کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

رکی ہوئی آوازیں

منشا یاد


سب سے پہلے حمد اس رب کی جو معاف کر دینے والا اور بے حد مہربان ہے اور جو جانتا ہے سب کچھ....؟

دلوں کے اندر اور باہر

اور جس سے چھپی ہوئی نہیں ہیں خباثتیں اور منافقتیں

فتنہ و فساد کرنے اور نفاس ڈالنے والوں کی

بے شک وہی بچانے والا ہے اپنے بندوں کو

بدی اور شر کے عفریتوں سے

اور دیوانے کتوں سے

اور آدمی آدمی جتنے بچھوؤںسے

جن کی سانسوں سے تعفن پھیلتا اور بادِ مشرق مسموم ہوتی ہے

اور وہی حکمرانی دیتا ہے زمین پر اور وارث بناتا ہے کمزوروں اور ناتوانوں کو جنہیں طبقات میں بانٹ کر کمزور کر دیتے ہیں فرعون۔

بے شک وہی تعریف کے لائق ہے۔

اور وہی ناتواں کو توانائی بخشنے والا ہے

اس کے بعد سناتے ہیں تمہیں ایک قصہ

اس عجیب شخص کا

جو بیٹھا رہتا تھا دن رات

اور دیکھتا رہتا تھا اس کو محبت کے ساتھ

اور سنتا تھا بہت اونچا

اور نہیں بول سکتا تھا ہر گز

کہ نہیں تھی اس میں بول سکنے کی قوت

اور کرتا تھا ساری بات اشاروں سے

اور پھر رو پڑتا تھا اپنی بے بسی پر، جب سمجھنے والا نہیں سمجھ سکتا تھا اس کی بات یا نہیں سمجھنا چاہتا تھا جان بوجھ کر۔

عذاب ان کے لئے نہیں جو جانتے نہیں ہیں۔

عذاب ان کے لئے ہے جو جاننا چاہیں تو جان سکتے ہیں مگر نہیں جاننا چاہتے اور نہیں جانتے

 اور عذاب ہے ان کے لئے بھی ہے جو جانتے ہیں مگر نہیں مانتے اور وہ مصلحت کے کنوئیں سے باہر نکلنا چاہیں تو نکل سکتے ہیں مگر وہ نہیں چاہتے اور نہیں نکلتے اور جب لٹکاتے ہیں مسافر اپنی دستاریں ان کے لئے کہ ان کو پکڑ کر باہر آ جائیں تو کھینچ لیتے ہیں ہر دستار نیچے۔ پھر ٹھٹھا کرتے ہیں

 اور نہیں جانتے کہ عنقریب ان کے غلیظ بدنوں کی بدبو دور تک پھیل جائے گی اور کوئی نہیں آئے گا ان کی مدد کو۔

سو وہ ٹھٹھا کرتے اس کی حرکتوں پر اور نہ ڈرتے اپنے رب سے اور کہتے کہ بنایا ہے انہیں رب نے بہتر اور مکمل اور دیا ہے حسن اور تندرستی اور مال کہ وہ اس کے حقدار تھے مگر وہ جو نہیں جانتے تھے ایسا۔

ترس کھاتے تھے اس شخص پر

جو پڑا رہتا تھا ایک جھونپڑی میں دن رات

اور گھورتا رہتا تھا اس مکان کو

جس کو تعمیر کیا تھا اس کے بزرگوں نے اور وہ تھے بڑے صبر والے اور محنت کرنے والے۔

سو وہ ڈھوتے رہتے تھے اپنی پیٹھوں پر

اینٹیں اور روڑے اور گارا اور چونا

اور جو جو سامان تعمیر کا درکار ہوتا

اور نہ پرواہ کرتے وہ سورج کی تمازت کی جب ان کے سروں پر چمکتا اور نہ ڈرتے وہ سُن کر دینے والی ٹھنڈی ہواؤںسے۔

اور لگے رہتے کام میں شب و روز تاکہ بنائیں ایسا پختہ اور بڑا مکان جس میں خوشی سے رہیں وہ

اور ان کے بچے

اور ان کے بچوں کے بچے

اور بچے رہیں موسم کی سختیوں اور تیزیوں سے

سو وہ بناتے رہے ایک عظیم مکان، پر شکوہ عمارت اور اٹھایا اسے پختہ اور گہری بنیادوں پر

تاکہ قائم رہے صدیوں تک اور نہ ڈگمگائے اور گرے بارشوں اور طوفانوں میں اور اس میں شگاف نہ پڑیں ژالہ باری سے

