کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کوئلہ جل بھئی راکھ

عوض سعید


آج پھر موسلادھار پانی برس رہا تھا، گذشتہ تین دنوں  سے  بارش نے  تھمنے  کا نام ہی نہ لیا تھا، کچی مٹی کی ٹیڑھی میڑھی سڑکیں  شدید بارش کی وجہ سے  اتھل پتھل ہو گئی تھیں۔

          وہ جو شمالی سرے  پر تارکول کی لانبی سڑک بل کھاتی ہوئی چلی گئی تھی اس کا آنچل بھی پانی کی تیزو تند چادر سے  دھل کر نتھرا ستھرا سا ہو گیا تھا، جیسے  وہاں  تارکول کی جگہ شبنم کے  بے  شمار خوبصورت آویزے  کسی نے  بکھیر دیے  ہوں۔ موچی واڑے  میں  بہنے  والی چھوٹی چھوٹی گندی نالیاں  یتیم و بے  سہارا فقیروں  کے  بچوں  کی طرح چیختی چلاتی دور بہت دور بہنے  والے  اس پر نالے  سے  جا ملتی تھیں  جہاں  کمہاروں او ر بھنگیوں  کے  شریر بچے  پانی میں  بھیگتے  ہوئے  کاغذ کی چھوٹی چھوٹی خوبصورت کشتیاں  چھوڑ کر خوشی سے  تالیاں  بجا رہے  تھے۔ بارش کے  اس اکتا دینے  والے  تسلسل سے  بڑے  بازار کی رونق میں  ایک سکوت سا چھا گیا تھا۔

          ’’ کب ختم ہو گی یہ بارش۔‘‘ راستہ چلتے  چلتے  ایک دبلے  پتلے  نوجوان نے  بیزاری کے  بھرپور لہجے  میں  کہا، جیسے  باش کے  ختم ہونے  کے  ساتھ ہی اس کی زندگی کا نیا آفتاب طلوع ہونے  والا ہو۔ دوسرے  نے  پہلے  شخص کی آواز سن کر کہا۔ ’’ ہونے  بھی دے  بھائی بارش، مہنگائی نے  زندگی کا ناس مار دیا ہے  پانی نہ برسے  گا تو اناج کی پیک کیسے  ہو گی‘‘  وہ زیر لب مسکرایا۔ اس کی بجھی بجھی سی ویران آنکھوں  میں  تلخیوں  کے  سارے  نشتر پوشیدہ تھے۔

          وہ صورت شکل چال ڈھال سے  اوسط گھرانے  کا ایک فرد معلوم ہوتا تھا، اس کا لباس بھی کوئی خاص نہ تھا۔۔۔ کاٹن کے  گہرے  کالے  رنگ کی شیروانی، اوسط قسم کے  ہرک کا سفید پاجامہ، پیر میں  معمولی سا سینڈل۔

          اگر اسے  کوئی چیز بار رعب اور خوب صور ت بنا سکتی تھی تو وہ اس کا موٹے  فریم والا سیاہ چشمہ تھا جس میں  سے  اس کی بڑی بڑی سرمگیں  آنکھیں  چمکتی تھی، اسے  اپنے  چشمے  سے  بڑی محبت تھی، وہ گھر سے  باہر بڑی احتیاط سے  چشمے  کو صاف کرتا۔

          راہ چلتے  میں  کبھی کبھار جب بارش کے  ننھے  منے  قطرے  اس کے  چشمے  پر ہلہ بول دیتے  تو وہ پریشان سا ہو کر کسی سائبان کے  نیچے  جا کھڑا ہوتا، پھر شیروانی کی نچلی جیب سے  دستی نکال کر آہستہ سے  چشمے  کے  شیشوں  پر پھیرتا پھر اطمینان سے  اپنی آنکھوں  پر چشمہ چڑھا لیتا۔ نہ جانے  اسے  کیوں  اپنی شیروانی سے  زیادہ اپنے  چشمے  کی فکر لاحق ہوتی۔ اس میں  کوئی شک نہیں  کہ اس کے  چشمے  کا فریم خوبصورت ہونے  کے  علاوہ بہت زیادہ قیمتی بھی تھا، پھر اس کے  شیشوں  کا کیا کہنا، کئی برس گزر جانے  پر بھی اس کی آنکھوں  پر چشمہ یوں  چمکتا تھا جیسے  اس نے  ابھی ابھی خریدا ہو۔

          لیکن ان تمام باتوں  کے  باوجود کبھی کبھی اسے  یوں  محسوس ہوتا جیسے  مسلسل احتیاط کی باقاعدہ اکتاہٹ سے  وہ تنگ آ چکا ہے۔

