کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چاہت کے پنکھ

عوض سعید


جال کے مخروطی ڈربوں میں  بھانت بھانت کی مرغیاں،اِدھر سے اُدھر پھدک رہی تھیں اور فرحت باجی بڑے چا  کے ساتھ جھک کر انڈے یوں سمیٹ رہی تھیں جیسے لیگ ہارن کے انڈے نہ ہوں،ہیرے موتی ہوں۔


       میرے قدموں کی آہٹ پر انھوں نے قدرے گردن گھما کر میری طرف دیکھا۔


       ’’ اوہ جاوید تم دبے پاؤں کب چلے آئے ؟ ‘‘


       ’’مجھے آئے ہوئے یہاں ایک گھنٹہ ہو چکا ہے باجی۔ ‘‘ میں نے جھوٹ کا سہارا لیا۔


       ’’بالکل غلط۔ ‘‘ انھوں نے ہاتھ میں تھامے ہوئے انڈوں کو ٹوکری میں احتیاط سے رکھتے ہوئے کہا۔


       ’’ اس کا ثبوت یہی ہے کہ اب تک مرغیاں ڈھیر سارے انڈے دے چکی ہیں اور شاید یہ  انڈے بازار میں فروخت ہونے تک آپ مصروف ہی رہیں گی۔ ‘‘


       میرے اس جملے پر باجی کی چوڑی چکلی پیشانی پر کئی گہری لکیریں نمودار ہوئیں۔ انھوں نے مجھے بڑی ناگواری سے دیکھا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ آزردہ ہو گئی ہیں۔ میری معذرت سے پہلے انھوں نے اداس لہجے میں کہا  :


       ’’ہم انڈے بیچا نہیں کرتے جاوید۔ ہم تو انڈے کھانے والوں میں سے ہیں۔ ‘‘


       باجی کی شخصیت میں خوبیوں کا عنصر کچھ اتنا غالب تھا کہ ان کی کمزوریوں کی طرف کم کم ہی نگاہ اٹھتی تھی۔ وہ ناطے رشتے کے لحاظ سے جتنی دور تھیں،دل سے اتنی قریب بھی تھیں۔ باجی کے دو بجے تھے،نبیل اور فہیم،بڑے ہی خوبصورت اور شائستہ،لکھنوی انداز میں یوں سلام کرتے کہ جی چاہتا انھیں گلے سے لگا لیں،لیکن پتہ نہیں باجی انھیں وقت بے وقت ڈانٹ ڈپٹ کیوں کرتی رہتی تھیں۔ کبھی کبھی تو  مجھے ان کے ہاں جاتے ہوئے شرمندگی کا احساس ہوتا تھا کیونکہ باجی میری خاطر تواضع میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتی تھیں۔ گھر میں ایک چھوڑ چار نوکر تھے جن سے وہ مختلف کام لیتی تھیں۔


       لیکن اُن کی ایک عادت مجھے بڑی ناگوار لگتی تھی،وہ ان کی سگریٹ نوشی۔


       وہ ہمیشہ گولڈ فلیک پیتی تھیں۔ کبھی کبھار میں نے ’’وِلس‘‘ بھی پیتے دیکھا تھا۔ سامنے ایک چھوڑ دو قیمتی اور خوبصورت ایش ٹرے رکھے ہوتے جن میں وہ بڑے سلیقے سے سگریٹ کی راکھ ڈالتی تھیں۔ کبھی کبھار خاص طور پر ایسے وقت جب بچے شام کی تفریح کے لیے باہر جا چکے ہوتے تو وہ گہری سوچ میں گم ہو جاتیں۔ ایسے وقت وہ پے در پے سگریٹ کے لمبے لمبے کش بھی لیتیں۔ ایسا لگتا جیسے وہ بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔


       ’’جاوید میں اپنے سامنے کسی کو سگریٹ پیتا دیکھنا پسند نہیں کرتی۔ میری مراد تمھاری عمر کے ان نوجوانوں سے ہے جو عمر اور رتبے میں مجھ سے کم ہوں۔ ‘‘


       باجی باتیں کرتی رہیں لیکن پتہ نہیں میرا ذہن کیوں ان کی باتوں کو قبول کرنے تیار نہیں تھا۔


