کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دیو داسی

عوض سعید


وہ کالے رنگ کی ایک بھدّی سی عورت تھی۔ عمر ہو گی یہی کوئی تیس پینتیس برس مگر وہ اپنی عمر سے کچھ کم ہی دکھائی دیتی تھی۔ اس کے چہرے کے خطوط میں کوئی قابلِ ذکر بات نہ تھی،نہ آنکھیں ہی ٹھیک تھیں اور نہ لب،لیکن عجیب بات یہ تھی کہ سب ہی اُس کے گھر آیا کرتے تھے۔ وہ باقاعدہ طور پر پیشہ کرنے والی عورت نہ تھی۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ وہ کسی ایک اچھے گھرانے کے آدمی کو ایک دو ماہ کے لیے پھانس لیتی۔ رات رات بھر رنگ رلیاں ہوتیں اور کسی دن صبح کی سفیدی کے ساتھ ہی گھر آیا ہوا گاہک غائب ہو جاتا۔


       اس کا مکان شہر کی ایک گنجان آبادی میں تھا جہاں اکثریت شرفا ئ کی تھی۔ اس کے مکان کے بالکل بغل میں ایک نو عمر طالب علم کا مکان تھا جس کا آخری  سہارا اس کی اپنی بوڑھی ماں تھی۔ اس سے ذرا پرے ایک بوڑھے وکیل کا مکان تھا جس نے وکالت چھوڑ کر کرانہ کی ایک دُکان کھول لی تھی۔ درمیان میں چند مڈل کلاس کے لوگ تھے جن کے مکانوں کی چھتیں بارش کے موسم میں ٹپکتی تھیں۔


       ظاہر ہے کہ جہاں شریف آدمی بستے ہوں وہاں رادھا بائی جیسی عورت کا کیا کام ہو سکتا تھا۔ چھ آٹھ ماہ تک تو کسی کے کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ فرحت نگر میں ایک ایسی عورت کا بھی ٹھکانہ ہے جو رات کی سیاہی میں اپنی عصمت کا بیوپار کرتی ہے۔ یہ بات کہاں تک پوشیدہ رہتی۔ آخر محلے کے چند شریف نوجوانوں نے اس کا پتہ چلا ہی لیا۔ جوں ہی یہ بات عام ہوئی محلے کی برگزیدہ ہستیوں نے رادھا بائی کے خلاف ایک محضر تیار کیا جس پر محلے کے سارے لوگوں نے خوشی خوشی اپنے  دستخط کیے لیکن سب لوگوں کا منہ اس وقت حیرت سے کھلا رہ گیا۔ جب انھوں نے دفعتاً ایک  منحنی جسم کے نوجوان کو اطمینان کے بھرپور لہجے میں انکار کرتے ہوئے سنا۔ یکبارگی سب لوگوں کی نگاہیں اس کے سانولے سلونے چہرے پر مرکوز ہو گئیں۔ وہ انیس بیس برس کا ایک دبلا پتلا سا نوجوان تھا۔ مجمع  میں سے کسی نے اسے پہچان کر کہا۔


       ’’ارے یہ تو اس کا پڑوسی ہے۔ ضرور کچھ دال میں کالا ہے جب ہی تو مہاشے دستخط کرنا نہیں چاہتے۔ ‘‘


       ’’ تمھیں اس محضر پر دستخط کرنا ہو گا۔ ’’ایک گٹھیلے بدن کے بدصورت آدمی نے آگے بڑھ کر رعب دار آواز میں کہا۔ لیکن اُس نے بغیر خوف کھائے پورے اطمینان کے ساتھ نفی میں سر ہلا دیا۔


       ’’دستخط نہیں کرو گے  ؟ ‘‘


       ایک ساتھ کئی بے ڈھنگی بے سُری آوازیں فضا میں ارتعاش پیدا کر گئیں۔


       ’’نہیں ‘‘ کی نرم و ملائم آواز نے جواباً فضا میں تھرتھراہٹ پیدا کر دی اور ’’نہیں ‘‘ کے ساتھ ہی کئی لوگوں کے ہاتھ اٹھے۔ دوسرے لمحے ہی میں وہ دبلا پتلا سا نوجوان شکست خوردہ حالت میں ادھ مواسا پڑا تھا۔ ہوش آنے پر جب اس نے اپنے گھر کی راہ لی تو اسے دیکھ کر اس کی ماں کا کلیجہ پھٹ گیا۔