          اُس کے  ہاں  کپڑے  بھی افراط سے  نہ تھے۔ دو شیروانیاں، ایک کوٹ، ایک دو پاجامے، ایک شرٹ اور ایک پتلو ن جنھیں  وہ احتیاط سے  ایک دو سال سے  پہنتا آ رہا تھا۔

          ایک دن گہرے  کالے  رنگ والی شیروانی، ڈھیلا ڈھالا سا پاجامہ، دوسرے  د ن سفید شرٹ پینٹ پھر کوٹ اور پتلون۔

          کپڑے  پہننے  کا اس نے  کچھ اس طرح سے  پروگرام بنا رکھا تھا جس سے  بہت کم لوگوں  کو احساس ہوتا کہ اس کے  ہاں  بہت ہی کم کپڑے  ہیں او ر وہ انھیں  چکر دیے  جا رہا ہے۔ یہ تو تھا کپڑوں  کا معاملہ لیکن گذشتہ چھ ماہ سے  اس کے  ہاں  پہننے  کے  لیے  جوتا نہ تھا صرف ایک سینڈل تھا جو متواتر پہننے  سے  کچھ لجلجا سا ہو کر رہ گیا تھا۔ بار ہا اس نے  موچی کے  ہاں  جا کر اس کی مرمت کرائی تھی۔ کبھی کبھار تو یوں  بھی ہوا کہ بڑے  بازار سے  قریب آتا دیکھ کر نکڑ پھر بیٹھے  بیٹھے  بوڑھا موچی مسکرایا بھی۔ بوڑھے  موچی کی عجیب پراسرار مسکراہٹ اُس کے  ذہن پر یوں  کچوکے  لگاتی جیسے  بوڑھا موچی اس کے  بوسیدہ سینڈل کے  تلووں  پر کیل نہیں  ٹھونک رہا ہے  بلکہ اس کے  دل کے  اس لوٹھرے  پر جہاں ایک نہ مٹنے  والا زخم ہے۔

          اُسے  ان تمام باتوں  کا احساس تھا، موسلادھار بارش کا، جس کے  باعث وہ تین دن سے  خان بہادر کے  ہاں  پڑھانے  نہیں  جاسکا تھا۔ بازار میں  بیٹھنے  والے  بوڑھے  موچی کا جو  اسے  قریب آتا دیکھ کر مسکراتا تھا اور اپنے  قریبی عزیز معین الحق کنٹریکٹر کا جنھوں  نے  اسے  مدت سے  ملازمت دلوانے  کا  وعدہ کیا تھا جو ایک سال سے  مسلسل اسے  ٹرخا رہے  تھے  کہ ہفتے  عشرے  میں  وہ سب کام ٹھیک ٹھاک کر دیں  گے او ر کوئی بھی کام ٹھیک ٹھاک نہ ہو سکا تھا۔

          ایک خاص ڈھرے  پر زندگی گزارنے  پر بھی وہ پریشان سا تھا، زندگی کی ان ہی اذیت ناکیوں  نے  اسے  گریجویٹ ہونے  نہیں  دیا تھا، پھر گھریلو پریشانیوں  نے  اس کا گلا اس طرح دبوچا کہ وہ چیں  بول کر رہ گیا۔ آمدنی خاصی ہو تو آدمی ہنس بول بھی سکتا ہے۔ قریب قریب سو دو سو روپے  بھی آمدنی ہو تو کوئی بات بھی تھی، پون سو روپیوں  میں  تین افراد کی پرورش۔ ماں، بہن اور وہ اور پھر اس طور سے  کہ ان کی غریبی اور بے  چارگی کی تشہیر نہ ہونے  پائے۔

          خان بہادر کی لڑکی طیبہ کے  ٹیوشن کے  تیس روپوں  میں  وہ اپنی چھوٹی بہن کو مقامی اسکول میں  پڑھا رہا تھا جو بڑی ذہین اور ہنس مکھ تھی۔

          اُس کے  دو ٹیوشن تھے  لیکن پیسے  صرف طیبہ کے  ہاں  سے  ملا کرتے  تھے۔ پہلے  ٹیوشن کا تعلق اُس کے  دوست کے  ایک بھائی سے  تھا جو رات اس کے  گھر آ کر پڑھا کرتا تھا جسے  ذہانت نے  چھوا بھی نہ تھا۔

          وہ اسے  محبت کے  مختلف زاویوں  سے  پڑھاتا، شفقت و پیار کے  سارے  راستوں  سے  گزارتا لیکن اُس خدا کے  بندے، عقل کے  اندھے  کے  پلے  کچھ نہ پڑتا۔ وہ ایلورا کی گپھاؤں  میں  بیٹھے  ہوئے  کسی بت کی طرح چپ چاپ گم سم سبق سنتا پھر دوسرے  دن اسے  یوں بھلا دیتا جیسے  گذشتہ رات اس نے  کچھ پڑھا ہی نہ تھا۔

