کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بیدل صاحب

عوض سعید


میرے  مکان کے  برابر بیدل صاحب کا مکان تھا، بڑا خوبصورت کشادہ سا مکان جس کی چھتیں  طوفانی بارش میں  بھی ٹپکتی نہ تھیں۔ باہر دروازے  کی چوڑی پیشانی پر ایک سیاہ تختی جھومر ی طرح لٹک رہی تھی جس پر جلی حروف میں ’’بیدل‘‘ لکھا تھا۔

          شام ہوتے  ہی وہ ہاتھ میں  پانوں  سے  بھرا ہوا بٹوہ لیے  باہر آرام کرسی پر آ بیٹھتے او ر ہر دو منٹ بعد بٹوے  سے  ایک گلوری نکالتے  اور منہ میں  رکھ کر بڑے  اطمینان سے  باتوں  میں  مشغول ہو جاتے، ان کے  منہ سے  الائچی کی تیز خوشبو بڑی بھلی لگتی۔ حقے  سے  انھیں  بڑی نفرت تھی۔ کہتے  تھے  ’’ بھئی ! حقہ بھی کوئی پینے  کی چیز ہے ‘‘ حالانکہ ان کے  باپ دادا حقے  ہی سے  شغل کیا کرتے  تھے۔

          بیدل صاحب یوپی کے  باشندے  تھے  لیکن ان کے  باپ دادا نے  دکن ہی میں  آ کر ملازمت اختیار کر لی تھی، اب وہ اس خاندان کے  آخری چشم و چراغ تھے۔ ملازمت سے  انھیں  نفرت تھی، جوانی میں  ایک جگہ نوکری کی تھی جو مہینے  بھر ہی میں  چھوڑ دی تھی۔ پتہ نہیں  کتنی دولت جمع کر رکھی تھی کہ برسوں  سے  انھیں  کسی سے  کچھ مانگنے  کی نوبت نہ آئی، منگنے  کی تو بات رہی ایک طرف، کوئی ایسا ہفتہ نہ گزرتا جب ان کے  گھر ادیبوں  کی دعوتیں  نہ ہوتیں۔

          انھیں  ادیبوں  اور شاعروں  سے  بڑی عقیدت و محبت تھی۔ جب بھی باہر سے  کوئی فن کار آتا تو خاطر مدارات میں  کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے، جاتے  وقت اسٹیشن تک اس کے  ساتھ جاتے، جب مہمانوں  کو ان کی کوئی چیز لینی ہوتی تو وہ تعریفوں  کے  پل باندھ دیتے او ر بیدل صاحب کھلے  دل سے  ان کی پسند کی ہوئی چیزیں  تحفتہً دے  دیتے۔ اس طرح اب تک بہت ساری بیش قیمت چیزیں  انھوں  نے  دے  دی تھیں۔ حالانکہ میں  بھی ان کا پڑوسی تھا لیکن کسی وقت بھی طبیعت اس شریفانہ حرکت کی طرف مائل نہ ہوئی تھی۔

          وہ مجھے  بہت چاہتے  تھے  گو ابتدا میں  انھوں  نے  میری پرواہ نہیں  کی تھی مگر جب انھیں  علم ہوا کہ مجھے  بھی ادب و شاعری سے  گہری دلچسپی ہے  تو وہ بہت جلد میرے  قریب آ گئے۔ انھیں  اساتذہ کا بہت سا کلام از بر تھا، اگرچہ شاعر نہیں  تھے  لیکن شعر فہمی کا مادہ بدرجہ اتم موجود تھا۔ فانی سے  انھیں  چڑسی تھی، کہتے  تھے  ’’ اس کا نام نہ لو، کم بخت نے  زندگی کے  خوبصورت چہرے  پر غم کی سیاہی یوں  پھیر دی ہے  کہ چہرہ ڈراؤنا ہو کر رہ گیا ہے۔‘‘

          وہ فارسی شاعری میں  عرفیؔ اور نظیریؔ کو بہت پسند کرتے  تھے، غالبؔ سے  انھیں  اتنا لگاؤ نہ تھا جتنا وہ مومنؔ کو پسند کرتے  تھے۔

          ایک دن کی بات ہے۔ و ہ مومنؔ کی شان میں  قصیدہ خوانی کر رہے  تھے او ر ایک ایک شعر کے  ساتھ پھڑک کر کہتے  تھے  ’’ بتاؤ کسی شاعر کے  ہاں  اس پائے  کا شعر ہے  ؟

