کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کفاّرہ

عوض سعید


اتفاق کی بات ہے کہ میری دوستی اس عجیب و غریب آدمی سے ہو گئی جس کا نام ارل ای ٹرومن تھا۔


       اس کے کردار کی بو قلمونی کے بارے میں،میں آگے چل کر بتاں گا لیکن اس مثلث نما نام سے آپ نے یقیناً اپنے ذہن میں اندازہ لگا لیا ہو گا کہ وہ کرسچین کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر اس قسم کا کوئی اندازہ آپ نے قائم کر لیا  ہے تو میں اس کے بارے میں آپ کو بہت سی باتیں بتا سکوں گا۔


       سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ حیدرآباد کے عام کرسچینوں کی طرح بد شکل نہ تھا۔ اونچا پورا قد، بڑی بڑی کالی مونچھیں جو ہر وقت اس کے ہونٹوں کو ڈھانپے رہتیں۔ ناک لمبی،آنکھیں  جھیل کی طرح گہری اور حسین۔ یہ ناممکن تھا کہ کوئی اس کی حد درجہ خوبصورت آنکھوں کو دیکھ کر اسے فراموش کر جائے۔


       اس کی صورت شکل،چال ڈھال،بات کرنے کا انداز اور ہنسی عام آدمیوں سے بالکل جدا تھی۔ اگر اسے کئی آدمیوں  کے درمیان بھی کھڑا کر دیا جائے تو اس کی بڑی بڑی مونچھیں اور اس کی مخصوص مسکراہٹ کو دیکھ کر آپ دور ہی سے کہہ دیں گے یہ ٹرومن ہے جو اپنی کمیونٹی میں سب سے اونچا ہے۔


       ایک دفعہ کسی کام کے سلسلے میں مجھے بنجارہ ہلز جانے کا اتفاق ہوا۔ بنجارہ ہلز حیدرآباد کے ان اونچے مقامات میں سے ہے جہاں امرا،روسا اور حکومت کے اعلیٰ عہدے دار بستے ہیں۔ چلتے چلتے میری نگاہ پانی کی ٹانکی کے قریب ایک خوبصورت بنگلے پر پڑی جہاں بڑی  مونچھوں والا ایک اونچے قد کا نوجوان اینگلو انڈین لڑکی سے بے تکلف  انداز میں باتیں کر رہا تھا۔ سامنے موٹر کھڑی تھی اور وہ خوبصورت دوشیزہ کے ہاتھ میں ہاتھ دئیے موٹر کے قریب آ رہا تھا۔


       مجھے ان دونوں کی محبت بڑی خوبصورت معلوم ہوئی،جی چاہا کہ ان دونوں کو دیکھتا رہوں۔ میں سوچنے لگا۔ بنجارہ ہلز کتنا حسین مقام ہے۔ میں جب گھر واپس آیا تو رہ رہ کر میری آنکھوں میں ان دونوں کی تصویر تھرکنے لگی۔


       ایک خوشگوار شام کو کسی نے میرے دروازے کی زنجیر کھٹکھٹائی۔ میں باہر نکل آیا تو وہاں کسی کا سایہ بھی نہ تھا،لیکن زنجیر بدستور ہل رہی تھی۔ دو قدم آگے بڑھ کر میں نے سامنے والی گلی میں جھانکا۔ ایک اونچے قد کا نوجوان گلی میں کھڑے کھڑے پیشاب کر رہا تھا۔ میں نے سوچا کہیں اس مردود نے تو دروازہ نہیں کھٹکھٹایا، لیکن میرا خیال غلط ثابت ہوا۔ وہ سامنے کی گلی میں رہنے والے باورچی سے ملنے آیا تھا۔


