کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کھلونے کا غم

عوض سعید


’’ قبر میں  کون اترے  گا ؟‘‘ کسی نے  مری ہوئی آواز میں  کہا۔

          ’’ باپ ہی کو اترنے  دو بھائی !‘‘ جواباً دوسری آواز فضا میں  تھرائی۔

          اور میں  لڑکھڑاتے  قدموں  سے  اس ننھے  منے  گڑھے  میں  اترا جسے  لوگ قبر کہہ رہے  تھے۔

          میرے  ہاتھ میں  سفید کرارے  کپڑے  میں  لپٹا ہوا منا میٹھی نیند سو رہا تھا، اس کی زبان گنگ تھی اور آنکھیں  بند، اس کے   پھول ایسی نرم و ملائم پیشانی پر زخم کا گہرا نشان تھا اور گالوں  پر جگہ جگہ خراشیں  تھیں۔

          ’’ ارے  بھائی پہلے  ذرا گلاب چھڑک دینا۔‘‘ فضا میں  ایک گمبھیر آواز گونج کر ڈوب گئی، مجھے  محسوس ہوا جیسے  آسمان سے  تارا ٹوٹ کر میرے  پہلو میں  آگر ا ہو۔

          میں  اب ایک چھوٹے  سے  تاریک ڈربے  میں  کھڑا ہوں، میرے  ہاتھ میں  سفید کرارے  کپڑے  میں  لپٹا ہوا ایک کھلونا ہے  جسے  میں  سینے  سے  چمٹائے  ہوئے  سوچ رہا ہوں  کہ اس انمول ہیرے  کو اپنے  ہاتھوں  سے  مٹی میں  پھینک آنے  سے  زیادہ کڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہے۔

          کہتے  ہیں  کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے  تو آسمان کی پنہائیوں  سے  فرشتے  اتر اتر کر خوشی کے  راگ الاپتے  ہیں، قدم چومتے  ہیں، لیکن یہ کیسا بچہ ہے  جس نے  دھرتی پر پہلا قدم رکھنے  سے  پہلے  ہی اپنی آنکھیں  ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے  بند کر لیں۔ میرے  ننھے، میرے  لعل،میری جانِ عزیز ! آنکھیں  کھول، لیکن وہ چپ چاپ میرے  ہاتھوں  کی گرفت میں  نڈھال سویا ہوا ہے، میں  اسے  اب اس تنگ چھوٹے  سے  ڈربے  میں  چھوڑ جا رہا ہوں  جہاں  ہوا کا گزر نہیں۔ یہ کیسا مکان ہے  ؟ یہ کیسا کمرہ ہے  جس میں  کوئی کھڑکی نہیں، کوئی آنگن نہیں۔

 

          تھوڑی دیر بعد جب میں  تجھے  خدا حافظ کہتا ہوا یہاں  سے  چلا جاؤں  گا تو ہوائیں  سرسراتی ہوئی دور ہی دور سے  تیرے  خوبصورت گالوں  کی نازک پنکھڑیاں  ہوا کے  دوش پر جھومتی ہوئی شبنم کے  آویزے  تجھ پر نچھاور کریں  گی۔ دور بہت دو ر آسمان کی وسعتوں  میں  رہنے  والی کوئی اپسرا راج ہنس کے  پر لگائے  اڑتی ہوئی تیری خوبصورت آرام گاہ کے  اطراف پے  در پے  چکر لگائے  گی اور تو میرے  منے  اس وقت گہری نیند میں  ڈوبا ہوا ہو گا۔ میں  تجھے  کس طرح بتاؤں  میری جانِ عزیز کہ تیری خفگی نے  میرا کیا حال بنا رکھا ہے۔

