کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

نیکی کا بھوت

عوض سعید


حرامی سے  میری پہلی ملاقات گوپال چند بلڈنگ کے  کمرہ نمبر ۶میں  ہوئی جہاں وہ رتی لال سیٹھ کی طرف سے  سٹّہ کی بٹنگ لیا کرتا تھا۔

          پہلے  پہل میری آمد پر رتی لال سیٹھ نے  مسرت سے  اپنے  بد نما ہونٹوں  پر مسکراہٹ بکھیرتے  ہوئے  کہا ’’ اشفاق نواب ! مجھے  خوشی ہے  کہ آپ نے  آج پہلی بار میری ’’ بکٹ شاپ‘‘ میں  قدم رکھا ہے۔‘‘ پھر کچھ قدم آگے  بڑھ کر انھوں  نے  کرسی پر بیٹھے  ہوئے  ایک کسرتی بدن والے  کالے  کلوٹے  نوجوان سے  میرا تعارف کرایا۔

          ’’ میرا  ورکنگ پارٹنر حرامی ہے۔ ‘’

          اور حرامی یکبارگی گردن تنا کر فخر سے  یوں  مسکرایا جیسے  واقعی اس کے  دل کی مرجھائی ہوئی کلی کھل اٹھی ہو۔

          پھر قینچی کی طرح اس کی زبان چلنے  لگی، جب وہ بات کرتے  ہوئے  چند ثانیوں  کے  لیے  رک جاتا تو یوں  محسوس ہوتا جیسے  چلتے  چلتے  یکایک کوئی بھاری مشین رک گئی ہو۔

          اشفاق نواب قسم ہے  پیر کی، اپنے  پاس ’ ’ زیرو، پانچ‘‘ کا کوئی جھگڑا نہیں، زیرو کا بھی وہی بھاؤ ہے  جو دوسرے  فیگروں کا ہے او ر پھر فٹافٹ پے  منٹ۔ نہ پولیس کا خوف نہ سی آئی ڈی کا ڈر۔ ایک مہینے  میں آپ کے  نام دو شاندار بلڈنگیں کھڑی نہ کرا دوں  تو میرا نام حرامی نہیں۔

          ظاہر ہے  کہ اس کے  ماں  باپ نے  اس کا نام حرامی تو نہ رکھا ہو گا، اب اگر یار لوگ اسے  اپنی فیاضی سے  حرامی کے  خطاب سے  نوازیں  تو اس میں  اس کے  ماں  باپ کا کیا دوش !

          حرامی اب بٹنگ لینے  میں  مشغول ہو گیا تھا اور سلپ لکھتے  لکھتے  وقفے  وقفے  سے  دلچسپ باتیں  بھی کرتا جا رہا تھا۔ اس کے  اطراف آٹھ دس افراد مختلف انداز میں  بیٹھے  آنے  والے  فیگر کے  پیچیدہ زاویوں  میں الجھے  ہوئے  تھے۔ دو سکھ نوجوان دو ربینچ پر چارٹ رکھے  تازہ فیگر کی تلاش میں  سرگرداں  تھے او ر ایک مدراسی نوجوان اُن کے  سر کے  اوپر کھڑا حسابی انداز میں  اپنی پتلی پتلی انگلیاں  تھرکا رہا تھا، ان میں  ایک نوجوان سکھ یکبارگی خوشی سے  اچھل پڑا اور مدراسی سہم کر دور جا بیٹھا۔

          واہگرو کی قسم ! یہ ڈبل تیا اور آج کھلاڑی ڈبل چوا موت کی طرح اٹل فیگرسمجھ کر کھیلیں  گے او ر وہ سالا الو بنا کر اس کا اپوزٹ فیگر مارے  گا۔‘‘ اس کا ساتھی اپنے  دوست کے  اس ’’آئیڈیا‘‘ پر سر دھننے  لگا، اس کی آنکھوں  میں  چمک پیدا ہو گئی،داڑھی اور مونچھوں  کے  بال فرط مسرت سے  قدرے  کھڑے  ہو گئے۔

          دو بوڑھے  بنچوں  پر بیٹھے  ’’ ٖPop‘‘ دیکھنے  میں اتنے  محو تھے  کہ انھیں  ذرا بھی اپنا ہوش نہ تھا۔ نو عمر سٹہ بازوں  میں ایک دبلا پتلا نوجوان ’’ ٹائمز‘‘ کے  Popمیں  چیروٹ دیکھ کر اپنے  ساتھیوں  سے  اکا کھیلنے  کی تلقین کر رہا تھا اور اس کے  ساتھی اس کے  آئیڈیا کی دھجیاں  اڑا رہے  تھے۔

          اور حرامی رعونت سے  کرسی پر بیٹھا چار مینار سگریٹ کا دھواں  فضا میں  پھیلا تا ہوا ہر شخص کا انجانے  انداز میں  جائزہ لے  رہا تھا، اسے  معلوم تھا کہ آج کونسا ’ پنٹر‘‘ کس فیگر پر زیادہ سے  زیادہ کتنی رقم کھیل سکے  گا۔ تھوڑی دیر بعد حرامی کے  پاس آ کر ان دونوں  سکھ نوجوانوں  نے  اپنی پسند کا اپوزٹ فیگر کھیلا، اور آپ ہی آپ مسکراتے  باہر چلے  گئے۔ جب ان کے  قدموں  کی دھمادھم فضا میں  بالکل ہی ڈوب گئی تو حرامی نے  مسکرا کر مجھ سے  کہا۔ اشفاق نواب ! میری مانو  ابھی سو پچاس Unchangeپر لگا دو، اگر رات یہ فیگر نہ آئے  تو میرا نام حرامی نہیں۔