       پھر جب میری تعیناتی ریلوے اسٹیشن پر ہوئی تو وہاں مجھے اسے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس نے چند ہی دنوں میں مجھ سے کچھ اتنی مضبوط دوستی کر لی کہ اس کے عیب بھی ہنر معلوم ہونے لگے۔ ہو سکتا ہے اس میں میرے اپنے کردار کی کمزوری کا بھی کچھ دخل ہو۔ اب یہی دیکھیے نا کل ایک  بُڑھیا ہاتھ میں درخواست تھامے اس سے مدد مانگنے آئی تھی۔ میرے سامنے ہی کی بات ہے،اس نے بُڑھیا کے ہاتھ سے درخواست لے لی اور کہا کہ بس کل صبح آ کر کچھ روپے لے جانا۔ بُڑھیا کی ویران  آنکھوں میں پیسوں کے حسین تصور نے جگنو کی سی چمک پیدا کر دی اور وہ مسرت کی فضا میں اڑتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔


       دوسرے دن جب وہ آفس آئی تو ٹرومن نے اپنے لانگ کوٹ کی جیب سے اسے دس دس کے دو نوٹ نکال کر دیے اور وہ گومگو کی حالت میں کھڑی سوچتی رہی کہ وہ کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہی ہے۔ وہ بیس روپے پا کر یوں گم سم ہو گئی جیسے اس نے زندگی میں پیسے کی صورت دیکھی ہی  نہ ہو۔


       ’’جا مائی اب کام کرنے بھی دے۔ آگے جا کر تو ٹھوکر ضرور کھائے گی،غریبوں کی مدد کرنا بھی ایک عذاب ہے۔ ‘‘


       جب وہ چلی گئی تو میں نے اس سے پوچھا۔ ’’بیس روپے تم نے بُڑھیا کو دے کر کوئی بری حرکت تو نہیں کی ہے،تاہم دوچار سے بھی تو کام چل سکتا تھا۔ ‘‘


       ’’ بیس روپے میں نے نہیں بُڑھیا نے مجھے دیے ہیں۔ ‘‘


       ’’ کیا مطلب۔ ‘‘


       ’’ مطلب تم سمجھ کر بھی کیا کرو گے۔ ‘‘


       دوسرے دن چپراسی نے مجھے بتایا کہ صاحب نے کس مشکل سے اسٹیشن پر کھڑے ہو کر لوگوں سے چالیس روپے فراہم کیے تھے۔


       اُس کی تنخواہ کوئی زیادہ نہ تھی،ہو گی کوئی تین سو کے قریب لیکن تھا وہ بڑے کھلے ہاتھ کا۔ صبح وہ ہمیشہ مرغِ مسلم کھانے کا عادی تھا۔ سردی ہو یا گرمی لیکن وہ مرغ کھائے گا ضرور۔ اگر اتفاق سے روپے کم ہوں تو وہ اس کی تلافی دم کے کباب سے کرتا  تھا۔ بے ڈھنگے خدوخال والا ایک نوجوان جو اسٹیشن سے قریب ایک خانگی فرم میں ملازم تھا دوپہر کا کھانا ٹرومن کے ساتھ کھایا کرتا تھا۔ وہ کھانے پر ایسا ٹوٹ پڑتا جیسے اس کے بعد کھانے کی نوبت ہی نہ آئے گی۔ میں نے ایک دن ٹرومن سے کہا ’’یہ کم بخت تمھارا یار مجھے ان کلچرڈ معلوم ہوتا ہے۔ مجھے تو اس کے ساتھ کھاتے ہوئے بھی گھن محسوس ہوتی ہے۔ اس نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ اس کی یہ خاموشی میرے ذہن پر گراں گزری۔ رفتہ رفتہ میں نے محسوس کیا کہ وہ اپنے پسندیدہ ساتھیوں کے بارے میں شکایتیں سننے کا عادی نہیں۔


       حسبِ معمول دوسرے دن جب میں آفس آیا تو عجیب طرح کی افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ لوگوں کا ایک جمگھٹا تھا۔ اسٹیشن کے حمال ٹکڑیوں کی شکل میں بیٹھے آپس میں کھسرپھسر کر رہے تھے۔ چند ایک غصے میں شاید مغلظات بھی بک رہے تھے۔ ٹرومن غائب تھا۔ پھر کسی نے مجھے اطلاع دی کہ ٹرومن نے چودھری کا سر پھاڑ دیا۔ پہلے معمولی سی تکرار ہوئی پھر اس نے تا  میں آ کر کانچ کا گلاس چودھری کے سر پر دے مارا۔


