کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پہلی تنخواہ

عوض سعید


عبدالصمد خیراتی ہاسپٹل میں  کمپونڈر تھا۔

          چھے  سال پہلے  وہ یہاں  وارڈ بوائے  کی حیثیت سے  داخل ہوا تھا اور چھ سال کی مسلسل محنت کے  بعد آج اُس نے  ترقی کی یہ جست لگائی تھی، اس کا تعلیمی پس منظر میٹرک کلاس ہی میں  الجھ کر رہ گیا، وہ آگے  نہ پڑھ سکا۔

          وہ آگے  اپنی تعلیم کیوں  جاری نہ رکھ سکا ؟ اس نے  میٹرک فیل ہونے  پر کیوں  تعلیم چھوڑ دی ؟ یہ ایسے  سوالات تھے  جن کا جواب شاید وہ خود بھی نہ دے  سکے  لیکن آج عبدالصمد خوش تھا کہ وہ کمپونڈر بن گیا ہے۔ کمپونڈر یعنی دوائیں  بنانے  والا اور دس کم سو روپے  تنخواہ پانے  والا ایک معتبر انسان۔۔۔ اب وہ ڈاکٹر کے  تحریر کیے  ہوئے  نسخے  کو دیکھ کر دوائیں  دیا کرے  گا اور چند سال بعد جانے  وہ کیا سے  کیا ہو جائے  گا۔ اسے  اسی ہاسپٹل کے  ایک کمپونڈر کا خیال آیا جس نے  نوکری چھوڑ کر پرائیویٹ ڈسپنسری کھول لی تھی جو جے  رام جنرل مرچنٹ کی برابر والی گلی میں  واقع ہے۔

          پہلے  چھے  برس اس نے  یہاں  وارڈ بوائے  کی حیثیت سے  گزارے  تھے، بیماروں  کو اسفنج کرنا، اینما دینا، منہ دھلانا، پیشاب کرانا، غرض یہ تھے  اس کے  فرائض،اس کریہہ اور پست ماحول کے  گرد اس کی زندگی رقص کر رہی تھی۔

          غلاظت سے  اسے  بچپن سے  نفرت تھی لیکن اسے  یہاں  اپنی فطرت کے  خلاف نوکری کرنی پڑی تھی، وہ چاہتا تھا کہ جس طرح بھی ہو اس گھناؤنے  ماحول سے  بھاگ جائے،دور، جہاں  کی فضا میں  ایسی گھٹن، ایسی بدبو، تعفن نہ ہو، وہ بیماروں  کے  ماحول میں  رہتے  ہوئے  خود کو بیمار محسوس کرنے  لگا تھا۔ اسے  وہ کالی کلوٹی نرس یا د آنے  لگی جس نے  اُسے  ذرا سی غلطی پر گالی دی تھی تو اس نے  تڑاخ سے  گالی کا جواب گالی سے  دیا تھا، اس پر اسے  دو ماہ کے  لیے  معطل کر دیا گیا، پھر اس نے  نرس سے  معافی چاہی تھی تب کہیں  جا کر وہ بحال ہوا تھا۔

          اور پھر اس کے  تحت الشعور میں  ر شتہ داروں، ملاقاتیوں، دوستوں  کے  چہرے  ابھرنے  لگے، پہلے  اس کے  دماغ کے  پردے  پر ایک چہرہ نمودار ہوا، یہ اس کا چچا زاد بھائی الطاف تھا جس سے  اس کی دیرینہ مخاصمت تھی۔ خوبرو، جامہ زیب، گبرڈن کا سوٹ پہنے۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا کب تک آوارہ گردی کرتے  پھرو گے  ؟ صمد، تمھاری اس بے  راہ روی سے  ہمارے  خاندان کی بدنامی ہو رہی ہے، کپڑے  اتنے  خراب کیوں  ہیں  ؟ تمھیں  اپنی حالت تک کا احساس نہیں، کہیں  نوکری کیوں  نہیں  کر لیتے۔ ہاں  دیکھو کوئی ایسی ویسی نوکری قبول نہ کرنا جس سے  ہمارے  خاندان پر حرف آئے،تم حساس ہو پڑھے  لکھے  ہو اور پھر غریب ہو، سنتے  ہیں  فاقہ مستی انسان کو خود دار بنا دیتی ہے او ر ویسے  تم بچپن سے  ہو بھی خود دار۔۔۔ ارے  یہ تمھارا کوٹ مسکرا کیوں  رہا ہے  ؟‘‘ یہ کہہ کر وہ خود بھی مسکرانے  لگا تھا۔ اس مسکراہٹ میں  طنز تھا، بڑا پن تھا، امارت تھی اور اس وقت اس کو محسوس ہوا تھا وہ کوٹ نہیں  پہنے  ہوئے  ہے  بلکہ اس کا جسم مضبوط رسیوں  سے  باندھ دیا گیا ہے، اس کے  جسم سے  کالا زہریلا ناگ لپٹ گیا ہے  جس کی پھنکار سے  وہ بے  جان سا ہوا جا رہا ہے او ر لوگ اس کے  قریب آنے  سے  ڈر رہے  ہیں، اور اس نے  جاتے  ہوئے  کہا تھا۔۔۔‘‘ اچھا اگر تمھیں  کچھ کپڑے  چاہئیں  تو مجھ سے  کہہ دینا، میرے  یہاں  پرانے  کپڑے  بہت رکھے  ہوئے  ہیں  جو میرے  کسی کام کے  نہیں۔‘‘