          اس کی بہن گھر میں  بیٹھی اپنے  آپ جی بھر کر ہنستی، جب وہ لڑکا چلا جاتا تو اس کی بہن اسے  چھیڑتے  ہوئے  کہتی ’’ واہ کیا شاگرد پایا ہے، دنیا بھر میں  جواب نہیں۔ اپنے  چھوٹے  بھائی کو بھیج کر گن گن کر بدلے  لیے  ہیں  آپ کے  دوست نے۔‘‘

          ’’ آہا، کیا لڑکا ہے  ! فیس بھی تو بڑھیا دیتا ہے  وہ۔‘‘ پھر اُس کی مو ت کی سی پراسرار خاموشی جیسے  مہاتما بدھ کی نسل کی آخری اولاد۔‘‘ میرا تو خیال ہے  آپ اُسے  شمشان گھاٹ سے  اس پار پیپل کے  پرانے  درخت کے  نیچے  لے  جا کر چھوڑ دیں  وہیں  سے  وہ گیان اور مکتی حاصل کر سکے  گا۔‘‘

          وہ اپنی بہن کی اس چھیڑچھاڑسے  ہنس پڑتا اور ایک لمحے  کے  لیے  اس کے  ہونٹوں  پر ہنسی کی کلیاں  کھل اٹھتیں۔

          لیکن جب کھانا کھانے  کا وقت آتا تو اس کی بوڑھی ماں  دستر خوان پر بیٹھی بیٹھی ایک گہری سانس چھوڑتی اور اس کے  منہ سے  چاول کے  دانے  جاتے  جاتے  رک سے  جاتے، اس کی جوان بہن خلاؤں  میں  کچھ ڈھونڈنے  لگتی۔

          پچھلے  چند برسوں  ہی کی تو بات تھی وہ خاصی بھلی زندگی گزار رہے  تھے۔ سکھ، چین، آرام ! لیکن زمانے  کی شوخیوں  نے  آہستہ آہستہ انھیں  کہیں کا نہ رکھا۔ گھر کا سارا اثاثہ بک گیا تھا اب صرف ایک یاد باقی رہ گھی تھی جو چیخ کا روپ دھارے  ایک مدت تک اس کے  دل کے  دروازے  کے  قریب آ کر آہستہ آہستہ سے  دستک دیتی رہی اور اس کی آنکھوں  سے  ٹپ ٹپ آنسوگرتے  گئے  جنھیں  وہ پیتا گیا۔

          وہ ایک گہری آہ بھرتا ہوا گھر سے  نکل ٖپڑا، شام ہونے  کو آئی تھی۔ چڑیوں او ر کوؤں  کی ڈاریں  کسی خیالی جزیرے  کے  حسین پرندوں  کی طرح آسمان کی پنہائیوں میں  گم ہوتی نظر آ رہی تھیں۔ سامنے  کے  بڑے  پیپل کے  درخت پر چڑیوں  کا ایک جوڑا چپ چاپ بیٹھا تھا، ہوا بھیر ویں  کے  درد ناک سروں  کی طرح آہستہ آہست بہہ رہی تھی اور وہ تارکول کی لانبی سڑک پر دھیمے  دھیمے  قدم ڈالتا ہوا بے  خبر چل رہا تھا۔ جوں  جوں  طیبہ کا گھر قریب آ رہا تھا، اس کے  قدم ڈگمگا رہے  تھے۔

          اس نے  چلتے  چلتے  ہی اپنی حالت کا تجزیہ کیا اور جب وہ طیبہ کے  مکان کے  قریب پہنچا تو اس نے  ایک خوبصورت نوجوان کو دیکھا جو ٹوئیڈ کے  ہلکے  گرین رنگ کا سوٹ پہنے  ہاتھ میں  ایک خوبصورت سا پیڈ لیے  کھڑا تھا۔ اس کا ما تھا ٹھنکا،کہیں  خان بہادر نے  دوسرا ٹیوٹر نہ رکھ لیا ہو، پھر اس نے  آپ ہی آپ تردید کر دی۔ ہندستانی ٹیوٹر اتنے  شاندار کپڑے  تھوڑے  ہی پہن سکتا ہے  ؟ ہو گا کوئی کالج کا طالب علم، ڈونیشن مانگنے  خان بہادر کے  ہاں  آ گیا ہو گا۔