          میں  نے  حرامی کی بات مان لی اور اس کے  کہنے  کے  مطابق Unchangeپر پچاس روپے  لگا کر گھر لوٹ آیا۔ گھر آ کر بستر پر پڑا میں  بہت دیر تک سوچ کی ’ ’ بھول بھلیوں ‘‘ میں  بھٹکتا رہا اور جب صبح جاگا تو گیارہ بج چکے  تھے۔ دھوپ دریچوں  سے  رینگتی ہوئی میرے  بستر تک آ پہنچی تھی اور ملازم نے  حسب معمول ’’ ٹائمز‘‘ کا تازہ پرچہ ٹیبل پر لا کر رکھ دیا تھا۔ میرے  ہاتھ غیر شعری طور پر ’’ٹائمز‘‘ ہی کی طرف گئے  لیکن وہاں  Unchangeکے  بجائے  سکھوں  کی کھیلی ہوئی ’’ براکٹ‘‘ آ چکی تھی۔ میں  نے  غصے  میں  اخبار کو ایک طرف پھینک دیا، میرا دماغ بھنا جا رہا تھا، اب مجھے  اس کم بخت کو حرامی سمجھنے  میں  ذرا بھی تامل نہ تھا۔

          رات جب میں  گوپال چند بلڈنگ پہنچا تو وہاں  حرامی موجود نہ تھا، میں  نے  دل ہی دل میں سوچا، شاید سالا شرمندگی کے  مارے  آج نہ آیا ہو لیکن جب اس کے  کردار کی جیتی جاگتی تصویر میری آنکھوں  کے  سامنے  گھوم گئی تو مجھے  آپ ہی آپ اس کی تردید کرنی پڑی۔

          ’’ بھلا حرامیوں  کو بھی شرم کا احساس ہو سکتا ہے۔‘‘

          گوپال بلڈنگ میں  آج کچھ ضرورت سے  زیادہ ہی پنٹرس‘‘ کھیلنے  آ گئے  تھے،اُن میں چند نئے  نوجوان بھی تھے  جن کے  ہاتھوں  میں  لانبے  چارٹ تھے او ر فری پریس اور ٹائمز کے  تازہ شمارے  بھی اور حرامی کی جگہ بالکل اسی ٹائپ کا نوجوان بیٹھا بٹنگ لیتا ہوا ’’ سلپس ‘ چاک کر رہا تھا۔ ’’ پنٹرس‘‘ کافی سوچ بچار کے  بعد قریب آ آ کر فیگر لگا رہے  تھے۔ وہ حرامی کی طرح طرار اور باتونی نہ تھا، وہ زبان سے  زیادہ قلم چلا رہا تھا۔ تیز بہت تیز، جیسے  ٹائپ رائٹر چل رہا ہو۔ میں  نے  اس کے  قریب جا کر پوچھا۔ ’’ کیا تم نے  حرامی کی جگہ لے  لی، اس پر اس نے  اپنی چھوٹی چھوٹی کرنجی آنکھوں  کو گھماتے  ہوئے  مجھے  غور سے  دیکھا اور کہا۔ ’’ صاحب میں حرامی کی جگہ کیوں  لینے  چلا،میں  ایک شریف پٹھان ہوں۔‘‘ میں  اُس کے  جواب سے  چپ سا ہو گیا اور دور جا کر فیگر نکالنے  بیٹھ گیا، تھوڑی دیر بعد یکایک میں نے  رتی لال سیٹھ کو اوپر آتے  دیکھا اوہ ! اشفاق نواب، کب آئے  آپ ؟۔‘‘

          ’’ کچھ ہی دیر پہلے ‘‘

          ’’ کیا آپ نے  حرامی کو نکال دیا ہے  ؟‘‘

          ’’ اُس سالے  کا نام نہ لو۔ کمینے  نے  پنٹروں  کی لگائی ہوئی بٹنگ کھا ئی اور مجھے  اس کی پا بجائی کرنا پڑی، اب منہ چھپائے  جانے  کہاں بیٹھا ہے، پھر چند دنوں  بعد میری ہی جوتیاں  چاٹنے  آ دھمکے  گا لیکن اب کی بار میں  اسے  ہرگز ہرگز معاف نہ کروں  گا۔‘‘

          شام کے  سات بج چکے  تھے، نیچے  بازار کی دوکانوں  کی پیشانیوں  پر بجلی کے  چھوٹے  چھوٹے  حسین قمقمے  جگمگ جگمگ کر رہے  تھے او ر نیا آیا ہوا حرامی ’’ اوپن‘‘ کی بٹنگ کی ’’ سلپس‘‘ جلد جلد پھاڑتا ہوا پنٹروں  کے  ہاتھ تھما رہا تھا۔

