کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ڈھلوان

منشا یاد


ہکری اسٹریٹ کے آخری سرے پر ڈھلوان کو روکنے کے لئے حفاظتی دیوار بنی ہوئی تھی۔ جب میں چھوٹا تھا تو سوچتا تھا کہ وہ دیوار مشن ہلز کے علاقے کو پرانی آبادی پر گرنے سے روکتی ہے اور اسی لئے تعمیر کی گئی ہے۔ دیوار کے پاس کھائی خاصی تنگ تھی۔ لیکن نیچے کی طرف چلی گئی تھی، جہاں غریب لوگ اپنے گندے اور خستہ حال مکانوں میں رہتے تھے۔ ہم مشن ہلز کے بچوں کا نیچے پرانی آبادی میں جانا ہماری شان کے خلاف تھا۔ مجھے جان ڈی اور بوبی کو سختی سے منع کیا گیا تھا کہ ہم نیچے نہ جائیں۔ ہمیں تو مشن ہلز اور پرانی آبادی کے درمیان ڈھلوان پر کھیلنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ کیونکہ ہمارے گھر والوں کا خیال تھا کہ وہاں چھوٹے چھوٹے زہریلے سانپ ہیں۔ اگرچہ ہم نے کبھی کوئی سانپ وہاں نہیں دیکھا تھا۔ ہاں ہم نے بیکار اور غریب لوگوں کو گھومتے پھرتے ضرور دیکھا تھا جو کبھی کبھی اوپر مشن ہلز کی نئی آبادی میں کام کی تلاش میں آتے رہتے تھے اور چند پیسوں کے عوض لان کی گھاس کاٹتے، کار کی صفائی کرتے اور دوسرے چھوٹے موٹے کام کرتے دیتے تھے۔ البتہ انہیں کام کے لئے اوپر آنے کی اجازت تھی۔

ہمارے والدین ہمیں دیوار پر بھی کھیلنے کی اجازت نہ دیتے، اگر انہیں پتہ چل جاتا کہ ہم دوسری طرف بھی چلے جاتے ہیں۔ یہ دیوار اوپر سے چار فٹ چوڑی تھی اور کھائی پر بند باندھتی سیدھی دور تک چلی گئی تھی، اگرچہ گرمیوں میں ہم تقریباً روزانہ وہاں کھیلتے مگر مجھے ہمیشہ دیوار کے درمیانی حصے میں جاتے ہوئے خوف آتا تھا کیونکہ اس جگہ سے دیوار خاصی تنگ تھی اور جب نیچے نگاہ جاتی تھی تو نیچے لڑھک جانے کا خوف ذہن پر چھا جاتا تھا۔ یہ دیوار نئی آبادی کی طرف کم جھکی ہوئی تھی اور ڈھلوان نیچے کی طرف دور تک چلی گئی تھی۔ اس میں جگہ جگہ زنگ آلود سرئیے گڑھے ہوئے تھے اور اگر کوئی ان پر گر پڑتا تو پھر وہ اس کے جسم کے پار ہو جاتے۔ ادھر نیچے پرانے ڈرم اور کٹے ہوئے کنستر کیلوں والے بورڈ اور اینٹوں کے روڑوں کے ڈھیر پڑے تھے۔ جنہیں نئی آبادی کے لوگوں نے پھینک دیا ہوا تھا۔ اگرچہ محکمہ پولیس کی طرف سے کوڑا کرکٹ نہ پھینکنے کی ہدایت ایک بورڈ پر لکھی نظر آتی تھی۔ جان ڈی کا کہنا تھا کہ نئی آبادی کی جانب والی کھائی ایک دن اسی طرح پر ہو جائے گی۔

ایک عرصہ تک ہم نے جو بڑی جرات مندی کا کارنامہ انجام دیا تھا وہ یہ تھا کہ ہم دیوار پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ جاتے تھے اور ظاہر کرتے تھے کہ ہم ایسا کرتے وقت بالکل خوفزدہ نہیں ہوتے حالانکہ اندر میں بہت خوفزدہ رہتا اور مجھے پتہ تھا کہ بوبی کو بھی ڈر لگتا تھا اور یقیناً جان ڈی بھی اندر سے خوفزدہ ہوتا تھا مگر ہم سب ظاہر نہیں کرتے تھے۔ پھر ایک بار ہم نے سکیسنگ کا مظاہرہ کیا، اگرچہ اسے سکیسنگ کہنا درست نہیں۔ ہم یونہی لکڑی کی کھڑاؤںپہن کر ادھر ادھر چل لیتے۔ یہ جان ڈی کی اختراع تھی۔ چنانچہ ہم نے پہلے اسے ہی چلنے کو کہا۔ اس کے بعد مجبوراً مجھے جانا پڑا اور ہم دونوں بوبی پر اس وقت تک ہنستے رہے جب تک کہ اس نے بھی کر نہیں دکھایا حالانکہ اس کا چہرے اور بھی زرد ہو گیا، جب اس نے مجھے اور جان ڈی کو ڈھلوان پر سائیکلیں چلانے کی باتیں کرتے سنا لیکن ہم تو محض شیخیاں مار رہے تھے۔