اور انہوں نے بنیادوں کو محکم کیا خون اور پسینے سے

تاکہ ٹیڑھی نہ ہو جائیں محرابیں، فصیلیں اور منڈیریں

جب زلزلے آئیں

اور گڑگڑاہٹ سنائی دے

سو وہ بناتے رہے ساری عمارت مطابق اس نقشے کے

جو ملا تھا انہیں اپنے بزرگوں سے ورثہ میں

اور نہ سنی انہوں نے حاسدوں کی بات جو کہتے تھے کہ عمارت نہیں ہے رہنے کے لائق

اور عذاب ان کے لئے بھی ہے جو ہمہ وقت ٹوہ میں رہتے ہیں۔ دوسروں کی کمزوریوں کی اور عیب جوئی کرتے ہیں دن رات مگر نہیں دیکھتے اپنی طرف اور کہتے ہیں تندرستوں سے کہ وہ ہیں بیمار اور معذور اور ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے آگ بھڑکا رکھی ہے۔

اور عذاب ان کے لئے بھی ہے جو دیتے ہیں کورے کاغذوں کے تعویذ اور نہیں کرتے علاج.... مگر دیتے ہیں جھوٹی تسلیاں بیماری اور رنج سے نجات حاصل کرنے کی مگر وہ رنجیدہ نہ ہوئے حاسدوں کی بات سے اور طعنوں سے

اور بنایا خوب صورت عالی شان مکان

سامنے اس بچے کی آنکھوں کے

جو بڑا ہو کر سسکیاں بھرتا تھا

اور مکان کی حالت دیکھ دیکھ کر کڑھتا تھا

مگر وہ تھا بے بس اور ناتواں

اور وہ اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے

پاس اپنے رب کے جو سب کا پالنے والا اور مارنے والا ہے

جسے چاہتا ہے اپنے پاس بلا لیتا ہے۔

سو اس نے بلا لیا اس کے باپ دادا کو باری باری

اور چھوڑ دیا بے آسرا اس کو جس کی آنکھوں کے سامنے تعمیر کیا گیا تھا مکان۔ بے شک اللہ نہایت حکمتوں والا اور رازوں کو جاننے والا ہے۔

پس جب وہ رہ گیا اکیلا

تو اسے لے لیا اپنی سپردگی میں

ان لوگوں نے

جو دعویٰ رکھتے تھے دوستی کا اور بھائی چارے کا اس سے اور اس کے باپ دادا سے۔

اور وہ کہتے تھے کہ وہ پرورش کریں گے اس کی

اور نگہداشت رکھیں گے مکان کی

اور نہ لیں گے کوئی چیز عوض اس کے بجز نیکی کے

اور دعوے کرتے تھے کہ وہ دستبردار ہو جائیں گے

اور چھوڑ دیں گے مکان

بعد بچے کی بلوغت کے

مگر وہ پھر گئے اپنے وعدوں سے

اور وہ تھے خود غرض

انہوں نے کھانے کو دیا بہت تھوڑا اور نہ بولنے دیا کسی بات پر اور منحرف ہو گئے ان وعدوں سے جو انہوں نے کئے تھے ان سے جو اب قبروں میں لیٹے تھے گہری نیند

اور عذاب ان کے لئے بھی ہے جو نہیں پہچانتے زندوں کو مگر پھول چڑھاتے ہیں قبروں پر اور یاد کر کے روتے ہیں ان کو جو اپنے وقت میں نہ پہچانے جانے کے صدمے سے مر گئے تھے۔

سو انہوں نے رو گردانی کی ان لفظوں سے جو انہوں نے ادا کئے تھے اپنی زبانوں سے اور کھاتے تھے یتیم کا مال

مگر نہیں بولنے دیتے تھے اسے ہرگز۔

اور سخت عذاب ہے ان کے لئے جو بے حرمتی کرتے ہیں معصوم لفظوں کی۔ اور لذت کی سیخوں میں پرو کر بے خطا لفظوں کو بھونتے ہیں۔ ہوس کے انگاروں پر اور بیچ دیتے ہیں خوشبو کو عوض پتھروں اور مردہ گوشت کے اور زیاں کرتے ہیں کاغذ اور سیاہی کا اور اپنی تحریر کی ہوئی سطروں کو پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں اور اللہ پسند نہیں کرتا سیاہی اور کاغذ کے زیاں کو کہ جس سے فروغ دیا جا سکتا تھا آسمانی کتابوں اور زمینی محبتوں کے قصوں کو۔

سو انہوں نے انحراف کیا .... اور پھر گئے اپنے وعدوں اور لفظوں سے اور دی اسے ایک روٹی۔