          چھ برس گزر جانے  کے  بعد بھی جب اس کی گود ہری نہ ہو سکی تو وہ بڑی مغموم رہنے  لگی، وہ اندر ہی اندر گھلی جا رہی تھی۔ میں اس کی ذات میں  پرورش پانے  والے  اس غم سے  واقف تھا کیونکہ اس کی ایک ایک حرکت سے  اس بات کا اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بچے  کی خواہش میں  مری جا رہی ہے۔ مجھے  بچے  کی خواہش ضرور تھی لیکن یہ خواہش اتنی شدید نہ تھی کہ میں  بچے  کے  بغیر زندگی کی خوبصورتی کو بوریت پیدا کرنے  والا ایک نغمہ سمجھوں۔ یہ تو خیر میری بات تھی لیکن اسریٰ بچے  کے  لیے  ترس ترس گئی تھی۔ کبھی کبھا ریوں  بھی ہوا کہ پڑوس کا کوئی بچہ کھیلتا ہوا ہمارے  گھر آ دھمکتا تو وہ اسے  گود میں  بھینچ کر خوب پیار کرتی،اسے  چاکلیٹ کھلاتی اور ٹافی کی چند گولیاں  اس کے  ہاتھ میں  تھما کر یوں  خوش ہوتی جیسے  وہ خود اس کا اپنا بچہ ہو۔ جب بچہ کلکاریاں  بھرتا ہوا چلا جاتا تو اس کی بڑی بڑی سرمگیں  آنکھوں  میں  آنسوؤں  کے  موٹے  موٹے  قطرے  کانپ کانپ جاتے۔ ایسے  وقت کبھی اتفاقاً میری نگاہیں  اس سے  چار ہو بھی جاتیں  تو میں  بغیر کچھ کہے  چپ چاپ ڈرائنگ روم میں  آ کر سگریٹ کے  لمبے  کش لیتا ہوا نہ جانے  کیا سوچتا۔

          کبھی کبھی مجھے  یہ خیال بے  طرح کچوکے  لگاتا کہ وہ اجنبی بچوں  کے  لیے  اپنی پاکٹ منی کے  دئیے  ہوئے  روپیوں  سے  مٹھائی اور ٹافیاں  کیوں  خرید لاتی ہے۔ میرے  کہنے  کا ہر گز یہ مطلب نہیں  کہ مجھے  بچوں  سے  بیر ہے  یا کد لیکن وہ جو کہا ہے  نا کسی نے  ’’ اپنا اپنا ہوتا ہے او ر پرایا، پرایا۔‘‘

پرسوں  کی بات ہے  جب پڑوس کے  بچے  کو اس نے  آئس فروٹ کھلایا تو اس کی ماں  بجائے  شکر گزار ہونے  کے  اپنی ایک سہیلی سے  کہہ رہی تھی ’’ کوکب میاں  کی بیوی نے  میرے  بچے  کو خراب کر دیا ہے، الم غلم چیزیں  کھانے  سے  اس کی صحت تباہ ہو کر رہ گئی ہے او ر اب وہ اتنا کچھ چٹورا ہو گیا ہے  کہ بغیر پیسے  کے  بات ہی نہیں  کرتا۔‘‘

          میں  سوچتا ہوں  یہ غریب جو مشکل سے  اپنی زندگی کو ہانکتے  ہیں، مارٹن کے  چاکلیٹ، کوالٹی کے  آئس فروٹ کھانا بھلا کہاں  نصیب ہوتا ہے۔ میں  اگر چاہتا تو پڑوسن کی اس بکواس کو بنیاد بنا کر اسریٰ کو بہت کچھ سناتاتاکہ وہ اندھی نیکی سے  باز آ جائے  لیکن اس سلسلے  میں  میں  نے  اس سے  کچھ بھی نہ کہا، اس خیال سے  بھی کہ جب وہ بچے  کی ماں  بن جائے  گی تو تواضع اور مدارات کا یہ سلسلہ خود بہ خود کچے  دھاگے  کی طرح ٹوٹ جائے  گا لیکن دور دور تک اس کے  آثار نہ تھے۔

          ایک دن میں  جب حسبِ معمول آفس سے  تھکا ماندہ گھر لوٹا تو میرا موڈ کچھ آف تھا لیکن میں  ہمیشہ کی طرح مسکراتا ہوا گھر میں  داخل ہوا، میں  نے  ابھی گھر کی دہلیز پر قدم رکھا ہی تھا کہ اسریٰ نے  کہا:

          ’’ آج صبیحہ کا ٹیلی گرام آیا ہے، اُس کے  بچہ ہوا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اس انداز سے  مسکرائی کہ اس کی آنکھوں  میں  آنسو چھلک آئے۔

