کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دلِ خانہ خراب

عوض سعید


رسمی تعارف کے بعد حکیم عبدالمتین نے پہلا سوال جو مجھ سے کیا وہ یہ تھا :


       ’’صاحبزادے تمھاری کیا عمر ہو گی ؟ ‘‘


       ’’ یہی کوئی تئیس چوبیس برس۔ ‘‘


       ’’ جھوٹ بکتے ہو۔ ‘‘


       تو پھر آپ ہی بتائیے،شاید میری پیدائش کا دن آپ کی ڈائری میں نوٹ ہو،بیس سال کی عمر تو میرے چھوٹے بھائی ممتاز کی ہو گی متین صاحب۔ ‘‘


       ’’ ارے ممتاز بیس برس کا ہو گیا،پرسوں ہی کی تو بات ہے،وہ ننگ دھڑنگ گلیوں میں کھیلا کرتا تھا،‘‘ انھوں نے کچھ حیرت اور مسرت کے ملے جلے جذبات میں ڈوب کر کہا۔


       ابھی ابھی انھوں نے جو میری عمر کے تعلق سے فتویٰ دیا تھا اسے بالکل ہی بھول بھال کے وہ ممتاز کی عمر کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ دہلی آنے کے بعد جب حکیم صاحب کا آنا جانا مکان میں زیادہ ہونے لگا تو وہ میرے بالکل ہی قریب آ گئے۔ متین صاحب کی عمر ساٹھ برس کی تو یقینی ہو گی لیکن وہ اپنی عمر سے کوئی پندرہ برس کم دکھائی دیتے تھے،صورت شکل بھی بڑی اچھی پائی تھی جس سے بڑھاپے کا عیب بڑی حد تک ان کے چہرے کے دل آویز خطوط کی تہوں میں جا چھپا تھا،پتلی اونچی ناک،فراخ چہرہ،چھوٹی چھوٹی کرنجی آنکھیں جن میں ذہانت کی چمک تھی اور جب وہ کوئی دلچسپ بات سنانے بیٹھتے تُو ان کی چھوٹی چھوٹی تیز آنکھوں میں ہنسی کی جوت جل اٹھتی، ہنسی ان کے لبوں کے کنارے سے ہوتی ہوئی ہولے ہولے آنکھوں میں سمٹ آتی،ان کا نچلا ہونٹ قدرے موٹا تھا اور اوپر کا ہونٹ گلاب کی پنکھڑی کی طرح پتلا اور نازک تھا جس سے خواہ مخواہ انھیں یہ احساس ہو گیا تھا کہ ان کا نچلا ہونٹ بڑا بھدا ہے۔


       ایک دن میں ڈرائنگ روم میں بیٹھا تنہائی کے مزے لوٹ رہا تھا،باہر تڑاخے کی بارش ہو رہی تھی،وہ پانی میں شرابور ہانپتے کانپتے میرے برابر والی کرسی پر آ کر لڑھک گئے،ان کا سلیم شاہی جوتا پانی میں بھیگ کر بالکل ہی لجلجا سا ہو کر رہ گیا تھا اور سفید سلک کی شیروانی ان کے دبلے پتلے سینے سے یوں چمٹ گئی تھی جیسے کوئی ضدی بچہ فریاد کرتا ہوا اپنے باپ سے لپٹ جائے۔


       میں نے کہا ’’ متین صاحب۔ اس موسلا دھار بارش میں آپ نے گھر آنے کی زحمت کیوں کی ؟ کسی سے اپنا پیام ہی کہلوا دیا ہوتا،دیکھیے آپ کا بدن کانپ رہا ہے،میرے کپڑے دھرے ہیں،انھیں پہن لیجیے،یہ رہا تولیہ۔ ‘‘ میں نے تولیہ ان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔


       انھوں نے عجیب بے نیازی سے میرے ہاتھ سے تولیہ لیا،شیروانی اتار کر کھونٹی پر لٹکا دی اور جیب سے نسوار کی ڈبیہ نکال کر دو چٹکی ناک میں ڈالی اور لگے چھینکنے،جب چھینکوں کا دورہ ختم ہوا تو قدرے میری جانب کرسی کھسکاتے ہوئے انھوں نے کہا :


       ’’ صاحبزادے آج بارش میں طبیعت بھیگنا چاہتی تھی،سوچا کیوں نہ اس رحمت باراں سے لطف اٹھایا جائے اور میں تمھارے ہاں چلا آیا،وہ تمھاری نگوڑی ماما رحمت بی بی تو ہو گی ہی،اُس مردار سے کہنا کہ حکیم عبدالمتین کے لیے فوری ایک پیالہ چائے بنا کر لائے،چینی بھی زیادہ ہو۔ ‘‘


       میں کرسی سے فوری اٹھا اور تھوڑی ہی دیر میں چائے بنا لایا،اس وقت ماما گھر پر موجود نہ تھی،میں نے اُن سے یہ بات کہنی مناسب نہ سمجھی،جب میں نے چائے کا پیالہ ان کے قریب بڑھایا تو وہ ایک گھونٹ پی کر جھلا اٹھے۔


       ’’ دیکھا ظالم نے کوئی پاؤ بھر چینی پیالے میں ڈال دی ہے،میں ذیابطیس کا مریض بھلا اتنی چینی کیسے استعمال کر سکتا ہوں،حکیم ہونا بھی ایک عذاب ہے،وہ نگوڑی سمجھتی ہو گی،حکیم جی کو ذیابطیس ہے بھی تو کیا گھر میں جو دوا خانہ موجود ہے،اب بھلا اسے یہ بات کون سمجھائے کہ حکیم اپنا آپ علاج نہیں کر سکتے اور حکیم عبدالمتین کا علاج کرنے والا یہاں کوئی مائی کا لال زندہ بھی ہے ؟‘‘


       ’’ متین صاحب بارش کا موسم ہے کم از کم چھاتہ تو خرید لیا ہوتا۔ ‘‘


       ’’ صاحبزادے کیا بیہودہ سی بات کرتے ہو،کیا میرے ہاں برساتی نہیں جو میں چھاتہ خرید کر بیوقوفوں کی فہرست میں اپنے نام کا اضافہ کروں۔ ‘‘


       ’’ کیا چھاتہ استعمال کرنا بیوقوفی ہے ؟‘‘


       ’’سراسر بیوقوفی ہے۔ ‘‘ کہنے لگے : وہ میرے لڑکپن کا زمانہ تھا،گھر میں چچا مرحوم نے دم رخصت جائیداد میں جو چیزیں چھوڑی تھیں ان میں ایک چھاتہ بھی تھا،عجیب و غریب چھاتہ جسے دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا تھا کہ چھاتے کے موجد نے سب سے پہلے اسے ہی تختہ  مشق بنایا ہو گا۔


       یہی بارش کا زمانہ تھا،جب ہوا تیز چلتی تو چھاتہ ہوا کے زور سے الٹ جاتا،مجھے بڑی خفت ہوتی،ایک دن میں نے یہ چھاتہ چپکے سے چچا مرحوم کے مزار پر جا کر رکھ دیا،دوسرے دن اخباروں میں خبر آئی کہ حکیم ابوالفتح کے مزار سے چھاتہ نکل آیا،میں اس دن خوب ہنسا،چچا مرحوم اگر زندہ ہوتے تو اخبار میں اپنا نام دیکھ کر کس قدر مسرور ہوتے،صاحبزادے سن لی نا چھاتہ نہ خریدنے کی وجہ،آئندہ سے چھاتے کا ذکر نہ کرنا۔ ‘‘


       حکیم صاحب بڑے باغ و بہار قسم کے آدمی تھے،زندہ دلی ان کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،میں نے انھیں اداس کبھی نہیں دیکھا،روتے بسورتے چہروں سے انھیں بڑی نفرت تھی،کہتے تھے جس دن میں کسی اداس چہرے کو دیکھتا ہوں تو میرا سارا کاروبار چوپٹ ہو جاتا ہے۔