          امیروں  کی ہمدردی میں  ہمدردی کم دل آزاری زیادہ ہوتی ہے۔

          اور پھر شکر کی بوری کی طرح بھاری بھرکم چچا کا بھونڈا چہرہ اس کی نگاہوں  کے  سامنے  آیا وہ کہہ رہا تھا : ’’ میری مانو تو تم یہاں  سے  دور چلے  جاؤ، تمھارے  چچی، تمھارا بھائی، تمھارے  خاندان کے  اکثر افراد تم سے  نفرت کرتے  ہیں۔۔۔ بے  کار رہنا شریفوں  کا شیوہ نہیں، میں  تمھیں  اپنے  کاروبار میں  اس لیے  شریک نہیں  کر سکتا کہ تمھارے  چال چلن ٹھیک نہیں، تم دودھ جیسے  چاندی کے  سکوں  کو دیکھ کر چوری کرنے  لگو گے او ر میں  تمھیں  چور بنتا دیکھنا نہیں  چاہتا، تم اپنے  پاؤں  پر آپ کھڑا ہونا سیکھو۔۔۔‘‘ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ اس وقت اپنے  چچا کا گلا گھونٹ دے  لیکن وہ ایسا نہ کر سکا تھا۔۔۔ اسے  جینا تھا۔

          پھر اس نے  خود کو آگے  بڑھتا ہوا محسوس کیا۔۔۔ یہ پارسی کی گلی ہے، وہ پکار رہا ہے، ارے  حکیم تم بھاگ کیوں  رہے  ہو۔۔۔ ٹھہرو۔۔۔ مجھے  تم سے  کام ہے، اس کی آواز سن کر اس کا دوست کنّی کاٹنے  کی فکر میں  ہے  لیکن نکڑ پر وہ اسے  دبوچ لیتا ہے۔ وہ پوچھ رہا ہے  تم ایسے  گھبرائے  ہوئے  کیوں  ہو، اُس کا دوست میں، میں  کر رہا ہے،اُس کی زبان گنگ ہے۔ تم مجھ سے  ڈرتے  کیوں  ہو، میں  نے  تمھیں  کیا نقصان پہنچایا ہے، سچ سچ بتاؤ میں  ابھی اتنا نیچ تو نہیں  ہوا۔۔۔ اس کا دوست کہہ رہا ہے۔۔۔ میرے  پاس اس وقت روپے  نہیں  ہیں  صمد ورنہ میں  تمھاری ضرور مدد کرتا۔‘‘ پھر اس کی زبان سے  صرف ایک ہی لفظ نکلا تھا۔۔۔ اوچھے  کمینے  لوگ !

          اس کے  دماغ کے  پردے  پر اب اندھیرا چھا چکا تھا، اسے  کوفت ہونے  لگی، اس نے  ماضی کو کیوں  یاد کیا۔۔۔ اس نے  ان لٹیروں  کی صورت کیوں  دیکھی۔ ان گھناؤنی سڑی بسی شکلوں  کو اس نے  مدتوں  بعد خیال میں  دیکھا تھا۔ اس نے  دل میں  عہد کیا کہ ایسی باتوں  کو وہ پھر کبھی یاد نہ کرے  گا جن کے  یاد کرنے  سے  اس کو روحانی تکلیف ہوتی ہے۔ پھر اس کے  ہونٹوں  پر ہلکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی، لیکن اب اس کی مسکراہٹ میں  تازگی نہ تھی، زندگی کی لہر نہ تھی، پھیکا پن تھا، پژمردگی تھی۔۔۔ دوسرے  دن پھر وہی خیراتی ہسپتال تھا اور وہ۔۔۔