       آج ’’دھکا‘‘ پر  ویرانی برس رہی تھی۔ تھیلوں سے لدی ہوئی کئی لاریاں قطار اندر قطار کھڑی تھیں اور ان کے ڈرائیور سامنے نیم کے درخت کے نیچے بیٹھے اس کی شکایت کر رہے تھے۔ ان میں ناٹے  قد کا ایک معمر ڈرائیور ٹرومن کی تائید میں ان سے جھگڑ رہا تھا۔ وہ ایک تھا اور یہ سب لیکن اس نے سب ہی کے چراغ گل کر دئیے تھے۔ اس دوران ایک خوبصورت کار آہستہ سے آ کر رکی۔ کار سے تین افراد باہر آئے۔ پہلے چودھری نے دروازہ کھولا جس کے سر پر پٹی بندھی تھی اور ان پر خون کے دھبے نمایاں تھے،دوسرا ایک موٹا سا پولیس انسپکٹر تھا جس کے ہونٹوں میں پائپ تھا، آخر میں ٹرومن اطمینان سے نیچے آیا۔


       سارے حمال اور چوکیدار جب جمع ہو گئے تو انسپکٹر نے بوڑھے چودھری سے کہا۔ ’’چلو یہاں آ کر ٹرومن صاحب سے معافی مانگ لو۔ ‘‘ بوڑھا چودھری آگے بڑھا اور جب چودھری نے ٹرومن سے معافی مانگی تو بیش تر حمالوں کے چہرے  یکایک اتر گئے۔ بعضوں نے دبی زبان میں چودھری کی بزدلی پر حملے بھی کیے اور بعض خوش بھی تھے چونکہ اگر چودھری نے معذرت نہ چاہی ہوتی تو ان کے چولھوں میں ایندھن کون ڈالتا۔


       انسپکٹر کی کار جوں ہی بڑھی ’’ دھکا ‘‘ مشین کی طرح چلنے لگا اور حمالوں کا بے ڈھنگا سا کورس سنائی دینے لگا۔ ’’ہمت والا ہائی سو۔ ‘‘


       میں اپنی سیٹ پر بیٹھا کریڈٹ نوٹ لکھ رہا تھا۔ ٹرومن اندر داخل ہوا۔ اس نے آتے ہی کرسی پر پاؤں پھیلا دئیے۔ وہ یونہی چپ چاپ بیٹھا رہا اس امید پر کہ میں اس سے جھگڑے کے بارے میں کچھ پوچھوں گا،لیکن میں نے اس سے کچھ بھی دریافت نہیں کیا۔


       ’’تمھیں کچھ پتہ بھی ہے ابھی ابھی کیا ہوا تھا ؟ ‘‘


       ’’ ہاں۔ ‘‘ میں نے دھیرے سے جواب دیا۔


       ’’لیکن تم نے بوڑھے چودھری کو مار کر جس قسم کی بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس سے میں بہت خوش ہوں۔ ‘‘


       ’’ ہوں۔ ‘‘ اس نے طنز سے یوں کہا جیسے میں تمھاری بات کا مطلب سمجھتا ہوں۔ لنچ میں اس نے مجھے بلوایا لیکن میں مصروفیت کی وجہ سے جا نہ سکا۔ شام کو اس نے مجھے کھری کھری سنا دی۔ ’’اسٹیشن پر تمھیں رہنا ہے تو مجھ سے مل کر رہنا ہو گا۔ یوں بھی مجھ سے تمھارے بغیر کھایا نہیں جاتا۔ ‘‘


       وہ باتیں کر ہی رہا تھا کہ ایک چمکیلی وین ایک دھچکے کے ساتھ آفس کے قریب آ کر رُکی۔ ایک گورے رنگ کا خوبرو نوجوان جو آسمانی رنگ کا جرکین پہنے ہوئے تھا وین سے اتر کر  ہماری طرف آیا۔