جسے لگی تھی سخت بھوک تین روٹیوں کی

اور وہ دبلا ہوتا چلا گیا

اور کہاں سے آتی اس میں قوت اور سکت

احتجاج کرنے کی

اور اپنا حق مانگنے کی

اور وہ شخص بھول گیا بولنا

اور اسے پتہ نہیں چلتا تھا کس طرح کرتے ہیں کلام

مگر اللہ جانتا ہے دلوں کے بھید

آخر چلے گئے وہ لوگ

بعد کئی برسوں کے چھوڑ کر مکان

مگر وصول کر لی انہوں نے پگڑی

اور ظاہر کرتے تھے خود کو اصل وارث

حالانکہ نہیں تھے وہ اصل وارث

اور وہ بول نہیں سکتا تھا کہ اسے نہیں سکھایا گیا تھا بولنا۔

نہ اجازت دی گئی تھی اس کی

اور وہ رہ گیا نئے مالکوں کے درمیان

اور وہ اسے ڈال دیتے تھے تھوڑا سا کھانا علیحدہ برتن میں

اس کی بھوک کا ایک چوتھائی

اور وہ کھا لیتا اکثر چرا کر

راتب نجس چوپائے کا

اور چن لیتا مرغیوں کے آگے سے دانہ دنکا

اور پی لیتا بہت سا ٹھنڈا یا گرم پانی

اور کمی پوری کر لیتا خوراک کی تاکہ زندہ رہے اور دیکھتا رہے اس عمارت کو۔ جو اس کے باپ دادا نے بنائی تھی۔

اور سناتے ہیں تمہیں قصہ اس عمارت کا

جو بنائی گئی تھی بڑی عالی شان

دو منزلہ

اور جس کا اصل وارث اسے حسرت سے تکتا رہتا تھا

پھر چلے گئے وہ لوگ بھی

اور لے گئے ساتھ اکھاڑ کر

مکان کی اوپر والی منزل

اور نیلام کیا بہت سا ملبہ

مگر وہ بول نہیں سکتا تھا اور نہ کر سکتا تھا کلام

اور نہ ہی اس میں جھگڑا کرنے کی سکت تھی

سو وہ دیکھتا رہا پاس کھڑا

اور روتا رہا اندر ہی اندر

اور خرید لیا باقی کا حصہ دوسرے لوگوں نے جو کم ظالم نہیں تھے اگلوں سے

سو انہوں نے نکال باہر کیا اسے

مگر دے دیتے تھے وہ بھی ایک روٹی

بجائے تین کے

پیاز کی گٹھلی کے ساتھ

مگر نہیں کرتا تھا وہ شکوہ کسی سے

اور بے شک وہ کر نہیں سکتا تھا اگر چاہتا بھی۔

مگر وہ رو سکتا تھا۔

اور روتا تھا۔ دیکھ دیکھ کر اکھڑی ہوئی اینٹوں کو

اور ٹوٹی ہوئی منڈیروں کو

اور وہ دیکھ بھال اور مرمت نہیں کرتے تھے مکان کی

اور نہ تھی انہیں کچھ محبت اس سے

پھر چھوڑ دیا اس نے کھانا اور پینا

اور پھینک دیتا باسی روٹی کوڑے پر

اور پیاز کی گٹھلی کو ٹھوکر مارتا پاؤںسے کہ دور جا پڑے اس سے

اور بھر لیتا پیٹ اڑنے والے پرندوں کے شکار سے

اور اللہ نے وافر کیا اس کے لئے شکار درختوں پر اور جھاڑیوں میں

اور مل جاتے نہایت لذیذ پھل۔ اور وہ نکال لیتا اپنے لئے کوئی نہ کوئی راستہ جب اسے بھوک لگتی۔

اور درد ناک عذاب ہے ان کے لئے جو بیٹھ جاتے ہیں راستوں میں گھنی چھاؤںدیکھ کر اور راستہ نہیں دیتے چلنے والوں کو

پھر جب وہ نکال لیتے ہیں نیا راستہ تو حسد کرتے ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں چلنے والوں کو اور نہیں جانتے کہ عنقریب ان کے غلیظ بدنوں کی بدبو دور تک پھیل جائے گی۔

سو وہ نکال لیتا کوئی راستہ پیٹ بھرنے کا

اور بحال ہونے لگیں اس کی تمام قوتیں

اور وہ سننے لگا

آہٹیں اور آوازیں

اور پرندوں کا شور

اور بادل کے گرجنے کی آواز

اور جمع ہونے لگیں اس کے اندر آوازیں

اور برسوں کی رکی ہوئی باتیں

اور مچلنے لگے غصے اور جوش کے جذبات

اور پھٹنے لگا اس کا سینہ

رکی ہوئی باتوں اور آوازوں کے شور سے

اور سنا دیا ہم نے تمہیں ایک دلچسپ قصہ۔ اس شخص کا

جو ایک روز بادل کی طرح گرجے گا اور لرز جائیں گے

وہ سب اس کی آواز سن کر

جس میں برسوں کی رکی ہوئی چنگھاڑ ہو گی۔

٭٭٭