تم مرے  پاس ہوتے  ہو گویا

جب کوئی دوسری نہیں  ہوتا

          ’’ یہ بھی کوئی شعر ہے  ؟‘‘ میں  بزرگی کے  سارے  احترام کو ملحوظ رکھتے  ہوئے  بھی کبھی کبھار جذبات میں  بہہ جاتا۔

          ’’ میاں  ! تم نے  جھک ماری ہے۔ شعر تم کیا جانو۔‘‘

          وہ برہم ہو جاتے او ر ایسی نوبت مہینے  دو مہینے  میں  ایک بار ضرور آ جاتی تھی۔

          وہ ہٹ دھرم نہیں  تھے  لیکن انھیں  اپنی بات کا پاس ہوتا تھا، کسی د ن الجھ بھی جاتے  تو دوسرے  دن اس واقعے  کو بالکل بھول جاتے، وہ جسے  بے  حد پسند کرتے  تھے  اسے  میاں  ہی کے  نام سے  پکارتے  تھے۔

          یہ بات مجھے  ان کے  بوڑھے  نوکر عباس نے  بتائی تھی۔ پچھلے  چند دنوں  سے  وہ باہر آنے  جانے  والے  شخص کو میاں  ہی کے  نام سے  پکارا کرتے  تھے  جس سے  مجھے  عباس کے  بیان میں  مبالغے  کی جھلک صاف دکھائی دے  رہی تھی۔

          انھیں  ایک بات سے  سخت نفر ت تھی، اگر اتفاق سے  کوئی بیٹھے  بیٹھے  یا گزرتے  گزرتے  زور کی آواز کے  ساتھ تھوک دے  تو وہ گھبرا جاتے  تھے او ر خفا ہو کر منہ ہی منہ میں  بڑبڑایا کرتے  تھے۔ انھوں  نے  ایک دن مجھ سے  کہا تھا ’’ میں  نے  مغل پورے  کا باڑے  والا مکان محض اس لیے  چھوڑ دیا تھا کہ میرا پڑوسی خواہ مخواہ دن رات راستہ چلتے  ہوئے  تھوکنے  کا عادی تھا،لیکن لطف کی بات یہ تھی وہ بھی بکثرت تھوکنے  کے  عادی تھے  شاید یہ پان کی زیادتی کا نتیجہ ہو۔

          وہ اپنے  بوڑھے  نوکر عباس سے  بہت کم کام لینے  کے  عادی تھے، شام کو چھڑکاؤ کے  بعد بید کی کرسیاں  رکھ کر وہ چائے  کی کشتی لیے  آ دھمکتا تھا پھر اُس کا چہرہ کم دکھائی دیتا تھا۔ پہلی پیالی بجائے  وہ میری طرف بڑھانے  کے  مسکراتے  ہوئے  اپنی طرف کھینچ لیتے او ر دوسری پیالی اسی انداز میں  میری طرف بڑھا دیا کرتے۔

          ایک دفعہ جب میں  نے  ان سے  کہا ’’ بیدل صاحب ! میں  آپ کے  ہاں  روز چائے  پیا کرتا ہوں،کبھی آپ بھی ہمارے  ہاں  تشریف لائیے، دو قدم ہی کا تو فاصلہ ہے۔‘‘

          اس پر ہنس دئیے او ر کہا۔ ’’ میاں  ! میں  غیر تھوڑا ہی ہوں، میرے او ر تمھارے  گھر میں  فرق ہی کیا ہے ‘‘ اور پھر بات آئی گئی ہو گئی۔

          ان کے  بک شیلف میں  دنیا بھر کے  فنکاروں  کی نایاب کتابیں  بھری پڑی تھیں  لیکن انھیں  چھونے  کی بہت کم نوبت آتی تھی۔

          مہینے  دو مہینے  میں  ان کے  گھر دو چار مشاعرے  ضرور ہوا کرتے  تھے، رات ہوتے  ہی قرب و جوار سے  شاعر جمع ہو جاتے، چائے  کے  دور چلتے او ر غزلیں مرصع بنتی جاتیں۔