       ’’ کیا ہوا میرے لال۔ کس ظالم نے تجھے مارا ہے۔ خدا اس کا ستیاناس کرے۔ ‘‘


       وہ کوسنے دیتی ہوئی دیر گئے تک بڑبڑاتی رہی اور اس نے جھوٹ موٹ بہانہ تراشتے ہوئے کہہ دیا کہ دراصل اسے کسی نے مارا وارا نہیں بلکہ وہ راستے میں ٹھوکر کھا کر گر پڑا تھا۔


       بڑھیا کے کوسنے سن کر رادھا بائی نے دروازے میں سے جھانک کر کہا۔ ’’کیا ہوا ماں جی، کیوں بسور رہی ہو۔ ‘‘


       ’’ ادھر آنا بٹیا رادھا۔ دیکھ تیرے مدن کی کیا حالت ہوئی ہے۔ ’’بڑھیا نے منہ بسورنے کے انداز میں کہا۔ وہ دوڑتی آئی،اس کے گالوں کو پیار سے تھپتھپایا،جہاں جہاں اس کے چوٹیں آئیں تھی اس پر آیوڈین کا پھاہا رکھا۔ وہ چپ چاپ کھڑا رہا۔ ذرا بھی اس نے آواز نہیں کی۔ حالانکہ اس وقت آیوڈین لگانے سے اسے بڑی تکلیف ہو رہی تھی،لیکن تھوڑی دیر بعد جب رادھا بائی کے نئے آئے ہوئے یار نے اسے آواز دی تو وہ کچھ جھینپتے ہوئے ’’آئی ‘‘کہتے ہوئے چلی گئی۔


       رادھا بائی کو بُڑھیا کے نوجوان بیٹے سے بڑا پیار تھا،ایسا ہی پیار جو ایک بچے کو اپنی ماں  کی محبت بھری آغوش سے ملتا ہے۔ گئے برس جب بوڑھیا نے اپنی تنگدستی سے مجبور ہو کر اُس کی تعلیم ترک کرا دی تھی تو رادھا بائی نے اپنی گرہ سے فیس دے کر اسے میٹرک میں دوبارہ شریک کروا دیا تھا۔


       جب بُڑھیا کے بیٹے کے ہاں تیل ختم ہو جاتا تو وہ چپکے سے اپنے شیشے سے آدھا کوکونٹ آئل اس کے خالی شیشے میں بھر آتی اور وہ رادھا بائی کے احسانوں کے تلے دب سا جاتا۔


       رادھا بائی کو کتنا خیال تھا اس کا۔ ایک فاحشہ عورت سے کوئی اس قسم کے سلوک کی امید کر سکتا ہے ؟ بالوں کے تیل سے تعلیم کی منزلوں تک اس نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے دل میں رادھا بائی کے لیے بڑا احترام تھا۔


       جب وہ اس سے بات کرتا تو اسے یوں محسوس ہوتا جیسے وہ کسی فاحشہ سے نہیں بلکہ کسی مقدس مقام کی پاکباز عورت سے ہم کلام ہو رہا ہے۔ اس کی آنکھوں کی ڈوروں میں بسی ہوئی چمکیلے کاجل کی لکیر اسے اور بھی مقدس بنا رہی ہوتی،لیکن کبھی کبھی اس کے دماغ کی چٹان سے سوچ کی ایک گہری لہر ٹکراتی ہوئی دور دور تک پھیل جاتی جہاں اس کے آوارہ خیالوں کے ننھے ننھے پتھر ریزہ ریزہ ہو کر فضا میں پھیل جاتے اور وہ سوچ کی ناہموار گہرائیوں میں پہنچ کر کسی ماہرِ فن غوطہ زن کی طرح پاتال میں چلا جاتا۔ وہاں اسے خوبصورت موتیوں کے بجائے چھوٹے چھوٹے کنکر ملتے جنھیں وہ جھنجھلاتا ہوا کنارے پر آ کر پھینک دیتا۔ اس طرح وہ رادھا بائی کی زندگی کے محل سرا کے بارے میں ذرا بھی سوچ نہ سکا اور ہر بار اس نے اپنے منہ پر ایک تالا سا پڑا پایا۔