       ’’ہیلو ٹرومن۔ ‘‘


       ’’ ہیلو منو۔ ‘‘


       گورے رنگ کے خوبرو نوجوان نے جس کا نام منو تھا،میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔


       ’’ آپ کی تعریف۔ ‘‘


       ’’ یہ میرے عزیز ترین دوست کوکب۔ ‘‘


       ’’ مجھے آصف کہتے ہیں۔ ٹرومن کی نظروں میں،میں ابھی تک منو ہی ہوں۔ ‘‘


       اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ ’’ ہاں اگر اجازت دیں تو میں آج ٹرومن کو اپنے ساتھ لے جا ں۔ ‘‘


       ’’شوق سے لے جائیے۔ ‘‘


       اور پھر دونوں کار میں بیٹھ کر چلے گئے۔


       دوسرے دن ٹرومن آفس نہیں آیا۔ جب بارہ بج گئے تو اس کے آنے کی رہی سہی امید بھی جاتی رہی۔ میں نے اس کے گھر چپراسی کو بھی بھیجا لیکن وہ گھر پر نہیں تھا۔ اس روز اسٹیشن کے ویگنوں کو چیک کرتے کرتے تھک کر جب میں کرسی پر آ بیٹھا تو مجھے بڑی شدت سے اس کا احساس ہوا کہ یہ کام میرے بس کا نہیں۔


       مجھے یوں بھی اس کا اندازہ پہلے ہی سے تھا لیکن ٹرانسپورٹ کنٹریکٹر کے بے جا شور نے مجھے اور بھی پریشان کر دیا تھا۔ دھڑا دھڑ لاریاں آتی رہیں۔ کئی ٹیلی کلرک ٹین شیڈ کے نیچے کھڑے (Transit Slip)  دیکھ کر گیہوں کے تھیلے چیک کرتے رہے،لیکن ان پر کنٹرول کرنے والا آج موجود نہ تھا۔ سارا اسٹاف شام ڈھلنے تک کام کرتا رہا۔


اگلے دن ہفتے سے پہلے ٹرومن آفس میں بیٹھا فورٹ نائٹلی چارٹ بنا رہا تھا۔ اس کے منہ میں ریڈ اینڈ وہائٹ سگریٹ تھی اور وہ ایک کش کے ساتھ رجسٹر میں فیگر لکھتا جا رہا تھا۔ میری آہٹ پاتے ہی  اس نے سر اونچا کر کے دیکھا۔


       ’’ ارے کوکب تم آ گئے۔ میں چند دن آرام کرنا چاہتا ہوں،تم وعدہ کرو کہ یہ کام سنبھال لو گے۔ میں طویل لیو  لینا چاہتا ہوں ڈیر۔ ‘‘


       میں نے صاف انکار کر دیا اور بڑی بھلمنساہٹ کے ساتھ سمجھایا۔ ’’پیارے یہ بندر تمھاری ڈگڈگی سے ہی ناچے گا۔ اب اگر تم یہ چاہتے ہوں کہ میں یہاں سے کہیں دور چلا جاں تو تم بخوشی رخصت لے سکتے ہو۔ ویسے بھی تمھیں علم ہے کہ اس ڈپارٹمنٹ سے کچھ بیزار سا ہی ہوں۔ ‘‘


       ’’ اچھا بابا میں رخصت نہیں لوں گا۔ بس،لیکن آج پکچر تو دکھا رہے ہو نا۔ ‘‘


       میں نے حامی بھر لی لیکن وہ بجائے پکچر چلنے کے مجھے بار گھسیٹ لے گیا جہاں اس نے ہیورڈ وہسکی کے چھ پیگ پیے اور میں ومٹو  پی کر اس کا منہ تکتا رہا۔ اس نے مجھے پینے کے لیے کبھی مجبور نہ کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ میں شراب نہیں پیتا۔ بل بھی اسی نے ادا کیا۔ ہم دونوں بار سے اٹھنے ہی والے تھے کہ اس کے ایک دوست نے اس کی جیب سے بیس روپے نکالے لیکن ٹرومن احتجاج کرنے کے بجائے بچوں کی طرح معصومانہ انداز میں مسکرا تا رہا۔