          پھر یکبارگی سیڑھیوں  پر کسی کے  قدموں  کی چاپ سنائی دی میں  نے  رتی لال سیٹھ سے  کہا۔ شاید حرامی آ رہا ہو۔

          ’’ نہیں  وہ سالا مدراسی ہو گا۔‘‘

          جب دبلا پتلا مدراسی کمرے  میں  داخل ہوا تو مجھے  رتی لال کے  قیافے  پر تعجب ہوا۔

          مدراسی آج خلاف معمول نئی دھوتی پر نہرو جیکٹ پہنے  مسکراتا ہوا دور ایک بینچ پر جا بیٹھا تھا، شاید کئی دنوں  کی مسلسل ہار کے  بعد اس نے  گذشتہ رات ’ کلوز ‘ جیتا ہو۔

          ’’ میں  نے  آج‘‘ اوپن ٹو کلوز‘‘ صرف پندرہ ہی روپے  کھیلے  تھے  جب میں  نے  سلپ رتی لال سیٹھ کو دکھا ئی تو انھوں  نے  ہنس کر کہا۔

          ’’ یہ بھی کوئی کھیل ہے  اشفاق نواب، یہ ہمارا مدراسی ہے  نا وہی روزانہ چالیس پچاس کی رقم داؤ پر لگا ہی لیتا ہے۔‘‘‘

          مجھے  رتی لال سیٹھ کی طنزیہ گفتگو ناگوار لگی، زیادہ یا کم کھیلنا یہ میرا اپنا اختیاری فعل تھا اور اس میں  کسی کی دخل اندازی کا میں  سرے  سے  روا دار نہ تھا۔

          میں  حسبِ معمول ’’ اوپن‘‘ کھیلنے  کے  بعد بجائے  گھر جانے  کے  ’’ اور ینٹ‘‘ چلا گیا جہاں میرا دوست نیازی آیا کرتا تھا۔ میں  کاؤنٹر سے  ہوتا ہوا برآمدے  میں آ کر اپنے  ساتھی کو دیکھنے  لگا لیکن مجھے  ایک بھی جانا پہچانا چہرہ دکھائی نہ دیا، ہاں  دور کونے  میں  چند بڑے  بڑے  بالوں  والے  نوجوان کرسیوں  میں  دھنسے  کسی موضوع پر تیز انداز میں  گفتگو کر رہے  تھے، ان میں  قدرے  پستہ قد کا ایک ملیح نوجوان ہاتھوں  کو فضا میں نچاتا ہوا جواباً بلند آواز میں  قہقہے  لگا رہا تھا اور بیرا ہاتھ میں  کشتی لیے  ان کے  قریب کھڑا آرڈر لے  رہا تھا۔

          میں  ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے  بیٹھنا بھی چاہیے  یا نہیں  میرا دوست نیازی چپکے  سے  اندر داخل ہوا۔ ’’ ارے  اشفاق!تمھیں  ’’امریکی دنیا‘‘سے  فرصت ملتی ہی نہیں،کم بخت میں  تمھیں  کتنے  دنوں  سے  ڈھونڈ رہا ہوں، خیر بڑے  اچھے  موقع پر آئے  ہو اور پھر اس نے  بیرے  کو کری پفس اور چائے  لانے  کو کہا۔

          جب چائے  کے  ساتھ بیرے  نے  کری پفس اور کیک لا کر رکھے  تو اس نے  مجھ سے  تھوڑی دیر توقف کرنے  کی التجا کی۔

          میرے  پوچھنے  پر اس نے  بتایا کہ آج بڑا ہی اچھا مال ہاتھ لگا ہے  ’’ اللہ کی قسم بالکل نئی ’’پوئنیٹگ‘‘ ہے او ر قیمت صرف پانچ ہزار۔‘‘ ’’ نئی پوئینٹگ اور پانچ ہزار قیمت ! تم پاگل تو نہیں  ہو گئے  ہو‘‘۔ ’’ خیر میں  پاگل ہی سہی، ٹھہرو  وہ ابھی آتا ہی ہو گا۔ پھر چل کر موٹر کی بات کر لیں  گے۔‘‘

          دو منٹ بعد ہی ایک جانا پہچانا گٹھیلے  جسم کا شخص بنی کے  سوٹ میں  ملبوس تیزی سے  آ کر کرسی پر بیٹھ گیا، میں  بھونچکا سا رہ گیا کیونکہ یہ حرامی تھا، میں  حرامی کو دیکھ کر حیرت میں  ڈوب گیا۔ حرامی نے  جو کچھ دیکھا ایک لمحہ کے  لیے  جھجکا لیکن چہرے  سے  ذرا بھی ظاہر ہونے  نہیں  دیا کہ وہ مجھ سے  خائف ہے، آتے  ہی اس نے  چائے او ر کری پفس پر ہاتھ صاف کیے  پھر موٹروں کی خرید و فروخت پر بات چل نکلی تو آدھ گھنٹہ یوں  ہی گزر گیا۔

          ’ فلاں  راجہ صاحب کی بیوک، میں نے  فلاں  نواب صاحب کو اونے  پونے  داموں  میں  دلوا دی تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔‘‘