          طیبہ نے  کھڑکی میں  سے  جو اسے  دیکھا، دوڑ کر نیچے  اتر آئی۔ ’’ کہاں  تھے  ماسٹر صاحب‘‘ طبیعت تو ٹھیک ہے  آپ کی ؟‘‘ ’’ بھلا چنگا ہوں ‘‘ ادھر دو تین دن سے  تو بارش نے  ناک میں  دم کر دیا تھا۔‘‘ جیسے  ماسٹر نے  طیبہ کو اپنی غیر حاضری کی وجہ بتا دی ہو۔ پھر وہ زینے  سے  اتر تے  ہوئے  ڈرائنگ روم میں  آ گئے۔ طیبہ نے  میز پر سے  چند کتابیں  اٹھائیں۔

          جب وہ گرے  کا عظیم مرثیہ پڑھاتے  ہوئے  اس بند پر پہنچا :

Let not ambition mock their useful toil

Their homely joys and destiny obscure

Nor grandeur hear, with a disdainful smile

The short and simple annals of the poor

          تو طیبہ کا دل بھر آیا، اس نے  دیکھا۔ ماسٹر کی گہری پلکوں  کی اوٹ میں  ایک نمی سی جھلک رہی تھی۔ جب وہ چلا گیا تو طیبہ نے  دبی زبان سے  ٹھنڈی سانس بھرتے  ہوئے  کہا ’’ بے  چارہ‘‘ اور ’’بے  چارے ‘‘ نے  طیبہ کے  ہمدردی میں  ڈوبے  ہوئے  الفاظ نہیں  سنے او ر چلا گیا۔ گھر آنے  پر ماں  نے  اپنے  ایک رشتے  کے  بھائی کا خط دیا۔ اس نے  پڑھا۔ ’’ تمھارے  دونوں  خط مل گئے، میں  کل حیدرآباد آ رہا ہوں، یہاں آ کر میں بچے  کے  لیے  کچھ نہ کچھ کر سکوں  گا۔‘‘

          اور پھر وہ کل بھی آ گیا جب اس کی برباد زندگی کے  ویران کمرے  میں  اس کے  ماموں  کھڑے  تھے۔ اس کی ماں  دیگر آواز میں  اپنی بربادی کی داستان سناتی رہی۔ انھوں  نے  کلیجہ تھام کر سب کچھ سنا اور اس سے  وعدہ کیا کہ وہ اسے  حتی الوسع یہاں کہیں ملازم رکھا کر ہی جائیں گے  کیونکہ سنٹرل گورنمنٹ کے  دو ایک عہدیداروں  سے  ان کا یارانہ تھا۔ انھوں  نے  اسے  ساتھ لے  جا کر مختلف افسروں  سے  ملایا، سبھوں  نے  کم و بیش حامی بھری۔

          پھر وہ انھیں  خدا حافظ کہتا ہوا طیبہ کے  ہاں  پڑھانے  چلا گیا۔ دوسرے  دن اس کے  ماموں  نے  ململ کے  دو مہین تھان، سلک کی دو تین ساڑیاں او ر ایک خوبصورت سینڈل کریب سول کا ایک شوز بازار سے  خریدا اور گھر آ گئے۔ اس کی ماں  نے  ایک گہری سانس لیتے  ہوئے  اپنے  بھائی معین الحق سے  کہا تم نے  یہ تکلیف کیوں  کی، آج ہمیں  یہ دن بھی دیکھنا تھا۔

          ’’ کیا فرما رہی ہیں  آپ ؟ میں  ذرا بھی آپ لوگوں  کے  کام آ سکوں  تو میرے  لیے  اس سے  زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے ‘‘ آپ نے  میرے  والد کے  ساتھ کیا کیا نہ نیکیاں  کیں۔ معین الحق کنٹریکٹر نے  اس کی والدہ کی شرافت کا جیسے  نقارہ ہی بجا دیا۔

          جب شام کو وہ گھر لوٹا تو وہ اپنی ماں  سے  لڑ پڑا۔ ’’ تم نے  یہ چیزیں  قبول کیوں  کیں  ؟ تمھارا ضمیر جانے  اس وقت کہاں  مرگیا تھا اور تم ؟‘‘ اس نے  اپنی بہن کی طرف قہر آلود نگاہوں  سے  دیکھتے  ہوئے  کہا جو اس کی ڈانٹ سے  سہم کر حسبِ عادت خلا میں گھور رہی تھی جیسے  وہ ان خلاؤں  سے  اپنے  من کی شانتی کو ڈھونڈ رہی ہو۔

          ’ ’ آج اگر اس نے  ہمدردی کی ہے  تو کیا ہوا، ہم نے  بھی اس کے  گھرانے  پر کسی وقت بہت کچھ لٹایا ہے، یہ تو اس کا فرض تھا جو اس نے  پورا کیا۔‘‘ اس کی ماں  دیر گئے  تک کمرے  میں  بیٹھی بڑبڑاتی رہی۔