       باجی چالیس کے پیٹے میں پہنچ چکی تھیں لیکن چہرے پر ابھی دور دور تک کرختگی نے ڈیرا نہیں ڈالا تھا۔ ہر طرف ملاحت ہی ملاحت تھی۔ ہاں ان کے بالوں کی دو ایک لٹیں قدرے سفید ہو گئی تھیں۔ قد خاصا اونچا تھا اور دانت موتیوں کی طرح سفید تھے، ناک کی ہڈی ذرا  دب گئی تھی۔ شاید کسی وقت انھوں نے برسوں چشمہ لگایا تھا۔ دن میں دو تین بار کپڑے بدلتی تھیں۔ کوئی گھر میں مہمان آئے نہ آئے۔


       پھر ایک دن میں نے گھر میں داخل ہو کر باجی کو آواز دی تو بوڑھے نوکر نے آ کر بڑی نرمی سے جواب دیا۔


       ’’میم صاحبہ اسٹیشن گئی ہوئی ہیں۔ ‘‘


       میں حیرت میں ڈوب گیا۔ باجی نے مجھے اپنی لڑکیوں کے بارے میں کبھی کچھ نہ بتایا تھا۔ میں گھر آ کر بستر پر لیٹ گیا۔ میری نگاہوں کے سامنے باجی کا گورا چٹا چہرہ گھوم رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ بڑے پُر اسرار انداز میں سگریٹ پی رہی تھیں۔ یہ کیا  ؟   باجی میرے ذہن پر اس طرح مسلط کیوں ہو گئیں ہیں ؟  میرا ان کا کیا واسطہ  ؟


       باجی کے بعد اگر کسی سے میری دوستی تھی،وہ ظفر تھا اور ظفر نے بھی مجھ سے اس لیے بات بند کر دی تھی کہ  میں باجی کے پاس روز کیوں جاتا ہوں۔ وہاں کیا دھرا ہے۔ باجی کے تعلق سے میں نے ظفر سے وہ سب کچھ کہہ دیا تھا جو میں نے مختلف ملاقاتوں میں محسوس کیا تھا۔ ظفر کا خیال تھا کہ باجی  ان عورتوں میں سے نہیں جو دو + دو = چار کہہ کر نتیجہ اخذ کریں۔ میں سمجھتا ہوں باجی کے کردار کی بوقلمونی اور تہ داری اس بات کی غماز ہے کہ وہ دو + دو= پانچ کی مثالیں ہوں گی۔


       وہ رات عجیب تھی۔ ظفر بکے جا رہا تھا اور میں اس کی ہر بات کی دھجیاں بکھیر رہا تھا۔ جاتے جاتے اس نے عالمِ غیض و غضب میں کہا تھا  :


       ’’ جاوید تم نے ابھی زندگی دیکھی ہی کہاں ہے۔ تم لونڈے ہو،میرے منہ کیوں آتے ہو؟  آج کے بعد میں پھر کبھی تم سے نہیں ملوں گا۔ ‘‘


       میں نے اسے جلانے کے لیے کہا تھا :


       ’’ اِس سے زیادہ میرے لیے خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ ‘‘


       بحث خوشگوار ماحول میں شروع ہوئی تھی لیکن رفتہ رفتہ تلخی نے کچھ ایسی صورت اختیار کر لی کہ ذاتیات پر حملے شروع ہو گئے اور وہ مجھ سے روٹھ کر بڑے بڑے قدم ناپتا ہوا چلا گیا۔


       میں ابھی پچھلی باتوں کے بیکراں سلسلے میں کھویا ہوا تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔


       ’’میم صاحب نے آپ کو یاد کیا ہے۔ ‘‘ باجی کے نوکر نے مجھ سے خواہ مخواہ مسکراتے ہوئے کہا۔


       میں سوچنے لگا۔ باجی کے گھر جانا چاہیے یا نہیں۔ پھر اچانک کانوں میں گھنٹیاں بجنے لگیں۔ باجی کی لڑکیاں آ رہی ہیں۔ باجی کی لڑکیاں۔