لیکن پھر ہماری ڈینی سے ملاقات ہو گئی۔

جب ہم نے پہلی بار ڈینی کو دیکھا تو ہم اپنی طرف کھائی میں تھے اور کوکا کولا کے اشتہار کے بورڈ پر پتھروں سے نشانے لگا رہے تھے۔

"ارے.... وہ کون ہے؟" بوبی نے کہا۔

اور میں نے دیکھا کہ وہ لڑکا دیوار کے اوپر بیٹھا ہوا تھا۔ اسے دیکھتے ہی پتہ چل گیا کہ اس کا تعلق پرانی بستی سے ہے۔ وہ بہت مریل سا لڑکا تھا۔ اس نے لمبا چوغہ پہنا ہوا تھا اور اس کے پاؤںکے ننگے سیاہ تلوے نظر آرہے تھے۔

"اوئے؟" جان ڈی پکارا۔ اس کی آواز عجیب سی تھی۔ "چل اتر دیوار سے۔"

"کیوں؟" لڑکے نے جواب دیا۔ "تم کون ہوتے ہو مجھے دیوار سے اتارنے والے؟" تمہارا خیال ہے میں نہیں اتار سکتا؟"

"اور تمہارا خیال ہے کہ تم مجھے اتار سکتے ہو۔ موٹے؟"

جان ڈی کو بہت غصہ آیا۔ ویسے وہ اتنا موٹا نہیں تھا۔ ہم بوبی کو پیچھے چھوڑ کر دیوار پر چڑھ گئے۔ بوبی کی جرابیں ہمیشہ اتر کر جوتوں میں اکٹھی ہو جاتی تھیں اور اسے بار بار اوپر چڑھانے کے لئے رکنا پڑتا تھا۔ پرانی آبادی کا لڑکا ہم دونوں سے چھوٹا تھا وہ بوبی کا ہم عمر ہو گا، اس لئے جان ڈی کے لئے اس سے لڑنا مناسب بات نہیں تھا۔ میں نے جان ڈی کو یہ بات بتائی لیکن خود اسے بھی اس کا احساس تھا کہ اپنے سے چھوٹے پر ہاتھ اٹھانا ٹھیک نہیں۔

"کیا نام ہے تمہارا؟" میں نے پوچھا۔

اس نے اپنا نام ڈینی بتایا۔ اس کے دانت خراب تھے اور وہ اپنے لمبے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ میرا نام رکے ہے، دوسرا جان ڈی ہے اور جو پیچھے آ رہا ہے اس کا نام بوبی ہے۔ ہم سب دیوار پر بیٹھ گئے۔ جان ڈی نے کہا۔ "تم پرانی آبادی سے آئے ہو نا؟"

ڈینی نے اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے نیچے کی طرف تھوکتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ اس کی تھوک دیوار سے ٹکرانے کے بجائے خاصی دور جا گری۔ جان ڈی نے کہا۔ "پرانی آبادی میں ایک معمولی سا اسکول تو ہے لیکن یقیناً تم سکول نہیں جاتے ہو گے۔ نئی آبادی میں تو سب بچے اعلیٰ درجے کے سکولوں میں پڑھتے ہیں۔" "پرانی آبادی کے سکولوں میں کیا خرابی ہے۔" بوبی نے پوچھا۔ وہ ہمیشہ اسی قسم کے سوال اٹھاتا رہتا تھا۔ جان ڈی نے اسے تیز نظروں سے دیکھا اور کہا۔ "یہ سکول پرانی آبادی میں ہے۔ یہی اس کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ تمہیں اس بات کا پتہ ہونا چاہئے۔"

بوبی نے جان ڈی کو حیرت سے دیکھا مگر خاموش رہا۔

ڈینی اب بھی اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے تھوک نیچے پھینک رہا تھا۔ میں نے تجویز پیش کی۔ "کیوں نہ واپس چل کر ہم پھر کوکا کولا کے بورڈ پر نشانے لگائیں۔" ڈینی ہمارے ساتھ ہولیا اور اس نے ہم سب سے بہتر نشانے لگائے۔ اس پر جان ڈی کو غصہ آیا اور اس نے اپنی سبکی محسوس کی۔ دس میں سے میں نے اور جان ڈی نے آٹھ مرتبہ اور ڈینی نے نو بار صحیح نشانے لگائے۔ بوبی صرف پانچ پتھر صحیح نشانے پر پھینک سکا۔ پھر جان ڈی نے کہا کہ آؤدیکھتے ہیں دیوار کی چوٹی تک کون پتھر پھینک سکتا ہے۔ اس مرتبہ جان ڈی جیت گیا۔