          بات یہ تھی کہ اس نے  زندگی کے  اکثر لمحات پریشانیوں میں  گزارے  تھے او ر کمپونڈر بننے  کے  بعد وہ خود کو ایک مطمئن انسان سمجھنے  لگا تھا اور آج جب اسے  کمپونڈروں  کے  پہننے  کا سفید سرکاری لباس ملا تو اسے  محسوس ہوا جیسے  اس کے  جسم سے  غریبی کا لباس اتر گیا ہے او ر اس کی جگہ امارت نے  لے  لی ہے۔ وہ سوچنے  لگا یہ سفید سرکاری لباس اسے  ڈیوٹی کے  بعد پہننے  دیا جائے  تو کیا ہی اچھا ہو۔۔۔ وہ اسے  احتیاط سے  پہنا کرے  گا۔۔۔ پھر وہ اپنے  آپ اپنی اس مضحکہ خیز حرکت پر مسکرانے  لگا، وہ بھی کتنا بے  وقوف ہے، نرا گدھا۔۔۔ ترقی ملنے  کے  بعد عبدالصمد پہلی تنخواہ کا منتظر رہنے  لگا، اس نے  خریداری کی ایک فہرست تیار کر لی، اسے  اچھے او ر قیمتی کپڑے  پہننے  کی بڑی خواہش تھی لیکن اس کی یہ خواہش اب تک اس لیے  پوری نہ ہو سکتی تھی کہ اس کے  پا س روپے  نہیں  تھے،ایک اکیلے  انسان کے  لیے  دس کم سو روپے  زندگی گزارنے  کے  لیے  کچھ کم نہیں۔

          جب تک وہ وارڈ بوائے  رہا اسے  ماہانہ بیس روپے  ملا کرتے  تھے او ر وہ دن رات کولھو کے  بیل کی طرح ہسپتال میں  جتا رہتا تھا، پورے  ہسپتال میں  کل چار کمپونڈر تھے  جن کے  اپنے  گھر تھے او ر اس ہسپتال میں  عبدالصمد ہی ایک لاوارث تھا۔ اس نے  سوچا یہ ترقی جو اس نے  حاصل کی محض بڑے  ڈاکٹر کی مہربانیوں  کا نتیجہ ہے او ر وہ اب تک شکریہ ادا کرنے  کے  لیے  ان کے  گھر نہیں  گیا۔

          وہ کتنا بد تمیز ہے، جانے  وہ اس کے  متعلق کیا خیال کر رہے  ہوں  گے، جب وہ دوا خانہ بند کر کے  نوٹس بورڈ کے  قریب سے  گزرا تو معاً اس کی نظریں  نوٹس بورڈ کے  تازہ اعلان پر پڑیں  جو ابھی ابھی گوند سے  چسپاں  کیا گیا تھا۔

          سرخ روشنائی سے  جلی حروف میں  درج تھا۔

          ’’ آج کل دیکھا جا رہا ہے  کہ ہسپتال کے  اوقات کے  بعد میں  عملے  کے  بعض لوگ گھر نہیں  جایا کرتے، یہ چیز قانوناً ممنوع ہے۔ سوائے  وارڈ بوائے، ہسپتال کے  خاکروبوں او ر ڈیوٹی پر کام کرنے  والوں  کے  کوئی دوسرا شخص آج سے  غیر اوقات میں  رہنے  نہ پائے۔‘‘

 

          وہ دیر تک اس اعلان کو پڑھتا رہا اور جب پڑھ چکا تو اسے  محسوس ہوا جیسے  وہ ہسپتال سے  برطرف کر دیا گیا ہے۔۔۔ گھر۔۔۔ ؟ اس کا کوئی گھر نہ تھا۔۔۔ وہ آج تک ہسپتال کو ہی اپنا گھر سمجھتا رہا، یہ اور بات ہے  تھی کہ وہ ترقی پانے  کے  بعد اس جگہ سویا نہیں  کرتا تھا جہاں  وارڈ بوائے  خاکروب وغیرہ سویا کرتے  تھے۔ پھر اسے  سوچ کر بڑی طمانیت ہوئی کہ وہ چند دن لطیف کے  گھر سوجایا کرے  گا جو اس کا نیا دوست ہے، اسی کی طرح کمپونڈر،وہ تھوڑا بہت اس کی تاریک زندگی سے  واقف ہے۔

          اور اس نے  پرسوں  کہا بھی تھا کہ وہ اس کے  گھر سوجایا کرے، کمپونڈر بن جانے  کے  بعد اسے  ہسپتال میں  نہیں  سونا چاہیے۔۔۔ اسے  محسوس ہونے  لگا تھا کہ جیسے  لطیف نے  اس اعلان کے  نکلنے  سے  پہلے  ہی یہ جان لیا ہو کہ کمپونڈروں  کو ہسپتال میں  نہیں  سونا چاہیے، رات کی ڈیوٹی کے  لیے  ایک علیحدہ کمپونڈر مقرر تھا، وہ اس سے  مستثنیٰ تھا۔