       جب اس نے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک پاس کیا تھا تو رادھا بائی کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ اس نے غوثِ پاک کے نام پر محلے کے کئی فقیروں کو پیٹ بھر کھانا کھلایا تھا اور ایک شاندار نیاز کی تھی جسے دیکھ کر بہت سے لوگ جل اٹھے تھے اور اس وقت اس کی ماں کی آنکھوں کے  ویران گوشوں میں مسرت کے کئی آبدار موتی چمک سے گئے تھے اور اس کا قبر کی طرح تنگ مکان مہمانوں کی زیادتی سے پھٹ پڑا تھا،اور جب گزشتہ واقعات کے سائے اس کے دماغی افق پر دوڑنے لگے تو اس کا سر فرطِ احترام سے جھک گیا۔


       پھر ایک دن بُڑھیا نے بیٹھے ہی بیٹھے بڑے دلار سے کہا۔


       ’’بیٹا اب تم نے دسویں جماعت پاس کر لی ہے۔ کہیں نوکری ڈھونڈ کیوں نہیں لیتے۔ میرا کیا ہے،پیر قبر میں لٹک رہے ہیں،کون جانے کب آنکھ بند ہو جائے۔ پنشن کے تیس روپوں میں زندگی کی گاڑی چلنے سے تو رہی۔ بے چاری رادھا آخر کب تک ہمارا ساتھ دے سکے گی۔ جب تک جوانی ہے اسے کوئی فکر نہیں،لیکن بعد کو بے چاری کا کیا حال ہو گا۔ کبھی تم نے اس پر بھی غور کیا ہے۔ ‘‘


       جب بُڑھیا نے نصیحتوں کا یہ طومار باندھا تو اسے احساس ہوا کہ وہ واقعی ایک بے حس انسان ہے۔ آخر دوسروں کے رحم و کرم پر جینا کون سی مردانگی ہے۔ انسان کو دوسروں کے لیے نہ سہی اپنے لیے تو کچھ کرنا ہی چاہیے۔ وہ دل ہی دل میں شرمندگی سے بڑبڑا اُٹھا۔


       دو سال تیزی سے نکل گئے لیکن رادھا بائی کے سلوک میں ذرا بھی کمی نہ آئی اور بُڑھیا حسبِ عادت بڑبڑاتی رہی۔ ایک سال اور تیزی سے بیت گیا اور اس کے ساتھ ہی ایک دن بُڑھیا نے چپکے سے اپنی آنکھیں بند کر لیں،کسی کو کچھ خبر نہ ہوئی۔


       دوپہر سے گھر میں خاموشی طاری تھی۔ رادھا بائی نے اس خیال سے کہ وہ آج کئی دنوں بعد میٹھی نیند سو رہی ہے اسے جگایا بھی نہیں لیکن جب شام کے پانچ بج گئے تو رادھا بائی نے اپنے گھر کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے بُڑھیا کو پکارا۔ جواب نہ آنے پر وہ چونک سی گئی اور اندر آ کر اس نے بُڑھیا کے کمرے میں قدم رکھا تو اس کا جسم مارے خوف کے کانپ سا گیا۔


       بُڑھیا منہ کھولے بے سدھ سو رہی تھی  اور اس کے منہ پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ اس کے پیروں تلے کی زمین نکل گئی۔ کچھ سنبھل کر اس نے جلدی سے بُڑھیا کے چہرے کو ٹھیک کیا اور اس کے جسم پر اپنے پلنگ کی سفید چادر لا کر اڑھا دی۔


       آج خلافِ معمول اس کا بیٹا صبح ہی سے غائب تھا۔ رات کے دس بجے کے قریب جب وہ گھر لوٹا تو رادھا بائی نے کچھ اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد بڑے ہی درد ناک لہجے میں اس ٹریجڈی کو سنایا اور اسے پیار سے اپنے گلے لگا لیا۔ وہ چپکے سے اپنے گھر میں داخل ہوا۔ اس کے لب سرد پڑ گئے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ بھی نکل نہ سکا۔ وہ اتنا گم سم ہو گیا کہ اسے یاد تک نہ رہا کہ ابھی ابھی اس نے اپنی ماں کی موت کی خبر سنی ہے۔ رادھا بائی نے جلدی سے اٹیچی کھول کر دیکھا اس میں سو سو کے دو نوٹ تھے۔ اس نے اطمینان کی ایک بھرپور سانس لی  اور بُڑھیا کے کریا کرم کا انتظام اپنے سر لے لیا۔ شمشان گھاٹ پر رات کی تاریکی میں تین انسانی سائے تھرتھرا رہے تھے۔ ایک سایہ بُڑھیا کے بیٹے کا تھا،ایک رادھا بائی کا اور ایک اجنبی کا۔