          پھر جب رات گئے  محفل برخواست ہوتی تو بوڑھا عباس مندی مندی آنکھوں  سے  پیالیوں  کو ایک ایک کر کے  اٹھاتا اور وہ آہستہ عباس عباس آہستہ کہتے  ہوئے  اپنے  کمرے  کی طرف چلے  جاتے۔ دیر تک سونے  کے  بعد دوپہر کو اٹھ کر کھانا کھاتے،پھر قیلولہ کرتے۔ یوں  بھی وہ روز ہی قیلولہ کے  عادی تھے،ایسے  میں  کوئی آ بھی جاتا تو انھیں  اس کی پروا نہ ہوتی۔

          وہ گرما میں  ململ کے  مہین کپڑے  پہنا کرتے  تھے، بلا کے  دبلے  تھے، ململ کے  کرتے  سے  ان کی آگے  کو نکلی ہوئی ہڈیاں  صاف دکھائی دیتی تھیں۔

          ایک دفعہ کسی نے  اس کے  دبلے  پن پر ترس کھا کر ورزش کا مشورہ دیا تو کئی دن تک اس سے  ناراض رہے او ر اسے  خوب برا بھلا کہا۔ بہر حال بیدل صاحب کی صحبت میں  مجھے  بڑا مزہ آتا تھا۔ ایک تو فضا کچھ ایسی پیدا ہو جاتی تھی کہ جی اٹھنے  کو نہ چاہتا تھا دوسرے  ان کے  کردار کی بوقلمونی میں  بڑی کشش تھی۔

          وہ ایک دفعہ اداس کرسی پر منہ سکیڑے  بیٹھے  تھے، میں  آ کر بیٹھ گیا لیکن وہ چپ سادھے  ہی رہے۔ پھر کئی منٹ بعد جب محویت کا طلسم ٹوٹا تو یوں  گویا ہوئے۔

          ’’ کب آئے  میاں  ؟‘‘

          اور میں  یعنی ’ ’ میاں ‘‘ جھنجھلا کر رہ گیا۔

          ’’ دیکھی تم نے  عباس کی جسارت ؟ میں اس کی کھال ادھیڑ دوں  گا، ساٹھا ہونے  کو آیا ہے  لیکن عقل نہیں  آئی۔‘‘

          ’ ’ کچھ کہیے  بھی تو‘‘

          ’’ کیا کہیں  خاک ؟‘‘ اور وہ کچھ کہنے  سے  کترا گئے۔

          دوسرے  دن میں  نے  عباس سے  مل کر ساری باتیں  دریافت کر لیں، بات صرف اتنی تھی کہ عباس نے  نکڑ والے  پنواڑی کے  ہاں  سے  چند روپے  لیے  تھے او ر کئی دن گزر جانے  پر وہ بیدل صاحب سے  کہنے  کو آ گیا تھا۔ میں  نے  دیکھا انھوں  نے  کئی دن تک عباس سے  سیدھے  منہ بات نہیں  کی۔

          عباس شام ہوتے  ہی چپکے  سے  چائے  کی پیالی ان کے  سامنے  رکھ جاتا اور وہ آہستہ آہستہ سپ کرتے  ہوئے  پی جاتے۔

          سرِ شام   میری اُن کے  ہاں بیٹھک ہوتی تھی، کبھی کبھار کرانہ کی دوکان والے  لاڈلے  صاحب بھی آ دھمکتے  تھے  ان سے  بھی بیدل صاحب خلوص سے  پیش آتے  تھے۔

          لیکن میرا خیال ہے  خلوص کی اس تہ میں  دبی دبی سی بیزاری اور ہلکی ہلکی سی نفرت بھی تھی۔ لاڈلے  صاحب تاجر تھے، آتے  ہی بازار کے  سارے  بھاؤ سنا جاتے۔ اس وقت بیدل صاحب کی حالت دیدنی ہوتی تھی، ان کے  چہرے  کے  اتار چڑھاؤ سے  بھلا بیدل صاحب کو کیا لگاؤ ہو سکتا تھا، کئی دفعہ تو میں  نے  لاڈلے  صاحب پر بر ملا چوٹیں  بھی کیں  لیکن وہ بتیسی نکالے  اپنے  بہر صورت دانتوں  کی نمائش کرتے  ہی رہے۔

          جب لاڈلے  صاحب بازار کے  سارے  بھاؤ سنا کر رخصت ہوتے  تو بیدل صاحب ایک لمبی سانس کھینچ کر دل ہی دل میں  لاڈلے  صاحب کی درازی عمر کی دعا مانگتے۔