          چھ بج چکے  تھے او ر اُسے  بڑے  ڈاکٹر کے  یہاں  شکریہ ادا کرنے  جانا تھا اور جب وہ ہسپتال کی سیڑھیاں  اتر چکا تو معاً اسے  خیال آیا کہ وہ دوا خانہ کا سرکاری لباس پہنے  ہوئے  ہے  جو صرف دوا خانے  ہی کے  اوقات میں  پہنا جاتا ہے۔ وہ الٹے  پاؤں  لوٹا تاکہ کپڑے  پہن کر ڈاکٹر کے  ہاں  جائے۔ اس کے  پاس صرف ایک شیروانی اور ایک بوسیدہ کوٹ تھا،اسے  زیادہ پہننے  سے  اس میں  جا بجا سوراخ پڑ گئے  تھے او ر کوٹ کا کالر تقریباً پھٹ چکا تھا، ہاں  شیروانی کوٹ کی بہ نسبت کچھ زیادہ شکستہ حالت میں  نہ تھی، وہ اپنے  ان بوسیدہ کپڑوں  کو تقریباً بھول چکا تھا، جب تک وہ وارڈ بوائے  رہا اسے  سرکاری ڈریس کے  علاوہ اپنے  کپڑے  پہننے  کی کبھی ضرورت پیش نہ آئی تھی،پھٹا پرانا کوٹ پہننا اس کے  نزدیک سراسر حماقت تھی اسے  جیسے  اس کوٹ سے  نفر ت تھی۔ شیروانی پہننے  کے  خیال سے  اسٹور روم کے  بازو والے  کمرے  میں  آیا جہاں  پرانے  کپڑے  رکھے  جاتے  تھے، اس نے  اپنے  تمام کپڑے  الٹ پلٹ کر دیکھے، کوٹ پر جیسے  پھپوند لگ چکی تھی اور شیروانی کا رنگ کچھ بدل سا گیا تھا، جب اس نے  کپڑے  نکالے  تو اس کے  اطراف دوا خانے  کے  وارڈ بوائے او ر خاکروب جمع ہو گئے۔

          ’’ یہ کوٹ مجھے  دیجیے  کمپونڈر صاحب ! نہیں  نہیں  یہ شیروانی مجھے  دے  دیجیے۔‘‘ یہ پاجامہ۔۔۔ یہ کوٹ۔۔۔ یہ شیروانی۔۔۔ سب ہی اس سے  بوسیدہ کپڑے  مانگ رہے  تھے۔ اس کے  دل پر دھکا سا لگا، یہ سب کپڑے  تمھارے  ہی ہیں،میں  نے  یہ تمھیں  دینے  کے  لیے  ہی نکالے  ہیں۔ لے  لو۔۔۔ سب لے  لو۔۔۔ وہ بڑی بڑی ڈگیں  بھرتا ہوا ہسپتال سے  باہر نکل گیا۔

          اسے  اپنے  کپڑے  تقسیم کرنے  سے  زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ اس نے  جو کپڑے  تقسیم کیے  تھے  وہ سب کے  سب بوسیدہ تھے  جو کسی طرح ایک دو دفعہ سے  زیادہ پہننے  کے  قابل نہ تھے۔ اسے  اس بات کا بہت رنج تھا کہ وہ اپنے  ان غلیظ کپڑوں  کو لینے  وہاں  کیوں  گیا تھا، اگر وہ وہاں  نہ گیا ہو تو لوگ کیوں  کر سمجھتے  کہ وہ کپڑے  تقسیم کرنے  کا ارادہ رکھتا ہے او ر اس نے  محض اپنی ساکھ قائم رکھنے  کے  لیے  اپنے  سارے  کپڑے  تقسیم کر دئیے  کہ کہیں  دوا خانے  کے  نچلے  طبقے  کے  لوگ یہ نہ سمجھیں  کہ وہ کمپونڈر بننے  کے  بعد کچھ بدل سا گیا ہے، لیکن کمپونڈر بن جانے  کے  بعد بھی اس کی زندگی میں  کوئی نمایاں  تبدیلی نہیں  ہو پائی تھی، یہ دوسری بات تھی کہ وہ کمپونڈر بن جانے  کے  بعد بھی اپنے  آپ کو ایک مطمئن انسان سمجھنے  لگا تھا۔ چند قدم چلنے  کے  بعد اسے  خیال آیا کہ اسے  ڈاکٹر کے  ہاں  جانا ہے او ر اس کے  جسم پر سفید لباس کے  علاوہ کوئی چیز نہیں  ہے۔۔۔ لیکن فی الوقت مجبوری ہے  وہ اس ماہ ختم پر اپنے  کپڑے  سلوائے  گا۔

          جوں  جوں  ڈاکٹر کا مکان قریب آ رہا تھا اُس کا دل گھڑی کی ٹک ٹک کی طرح دھک دھک کرنے  لگا، وہ دل کو کڑا کر کے  بنگلے  میں  داخل ہوا۔ جوں  ہی ڈاکٹر کی نگاہ اس پر پڑی وہ بنگلے  کے  اوپری حصے  سے  اتر کر نچلے  حصے  میں  آ گیا جہاں  ملاقاتیوں  کا کمرہ تھا۔ بڑے  ڈاکٹر صاحب نے  اُسے  دیکھتے  ہی حیرت آمیز لہجے  میں  کہا ’’ ارے  تم اب تک On Dutyہو !‘‘

