کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خونِ صد ہزار انجم

عوض سعید


بہاری سے  میری ملاقات کب اور کہاں ہوئی مجھے  ٹھیک سے  یا د نہیں  ہے،میری یادداشت بھی کمزور ہو گئی ہے، ویسے  بہاری کی شخصیت میں  کوئی ایسی خاص بات بھی نہ تھی جس کے  باعث میں  اُس کی ملاقات کی تاریخ کو حافظے  کے  کسی خانے  میں  محفوظ کر لیتا۔

          یہی کیا کم تھا کہ وہ میرا دوست، عجیب و غریب دوست، جس کے  ساتھ رہتے  ہوئے  میں  نے  ہمیشہ ذہنی تکلیف محسوس کی اور وہ کمینہ میری ذات سے  ہمیشہ چمٹا ہی رہا۔

          بیسیوں  بار میں  نے  دل ہی دل میں  تہیہ کر لیا کہ اب مجھے  اس سے  قطعی نہیں  ملنا چاہیے  لیکن دوسرے  دن وہ میرے  پاس آ جاتا اور میں  سب کچھ بھول بھال کر اس کے  ساتھ ہو جاتا جیسے  پچھلے  دنوں  میں  نے  دل میں  کوئی عہد ہی نہ کیا ہو۔

          ایک بار میں  نے  تنہائی میں  سوچا میرا اس کا کیا سمبندھ ؟ وہ ایک کوچہ گرد، آوارہ، لوفر، مقروض، مغلظات بکنے  والا اور میں  ایک سیدھا سادہ شریف آدمی۔

          اور پھر سوچ کی دیوار دھڑام سے  میری آنکھوں  کے  سامنے  گر جاتی جسے  روندتا پھلانگتا ہوا میں  اُس سے  ملنے  چلا جاتا۔

          ایک دفعہ میں  نے  اس سے  کہا بھی کہ تم یہ غنڈہ گردی چھوڑ دو، لوگ خواہ مخواہ تمھارے  ساتھ مجھے  بھی آوارہ گر د سمجھنے  لگے  ہیں۔

          اس پر وہ ہنس دیا، بالکل اس بے  حیا بروکر کی طرح جس کی گالیاں  دینے  پر بھی شرم سے  گردن نہیں  جھکتی۔

          ’’ بہاری نے  آج تک کسی کو دوست بنایا ہی نہیں  ہے، ایک تم ہو جسے  دوست سمجھتا ہوں او ر جب بہاری کسی کو ایک بار یار مان لیتا ہے  تو عمر بھر اسی کا ہو رہتا ہے۔‘‘

          جب بہاری نے  مجھ پر اپنی دوستی کی دھونس جمائی تو میرا چہرہ کچھ اتر سا گیا اور میں  سوچنے  لگا بہاری سے  کس طرح پیچھا چھڑایا جائے،یہ تو جونک کی طرح مجھ سے  چمٹ گیا ہے۔

          بہاری نے  دوستی کی دیوار نمک کی بنیادوں  پر قائم نہیں  کی تھی،دوستی کے  اس اٹوٹ رشتے  کو وہ زندگی بھر نبھانا چاہتا تھا۔

          نفرت اور محبت کے  اس امتزاج نے  میری ذات میں  ایک عجیب سی الجھن پیدا کر دی تھی۔ مجھے  بہاری سے  شدید نفرت تھی اور ساتھ ہی ساتھ بے  پایاں  محبت بھی، اس کی احمقانہ حرکات میں  مجھے  اس کے  کردار کا سیدھا سادہ پن اور خلوص ملتا جو میں نے  اپنے  عزیزوں  کی ذات میں  بھی نہیں دیکھا تھا۔

          لیکن اس کے  ساتھ ہی جب اسے  کسی ’’ خان‘‘ سے  قرض کے  بارے  میں  گالیاں  سنتے او ر جواب میں  موٹی موٹی گالیاں  دیتے  ہوئے  دیکھ پاتا تو مجھے  یوں  محسوس ہوتا جیسے  بہاری ایک نجاست ہے  جس کی سڑاند میں  میں  ڈوب گیا ہوں۔

          اپنے  بشرے  سے  بھی وہ بھلا آدمی نہیں  لگتا تھا، گہرا گندمی رنگ، چوڑا چکلا سا چہرہ، عقابی ناک، سیاہ فولادی آنکھیں،موٹے  موٹے  ہونٹ، دانتوں  میں  بڑی بڑی محرابیں۔ یہ تو تھی اس کے  چہرے  کی ہلکی سی جھلک اور لباس سے  تو وہ بالکل ہی بمبئی کا موالی معلوم ہوتا تھا، ڈھیلے  ڈھالے  پینٹ پر اون کا موٹا ساکوٹ، گلے  میں  ٹائی کی جگہ سرخ رنگ کا رومال، جب وہ ہنستا تو یوں  معلوم ہوتا جیسے  کنکریٹ پر انجن چل رہا ہو۔۔۔ چر ر۔۔۔ چر ر۔۔۔

          جب میں  پہلی دفعہ حیدرآباد کی خوبصورت شاہراہوں  پر اس کے  ساتھ آزادانہ گھوما تو میرے  بہت سے  ساتھیوں  نے  حیرت سے  میری زندگی کا مطالعہ شروع کر دیا۔

          الطاف نے  مجھے  سمجھایا کہ کم از کم مجھ جیسے  آدمی کو اس ناپسندیدہ اجنبی کے  ساتھ نہیں  گھومنا چاہیے، ہو سکتا ہے  کہ وہ کہیں  کا مشہور ڈاکو یا جرائم پیشہ ہو۔