          مجھے  بیدل صاحب کی ذات سے  بڑی عقیدت تھی۔ گو میری ان سے  راہ و رسم کوئی زیادہ پرانی نہ تھی لیکن ان کے  اخلاق و خلوص نے  مجھے  ان کا گرویدہ بنا لیا تھا۔ ان کی باتوں  میں  تشنگی بڑھانے  کی ساری خوبیاں  تھیں  لیکن بوریت پیدا کرنے  والا کوئی عنصر نہ تھا۔ ہاں  ’’ مستند ہے  میرا فرمایا ہوا‘‘ کبھی کبھار میرے  گلے  میں  مچھلی کے  کانٹے  کی طرح چبھنے  لگتا۔

          ایک سلونی شام کو وہ بڑے  شگفتہ موڈ میں  آپ ہی آپ مسکرا رہے  تھے، میں  دبے   پاؤں  ان کے  قریب جب آیا تو فرمانے  لگے  ’’ آ گئے  میاں  ؟ آؤ آؤ ! مجھے  تمھارا ہی انتظار تھا۔ کل میں  نے  بریلی سے  آفاق صاحب کو بلوایا ہے، بڑے  پائے  کے  شاعر ہیں  وہ، دو چار دن ہی میں  وہ شاندار مشاعرہ ہو گا کہ تم مسرت سے  ناچ اٹھو گے۔ ’’آفاق صاحب ؟‘‘ میں  نے  اپنی یادداشت کے  سارے  خانے  کھولتے  ہوئے  کہا۔

          ’’ ارے  تم آفاق صاحب کو نہیں  جانتے، بریلی کی ناک ان ہی سے  توہے۔‘‘

          اس قسم کے  عجیب و غریب شاعروں  کو ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکال لانے  میں  انھیں  کمال حاصل تھا۔ حیرت کی بات تو یہ تھی کہ ا ن کا کلام بھی لائق ستائش ہوتا، اس سے  زیادہ تعجب خیز بات تو یہ تھی کہ وہ اردو انگریزی کے  پرانے او ر جدید شاعروں  سے  کماحقہ واقف تھے۔

          میں  جب ان کی گفتگو میں  ڈوب جاتا تو وہ پر وقار انداز میں  کہتے۔ ’’میاں  تم نے  ابھی پڑھا ہی کیا ہے  ؟‘‘

          چند دن گھریلو مصروفیتوں  نے  مجھے  ایسا گھیرا کہ میں  بیدل صاحب کے  گھر کا رخ نہ کر سکا۔ پھر ایک شام کے  وقت جب ان کے  ہاں  پہنچا تو وہ ایک کالے  بھجنگ ادھیڑ عمر کے  شخص سے  باتیں  کر رہے  تھے، انھوں  نے  جب مجھے  دیکھا تو ا ن کا چہرہ قدرے  فق ہو کر رہ گیا، پتہ نہیں  کیوں۔

          ’’آؤ میاں  بیٹھ جاؤ۔‘‘ ایک ہلکی سی آواز فضا میں  گونجی، وہ آج کھوئے  کھوئے  سے  تھے  اس کا ثبوت اُن کے  چہرے  سے  عیاں  تھا۔ وہ کالے  بھجنگ شخص سے  رک رک کر، سوچ سوچ کر بہت نرم انداز میں  گفتگو کر رہے  تھے  جیسے  وہ اشاروں  کنایوں  کی لطیف چادر اس کے  جسم پر پھینک کر اسے  ٹرخانا چاہتے  ہوں۔

          لیکن اِس کالے  دیو نے  جاتے  جاتے  بیدل صاحب سے  صرف اتنا کہا۔ ’’ بیدل صاحب ! اب تو میں  جا رہا ہوں  لیکن آئندہ ماہ کچھ لے  کر ٹلوں  گا‘‘۔

          ہاں  بھئی ! ہاں  ضرور لے  جانا، ہر چیز تمھاری ہی تو ہے ‘‘ بیدل صاحب نے  ایک ہوشیار آدمی کی طرح معاملے  کی نزاکت کو بھانپتے  ہوئے  بے  تکلفانہ انداز میں  کہا۔

          ’’ میاں  عجیب و غریب مصیبت ہے، جناب کو مومن، غالب اور اقبال کا پورا سیٹ چاہیے، تم ہی بتاؤ کیا میں  اپنی اس متاعِ عزیز کو اس طرح تباہ کر سکتا ہوں، پھر بھی میں  نے  دل رکھنے  کو کہہ دیا ہے  کہ دے  دوں  گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ عجیب بے  بسی کے  انداز میں  مسکرانے  لگے۔