          اسے  ایسا لگا جیسے  کسی نے  اسے  ابلتے  ہوئے  لاوے  میں  پھینک دیا ہو اور سفید لباس اسے  یوں  لگا جیسے  کوئی خوفناک افعی اس کے  جسم سے  لپٹ گیا ہے او ر اپنے  نکیلے  دانتوں  کے  ذریعے  اس کے  جسم میں  آہستہ آہستہ زہر چھوڑ رہا ہے۔ اس نے  اپنے  خشک ہونٹوں  کو زبان پھیر کر گیلا کرتے  ہوئے  کہا ’’ میں  آج  offہوں  ڈاکٹر صاحب۔‘‘

          ’’ اوہ ! تم آف میں  ہو ‘’ ڈاکٹر نے  مسکراتے  ہوئے  اس انداز میں  کہا جیسے  وہ صمد کی مجبوریوں  کو تاڑ گیا ہو‘‘ یہ سفید لباس تمھارے  جسم پر اچھا لگتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے  اس کے  اترے  ہوئے  چہرے  کا جائزہ لیتے  ہوئے  کہا، جیسے  وہ خفت مٹانا چاہتا ہو۔

          لیکن صمد کومحسوس ہوا جیسے  وہ شرم سے  زمین میں  دھنستا جا رہا ہو، سفید لباس ہوا کے  ہلکے  ہلکے  جھونکوں  سے  اڑ اڑ کر اس کے  جسم پر چرکے  لگا رہا ہو، اس کا چہرہ اس بات کی صاف چغلی کھا رہا تھا کہ وہ ذہنی الجھنوں  میں  مبتلا ہے۔۔۔ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے  لیکن کہہ نہیں  سکتا۔ ڈاکٹر نے  ہمدردانہ لہجے  میں  کہا ’’ تمھیں  کچھ کہنا ہے۔‘‘ وہ گھبرا سا گیا ’’ جی نہیں  مجھے  کچھ کہنا نہیں  ہے، میں  یوں  ہی چلا آیا۔‘‘ ڈاکٹر پھٹی پھٹی نگاہوں  سے  اسے  دیکھنے  لگا، بغیر کچھ کہے  وہ وہاں  سے  چل دیا۔

          سلطان بازار پار کر کے  جب وہ پارسی گلی کے  نکڑ پر آیا تو اسے  خیال آیا کہ وہ شکریہ ادا کرنے  کے  لیے  ڈاکٹر کے  ہاں  گیا تھا لیکن وہ کچھ کہہ نہ سکا، اسے  بڑا دکھ ہوا، وہ سوچنے  لگا کاش اسے  یہ ترقی نہ ملی ہوتی وہ وارڈ بوائے  ہی رہتا۔۔۔ وہ سفید لباس پہنے  نہ ہوتا۔ یکبارگی اس کا خیال پلٹا، اب لطیف کے  گھر چلنا چاہیے، لطیف نے  کئی دفعہ اس سے  کہا بھی تھا کہ وہ اس کے  گھر آ کر چند روز مہمان رہے  کیونکہ بڑے  ڈاکٹر نے  یہ نوٹس دے  دیا تھا کہ کمپونڈروں  کو ڈیوٹی کے  بعد ہسپتال میں  نہیں  سونا چاہیے۔ لطیف کا گھر پیچ در پیچ گلیوں  میں  واقع تھا، اس نے  صرف محلے  کا پتہ ہی بتایا تھا اور خاص طور پر یہ نشانی بتلائی تھی کہ اس کے  مکان کی منڈیر کا نصف حصہ گر چکا ہے۔ وہ شام ہونے  تک ٹھیک اسی پتے  پر پہنچ گیا، پہلی ہی آواز کے  ساتھ لطیف باہر نکل آیا، بڑی گرم  جوشی سے  مصافحہ کرنے  کے  بعد وہ اسے  دیوان خانے  میں  لے  آیا ’ تم یہاں  بیٹھو میں،ابھی آتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ وہ اندر چلا گیا، مکان سفال پوش ہونے  کی وجہ سے  دیواروں  میں  دراڑیں  پڑ گئی تھیں او ر کھپریل اپنے  اصلی مقام سے  جا بجا ہٹا ہوا دکھائی دے  رہا تھا، محراب میں  دیا ٹمٹما رہا تھا اور دیواروں  پر مذہبی کتبے  اور کیلنڈر لٹک رہے  تھے۔ گھر کو پہلی ہی نظر میں  دیکھنے  کے  بعد اس چیز کا اندازہ بہ آسانی ہو سکتا تھا کہ صاحب خانہ غریب ہے، اگر غریب نہیں  ہے  تو لا ابالی ضرور ہے۔ تھوڑی دیر بعد لطیف چائے  لے  آیا۔ ’’ دیکھوں  صمد ! چائے  کوئی خاص نہیں، کوئی خیال نہ کرنا، پانی ملا دودھ تھا، یہ سمجھ کر پیو کہ تم ایک غریب دوست کے  گھر چائے  پی رہے  ہو، اگر شکر کم ہو تو بلا تکلف کہنا، بات یہ ہے  کہ ہم لوگ شکر بہت کم پینے  کے  عادی ہیں۔‘‘

