیے کی گھر گھر خبر ہو چکی ہو،وہ چند لمحے گم صم میرے سامنے کھڑی رہی،پھر لڑکھڑاتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی،میں بھی دبے پاؤں اس کے ساتھ ہولیا،میں نے دیکھا وہ اپنے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لیے سسکیاں بھر رہی تھی،میں گومگو حالت میں کھڑا زینب کو دیکھ رہا تھا کہ صبیحہ نے آ کر مجھ سے کہا۔


       ’’ یہ کیا کیا آپ نے،آپ اپنے کمرے میں چلیے،میں ابھی آتی ہوں۔ ‘‘


       ’’ میں کچھ سوچے سمجھے بغیر اپنے کمرے میں چلا آیا۔


       ،،زینب اگر تمھیں معظم نے کچھ سخت سست کہا ہو تو معاف کر دینا،وہ بڑے جذباتی ہیں لیکن دل کے بڑے صاف ہیں،کہو زینب کچھ تو کہو۔ ‘‘


       صبیحہ بڑے معصومانہ انداز میں اس کو سمجھا رہی تھی لیکن زینب کی آنکھوں سے مسلسل آنسو رواں تھے،وہ کچھ کہہ نہ سکی،جیسے اچانک اس کی قوتِ گویائی سلب ہو چکی ہو۔


       میں کمرے میں لیٹا ہوا زینب کی فطرت کے اس عجیب و غریب پہلو پر غور کر رہا تھا،جہاں میری تنقیدی نگاہیں جا جا کر واپس آ رہی تھیں،درمیان میں صبیحہ نے آ کر مجھ سے پوچھا۔


       ’’ معظم زینب آخر کیوں رو رہی ہے،اس کی آنکھوں سے جھر جھر بہنے والے آنسو میرے دل میں منجمد ہو گئے ہیں،آخر اس بے چاری نے تمھارا کیا بگاڑا ہے۔ ‘‘


       ’’کچھ میری بھی سنو گی یا اپنی ہی کہے جاؤ گی،میں نے اس سے کچھ نہیں کہا،رات کو سوتے میں وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے بیٹے کی آوارگی پر احتجاج کر رہی تھی،اس لیے میں نے ہمدردی سے اس سے پوچھا کہ وہ مجھ سے پچاس روپے لے سکتی ہے،میرا اتنا کہنا تھا کہ اس کا چہرہ اچانک زرد پڑ گیا اور وہ کمرے میں جا کر سسکیاں بھرنے لگی،بتاؤ یہ کوئی رونے کی بات ہے۔


       صبیحہ نے جب یہ عجیب و غریب داستان سنی تو وہ حیرت میں ڈوب گئی۔


       میں آج دن بھر گھر میں ہی پڑا رہا،شام کو ٹھیک پانچ بجے زینب چائے کی کشتی لیے میرے کمرے میں داخل ہوئی،اس کا چہرہ شاید رونے کے سبب سوج گیا تھا اور آنکھوں کے پپوٹے بھاری ہو گئے تھے،میں نے اس سے کچھ پوچھنا اس لیے بھی مناسب نہ سمجھا کہ وہ پھر کہیں رو نہ پڑے۔


       پھر ایک دن میں دریا گنج کے چوراہے پر ٹیکسی کا انتظار کر رہا تھا کہ مجھے سامنے سے جمیل آتا دکھائی دیا،اس کی حالت بڑی خستہ تھی،پینٹ جگہ جگہ سے بکس گیا تھا،جونہی اس کی نگاہیں مجھ سے چار ہوئیں وہ مسرت سے لبریز ہو کر مجھ سے لپٹ گیا،مجھے اس کی بے تکلفی کھل کر رہ گئی۔


       ’’ ابھی ابھی ڈرامے کی ریہرسل سے لوٹ رہا ہوں،آپ کو شاید یہ جان کر تعجب ہو گا کہ میں کپور صاحب کے ڈرامے ’’ ریت کی دیوار ‘‘ میں بہروپیے کا رول ادا کر رہا ہوں،یہ ڈرامہ آئندہ ماہ دلی کے کسی شاندار اسٹیج پر دکھلایا جائے گا،میں آپ کو ضرور لے چلوں گا۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی جیب سے کیپسٹن کی ڈبیہ نکالی جس میں صرف دو سگریٹ بچے تھے،سگریٹ کو ماچس سے جلاتے ہوئے اس نے مجھے بتایا کہ وہ گذشتہ ایک ہفتے سے گھر نہیں گیا ہے،پھر اس نے سگریٹ کا ایک بھرپور کش لیتے ہوئے کہا :