          ’’ اشفاق ! یہ موٹروں  کے  مشہور کمیشن ایجنٹ حسین علی ہیں  ! کبھی ضرورت ہو تو ان ہی کی خدمات حاصل کرنا‘‘ نیازی نے  کرسی پر بیٹھتے  ہوئے  میرا اس سے  تعارف کرایا، وہ کھسیانے  انداز میں  مسکرایا۔

          مجھے  رہ رہ کر نیازی کی بیوقوفی پر دکھ ہو رہا تھا لیکن اُس کی موجودگی میں   میں  کچھ بھی نہیں  کہہ سکتا تھا۔‘‘

          حرامی سے  اس نے  حسین علی بروکر کا روپ کب سے  دھار لیا تھا یہ بات میرے  لیے  عجوبے  سے  کم نہ تھی، پتہ نہیں  وہ دن میں  کتنے  سوانگ بھرتا تھا۔

          مجھے  حرامی کی ڈھٹائی پر حیرت ہو رہی تھی، وہ مجھے  دیکھ کر ایسے  ہی انجان ہو گیا جیسے  وہ مجھے  جانتا ہی نہیں۔ مانا کہ اس سے  میری ایک ہی دفعہ ملاقات ہوئی تھی لیکن دو تین گھنٹوں  میں  اس نے  جو بکواس کی تھی وہ آج بھی میرے  ذہن میں  محفوظ تھی۔

          اور پھر یہ بات گزشتہ ماہ ہی کی تو تھی، غنڈوں  کے  حافظے  تو تیز ہوا کرتے  ہیں  ؟ میرا ارادہ ہوا کہ نیازی کو علیحدہ لے  جا کر اس کا سارا کچھ چٹھا کھول دوں  لیکن نہ جانے  کس جذبے  کے  تحت میں  چپ ہو کر رہ گیا ’’ اب چلنا چاہیے۔‘‘ نیازی نے  اس سے  مخاطب ہو کر کہا، حرامی یک لخت کرسی سے  اٹھا اور ذرا آگے  بڑھ کر دیوار پر لٹکی ہوئی بڑی گھڑیال میں  وقت دیکھنے  لگا،۹بج چکے  ہیں۔

          پھر ہم تینوں  کاؤنٹر کے  قریب جونہی پہنچے، بڑھ کر ہمارا سارا بل ادا کر دیا اور ریسور اٹھا کر فون کرنے  لگا ’’ ہاں، جی، کیا آنا ٹھیک نہ ہو گا۔ نہیں  ؟‘‘ ’’ بات کل پر جا ٹھہری اس وقت وہ باہر ہیں، میں  کل ساڑھے  آٹھ بجے  ’’ اور ینٹ‘‘ ہی میں  آپ سے  ملوں  گا۔ خدا حافظ۔‘‘

          نیازی کا چہرہ ایک لمحہ کے  لیے  اتر گیا، ہوا کے  دوش پر اڑ کر موٹر خریدنے  کی وہ پیاری خواہش فون کرنے  کے  بعد مر چکی تھی۔ جب چائے  آئی تو چلا گیا تب میں  نے  اطمینان کا سانس لیا۔ آؤ تھوڑی دیر اور بیٹھیں، میں  ایک کپ اور چائے  پی لوں۔ وہ چپ رہا اور میں  اسے  گھسیٹتا ہوا برآمدے  میں  لے  آیا۔ ہوٹل تقریباً خالی ہو چکا تھا لیکن کونے  میں  بیٹھے  ہوئے  بڑے  بڑے  بالوں  والے  نوجوان ابھی تک بیٹھے  ہانک رہے  تھے۔

          میں  نے  بیرے  کو چائے  کا آرڈر دیا، تھوڑی دیر میں  چائے  آ گئی۔

          نیازی بت بنا کرسی میں  دھنسا ہوا تھا، میں  نے  چائے  کا ایک گھونٹ لے  کر نیازی کی طرف طنزیہ انداز میں  مسکراتے  ہوئے  کہا ’’ ہاں  تو یہ محترم حسین علی سیٹھ موٹروں  کے  مشہور کمیشن ایجنٹ آپ کے  یار غار ہیں، کیوں  ہے  نا یہی بات۔‘‘

          وہ پہلے  ہی سے  بجھا ہوا بیٹھا تھا، میری طنز آمیز گفتگو سے  جھلا کر بولا، آخر تم کیا کہنا چاہتے  ہو۔ ‘

          ’’ بھلے  آدمی تم جسے  حسین علی سمجھ رہے  ہو دراصل اس کا نام حرامی ہے۔

           ’’ حرامی ؟‘‘اس نے  چونک کر کہا۔

          ’’ ہاں  صد فی صد حرامی۔‘‘

          چند دن پہلے  ہی کی بات ہے  وہ رتی لال سیٹھ کی طرف سے  گوپال چند بلڈنگ میں  سٹے  کی بٹنگ لیا کرتا تھا، ایک دن اس نے  بٹنگ کی بڑھیا رقم ہضم کر لی اور اب منہ چھپائے  پھر رہا ہے او ر تو اور اس نے  خود مجھے  بھی سٹّے  میں  الو بنایا ہے۔

