کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دیدۂ یعقوب

منشا یاد


بیٹا اپنی آمد کے متعلق بتا رہا تھا مگر مجھے اس سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی کہ وہ کس طرح آئے… پیاسی زمین کو اس سے کیا کہ بادل مشرق سے آئے یا مغرب سے؟ اسے تو بارش چاہیے۔ میرے لیے وہی فضائی کمپنی سب سے اچھی تھی جو اسے گھر لے آئے۔ اگرچہ ساتویں آٹھویں روز ہم اس کی آواز تو سن لیتے تھے مگر اسے دیکھے ہوئے اداسی کے بگولوں سے اٹے ہوئے بارہ مہینے دو دن اور العطش العطش پکارتی پیاسی راتیں ہو گئی تھیں۔ ٹیلی فون پر بات چیت شاید بالمشافہ ملاقات کا نعم البدل ہو مگر محبت لمس چاہتی ہے۔ مجھے یاد ہے جب شروع شروع میں اس کا فون آتا، بیوی اس سے بات کر کے رونے لگتی۔

میں کہتا "تمھیں تو خوش ہونا چاہیے۔‘‘ مگر وہ کہتی کہ اس کی آواز سن لیتی ہوں، دیکھ تو نہیں سکتی ناں۔ ایک بار بیٹے سے اس بات کا ذکر کیا تو کہنے لگا "اس کا انتظام بھی ہو جائے گا۔‘‘ عنقریب آپ لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے آواز کے ساتھ میری تصویر بھی دیکھ سکیں گے۔‘‘ لیکن کیا اس سے ہماری تشفی ہو جائے گی؟

مجھے اس کے آنے کی خبر سن کر خوشی تو ہوتی ہے مگر زیادہ نہیں۔ کیونکہ اس کا مطلب ہے، سال دو سال کی پھر لمبی جدائی…!! مجھے اس کی متوقع آمد کا انتظار کھینچنا اور دل کی منڈیر پر کوے کا بولتے رہنا زیادہ اچھا لگتا ہے لیکن کاش وہ واپس نہ جاتا۔ میرے بس میں ہوتا تو کبھی اسے اتنی دور نہ جانے دیتا۔ جب ابا ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے، تو ایک روز میں نے حساب لگایا کہ وہ میری پیدائش کے بعد ۵۰؍برس تک زندہ رہے۔ لیکن تعلیم اور ملازمت کی خاطر میں انھیں گاؤں میں چھوڑ کر شہر آگیا۔ میری عمر کے ۵۰؍برسوں میں سے ابا جی کے حصے میں زیادہ سے زیادہ ۱۵برس آئے ہوں گے۔

یہ حساب کر کے مجھے سخت صدمہ ہوا کہ ابا زندہ اور اِسی دنیا میں آباد تھے مگر میں ۳۵برس اُن سے دور رہا اور کبھی اس دُوری کو محسوس تک نہ کیا۔ لیکن اب میرا اپنا بیٹا مجھ سے جدا ہوا تو مجھے ابا کے جذبات و احساسات کا کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا۔

وہ ہر دوسرے تیسرے مہینے ملنے آ جا تے تھے اور جب تک قیام کرتے، ان کی خواہش ہوتی، مجھے دفتر سے چھٹی ہو اور میں دن رات ان کے پاس بیٹھا باتیں کرتا رہوں۔ مگر میں سال ۲ سال بعد گاؤںکا ایک آدھ چکر لگاتا تو مشکل سے ایک دو راتیں گزار پاتا، پھر مجھے شہر کی رونقیں، روشنیاں اور اپنی دلچسپیاں پکارنے لگتیں۔ بعض اوقات میں شام کو واپس چل پڑتا۔ وہ کہتے "یہ وقت تو گھر لوٹنے کا ہے تم جا رہے ہو؟‘‘ میں ضروری کام کا بہانہ کرتا، انھیں کیا بتاتا کہ میرا گھر تو کہیں اور ہے۔