          صمد تشکر آمیز نگاہیں  ڈالتے  ہوئے  چائے  پینے  لگا، وہ آہستہ آہستہ چائے  کے  گھونٹ لے  رہا تھا۔

          ’’ کیا شکر چاہیے ‘‘۔ لطیف نے  اصرار کے  لہجے  میں  کہا۔

          ’’ نہیں  نہیں  شکر کافی ہے، میں  بھی زیادہ شکر استعمال نہیں  کرتا، زیادہ شکر استعمال کرنے  سے  نقصان کا اندیشہ ہے۔‘‘ وہ آہستہ آہستہ چائے  کے  گھونٹ لے  رہا تھا کہ اندر سے  زنجیر کھٹکھٹانے  کی آواز آئی۔ لطیف اندر چلا گیا۔

          ’’ برا ہو میرے  دماغ کا، میں  شکر ڈالنا ہی بھول گئی، دیکھو کیا خیال کر رہا ہو گا وہ۔۔۔‘‘ اُس کی بیوی نے  خفت آمیز لہجے  میں  کہا۔

          لطیف کا چہرہ اچانک یکایک اتر گیا، اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کا گلا دبا دے،کتنی شرمندگی محسوس ہو رہی تھی اسے۔ صمد کے  الفاظ اس کے  کانوں  میں  گونجنے  لگے۔

          ’’ میں  بھی شکر کم پیتا ہوں، شکر زیادہ پینے  سے  نقصان کا اندیشہ ہے  نا۔‘‘

          وہ اترے  چہرے  کو لیے  جب دیوان خانے  میں  داخل ہوا تو صمد چائے  پی کر کرسی پر بیٹھا کچھ گنگنا رہا تھا، جیسے  وہ گنگنا کر اپنے  منہ کا مزہ بدل رہا ہو۔۔۔‘‘ جانے  کیا بات ہے  لطیف، مجھے  کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے  کہ میں  بہت جلد اپنی ملازمت کھو دوں  گا۔۔۔‘‘

          ’’ کیوں  تمھیں  یہاں  کیا تکلیف ہے  ؟ یہ دیوانگی چھوڑو۔۔۔ عقل مند ایسی باتیں  نہیں  کرتے۔‘‘ لطیف نے  ناصحانہ انداز میں  کہا، پھر دونوں  مختلف موضوع پر باتیں  کرتے  ہوئے  جانے  کب سوگئے  تھے۔ سویرے  جب اُس کی آنکھ کھلی تو لطیف وہاں  موجود نہ تھا۔

          صبح ہی صبح جب ہر طرف خاموشی ہو تو ایک انسان کی آواز دوسرے  انسان تک بآسانی پہنچ سکتی ہے۔ صمد کے  کانوں  سے  چند ملی جلی آوازیں  ٹکرائیں۔ ’’شمی‘‘ شاید لطیف کی بیوی کا نام تھا ’’ کل ہم سے  جس قسم کی غلطی ہوئی ہے  وہ ناقابلِ درگزر ہے، شاید ہم اسے  کبھی بھلا نہ سکیں، کتنا شریف ہے  صمد کہ اس نے  چہرے  سے  یہ تک ظاہر نہ ہونے  دیا کہ وہ پھیکی چائے  پی رہا ہے۔ میری جیب میں  تین روپے  پڑے  ہیں،ممدو کے  ہاتھ گیہوں  کا آٹا اور قیمہ منگوا لینا۔۔۔ وہ ابھی سورہا ہے، ناشتہ جلد تیار ہو جانا چاہیے، کیوں  شمی ہمیں  گیہوں  کی روٹی کھائے  ہوئے  کتنا زمانہ ہوا ہے  ؟‘‘

          اُس کی بیوی نے  بھرائی ہوئی آواز میں  کہا ’’ چھوڑو  ان باتوں کو۔‘‘ پھر ایک بچے  کی آواز ان دو آوازوں  کو دباتے  ہوئے  ابھر رہی تھی ’’ ممی میں  آج پراٹھے  کھاؤں  گا،میں  بھی۔۔۔ ہاں  میں  نے  کہہ دیا ہے، ہاں  میں  ضرور کھاؤں  گا۔‘‘

          لطیف کی آواز آ رہی تھی۔۔۔ ’’ دیکھوں میں، صمد اٹھ گیا ہو۔۔۔‘‘صمد آنکھیں  بند کیے  پڑا رہا،حالانکہ وہ جاگ رہا تھا، وہ لطیف کی تاریک زندگی کے  تاریک پہلو سے  ابھی واقف ہوا تھا اور وہ اس بچے  کی آواز کو بھی سن چکا تھا جو پراٹھے  کھانے  کے  لیے  اپنی ماں  کو دھمکی دے  رہا تھا اور شاید پراٹھے  کھانے  کی خوشی میں  ناچ بھی رہا ہو۔۔۔ وہ نہیں  جانتا تھا کہ لطیف اتنا غریب ہے  کہ وہ گیہوں  کے  آٹے  کے  پراٹھے  تک نہیں  کھا سکتا تھا، اسے  اتنا تک یا د نہیں  کہ اس نے  گیہوں  کے  آٹے  کے  پراٹھے  کھانا کب سے  ترک کیا ہے۔ اس کا دماغ جیسے  شل ہو گیا اور اس نے  طے  کر لیا کہ وہ لطیف کے  گھر کل سے  کھانا نہیں  کھائے  گا، لطیف کتنا شریف انسان ہے  وہ اسے  اپنی پریشانیوں  کے  باوجود مہمان رکھنا چاہتا ہے۔