"میں اس سے بھی بہتر پتھر پھینک سکتا ہوں۔" جان ڈی نے فخریہ لہجے میں کہا۔ "ایک بار میں نے بہت بڑا پتھر چوٹی تک اچھالا تھا۔‘’‘

ڈینی نے جان ڈی کو حیران کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے کہا "ایسے پتھر ہماری آبادی کے کئی لوگوں کا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔"

"ہوں...." جان ڈی نے حقارت سے کہا۔ "پرانی آبادی کے لوگ؟"

پھر اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر بکرا بلایا.... ڈینی نے اس سے زیادہ بلند آواز میں بکرا بلایا.... پھر اس نے ایک لمبی ڈکار سی لی۔ جان ڈی نے بھی ڈکار لی مگر وہ کچھ اچھی نہ تھی۔ ڈینی نے اپنی دو انگلیاں منہ میں ڈال کر اتنی زور سے سیٹی بجائی کہ میں نے اتنی تیز اور اونچی آواز کی سیٹی پہلے نہیں سنی تھی۔ جان ڈی نے سیٹی بجانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ہم میں سے کسی کو سیٹی بجانا نہ آتی تھی۔ جان ڈی نے خفیف ہو کر کہا۔ "میں پرانی آبادی کے لوگوں کو جانتا ہوں۔ وہ اکثر ہمارے ہاں نئی آبادی میں آ جاتے ہیں۔ کبھی رہنے کے لئے جگہ مانگتے ہیں، کبھی ایک آدھ روٹی یا کھانے پینے کی کوئی چیز.... ممی ان کو باغیچے کی گھاس کاٹنے کا کام دیتی ہیں.... دیکھو! اگر تمہارے باپ کو کام نہ ملتا ہو تو میں ممی سے کہہ کر گھاس کاٹنے کا یا کوئی دوسرا کام دلوا دوں گا۔" ڈینی نے جواب دیا "اور تمہارے ڈیڈی کو کام نہ ملتا ہو تو میں اسے کام دلا دوں گا۔"

"تمہارا باپ کیا کام کرتا ہے۔" میں نے پوچھا۔

"وہ آئل فیکٹری میں کام کرتا ہے۔"

"کیا تم لوگ بکریاں نہیں پالتے؟" بوبی نے پوچھا۔

پھر میں نے اسے بتایا کہ میرا باپ بہت بڑا انشورنس ایجنٹ ہے۔ جان ڈی نے کہا کہ میرا باپ بنک کا وائس پریزیڈنٹ ہے۔ بوبی نے اس سے پوچھا۔

"تمہارا باپ فیکٹری میں کیا کام کرتا ہے؟"

جان ڈی نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ صرف کالے اور میکیسکی لوگ آئل فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے، ڈینی کا باپ بیکار آوارہ گردی کرتا ہے۔ "ڈینی نے جواب میں جان ڈی کے باپ کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کئے۔ جس پر جان ڈی نے اسے دھکا دے کر کوکا کولا کے بورڈ پر گرا دیا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور آگے بڑھ کر جان ڈی کے پیٹ میں ایک زور کا مکا رسید کیا۔ لیکن جان ڈی نے اسے گرا لیا اور پیٹنا شروع کر دیا۔ ہم نے مشکلوں سے پکڑ کر الگ کیا اور اسے اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ ڈینی اٹھ کر چلا نہ گیا۔ ڈینی کھائی پار کرنے لگا تو اس نے مڑ کر اپنے کندھے کے اوپر سے تھوکنے کی کوشش کی۔ جان ڈی نے اسے دھمکی دی کہ وہ آئندہ اپنی شکل نہ دکھائے اور دیوار کے اس طرف نہ آئے ورنہ یہ اس کے حق میں اچھا نہ ہو گا۔

لیکن دو ہی روز بعد ڈینی پھر ادھر آ نکلا اور اس کی جان ڈی سے پھر لڑائی ہوئی۔ جان ڈی جیت گیا لیکن ڈینی نے مکا مار کر اس کی ناک لہولہان کر دی تھی۔ ڈینی جان ڈی کے باپ کے متعلق اس وقت تک اپنے الفاظ واپس لینے کو تیار نہ تھا جب تک جان ڈی اس کے باپ کے بارے میں اپنے الفاظ واپس نہ لے۔ چنانچہ تنگ آ کر جان ڈی نے اپنے الفاظ واپس لے لئے اور ڈینی نے کہا۔ "اچھا میں بھی واپس لیتا ہوں۔"