مجھے یاد ہے ایک بار شام کے وقت جب میں روانہ ہو رہا تھا، وہ بڑے اداس اور پریشان تھے لیکن منہ سے کچھ نہیں کہا۔ سب لوگ مجھے بے وقت سفر کرنے سے روک رہے تھے مگر وہ خاموش رہے۔ رُخصت کرتے وقت ان سے رہا نہ گیا اور بولے "تمھاری ماں جی زندہ ہوتیں تو کیا تم تب بھی ایسا ہی کرتے؟‘‘ مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا لیکن میرا دل نہ پسیجا اور اپنی مجبوری بتا کر چلا آیا۔ وہ رات اور ایسی کئی راتیں ابا نے کیسے کاٹی ہوں گی؟ مجھے اس کا اندازہ اب ہوا۔

میرے لڑکپن میں ابا کو داستانِ یوسف بہت پسند تھی۔ میرے شہر چلے جانے کے بعد وہ راتوں کو بلند آواز میں یہ قصہ پڑھتے۔ ماں جی بتاتی کہ و ہ زیادہ تر وہی حصے پڑھتے جن میں بیٹے کی جدائی میں حضرت یعقوبؑ کی حالت زار کا بیان ہوتا۔ یا پھر جب حضرت یوسفؑ کا قاصد بشیر ان کا کرتہ اور پھر یہ خوشخبری لے کر پہنچتا کہ آپ کا محبوب فرزند نہ صرف زندہ سلامت بلکہ مصر شہر کا والی بن چکا ہے۔ حضرت یعقوبؑ پھر بیٹے کا کرتہ اپنی نابینا آنکھوں سے لگاتے تو وہ روشن ہو جاتیں۔ ماں جی بتاتی کہ یہاں پہنچ کر تمھارے ابا کی آواز بھر جاتی اور وہ کوئی بہانہ کر کے پڑھنا چھوڑ دیتے۔ آخری عمر میں جب وہ پڑھ نہیں سکتے تھے، تب بھی لیٹے بلند آواز میں فراقیہ دوہڑے پڑھتے رہتے۔

٭٭

 

اگلے روز اس نے پھر فون کیا اور بتایا کہ اسے نشست نہیں مل رہی، اب وہ نیویارک جا کر قسمت آزمائی کرے اور اطلاع دے گا کہ کس پرواز سے آ رہا ہے۔ اگر اطلاع نہ دے سکا تب کراچی یا لاہور پہنچ کر فون کر دے گا۔ ورنہ ہم لوگ فکر نہ کریں، اسے گھر کا راستہ معلوم ہے، خود ہی پہنچ جائے گا۔

دو تین روز میں وہ ہمارے درمیان ہو گا اور ہم اسے دیکھ اور چھو سکیں گے… اس خوشگوار خیال سے دل میں مسرت آمیز ہلچل پیدا ہو گئی۔ آنکھوں کے سامنے بار بار اس کی صورت ابھرنے لگی۔

اس کی امی کا اصرار تھا کہ وہ عید سے کم از کم ایک روز پہلے ضرور پہنچ جائے۔ اس نے یقین دلایا تھا "امی آپ فکر نہ کریں۔ میں عید کی صبح کا آغاز آپ کے ہاتھوں کی بنائی دودھ سویوں ہی سے کروں گا‘‘۔ پھر بیٹے سے ٹیلی فون کا رابطہ ختم ہو گیا اور اہم اگلی کال کا انتظار کرنے لگے۔ گھر کا کوئی فرد جب بھی ٹیلی فون سن لیتا، وہ بپھری شیرنی کی طرح غرانے لگتی۔ مگر پورا ایک دن خراب فوٹوسٹیٹ مشین سے صاف کاغذ کی طرح نکل گیا اور انتظار کی لمبی رات شروع ہو گئی۔ آج اسے وعدے کے مطابق پہنچ جانا چاہیے تھا مگر ابھی تک اس کے روانہ ہونے کی اطلاع بھی نہیں آئی تھی۔