          ان کے  کردار کی دو رنگی نے  مجھے  ہمیشہ اچنبھے  میں  رکھا، وضع داری کی جو آنچ بیدل صاحب کے  سینے  میں  سلگ رہی تھی وہ میں  نے  کسی میں  نہیں  دیکھی۔ آج تک انھوں  نے  اپنی کسی بھی پریشانی کا ذکر مجھ سے  نہ کیا۔ وضع قطع، رکھ رکھاؤ سے  وہ پریشان حال معلوم نہیں  ہوتے  تھے  لیکن پریشانیوں  کے  شعلے  لپک رہے  تھے۔

          مجھے  آج سے  چند سال پہلے  کے  وہ د ن بھی اچھی طرح یاد تھے  جب بیدل صاحب نے  دو غریب لڑکیوں  کی شادی کے  لیے  اپنی گرہ سے  پانچ سو روپے  دئیے  تھے۔ یہ تو میری آنکھوں  دیکھی بات تھی، نہیں  معلوم کتنے  ایسے  لوگ ہوں  گے  جن کی ذات کو بیدل صاحب نے  سنوارا ہو گا۔

          بیدل صاحب کی شخصیت اس نیم کے  پیڑ کی سی تھی جس کی ٹھنڈی چھاؤں  کے  گمبھیر سائے  میں  کوئی بھی تھکا ہارا شخص کچھ دیر کے  لیے  ہی سہی آرام کر سکتا تھا۔

          ایک دن وہ حسبِ عادت باہر کرسی پر چپ چاپ بیٹھے  تھے، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے  کسی اندرونی صدمے  سے  نڈھال ہوں۔

          پھر ایک دن عباس نے  مجھ سے  کہا ’’ میاں ! کسی طرح حضور کو بچا لیجیے، ان کی زندگی کی ناؤ ڈانوا ڈول ہو رہی ہے۔‘‘

          اور آج مجھے  بھی یوں  محسوس ہو رہا تھا جیسے  قریب ہی میں  بیدل صاحب کی زندگی کا غبارہ پھٹ پڑے  گا۔

          ایک رات جب میں  نے  باہر خالی کرسی دیکھی تو تعجب ہوا، دروازے  کے  قریب جا کر میں  نے  بیدل صاحب کو آواز دی۔

          ایک نحیف و نزار آواز میرے  کانوں  تک آئی۔

          ’’ اندر ہی آ جاؤ میاں  !‘‘

          میں  نے  دیکھا وہ پلنگ پر پڑے  تھے، آنکھیں  سرخ تھیں۔

          ’’ ارے  آپ کا جسم تو جل رہا ہے۔‘‘

          ’’ ابھی باہر کرسی رکھی ہی تھی کہ یکایک بخار محسوس ہوا، اس لیے  مجبوراً اندر چلا آیا۔‘‘

          ’’عباس کہاں  ہے  ؟‘‘ میں  نے  حیرت سے  پوچھا۔

          ’’ میں  نے  کل اسے  نکال دیا ہے۔‘‘ انھوں  نے  خفگی اور رنج کے  ملے  جلے  جذبات میں  ڈوب کر کہا۔

          ’’ کیوں  کچھ بد تمیزی کی عباس نے  ؟‘‘

          ’’ ہاں  اس بوڑھے  حرامی کا دماغ خراب ہو گیا تھا، چند دنوں  سے  خواہ مخواہ میرے  معاملات میں  دخل انداز ہو رہا تھا، اس لیے  میں  نے  اسے  دودھ کی مکھی کی طرح باہر نکال پھینکا ہے۔‘‘

          اُن کے  لب خفگی سے  ہولے  ہولے  کانپ رہے  تھے۔ یکبارگی میری نگاہوں  کے  سامنے  عباس کا مرجھایا ہوا چہرہ گھوم گیا جیسے  وہ سسکیاں  بھرتا ہوا مجھ سے  کہہ رہا ہو۔ ’’ میرے  حضور کو کسی طرح بچا لیجیے  میاں، میں  آپ کا ممنون رہوں  گا۔‘‘