       اُن کی رنگین مزاجی اور زندہ دلی کی دلی میں بڑی دھوم تھی،حکیم صاحب کے کوئی اولاد نہ تھی،پھر دلی میں کالرا نے زور پکڑا تو آناً فاناً ان گنت آدمیوں نے اپنا بستر گول کر لیا اور ان کی بیوی نے بھی آنکھیں پھیر لیں،اس وقت بھی ان کے چہرے پر اداسی کی بدلیاں نہیں چھائیں،روایت تو یہ ہے کہ جب وہ قبرستان سے اپنی بیوی کو دفنا کر باہر آئے تو اپنے جگری دوست کو اداس چہرہ بنائے کھڑا دیکھ کہا تھا۔ ’’ابے مردود جورو میری مری ہے اور اداس تو ہے۔ کہیں دال میں کچھ کالا تو نہیں ہے۔ ‘‘


       یہ روایت صحیح ہو یا نہ ہو حکیم جی کی شخصیت بڑی پہلو دار تھی،میں نے کسی انسان کے مزاج میں اتنی بوقلمونی او پیچیدگی نہیں دیکھی،خود میری ممانی نے جب انتقال کیا تو انھوں نے مجھے روتا دیکھ کر سمجھانے کے انداز میں کہا : ’’ مرحومہ کی اجل آئی اور وہ چلی گئیں،زمین پر وہ ایک بوجھ ہی تو تھیں،اتنا رونا دھونا بھی کیا۔ ‘‘


       حکیم جی کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ انھوں نے بیوی کو اپنی زندگی میں ایک لمحہ بھی سکھ نہیں پہنچایا،ہر وقت جلی کٹی سناتے،وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی تو اس کے چہرے کی نقلیں اتارتے۔


       گلی قاسم جان میں انھوں نے اپنا ایک مطب کھول رکھا تھا،ایک چھوٹی سی تنگ ملگی تھی جس میں مشکل سے ایک چھوٹی سی الماری کہیں سے انھوں نے لا رکھی تھی جس پر چھوٹی چھوٹی دواؤں کی شیشیاں تھیں،اس سے ذرا پرے طاق میں دو تین بڑے شیشے رکھے ہوئے تھے جو غالباً عرق گاؤ زبان تھا،انھوں نے اس چھوٹی سی قبر نما ملگی کے اوپری حصے پر ایک بہت بڑا سائن بورڈ لگا رکھا تھا جس پر جلی حروف میں لکھا تھا  :


’’  دلی کا نامور دوا خانہ  ‘‘


       مجھے کبھی بلیماران جانا ہوتا تو گلی قاسم جان بھی جاتا جہاں حکیم جی کا مطب تھا،وہ اکثر تنہا بیٹھے دکھائی دیتے اور کبھی کبھار بھولے بھٹکے کوئی آدمی اس طرف آ بھی جاتا تو اتفاق سے وہ ان کا دوست ہی نکلتا۔


       ایک دن صبح دس بجے میں ان کے مطب گیا،مجھے دیکھتے ہی ان کی باچھیں کھل گئیں۔


       ’’ آؤ صاحبزادے۔ ‘‘ پھر جب انھوں نے اپنی مخصوص باتیں جو ایک طرح سے خوبصورت گالیاں ہوتی تھیں سنائیں تو دو بج گئے،مجھے خبر تک نہ ہوئی،میں نے اجازت چاہی لیکن مصر رہے کہ دوا خانہ بند ہونے تک میں ان کا ساتھ دوں۔


       ’’ دوا خانہ تو اب بھی بند ہے حکیم جی۔ ‘‘


       وہ میری اس بات پر سٹپٹائے اور ان کے مٹیالے چہرے پر خفگی کی ہلکی شکن نمودار ہو گئی۔