اس نے بھی بیٹے کے پسندیدہ کھانے بنانا اور انھیں فریج میں محفوظ کرنا شروع کر دیا۔ ماؤں کو یہ بڑی سہولت ہے۔ یوں محبت اور مامتا کے اظہار کا موقع ملتا اور مصروفیت میں وقت بھی اچھے طریقے سے گزر جاتا ہے۔ عورتوں کو یہ بڑی سہولت بھی حاصل ہے کہ وہ ہر موقع پر رو کر اپنے جذبات کا اظہار کرتی اور اپنے دل کا غبار نکال لیتی ہیں۔ یوں تو بعض مرد بھی ایسا کرنے میں باک محسوس نہیں کرتے مگر میرے جیسے دیہاتی پس منظر رکھنے والے مردوں کو ایسا کرنے میں اپنی مردانگی خطرے میں نظر آتی ہے۔ مجھے یاد ہے، جب میں پڑھائی کی خاطر پہلی بار گھر سے نکلا اور شہر جا رہا تھا تو گھر کی سب عورتوں نے مجھے آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے رخصت کیا۔ مگر ابا نے صرف خاموشی سے سر پر ہاتھ پھیرنے پر اکتفا کیا۔ لیکن وہ باوجود بار بار رومال سے ناک صاف کرتے ہوئے نزلے کی شکایت کر رہے تھے، وہ کیا تھا؟

وہ پریشر ککر کا ڈھکنا کھولتی، بند کرتی، ہنڈیا میں کفگیر چلاتی اور سل وٹے پر قیمہ پیستی ہوئی جب جی چاہتا، اسے یاد کر کے چند آنسو بہاتی اور معمول پر آ جاتی۔ مگر میرے اندر کا پریشر ککر ہلکی آنچ پر چڑھا رہتا… اتنی ہلکی آنچ کہ ویٹ میں لرزش پیدا نہ ہو نہ سیٹی کی آواز سنائی دے۔ یوں تو میں نے بھی عید کی خریداری کرتے وقت اس کی پسند کا خیال رکھا۔ کھانے پینے کی بہت سی چیزیں محض اسی کے لیے خرید لیں مگر بھرم کی خاطر اعلان نہیں کیا۔ ویسے بھی کھانے پینے کا شعبہ خواتین سے مختص ہے۔ میں بتا دیتا تب بھی سہرا اسی کے سر بندھتا۔

ماں جی بھی ایسا ہی کرتی تھیں۔ جس روز میری آمد متوقع ہوتی وہ میری پسند کی چیزیں پکا پکا کر رکھتی جاتیں، گاؤں کی دکان سے برفی اور جلیبیاں منگاتیں۔ موسمی پھل اور کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والے گھر کے قریب سے دھوکا دے کر خالی نہ گزر سکتے۔ ابا کہتے "یہ ۵؍روز مری رہتی اور ہفتے کے روز مشین بن جاتی ہے۔‘‘

کام کاج کرنے کے بعد بھی وقت بچ جاتا تو اپنا چرخہ اٹھا کر چھت پر لے جاتیں اور شہر سے آنے والے راستے کی طرف رخ کر کے انتظار کی پر شوق پونیاں کاتنے لگتیں۔ میری بائیسکل کے پہیے اور ماں جی کا چرخہ ایک ساتھ گھومتے۔ واپسی کا سفر مجھے ہمیشہ آسان لگتا۔ ہوا مخالف ہوتی تب بھی لگتا، پکی ڈور سے بندھا کھنچا چلا جا رہا ہوں… ابا کو بھی اس روز باہر کے سارے کام بھول جاتے اور وہ گھر میں رہنے کا کوئی بہانہ اور مصروفیت تلاش کر لیتے۔

لکڑیاں چیرتے، ٹوٹی چارپائیاں مرمت کرتے یا ان کی ادوائنیں کستے… مگر ظاہر نہ ہونے دیتے کہ وہ ہفتے بھر کے ملتوی گھریلو کام کاج آج ہی کیوں انجام دے رہے ہیں؟ مگر میرے پاس مصروف رہنے اور وقت گزارنے کا بہت سا جدید ساز و سامان موجود ہے۔ کتابوں میں جی نہ لگے تو آڈیو، ویڈیو کیسٹیں، ڈی وی ڈی اور سی ڈیاں ہیں۔ جب چاہوں ایچ ٹو ایچ گھومنے والے ڈش انٹینا پر مختلف ممالک کے دل بہلانے والے پروگرام دیکھ سکتا، کمپیوٹر پر ٹائپنگ کی مشق کر سکتا، شطرنج کھیل اور انسائیکلوپیڈیا کی فائل کھول کر پہروں مصروف رہ سکتا ہوں۔

