کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کنگن

نجمہ ثاقب


دونوں کنگن جُڑواں تھے۔ ایک سا ڈیزائن، ایک سے جڑے نگینے، ایک سی جسامت اور ایک ہی سی نگاہوں کو خیرہ کر دینے والی چمک دمک۔ سلمیٰ نے انہیں ڈبے سے نکال کر سنگھار میز پر دھرا، تو اس کی نند عذرا نے لپک کر ہاتھوں میں اُٹھا لیے۔ پھر انہیں ہاتھوں میں ہی تولتے ہوئے بولی : ’’بھابھی! یہ تو بہت قیمتی ہیں۔ کیا بھائی جان کی طرف سے تحفہ ہیں ؟‘‘ سلمیٰ کھلکھلا کر ہنسی اور بولی ’’یوں ہی سمجھو۔‘‘ اس مبہم سے جواب سے عذرا کی تشفی تو نہ ہوئی مگر اس جانب زیادہ دھیان دینے کے بجائے وہ زیور کے باریک نمونے پر غور کرنے لگی جسے کسی ماہر ہاتھ نے نہایت نفاست سے گھڑا تھا۔

’’بھائی جان! کتنے اچھے ہیں نا بھابی؟ انہیں آپ کا کس قدر خیال ہے۔ ایک آذر ہے جسے میری کوئی پروا ہی نہیں۔‘‘ عذرا کے لہجے میں اپنے شوہر کے حوالے سے عجیب سی دل گرفتہ کر دینے والی کیفیت تھی۔ ابھی سلمیٰ اسے کوئی مناسب جواب دینے ہی والی تھی کہ عذرا کا موبائل فون بجنے لگا اور وہ ہیلو ہیلو کرتی ہوئی باہر نکل آئی۔ دوسری جانب اس کے شوہر آذر تھے جو رات کو عذرا کے بڑے بھائی کے ہاں منعقد ہونے والی سالگرہ پارٹی میں شرکت کے حوالے سے بات کرنا چاہ رہے تھے۔ عذرا چونکہ ۲روز سے چھوٹے بھائی کے ہاں آئی ہوئی تھی لہٰذا شام سے پہلے پہلے آذر کو اُسے لینے آنا تھا تاکہ وہ گھر سے ہی تیار ہو کر فنکشن میں پہنچ سکے۔

’’میں نہیں جا رہی کسی سالگرہ وغیرہ میں۔‘‘ عذرا چھوٹتے ہی بولی۔ آذر کو بغیر دیکھے ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ کہتے ہوئے عذرا کا منہ پھول کر کپا ہو چکا ہے۔ ’’مگر کیوں بھئی؟‘‘ وہ اس کایا پلٹ پرحیران اس لیے تھا کہ عذرا نے اس تقریب کے لیے بے حد خوشی خوشی تیاری کی تھی۔ اس نے آذر کے ساتھ خود جا کر نیا جوڑا خریدا تھا اور جوتے، پرس اور دیگر اَلا بلا خریدنے میں آذر کی جیب خاصی ہلکی کی تھی۔ ’’مجھے بھائی جان کے ہاں جا کر اپنی جگ ہنسائی نہیں کروانی۔ میرے پاس بازوؤں میں ڈالنے کو کوئی تار تک نہیں۔ بڑی بھابھی تو سونے میں پیلی ہوتی ہی ہیں، اب چھوٹی بھی کنگن ڈال کے خوب اِترائے گی اور میں خالی خولی کانچ چھنکا کر رہ جاؤں گی۔‘‘

’’بہتر ہو گا کہ اس مسئلے پر ہم گھر پہنچ کر بات کریں۔ فی الحال تم تیاری پکڑو، میں آرہا ہوں۔‘‘ آذر نے بحث میں پڑنے کے بجائے فون بند کر دیا۔ عذرا دل ہی دل میں تلملاتی سلمیٰ کی جانب آئی تاکہ اسے نندوئی کی آمد کے بارے میں بتا سکے۔