          میں  نے  اپنی بات ختم کر کے  نیازی کے  چہرے  کی طرف دیکھا تاکہ اپنی کہی ہوئی باتوں  سے  پیدا ہونے  والے  تاثر کو پڑھ سکوں  لیکن مجھے  حیرت ہوئی کہ نیازی کے  چہرے  پر تعجب کی ایک بھی آڑی ترچھی لکیر نمودار نہ ہو سکی تھی، اس کا ثبوت مجھے  فوراً مل گیا جب اس نے  کہا۔ ’’ اشفاق تم کیسی بے  تکی باتیں  کر رہے  ہو، حسین علی کو میں  آج سے  نہیں  تقریباً دو سال سے۔۔۔

          جب نیازی نے  اپنی تائیدی گفتگو مکمل کر لی تو میں نے  آگے  کچھ کہنا مناسب نہیں  سمجھا اور اسے  خدا حافظ کہتا ہوا گھر آ گیا۔

          دو تین ہفتے  میرے  مصروف گزرے  کیونکہ مجھے  اپنے  ایک رشتہ دار کی شادی میں  دلی جانا پڑا۔

          شادی کے  ہنگامے  ختم ہو گئے  تو میں  حیدرآباد آ گیا، اس دوران مجھے  بہت کم ٹائمز دیکھنے  یا سٹہ کھیلنے  کی فرصت ملا کرتی تھی، گھر آ کر میں  نے  سارے  ٹائمز کے  پرچے  دیکھے  جو دلی جانے  کے  دوران میں  آئے  تھے۔

          میں  اپنے  شاندار مکان میں  صرف ایک ملازم کے  ساتھ بالکل تنہا زندگی گزار رہا تھا، آمدنی معقول تھی لیکن ایک بات کا مجھے  شدید صدمہ تھا کہ میں  نے  اپنی والدہ کو سٹے  کے  تعلق سے  بڑی تکلیفیں  دی تھیں  جسے  برداشت نہ کرتے  ہوئے  وہ اپنی بہن کے  ہاں  چلی گئی تھیں۔ وہ میرے  سٹہ کھیلنے  کی سخت مخالف تھیں۔ انھوں  نے  گھر سے  جاتے  ہوئے  دیگر آواز میں  کہا تھا کہ جب تک میں  اس ذلیل جوئے  سے  باز نہ آؤں  وہ کبھی اس گھر میں  قدم نہ رکھیں  گی۔ پرانی یادیں  تازہ ہو رہی تھیں او ر دل تکلیف سے  ڈوب رہا تھا،میں  ارادہ کر کے  بھی گوپال چند بلڈنگ جا نہ سکا اور اور ینٹ ہوٹل چلا گیا۔ وہاں  نیازحسبِ معمول اپنی مخصوص نشست پر موجود تھا، مجھے  دیکھ کر خوشی سے  اس کی باچھیں  کھل گئیں۔

          ’’ آؤ آؤ دلی سے  کب لوٹے، شادی تو ٹھاٹ باٹ سے  ہوئی ہو گی، کیوں  نہ ہو فیملی جو اونچی ٹھہری۔‘‘ اور میں  نے  مختصراً حالات سنا دئیے۔ تھوڑی دیر تک ادھر ادھر کی خوشگوار باتیں  ہوتی رہیں  مجھے  یکایک کچھ دن پہلے  کی بات یاد آئی اور میں  بے  اختیار پوچھ بیٹھا ’’  ارے  ہاں  تم نے  موٹر خرید لی ؟‘‘

          پتہ نہیں  اس چھوٹے  سے  جملے  میں  کیا کڑواہٹ تھی کہ اس کا چہرہ اتر کر عجیب سا ہو گیا پھر اس نے  کہا۔ ’’ واقعی میں  نے  اسے  سمجھنے  میں  غلطی کی،وہ ایک دم حرامی نکلا، مجھ سے  تین سو روپے  ہتھیا لیے  لیکن موٹر نہیں  دلوائی اور میں  اس کی چکنی چپڑی باتوں  کے  جال میں  پھنس گیا اور جب میں  نے  موٹر کے  مالک کے  گھر جا کر پوچھ گچھ کی تو معاملہ کچھ اور ہی تھا، اُن کی موٹر کو فروخت ہوئے  کوئی دو سال ہو چکے  تھے۔ سالا بڑا ہی نمبری نکلا، میں  اس دن خواہ مخواہ اُس کی تائید میں  تم سے  الجھتا رہا، خیر کسی دن سامنا ہو جائے  تو اسے  دیکھ لوں  گا۔‘‘

          تین سو روپوں  ہی پر بلا ٹلی یہی غنیمت جانو ! اب رہی کسی وقت اُسے  دیکھ لینے  کی بات تو یہ سراسر مہمل ہے۔ جس شخص نے  رتی لال جیسے  عیار آدمی کے  کان کتر لیے  ہوں  وہ تم جیسے  مریل نوجوانوں  کی دھمکیوں  میں  آنے  سے  رہا۔ وہ میری ساری باتیں  دھیان دے  کر سنتا رہا۔ پھر نیازی کو چورا ہے  تک رخصت کر کے  میں  گھر آ گیا۔