وہ کھانے پکاتی رہی اور میں ٹی وی دیکھتا اور موسیقی سنتا رہا مگر اس کے باوجود لگا جیسے رات کا بحراوقیانوس ہم نے کشتی کے بغیر ہاتھ پاؤں مار مار کر عبور کیا ہے۔ جاگنے کے باوجود آخری سحری میں کسی نے پیٹ بھر کر نہ کھایا۔ کئی بار ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے کا گمان ہوا، مگر وہ خاموش تھا۔

وہ باورچی خانے میں بیٹھی سویاں پکاتے ہوئے آنسوؤں کا نمک بہا رہی تھی کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی، مگر سلسلہ منقطع ہو گیا۔ دو تین مرتبہ ایسا ہوا۔ اندازہ ہو رہا تھا کہ دور سے فون آ رہا ہے، وہ کوشش کر رہا ہے مگر ہجوم کی وجہ سے سلسلہ قائم نہیں ہو رہا۔ اس سے اندازہ تو ہو گیا کہ وہ خیریت سے ہے۔ مگر یہ سوچ کر ہم مزید اداس ہو گئے کہ وہ ابھی تک وطن سے دور ہے مگر کہاں؟ اس کا کچھ پتا نہ چل سکا۔ کیونکہ فون پہلے کی طرح پھر خاموش ہو گیا اور رات بھر خاموش رہا۔

معلوم نہیں مجھے بیٹے اور ابا کی یاد ایک ساتھ کیوں آ رہی تھی؟ شاید اس لیے کہ ان کی بھی میرے بیٹے سے بڑی دوستی رہی۔ اپنے پوتوں اور نواسوں میں وہ سب سے زیادہ پیار اسی سے کرتے تھے۔ کئی بار چھٹیوں میں اسے اپنے ساتھ گاؤں لے جاتے اور خوب خاطریں کرتے۔ انھوں نے چارہ لادنے کے لیے ایک گدھی رکھی ہوئی تھی جس کے ساتھ اس کی بچھیری بھی تھی۔ انھوں نے پہلی بار اسے گدھی پر سوار کیا تو کہنے لگا "داداجی! اس کا ہینڈل کہاں ہے؟‘‘

وہ بہت محظوظ ہوئے اور اس کی رسی تھماتے ہوئے بولے "یہی اس کا ہینڈل ہے۔‘‘ کچھ عرصہ بعد وہ شہر آئے تو اس نے گدھی کی خیریت معلوم کی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اور اس کی بچی دونوں بیمار ہو کر مر گئیں۔ اسے بہت افسوس ہوا۔ اس نے محلے کے ہر گھر میں بتایا کہ داداجی کی کھوتیاں مر گئی ہیں۔ کچھ پڑوسنیں اس کی امی کے پاس افسوس کرنے آئیں اور یہ پوچھنا ضروری سمجھا کہ کیا تم لوگ پیچھے سے کمہار ہو؟ اس پر ہم سب نے اسے خوب ڈانٹا۔

پھر جب وہ کالج میں پڑھتا تھا، تو گاؤں گیا۔ لیکن کچھ دن بعد اداس ہو گیا۔ ایک روز اپنے داداجی سے کہنے لگا "میں واپس گھر جانا چاہتا ہوں۔‘‘

"یہ بھی تو تمھارا اپنا گھر ہے۔‘‘

"میں یہاں "بور‘‘ ہو رہا ہوں۔‘‘

"وہ کیا ہوتا ہے؟‘‘

ابا بتاتے تھے کہ تب انھیں معلوم نہ تھا،" بور ہونا‘‘ کیا ہوتا ہے اور نہ ہی کبھی" بور‘‘ ہوئے تھے۔ مگر پھر وہ بھی بور ہونے لگے۔ جب زیادہ بور ہو جاتے تو کرایہ لے کر ہمیں ملنے شہر آ جاتے۔ جب بیٹا امریکہ سدھار گیا، تو کچھ عرصے بعد ایک روز میرے ہاتھ پندرہ بیس برس پرانی ڈائری لگ گئی۔ پہلے صفحے پر ایک ضروری نوٹ درج تھا:

مجھے یاد آیا،میں نے اسے سبحان تیری قدرت پکارنے والے کالے تیتر کی ایک من گھڑت کہانی سنائی تھی۔ وہ اسے اس قدر پسند آئی کہ رات دس بجے ضد شروع کر دی "مجھے ابھی کالا تیتر لا کر دیں۔‘‘ میں نے اسے ٹالنے کے لیے کہہ دیا کہ سردیوں میں کالے تیتر گرم علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔ گرمیوں میں واپس آئیں گے تو لا دوں گا۔ اس نے کہا "ابو آپ بھول جائیں گے۔‘‘

میں نے کہا "نہیں بھولوں گا، ضرور لا دوں گا۔‘‘ مگر اس کا اندیشہ دور نہیں ہوا۔ تب میں نے اسے یقین دلانے کے لیے ڈائری نکالی اور اس پر لکھا:

ضروری نوٹ: گرمیوں میں عامر کو کالا تیتر لا کر دینا ہے۔ اس نے کہا، یہ بھی لکھیں کہ بھولنا ہرگز نہیں۔ میں نے یہ بھی لکھ دیا۔ تب کہیں جا کر اس کی تسلی ہوئی اور وہ مطمئن ہو کر سو گیا کہ اب گرمیاں آتے ہی ابو کو کالا تیتر لانا پڑے گا۔ کیونکہ یہ ان کی ڈائری میں لکھا جا چکا۔ وہ ٹھیک ہی سمجھا تھا کہ لکھا ہوا مٹایا نہیں جا سکتا۔ مگر گرمیاں آنے تک میں ہی نہیں اسے بھی وعدہ بھول گیا۔ لیکن لکھا ہوا اب تک موجود تھا۔ تحریر بڑی ظالم چیز ہے، آدمی بھول جائے یا مٹ جائے تب بھی رہتی ہے۔

 وقت بھی بڑا سنگ دل اور تیز رفتار ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ وہ میری انگلی پکڑ کر چلتا، اب مجھے مشورے اور ہدایات لکھ لکھ کر بھیجتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی فرمائشیں کرنے اور حقیر چیزوں سے بہل جانے والا اب میرے لیے قیمتی تحائف لاتا ہے۔ میں بھی ابا کے لیے ہر بار نئے کپڑے، سویٹر اور گرم چادر وغیرہ لے جاتا تھا اور سمجھتا، ان کے سب دکھ دور ہو گئے۔ لیکن کیا چیزیں اور تحائف جدائی کے زخم مندمل کر سکتے ہیں؟

رات کا آخری پہر شروع ہو گیا مگر ٹیلی فون اب تک خاموش تھا۔ میں چاہتا تھا کہ کچھ دیر ضرور سو لوں ورنہ بیمار پڑ جاؤں گا مگر نیند بالکل نہیں آ رہی تھی۔ پتا نہیں اس وقت کس ملک کے کس شہر میں ہو گا یا کن پانیوں پر اس کا جہاز پرواز کر رہا ہو گا۔ کمرہ اس کی یادوں سے پٹا پڑا تھا۔

جب وہ بہت چھوٹا تھا، میں منہ سے سیٹی نکال کر اسے پکارتا۔ وہ سیٹی پہچانتا تھا۔ گھر میں جہاں کہیں ہوتا، سیٹی سن کر پالتو جانوروں کی طرح دوڑتا ہوا فوراً پہنچ جاتا۔ اسے پکارنے کی یہ عادت اس کے ساتھ ہی پختہ ہوتی گئی۔ جب وہ میڈیکل میں داخلے کے بعد بہاولپور چلا گیا تو میں اپنی اداسی کا اظہار سیٹی سے کرتا۔ لیکن جب مجھے احساس ہوا کہ اس کی امی پہچاننے لگی ہے کہ یہ عام سیٹی نہیں، میں اسے یاد کر رہا ہوں تو میں نے بجانا چھوڑ دیا۔ ان عورتوں کو پتا نہیں چلنا چاہیے کہ میں اندر سے کتنا کمزور ہوں۔