سلمیٰ الماری کھولے رات کو پہننے کے لیے جوڑا منتخب کر رہی تھی۔ ہڑبڑا کر بولی ’’ارے اس وقت؟ آج تو ماسی بھی چھٹی پر ہے۔ گھر بھر بکھرا پڑا ہے اور پھر کھانے کی تیاری بھی تو کرنا ہو گی۔ آذر کبھی کبھی توآتا ہے۔‘‘ ’’سو تو ہے۔‘‘ عذرا نے اس کی بوکھلاہٹ کا مزہ لیتے ہوئے کہا۔ ’’آپ ماسی کو بلا لیجیے، قریب ہی رہتی ہے ناں ؟‘‘

’’ہاں ہے تو قریب ہی مگر اسی ہفتے میں اس کی بیٹی کی شادی ہے۔ اب پتا نہیں وہ آئے کہ نہ آئے۔ چلو دیکھتی ہوں۔‘‘ اور تھوڑی دیر کے بعد ماسی تو نہ آئی مگر اس نے اپنی بڑی بیٹی کو بھیج دیا جس نے کھانا پکانے کا کام اپنے ذمے لیا اور تندہی سے اس میں جُت گئی۔ اوپر کے کام اور صفائی ستھرائی کے لیے سلمیٰ نے کچی آبادی سے ایک عورت بلوا بھیجی جو اکثر اس طرح کے حادثاتی موقعوں پر کام آتی تھی۔ وہ اپنی دس بارہ سال کی لونڈیا کو بھی ساتھ لیتی آئی اور گھنٹوں کا کام منٹوں میں ختم کر کے گھر بھر چمکا دیا۔

دوپہر کو آذر آیا تو عذرا نے اُسے صاف صاف کہہ دیا ’’کنگن نہیں تو ایک آدھ چوڑی ہی لے دو۔ یوں خالی ہاتھ میں بھائی جان کے گھر نہیں جانے کی۔‘‘ آذر لڑائی نہیں چاہتا تھا مگر فی الحال وہ اس طرح کی کسی بھاری خریداری کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ کھانے کی میز پر عذرا کا موڈ بدستور خراب دیکھ کر بھائی جان یعنی سلمیٰ کے میاں کہنے لگے : ’’آذر! تم ایسا کرو۔ فی الحال عذرا کو کوئی اچھا سا مصنوعی زیور لا دو۔ اس کی بات بھی رہ جائے گی اور تم پر زیادہ بار بھی نہ ہو گا اور پھر آج کل تو ایسی ایسی خوبصورت چیزیں آئی ہوئی ہیں کہ نقل پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔ وہ ابھی اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ میز کے نیچے سے سلمیٰ نے ان کا پاؤں زور سے دبایا۔ وہ یکدم چپ ہو کر اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔

’’چھوڑیے جی رہنے دیجیے۔ اگر اِسے شوق ہے تو لے لینے دیں، آپ کیوں منع کرتے ہیں۔‘‘ عذرا کا منہ بھائی جان کی بات سُن کر مزید سُوج گیا۔ وہ سوچنے لگی، بھائی جان نے اپنی بیگم کو تو اتنے بھاری کنگن دِلا دیے اور مجھے مصنوعی زیورات کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ’’چلیں دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔‘‘ آذر مسکراتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا دماغ کسی متوقع بدمزگی کے خیال سے بوجھل ہو گیا تھا۔ عذرا کو شوہر کے سیاسی جواب سے اطمینان تو نہ ہوا مگر وہ سہ پہر کے بعد اُس کے ساتھ روانہ ہو گئی۔ اُس کے جاتے ہی سلمیٰ نے شوہر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ’’کیا ضرورت تھی عذرا کو مصنوعی زیورات کی خریداری کا مشورہ دینے کی؟ بلکہ آپ تو میرا پول بھی کھولنے چلے تھے۔ کتنی سُبکی ہوتی میری اگر عذرا کو معلوم ہو جاتا کہ ایک کنگن مصنوعی ہے۔‘‘

’’اس میں سُبکی کی کیا بات ہے؟‘‘ اس کے شوہر نے حیرانی سے کہا۔ ’’اگر ایک مصنوعی ہے تو دوسرا اصلی بھی تو ہے نا۔ اگر پتا چل بھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘

’’فرق پڑے نہ پڑے آپ بہرحال چُپ رہیں گے۔ سلمیٰ نے قطعیت سے کہا اور اُٹھ کر کمرے میں چلی آئی‘‘۔ میز پر نظر پڑی تو دِل دھک دھک کرنے لگا۔ جو کنگن صبح عذرا کو دِکھا کر میز پر رکھے تھے انہیں نند کو جلانے کی ترنگ میں وہاں سے اٹھانا بھول گئی تھی اور اس کے بعد ایسے کاموں میں کچھ ایسے مشغول ہوئی کہ ذہن سے نکل گیا۔ اب وہاں ڈبے کے ساتھ لش لش کرتا فقط ایک کنگن پڑا تھا۔ اس نے بہتیرا تلاش کیا۔ درازیں کھول کھول کر دیکھیں، نیچے فرش پر ڈھونڈا۔ صوفے، بیڈ، سنگھارمیز سب کو اپنی جگہ سے کھسکا کر دیکھ لیا، الماری تک کھنگال ڈالی۔ بس فرش ادھیڑ کر تکنے کی کسر رہ گئی مگر کنگن کہیں ہوتا تو ملتا۔

دھڑکتے دل کے ساتھ میز پر پڑے کنگن کو اٹھا کر الٹا پلٹا اور یہ دیکھ کر رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی کہ کنگن پر سے جوہری کی لگائی وزن کی مہر غائب تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ چور جو کوئی بھی ہو بہرحال بے حد ہوشیار اور زیرک تھا۔ وہ اصل اور نقل کے فرق سے بخوبی آگاہ تھا، اسی لیے تو نقلی کنگن چھوڑ کر اصلی اٹھا لے گیا۔ اس کنگن کی کہانی بھی بڑی دلچسپ تھی۔ جب سلمیٰ کی شادی ہوئی تو اس کے اصلی گہنوں پاتوں کے سا تھ یہ نقلی کنگن بھی آیا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ سلمیٰ کی بے حد عزیز سہیلی کی جانب سے اس کے لیے تحفہ تھا۔ ایک تو سہیلی پیاری تھی، دوسرے یہ کنگن اُسے بے حد پسند بھی آیا تھا بلکہ اس نے تو لگے ہاتھوں اَمی سے فرمایش بھی کی تھی : ’’امی! مجھے اسی ڈیزائن میں اصلی والا کنگن بنوا دیں۔ یہ تو پانی لگتے ہی خراب ہو جائے گا۔‘‘

اور امی نے جواب میں یہ کہہ کر بات ختم کر دی۔’’ہم سے جو ہوسکا سو بنوا دیا۔ اب یہ فرمایش اپنے شوہر سے کرنا۔‘‘ سلمیٰ نے شادی کے بعد موقع ملتے ہی یہ فرمایش شوہر کے کانوں میں ڈال دی جسے پورا کرنے کا اس نے وعدہ بھی کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ وعدہ نبھاتے نبھاتے سلمیٰ ۴بچوں کی ماں بن گئی۔ مگر اس سارے عرصے میں اُس نے کنگن کو خوب سنبھال کر رکھا تھا اور اب جبکہ وہ صاحبِ استطاعت ہو گئی تھی، اس نے دونوں کنگن خصوصی موقع پر اکٹھا پہننے کا فیصلہ کیا۔ بھلا کسے خبر ہوتی کہ ایک کنگن نقلی ہے مگر چور تو بہت باخبر نکلا جس نے چُن کر اصل کنگن اٹھایا اور نقل چھوڑ گیا۔ اب کہاں کی سالگرہ اور کیسی شرکت؟؟ وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب اُس نے کنگن میز پر چھوڑے تھے۔