اس کے بعد بھی ہم اکثر ڈینی کو یہاں دیکھتے۔ ایک دفعہ جان ڈی لاس اینجلس گیا ہوا تھا۔ ڈینی نے مجھے اور بوبی کو بتایا کہ وہ پرانی بستی کے لڑکوں کے ساتھ کھیلنا پسند نہیں کرتا۔ ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا مطلب تھا پولیس کے ہتھے چڑھ جاؤکیونکہ وہ اکثر ایسے ہی کام کرتے تھے۔ بوبی کو ڈینی اچھا لگتا تھا.... مجھے بھی وہ ناپسند نہیں تھا لیکن جان ڈی اور ڈینی کی نہیں بنتی تھی۔ جان ڈی ہمیشہ پرانی آبادی کے لوگوں کے خلاف باتیں کرتا تھا اور تب ڈینی اسے موٹا کہہ کر چڑاتا تھا۔ جس سے اسے سخت غصہ آتا تھا۔ ڈینی کا جان ڈی کو موٹا کہنا صحیح نہیں تھا لیکن جان ڈی جو کچھ پرانی آبادی والوں کے بارے میں کہتا تھا وہ باتیں ٹھیک تھیں، وہ لوگ ایسے ہی تھے۔جان ڈی اگرچہ موٹا تھا لیکن اتنا موٹا بھی نہیں تھا۔ اگرچہ ڈینی پرانی آبادی کا رہنے والا نہ ہوتا تو اسے پتہ ہوتا کہ جان ڈی کا اس کی پٹائی کرنا کسی طرح جائز نہ تھا اور اس لئے وہ ہچکچاتا تھا۔ کیونکہ ڈینی اس سے کہیں چھوٹا تھا اسے مارنا ایسی ہی بری بات تھی جیسی میں یا جان ڈی بوبی کو مارتے، جبکہ بوبی بھی ابھی گیارہ سال کا تھا۔

ایک دفعہ ہکری اسٹریٹ کے کنارے سائیکلیں چلا رہے تھے تو ہم نے ڈینی کو دیوار پر دیکھا۔ ہم نے اسے اوپر بلایا اور میں نے اسے اپنی سائیکل لانے اور ہمارے ساتھ چکر لگانے کی دعوت دی۔

"میرے پاس اب میری سائیکل نہیں رہی۔" اس نے جواب دیا۔ اس نے میری سائیکل کی طرف دیکھا جو بالکل نئی تھی اور جان ڈی اور بوبی کی سائیکل سے اچھی تھی۔

"تمہاری سائیکل کیا ہوئی؟" بوبی نے پوچھا۔

"وہ چوری ہو گئی۔"

"میں شرط لگاتا ہوں کہ اس کے پاس کبھی سائیکل تھی ہی نہیں۔" جان ڈی نے کہا۔

"میرے پاس تھی اور میں چلاتا بھی تھا۔" ڈینی نے جواب دیا۔ "چلو نیچے چل کر کھیلتے ہیں۔"

"تم میری سائیکل لے کر چلا لو۔" بوبی نے پیشکش کی۔

لیکن ڈینی اس کی سائیکل نہیں لینا چاہتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی سائیکل کافی عرصہ ہوا گم ہو گئی تھی اور شاید اب وہ اچھی طرح سائیکل چلانا بھول گیا ہو، اس لئے وہ نہیں چاہتا تھا کہ بوبی کی سائیکل کو کوئی نقصان پہنچے۔ یقین تو مجھے بھی نہ آتا تھا کہ کبھی اس کے پاس سائیکل رہی ہو گی لیکن خاموش رہا مگر جان ڈی بولا۔

"اگر ایک دفعہ سائیکل چلانی آ جائے تو پھر بھولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"

پھر وہ اپنی سائیکل پر سوار ہو گیا اور ہینڈل پر پاؤںرکھ کر واپس آتے ہوئے بولا۔ "کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟"

اسے پتہ تھا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ پھر اس نے ڈینی کی طرف دیکھا اور بولا۔ "ڈینی.... تم اپنے ابا سے کیوں نہیں کہتے کہ تمہیں ایک سائیکل خرید دیں۔ تاکہ تم بھی ہمارے ساتھ سائیکل چلا سکو۔"

مجھے سائیکل کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔" ڈینی نے کہا۔ "پہلے بھی جب میرے پاس سائیکل تھی تو بیکار ہی گھر میں کھڑی رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے چوری ہو جانے پر میں نے زیادہ پروا نہیں کی۔"

جان ڈی نے ایسا قہقہہ لگایا جسے سن کر مجھے غصہ آتا تھا۔ پھر اس نے اور چھوٹے دائرے بنانے اور چکر لگانے شروع کر دیئے۔ پھر بولا۔

"میں شرط لگاتا ہوں کہ تم میں کوئی ایسا نہیں کر سکتا۔"

ڈینی منہ لٹکائے جان ڈی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر درشتی کے آثار تھے اور اس کے باہر کو نکلے ہوئے میلے دانت نچلے ہونٹ میں سختی سے گڑھے ہوئے تھے۔ آخر وہ بولا:

چلو نیچے چلتے ہیں میں یقیناً کچھ نہ کچھ ایسا کر سکتا ہوں۔ جو تم سب نہیں کر سکتے۔"

ہم اپنی سائیکلیں تھامے اس کے پیچھے نیچے اترے۔ وہ پیچھے دیکھے بغیر دیوار کے درمیان میں چلا گیا۔ تب اس نے دیوار کے کنارے پر چلنا شروع کر دیا۔ پھر اس نے اپنے بازو پھیلائے اور مزید کنارے کی طرف جا کر ایک ٹانگ پر کھڑا ہو گیا اور دوسری ٹانگ دیوار سے باہر ہوا میں لہرائی اور اکیلی ٹانگ پر بیٹھکیں لگانے لگا۔

"یہ تو کچھ بھی نہیں۔" جان ڈی نے کہا اور کنارے پر جا کر اس نے بھی بیٹھکیں لگانی شروع کر دیں اگرچہ وہ ڈینی کی طرح عمدہ نہیں تھیں اور جان ڈی جلد ہی ہانپنے لگا تھا لیکن وہ خوش تھا۔ "یہ تو کچھ بھی نہیں۔"

اب میری باری تھی اور میرا کوئی ارادہ ایسا کرنے کا نہیں تھا۔ ادھر ڈینی کا دھیان جان ڈی کی طرف تھا۔ اس کے چہرے پر پہلے کی طرح درشتی کے آثار پیدا ہو گئے تھے۔ اس نے کہا۔ "اچھا تو تم ایسا تو بالکل نہیں کر سکتے۔" اور یہ کہہ کر وہ دیوار کی کگر کو ہاتھوں سے پکڑ کر ہوا میں لٹک گیا اور اسی طرح لٹکے لٹکے ڈھلوان اترتا چلا گیا۔ ڈینی نے آواز دی۔ "ڈینی باز آ جاؤ۔" ایسا ہر گز نہ کرو۔ "لیکن وہ چلتا رہا۔ میں نے اسے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا اور دیوار کے ساتھ گھسٹتا اور جان ڈی کی طرف دیکھتا بہت دور نیچے چلا گیا جہاں سے اس کا سر اور صرف ہاتھ نظر آرہے تھے۔ میں نے سوچا کہ وہ خود کو گرانے پر تلا ہوا ہے۔ مجھے اس کے نیچے زنگ آلود سرئیے تیروں کی طرح گڑھے نظر آرہے تھے اور اس سے پرے کھائی میں ٹوٹے ہوئے کنستر اور کوکاکولا کے اشتہار کے بورڈ کے نوکیلے کنارے صاف دکھائی دے رہے تھے۔

"میں شرط لگاتا ہوں تم ایسا نہیں کر سکتے۔"

اس کا سر دوبارہ ابھرا تو میں نے دیکھا اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور کنکریٹ پر رگڑی ہوئی ہاتھوں کی انگلیاں سفید ہو رہی تھیں۔ جان ڈی کا چہرہ بھی تمتمایا ہوا تھا لیکن وہ بوکھلایا ہوا بھی تھا۔ جب اس نے میری اور بوبی کی طرف دیکھا تو مجھے ایسا لگا جیسے وہ آگے بڑھ کر ڈینی کے ہاتھوں پر حملہ کرنے والا تھا۔ جس سے اس نے دیوار کے کنارے کو پکڑ رکھا تھا اور یہ صورت حال مجھے اس سے بھی بدتر محسوس ہوئی جو ڈینی نے پیدا کی تھی لیکن پھر وہ جان ڈی کے بارے میں ایسا سوچنے پر مجھے ندامت ہونے لگی۔ ڈینی دوبارہ اوپر چڑھنے لگا تو دیوار کے کنارے پر کہنی ٹکا کر اس نے دم لیا۔ بوبی نے کہا۔

"ہمیں اس کی مدد کرنی چاہئے۔"

بوبی نے ڈینی کی مدد کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا اور میری طرف دیکھ کر مجھے بھی مدد کے لئے پکارا۔ لیکن جان ڈی نے اسے پیچھے ہٹا دیا اور میں بھی خاموش کھڑا رہا۔ جان ڈی کو بوبی پر بھی غصہ آ رہا تھا۔ میں ڈینی کی مدد کرنا چاہتا تھا لیکن جان ڈی سے بگاڑنا بھی نہیں چاہتا تھا اس لئے میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں میں نے کہا۔ "اب اسے خود ہی اوپر چڑھنا چاہئے۔"