          ’’ صمد اٹھ بیٹھو، آٹھ بجا چاہتے  ہیں۔‘‘ لطیف نے  اُسے  اٹھاتے  ہوئے  کہا اور صمد جاگ پڑا، اس نے  ایک فراخ انگڑائی لی جیسے  وہ ابھی ابھی اس کے  جگانے  پر بیدار ہوا ہے۔‘‘ جلدی سے  منہ دھو لو، میں  ابھی ناشتہ لے  آتا ہوں۔‘‘ اس کے  منہ دھونے  سے  پہلے  وہ ناشتہ لے  کر آ گیا، پھر اس نے  اپنے  مخصوص لہجے  میں کہا ’’ میں  تمھاری کوئی خدمت نہیں  کر سکا، بھلا برا ہو جو کچھ تھا حاضر ہے، کوئی خیال نہ کرنا۔‘‘

          پھر ناشتہ کر چکنے  کے  بعد وہ دونوں  ہسپتال کی طرف چل پڑے، ہسپتال شہر کے  بیچوں  بیچ واقع تھا، عمارت زیادہ وسیع نہ تھی لیکن خوبصورت ضرور تھی۔ گیٹ کے  بڑے  کالے  بورڈ پر انگریزی حروف میں  خیراتی ہسپتال لکھا تھا۔ جب وہ دونوں  ہسپتال پہنچے  تو آٹھ بجنے  میں  ابھی کافی دیر تھی، وہ سامنے  والے  چمن میں بیٹھے  ادھر ادھر کی باتیں  کرنے  لگے، ہسپتال کا مالی کیاریوں  میں  پانی ڈال رہا تھا۔

          گورنمنٹ نے  عوام کی بھلائی کے  لیے  دوا خانہ تو قائم کیا ہے  لیکن دوائیں  ہسپتال میں  اتنی کم ہیں  کہ بسا اوقات بیماروں  کو بغیر دوائی کے  واپس لوٹنا پڑتا ہے او ر پھر ایک حصہ دوا اور چار حصہ پانی۔۔۔ کیا خاک بیمار اچھے  ہو سکیں  گے۔‘‘ صمد نے  کہا۔

          ’’ چھوڑو ان باتوں  کو صمد، ہم کو اس قسم کی باتیں  نہیں  کرنی چاہیے،دیواروں  کے  بھی کان ہوتے  ہیں، کوئی سن لے  گا تو رہی سہی نوکری بھی جاتی رہے  گی۔‘‘ پھر آٹھ بجتے  ہی دونوں  ہسپتال میں  داخل ہوئے۔ بیمار آتے  رہے، دوائیں  لیتے  رہے۔ لطیف آج وقت سے  تھوری دیر پہلے  ہی گھر چلا گیا۔

          آج ہسپتال خالی خالی سا نظر آ رہا تھا،دوا خانہ بند کر کے  جب وہ باہر نکلا تو ہسپتال کے  خاکروب جگو نے  اسے  جھک کر سلام کیا۔ اس نے  دیکھا کہ اس کے  جسم پر اس کا میلا کوٹ چمٹا ہوا ہے،اس کی آستینیں  پہلے  سے  زیادہ پھٹ چکی تھیں او ر کالر کے  پھوسڑے  نکل گئے  تھے، لیکن وہ پھٹا ہوا کوٹ پہن کر بھی کتنا خوش تھا۔ اسے  محسوس ہوا جیسے  وہ پھر ایک بار نقطہ عروج سے  نقطہ زوال پر آ گیا ہے اور جیسے  پھر اس کا پھٹا ہوا کوٹ اس کی افلاس کی تشہیر کر رہا ہے۔ وہ سوچنے  لگا جگو اگر یہی کوٹ ہمیشہ پہنتا رہا تو وہ گھل گھل کر ایک نہ ایک دن مر جائے  گا،اسے  اس کوٹ سے  نفرت ہے، وہ اپنے  اس کوٹ کو ایک لمحے  کے  لیے  بھی دیکھنا نہیں  چاہتا، وہ دنیا کے  ذلیل سے  ذلیل انسان کے  جسم پر بھی اپنے  اس کوٹ کو دیکھنا نہیں  چاہتا۔ جیسے  اس کوٹ سے  اس کی زندگی کی سب سے  بڑی ٹریجڈی وابستہ ہو، اس کا دماغ بھنا اٹھا، وہ کپڑے  نہیں پہن سکتا۔۔۔ وہ ہسپتال میں  نہیں  سو سکتا۔۔۔ وہ لطیف کے  گھر مہمان نہیں  رہ سکتا۔۔۔ اس لیے  کہ وہاں  اپنی آنکھوں  سے  زندگی کے  المیہ کرداروں  کو لڑکھڑاتے  ہوئے  دیکھا تھا، اس کے  باوجود وہ لطیف کے  گھر سوتا رہا، اس کو اپنی فطرت کے  خلاف کام کرنے  پڑے او ر اسی بات کا اسے  غم تھا۔