          اس نے  کئی دن تک اپنی ماں  سے  بات چیت نہیں  کی۔ پھر رفتہ رفتہ اس کے  دل سے  خلش مٹتی گئی اور ایک حد ایسی آ گئی کہ اس نے  ماں  سے  معافی مانگ لی۔

          ان تمام باتوں  کے  ہوتے  ہوئے  بھی اس نے  اپنے  ماموں  کے  لائے   ہوئے  سینڈل کو ہاتھ نہیں  لگایا، اسے  کونے  میں  رکھے  ہوئے  سینڈل یوں  لگتے  جیسے  کوئی زہریلا ناگ کنڈلی مارے  بیٹھا ہو۔ پر ایک دن اس کی چپل نے  بالکل ہی جواب دے  دیا تو اس کی ماں  نے  شفقت سے  لب ریز لہجے  میں  کہا ’’ اب سینڈل پہن لو بیٹا ! فضول ضد سے  کیا فائدہ، تمھارا عزیز ہی تو ہے۔‘‘

          جب اس نے  اپنی ماں  کی زبان سے  یہ الفاظ سنے  تو اسے  شدید طور پر احساس ہوا کہ اس نے  اپنی ماں  سے  بات چیت شروع کر کے  بہت بڑی غلطی کی ہے  اس نے  اسے  ذرا بھی تو نہیں  پہچانا تھا اور وہ چپ چاپ کمرے  سے  باہر چلا گیا۔ گلی میں  دیوار سے  ٹیک لگائے  ایک خوانچے  والا اونگھتا ہوا بیٹھا تھا، اس سے  ذرا پرے  نکڑ کے  نل پرنایک شخص گھبرایا گھبرایا سا نہا رہا تھا، اس کے  بدن کی تھرتھراہٹ اور اس کے  سانس کے  زیرو بم سے  اندازہ ہو رہا تھا کہ اسے  اس وقت بہت زیادہ سردی محسوس ہو رہی ہے او ر خواہ مخواہ بغیر سردی کا خیال کیے  نل پر نہانے  آ گیا ہے۔ آہستہ آہستہ جب وہ بے  ہنگم سڑک پار کر کے  سیمنٹ روڈ پر آیا تو اس کے  پاؤں  تیز ہو گئے  آج اسے  پھر دیر ہو گئی تھی۔

          اور جب وہ زینہ کی سیڑھیاں  چڑھتا ہوا طیبہ کے  کمرے  کے  قریب پہنچا تو اسے  خان بہادر کی آواز سنائی دی۔

          ’’ آج کل یہ ٹیوٹر روز دیر سے  آ رہا ہے ‘‘ آخر بات کیا ہے، کیوں  نہ کوئی دوسرا ٹیوٹر رکھ لیا جائے، یہ ٹیوشن ہے  یا بچوں  کا کھیل، جب جی چاہا آئے، پڑھائے او ر چلے  گئے۔ کل اخبار میں  کسی دوسرے  ٹیوٹر کے  لیے  اشتہار دے  دوں  تو ماسٹر صاحب کو پتہ چلے  گا۔‘‘ خان بہادر نے  نہایت تمکنت سے  کہا۔

          ’’ ایسا نہ سوچیے  ابا۔ بے  چارے  آج کل بڑے  پریشان معلوم ہوتے  ہیں، پہلے  تو انھوں  نے  کبھی دیر نہیں کی تھی۔‘‘

          ’’ دنیا میں  کون پریشان نہیں  ہے  بیٹا۔ اب تم ہی دیکھو ایک ہزار روپیوں  کی آمدنی میں  ہم جی رہے  ہیں۔ کہنے  کو تو خان بہادر ہیں، سوسائٹی میں  اونچی ناک ہے  لیکن کبھی کبھی نوکروں  کی تنخواہیں  بھی دیر سے  دینی پڑتی ہیں۔‘‘

          وہ سیڑھیوں  پر کھڑا کھڑا خان بہادر کا لکچر سنتا رہا۔ دوسرے  لمحے  ہی اُسے  محسوس ہوا جیسے  وہ ٹیوٹر نہیں  ایک ذلیل ترین انسان ہے  جسے  کسی وقت بھی ٹھوکر ماری جاسکتی ہے، بے  عزت کیا جاسکتا ہے۔ وہ زینے  کی سیڑھیوں  پر ساکت و جامد بت کی طرح کھڑا رہا دو منٹ بعد ہی لوٹتے  ہوئے  خان بہادر نے  اسے  سیڑھیوں  پر کھڑا پایا۔