       بُڑھیا کی موت کے بعد وہ بہت کم خوش سا رہنے لگا تھا۔ اس کے لبوں پر ہنسی کے شاداب پھول پھر کبھی کھل نہ سکے تھے۔ وہ گھنٹوں گھر میں پڑا رہتا تھا۔ ایک وقت کھا لیا تو دوسرے وقت کی فکر نہیں۔ بُڑھیا تو نیلگوں آسمان کی اوٹ میں چھپی تھی لیکن اس کی موت نے اس کے بیٹے کے دل پر ایک بھاری کیل ٹھونک دی تھی جس کی تکلیف نے اسے کہیں کا نہ رکھا تھا۔ اس کے خشک سینے سے آٹھوں پہر ٹھنڈی آہیں نکلتیں اور آنکھوں سے گرم گرم جلتے ہوئے آنسو۔


       جب بُڑھیا زندہ تھی تو وہ کسی نہ کسی طرح گرتے پڑتے کچھ نہ کچھ پکا ہی لیا کرتی تھی اور  اتفاق سے مزاج کبھی ناساز ہو بھی جاتا تو اس کے لیے رادھا بائی کا گھر تو تھا ہی،لیکن اب بُڑھیا کی موت نے گھرکا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔ رادھا بائی کا کاروبار بھی تیزی سے مندی کی طرف جا رہا تھا۔ ایک نیا گاہک جسے حال ہی میں اس نے پھانسا تھا وہ گزشتہ ہفتے اپنے وطن چلا گیا تھا۔


       ان تمام باتوں کے باوجود رادھا بائی نے اس کے کھانے پینے کا انتظام اپنے پاس ہی کر دیا تھا۔ پھر جیسے اس کی رگِ حمیت اچانک جاگ اٹھی ہو،اس نے نوکری کی تلاش شروع کر دی۔ اسے اتفاق کہیے کہ تھوڑی سی دوڑ دھوپ کے بعد ہی اسے شہر کی ایک خانگی فرم میں ملازمت مل گئی۔ ۸۰  روپے ایک آدمی کے لیے کافی تھے۔ پہلی تنخواہ ملی تو اس نے اپنی تنخواہ کے سارے روپے رادھا بائی کے ہاتھ میں لا کر رکھ دیے۔ وہ اصرار کرتا رہا لیکن رادھا بائی نے ان پیسوں کو ہاتھ نہ لگایا۔ اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں اور پلکوں پر آنسو تھرا رہے تھے۔


       ’’ کیا میں نے تمھیں کھانا کسی لالچ کے تحت کھلایا تھا۔ میں اتنی گئی گزری ہوں کہ تم سے کھانے کے پیسوں کا مطالبہ کروں۔ تم نے میرے متعلق ایسا کیوں سوچا ہے بولو۔ ‘‘


       اس کی آنکھوں سے آنسوں کے چند موٹے موٹے قطرے گر کر زمین کی خشکی میں جذب ہو گئے۔


       ’’تم ان روپوں سے اپنے لیے نئے کپڑے سلوا لینا۔ میرا ہاتھ آج کل تنگ ہے ورنہ میں اس میں مزید روپے شامل کر دیتی۔ تم کتنے عجیب لڑکے ہو۔ فیشن کا تو تمھیں ذرا بھی خیال نہیں۔ نہ بال ہی ٹھیک سے سنوارتے ہو اور نہ پومیڈ ہی لگاتے ہو۔ جوان  بچے ایسے نہیں ہوا کرتے۔ آج کل کے بوڑھے بھی فیشن کرتے ہیں۔ پھر تمھیں جلد ہی شادی بھی کرنی ہو گی۔ ‘‘