          صبح اٹھا تو طبیعت بوجھل تھی اور سر میں ہلکا ہلکا درد محسوس ہو رہا تھا، تھوڑی دیر گھر ہی میں  ٹائمز دیکھتا رہا، جی نہ لگا تو اٹھ کر تفریح کے  لیے  باہر نکل پڑا۔ اس وقت اور ینٹ جانا فضول تھا، نیازی سے  ملاقات نہ ہو سکتی تھی کیونکہ وہ رات کا شہزادہ تھا مجھے  کوفت ہو رہی تھی کہ میں  نے  دوستی کی بھی تو ایک ہی سے او ر اس وقت نیازی نہ ملے  تو اس کے  یہی معنی ہو سکتے  تھے  کہ میں  صرف لانبی لانبی سڑکیں  ناپتا پھروں  یا سٹہ کھیلوں۔ میں  اسی سوچ میں  عابد روڈ کے  چورا ہے  پر کھڑا تھا، سامنے  پرائیویٹ ٹیٹوریل انسٹی ٹیوٹ کے  چند طالب علم حلقہ بنائے  باتیں  کرتے  کھڑے  تھے، دو طالب علم ہاتھ میں  کتابیں  لیے  پیلیس میں  لگی تازہ پکچر کی تصویریں  بڑے  انہماک سے  دیکھ رہے  تھے او ر ہا کرس بس اسٹینڈ کے  قریب چیلوں  کی طرف منڈلا رہے  تھے۔ عابد روڈ کی چوڑی چکلی سڑک پر موٹریں، سائیکلیں، رکشائیں  تیزی سے  دوڑ رہی تھیں او ر میں  سوچ رہا تھا کہ کہاں جاؤں  ؟ دفعتاً سامنے  سے  موٹر سائیکل پر حرامی آتا دکھائی دیا، وہ کافی تیزی سے  میرے  سامنے  سے  گزر گیا، اس نے  مجھے  نہیں  دیکھا۔ حرامی کو دیکھ کر مجھے  گوپال چند بلڈنگ کا خیال آیا لیکن اتنی جلدی جا کر کھیلنا بھی تو حماقت تھی۔ نیازی بھی کچھ اس ٹائپ کا آدمی تھا کہ اس سے  اس وقت گھر پر بھی ملنے  کا بہت کم امکان تھا۔ چار و ناچار مجھے  گھر لوٹنا ہی پڑا۔ دوپہر کا کھانا کھانے  کے  بعد سوکر جب میں  اٹھا تو سات بج چکے  تھے۔ میں تین چار ہفتوں  کی غیر حاضری کے  بعد آج فیگر کھیلنے  جا رہا تھا اور مجھے  خواہ مخواہ محسوس ہو رہا تھا جیسے  میں  پہلی بار اس دنیا میں  داخل ہو رہا ہوں۔ جب میں  گوپال بلڈنگ کی سیڑھیاں  چڑھتا ہوا کمرہ نمبر ( ۷ ) میں  آیا تو مجھے  حیرت ہوئی، میری غیر حاضری میں  کئی نئے  کھلاڑیوں  کا اضافہ ہوا تھا، ایک ماہ پہلے  صرف پندرہ بیس ہی مخصوص پنٹرس یہاں  بٹنگ لگایا کرتے  تھے  لیکن چند ہی دنوں  میں  یہ تعداد سہ گنا ہو گئی تھی۔ اس وقت سوائے  مدراسی نوجوان کے  کوئی بھی میرا جانا پہچانا نہ تھا۔ سامنے  جو بڑی میز رکھی تھی وہاں  اب بنچیں  ڈال دی گئی تھیں  جس پر نئے  آئے  ہوئے  ’’ پنچھی‘‘ بیٹھے  یا تو اونگھ رہے  تھے  یا پر تول رہے  تھے۔ مدراسی کونے  میں  بیٹھا چارٹ پر نظریں  جمائے  ہوئے  تھا، دور سے  کھڑے  ہو کر اُسے  کوئی دیکھ لے  تو یہ ناممکن تھا کہ کوئی اسے  انسان سمجھے  وہ بالکل اسٹیچو کی طرح دکھائی دے  رہا تھا۔

          میں  نے  اُس کے  قریب جا کر کندھے  پر بے  تکلفی سے  ہاتھ رکھتے  ہوئے  کہا۔ ’’ کہو ہری راؤ جی اچھے  تو ہو ؟‘‘ اس نے  کوئی جواب نہیں  دیا،سٹے  نے  اسے  بالکل ہی تباہ کر دیا تھا پھر دوبارہ جب میں  نے  اس کے  شانے  جھنجھوڑے  تو اُس نے  اپنی پتلی پتلی نکیلی آنکھوں  کو گھماتے  ہوئے  برابر کے  کمرے  کی طرف اشارہ کیا جیسے  کہہ رہا ہو، مجھے  کیوں   Disturbکرتے  ہو بابا۔ پہلے  کی جگہ تبدیل ہو گئی ہے  اب تم اندر کے  کمرے  میں  جا کر اپنی قسمت آزما لو۔