          بات بھی معقول تھی، میں  نے  دوستی کے  اس پودے  کو خواہ مخواہ بڑھنے  دیا، اس کی آبیاری کی،اب پچھتانے  سے  کیا ہو سکتا تھا،وہ میرے  ذہن پر بری طرح مسلط ہو چکا تھا، کبھی کبھی میں  سوچتا کہیں  اُس نے  مجھ پر جادو ٹونے  تو نہیں  کر دئیے  ہیں۔ ہونہہ، جادو بھی کوئی چیز ہے  ؟ فریب۔۔۔ واہمہ۔۔۔ میرے  دماغ میں  عجیب مضحکہ خیز خیالات آ رہے  تھے۔

          میں  گھبرایا جب ’’لکی ریسٹورنٹ‘‘ میں  داخل ہوا تو میرا دوست اشرف ایک کونے  میں  بیٹھا سمو سے  کھا رہا تھا، اگرچہ اسے  دیکھ کر کچھ اطمینان سا ہوا،میں  نے  عین کھانے  کے  وقت اس سے  ملنا ٹھیک نہیں  سمجھا اس لیے  قریب ہی کی سیٹ پر بیٹھ گیا،اس کے  سامنے  چائے  کی پیالی دھری تھی اور سموسوں  کی پلیٹ خالی ہو چکی تھی، وہ سموسے  کھانے  کے  بعد چائے  پینے  لگا۔

          اب اُس کے  سامنے  چار پانچ بے  فکروں  نے  بیٹھ کر ایک دیوار سی کھڑی کر دی تھی جس سے  اس کا چہرہ بڑی حد تک میری نگاہوں  سے  اوجھل ہو چکا تھا، میں  نے  سراونچاکر کے  اس کی طرف دیکھا، اب وہ اخبار میں  بری طرح کھویا ہوا تھا، میں  نے  بیرے  کو آواز دی جو گاہکوں  کی کثرت کی وجہ سے  گھبرایا سا آرڈر کی تکمیل کر رہا تھا۔ دور کاؤنٹر پر سفید براق سا ایرانی اکڑا ہوا یوں  بیٹھا تھا جیسے  ابھی ابھی ڈنڈ پیل کر آیا ہو، اُس کے  سر کے  عین اوپر ایک خوبصورت فریم میں  آویزاں  ایران کے  سابق شاہ کا فوٹو چمک رہا تھا جس پر چنبیلی کے  پھولوں  کا موٹا سا ہار لٹک رہا تھا،پھول جو سوکھ گئے  تھے او ر پھولوں  کی ان خشک پتیوں  کی طرح ایران کی تاریخ مر رہی تھی۔ کچن میں  پھٹی ہوئی بنیان پہنے  ہوئے  ایرانی النسل بوڑھا باورچی کفگیر کو کھانے  کے  بڑے  سے  بھگونے  میں  پھیرتا ہوا ذہن میں  ایران کی نئی تاریخ مرتب کر رہا تھا۔

          میں  نے  بیرے  کو بلا کر کہا ’’ وہ صاحب ہیں  نا،جو کونے  کی سیٹ پر بیٹھے  اخبار پڑھ رہے  ہیں  انھیں  ذرا اس طرف بھیجنا۔‘‘

          بیرے  نے  اُس کے  قریب جا کر کہا ’’ وہ بابو صاحب تمھیں  بلاتا ہے۔‘‘

          اس نے  چونک کر میری طرف دیکھا، ہاتھ اٹھا کر اشارے  سے  کچھ کہا جس کا شاید مطلب تھا ’’ میں  ابھی آ رہا ہوں۔‘‘

          پانچ منٹ گزر گئے  لیکن وہ یوں  ہی سیٹ پر بیٹھا رہا۔

          مجھے  کوفت ہونے  لگی،’’میں  تمھیں  کب سے  بلا رہا ہوں، تم ہو کہ آنے  کا نام ہی نہیں  لیتے۔‘‘

          ’’آتا بھی کیوں  کر تم پہلے  کی طرح ہو بھی تو نہیں، کون اپنی بھلی سی عزت خراب کر لے۔‘‘

          ’’ کیا بک رہے  ہو۔‘‘ میں  نے  غصے  سے  کہا۔

          ’’ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہوں، جانتے  ہو آج تمھارے  دوست نے  کیا کیا ہے  ؟ اس نے  شراب کے  نشے  میں  اپنی بیوی کا سر پھاڑ دیا ہے او ر وہ اب حراست میں  ہے۔‘‘

          مجھے  یہ سن کر بہاری سے  بے  حد نفرت ہو گئی،اس کے  تو کوئی بیوی نہیں  تھی،ہاں  میں نے  سنا ہے  کہ اُس کے  ایک داشتہ سے  تعلقات تھے، کبھی کبھار اُس کے  یہاں  جایا کرتا تھا۔

          ’’ اب بھی ہوش میں  آؤ، چھوڑو اس لفنگے  کی صحبت، کہیں  تم بھی ایک دن پولیس کی حراست میں  نہ آ جاؤ۔‘‘

          میں  یک لخت سیٹ سے  اٹھ کر باہر آ گیا، سڑک پر کافی چہل پہل تھی، سامنے  پیلیس ٹاکیز کا میٹنی شو ابھی ابھی ختم ہوا تھا اور دیکھتے  ہی دیکھتے  عابد روڈ کے  چوڑے  چکلے  سینے  پر لوگوں  کا ایک ہجوم سا پھیل گیا۔