مجھے یاد آیا کہ جس روز اس کا ویزہ لگا، وہ جتنا خوش تھا، ہم اتنے ہی اداس تھے۔ اس کی امی بہت روئی۔ میں بھی اسی کی آنکھوں سے رو لیا تاکہ اپنی آنکھیں خشک رکھ کر اسے ہمت و حوصلے سے رخصت کر سکوں۔ مجھے یقین ہے کہ میری آنکھیں بھی تر ہو جاتیں تو وہ حوصلہ ہار جاتا اور اپنا جانا موقوف کر دیتا۔ رخصت ہوتے وقت وہ بہت پر جوش تھا۔ اس کی آنکھوں میں نئی منزلوں کی چمک اور سہانے خواب تھے۔

چند ماہ پہلے میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس بار ٹیلی فون آیا تو اسے واپس آنے پر قائل کرنے کی کوشش کروں گا۔ مگر جس روز ٹیلی فون آیا، ایٹمی دھماکے کی خوشی میں ڈالر کا نرخ دُگنا ہو گیا اور میں چپ ہو گیا… ماواں تو ویریا بچھڑے…!

٭٭

 

وہ سو رہی تھی، اندیشوں، واہموں اور یادوں سے بے نیاز۔ میں نے اٹھ کر نیند کی گولی کھائی اور دوبارہ بستر پر لیٹ کروٹیں بدلنے اور یادوں کی جگالی کرنے لگا۔ مجھے یاد آیا، جب وہ بہت چھوٹا تھا، ہمارے درمیان سوتا۔ اسے میرے یا اپنی امی کے گال پر ہاتھ رکھ کر سونے کی عادت تھی۔ ہاتھ ہٹایا جاتا تو جاگ پڑتا یا پھر نیند ہی میں دوبارہ وہیں رکھ لیتا۔ شاید اسے اس لمس سے سوتے میں تحفظ کا احساس رہتا تھا۔ رفتہ رفتہ ہمیں بھی اس کے ہاتھ کی عادت ہو گئی۔

لیکن اب سال دو سال بعد وہ چند دنوں کے لیے آئے، تو ہم اسے پہلے کی طرح بار بار لپٹا نہیں سکتے، پیار نہیں کر سکتے اور ہاتھ اپنے گال پر رکھ کر سو نہیں پاتے۔ وہ قریب بیٹھا باتیں کرتا رہے، اسی کو بہت جانتے ہیں۔ مگر وہ کہاں کھو گیا؟ اس نے فون کیوں نہیں کیا؟ کیا اس کی عید بھاگ دوڑ یا سفر میں گزر گئی؟ عید کے موقع پر گھر پہنچ نہ سکنے کا کس قدر ملال ہو گا۔ انہی خیالات میں کھویا میں نجانے کب سو گیا۔ سو گیا یا شاید جاگو میٹی سپنا دیکھا۔

کیا دیکھتا ہوں کہ وہ میرے پہلو میں لیٹا ہے اور اس کا ننھا سا ہاتھ میرے گال پر ہے۔ میں اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیتا ہوں مگر وہ بڑا اور سخت ہوتا جاتا ہے۔ میں چونکتا ہوں۔ اس کی امی کمرے میں نہیں، نیچے کی منزل سے باتوں کا شور سنائی دے رہا تھا اور وہ میرے سرہانے بیٹھا تھا… میں نے اسے لپٹا لیا اور احتیاط کے سارے بندھن توڑ کر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

٭٭٭

 

٭٭٭

مرحوم منشا یاد  میں ایک نذر عقیدت۔ مرحوم موت سے ایک دو ہفتے پہلے اپنی کتابوں کو میری برقی کتابوں میں شامل کرنا چاہ رہے تھے۔ لیکن افسوس کہ فائلیں نہ بھیج سکے۔ امید ہے کہ ان کی روح میرے اس اقدام سے خوش ہی ہو گی۔