       ’’ کیا مطلب ؟ ‘‘


       ’’ مطلب صاف ہے۔ ‘‘ میں زیرِ لب مسکرایا۔


       ،،تم نے کیا مجھے گھٹیا حکیم سمجھ رکھا ہے،میں ٹٹ پونجیوں کا علاج نہیں کرتا،میری دوائیں نوابوں،منسٹروں کے ہاں جاتی ہیں،کل شفقت نواب نے گھر پر بلوایا تھا،میں نے صرف نبض دیکھنے ہی کے دو سو روپے لیے۔ ‘‘


       جب شام ہوئی تو انھوں ے مطب کو تالا لگایا،میں ان کے ساتھ ہی تھا،گلی قاسم جان پار کر کے وہ مجھے حافظ جی کی ہوٹل میں کھینچ لائے،خود سیر ہو کر کھایا اور مجھے چائے پلائی،اس اثنا میں ایک ادھیڑ عمر کا آدمی اندر داخل ہوا جس کے سامنے کے دو دانت غائب تھے،یہ مجھے اس وقت معلوم ہوا جب اس نے بے ڈھنگے انداز میں حکیم جی سے بات شروع کی۔


       ’’ حکیم جی آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔ ‘‘


       ’’میں نے دیکھا،حکیم جی کے چہرے پر شادی کے ذکر کے ساتھ ہی ایک سرخ لہر سی دوڑ گئی وہ معصومانہ انداز میں مسکرائے۔ ’’ تو ہی دیکھ نا مکھی مار۔ ‘‘


       ’’ تم اسے جانتے ہو سعید میاں،یہ میرا پرانا ملازم ہے،یہ میرے گھر میں کام کرنے کے بجائے مکھیاں مارا کرتا تھا اور اب مکھیاں مارنے کے فن میں کچھ اتنا ماہر ہو گیا ہے کہ ایک پریس میں سو روپے کی ملازمت ڈھونڈ لی ہے۔ ‘‘


       حکیم جی کے مزاج میں جو پھکڑ پن تھا اس کا احساس شاید انھیں نہ ہو لیکن ذاتی طور پر میں ان کے پھکڑ پن سے کچھ ڈرا ہوا ہی رہتا تھا،انھیں نام بگاڑ کر کہنے کی بری عادت تھی،یہ عادت آگے چل کر کچھ اتنی شدت اختیار کر گئی کہ انھوں نے اچھے بھلے ناموں کی سرِ بازار پگڑی اچھالنا شروع کر دی۔


       کسی زمانے میں ان کے برابر والے مکان میں ایک داروغہ جی رہا کرتے تھے جن کا نام فیاض علی تھا،انھوں نے فیاض علی کے نام کے آگے،رتالو کا دم چھلا ‘لگا دیا،اتفاق سے جب کوئی شخص فیاض علی کا پتہ ان سے دریافت کرتا تو وہ اطمینان سے کہتے۔ ’’ اس فیاض علی رتالو سے ملنا ہے آپ نے،یہ رہا مکان۔ ‘‘ غرض وہ جو نام رکھتے چل نکلتا،مکھی مار کی مثال خود میرے سامنے تھی۔


       میں بی   اے کا امتحان دے رہا تھا،بدقسمتی سے میرا انگریزی کا پرچہ کچھ خراب گیا،مجھے ڈر تھا کہ کہیں فیل نہ ہو جاؤں،میں نے حکیم جی سے یہ بات کہی تو انھوں نے تیقن آمیز انداز میں کہا۔ ’’یہ تمھارا کام ہو جائے گا،برخوردار۔ بے فکر رہو۔ ‘‘


       میرا پرچہ پروفیسر کپور کے ہاں تھا جن کی کوٹھی ٹیگور روڈ پر واقع تھی۔


       ’’ حکیم جی پروفیسرکپور پتہ نہیں آپ کو جانتے بھی ہیں یا نہیں،ہو سکتا ہے کہ وہ انکار کر دیں۔ ‘‘