          خوبصورت اور بد صورت موٹریں، رکشائیں، سائیکلیں  ایک سیلاب تھا کہ بہہ نکلا۔ میں  پانچ منٹ کے  لیے  چھگن لعل کے  بک اسٹال پر جا کھڑا ہوا، ایک چیچک رو کرسچن کھڑا ’’ ہندو‘‘ کا تازہ پرچہ بڑے  انہماک سے  پڑھ رہا تھا، دو لڑکے  کھڑے  کھڑے  نئے  آئے  ہوے  فلمی رسالوں  کی ورق گردانی کر رہے  تھے۔ سامنے  جی ایس راؤ ٹیلر ماسٹر کی دوکان پر ایک شخص ٹوئیڈ کا سوٹ پہنے  آئینے  میں  اپنا چہرہ دیکھ رہا تھا، وہ بار بار آگے  پیچھے  مڑ مڑ کر ہر  زاویۂ نگاہ سے  اپنے  تازہ سلوائے  ہوئے  سوٹ کو بغور دیکھ رہا تھا، اس کے  پیچھے  ہی ٹیلر ماسٹر کھڑا اشارے  سے  کچھ کہہ رہا تھا۔

          جب لوگ باگ چھٹ گئے  تو میں  اطمینان سے  رکشا میں  بیٹھ کر گھر آ گیا۔

          جب میں  نے  گھر میں  قدم رکھا تو وہاں  کا نقشہ ہی کچھ اور تھا، میری بیوی کے  نرم و نازک جسم پر چھوٹے  بڑے  کئی آبلے  اٹھ آئے  تھے اور  سفید پٹی بندھی ہوئی تھی، میں  نے  پیروں  تلے  سے  زمین نکلتی ہوئی محسوس کی۔

          ’’ یہ کیا ؟‘‘ میں  نے  ضبط کے  بند کو تھامتے  ہوئے  کہا۔

          ’’ کچھ بھی نہیں  ذرا آگ سے  جھلس گئی ہوں۔‘‘ میری بیوی ذکیہ نے  مسکرانے  کی ناکام کوشش کرتے  ہوئے  دھیرے  سے  کہا۔

          ’’ کب اور کیسے  ‘۔ میں  نے  حیرانی سے  پوچھا۔

          ’ صبح آپ کے  جانے  کے  دو گھنٹے  بعد میں  نے  دوپہر کے  کھانے  کے  لیے  چولھے  پر ہانڈی چڑھائی تھی، جانے  کس وقت ایک دبی سی چنگاری نے  میرے  آنچل کو جالیا اور دیکھتے  دیکھتے  چنگاریاں  شعلوں کی شکل میں  میرے  جسم سے  لپٹ گئیں۔‘‘

          ’’ وہ تمھارا دوست ہے  نہ بہاری، خدا اسے  اچھا رکھے، پتہ نہیں  اس وقت کہاں  سے  آ دھمکا۔ میری چیخیں  سن کر اندر گھس آیا اور مجھے  آگ سے  بچا لیا، اس نے  فوری میرے  جسم پر پانی سے  بھری ہوئی دو بالٹیاں  پھینکیں او ر ڈاکٹر کو بلا لایا، وہ شاید اس وقت تم سے  ملنے  آیا تھا۔‘‘ وہ بولی۔

          مجھے  اس وقت بہاری یوں  لگا جیسے  وہ غنڈہ نہیں  تھا ایک فرشتہ تھا جو آسمان کی پہنائیوں  کو پھلانگتا ہوا مجھ سے  آ ملا تھا لیکن دوسرے  لمحے  ہی میں  کچھ بجھ سا گیا، کاش ! آج یہ حادثہ رونما نہ ہوتا جانے  بہاری نے  ذکیہ کو کس حال میں  دیکھا ہو گا، اس وقت اس کی کتنی سبکی ہوئی ہو گی اور جانے  کتنی۔۔۔

          دو دن تک بہاری مجھے  کہیں  بھی دکھائی نہ دیا، میں  سمجھ گیا ضرور اُسے  کچھ دن کی سزا ہو گئی ہے۔

          کسی کا سر پھاڑ دینا بھی تو جرم ہے۔

          اگلے  ہفتے  اچانک ہی صبح وہ میرے  گھر آ دھمکا۔

          ’ کوکب صاحب۔‘‘

          ُاس کی پاٹ دار آواز فضا میں  ارتعاش پیدا کر گئی۔

          میں  باہر نکل آیا، وہ حسبِ معمول بے  ڈھنگے  انداز میں  مسکرا رہا تھا۔

          ’’باہر چلو بھئی ! کیا چھوکریوں  کی طرح گھر میں  بیٹھے  ہو، آج کل لڑکیاں  بھی تو گھر میں  نہیں بیٹھتیں۔‘‘

          ’’ نہیں  بہاری ! آج میں  تمھارا ساتھ نہیں  دے  سکوں  گا مجھے  کام ہے۔‘‘

          ’’ اماں  چلو بھی۔۔۔‘‘ اُس کے  آہن جیسے  مضبوط ہاتھ میرے  کندھوں  پر آ گئے او ر میں  بغیر کچھ سوچے  سمجھے  چپکے  سے  اس کے  ساتھ ہولیا۔‘‘

          راستے  میں  اس نے  مجھ سے  کہا۔۔۔ ’’ اب بھابی کا مزاج کیسا ہے، اس روز آگ نے  انھیں  بہت پریشان کر دیا تھا۔‘‘

          ’’ ٹھیک ہے، آبلے  بھی سوکھ گئے  ہیں، زخم مندمل ہو رہا ہے۔‘‘ میں  بولا۔

          مکرم جاہی روڈ پار کر کے  جب ہم پیلیس کے  سامنے  سے  گزرتے  ہوے  ’’ لکی ریسٹورنٹ‘‘ کے  قریب آئے  تو مجھے  لکی ریسٹورنٹ کے  کھلے  ہوئے  کیبن سے  اشرف جھانکتا ہوا دکھائی دیا جیسے  وہ مجھ سے  کہہ رہا ہو۔

          ’’ اب بھی ہوش میں  آؤ، کہیں  تم اس لفنگے  کی صحبت میں  تھانے  کی سیڑھیاں  نہ چڑھ جاؤ۔