       رادھا بائی کے چلے جانے کے بعد اس کی باتوں کی گرہیں اس کے دماغ کی تہوں پر آ کر کھلتی گئیں اور اس کے دل میں حرارت کے تیز فانوس جل اٹھے۔ وہ آہستگی سے اٹھتا ہوا بغل والے کمرے میں آیا جہاں طاق پر ایک ننھا سا شیشہ چمک رہا تھا۔ اس نے شیشے میں اپنے چہرے کو دیکھا۔ واقعی اس کے بال ٹھیک سے جمے ہوئے نہیں تھے اور چہرے پر گرد کی تہیں جمی ہوئی تھیں۔ وہ آج کل کے نوجوانوں سے کتنا مختلف تھا۔ نہ دوست،نہ احباب، نہ ہنسی،نہ مذاق۔ رادھا بائی نے سچ ہی کہا تھا آج کل کے بوڑھے بھی تو ڈریسنگ پر جان دیتے ہیں۔ خوبصورت لباس پہنتے ہیں،چہرے پر اسنو ملتے ہیں،اور اس کی عمر ہی کیا تھی یہی انیس بیس برس۔ اس کے دماغ میں خیالات کی ایک فوج سی گھس آئی اور وہ بوجھل دماغ کو لیے یک لخت گھر سے نکل پڑا۔


       شام ہو گئی تھی۔ بڑے بازار کی چوڑی چکلی سڑکوں پر لوگوں کا ایک جال سا بچھ گیا تھا۔ گرین  ریسٹورنٹ کے سائن بورڈ پر کئی ننھے ننھے خوبصورت بلب جگمگ جگمگ کر رہے تھے۔ چند اینگلو انڈین لڑکیاں اٹھلاتی ہوئی ہاتھ میں مور کا چھوٹا سا خوبصورت پنکھا لیے سڑک سے گزر رہی تھیں۔ سڑک کے کنارے دو امریکی نوجوان کیمرہ تانے فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے لاغر و نحیف بھکاریوں کی تصویریں لے رہے تھے اور ان گنت لوگ اُن کے درمیان حلقہ بنائے کھڑے تھے۔ وہ اپنی دھن میں مست بغیر کسی طرف دھیان دئیے آگے بڑھ گیا۔


       جب وہ رات گئے گھر لوٹا تو اس نے ایک نوجوان کو رادھا بائی کے گھر میں دبے پاؤں داخل ہوتے دیکھا۔ عموماً جب رادھا بائی کے ہاں کوئی نیا گاہک آ جاتا تو مصلحتاً وہ اس کے گھر جانے  سے گریز کرتا تھا۔ ابھی وہ بستر پر لیٹا ہی تھا کہ اس کے کانوں میں رادھا بائی کی ہنسی کی کھنک اور نوجوان کی کھسر پھسر کی پھوار سی آ پڑی۔  اس کا دل کسی غیر شعوری جذبے کے تحت دھک دھک کرنے لگا۔ اس کا دل بے اختیار چاہا کہ ان دونوں کی مکمل باتیں سنے۔


       اس خیال نے اسے شہ دی اور وہ جھٹ بستر سے اٹھ کر آنگن میں آیا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے کمرے میں رکھی پرانی کرسی نکالی اور رادھا بائی کی دیوار کے قریب لا کر کھڑی کر دی اور اس پر چڑھ کر دونوں کی باتیں سننے لگا۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا۔


       رات کے بارہ بج چکے تھے۔ فضا کے ذرے ذرے میں اندھیرا گھل گیا تھا۔ اس نے دیوار سے ذرا اور قریب اپنی کرسی کھسکا لی لیکن اس کی سمجھ میں ایک بات بھی نہ آئی۔ وہ تھوڑی دیر کرسی پر یوں ہی کھڑا رہا۔ پھر جھنجھلا کر وہاں سے کرسی ہٹا لی۔ جب اس نے بستر پر آ کر دوبارہ سونے کی کوشش کی تو اس کا دل طوفانی سمندر کی طرح کانپ رہا تھا۔