       کیا بات کرتے ہو بچو۔ حکیم عبدالمتین کو کون نہیں جانتا،سنیچر کی شام اس پروفیسر کے بچے کے ہاں چلیں گے۔ ‘‘


       میں سنیچر کی شام جب ان کے گھر پہنچا تو وہ چائے پی کر میرا انتظار کر رہے تھے،پہلے انھوں نے کچھ سوچا،پھر کیا بات ذہن میں آئی کہ سلک کی سفید شیروانی اتار دی اور اولن کی کالی شیروانی پہن لی اور چل کھڑے ہوئے،وہ راستہ بھر اپنی بڑائی کرتے رہے۔ ’’ دیکھو پروفیسر مجھ سے مل کر کس قدر مرعوب ہوتا ہے۔ ‘‘


       جب ہم پروفسیر کپور کے گھر ٹیگور روڈ پہنچے تو انھوں نے حکیم جی کو دیکھ کر سیدھے منہ بات بھی نہیں کی،انھیں اس ناکامی سے بڑی خفت اٹھانی پڑی،اپنی اس خفت کو مٹانے کے لیے انھوں نے راستہ بھر جو بچوں کی سی حرکتیں کیں میں اسے کبھی نہیں بھلا سکتا۔ پھر کئی دنوں تک حکیم جی سے ملاقات نہیں ہوئی۔


       ادھر دلی میں چوریاں بہت ہونے لگیں،خاص طور پر لاجپت نگر میں دن دہاڑے چور قفل شکنی سے باز نہیں آر ہے تھے،ایک دن میں نے حکیم جی سے کہا :


       ،،قبلہ آپ لاجپت نگر چھوڑ کیوں نہیں دیتے،وہاں ان دنوں چوریاں ہو رہی ہیں۔ ‘‘


       ’’ حکیم عبدالمتین کے گھر بھلا چور قدم رکھنے کی جرات بھی کر سکتا ہے۔ ‘‘


       ’’ ٹھیک ہے،چور آپ کے گھر آ کر کرے گابھی کیا،‘‘ میں نے طنزاً کہا۔


       میرا تیر نشانے پر جا لگا تھا،وہ بلبلا کر رہ گئے۔


       ’’ برخوردار پیٹ میں سے پاؤں نکالنا ٹھیک نہیں ہے،کوئی ایسا نام رکھ دوں گا کہ زندگی بھر یاد رکھو گے۔ ‘‘


       میں نے گھبرا کر دوسرا موضوع چھیڑ دیا۔


       پھر ایک رات میں گہری نیند کے ہلکورے لے رہا تھا کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا،کھٹ کھٹ، کھٹ کی بے ہودہ سی آواز نے میری نیند اچاٹ کر دی،میں غصے میں تلملا تا ہوا بسترسے اٹھا اور کون ہے کہتا ہوا مندی مندی آنکھوں سے باہر نکل آیا۔ ’’یہ حکیم جی تھے ؟‘‘


       اتنی رات گئے حکیم جی کو دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی،کیا بجا ہو گا۔


       میں نے ایک فراخ انگڑائی لیتے ہوئے بیزار لہجے میں کہا۔


       ’’ یہاں وقت کی کسے پروا ہے صاحبزادے،پہلے اپنی زبان تو ذرا دکھانا،آخر تمھاری کالی زبان کا کہا پورا ہی ہوا،آج رات چور نے میرے گھر کا بالکل صفایا کر دیا۔ ‘‘


       ’’ سچ ‘‘  میں نے حیرت سے کہا۔


       ’’ تو کیا میں جھوٹ۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ بڑبڑائے۔      


       میرے مزید سوال سے پہلے انھوں نے چوری شدہ سامان کی ایک طویل فہرست میرے سامنے رکھ دی۔ ’’ میرا فلپس ریڈیو،برتن،زیورات،کرسیاں،قالین،سب ہی کچھ کمبخت گھسیٹ لے گیا۔ ‘‘