          مجھے  آج اس کے  ساتھ چلتے  ہوے  شرمندگی سی محسوس ہو رہی تھی۔

          پرسوں  ہی کی بات تھی کہ وہ رات تھانے  میں کاٹ چکا تھا۔

          آج اس کا موڈ بہت زیادہ شگفتہ تھا، اس لیے  وہ راستہ چلتے  ہوے  سڑک سے  گزرنے  والی خوبصورت پارسی لڑکیوں  پر جملے  کستا جا رہا تھا، کبھی کبھی نڈر انداز میں  قریب آ کر بھیک مانگنے  والے  لونڈوں کی ہتھیلیوں  میں  جلتے  سگریٹ کا چرکا دے  کر ہنستا جا رہا تھا اور  مڑ مڑ کر ایک موٹی گالی کے  ساتھ انھیں  پیسے  بھی دیتا جا رہا تھا۔

          ’ پولیس میں  رات مار کھاتے  ہوئے  بھی تم ٹھیک نہ بن سکے۔‘‘ میں  بولا۔

          وہ چلتے  چلتے  ایک دم رک گیا۔

          ’ ’ کس بھڑوے  نے  تم سے  یہ کہا ہے  ؟‘‘ وہ جھٹ خفا ہو گیا۔

          ’’ میں  نے  سنا ہے۔‘‘

          ’’ اور تم نے  یقین کر لیا۔‘‘

          ’’ کیوں  نہ کرتا تم ہو ہی اس قابل۔‘‘

          ’’ پولیس میں  رات تو تم جیسے  بابو گزاریں  گے، میں  کیوں  گزارنے  لگا ؟‘‘

          ’’ہاں  اس لوفر کے  بچے  امین نے  ایک گھنٹے  کے  لیے  ناکے  پر مجھے  بلا لیا تھا، میرا بیان لیا اور چھوڑ دیا،میاں  بیوی  کے  معاملے  میں  کوئی سالا کر بھی کیا سکتا ہے  ؟‘‘ وہ سالی ہے  نا میری داشتہ اس سے  جانے  کس نے  غلط کہہ دیا کہ میں  تمھارے  گھر جو آتا ہوں  نا،اُس کے  کچھ اور ہی اسباب ہیں  وہ کچھ اور ہی سمجھتی ہے۔ میں  نے  جب آگ بجھانے  کا واقعہ اسے  سنایا تو وہ بجائے  میری تعریف کرنے  کے  مجھ سے  بری طرح الجھ پڑی،میں  نے  سالی کا ٹینٹوا ہی دبا دیا، سر پر کفگیر دے  ماری لیکن اس بدمعاش پڑوسن کمو نے  پولیس میں  خبر کر دی۔

          لیکن چھمیا سالی نے  تو پولیس میں  کمال ہی کر دیا، صاف کہہ دیا کہ یہ میرا خصم ہے، مجھے  مار سکتا ہے، جلا سکتا ہے،اس میں  دوسروں  کا کوئی دخل نہیں۔

          ’’ بس بات آئی گئی ہو گئی۔‘‘

          وہ آسانی سے  ساری باتیں  کہہ گیا جیسے  کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

          وہ چلتے  چلتے  ڈرائی فروٹ کی ایک دوکان پر رکا جہاں  ایک شخص مالکِ دوکان سے  ہنستے  ہوئے  باتیں  کر رہا تھا،وہ مجھے  دور کھڑا کر کے  تھوڑی دیر اس سے  باتیں  کرتا رہا، پھر اسے  اپنے  ساتھ لا کر مجھ سے  متعارف کرایا،اس نے  میری خوب خوب تعریف کی اور وہ خواہ مخواہ مجھ سے  مرعوب ہوتا رہا، ہم تینوں  زنجبار کیفے  میں  داخل ہوے۔

          سیٹ پر بیٹھتے  ہی بوائے  نے  سرجھکا کر ہمارا آرڈر لیا اور تیز تیز کچن کی کھڑکی کے  قریب چلا گیا جہاں ایک شخص کھڑا کھڑا پلیٹوں  کو پانی سے  مانجھ رہا تھا۔

          پہلے  ہم نے  مٹن چاپ، سنڈوچز منگائے،بہاری نے  مرغ پلاؤ کی علیحدہ پلیٹ منگائی، پھر انواع و اقسام کے  میٹھے  خوب سیر ہو کر کھائے۔

          بیرے  نے  ٹھنڈے  پانی کا جگ سامنے  رکھتے  ہوئے  مودبانہ انداز میں  کہا۔

          ’’ اور کچھ صاحب‘‘

          ’ ’ کچھ نہیں، تین کپ کافی کے  بعد بل لے  آنا‘‘

          تھوڑی دیر بعد بوائے  ایک خوبصورت طشتری میں  بل رکھ رکھ لایا۔

          ’ ’ بس !‘‘ بہاری نے  یوں  کہا،جیسے  دس روپے  کا بل بھی کوئی بات ہے  ؟

          ’’ آؤ سگریٹ لائیں ‘‘ کہہ کر وہ مجھے  سیٹ سے  اٹھاتا ہوا باہر لے  آیا، اُس کے  ساتھی نے  کہا۔

          ’’ ہاں  سگریٹ ہونی ہی چاہیے، لیکن یہ زحمت تم کیوں  کرتے  ہو، بیرے  سے  کیوں  نہیں  منگوا لیتے۔‘‘

          ’’دیکھتے  نہیں  آگے  کیا لکھا ہے ‘‘ بہاری  نے  کہا۔

          اور وہ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے  کہتا ہوا چپ چاپ ہو گیا۔