       بات دراصل یہ تھی کہ وہ دوستوں پر اپنی متاعِ عزیز تک لٹانے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ اس نے کئی دوستوں کی بگڑی زندگی کو سنبھالا دیا تھا۔ بہت سے ایسے دوست  تھے جنھوں نے اس کے اصراف سے خوب خوب فائدہ اٹھایا تھا۔ گویا ٹرومن سونے کی کان تھا جس پر بیٹھے اس کے دوست آہستہ آہستہ سرنگ لگا رہے تھے۔ مجھے دھماکوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی لیکن وہ اس سے غافل تھا۔


       وہ پینے کا بہت عادی ہو گیا تھا۔ کبھی کبھار سوبر حالت میں دکھائی دیتا  تو مجھے بڑی حیرت ہوتی تھی اور یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ اب وہ دن میں ڈیوٹی کے دوران بھی پینے لگا تھا۔


       ایک دن وہ پریشان سا میرے گھر آیا اور مجھ سے پانچ سو روپے ادھار مانگے،بہت گڑگڑایا،جلد لوٹانے کی قسمیں کھائیں لیکن پانچ سو روپے تو بڑی بات ہے میں سو روپے بھی اسے نہ دے سکا۔ میں نے اسے مغموم دیکھ کر پوچھا۔ ’’ آخر کیا مصیبت آئی ہے مجھے معلوم بھی تو ہو۔ ‘‘


       ’’ آصف کے گھر قرقی آنے والی ہے۔ اس نے مجھ سے مانگا ہے۔ ‘‘


       ’’ کبھی آصف نے بھی تمھیں کچھ دیا ہے۔ یہ لوگ دیمک کی طرح تمھیں چاٹ رہے ہیں۔ پینتیس سال کے ہو گئے ہو،کبھی اپنی زندگی کے بارے میں بھی سوچا ہے۔ اس کے یہاں جیپ کار ہے۔ وہ کیوں نہیں اسے فروخت کر کے ڈگری کے روپے  چکا دیتا۔ یہ تکلیف تمھیں دینے کیا ضرورت ہے۔ ‘‘


       ’’تم اپنی بکواس بند کرو میں اپنی ڈاج مورٹگیج کر دوں گا۔ ‘‘


       دوسرے دن ٹرومن کے ہاں ڈاج نہیں تھی،وہ ڈاج جس کے بغیر وہ گھر سے نہیں نکلتا تھا وہ کئی دنوں تک حیدرآباد کی خو صورت شاہراہوں پر رکشاؤں میں گھومتا دکھائی دیتا رہا اور مجھ سے  کھنچا کھنچا رہا۔


       ایک رات وہ میرے ڈرائنگ روم میں چپکے سے داخل ہوا۔ تھوڑی دیر چپ سادھے رہنے کے بعد اس نے اداس لہجے میں کہا۔


       ’’ آصف مکان فروخت کر کے کھوکرا پار کے راستے سے پاکستان چلا گیا۔ مجھ سے ملنا تک گوارا نہیں کیا۔ مجھے اپنے روپیوں کا کوئی غم نہیں ہے،لیکن اس نے دوستی کے خوبصورت چہرے پر جس بیدردی سے طمانچہ مارا ہے میں اسے بھلا نہیں سکتا،کیا ٹرومن اتنا گر چکا ہے   ‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں بھر آئیں،لیکن وہ آنسوں کو جیسے پی گیا۔ وہ تھوڑی دیر تک یوں ہی اداس بیٹھا رہا  پھر یکایک اٹھ کر باہر چلا گیا۔