"میں چڑھ لوں گا۔" ڈینی نے کہا اور گھما کر ٹانگ دیوار کے کنارے پر ٹکا دی مگر دوسرے ہی لمحے اس کا پاؤںپھسل گیا اور بوبی کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ میں بھی چلایا اور سوچا کہ ڈینی کا کام اب تمام ہو گیا۔ مجھے وہ سرئیے سامنے گڑھے نظر آرہے تھے جو اس کے جسم کے پار ہو سکتے تھے لیکن ڈینی پھر سنبھل گیا اور اوپر چڑھنے کی جدوجہد کرنے لگا۔ اس کی گردن کے پٹھے پھولے ہوئے تھے۔ اس نے مضبوطی سے کنکریٹ میں انگلیاں گاڑھی ہوئی تھیں۔ آخر وہ زور لگا کر اور اچھل کر اوپر چڑھ آیا اور دیوار کے اوپر لیٹ کر سانس لینے لگا۔ اس کا سیاہ چہرہ پسینے سے تر تھا اور اس کے جسم کا سامنے کا حصہ کنکریٹ سے رگڑنے کی وجہ سے سفید ہو رہا تھا۔

"تم ایسا بالکل نہیں کر سکتے موٹے۔" اس نے جان ڈی سے کہا۔

مجھے پتہ تھا جان ڈی ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس نے ڈینی کی طرف نہیں دیکھا لیکن پھر کچھ سوچ کر بولا۔ "میں تم سے بہتر بھی کچھ کر سکتا ہوں۔"

وہ اٹھا اور سائیکل لے کر پیچھے چلا گیا اور پھر زور زور سے پیڈل چلاتا ہوا دیوار کی ڈھلوان چڑھنے لگا۔ چوٹی پر پہنچ کر جب سائیکل کی رفتار سست پڑ گئی تو اترنے سے پہلے گر پڑا۔ وہ جلدی سے اٹھا، کپڑے جھاڑ کر اور ڈینی کی طرف دیکھ کر بولا۔ "کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟"

"میں کر لیا کرتا تھا۔" ڈینی نے کہا۔ "میں ایسا کر لیتا اگر میری سائیکل چوری نہ ہو گئی ہوتی۔"

"تم سخت جھوٹے ہو۔" جان ڈی چلایا۔ "تمہارے پاس کبھی سائیکل تھی ہی نہیں۔

تمہارا بوڑھا غریب باپ تمہیں سائیکل خرید کر دے ہی نہیں سکتا۔"

پھر وہ میری طرف مڑا اور بولا "رکے کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟"

میں نے کہا۔ "میں نے کب ایسا کرنے کا دعویٰ کیا ہے؟"

"بزدل!" وہ چلایا۔ "تم بھی بزدل اور ڈرپوک نکلے۔ بہتر ہے کہ تم بھی میلے دانتوں والے ڈینی کے ہمراہ نیچے کی آبادی میں چلے جاؤ۔ تم جیسے بزدل اور ڈرپوک کو مشن ہلز کی آبادی میں نہیں رہنا چاہئے۔"

مجھے غصہ آیا اور جی چاہا کہ اس کے منہ پر تھپڑ مار دوں لیکن پھر مجھے یاد آیا کہ وہ اس سے پہلے دو مرتبہ مجھے پیٹ چکا تھا۔ مگر میں اس کی یہ باتیں بھی نہیں سن سکتا تھا اس لئے میں نے کہا۔ "ٹھیک ہے موٹے" اور اپنی سائیکل لینے چلا گیا۔