          جب بہاری اور میں  کیفے  سے  باہر آئے  تو وہ مجھے  دیکھ کر مسکرا دیا۔ میں  اس کی مسکراہٹ کا مطلب نہیں  سمجھ سکا، اس نے  پان فروش کے  ہاں  سے  آدھی کیپٹن کی ڈبیہ خریدی، اس میں  سے  ایک سگریٹ نکال کر خود سلگایا اور ایک مجھے  دیتے  ہوئے  کہا :

          ’’اب چلیں۔‘‘

          میں  نے  دیکھا کہ اس کے  قدم بجائے  ’’ زنجبار کیفے‘‘ کی طرف بڑھنے  کے  بازو کی گلی میں  مڑ گئے۔

          جب کیفے  پیچھے  چلا گیا تو اس نے  ہنس کر کہا۔ ’’ آج تو سالا مر گیا،خوب الّو بنا ہے۔‘‘

          میں  نے  جھنجھلا کر کہا ’’ یہ کیا کمینگی ہے، بے  چارے  کو خود ہی مدعو کیا اور تنہا اسے  سیٹھ کے  رحم و کرم پر چھوڑ کر آئے۔

          ’ ’ ارے  اس سالے  کے  ہاں  پیسوں کی کیا کمی ہے، بڑا بخیل ہے  دانتوں  میں  کی میل کھاتا ہے۔‘‘

          آج کئی دنوں  سے  مجھے  اچھی غذا نہیں  ملی، آخر کب تک ٹین شیڈ کے  ڈربوں  میں  بیٹھا روٹی کے  روکھے  سوکھے  ٹکڑے  توڑا کرتا۔

          ادھر جب سے  میں  حیدرآباد آیا ہوں  بھوکا ہی مر رہا ہوں، شراب پینے  کو نہیں  ملتی، نوکری نہیں  ملتی، کھانا نہیں  ملتا، عورت نہیں  ملتی اور کبھی بھولے  بھٹکے  سے  عورت مل بھی جاتی ہے  تو ایسی جیسے  کسی بھکاری کا پھینکا ہوا زنگ آلود صندوقچہ، اب تم ہی بتاؤ میں  کیا کروں، ایک سالی چھمیا ملی بھی تو پہلوانی، سارا خون چوس لیا ہے  ظالم نے۔

          میں  نے  اچھی زندگی گزارنے  کی کئی بار کوشش کی لیکن مجھے  زندگی کے  اس سائے  میں  ذرا سا بھی اطمینان نصیب نہ ہو سکا، ہمیشہ ایک بے  چینی سی رہی، میں برسوں  سے  تاریکی کے  اس بھیانک غبارے  میں  بیٹھا ایک نا معلوم منزل کی طرف اڑا جا رہا ہوں، جیسے  یہ دنیا، دنیا نہیں  چھمیا ہے  جو رات کے  گہرے  سناٹوں  میں  چوری چھپے  کسی کو اپنے  پہلو میں  لیے  سوجاتی ہے،میں  چاہتا ہوں  یہ دنیا چھمیا نہ بنے، بھابی بن جائے  جو تمھیں  پیار سے  اچھے  اچھے  کھانے  کھلاتی ہے۔

          میں  کب گرہستی کا لطف اٹھا سکوں  گا ؟ میں  کب مستقل ملازم ہو سکوں  گا ؟ آخر کب ؟ کہو بھائی آخر کب ؟‘‘ وہ جذبات میں  ڈوب سا گیا۔

          اور میں  سوچ رہا تھا، بہاری کتنا عجیب آدمی ہے۔ اُس کے  دل کے  تاریک گوشے  میں  آج بھی ایک مدھم دیا جل رہا ہے، جس دن یہ دیا سسکتا ہوا مر جائے  گا اس دن بہاری بھی مر جائے  گا، اس دیش کے  سارے  بہاری مر جائیں  گے  جو ایک تیز غبارے  میں  بیٹھے  ایک نامعلوم سمت کی طرف اڑے  جا رہے  ہیں۔

          وہ اکثر خالی ہاتھ رہتا، کبھی کبھار جب اس کی جیبیں  گرم ہوتیں  تو وہ میرے  پاس دوڑا دوڑا آ جاتا، یوں  بھی پیسے  ہوں یا نہ ہوں  مجھ سے  ضرور ملا کرتا، کل راستہ چلتے  ہوے  اس نے  ایک خان کو گالی دی، وہ دانت پیس کر اس کے  قریب آیا لیکن جب اس نے  تیز چاقو کی جھلک دکھائی تو وہ بھیگی بلی کی طرح چپ چاپ منہ ہی منہ میں  بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔

          اسے  ان سود خور پٹھانوں  سے  شدید نفرت تھی،میں  نے  ایک دفعہ نہیں  کئی مرتبہ اسے  پٹھانوں  کو گالیاں  دیتے  ہوئے  سنا تھا۔

          ’’ کیا بات ہے  تم ان پٹھانوں  سے  خواہ مخواہ کیوں  الجھتے  ہو ؟‘‘

          ’’ ان سالوں  نے  میرے  بھائی کی جان لی ہے، اگر میرا بس چلے  تو ان سود خوروں  کو ایک ہی صف میں  کھڑا کر کے  گولی سے  اڑا دوں۔‘‘

          میں  تفصیلات جاننا نہیں  چاہتا اس لیے  میں  نے  دوسری گفتگو چھیڑ دی اور وہ تھوڑی دور تک چپ چاپ میرے  ساتھ چلتا رہا۔

          معظم جاہی مارکٹ کے  چورا ہے  پر آ کر اُس نے  مجھے  خدا حافظ کہا اور مجمع میں  کہیں  گم ہو گیا۔

          ایک ہفتہ بعد وہ سویرے  ہی میرے  گھر آ دھمکا، میں  سورہا تھا، میرے  پڑوس میں  رہنے  والے  ایک آوارہ گرد چھوکرے  نے  مجھے  جگاتے  ہوئے  بہاری کے  آنے  کی اطلاع دی۔