          میں  نے  اندر کے  کمرے  میں  قدم رکھا تو حرامی اطمینان سے  کرسی پر بیٹھا سلپ پر فیگر لکھ رہا تھا اور چار آدمی اس کے  گرد کھڑے  تھے۔ حرامی کی نگاہ جب مجھ پر پڑی تو اس کے  چہرے  کے  پھول کھل اٹھے۔

          ’’ اشفاق نواب ! آخر آپ آ ہی گئے، آئیے  آئیے  آج آپ کی قسمت چمکا دوں  گا، قسم پیر کی اگر آج آپ یہاں  آئے  نہ ہوتے  تو میں  کسی طرح ڈھونڈ ڈھانڈ کر آپ کو یہاں  کھینچ لاتا۔‘‘

          ’’ آج Unchangeپر اپنی ساری پونجی لٹا دیجیے۔‘‘

          میں  چپ چاپ اس کی بکواس سنتا رہا اور وہ مودبانہ انداز میں  گڑ گڑاتا رہا۔ ’’ اشفاق نواب ! قسم پیر کی۔ سوچیے، اس گولڈن چانس کے  کھو جانے  کا آپ کو زندگی بھر ملال رہے  گا، سنیے  اشفاق نواب بٹنگ کلوز ہونے  میں صرف آدھا گھنٹہ باقی رہ گیا ہے، اس سیاہ بورڈ پر چند گھنٹوں  بعد Unchange  آپ لکھا ہوا نہ پائیں  تو میرا نام حرامی نہیں۔

           وہ بکتا رہا،،، پھر کئی لوگ آ کر فیگر لگاتے  رہے۔ حرامی اپنا سینہ خالی کر کے  بالکل تھک گیا تو میں  نے  اٹھ کر ایک فیگر لکھایا جوUnchangeنہیں  تھا۔ حرامی چپ تھا، اس کی آنکھوں  میں  عجیب قسم کی نمی تیر رہی تھی، اسے  اپنی شکست کا بڑا احساس تھا، اس نے  میرے  کہنے  پر سلپ تو پھاڑ دی لیکن اس کا چہرہ صاف چغلی کھا رہا تھا کہ وہ میری اس حرکت پر بڑا دل گیر اور اداس ہے۔

          وہ رات عجیب کشمکش میں  گزری، ایک کروٹ بھی مجھے  نیند نہ آئی، صبح اٹھ کر میں  نے  کانپتے  ہاتھوں  سے  ٹائمز دیکھا، میں بتا نہیں  سکتا میرا کیا حال ہوا، جیسے  دھک سے  میرا دل کہیں  چلا گیا ہو، میرا دماغ چکرانے  لگا، حرامی کا بتایا ہوا Unchange   منہ کھولے  مجھے  گھور رہا تھا۔ مجھے  رہ رہ کر دکھ ہو رہا تھا کہ میں  نے  حرامی کی بات کیوں  نہیں  مانی، اس نے  کتنی منتیں  نہ کی تھیں، اگر میں  اس کی بات مان لیتا تو آج زندگی کتنی شاندار ہو جاتی۔ اس واقعے  نے  دل پر کچھ ایسا ہتھوڑا لگایا کہ میں  دوبارہ بکٹ شاپ میں  قدم نہ رکھ سکا۔

          میں  نے  سٹہ بازی سے  تو توبہ کر لی لیکن حرامی کی ذات سے  جو  ازلی نفرت تھی وہ جاتی رہی پتہ نہیں  کیوں  ؟ میں نے  دل ہی دل میں حرامی کے  حضور میں  شکریے  کے  موتی رولے  کہ اس نے  میری زندگی کی کایا پلٹ دی۔ اب میں اپنی کھوئی ہوئی عظیم ماں  کے  قدموں  کے  قریب آ چکا تھا، میری بوڑھی ماں  کی پیشانی خوشی سے  چمک رہی تھی کہ اس کے  سپوت نے  سٹے  کی مسموم فضا سے  اپنا دامن ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے  چھڑا لیا تھا۔

          ایک رات ذرا دیر گئے  گھر لوٹ رہا تھا، قریب کے  راستے  سے  گھر جانے  کے  لیے  جب میں  لانبی گلی میں  داخل ہوا تو مجھے  کسی کے  قدموں  کی دبی سی چاپ سنائی دی۔ ایک لمحے  کے  لیے  مجھے  قدرے  ڈر محسوس ہوا تاہم میں  بغیر رکے  چلتا رہا لیکن  مجھے  محسوس ہو رہا تھا جیسے  کوئی شخص میرے  پیچھے  پیچھے  آ رہا ہے، میں  نے  اپنی رفتار کچھ تیز کر دی اور لمبے  ڈگ بھرتا ہوا گلی کے  نکڑ پر آ کر کھڑا ہو گیا۔

          تھوڑی دیر بعد ایک وحشت زدہ انسان میلے  کچیلے  کپڑوں  میں  میرا راستہ روکے  کھڑا تھا، میں  اسے  پہچان نہ سکا اور میری گھگھی بندھ گئی۔