       ’’ کیا آپ نے پولیس میں رپورٹ نہیں لکھوائی ؟‘‘


       ’’ لکھوا کر تو آ رہا ہوں،لیکن چوری کا مال کبھی کسی کو ملا بھی ہے۔ ‘‘ انھوں نے یہ جملہ بڑے مایوسانہ لہجے میں کہا اور تھوڑی دیر بعد وہ مایوس اپنے گھر لوٹ گئے۔


       دوسرے دن وہ ہر شخص سے کہتے پھر رہے تھے۔ ’’میں لٹ گیا،میرا اثاثہ چوری ہو گیا،اب مجھے ایک نئی زندگی شروع کرنی ہو گی۔ ‘‘


       جہاں تک مجھے علم ہے چور نے ان کے گھر سے صرف ریڈیو چرایا،باقی سب باتیں غلط تھیں،اسے اتفاق کہیے کہ چند مہینوں بعد وہ ریڈیو بھی پولیس نے چور کو گرفتار کرنے کے بعد حکیم جی کو دلوا دیا۔


       ایک دن حکیم جی خوش خوش میرے گھر آئے اور فاتحانہ انداز میں کہا : وہ میرا ریڈیو مل چکا ہے۔ سنا تم نے جب چور کو یہ معلوم ہوا کہ ریڈیو عبدالمتین کا ہے تو اس نے گھبرا کر اسے پولیس کے حوالے کر دیا تاکہ یہ مجھ تک پہنچ جائے۔ ‘‘


       حکیم جی دیر تک ڈینگیں مارتے رہے اور میں چپ چاپ ان کی باتیں سنتا رہا۔


       پھر ایک دن جب میں شام کو گھر لوٹا تو حکیم جی کی شادی کا رقعہ میز پر دھرا تھا،یہ اُن کی تیسری شادی تھی،شادی کرتے ہی انھوں نے مطب کو تالا لگا دیا،یہ بات مجھے اس وقت معلوم ہوئی جب میری اچانک ملاقات مکھی مار سے ہوئی،وہ پریس سے واپس لوٹ رہا تھا،اس نے مجھے بتایا کہ حکیم جی نے مطب کو تالا لگا دیا ہے،مجھے یقین نہ آیا،میں اسے رخصت کرتا ہوا گلی قاسم جان گیا،واقعی ملگی کے دونوں پٹ بند تھے اور بد صورت سا زنگ آلود تالا لٹک رہا تھا،ملگی کی دیوار پر کسی زندہ دل نے لکھ دیا تھا :


       وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔


       حکیم جی نے تیسری شادی کیا کی ان سے ملنا دو بھر ہو گیا،ہر وقت بیوی کی آغوش میں گھسے رہتے،ایک دن شام میں نے ان کے گھر جا کر دستک دی،ایک خوبصورت نسوانی ہنسی کی آواز کے ساتھ مجھے حکیم جی کے دبے دبے خوشگوار قہقہے سنائی دیے،میں تھوڑی دیر باہر کھڑا اس بوڑھی محبت پر غور کرتا رہا جسے خضاب کی ضرورت تھی،میں نے ایک اور آواز دی اور اس کے ساتھ حکیم جی مسکراتے ہوئے باہر نکل آئے۔


       ’’ صاحبزادے تم نے بہت برا کیا،مشکل سے بات بنی تھی کہ تم وارد ہو گئے،اب میرے بجائے تم ہی اندر چلے جاؤ،وہ کچھ تو خوش ہو گی بے چاری۔ ‘‘


       حکیم جی بڑے منھ پھٹ واقع ہوئے تھے،بعض وقت ان کے اس بے تکے مذاق سے مجھے بجائے ہنسی کے کوفت سی ہوتی تھی،اکثر اوقات تو میں شرم سے پانی پانی ہو کر رہ جاتا تھا،بات دراصل یہ تھی کہ حکیم جی کی جوانی بڑی رنگینیوں میں گزری تھی،ان کی اکثر راتیں جی بی روڈ پر گزرتی تھیں جہاں رنڈیاں رہتی تھیں،کہتے ہیں انھیں ایک رنڈی ریشماں سے بڑا عشق ہو گیا تھا جو پنجاب کی رہنے والی تھی،ریشماں نے بھی سنا ہے حکیم جی کو ٹوٹ کر چاہا تھا۔


       ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ریشماں نے ایک خوبصورت سا بلاؤز پہن رکھا تھا،جب حکیم جی کوٹھے پر داخل ہوئے تو ریشماں نے انھیں پیار سے تھپتھپایا اور کہا۔


       ’’ ذرا دیکھنا  میرے بلاؤز کو،کتنا خوبصورت ہے یہ کپڑا،سارا دلی چھان مارو تب بھی یہ نہ ملے۔ ‘‘


       ریشماں نے حکیم جی کی انا کو چھیڑا تھا،وہ چپ چاپ اس کے پاس سے اٹھ آئے،چاندنی چوک،کناٹ پیلس کی ساری کپڑوں کی دکانیں چھا ن ماریں لیکن انھیں وہ کپڑا نہ مل سکا،پھر اچانک ہی انھیں پرانی دکان کا خیال آیا جہاں جانا وہ بھول گئے تھے،اتفاق سے انھیں وہاں کپڑا مل گیا،لیکن صرف چھ گرہ 


       حکیم جی پہلے سٹپٹائے،پھر کچھ سوچ کر ایک قہقہہ لگایا،جیسے اپنے آپ وہ کسی نتیجے پر پہنچ گئے ہوں،انھوں نے خوشی خوشی دکان دار سے چھ گرہ کپڑا خریدا اور سیدھے ایک درزی کی دکان پر گئے اور کہا۔


       ’’ میرے ہاں یہ چھ گرہ کپڑا ہے،تم اس کا کچھ بھی سی دو۔ ‘‘ درزی ہنس پڑا۔


       ’’ حکیم جی مرنے کو آ گئے ہیں لیکن زندہ دلی نہ چھوڑی۔ ‘‘


       پھر وہ مایوس ہو کر ایک موچی کے ہاں گئے اور موچی سے بڑی لجاجت سے کہا۔ ’’ اس سلیم شاہی جوتے پہ یہ کپڑا بڑی خوب صورتی سے چڑھا دینا۔ ‘‘


       پہلے موچی نے حیرت بھری نگاہوں سے حکیم جی کو دیکھا پھر سلیم شاہی جوتے کو دیکھ کر وہ آپ ہی آپ مسکرایا اور تیزی سے اس کا کھردرا ہاتھ مشین کی طرح جوتے پر چلنے لگا۔


       رات جب ریشماں نے کپڑے کی بات چھیڑی اور طعنہ دیا تو حکیم جی نے اپنا پاؤں ریشماں کے منہ کے قریب لے جا کر غصے سے کہا۔


       ’’ تم جو کپڑا پہنتی ہو اسے میرا جوتا پہنتا ہے۔ ‘‘


       اور کوٹھے سے اتر آئے۔


       لوگوں کا کہنا ہے،حکیم جی نے پھر کبھی کوٹھے کی صورت نہیں دیکھی،اس کے بعد ریشماں نے بھی کوٹھے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا،دریا گنج والے پنواڑی رکھا مل کا بیان ہے کہ یہ ریشماں حکیم جی کی پہلی بیوی تھی۔


       اس طرح کئی مہینوں سے حکیم جی سے ملاقات نہیں ہوئی تھی،ایک دن اوکھلا موڑ پر ا ن سے ملاقات ہو گئی،انھوں نے آج کمخواب کی خوبصورت شیروانی پہن رکھی تھی اور ہاتھ میں ریشمی رومال تھا،وہ اس لباس میں بالکل دولھا معلوم ہو رہے تھے،میں نے ان سے کم ملنے کا شکوہ کیا تو انھوں نے اس کا جواب اپنی مسکراہٹ سے دیا۔