          ’’ تمھیں  رات میں  نیند بھی آتی ہے  ؟ صبح ہی صبح آ دھمکے  ہو،کیا بات ہے  ؟‘‘ میں  بولا، وہ دو منٹ خاموش رہا جیسے  میری بات کا برا مان گیا ہو۔

          ’’ بات کچھ بھی نہیں،میں  چند دن تمھارے  گھر سویا کروں  گا، میں  نے  چھمیا کو گھر سے  نکال دیا ہے،سالی کل رات ایک غیر مرد کے  ساتھ سورہی تھی، تھو ہے  اس کی ذات پر ! میں  نے  جب دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ چور دروازے  سے  نکل کر بھاگ گیا،اب مجھے  زندگی بھر چھمیا نہیں  چاہیے،سور کی بچی کو میں  نے  لات مار کر باہر نکال دیا، حالانکہ وہ اس وقت روتی ہوئی کہہ رہی تھی کہ وہ اس کا خالہ زاد بھائی تھا، اگر وہ سالا بھائی تھا تو چوروں  کی طرح دم دبا کر بھاگ کیوں  گیا۔

          ’’ کیا سوچ رہے  ہو، میں  تم پرکسی وقت بھی بار نہیں  بنوں  گا، میں  ہوٹل میں  کھانا کھاؤں  گا،مجھے  صرف چند دنوں  کے  لیے  تمھیں  تکلیف دینا ہے۔‘‘

          میں  گہری سوچ میں  ڈوب گیا، میں  نہیں چاہتا تھا کہ بہاری میرے  گھر سویا کرے، میں  نے  اِس آنے  والی بلا سے  بچنے  کی بہت کوشش کی، گھر کی تنگی کا بھی ذکر کیا، لیکن اس نے  نہیں  مانا، مجھے  چار و ناچار یہ تصفیہ کرنا ہی پڑا کہ بہاری میرے  گھر سویا کرے  گا، ویسے  میری بیوی بھی چند دنوں  کے  لیے  میکے  جا چکی تھی اس لیے  میرے  پاس اسے  رات میں  سونے  کی اجازت دینے  میں  کوئی معقول عذر نہ تھا۔

          اس کے  یہاں آنے  کے  بعد سے  میں  نے  اُس کی ذات میں  ایک تبدیلی دیکھی، وہ راتوں  میں  آوارہ گھومنے  کے  بجائے  دس بجے  ہی گھر آ کر سو جایا کرتا۔

          ’’ٹکٹ کے  پیسے  ہیں  تمھارے  پاس‘‘

          ’’ٹکٹ کی مجھے  کیا ضرورت ہے، گاڑی جو سسرال کی ہے۔‘‘

          میں  نے  اُس سے  پیچھا چھڑانے  کی خاطر اسے  جانے  کی اجازت دے  دی اور دس روپے  بھی دئیے، پھر وہ بمبئی چلا گیا۔

          تین مہینے  تک اُس کی کوئی خبر نہیں  ملی اور مجھے  یک گونہ سکون سا ہو گیا کہ اب مجھے  دق کرنے  کے  لیے  دوبارہ حیدرآباد نہ آئے  گا، لیکن اچانک ہی ایک دن وہ میرے  گھر آ دھمکا،میرے  پوچھنے  پر کہ اب اس کی ماں  کی طبیعت کیسی ہے،اس نے  ہنستے  ہوئے  کہا، بمبئی پہنچنے  سے  پہلے  ہی بڑھیا نے  اپنا بوریا بستر گول کر لیا تھا، چلو چھٹی ہو گئی۔‘‘

          او رمیں  اس کے  چہرے  کو دیکھ رہا تھا جس پر اداسی کی قوسِ قزح کھنچ گئی تھی، اس نے  یہاں  کچھ دن بیکاری میں  گزارے،ایک جگہ نوکری کی،پھر چھوڑ دی، اب کی بار میں  نے  اس کی ذات میں  ایک اور تبدیلی دیکھی، وہ اب کم آمیز ہو گیا تھا اور بڑی حد تک حساس بھی۔

          اس بار بھی وہ میرے  ہی گھر ٹھہرا رہا،عجیب اتفاق کہ ذکیہ بھی جلد میکے  سے  لوٹ آئی تھی، اب مجھے  اس کا یہاں  ٹھہر ے  رہنا پسند نہ آیا، میں  چاہتا تھا کہ وہ خود ہی کہیں  دوسری جگہ سونے  کا انتظام کر لے، وہ میری اس بے  چینی کو سمجھ رہا تھا جو اُس کی موجودگی سے  پیدا ہو رہی تھی۔

          آج صبح چپراسی نے  مجھے  اطلاع دی کہ اپنے  وظیفے  کے  بقایا روپے  آفس آ کر حاصل کر لوں، میں  مسرت سے  چھلک پڑا، اندر جا کر ذکیہ کو خوش خبری سنائی، اس کے  چہرے  پر مسرت کی شوخ لہر دوڑ گئی، میں  نے  خرید و فروخت کی ایک لمبی فہرست تیار کر لی، وہ بھی دل ہی دل میں  جانے  کتنی تمناؤں  کو تھپک کر دلاسے  دئیے  ہوئے  تھی۔

          دوپہر میں  آفس جا کر میں  نے  بقایا کے  چار سو روپے  حاصل کر لیے، میں  نے  باہر آ کر مزید ایک بار نوٹوں  کو ایک ایک کر کے  گنا اور مجھے  یہ جان کر اطمینان ہوا کہ نوٹ پورے  تھے۔ ’’ پرل شو‘‘ کے  ہاں سے  میں  نے  ذکیہ کے  لیے  ایک خوبصورت سی سینڈل لی اور رکشا میں  بیٹھ کر گھر آ گیا۔