’’ہو نہ ہو یہ عذرا کی حرکت ہے۔ اس سے میری خوشی کبھی برداشت نہیں ہوتی۔‘‘ سلمیٰ کا اتنا کہنا تھا کہ اس کے شوہر بگڑ گئے۔ ’’فضول باتیں مت کرو۔ عذرا بھلا ایسا کیوں کرنے لگی۔ دیکھو تم سیدھا سیدھا میری بہن پر چوری کا الزام لگا رہی ہو اور وہ بھی میرے منہ پر۔‘‘ شوہر کا غصہ دیکھ کر سلمیٰ جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ ’’پھر آپ ہی بتائیے؟ یہ کون ہو سکتا ہے؟ میں نے سارا کمرا چھان مارا ہے کہیں کوئی نشان تک نہیں۔‘‘ ’’تم ذہن پر زور ڈال کر سوچو! آج ہمارے گھر میں کون کون آیا تھا؟‘‘ شوہر نے اُسے مشورہ دیا۔ وہ سوچ میں پڑ گئی۔ ’’صفائی کرنے والی ماسی اور کھانا پکانے کے لیے ماسی کی بیٹی آئے تھے مگر ماسی کی بیٹی تو سارا وقت کچن میں رہی اور صفائی والی اور اس کی بیٹی کمرے میں گئی تو تھیں مگر اُس وقت میں اُن کے ساتھ تھی۔ صفائی والی کی بیٹی نے کنگن دیکھ کر اس کی تعریف بھی کی تھی مگر اُن پر میں اس لیے شک نہیں کر رہی کہ پہلے انہوں نے کبھی ایسا کام نہیں کیا۔‘‘

’’ہوسکتا ہے کہ پہلے انہیں موقع نہ ملا ہو۔‘‘ اس کے شوہر نے خدشہ ظاہر کیا۔ ’’یہ آپ درست کہہ رہے ہیں۔‘‘ وہ کچھ سوچ کر بولی۔ ’’میرا بھی یہی خیال ہے۔ یہ انہی میں سے کسی کا کام ہوسکتا ہے۔ ماسی کی بیٹی کی تو شادی بھی ہونے والی ہے۔ سچ ہے غریب کا کوئی ایمان نہیں۔‘‘ شوہر کی بات نے سوچ کے نئے دروازے کھولے تو وہ چلا کر بولی۔ ’’انہیں ابھی بلوائیے، فوراً ابھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ہے۔ ماسی اور اس کی بیٹی پیام ملتے ہی دوڑی چلی آئیں۔ ’’خیر تو ہے بی بی، دوبارہ بلوا لیا۔ کیا مہمان ابھی گئے نہیں ؟ سلمیٰ کی صورت نے اُن کی بولتی بند کر دی۔ دوسری طرف کچی آبادی میں صفائی والی بمشکل گھر پہنچی ہو گی کہ اُسے اُلٹے پاؤں واپس آنا پڑا۔ سلمیٰ آتے ہی اُن پر اُلٹ پڑی۔ ماسی تو کانوں کو ہاتھ لگا رہی تھی اور اس کی بیٹی کارنگ یوں تھا جیسے ہلدی کی گانٹھ کا چُورا۔

’’قسم لے لیجیے بی بی، غریب ضرور ہوں پربے ایمان نہیں۔‘‘کچی آبادی والی پاؤں میں آن پڑی۔ ’’میری بچی نے اگر یہ حرکت کی ہے تو میں آپ کے سامنے اُس کی کھال کھینچوں گی مگر مجھے یقین ہے کہ یہ اس کا کام نہیں۔‘‘ ’’یہ چکما کسی اور کو دینا۔ تم لوگوں کے نکلتے ہی کیا کنگن کو پاؤں لگ گئے تھے اور تمہاری وہ لونڈیا، کیسے بھوکوں کی طرح کنگنوں کو تک رہی تھی۔ ماسی اور اُس کی بیٹی کی زبان گنگ اور رنگ فق تھا۔ اُس نے کہا تو صرف اتنا ’’ ۴دن بعد میری بیٹی کی شادی ہے اور میرے پاس عزت کے سوا اور کچھ نہیں بی بی۔‘‘  اگر وہ دونوں پروں پر پانی نہیں پڑنے دے رہی تھیں تو سلمیٰ بھی کسی طور انہیں چھوڑنے پر تیار نہیں تھی۔ شام ڈھلنے لگی تو میاں کو بھائی کے ہاں پہنچنے کا خیال ہوا۔ وہ کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے خود اندر آئے اور کہنے لگے :  ’’اب اِن کو چلتا کرو۔ صبح تک کنگن گھر پہنچ جانے چاہئیں ورنہ مجھے پولیس میں رپٹ لکھوانا پڑے گی‘‘۔