          ’’ اشفاق نواب !ڈرئیے  نہیں  میں  حرامی ہوں۔‘‘

          ’’ کہو تمھیں  کیا کہنا ہے۔‘‘ میں  نے  بدقت زبان سے  یہ الفاظ ادا کیے  لیکن اس ڈر کے  باوجود مجھے  پوری طرح اطمینان تھا کہ حرامی مجھے  نقصان نہیں پہنچائے  گا مگر طمانیت کے  اس خول میں  بھی ایک طرح کا خوف ہی تھا۔

          ’’ اشفاق نواب ! میں  لٹ چکا، میری ماں  مر چکی ہے، میں  نے  اسے  کتنے  دکھ دئیے، آخر وہ سسک سسک کر مر ہی گئی نا، میری کمینگی پر لعنت بھیجتے  ہوئے  پڑوسیوں  نے  بھی میری ماں  کے  ساتھ اچھا سلوک روا نہیں  رکھا۔ اس دن اچھا ہوا کہ آپ جلد بکٹ شاپ سے  چلے  گئے،آپ کے  جانے  کے  تھوڑی دیر بعد ہی پولیس مجھے  گرفتار کر کے  لے  گئی، جیل میں  چار ماہ سڑنے  کے  بعد میری یہ حالت ہو گئی ہے، پولیس نے  تو رتی لال کو چھوڑ دیا لیکن مجھے  جیل میں  ڈال دیا۔‘‘

          یہ کہہ کر وہ بڑی دیگر آواز میں  سسکیاں  بھرنے  لگا۔ میں  چپ چاپ اس کی بپتا سنتا رہا۔ پھر اس نے  سنبھل کر کہا :

          اشفاق نواب ! اگر اس وقت آپ مجھے  پچاس ساٹھ روپے  دیں  تو میں  یہ سمجھوں  گا کہ آپ نے  مجھ پر احسانِ عظیم کیا ہے،زندگی اگر وفا کرے  تو میں  ضرور کسی طرح بھی آپ کے  روپے  لوٹا دوں  گا۔ اشفاق نواب ! آپ چپ کیوں  ہیں  ؟ اتنے  سخت نہ بنیے، میری ماں  معمولی عورت نہیں  تھی وہ بہت عظیم تھی۔۔۔‘‘ اس کی آواز ڈوبتی جا رہی تھی مجھے  یکایک ایک جھٹکا سا لگا اور دل میں  یہ شک بری طرح جاگزیں  ہو گیا کہ کہیں  حرامی جھوٹ کہہ کر مجھے  الو تو نہیں  بنا  رہا ہے   اس کی مخدوش حالت سے  تو یہی اندازہ ہو رہا تھا۔

          جب میں  نے  اسے  دھیرے  سے  کہا۔ ’’ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ اس وقت میں  تمھارے  ساتھ خود روپے  لے  کر تمھارے  گھر تک چلوں۔‘‘

          ’’ اشفاق نواب !‘‘ وہ ایک دم چیخ اٹھا۔

          ’’ میں  حرامی سہی لیکن اتنا حرامی نہیں  کہ آپ سرے  سے  میری ذات پر اعتبار نہ کریں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چپ تو ہو گیا لیکن اس کی آنکھوں  سے  ٹپ ٹپ آنسو گرنے  لگے۔ میری جیب میں  اس کے  مطالبے  سے  کہیں  زیادہ روپے  تھے، میں  اس کے  ساتھ ہولیا۔ وہ آگے  چل رہا تھا اور اس کے  پیچھے  پیچھے  میں۔

          فضا کچھ عجیب تھی، رات کی ا تھاہ خاموشی میں  دونوں  کے  قدموں  کی چاپ یوں  سنائی دے  رہی تھی جیسے  خزاں  رسیدہ پتے  درخت سے  گر کر چر چرا رہے  ہوں۔ وہ مختلف گلیوں  سے  گھماتا ہوا مجھے  ایک بوسیدہ ویران مکان کے  قریب لے  آیا جسے  دیکھتے  ہی وحشت ہو رہی تھی پھر اس نے  زنجیر کھولی ’’ اندر آئیے ‘‘۔

          میں  وہیں  کھڑا رہا، مجھے  اندر جاتے  ہوئے  عجیب طرح کا خوف ہو رہا تھا، میرا دل بری طرح گھبرا رہا تھا جیسے  اب میری موت واقع ہو جائے  گی۔

          ’’ میں  کہہ رہا ہوں  اندر آ جائیے۔‘‘ اس کی آواز میں  جیسے  برقی رو دوڑ گئی اور میں  دبے  پاؤں  سہما ہوا اندر چلا گیا۔ میرے  پاؤں  تلے  کی زمین نکل گئی۔ میری آنکھوں  کے  سامنے  بڑھیا کی لاش تھی، اس کی آنکھیں  کھلی ہوئی تھیں او ر ہونٹ بری طرح بھنچے  ہوئے  تھے۔ میں  جیسے  تڑپ کر رہ گیا، وہ قریب کھڑا دل سوز آواز میں  کہہ رہا تھا۔

          ’’ میں  حرامی سہی لیکن اتنا کمینہ نہیں  کہ ماں  کی موت کے  نام پر آپ سے  کچھ بٹوروں۔‘‘

          اس کے  آگے  وہ کچھ کہہ نہ سکا، اس کا گلا رندھ گیا تھا۔

٭٭٭