          ’’ یہ تو بھئی ! بڑی خوشی کی بات ہے، لیکن یہ تمھاری آنکھوں  میں آنسو کیوں  ؟‘‘

          ’’ کہاں  ہیں  آنسو ؟ میں  تو مسکرا رہی ہوں۔‘‘ اُس کے  ہاتھ آنکھوں  کے  حلقوں  تک گئے  جہاں  وہ آنسوؤں  کے  قطرے  دیکھ کر یوں  اچھل پڑی جیسے  کسی نے  چوری کرتے  وقت پکڑ لیا ہو۔

          وہ عجیب سی تھی، ہنستی تھی تو اِس احتیاط سے  کہ کوئی اس کی مسکراہٹ کو چھین نہ لے  جائے او ر جب وہ رو پڑتی تو اس تحمل و احتیاط سے  کہ کہیں  آنسوؤں  کے  موتی نیچے  گر کر کرچی کرچی نہ ہو جائیں۔

          جب کبھی میں  اس کی شخصیت کا احاطہ کرنے  لگتا ہوں  تو قدم قدم پر احساس ہوتا ہے  کہ میں نے  اسے  سمجھنے  میں  ٹھوکر کھا ئی ہے، یہ تو میں  کہہ نہیں سکتا تھا کہ وہ مجھ سے  ناخوش تھی یا میں  اسے  ناپسند کرتا تھا۔ شادی میں  نے  اپنی پسند ہی سے  کی تھی، اس پسند میں  اس کی رضامندی کا بھی زیادہ دخل تھا، میں  تو یہ بھی بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں  کہ وہ چاہت کے  معاملے  میں  مجھ سے  دو ہاتھ آگے  ہی تھی۔ اسے  میرا بڑا خیال تھا، صبح اٹھتے  ہی نہانے  کے  لیے  گرم پانی سے  لے  کر ناشتے  میں  بلا ناغہ آملیٹ تیار کرنا اس کا معمول تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ میں  صبح اٹھتے  ہی گرم پانی سے  غسل کرنا ضروری خیال کرتا ہو ں۔ اسے  سگریٹ سے  نفرت تھی، لیکن میرے  سگریٹ پینے  پر اس نے  کبھی ناک بھوں  نہیں  چڑھائی بلکہ اکثر تو وہ میرے  ہاتھ سے  ماچس کی تیلی لے  کر سگریٹ سلگاتی، میں  چہلیں  کرتا ہوا اس کی آنکھوں  پر دھوئیں  کے  مرغولے  چھوڑتا تو ہ مسکرا کر چپ ہو جاتی اور آنکھوں  پر یوں  ہاتھ رکھ لیتی جیسے  چھوٹے  بچے  آنکھ مچولی کھیلتے  سمے  اپنی آنکھیں بند کر لیتے  ہیں۔

          گو اُس کے  خد و خال کے  گرد ماہ و سال کے  بائیس برس منڈلا رہے  تھے  لیکن صورت پر بھولپن اور شادابی کا وہ جادو تھا کہ دیکھنے  والا یہی سمجھتا کہ وہ ابھی سن بلوغ کو پہنچی ہو۔

          وہ اپنی بہنوں  میں  سب سے  بڑی تھی لیکن چہرے  کی معصومیت کے  سبب وہ سب سے  چھوٹی دکھائی دیتی تھی۔ خاص طور پر جب وہ شرٹ شلوار پہنتی تو مڈل اسکول میں  پڑھنے  والی لڑکی سی دکھائی دیتی حالانکہ اسے  کالج چھوڑے  ہوئے  کئی دن ہو چکے  تھے۔

          ایک دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ایک مالدار خاتون نے  کسی تقریب میں  اسے  دیکھا اور قریب آ کر چٹا چٹ اس کی بلائیں  لیں، کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں  کرنے  کے  بعد اس کی امی سے  سرگوشیانہ انداز میں  کہا کہ یہ لڑکی مجھے  بے  حد پسند ہے  میرے  لڑکے  لیے  محفوظ رکھنا، رخصتی بعد میں  بھی ہو سکتی ہے، لین دین کا بھی کوئی سوال نہیں اور امی نے  جب جواباً سرگوشی کی کہ اس کی شادی ہوئے  چھ برس ہو چکے  ہیں  تو وہ دنگ سی ہو کر رہ گئی۔

