کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مُردہ گاڑی

عوض سعید


مردہ گاڑی کے اطراف لوگوں کا اژدحام تھا۔ ہسپتال کی سیڑھیوں پر بے شمار لوگ اور بھی تھے جو نعش کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایک بڑے بڑے بالوں والا نوجوان پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی مردہ گاڑی کو اور کبھی دوا خانے کے سینے پر پھیلے ہوئے بھانت بھانت کے چہروں کو اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے وہ کسی مووی فلم کا آخری شارٹ دیکھ رہا ہو۔ وہ بظاہر مجمع سے الگ ہوتے ہوئے بھی مجمع ہی کا ایک فرد لگ رہا تھا۔


       ’’  میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ اسے کیوں دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جب کہ وہ انسانی بھیڑیوں کے بیچ آنا نہیں چاہتا۔ ‘‘


       ’’کیا بک رہے ہو۔ ‘‘ ایک ادھیڑ عمر کے آدمی نے قہر آلود نگاہیں اُس کے چہرے پر جماتے ہوئے کہا۔ نوجوان نے اس کی بات کی ذرا بھی پروانہ کی اور گلے میں لٹکے ہوئے کیمرے کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اس نے دوبارہ اپنے ادھورے جملے کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنی زندگی ہی میں اپنا پوسٹ مارٹم کروا لیا ہے اس لیے میرا خیال ہے کہ اس کا خاموش اور ٹھنڈا جسم اب مزید کسی جراحت کا متحمل نہیں ہو گا۔ ‘‘ مگر کسی نے بھی اس کے کہے ہوئے جملے پر دھیان نہیں دیا۔ دفعتاً اوپر کی  منزل کے پہلے سرے پر سفید لباس میں ملبوس ایک مٹیالے رنگ کا چہرہ ابھرا۔


       لوگ چیخ پڑے۔ ’’یہی ہے وہ ڈاکٹر۔ ‘‘


       ڈاکٹر نے سب کے چہرے پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالی۔


       بھائیو آپ کو انتظار کی زحمت اٹھانی پڑی اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں،گو معذرت کبھی کبھی شرافت کے آگے ڈھال بن جاتی ہے۔ روشنی اور تاریکی میں لپٹا ہوا آدمی جب مردہ گاڑی کے تختے پر لیٹ جاتا ہے تو اُسے شور پسند نہیں آتا۔ وہ ابدی خاموشی کے آگے سرنگوں ہو جاتا ہے  اور یہیں سے اس کی زندگی کا ایک نیا سورج طلوع ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں دھرتی کے افق سے طلوع ہونے والے اس سورج کے انتظار میں اگر آنکھیں بند کر لی جائیں تو یہ ہماری بڑی ٹریجڈی ہو گی۔


       ’’اس پروفیسر کے بچے کو یہاں سے ہٹاؤ۔ ‘‘


       ’’ہمیں ڈاکٹر چاہیے۔ ‘‘


       ’’اور ڈیڈ باڈی ؟‘‘


       ’’یہ تو ہمارا بنیادی مطالبہ ہے۔ ‘‘


       مختلف آوازوں کے ہجوم میں اب ڈاکٹر کی آواز کسی کو سنائی نہیں دے رہی تھی۔


       اب ادھر ادھر کے لوگ بھی اس مجمع میں شامل ہو گئے تھے۔ انھیں حقیقی صورتِ حال کا کچھ پتہ نہ تھا، لیکن وہ بھی آواز میں آواز ملانے کی کوشش کر رہے تھے۔ نیچے لان میں چند لوگ لیٹے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ان کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا جیسے وہ اس دھرتی کے باشندہ نہ ہوں کوئی اور مخلوق ہو۔


       لوگ زندگی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اتنے باؤلے ہو چکے ہیں کہ اب صرف مردہ گاڑی ان کی توجہ کا احاطہ کیے ہوئے ہے  اور یہ ایک ڈیڈ باڈی کے لیے اتنا شور۔ ‘‘


       ’’نہیں یار ایسا لگتا ہے کہ یہ تمام زندانی ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھلا مانس اس دم گھٹتے ہوئے ماحول سے نکل کر کھلی ہوا میں سانس لے۔ ‘‘


       ’’مردہ گاڑی ہی ہماری زندگی کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ ہمارے چہروں کی شناخت ہی آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن حیرت ہے کہ اوپر کی منزل پر پھیلے ہوئے چہرے اس ڈاکٹر کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جس کا  ایک پاوں خود مردہ گاڑی میں پھنسا ہوا ہے مگر زندگی کے کھڑے میں کھڑا ہو کر کوئی گواہ بننا بھی پسند نہیں کرتا۔ ‘‘


       ’’گواہ میں بنوں گا۔ ‘‘لان میں لیٹا ہوا وہ نوجوان جس نے چپ کی چادر اوڑھ رکھی تھی اونچی آواز میں بولا۔


       بہت دیر میں سہی اس نے کام کی ایک بات تو کی۔ ‘‘


       ’’مگر گواہ بننے میں ایک قباحت بھی تو ہے کیونکہ گواہی شیطانی چہرے کی وہ لکیر ہے جو سچ کے بول میں شامل ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتی ہے۔ اگر مجھے منوں مٹی کے نیچے سے کوئی نکال کر یہ کہے کہ بھائی کیا تم میرے گواہ بنو گے تو میں سراسر انکار کر دوں گا اور کہوں گا کہ میری نیند برباد نہ کرو۔ ‘‘