          ’’ اوہ آپ آ گئے  ماسٹر صاحب، جائیے  طیبہ آپ کا انتظار کر رہی ہے، شاید آپ کو آج کچھ دیر ہو گئی ہے۔‘‘ وہ تیز تیز سیڑھیاں  پھلانگتے  ہوئے  چلے  گئے۔

          خان بہادر کے  ہلکے  بادامی رنگ کے  خوبصورت سوٹ اور اس کے  تراش خراش کو دیکھ کر اس کی آنکھوں  کے  سامنے  اپنا میلا کوٹ اور ملگجے  رنگ کا پتلون گھوم گیا جس میں  کثرت استعمال سے  باریک باریک سوراخ پیدا ہو گئے  تھے  جسے  افلاس کے  بے  شمار چھوٹے  بڑے  جھینگروں  نے  چھیدا تھا۔

          آج وہ طیبہ کو کچھ بھی پڑھا نہ سکا، اس کا ذہن مطلق کام نہیں  کر رہا تھا،جانے  کتنی بار طیبہ نے  کتابوں  کی دنیا سے  ہٹ کر بھی اس پر سوالات کی یورشیں  کیں  لیکن اس کے  خاموش ذہن نے  کسی سوال کا بھی جواب نہ دیا۔

          وقت کا سیلاب زندگی کی ٹیڑھی میڑھی، اونچی نیچی شاہراہوں  سے  گزرتا گیا اور وہ ایک تناور درخت کی طرح قدم جمائے  اسی طرح کھڑا رہا۔ کئی طوفان آئے او ر گئے  لیکن اُس نے  زندگی کے  آگے  ہار نہیں  مانی۔ پھر جب اسے  ٹیوشن کے  روپے  ملے  تو اس نے  بہ مشکل دس روپے  بچا کر اپنے  لیے  ایک نئی چپل خرید لی۔

          آج جب وہ طیبہ کو پڑھا کر گھر واپس ہو رہا تھا تو سیڑھیوں  کے  بالکل قریب ہی گھر کی ایک کاما ٹن نے  اسے  ایک لفافہ لا کر دیا، اسے  حیرانی ہوئی آخر کیا بات ہے۔ اس کا دل تھرا رہا تھا۔ اس نے  کانپتے  ہاتھوں  سے  آگے  بڑھ کر خط چاک کیا۔

          ’ ماسٹر صاحب‘‘

          ’’ یہ لکھتے  ہوئے  مجھے  افسوس ہو رہا ہے  کہ میں  اپنی نجی پریشانیوں  کے  باعث طیبہ کو کل سے  ٹیوشن نہ پڑھوا سکوں  گا، بظاہر مجھ جیسے  انسان کے  لیے  اپنی لڑکی کو ٹیوشن پڑھوانا ایک بہت ہی معمولی سا بار ہے  لیکن آج یہ معمولی سا بار بھی میری پریشانیوں  کا باعث بن سکتا ہے۔ مقدمہ بازی اور آپس کے  خاندانی جھگڑوں  نے  میری کمر توڑ کر رکھ دی ہے، ایسے  میں  بتائیے  میں  کیا کر سکتا ہوں۔ یہ چٹھی میں  نہ لکھتا اگر طیبہ نے  مجھے  مجبور نہ کیا ہوتا، طیبہ بہت دکھی اس لیے  بھی ہے  کہ ٹیوشن ختم ہو جانے  کے  بعد آپ کی پریشانیوں  میں اضافہ ہو جائے  گا، شاید اسی شرمندگی سے  اب آپ سے  وہ براہ راست نہیں  مل سکے  گی۔‘‘

          خط پڑھ کر اس کا سر چکرا گیا، اس نے  اپنے  آپ کو سنبھالنے  کی کوشش کی۔ ’ ’ خان بہادر اپنی چند نجی پریشانیوں  کے  باعث ٹیوشن پڑھوا نہیں  سکتے  کیونکہ جھوٹی مقدمہ بازی اور خاندانی جھگڑوں  نے  ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ طیبہ کو دکھ ہے  کہ اس نے  ٹیوشن چھوڑ کر ماسٹر کی پریشانیوں  میں  اضافہ کر دیا ہے  اس لیے  اب وہ ماسٹر کو صورت دکھانے  کے  لائق نہیں۔‘‘

          وہ منہ ہی منہ میں  بڑبڑاتا سڑک کی ایک طرف چل پڑا۔

          ’’ ماں  کے  وظیفے  کے  چالیس روپیوں  میں  اب کیا ہو گا ؟‘‘

          ’’ اب کیا ہو گا ؟‘‘ یہ تصور سانپ کے  زہر کی طرح اس کے  بدن میں دوڑنے  لگا۔ اسے  محسوس ہوا جیسے  وہ لمحہ بہ لمحہ زرد پڑتا جا رہا ہے۔