       تھوڑی دیر بعد اس کے ذہن سے کثیف خیالات کے بادل چھٹ گئے تو اسے اپنی کمینگی کا احساس ہوا۔ رات کے اندھیرے میں کسی کی پوشیدہ باتیں سننے کے لیے دیوار سے کان لگائے کھڑے ہونے سے زیادہ اور کوئی اخلاقی گناہ ہو سکتا ہے ؟  اس نے دل ہی دل میں شرمندگی محسوس کی۔ رادھا بائی نے اس پر کتنے احسانات کیے تھے۔ اس کی بے لوث محبت اس کے شاملِ حال نہ ہوتی تو وہ کب کا  مر چکا ہوتا۔


       رادھا بائی نے کبھی اُسے اپنے گاہکوں کی زندگی کے بارے میں نہیں بتایا تھا کہ وہ کون ہیں،کیا کرتے ہیں۔ جب تک بُڑھیا زندہ تھی رادھا بھائی ہنسی ہنسی میں اپنے سارے راز اس سے کہہ دیا کرتی تھی۔


       صبح کو رادھا بائی نے اپنے تازہ آئے ہوئے گاہک کو ناشتہ کروا کر رخصت کیا۔ ۔ ۔ رادھا کے ہاں پہلی رات گزارنے والے کے لیے یہ مشکل تھا کہ وہ دوسری رات نہ گزارے۔ رادھا بائی کا یہ خاصہ تھا کہ جب کوئی نیا گاہک اس کے ہاں رات گزار تا وہ اسے خوش کرنے کے لیے صبح اٹھتے ہی  نہا دھو کر کچن روم میں چلی جاتی اور اس کے لیے عمدہ سا ناشتہ بنا لاتی۔ یہی وجہ تھی کہ آئے ہوئے گاہک مشکل ہی سے رخصت ہو پاتے۔


       صبح اس نوجوان کو رخصت کرنے کے بعد وہ بُڑھیا کے بیٹے مدن کے ہاں آئی۔ اس کے ہاتھ میں کھانے کی کشتی تھی۔ ایک چھوٹے سے کانچ کے خوبصورت کٹورے میں قیمہ تھا اور کانچ کی پھولوں والی رکابی میں کھچڑی تھی۔


       ’’ ذرا دیر ہو گئی ہے۔ کوئی خیال نہ کرنا۔ موا جلدی جانے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ ‘‘


       رادھا بائی نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہا اور کھانے کی کشتی اس کے سامنے رکھ کر چلی گئی۔ ۔ ۔ اس کے چلے جانے کے بعد مدن نے کھانے کے لیے ہاتھ اٹھایا تو اسے یوں لگا جیسے کھانا نہیں زہر ہے اور وہ مدت سے اس زہر کو امرت سمجھ کر پی رہا تھا۔ اس کی مدت سے سوئی ہوئی غیرت نے یکبارگی کروٹ لی۔ یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ کوئی رات کے اندھیرے میں اپنی عصمت کی سجی سجائی دُکان کو نیلام کرے اور وہ صبح میں بڑی شان سے آئے ہوئے نوٹوں کا حصے دار بن جائے۔ اس کا دل چاہا کہ فوری رادھا بائی سے بات چیت بند کر دے لیکن جب اس کی نگاہ طاق میں رکھے ہوئے کوکونٹ آئل کے شیشے پر گئی تو اس کا سر احسانوں کے بوجھ تلے جھک گیا۔


       روز رات گئے اسے رادھا بائی کی کھنکتی ہوئی ہنسی کی جھانجھنیں سنائی دیتیں اور اس کے دل کے صاف و شفاف آئینے پر گھنگھرو سے بج اٹھتے۔ جیسے وہ کانٹوں کی سیج ہے جس پر وہ مجبوراً کروٹیں لینے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔


       جب صبح کی پہلی نرم و نازک کرن اس کے کمرے کی کھڑکی کے قریب سرگوشیاں کرتی تو وہ آہستہ آہستہ خواب کی حسین وادی کے پرے جھانکتا اور اسے محسوس ہوتا جیسے اس کی بوجھل آنکھوں پر کئی ڈرا نے خواب کے ٹکڑے آ پڑے ہوں۔


       وہ رات کو روز نیند میں بڑبڑاتا۔ ’’ رادھا بائی تم مجھے چھوڑ دو۔ میں ایک شریف نوجوان ہوں۔ ۔ ۔ میں تباہ ہو جاں گا۔ ۔ ۔ میں برباد ہو جاں گا۔ ۔ ۔ آخر میں نے تمھارا کیا بگاڑا ہے بولو۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘


       اس کے بڑبڑانے،چیخنے کی آواز کے ساتھ ہی رادھا کی ہنسی رک سی جاتی اور اس کے چہرے کے خطوط پر گھبراہٹ کی لہر سی دوڑ جاتی اور اس کا تازہ پھنسا ہوا گاہک تھوڑی دیر کے لیے خلاؤں میں گھورنے لگتا اور وہ چپکے سے اُٹھ کر دروازے میں کھڑی ہوئی اس کی آواز سننے کی کوشش میں ڈوب سی جاتی۔


       جب سرد ہوا کی بے لگام لہر زور سے سیٹی بجاتی ہوئی اس کے جسم میں سرسراہٹ پیدا کرتی تو وہ مجبوراً اپنے کمرے میں چلی جاتی جہاں اس کا  یار بیتابی سے اس کا انتظار کر رہا ہوتا۔


       صبح جب وہ ناشتے کی کشتی اس کے سامنے رکھتے ہوئے اس کا حال پوچھتی تو وہ حیرت سے اس کی باتیں سنتا جیسے اس نے خواب ہی دیکھا ہو۔ پھر گزشتہ رات کے واقعات اس کے ذہن کی کھڑکی سے دبے دبے جھانکتے اور انھیں یکجا کرتا تو اسے موہوم طور پر محسوس ہوتا جیسے اس نے رات جاگتے میں گزاری ہے۔


       جب اس نے شیشے میں اپنے چہرے کا جائزہ لیا تو اس کا دل دھک سا ہو کر رہ گیا۔ وہ خاصا دبلا ہو گیا تھا۔ وہ نیند میں ڈوبی ہوئی آنکھوں کو ملتا ہوا آنگن میں آ بیٹھا جہاں دھوپ کی گرم گرم شعاعیں زمین پر پڑ رہی تھیں۔


       ابھی وہ دھوپ میں نہا ہی رہا تھا کہ اس کے کانوں نے ایک زوردار طمانچے کی آواز سنی اور پھر یکایک موٹی موٹی گالیوں کے ساتھ ایک شور سا بلند ہوا۔ آج خلافِ معمول وہ اپنے یار کی شان میں مغلظات بک رہی تھی  اور جواباً اس کے یار نے چپ سادھ لی تھی۔ اسے آنگن میں بیٹھے بیٹھے یوں لگا جیسے رادھا بائی نے اسے طمانچہ مارا ہو۔


       دن رینگتا ہوا ڈھل گیا۔ جب رات آئی تو اسے کافی بخار چڑھ گیا۔ وہ بڑی دیر تک کراہتا رہا۔ پھر اس نے رادھا کو آواز دینے کی کوشش کی لیکن اس کی کمزور آواز رادھا بائی کی دیوار پھاند نہ سکی۔


       وہ ایک سائے کی طرح کانپتا ہوا بستر سے اٹھا۔ رادھا بائی کے دروازے کی زنجیر ہلائی۔ لیکن جب کوئی جواب نہ آیا تو وہ مایوس ہو کر آہستہ آہستہ قدم ڈالتا ہوا بستر پر آ کر لڑھک گیا۔ رات کی تاریکی میں اس کے بڑبڑانے کی کرب انگیز آواز فضا کو سوگوار بنا رہی تھی۔


       دوسرے دن صبح ہی صبح رادھا بائی کے گھر سے اس کے اشنان کرنے کی آواز آ رہی تھی۔ وہ مسلسل مقدس منتر پڑھتی جا رہی تھی۔ جب وہ نہا چکی تو اس کے گھر آئی۔ اُسے بستر پر نڈھال سا دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔


       ’’آج میں کاشی جا رہی ہوں۔ اب میں یہاں رہنا نہیں چاہتی۔ ‘‘ وہ بولی۔


       اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے اور وہ بستر پر پڑے پڑے ایک بے جان بت کی طرح رادھا بائی کے چہرے کو گھور رہا تھا۔


       جب رادھا بائی نے اس کے گالوں کو محبت سے تھپتھپایا تو  اسے یوں لگا جیسے وہ آج کاشی نہیں جا رہی ہے بلکہ وہ خود اس کی ذات کو الانگتا پھلانگتا تیزی سے کاشی کی طرف بھاگا جا رہا ہے۔


***