       ’’مگر گہری نیند سے بیدار ہونا بھی گیان کی ایک منزل ہے۔ ‘‘


       ’’تم منزل کی بات کر رہے ہو میں اس زینے کی بات کر رہا ہوں جہاں مردہ گاڑی میں ایک شخص خاموش لیٹا ہوا ہے۔ مجھے تو وہ ڈاکٹر اچھا لگ رہا ہے جس کے حلق سے بھانت بھانت کی بولیاں پھڑک رہی ہیں۔ دیکھ رہے ہو اس کا سانس بھی پھول رہی ہے، مگر وہ چٹائی کی طرح جما ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے اس ٹیلے کے نیچے پھیلے ہوئے انسانوں کو اس نے دیکھ لیا ہے۔


       ’’ہو سکتا ہے ہمیں ہی دیکھا ہو۔ یہ جملہ اُس نو جوان نے کہا جو زندگی کے زنداں کا آخری گواہ تھا یا گواہی کا طوق ڈالنے کے لیے تیار تھا۔


       میں ضرور گواہی دوں گا۔ اُس نے ایک بار پھر اس طرح کہا جیسے وہ اپنی بات منوانا چاہتا ہو۔ ہم تمھاری آزادی میں مخل ہونا نہیں چاہتے۔ تینوں نے بیک زبان ہو کر کہا۔


       ’’مگر اس کے بعد تم ہم سے بچھڑ جاؤ گے ؟‘‘


       ’’میں پھر بھی تمھیں تلاش کر لوں گا۔ ‘‘


       ’’کیسے اور کس طرح ؟ ہم تو کبھی ایک جگہ جم کر نہیں رہتے یہ تو تم بھی جانتے ہو۔ ‘‘


       ’’زندگی کے آخری سرے پر پاوں رکھنے سے پہلے تم میں سے ایک آدمی بھی مجھے مل جائے تو میں سمجھ لوں گا کہ میری ملاقات تم سب سے ہو چکی ہے۔ ‘‘


       ’’لیکن تم اپنے آپ ہی سے کب ملو گے۔ تم تو زندان میں پھڑپھڑانے والی زندگی کے ایک ادنیٰ گواہ ہو۔ ‘‘ ان چاروں آدمیوں میں سے ایک نے قدرے تحقیر آمیز انداز میں کہا۔ وہ جیسے اس جملہ کوپی گیا۔ تمھیں وہ کنواں یاد ہے جہاں ہم چاروں نے ایک ساتھ چھلانگ لگائی تھی مگر پھر بھی بچ گئے۔ تم ایک کنویں کی بات کر رہے ہو، میرے ذہن میں ہزاروں کنویں ہیں جہاں ہم نے۔ لیکن بات جب بچھڑنے ہی کی آ گئی ہے تو ایک کنویں اور ہزار کنویں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ زندگی کی جھوٹی گواہی ہی دراصل زندگی کی سب سے بڑی تحقیر ہے۔ مگر تحقیر کے اس زہر کو تم چکھنا ہی چاہتے ہو تو ہم تمھیں روکنے سے رہے۔ ہاں میں ہاں ملانا ہی انسان کی سب سے بڑی تحقیر ہے۔ اب تم لوگ میری نظروں سے گر چکے ہو۔ ‘‘نوجوان نے اپنے ساتھیوں کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے حتمی انداز میں کہا۔


       ’’اپنی آواز میں کوئی اور سُر داخل ہو جائے تو سُر کی پہچان ناممکن بن جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ نوجوان جو کچھ کہہ رہا ہے وہ ٹھیک ہے۔ میں بھی شاید تم میں باقی نہ رہوں۔ ‘‘ اس حلقے سے دو آدمیوں کا اس طرح نکل جانا انھیں کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ اکائی میں طاقت ہے ایک آواز بھری مگر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔


       پھر ایک موہوم سی آواز فضا میں ارتعاش پیدا کر گئی۔


       اب میں تنہا رہ گیا ہوں،یکہ و تنہا دور دور تک کوئی نہیں،مگر دوا خانے کی سیڑھیوں پر برآمدے پر ابھی تک وہی اژدحام ہے۔ لوگ چلّا رہے ہیں۔


       نعش واپس کرو۔ نعش واپس کرو ورنہ ہم دوا خانہ کو آگ لگا دیں گے۔ ہم ہسپتال کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ برآمدے میں ڈاکٹر ابھی تک کھڑا ہے اُس کے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ رقصاں ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ اس بنیادی مطالبہ کی یہ تک پہنچ چکا ہے۔ دوسرے ہی لمحہ اس کے ہونٹ اس طرح ہل رہے تھے جیسے کوئی بہت بڑا دھماکہ ہونے والا ہو۔ ڈاکٹر نے اطمینان کے لہجے میں کہا۔ ’’تم لوگ مردہ گاڑی سے نعش لے جا سکتے ہو۔ ‘‘


       سب کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے۔ انھیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے نعش کے ساتھ انھیں ایک بہت بڑا خزانہ مل گیا ہو۔


       اب لوگوں کے قدم مردہ گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔


       ٹھہرو بھائیو میں ایک بات اور تم سے کہنا چاہتا ہوں۔ جس نعش کو تم مردہ گاڑی سے کھینچ لے جانا چاہتے ہو وہ مرا نہیں زندہ ہے۔ ‘‘


       ہجوم کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ سب چپ چاپ ایک دوسرے کو تک رہے تھے۔ پانچ منٹ،دس منٹ،پندرہ منٹ۔ مردہ گاڑی کے اطراف اب کوئی نہیں تھا۔ لوگ آہستہ آہستہ دوا خانے کی سیڑھیاں پھلانگ رہے تھے۔ یکبارگی اُس لانبے لانبے بالوں والے نوجوان نے مردہ گاڑی کے قریب پہنچ کر آہستہ سے کہا۔


       ’’ڈاکٹر اسے مجھے دے دو۔ ‘‘


***