       ایک دن میں نے سنا۔ ٹرومن گرفتار ہو چکا ہے۔ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مدت سے کوکین کی اسمگلنگ کر رہا تھا۔ کل پولیس نے اس کے اڈے پر دھاوا مار کر کے کوکین اس  کے قبضے سے برآمد کر لی ۔ تصدیق کے لیے میں نے تازہ اخبارات دیکھے۔ ایک اخبار نے اس نیوز کے نیچے اس کی تصویر بھی چھاپی تھی۔ میں حیران تھا۔ آفس میں یہ خبر بجلی بن کر گری۔ ہر شخص کی زبان پر ٹرومن کے چرچے تھے۔ سب کی نگاہیں خواہ مخواہ میری طرف اٹھ رہی تھیں جیسے میرا بھی اس گروہ سے تعلق ہو۔ میں ڈر رہا تھا کہیں سی آئی ڈی مجھے بھی شبہ میں ہتھیار نہ لے۔ میری خود ساختہ الجھن اس وقت دور ہوئی جب دو ماہ کی کشاکش کے بعد ٹرومن عدالت سے با عزت بری ہو گیا اور اس کے ساتھیوں کو جیل ہو گئی۔ یہ سب کچھ تو ٹھیک ہوا لیکن اس کی نوکری جاتی رہی تھی۔


       اس کے تعلق سے مجھے وقفے وقفے سے مختلف خبریں ملتی رہیں۔ کبھی کسی نے کہا۔ نئی شیورلٹ میں بیٹھا منجو کے سامنے اپنے چند ساتھیوں سے خوش گپیاں کر رہا تھا۔ کبھی کسی نے آ کر سنایا، بڑی معمولی حالت میں وہ ٹینک بینڈ پر تنہا بیٹھا شراب پی رہا تھا۔


       آٹھ دس مہینے یوں ہی گزر گئے لیکن وہ مجھ سے آ کر نہیں ملا۔ شاید خفت کے زیرِ اثر،لیکن ایک دفعہ اچانک تاج محل ہوٹل کے سامنے اس کی مجھ سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ وہ مجھ سے بری طرح لپٹ گیا۔ ’’میں بہت برا آدمی ہوں اس لیے تم مجھ سے ملنے سے کتراتے رہے۔ میں کمینہ بدمعاش سہی لیکن تمھارا دوست تو ہوں۔ ‘‘ اس نے ایک لمحہ رکنے کے بعد کہا : کل شام کی ٹرین سے میں بمبئی جا رہا ہوں۔ وہاں سے مڈل ایسٹ چلا جاں گا جہاں مجھے پٹرول کی ایک کمپنی میں ملازمت مل چکی ہے۔ ایک ہزار روپے تنخواہ، رہنے کے لیے ایک خوبصورت فلیٹ،یہ رہا پاسپورٹ۔ ‘‘ اس نے پاسپورٹ بتاتے ہوئے کہا۔


       میں نے اسے مبارک باد دی اور دیر تک محبت سے اس کی پیٹھ ٹھونکتا رہا۔ میرے اس خلوص سے وہ بڑا متاثر ہوا۔


       اگلے دن میں اسے خدا حافظ کہنے کے لیے اسٹیشن پہنچا۔ وہ پھولوں سے لدا ہوا تھا۔ اس کے بہت سے ساتھی پلیٹ فارم پر اداس کھڑے تھے۔ وہ ہر ایک سے ہنستا ہوا مل رہا تھا۔ پلیٹ فارم پر بڑی بھیڑ تھی۔ دس منٹ بعد گارڈ نے سیٹی بجا دی۔ ہری جھنڈی ہلی اور گاڑی آہستہ آہستہ پلیٹ فارم چھوڑنے لگی۔


       یکایک اس کی نظر پلیٹ فارم پر کھڑی ہوئی اس بوڑھی عورت پر پڑی جس کے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گجرا تھا۔ وہ اچھل کر ڈبے سے کود پڑا۔ اس نے بُڑھیا کو محبت سے گلے لگایا اور پھولوں کا ہار پہن کر اس کے ہاتھ میں دس دس کے دو نوٹ تھما دئیے۔


       جب وہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ٹرین کی طرف بھاگ رہا تھا،تو مجھے  یوں لگا جیسے اس نے جاتے جاتے بُڑھیا کا قرض چکا دیا ہو  


***