       ’’اس وقت میں بہت مصروف ہوں،تم گھر جاؤ،وہاں تمھارا کوئی انتظار کر رہا ہے۔ ‘‘


       یہ کہہ کر انھوں نے ٹیکسی ڈرائیور کو آواز دی اور موٹر میں بیٹھ کر چلے گئے۔


       جب وہ چلے گئے تو میں حکیم جی کے بارے میں سوچنے لگا،عجیب آدمی ہے،دو چار منٹ بات بھی نہیں کی،بھلا گھر پر میرا کون انتظار کر رہا ہے،شاید بوڑھے کا سر۔


       میں گھر پہنچا تو مجھے حکیم جی کا ایک رقعہ ملا جس میں ان کی شادی کی تاریخ درج تھی،میں بھونچکا رہ گیا،کیا حکیم جی نے اپنی اس بیوی کو بھی طلاق دے دی،مجھے حکیم جی کے بڑھاپے کے یہ کرتوت پسند نہیں آئے،شاید یہی وجہ تھی کہ میں شادی میں شریک نہ ہو سکا۔


       ایک دن ملاقات ہوئی تو میں ڈر رہا تھا کہ حکیم جی کہیں شادی میں نہ آنے کے سلسلے میں مجھے گالیاں نہ دینے لگیں،لیکن انھوں نے مجھ سے ہمیشہ کی طرح ہنسی ٹھٹھوں کی باتیں کیں،جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو،لیکن مکھی مار کا بیان تھا کہ انھوں نے شادی کے دن مجھے نہ پا کر میری شان میں کچھ کہنے کے بجائے اپنی مرحوم ماں کو جی بھر کر گالیاں دیں۔


       ایک دن حکیم جی سے ملنے میں ان کے گھر گیا،باہر کا دروازہ کھلا پڑا تھا،شیشے کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں،کانچ کے باریک باریک ریزوں کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا تھا جیسے ابھی ابھی کسی نے توڑ پھوڑ کی ہے،مکان پر سناٹا سا طاری تھا،جیسے ایک بہت بڑا طوفان حکیم جی کے گھر کی دیواروں کو منہدم کرتا ہوا چپ چاپ چلا گیا ہو۔


       میں نے ڈر کر آہستہ سے آواز دی۔ ’’ حکیم جی۔ ‘‘


       اور اندر کسی نے غصیلی گرج دار آواز میں جواب دیا۔ ’’ حکیم کے بچے ذرا ٹھہر تو سہی۔ ‘‘


       یہ مکھی مار تھا،اس نے خفت اور شرمندگی کے مارے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا،سعید میاں،دیکھو میری لڑکی کی کیا حالت بنی ہے،میں نے حکیم جی سے اس کی شادی اس لیے تو نہیں کی تھی۔


       میں نے دیکھا،ایک سانولی سلونی دوشیزہ نیم بے ہوشی کے عالم میں زمین پر پڑی تھی،اس کے چہرے پر جا بجا خراشیں تھیں جیسے کسی نے کانچ کے ٹکڑے اس کے چہرے پر پھینک مارے ہوں،پیشانی اور ناک پر بھی زخم کے گہرے نشان تھے،میں جب حکیم جی کے گھر سے باہر نکلا تو پڑوس کے لڑکے نے مجھے دیکھ کر کہا۔


       بابو جی۔ ۔ ۔ بابو جی۔ ابھی ابھی حکیم جی تیز تیز اس قبرستان کی طرف گئے ہیں۔


       میں بجلی کی سی رفتار کے ساتھ جب قبرستان کے پھاٹک کے قریب پہنچا تو دیکھا حکیم جی ایک مٹیالی رنگ کی قبر سے لپٹے پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے اور ان کے پاؤں میں وہی سلیم شاہی جوتا تھا جس پر انھوں نے موچی کے ذریعے چھ گرہ کپڑا لگا لیا تھا   

٭٭٭