       میں نے تیزی سے کپڑے تبدیل کیے،چہرے پر اسنو ملا۔ جب آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا تو جیسے کوئی خاص بات پیدا نہیں ہوئی ہے۔ گرے کلر کے کوٹ کو ہینگر سے نکال کر پہنا۔ سفید شرٹ پر قدرے سرخ ٹائی باندھی تو وہ بھی جچی نہیں،پھر یہ سلسلہ اتنا طول کھینچا کہ میں پینٹ اور بش شرٹ پہنے باجی کے گھر کی طرف چل پڑا۔


       باجی کے بنگلے نما مکان کا گیٹ کھلا ہوا تھا اور ایک سیاہ فام لمبے قد کا السیشن پھاٹک  کے اندر اس انداز سے ٹہل رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو :  


       ’’ کوئی مائی کا لال اندر آ کر تو دیکھے۔ ‘‘


       کتوں سے میں بے حد ڈرتا تھا۔ یہ ڈر اب اس منزل پر پہنچ چکا تھا کہ میں نے ہر اس آدمی کے ہاں آنا جانا ترک کر دیا تھا جس کے ہاں کتا ہو۔ السیشن کی بھیانک آنکھوں اور اس کے لمبے قد کو دیکھ کر سٹی گم ہو کر رہ گئی تھی۔ پھر ایک نوکر کسی کام سے جب باہر نکلا تو اس نے حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا :


       ’’ میم صاحب آپ کا انتظار کر کے ابھی ابھی اپنی لڑکیوں کے ساتھ باہر گئی ہیں۔ ‘‘


       مجھے پھر ایک بار کوفت ہوئی۔ کچھ تو میرا انتظار کیا ہوتا۔ جب وہ میرا انتظار نہیں کر سکتی تھیں تو انھوں نے مجھے بلایا ہی کیوں تھا۔ شاید لڑکیوں کے اصرار نے انھیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیا ہو۔


       لڑکیاں۔ ۔ ۔ لڑکیاں۔ ۔ ۔ لڑکیاں۔ ۔ ۔


       دوسرے دن میں کافی ہا س میں تنہا بیٹھا تھا کہ کولڈ کافی کے دو کپ پینے کے بعد میرا جی پان کھانے کو چاہا۔ میں تیزی سے باہر نکل آیا۔ فضا میں بڑی خنکی تھی۔ اس وقت کولڈ کافی پینے کا کیا تک تھا۔ میں نے چلتے چلتے کہا اور سامنے بنارسی پان شاپ سے ایک پان لے کر آگے بڑھ گیا۔ ابھی میں روڈ  کراس کر ہی رہا تھا کہ مجھے سامنے سے ظفر آتا دکھائی دیا اور اس کے ساتھ ایک نوجوان  لڑکی تھی۔ معمولی صورت شکل کی۔ وہ مجھے دیکھ کر آنکھیں نیچے کیے آگے بڑھ گیا۔


       وہ کون ہو گی  ؟  میرے ذہن  کے کونے سے ایک سوال ابھرا۔ ظفر تو ایسا آدمی نہیں تھا۔ لڑکیوں کی زندگی اشتہار ہی تو ہے جس کا جی چاہے دیکھے،سونگھے،پڑھے اور آگے بڑھ جائے۔ ظفر چلا گیا اور مجھے پلٹ کر دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔


       راستہ چلتے چلتے ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہہ رہا تھا۔


       ’’ شہر کے حالات پھر بگڑ رہے ہیں۔ سنا ہے آج آتش زنی اور قتل کی چند وارداتیں ہوئی ہیں۔ کتنے بد قسمت لوگ ہیں ہم سب۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ چلو جلد گھر چلیں۔ ‘‘


       ’’مگر یہ سارے لوگ تو گھوم پھر رہے ہیں۔ ‘‘


       ’’یہ لوگ تو وہ ہیں جو تفریح میں نعشوں کو حائل ہونے نہیں دیتے۔ ‘‘


       ’’مگر دیکھ رہے ہو بعض دُکانیں وقت سے پہلے بند ہو رہی ہیں۔ ‘‘


       ’’ دُکانوں کا جلد بند ہو جانا اتنی تعجب خیز بات نہیں،جتنا دل کے دروازوں کا مقفل اور زنگ خوردہ ہو جانا۔ ‘‘


       ’’دکانوں کا اچانک بند ہو جانا اس بات کا الارم ہے کہ ہمیں گھر جلد پہنچ جانا چاہیے۔ ‘‘