          کچھ دیر باتیں  کرنے  کے  بعد میں  نے  چورا ہے  والے  کیمسٹ کے  ہاں جا کر انھیں  دوا لادی۔ میرے  شدید اصرار پر انھوں  نے  نصف خوراک دوا دل پہ جبر کر کے  پی لی۔ جب انھیں  ہولے  ہولے  نیند آنے  لگی تو میں  اجازت لے  کر چلا آیا۔ ویسے  بھی میں  روز شام ان کے  ہاں  جانے  کا عادی تھا لیکن ان کے  مزاج کی ناسازگی کے  باعث ذرا وقت سے  پہلے  ہی جانے  لگا۔ گو ان کا مزاج بڑی حد تک ٹھیک ہو گیا تھا لیکن عباس کو نکالنے  کا انھیں  بڑا دکھ تھا، گو وہ زبان سے  اس کا اظہار کر نہیں  پاتے  تھے۔ عباس کے  چلے  جانے  کے  بعد ان کی ساری شوخیاں  مرجھا کر رہ گئی تھیں۔ اب وہ بات کرتے  بھی تھے  تو آہستہ آہستہ۔ اکثر تو وہ میری باتیں  سن کر صرف ’’ ہوں، ہاں ‘‘ ہی کرتے  تھے  جیسے  اندر ہی اندر انھیں  گھن لگ گیا ہو۔

          جب میں  نے  بیدل صاحب کی یہ حالت دیکھی تو مجھے  بے  اختیار عباس یاد آ گیا، اسے  اپنے  مالک سے  کتنا پیار تھا شاید وہ دل برداشتہ ہو کر کہیں  چلا گیا ہو۔

          میں  نے  اس کی بہتیرے  تلاش کی، چھوٹے  ہوٹلوں او ر بھٹیار خانوں  میں  بھی جھانکا لیکن بے  سود۔

          پھر چند دن میں  اپنے  کاروبار میں  الجھا رہا کہ ان کے  ہاں  جانے  کی فرصت ہی نہ ملی۔ ایک ہفتہ یوں  ہی گزر گیا، ہر روز جانے  کا ارادہ کرتا لیکن کوئی نہ کوئی ایسا کام نکل آتا کہ جا نہ سکتا۔

          پھر ایک دن شام ان کے  گھر گیا تو خلاف توقع علی گڈھ کا موٹا سا سفید منہ بھنچے  ہوئے  مجھے  گھور رہا تھا، دوسرے  دن بھی تالے  کا منھ کھل نہ سکا۔

          لیکن ایک صبح دروازہ بالکل کھلا تھا، صحن میں  سرو قد چیچک رو ’’ بیلف‘‘ کھڑا تھا۔ اس کے  پاس کالا بھجنگ ڈگری دار لاڈلے  صاحب سے  کھسر پھسر باتیں  کر رہا تھا، نوجوان ہاتھ میں  بڑا سا خوبصورت رجسٹر تھامے  رک رک کر کچھ لکھتا جا رہا تھا۔

          سرکاری جوان بیدل صاحب کے  گھر کی ایک ایک چیز کو باہر کھینچ کھینچ کر جمع کر رہے  تھے۔ جس وقت خوبصورت کتابوں  سے  بھرا ہوا بک شیلف باہر آیا تو میرا دل ڈوب گیا، میں  نے  مشکل سے  اندر قدم رکھا، میری حالت کی انتہا نہ رہی جب میں  نے  بیدل صاحب کو مسکراتے  ہوئے  اپنے  سامان کی ایک ایک چیز کو جوانوں  کے  حوالے  کرتے  دیکھا۔

          ’’ ہاں  وہ کتابیں اٹھا لی ہیں  نا۔‘‘ اندر کمرے  میں  دو ایرانی قالین بھی ہیں  انھیں  نہ بھولنا۔ یہ دیوان خانہ ہے، یہ مومنؔ اور یہ میرؔ سب لے  جاؤ مگر ذرا آہستہ آہستہ۔

          یکبارگی جب انھوں  نے  مجھے  دیکھا تو بے  ساختہ پکار اٹھے۔ ’’ تم آ گئے  میاں  ! آؤ آؤ دیکھو میں  مکان خالی کر رہا ہوں۔

          یہ کہہ کر وہ کچھ اس طرح مسکرائے  کہ ان کے  پتلے  ہونٹ سکڑکر رہ گئے او ر میں  پھٹی پھٹی آنکھوں  سے  بیدل صاحب کے  چہرے  کو دیکھنے  لگا جس پر ایک اذیت ناک تڑپ تھی !!

٭٭٭