          بہاری دیوان خانے  میں  بیٹھا ایک پستہ قد شخص سے  باتیں  کر رہا تھا، مجھے  ایک دھکا سا لگا، گویا میرا گھر، گھر نہیں  دنیا بھر کے  بدمعاشوں  کا اڈہ ہے۔

          تھوڑی دیر بعد ہی میں  نے  ہوٹل والے  چھوکرے  کو دیکھا جو سیٹی بجاتا ہوا دیوان خانے  میں  چائے  لیے  جا رہا تھا، میں  دل ہی دل میں  کڑھتا ہوا بغلی دروازے  سے  گھر میں  داخل ہوا، مجھے  اندر داخل ہوتا ہوا دیکھ کر ذکیہ کی خوشی سے  باچھیں  کھل گئیں،اُس نے  چھوٹتے  ہی کہا ’’ کیا مل گئے  روپے  ؟‘‘

          ’’ہاں ‘‘

          ’’ اس میں  کیا لائے  ہو ؟‘‘

          ’’ تمھارے  لیے  خوبصورت سینڈل ہے۔‘‘

          ’’ ذکیہ نے  میرے  ہاتھ سے  سینڈل جھپٹ لی اور پہننے  لگی۔

          ’’ ہے  نا برابر ؟‘‘ میں  بولا۔

          ’’ ہاں  برابر تو ہے  لیکن پھر بھی مجھے  تنگ سا محسوس ہو رہا ہے۔‘‘ ذکیہ نے  دو چار قدم یوں  ہی چلتے  ہوئے  کہا۔

          ’’ نہیں  نہیں  بالکل ٹھیک سا ہے۔‘‘

          میں  ذکیہ سے  باتیں  کر ہی رہا تھا کہ میرے  کانوں  نے  بہاری کی آواز سنی۔

          ’’ جاتا ہے  کہ نہیں لونڈے، کل آ کر پیسے  لے  جانا،بھاگ تھوڑے  ہی جا رہے  ہیں۔‘‘

          وہ ہوٹل والے  چھوکرے  سے  کہہ رہا تھا، اور ہوٹل کا ملازم بڑی آواز میں  بہاری کی اس حرکت کے  خلاف احتجاج کر رہا تھا۔

          ’’ میں  پیسے  لے  کر ہی جاؤں  گا۔‘‘ وہ بلند آواز میں  مسلسل کہے  جا رہا تھا۔

          بات جب زیادہ بڑھ گئی تو میں  باہر نکل آیا اور ہوٹل کے  ملازم کو چپ کرا کے  پیسے  دے  دئیے۔

          بہاری نے  جب مجھے  پیسے  ادا کرتے  ہوئے  دیکھا تو شرمندہ سا ہو گیا، اس کا آوارہ ساتھی جا چکا تھا،میں  نے  بہاری کو سمجھاتے  ہوئے  کہا۔ ’’ بہاری ! اگر تمھیں  اپنی عزت کا خیال نہیں  ہے  تو کم از کم میری عزت ہی کا خیال رکھو، یہ کہہ کر میں  غصے  سے  گھر میں  داخل ہو گیا، رات بہاری کا بستر خالی پڑا ہوا تھا،مگر وہ نہیں  آیا، دوسرے  دن صبح جب میں  اٹھا تو وہ خراٹے  لے  رہا تھا، میں  نے  اس کی پیشانی پر دوا خانے  کی پٹی بندھی دیکھی جو سوتے  میں  کروٹیں  بدلنے  کے  باعث کچھ کھسک آئی تھی۔

          ’’ عجیب آدمی ہے،نہ جانے  رات کس سے  لڑائی مول لی۔۔۔ کیا عجب کہ وہ قریب ہی میں  میرے  گھر کوئی آفت لے  آئے، آوارہ گرد تو ہے  ہی، بہتر یہی ہے  کہ اس سے  صاف صاف کہہ دیا جائے  کہ وہ اپنے  لیے  کوئی دوسرا ٹھکانہ دیکھ لے۔ صبح جب وہ اٹھا تو میں  بجائے  اس کے  اپنے  فیصلہ سے  اُسے  آگاہ کرتا، اُس کی خیریت بڑے  چاؤ سے  پوچھ رہا تھا۔

          ’’ تم بہاری سے  ڈرتے  ہو۔۔۔ تم بہاری سے  ڈرتے  ہو۔‘‘

          میرے  اندر کا انسان ذہن کے  چور دروازے  سے  جھانکتا ہوا کہہ رہا تھا، ہوا کا ایک تیز جھونکا کرختگی سے  سیٹی بجاتا ہوا اندر داخل ہوا۔

          میں دیوان خانے  سے  اٹھ کر فوراً باہر چلا آیا، کچھ دیر یوں  ہی بے  معنی انداز میں  چلتا رہا۔

          فضا پر سکوت تھی اور  ہوا دھیمے  دھیمے  ایک سوگوار انداز میں  بہہ رہی تھی، محلے  کے  بازار کی اکثر دوکانیں  مہینے  کا آخری ہفتہ ہونے  کے  باعث بند ہو رہی تھیں، ساری فضا پر ایک دبا دبا سا غبار تھا۔ شاید اس میں  میری اضطراری کیفیت کو بھی دخل ہو، میں  یوں  ہی ٹہلتا ٹہلتا عابد روڈ تک آ گیا،اس خیال سے  کہ لکی ریسٹورنٹ میں  اشرف ہی مل جائے  لیکن لکی میں  اشرف کا پتہ ہی نہ تھا، میں  ’’لکی‘‘ میں  بیٹھا بیٹھا اکتا سا گیا،جب بیرے  نے  میرے  قریب آ کر ’’ کیا چاہیے  صاحب ؟‘‘کہا تو میں  سمجھ گیا کہ بہت دیر بیٹھ گیا ہوں،ورنہ چائے  لانے  کے  بعد اس کا دوبارہ مجھ سے  پوچھنا ایک بے  تکی سی بات تھی، میں  نے  کوفت دور کرنے  کے  لے  لائیٹ ہاؤس میں  لارل اور ہارڈی کی ایک بہت پرانی فلم دیکھی جو کئی بار حیدرآباد میں  چل چکی تھی، مجھے  اس وقت اس فلم کا نام یاد نہیں  آ رہا ہے۔ بہر کیف بڑی بوگس فلم تھی،میں انٹرول ہی سے  اکتا سا گیا اور گھر آ گیا۔