       پہلے نوجوان نے اپنی آواز پھر ایک بار اپنے دوست کے کانوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔


       ’’ گھر جا کر کریں بھی کیا۔ وہاں بھی کم و بیش یہی حال ہو گا۔ ‘‘        


       ’’تم سمجھتے ہو شرپسند وہاں بھی پہنچ چکے ہوں گے۔ شرپسند کہاں نہیں پہنچتے۔ ‘‘


       ’’ تم مجھے خواہ مخواہ خائف کر رہے ہو۔ مجھے اپنے بچے کی فکر ہے جو چند چاکلیٹوں کے لالچ میں میرا انتظار کر رہا ہو گا۔ ‘‘


       ’’ اور میری ماں۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘


       دفعتاً گرج اور آوازیں گونجیں۔ انھیں پکڑو۔ انھیں پکڑو،یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ پولیس کے ایک دستے نے انھیں گھیر لیا،پھر جیپ میں بٹھا کر لے اُڑے۔


       میں یہ سب تماشا دیکھتا رہا۔ اس وقت میرے ذہن میں نہ ظفر تھا اور نہ اس کی محبوبہ۔


       میں جلد سے جلد گھر پہنچ جانا چاہتا تھا۔ میں نے آٹو رکشا ڈرائیور کو آواز دی جو تیزی سے میرے سامنے سے گزر گیا تھا۔ وہ آٹو گھما کر جب میرے پاس آیا تو میں سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ ’’میٹر اتار دو۔ ‘‘


       ’’ آج میٹر چڑھا ہی رہے گا۔ وہ نہیں اترے گا بابو صاحب۔ ‘‘ بڑی بڑی مونچھوں والے آٹو ڈرائیور نے جواباً کہا جس کے گلے میں سستے کپڑے کا شوخ رومال لپٹا ہوا تھا۔


       ’’کیوں  ؟‘‘


       اس لیے کہ شہر میں ہنگامے شروع ہو گئے ہیں۔ آپ شہر میں جہاں بھی جانا چاہیں پانچ روپے ہوں گے۔ تھوڑی دیر بعد یہ ریٹ اور بھی بڑھ سکتا ہے۔


       میں نے وقت کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے فوری حامی بھری۔


       وہ تیزی سے مختلف راستوں پر پھلانگتا ہوا میرے بتائے ہوئے پتے پر آ کر رُک گیا اور پانچ روپے کا نوٹ لے کر بغیر کچھ کہے تیزی سے آٹو گھماتا ہوا چلا گیا۔


       میرے کانوں میں دیر گئے تک آٹو کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ گونجتی رہی۔


       میں نے محسوس کیا کہ محلے کی فضا واقعی خراب ہے۔ رات ابھی زیادہ گہری نہیں ہو پائی تھی پھر بھی لگتا تھا جیسے سب لوگ خوف کے مارے اپنے اپنے گھروں میں چھپے بیٹھے ہوں۔


       دور بہت دور ایک گھر سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ میں نے تیزی سے تالے میں چابی گھمائی اور  دروازہ کھلتے ہی میں نے دیکھا،گھر کی ہر چیز صحیح و سالم ہے۔ ا بھی میں کپڑے تبدیل کر ہی رہا تھا کہ دفعتاً کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میرا خوف کے مارے سارا بدن کانپنے لگا۔ ۔ ۔ اب کیا ہو گا۔ اب کیا  ہو گا ؟  کوئی شرپسند دروازہ توڑ کر اندر  داخل ہو جائے گا اور پھر بچا  کی ایک ہی صورت تھی کہ مقابلہ کیا جائے لیکن میں اتنی ہمت کہاں سے لاتا۔ میرے قدم تو شروع ہی سے زمین میں دھنسے رہے۔


       دروازے کی زنجیر مسلسل بجتی رہی،پھر ایک جانی پہچانی آواز آئی۔


       دروازہ کھول کر میں جب باہر آیا تو میرے سامنے سفید سلک کی ساری میں ملبوس باجی کھڑی تھیں۔ انھوں نے آٹو رکشا ڈرائیور سے کہا کہ وہ یہیں ٹھہرا رہے۔ اُن کے چہرے پر کہیں بھی خوف کے آثار نہیں تھے۔