          اُس کے  موٹے  موٹے  شیشوں  والے  چشمے  سے  اس کی بڑی بڑی آنکھیں  یوں  نظر آ رہی تھیں  جیسے  اُس کی آنکھوں  کے  اندر سے  ویرانی آہستہ آہستہ اتر رہی ہو۔

          وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا قریب کے  ایک ریسٹورنٹ میں  داخل ہوا۔ سامنے  کی کرسیوں  پر بہت سے  لوگوں  کو بیٹھا دیکھ کروہ کونے  کی ایک کرسی پر جا بیٹھا، بالکل الگ تھلگ۔ بہت دیر تک کسی ویٹر نے  اس کی طرف توجہ نہ کی۔

          پہلے  اس نے  ایک چائے  منگائی، پھر ایک کافی کا کپ منگایا تو ویٹر نے  اسے  عجیب نگاہوں  سے  دیکھا۔ دو کپ لگا تار چائے او ر کافی پینے  سے  اُس کی پیشانی پر پسینے  کی کئی ننھی ننھی بوندیں  ابھر آئیں او ر اس کا چہرہ  پسینے  میں  شرابور ہو گیا۔

          اس کی آنکھیں  جل رہی تھیں او ر سر میں  ہلکا ہلکا سا درد ہو رہا تھا۔ کل صبح ہو گی تو اُس کی زندگی کا ایک نیا دن شروع ہو گا۔ ایسا دن جس میں  اس کی تمناؤں  کے  گرم گرم آنسو حل ہوں  گے۔ وہ اپنی تمناؤں  کے  ان قیمتی موتیوں  کو لیے  گلی گلی،کوچہ کوچہ، بازار بازار پھرا کرے  گا اور کوئی سر پھرا تاجر، کوئی معقول جوہری کے  ان جواہر نایاب کو دیکھنے  کی زحمت بھی گوارا نہ کرے  گا۔ اس طرح ایک دن وہ سسکتا ہوا بازار کے  کسی موڑ پر غش کھا کر گر جائے  گا اور لوگ بھوکا ہے  بے  چارہ کہہ کر آگے  بڑھ جائیں گے۔

          دیکھتے  ہی دیکھتے  اُس کی آنکھوں  کے  سامنے  ایک بھیانک اندھیرا چھا گیا، اسے  محسوس ہوا جیسے  وہ چکراتا ہوا ایک ایسی گھاٹی میں  چلا جا رہا ہے  جہاں  ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ ایک بھیانک اندھیرا۔ ایک موت کا سا سناٹا۔

          وہ ہوٹل سے  یک لخت اٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا گھر آیا، اس کا جسم گرم تھا۔ جب وہ اس حال میں  گھر پہنچا تو اس کی ماں  گھبرا گئی۔ اُس کا سارا بدن بخار میں  جھلس رہا تھا، وہ رات بھر بخار میں  تڑپتا رہا۔ صبح جب اس نے  اٹھنے  کی کوشش کی تو اس کا انگ انگ ٹوٹ رہا تھا جیسے  وہ گذشتہ رات میلوں  پیدل چل کر آیا ہو۔

          چند ہی دنوں  میں  اس کا بخار جاتا رہا اور وہ پہلے  کی طرح بھلا چنگا سا ہو گیا لیکن جس دل میں  جائز خواہشات کا ایک مزار ہو اس سے  بڑھ کر کوئی بخار، کوئی بیماری، کوئی ہلاکت اور کیا ہو سکتی ہے ؟ اس کی مثال اس درخت کی سی تھی جس کی جڑیں  پھلنے  پھولنے  سے  پہلے  کاٹ لی گئی ہوں۔ اس نے  ملازمت اور ٹیوشن کی تلاش شروع کر دی۔

          امیدیں  بنتی اور ٹوٹتی رہیں، کسی بھلے  مانس نے  امید دلائی اور بہت سے  ’’ سفید پوشوں ‘‘ نے  اس کی امیدوں  کا سرِ بازار گلا گھونٹا۔ وہ پڑھا لکھا تھا اور باہمیت بھی لیکن تابہ کے۔۔۔

          پریشانیوں  نے  آہستہ آہستہ اس کے  بدن کے  انجر پنجر ڈھیلے  کرنے  شروع کر دئیے او ر آہستہ آہستہ کسی بوڑھے  درخت کی طرح مرجھا تا گیا۔ اس کی ماں  ٹھنڈی آہیں بھرتی رہی اور اس کی بہن نے  بہت زیادہ خلاؤں  میں  دیکھنا شروع کر دیا۔