جان ڈی، بوبی کے سامنے اپنی بڑ ہانک رہا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ صرف وہی دیوار پر سائیکل چلا سکتا تھا۔ میں نے ڈھلوان پر سائیکل چڑھائی۔ میں اس وقت تک خوفزدہ نہیں تھا کیونکہ میں نے نیچے یا اپنے ارد گرد نظر نہیں دوڑائی تھی۔ میں پیچھے سے تیزی سے آتا ہوا دیوار پر چڑھ گیا اور جلدی جلدی پیڈل مارنے لگا۔ میں نے گردن جھکائی ہوئی تھی تاکہ مجھے آنکھوں کے کنارے سے کھائی کی گہرائی نظر نہ آ سکے حالانکہ میں اتنا تیز جا رہا تھا کہ میں نے آج تک اتنی تیز سائیکل نہیں چلائی تھی لیکن پھر بھی مجھے لگتا تھا جیسے درمیانی حصے میں پہنچنے میں مجھے کئی گھنٹے لگ جائیں گے۔ پھر اچانک میں نے دیکھا کہ میں درمیانی حصے سے آگے بڑھ گیا ہوں اور ابھی تک میری سائیکل ٹھیک جا رہی تھی۔ میں نے صرف ایک بار نیچے پرانی آبادی کی طرف نگاہ کی تو مجھے بڑی گلی جہاں خرید و فروخت ہوتی تھی اور آئل فیکٹری جہاں ڈینی کا باپ کام کرتا تھا نظر آئے اور نیچے ڈرموں کا ڈھیر دکھائی دیا۔ میں سائیکل چلاتا ہوا دیوار کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ اب میں پرانی آبادی سے اتنا بلند تھا جتنا میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور مجھے اس بلندی سے خوف بھی آ رہا تھا۔ میں زور زور سے پیڈل مار رہا تھا۔ اب مجھے گرنے کا خوف تھا اور یہ خوف اس لئے بھی تھا کہ میں بہت تیز جا رہا تھا اور اب رک نہیں سکتا تھا اور کسی طرف مڑنا یا واپس جانا بھی ممکن نہیں تھا اور دوسری طرف جان ڈی تھا جس کا قد مجھے اپنے سے بڑا ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اگر میں ہار جاتا تو مجھے جینے نہ دیتا.... لیکن پھر میں نے سوچا کہ جب پیچھے ہٹنے یا رکنے کا امکان نہیں تو پھر ڈرنا فضول ہے۔ اب تیر کمان سے نکل چکا تھا اور واپس کمان میں نہیں آ سکتا تھا اس لئے میں نے خوف کو ذہن سے جھٹک دیا۔ پھر پتہ نہیں کب اور کیسے میں جان ڈی کے پاس سے گزرا، پھر بوبی کے پاس سے اور پھر ڈینی کے پاس سے اور میں چوٹی پر پہنچ گیا اور میں نے سائیکل کی رفتار کم ہوتے ہی چھلانگ لگا دی اور گرنے سے بچ گیا۔ میں نے سوچا تھا کہ جان ڈی کو اس کی سست رفتاری اور اترتے وقت گر جانے کا طعنہ دوں گا لیکن اب میرا جی نہ چاہا۔ اس کے بجائے میں ڈینی کی طرف مڑا اور اس پر زور زور سے ہنسا اور ہنستا ہی چلا گیا تانکہ بوبی نے مجھے بتایا کہ ڈینی بھی اس کی سائیکل لے کر ڈھلوان پر چلانے کے لئے تیار ہے۔ میں نے دیکھا بوبی چیخ رہا تھا اور جان ڈی ٹانگیں چوڑی کئے سامنے کھڑا تھا اور نیکر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے تماشا دیکھ رہا تھا۔ ڈینی نے بوبی سے سائیکل لی اور نیچے کھائی کی طرف چل دیا.... وہ ٹانگیں چوڑی کئے سائیکل پکڑے جا رہا تھا تو جان ڈی نے ہولے سے کہا۔

"وہ کوشش نہیں کرے گا۔ اسے تو سائیکل چلانی آتی ہی نہیں۔"

میں نے بھی سر ہلایا لیکن بوبی کچھ نہ بولا۔ ہم ڈینی کو دیکھنے لگے۔

کافی دور جا کر اس نے سائیکل پر سوار ہونے کی کوشش کی تو گر پڑا۔ بوبی چلایا اور ڈینی کو منع کیا کہ وہ ایسا نہ کرے لیکن اس نے دوبارہ کوشش کی۔ تب جان ڈی نے چلانا شروع کر دیا کہ وہ بزدل اور ڈرپوک ہے۔ پھر اس نے پرانی بستی کے لوگوں کے بارے میں بکواس شروع کر دی۔ اس نے ڈینی کو طعنے دیئے کہ اس کا باپ اتنا غریب تھا کہ وہ اسے سائیکل لے کر بھی نہیں دے سکتا تھا اور اس کے پا س اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ اس کے دانت ٹھیک کرا سکے، اسے اچھے کپڑے خرید کر دے اور اس کے بال کٹوائے اور مشن ہلز کے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے کے قابل بن اکر بھیجے۔

ڈینی نے ترکی بہ ترکی جواب دیئے۔ پہلے جان ڈی کو برا بھلا کہا، پھر ہم سب کو گالیاں دیں اور ہمارے باپوں کے بارے میں گھٹیا الفاظ استعمال کئے۔

اس نے ایسی گندی گالیاں دیں جو ہم نے اپنی نئی آبادی میں کبھی نہیں سنی تھیں۔ جان ڈی کا پتہ نہیں لیکن مجھ سے یہ برداشت نہ ہو سکا اور میں نے ایک پتھر اٹھا کر اسے مارا وہ زیادہ دور نہ جا سکا اور کھائی میں جا گرا۔ جان ڈی نے بھی پتھر اٹھا کر پھینکا مگر وہ بھی اسے نہ لگا۔

ڈینی خاموش ہو گیا۔ وہ سائیکل کے اوپر بیٹھا ہوا تھا اس کی قمیض اور پتلون کے سامنے کا حصہ اب تک گرد سے اٹا ہوا تھا اور وہ اپنے ہاتھوں سے بالوں کو ٹھیک کر رہا تھا۔ میں ایک اور پتھر تلاش کر رہا تھا میں نے بوبی کے چہرے پر نگاہ کی تو وہ ہم سے پیچھے ہٹ کر کھڑا تھا اور میری اور جان ڈی کی طرف حیران حیران نظروں سے دیکھ رہا تھا، اس سے مجھے شرمندگی محسوس ہوئی۔ جان ڈی نے چند ایک پتھر اور پھینکے اور میں نے بھی ایک پتھر اور پھینکا اور اگرچہ ڈینی کو ایک بھی نہیں لگا مگر اب میرا دل قدرے ہلکا ہو گیا تھا۔ صرف میں بوبی سے نظریں ملانے سے کترا رہا تھا۔