پولیس کا نام سُن کر دونوں ملازمائیں مرنے والی ہو گئیں۔ لگیں دُہائی دینے مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی تو روتے پیٹتے گھر سے نکل گئیں۔ سلمیٰ کا دل ہرگز کسی تقریب میں شریک ہونے پر آمادہ نہ تھا۔ لاکھ ٹال مٹول کی، طبیعت کی خرابی کا بہانہ بنایا۔ دل کے بُجھنے اور اُمنگ کے بوڑھا ہو جانے کی تاویلیں دیں مگر میاں نے ایک نہ سنی اور صاف کہہ دیا ’’میرے بھائی کے گھر کی تقریب ہے، جانا تو ہو گا۔‘‘ سلمیٰ بجھے دل سے اُٹھی۔ کمرے میں جا کر صبح کا منتخب کردہ جوڑا استری کرنے کو صوفے سے اٹھایا تو چھن سے کچھ نیچے گرا۔ ارے، وہ گنگ کھڑی رہ گئی، دوسر اکنگن اُس کے قدموں میں پڑا لش لش کر رہا تھا۔ ’’اوہ خدایا… یہ کیا اور کیسے ہو گیا؟‘‘ وہ ایک مرتبہ پھر سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ میاں اندر اُسے بلانے آئے تو سامنے کا منظر دیکھ کر اُن کی حالت بھی کم و بیش ایسی ہی ہو گئی۔ وہ کبھی سلمیٰ کے ہاتھ میں پکڑے کنگن کو دیکھتے اور کبھی میز پر پڑے دوسرے کو۔

’’یہ کہاں سے ملا؟‘‘ انہوں نے بدقت پوچھا۔ ’’میرے کپڑوں کے اندر سے۔‘‘ وہ بدبدائی۔ ’’ایک تو تم عورتیں …‘‘ وہ ایک مرتبہ غضب ناک ہو کر آگے بڑھے پھر یکدم پیچھے ہٹے اور ٹھنڈے ہو کر صوفے پرگر سے گئے۔ ’’میرا اندازہ ہے۔‘‘ سلمیٰ کی سرسراتی ہوئی آواز اُبھری۔ ’’جب عذرا نے مجھے آذر کی آمد کے بارے میں بتلایا تھا، میں رات کے لیے جوڑا منتخب کر رہی تھی۔ شاید اس وقت جلدی میں، میں نے اسے میز پر ڈال دیا اور جب دوبارہ اٹھا کر صوفے پر رکھا تو کنگن چوپٹے کے کام پر اٹک کر چھپ گیا اور کچھ اِس طور اٹکا کہ جھاڑنے پر بھی نیچے نہیں گرا۔‘‘ میاں کچھ دیر تاسف سے اسے دیکھتے رہے پھر اُٹھ کر باہر جانے لگے، تو سلمیٰ انہیں روک کر بولی : ’’بھاڑ میں جائے ایسی خوشی جو دلوں میں تعفن، نفرت اور دُکھ کے ببول بوئے۔ بدگمانیوں کی فصل کاشت اور بے کسی اور بے بسی کے لمحوں کو ثمربار کرے۔ آپ یہ کنگن جوہری کے ہاتھ بیچ آئیے۔ رقم لے کر ماسی کی بیٹی کو شادی کا تحفہ دینے میں خود جاؤں گی۔ دوسرا کنگن صفائی والی کی بیٹی کا ہے، اُسے پسند جو آیا تھا۔‘‘ یہ کہہ کر اُس نے کنگن حیران و پریشان میاں کے  ہاتھ میں دیا اور چپکے سے باہر نکل گئی۔

٭٭٭