       ’’ ریت کی دیوار‘‘ اگر ہٹ جائے تو وہ ایک کامیاب اسٹیج اداکار کی حیثیت سے کافی مشہور ہو جائے گا۔ ‘‘


       ’’ میں نے اس سے کچھ نہیں کہا،میرے ذہن میں اس کی تصویر کے کئی رخ ابھر رہے تھے،اس نے چہرے پر ایک نقاب اوڑھ رکھی تھی،یہ سمجھ کر کہ اس کا احاطہ کوئی نہیں کر سکے گا،لیکن مجھے محسوس ہو رہا  تھا کہ جیسے اس کے چہرے کی یہ نقاب بہت جلد تار تار ہو جائے گی اور وہ برہنہ ہو کر رہ جائے گا۔


       ’’ کیا سوچ رہے ہیں آپ۔ ‘‘


       ’’کچھ بھی نہیں۔ ‘‘


       ’’کچھ تو۔ ‘


       ’’یہی کہ اب مجھے چلنا چاہیے۔ ‘‘


       ’’ کہاں۔ ‘‘


       ’’ جہاں مجھے کام ہے۔ ‘‘


       ’’ تو پھر خدا حافظ۔ ‘‘


       جب وہ آگے بڑھ گیا تو میں نے اسے پکارا،وہ رک گیا۔


       ’’ کیا تمھیں اپنی ماں سے محبت ہے۔ ‘‘


       ’’ ہر بیٹے کو اپنی ماں سے محبت ہوتی ہے۔ میری ماں تو بے چاری کب کی مر چکی،مگر اچانک یہ سوال آپ مجھ سے کیوں کر رہے ہیں۔ ‘‘


       ’’ یوں ہی۔ ‘‘


       ’’ تو اب جا سکتا ہوں۔ ‘‘


       ’’ شوق سے۔ ‘‘


       پھر وہ بازار کے ہنگاموں میں کہیں کھو گیا اور میں گھر پہنچا تو صبیحہ نے مجھے اطلاع دی کہ زینب دو دن کی چھٹی لے کر اپنے گھر گئی ہے۔


       تیسرے دن جب زینب گھر آئی تو وہ بڑی اداس اور مضمحل تھی،اس کی بڑی بڑی نڈھال آنکھیں پلکوں کے گہرے سائے میں ڈوب رہی تھیں،اس کے گالوں پر جگہ جگہ خراشیں تھیں جیسے کسی شریر بچے نے اسے نوچ ڈالا ہو،میں نے سوچا شاید وہ مالی اور ذہنی الجھنوں میں گرفتار ہو۔


       میں نے ایک بار پھر دل کڑا کر کے پوچھا۔ ’’ زینب تم مجھے غیر تو نہیں سمجھتی ہو۔ ‘‘ یہ کیا کہہ رہے ہو میاں تم تو میرے بچے کی طرح ہو۔ ‘‘


       ’’ اگر تم مجھے اپنے بچے کے برابر سمجھتی ہو تو یہ روپے رکھ لو۔ ‘‘ میں نے جیب سے پچاس روپیوں کا نوٹ نکالتے ہوئے کہا۔ ’’ اگر آج میں یہ پچاس روپے لے لوں تو کل پھر مجھے روپیوں کی ضرورت پڑے گی،اس لیے میں نہیں لینا چاہتی کہ یہ رقم میرے ہاتھ آئے،یہ میری زندگی کا بہت بڑا المیہ ہے جسے میں بیان کر کے رسوا ہونا نہیں چاہتی۔ ‘‘ اس کی آنکھوں کے گوشوں میں آنسوؤں کے قطرے اچانک نمودار ہوئے اور میں دل مسوس کر رہ گیا۔ ’’ تم اپنا دکھ درد مجھ سے کیوں چھپاتی ہو زینب ؟ شاید میں اس کا کوئی حل نکال سکوں گا ؟ ‘‘


       ’’میری زندگی کے خانے کچھ ایسے پر پیچ ہیں میاں کہ بسا اوقات میں خود ان بھول بھلیوں میں بھٹک جاتی ہوں،اس قصے کو گولی مارئیے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے اپنے کمرے میں چلی گئی اور میں پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔


       رات کے گیارہ بجے جب میں سونے کے خیال سے اپنے کمرے میں داخل ہوا تو اچانک کمرے سے زینب کے بڑبڑانے کی آواز آئی،جمیل آج تم نے اپنی ماں پر ہاتھ اٹھایا ہے،تم جہنمی ہو،پاپی ہو،ظالم ہو،پھر وہ ایک بھیانک چیخ مار کر اٹھ بیٹھی،باہر گزرتے جاڑے کی سرد ہوائیں سسکیاں بھر رہی تھیں،اس ٹھنڈی یخ بستہ فضا میں زینب کی چیخ کسی تیز چاقو کی طرح دل میں دھنستی ہوئی معلوم ہو رہی تھی،میں تیزی سے اس کے کمرے میں داخل ہوا،وہ اکڑوں بیٹھی رک رک کر سسکیاں بھر رہی تھی،اس کے جسم کا رواں رواں مد و جزر کی طرح کانپ رہا تھا،میں بغیر کچھ کہے وہاں سے لوٹ آیا۔ جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی میرا ذہنی سکون درہم برہم سا ہو گیا تھا،مجھے گمان گزر رہا تھا جیس جمیل ہی زینب کا بیٹا ہو،لیکن جمیل نے مجھے بتایا کہ اس کی ماں کبھی کی مر چکی ہے،ہو سکتا ہے اس نے مصلحتاً جھوٹ کہا ہو۔ صبح جب زینب ناشتہ لے کر میرے پاس آئی تو اس کے چہرے پر غم و اندوہ کے گہرے سائے تھے،وہ چپکے سے میرے سامنے ناشتہ رکھ کر چلی گئی،میں نے زینب کو آواز دی،وہ پلٹ کر واپس آئی۔


       ’’ زینب تمھارا گھر کہاں ہے۔ ‘‘


       ’’ میرا گھر   ‘‘ اُس نے ایک لمحہ رک کر تعجب سے کہا۔


       ’’ ہاں ہاں تمھارا گھر۔ ‘‘


       ،،قاضی حوض کے نکڑ پر جہاں سے ایک پتلی گلی شروع ہوتی ہے۔ ‘‘


       دوسرے دن میں نے زینب کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچ کر ایک ایسے مکان پر دستک دی جس کی دیواریں کمان کی طرح جھک گئی تھیں،دستک کی آواز کے ساتھ ایک نوجوان باہر نکل آیا،یہ جمیل تھا،ارے آپ ادھر کہاں چلے آئے۔


       تم ہی سے ملنے آیا تھا،تمھیں کسی وقت اچھے مکان کی ضرورت تھی نا وہ میں نے بڑی تلاش کے بعد حاصل کیا ہے،چل کر دیکھ لو،سامنے آٹو رکشا کھڑی تھی،میں نے ڈرائیور کو آواز دی،’’کہاں چلیے گا بابو جی ‘‘۔ ’’ لاجپت نگر۔ ‘‘


       رکشا تیز چل رہا تھا اور جمیل میرے بازو بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا،جب رکشا لاجپت نگر کے چوراہے پر پہنچا تو میں رکشا سے اتر کر جمیل کو ساتھ لیے اپنے گھر میں داخل ہوا،وہ میرے سجے سجائے مکان کو دیکھ کر مرعوب ہو رہا تھا،میں اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اندر آیا تو زینب صحن میں بیٹھی ہوئی سروطے سے سپاری کتر رہی تھی۔


       زینب میرا ایک دوست ڈرائنگ روم میں بیٹھا ہے،دو کپ چائے فوری تیار کر کے لے آنا،وہ سروطے کو ایک طرف رکھ کر باورچی خانہ کی طرف تیزی سے چلی گئی،تھوڑی دیر بعد جب وہ چائے کی کشتی تھامے ڈرائنگ روم داخل ہوئی تو اچانک جمیل کو دیکھ کر اس کے پاؤں لڑ کھڑا گئے،اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے چائے کی کشتی کو ٹیبل پر رکھا اور  دیکھتے ہی دیکھتے نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔


       جمیل کی حالت اس وقت دیدنی تھی،یوں لگتا تھا جیسے وہ لمحہ بہ لمحہ زرد پڑتا جا رہا ہے،وہ اچانک کرسی سے اٹھا اور مجھے خدا حافظ کہتے ہوئے تیزی سے باہر نکل گیا،میں نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا،وہ زینب کے ساتھ بڑی بڑی ڈگیں بھرتا ہوا راستہ طے کر رہا تھا۔


***