جان ڈی نے کہا۔ "ڈینی سائیکل چرانا چاہتا ہے۔"

میرا بھی یہی خیال تھا اور مجھے اب افسوس ہو رہا تھا کہ میں نے ناحق جان ڈی کو موٹا کہا تھا۔ پھر ہم دونوں بوبی کو پیچھے آتا چھوڑ کر دیوار پر چلتے گئے۔ جب ہم گلی کے سرے پر پہنچے تو ڈینی بوبی کی سائیکل لے کر غائب ہو چکا تھا۔ ہم نے اسے پرانی آبادی کی سڑک پر دیکھا لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا۔

"وہ بوبی کی سائیکل لے اڑا ہے۔" جان ڈی نے کہا۔

"میرا خیال ہے ہمیں اپنی سائیکلوں کی بھی خبر لینی چاہئے کہیں وہ انہیں بھی نہ اڑا لے جائے۔"

"چور کہیں کا۔" مجھے غصہ آ رہا تھا۔

"وہ سائیکل واپس لے آئے گا۔" بوبی نے اطمینان سے کہا۔

"بس تمہیں اتنا ہی پتہ ہے۔" جان ڈی نے کہا۔ "اب تم وہ سائیکل کبھی نہ دیکھ سکو گے۔"

"شاید ہمیں پولیس بلانا پڑے۔" میں نے کہا اور جان ڈی نے کہا۔

"ہاں ہمیں پولیس کو لے کر اس کا گھر تلاش کرنا چاہئے۔"

ہم دونوں ہکری اسٹریٹ میں جان ڈی کے گھر گئے۔ بوبی اپنی جرابیں ٹھیک کرنے کے لئے پیچھے رہ گیا۔ وہ آنا بھی نہیں چاہتا تھا لیکن ہم اسے زبردستی لا رہے تھے۔ جب ہم نے مسز ڈ نموتھ کو سائیکل چوری ہو جانے کے بارے میں بتایا تو انہیں بالکل یقین نہ آیا لیکن جب ہم نے انہیں بتایا کہ وہ پرانی آبادی کا لڑکا تھا اور شاید اسی دن کے لئے وہاں اکثر منڈلاتا رہتا تھا تو انہیں یقین آگیا۔ چنانچہ انہوں نے فوراً ٹیلی فون کر کے پولیس کو بلا لیا۔

پولیس والوں نے یقین دلایا کہ وہ ابھی جا کر سائیکل برآمد کر لیں گے۔ پولیس سائیکل اور ڈینی کی تلاش میں چلی گئی تو مسز ڈ نموتھ نے ہمیں آئس کریم کھلائی اور ہم بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔ بوبی چپ چا پ تھا۔

میں نے اسے تسلی دی۔ "تمہیں تمہاری سائیکل مل جائے گی وہ اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔"

جان ڈی نے آئس کریم چاٹتے ہوئے کہا کہ ۔"وہ اس کمینے چور کو پکڑ لیں گے۔"

"وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟" بوبی نے اداس لہجے میں پوچھا۔

"پتہ نہیں۔" میں نے کہا۔

"مجھے پتہ ہے۔" جان ڈی نے جواب دیا۔

"کیا؟" میں نے اور بوبی نے ایک ساتھ پوچھا۔

"وہ اسے قیدیوں کے اصلاح خانے میں رکھیں گے۔" جان ڈی نے کہا۔ "اور جب وہ ذرا بڑا ہو جائے گا تو وہ اسے جیل میں بند کر دیں گے۔"

بوبی اچھل پڑا۔ اس نے پہلے جان ڈی کو اور پھر مجھے دیکھا۔ اس کا منہ لٹکا ہوا تھا اور وہ رونے والا تھا۔ اچانک وہ جان ڈی پر پل پڑا اور اس کے سر پر دو ہتڑ مارنے اور سسکیاں لینے لگا۔

جب میں نے اسے چھڑانے کی کوشش کی تو اس نے مجھے بھی تھپڑ رسید کر دیا۔ لیکن اسے لڑائی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ میں جان ڈی کے برابر کا تھا اور ہم دونوں اس سے کہیں زیادہ طاقتور تھے۔ چنانچہ ہمیں بوبی کو نیچے گرانے اور اس کے اوپر چڑھ کر بیٹھ جانے میں زیادہ دقت پیش نہ آئی۔

٭٭٭