          پھر ایک دن اتفاق سے  راستہ میں  خان بہادر کے  نوکر سے  اس کی مدبھیڑ ہو گئی  اس نے  خواہ مخواہ مسکراتے  ہوئے  کہا۔ ’’ میں  آپ ہی کے  پاس آ رہا تھا‘‘۔ ابھی وہ کچھ سوچنے  ہی پایا تھا کہ نوکر نے  جیب سے  ایک خوبصورت سارقعہ نکال کر اسے  دیا۔ اس نے  کھڑے  کھڑے  رقعہ پڑھا۔ طیبہ کی شادی کسی رئیس کے  لڑکے  کے  ساتھ ہو رہی ہے او ر وہ اس کا استاد رہ چکا ہے  اسے  ضرور کوئی تحفہ دینا ہو گا، یہ دستور ہے، وہ آپ ہی آپ مسکرایا۔

          دوسرے  دن صبح سویرے  ہی اٹھ کر اس نے  اپنی کالی شیروانی خود اپنے  ہاتھ سے  دھوئی پھر اس پر استری کی۔ نہایا، دھویا۔ جب وہ شام کو جانے  لگا تو اس کی بہن نے  دروازے  کے  قریب آ کر پوچھا :

          ’’ کیا آج کہیں  دعوت ہے  ؟‘‘

          ’’ نہیں ‘‘ آج انٹرویو ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔

          اُس کی بہن نے  حیرانی سے  اسے  دیکھا۔ شام میں او ر انٹرویوز۔ وہ اپنے  بھائی کو گلی میں  بڑھنے  تک پھٹی پھٹی نگاہوں  سے  دیکھتی رہی۔

          خان بہادر کا خوشنما بنگلہ برقی قمقموں  سے  جگمگا رہا تھا، نئے  نئے  ڈیزائن کی خوب صورت موٹریں  قطار اندر قطار کھڑی تھیں۔ بارہ بینڈ نواز خاکی یونی فارم میں  ملبوس ایک بہت ہی حسین سا فلمی گیت بجا رہے  تھے، مہمانوں  کا ایک سیلاب تھا اور نقرئی قہقہے  گونج رہے  تھے  خان بہار ایک صوفے  پر بیٹھے  تھے۔ قیمتی سلک کی شیروانی چوڑی دار پاجامہ پہنے  وہ بڑے  حسین دکھائی دے  رہے  تھے او ر اس سے  پرے  ہی طیبہ اور اس کا شوہر۔

          لوگ آگے  بڑھ بڑھ کر تحفے  دے  رہے  تھے۔ عطر دان، سنگھار دان، دستیاں، ریڈیو، نیکلس، ٹاپس، گھڑی ایک سے  ایک قیمتی ایک سے  ایک نرالی چیزیں، جنھیں دیکھ رک آنکھیں  خیرہ ہو رہی تھیں۔

          تھوڑی دیر بعد کالی شیروانی میں  ملبوس ایک دبلا پتلا نوجوان بالوں  کو خوبصورتی سے  سنوارے  ہوئے  آہستہ آہستہ چلتا ہوا محفل میں  آیا اُس کی آنکھوں  کے  گرد حلقے  تھے او ر ناک پر چشمے  کا گہرا نشان۔ جوں  جوں  وہ قریب آ رہا تھا، خان بہادر اور اُس کے  بہت سے  ساتھی اسے  بغور دیکھ رہے  تھے، جیسے  اسے  پہچاننے  کی کوشش کر رہے  ہوں۔

          اجنبی قریب آ کر ایک صوفے  پر متانت سے  بیٹھ گیا، خان بہادر نے  اسے  اپنے  قریب بلایا۔ اس کے  ہاتھ سے  تحفہ لیا، اجنبی نے  تھوڑی دیر خان بہادر سے  گفتگو کی وہ اپنی جگہ پر چپ چاپ بیٹھا رہا۔ پھر طیبہ نے  آ کر اسے  جھک کر سلام کیا اور لمحہ بھر اس کے  چہرے  کو حسرت ویاس سے  دیکھا جیسے  وہ اسے  پہچاننے  کی کوشش کر رہی ہو۔ تھوڑی دیر بعد ہی لوگوں  نے  اسی دبلے  پتلے  نوجوان کو محفل سے  لڑکھڑاتے  ہوئے  جاتے  دیکھا۔ وہ محفل سے  اٹھ کرآہستہ آہستہ جا رہا تھا جیسے  اسے  راستہ صاف دکھائی نہ دے  رہا ہو۔

          جب طیبہ نے  کمرے  میں  جا کر تحفہ کھولا تو اُس کی آنکھیں  پھٹی رہ گئیں، اسے  محسوس ہوا جیسے  اس نے  اپنے  ماسٹر کی دونوں  آنکھیں  پھوڑ دیں او ر اندھا کر دیا ہے۔

٭٭٭