          بہاری دیوان خانے  سے  غائب تھا، چار مینار سگریٹ کے  جلے  ہوئے  ٹکڑے  کمرے  میں  بے  ترتیبی سے  پڑے  ہوئے  تھے، دور دروازے  کے  کونے  میں  سگریٹ کے  جلے  ہوئے  ٹکڑوں  سے  دھواں  نکل رہا تھا، میں  جب اندر داخل ہوا تو مجھے  ایک گھٹن سی محسوس ہوئی، کمرے  کی گھٹی گھٹی سی فضا صاف چغلی کھا رہی تھی کہ بہاری ابھی ابھی باہر گیا ہے، میرے  لیے  سب سے  بڑا یہی ثبوت تھا کہ کونے  میں ابھی تک سگریٹ جل رہی تھی، میں  نے  ذکیہ کو آواز دی لیکن وہ سوچکی تھی۔

          صبح ذکیہ نے  مجھے  روز کی بہ نسبت ذرا جلدی ہی اٹھا دیا تھا، کیونکہ وہ آج اپنی سہیلی کے  ہاں  سالگرہ میں  مدعو تھی، کھانا کھانے  تک دس بج چکے  تھے، اس نے  مجھ سے  اجازت لی، میرے  کپڑے  بدلنے  تک وہ رکشا میں  بیٹھ چکی تھی،پھر رکشا بھی چلا گیا اور میں  گھر ہی میں  پڑا رہا، پھر میں  نے  کوٹ کی جیب میں  ہاتھ ڈالا جہاں  ایک روپیہ پڑا سسک رہا تھا، سوچا باہر نکلنے  کے  لیے  ایک آدھ روپیہ اور ہونا چاہیے۔ یہ احساس میرے  ہاں  پیسے  آنے  کے  بعد سے  بہت زیادہ بڑھ چکا تھا، میں  نے  چابی سے  بکس کھولا جہاں میں  نے  اپنے  بقایا کے  روپے  رکھے  تھے، میں  نے  دیکھا بکس میں  ایک روپیہ بھی نہ تھا،میرا سر چکرا سا گیا اور ہاتھوں  میں  لرزش سی ہو گئی، چار سو روپے  کا بکس میں  سے  غائب ہو جانا تعجب کی بات تھی۔

          میں  سمجھ گیا بہاری کمینے  کے  علاوہ یہ حرکت کسی اور کی نہیں  ہو سکتی، ضرور اس نے  آنکھ بچا کر چرایا ہے، تب ہی تو گھر میں  موجود نہیں  ہے،پھر میں  نے  سوچا،ذکیہ نے  تو نہیں  لیے  ہیں  ! اگر اُس نے  لیے  بھی ہوتے  تو مجھے  اس کی اطلاع ضرور دیتی، لیکن وہ لے  گی بھی کیوں  کر۔۔۔ مگر وہ گھر میں  بھی تو نہیں  ہے، میں  بے  چینی سے  گھر میں  ادھر ادھر ٹہلتا رہا۔

          تھوڑی دیر بعد ہی میں  نے  بہاری کو دیوان خانے  میں  داخل ہوتے  ہوئے  دیکھا، اس کے  ہاتھ کیپسٹن کی ڈبیہ تھی۔

          میں  جب دیوان خانے  میں  پہنچا تو اُس نے  خوشی سے  کہا۔

          ’’  اچھا ہوا تم ٹھیک وقت ہی گھر میں  ہو،آج شام کی ٹرین سے  میں  چند روز کے  لیے  وجے  واڑہ جا رہا ہوں۔

          میں  بت بنا خاموش اُس کی باتیں  سنتا رہا، میری خاموشی سے  اس نے  سنجیدہ ہو کر کہا۔

          ’’ کہو یار کیا بات ہے، آج پریشان لگ رہے  ہو،پھر بہاری کس کام کے  لیے  ہے۔‘‘

          اس نے  ایک مدت کے  بعد پھر اپنی دھونس جمائی۔

          ’’ بہاری ! برا نہ ماننا اگر تم نے  اپنی ضرورت کے  تحت بکس میں  سے  چار سو روپے  لیے  ہوں  تو اسے  فوراً واپس کر دو،تم نہیں  جانتے  تمھاری بھابی کی ڈیلیوری قریب ہے، ہو سکتا ہے  تم نے  مجھ سے  مذاق کیا ہو۔۔۔ ‘ ‘ میں  بولا۔

          ’’ کیسی باتیں  کر رہے  ہو، میں  نے  تم سے  کبھی پیسوں  کا مذاق کیا ہے  ؟‘‘

          جب میں  نے  اُس سے  صاف صاف کہہ دیا کہ سوائے  تمھارے اور کوئی نہیں  لے  سکتا تو وہ بھوکے  شیر کی طرح بپھر کر میرے  قریب آیا۔

          ’’ تم مجھے  سمجھتے  کیا ہو۔۔۔ میں  تمھارے  ان چار سو روپیوں  پر ٹھوکر مارتا ہوں۔&