          لیکن آج اس کی زندگی کے  ویران کمرے  میں  روشن دیئے  جگمگ جگمگ کر رہے  تھے، وہ آج غیر معمولی طور پر خوش نظر آ رہا تھا، آج تنخواہ کا دن تھا۔ لطیف صمد کی خوشی کو محسوس کر رہا تھا اور وہ خود بھی حد سے  زیادہ خوش تھا، اس کا خیال تھا کہ صمد بازار جا کر سب سے  پہلے  اپنے  لیے  کپڑے  خریدے  گا اور پھر رہنے  کے  لیے  کرائے  کا چھوٹا سا مکان لے  لے  گا۔

          جب دوا خانے  کی بڑی گھڑی نے  بارہ بجائے  تو ہسپتال کے  سب ملازم تنخواہ لینے  کے  لیے  اُس بڑے  ہال میں  جمع ہونا شروع ہوئے  جہاں  تنخواہ تقسیم کی جاتی تھی۔ لطیف اور صمد تنخواہ لینے  کے  لیے  دوا خانے  کے او ر کمپونڈروں  کے  ساتھ شریک ہو گئے۔ صمد کو دیکھ کر جگو نے  تشکر آمیز نگاہیں  اس پر ڈالیں او ر اسے  جھک کر سلام کیا، اسے  دیکھ کر صمد کے  دل میں  کے  ناسور پھر رسنے  لگے،یکبارگی اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اور پھر جیسے  کسی نے  اس چہرے  کی سرخی چھین کر اس پر ہلدی مل دی ہو۔

          ’ ’ صمد ! اُس کے  بعد تمھاری باری ہے، تنخواہ لے  کر باہر میرا انتظار کرنا۔‘‘ لطیف نے  کہا، لیکن صمد خاموش رہا۔ تھوڑی دیر کے  بعد صمد کا نام پکارا گیا اور جب تنخواہ لے  کر لوگوں  کے  سامنے  سے  گزرا تو سب نے  محسوس کیا کہ وہ حد درجہ مغموم ہے، کوئی سوچ اور فکر اسے  پگھلا رہی ہے، ترقی کے  بعد پہلی تنخواہ بھی اسے  خوش نہ کر سکی۔

          لطیف تنخواہ لے  کر جب باہر آیا تو صمد وہاں  موجود نہیں  تھا، وہ سوچ میں  پڑ گیا، صمد اس کا تھوڑی دیر بھی انتظار نہ کر سکا، اس سے  کوئی غلطی نہیں  ہوئی لیکن وہ ملنے  سے  تھوڑی دیر پہلے  تک تو بہت خوش تھا، پھر اس کے  بعد نہ جانے  یکایک اسے  کیا ہو گیا تھا، لطیف بہ دستور ذہنی الجھن میں  مبتلا تھا۔

          صمد رات کے  کوئی گیارہ بجے  ہسپتال پہنچا۔

          بینچ پر ہسپتال کا خاکروب جگو میٹھی نیند سو رہا تھا۔

          ’ ’ جگو اٹھو۔۔۔‘‘ صمد نے  ا س کے  کان کے  قریب جا کر کہا۔ وہ چونک کر اٹھ بیٹھا، وہ سہما ہوا تھا۔

          ’’ سلام کمپونڈر صاحب۔‘‘

          ’ ’ہاں  دیکھو جگو ! ایک بات مانو گے، میں  تم سے  کچھ مانگنا چاہتا ہوں۔‘‘

          ’’ کمپونڈر صاحب، میں  میں ‘‘ وہ گونگے  کی طرح گھگیا رہا تھا۔

          ’’ گھبراؤ نہیں، یہ کوٹ ہے  نا جو میں  نے  چند دن پہلے  تمھیں  دیا تھا وہ مجھے  دے  دو۔۔۔ اور یہ نیا کوٹ لے  لو، دیکھو اسے  میں  نے  آج ہی خریدا ہے۔‘‘

          جگو حیران تھا۔ یہ آج کمپونڈر صاحب کو کیا ہو گیا ہے، اسی حیرانی کے  عالم میں  صمد کے  ہاتھ سے  نیا کوٹ لے  کر پہن لیا اور پرانا کوٹ اس کے  ہاتھ میں  تھما دیا اور صمد آہستہ آہستہ سیڑھیاں  اترتا ہوا ہسپتال سے  باہر چلا گیا۔۔۔ !!

٭٭٭