       ’’ دو دن سے تم کہاں غائب رہے،میں نے تمھارا کافی انتظار کیا۔ ‘‘ باجی آرام کرسی پر دراز مجھ سے باتوں میں مشغول تھیں،جب کبھی میں نے فساد کی خبریں سنانے کی کوشش کی انھوں نے  میری بات کاٹ دی  یہ کہہ کر کہ یہ کوئی اہم بات نہیں ہے ہر بڑے شہر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔


       باجی کی گفتگو کا تیکھا انداز مجھے قائل کرنے والا نہیں تھا۔ ’’لیکن اتنی رات گئے آپ اس طرف کدھر نکلیں  ؟ ‘‘


       ’’کوئی ایسی بڑی رات تو نہیں۔ یہی گیارہ بجے ہوں گے۔ ‘‘


       ’’ ارے باجی آپ کی ساڑی کا بارڈر  جلا  ہوا ہے۔ ‘‘


       ’’ ہاں آج میں جلتے جلتے بچ گئی۔ ‘‘


       ’’ آپ کے پاؤں سے بھی خون رِس رہا ہے۔ ‘‘


       ’’میرے پاؤں سے خون رِس رہا ہے،کیا کہہ رہے ہو۔ ‘‘


       ’’سچ مچ باجی۔ دیکھیے خون پاؤں کی انگلیوں تک پھیل گیا ہے۔ ‘‘


       ’’ یہ صرف تمھارا خوف ہے،میں بھلی چنگی ہوں اور یہاں اس لیے آئی ہوں کہ تمھیں فوری اپنے گھر لے چلوں۔ ‘‘ وہ اصرار کرتی رہیں لیکن میں نے جی کڑا کر کے کہا۔ اب آپ گھر چلے جائیے،میں کل آ جاں گا۔ دیکھیے ابھی تک آٹو رکشا باہر کھڑی ہے۔


       ’’ تم میرے ساتھ نہیں آؤ  گے  ؟ ‘‘  باجی کی تیز آواز کمرے میں گونجی۔


       ’’ آ جاتا۔ پتہ نہیں آج اندر سے جی کیوں مائل نہیں ہے۔ ‘‘


       ’’ میں کہتی ہوں،تم اس وقت میرے ساتھ چلو گے بھی یا نہیں۔ ‘‘


       مجھے باجی کا یہ تحکمانہ انداز اچھا نہیں لگا۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میری اپنی کوئی شخصیت نہیں ہے،جو کچھ ہے وہ باجی کا حکم ہے۔


       میرے سارے جسم میں احتجاج کی ایک برقی رو  سی دوڑ گئی۔ میں نے تقریباً چیخنے کے انداز میں کہا۔ ’’میں نہیں چل سکتا  باجی۔  مجھے آرام کرنے دیجیے۔ میرے ساتھ یہ آپ کی زیادتی۔ ۔ ۔ ‘‘


       میں نے جملہ ابھی پورا بھی نہ کیا تھا کہ باجی نے آگے بڑھ کر ایک زور دار طمانچہ میرے منہ پر چڑھا دیا۔ پھر انھوں نے پے در پے میرے منھ پر گھونسے لگانے شروع کر دیے۔ یہ حملہ کچھ اتنا اچانک شروع ہوا کہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہے۔


       پھر رات کی خاموشی میں آٹو رکشا تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ سڑک کے کنارے پھیلے ہوئے بوسیدہ مکانات دور سے بھوتوں کے غول کے مانند دکھائی دے رہے تھے۔ رات بڑی بدصورت اور یخ بستہ تھی۔ لگتا تھا جیسے برفیلی ہواؤں کی چبھتی ہوئی لہریں کانٹوں کا لبادہ اوڑھے اچانک ہمارے سر پر مسلط ہو گئی ہوں۔


       میں سردی میں ٹھٹھر رہا تھا لیکن باجی سردی سے بے نیاز اپنے ہی خیالوں میں گم تھیں۔


       پھر میں نے دیکھا۔ وہ آہستہ آہستہ چپکے چپکے سسک سسک کر روہی تھیں اور میں سوچ رہا تھا۔ آخر یہ محبت اور ممتا کی کون سی ادا ہے۔


***