          یہ بات اُس نے  مجھے  گذشتہ دنوں  بتائی تھی۔

          زندگی اپنی سج دھج کے  ساتھ گزر رہی تھی، کبھی تیز، کبھی سست گام۔ کبھی کبھی احساس ہوتا کہ میں  ایک ایسی دنیا میں  سانس لے  رہا ہوں  جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے او ر اس ڈربے  میں  زبردستی کسی نے  لا پھینکا ہے  لیکن جب اسریٰ کے  خوبصورت چہرے  کو دیکھتا تو احساس ہوتا جیسے  زندگی سے  زیادہ کوئی خوبصورت شے  نہیں  ہے۔

          پھر ایک دن خالہ جان اچانک پٹنہ سے  ہمارے  گھر آ دھمکیں، وہ مجھے  بہت چاہتی تھیں، ابا اور امی کے  انتقال کے  بعد انھوں  نے  ہی میری نگہداشت کی تھی۔ کھانے  پینے  سے  لے  کر تعلیم کی منزلوں  تک انھوں  نے  میرا ساتھ دیا تھا۔ خالہ کے  ساتھ میری کزن فرحت بھی آئی تھی۔ کانونٹ میں  پڑھنے   والی فرحت کو میں  بالکل سیدھی سادی عورت کے  روپ میں  دیکھ کر حیران رہ گیا۔

          آج سے  چند برس پہلے  جب میں  اس کی شادی میں  شریک ہوا تھا تو موقع بے  موقع انگریزی میں  بات کرنے  کو وہ فخر جانتی تھی لیکن جب میں نے  اس سے  انگریزی میں  بات شروع کی تو وہ مسکراتی ہوئی اردو میں  بات کرنے  لگی۔

          میں  نے  اسے  چھیڑتے  ہوئے  جب یہ کہا کہ ’’ کہیں تمھارے  شوہر نامدار ان پڑھ تو نہیں  ہیں  ؟‘‘ تو وہ قدرے  برہم ہو گئی۔

          ’’ ایسی کوئی بات نہیں  ہے  وہ تو خاصے  پڑھے  لکھے  ہیں او ر انگریزی کچھ آپ سے  ٹھیک ہی بول لیتے  ہیں۔‘‘اُس کے  اس جواب پر مجھے  مزید کچھ کہنے  کی ہمت نہ ہوئی۔ پھر اس نے  گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے  ہوئے  کہا ’’ انگریزی میں  بات نہ کرنے  کی میں  نے  قسم تو نہیں  کھائی ہے  لیکن اس کے  لیے  موقع محل کی ضرورت ہے۔‘‘

          اچھا اب تو تم ناصح بھی بن گئی ہو، ایسی ثقیل باتیں  تمھارے  منہ سے  اچھی نہیں لگتیں، ابھی تو تمھارے  کھیلنے  کودنے  کے  دن ہیں۔‘‘ میں بولا۔

          ’’ کھیلنے  کودنے  کی بھی خوب کہی، دو بچوں  کی ماں  بن چکی ہوں، اب اگر ٹیبل ٹینس بھی کھیلوں  تو لوگ میرا مذاق اڑائیں  گے۔ کوکب بھائی آپ نے  یہ نہیں پوچھا کہ منی اور ڈکی میرے  ساتھ کیوں  نہیں  آئے۔‘‘

          ’ ارے  بھلا ہو دماغ کا میں  منی اور ڈکی کو تو بھول ہی گیا، کہاں  چھوڑ آئی ہو تم ان شیطانوں  کو، جب میں  نے  ڈکی اور منی سے  پوچھا کیا تم انکل کے  ہاں  چلو گے  ؟ تو پتہ ہے  تمھیں  انھوں  نے  کیا کہا۔

          ’ ہم انکل کے  ہاں  نہیں جائیں  گے، وہاں  ہمارا کوئی دوست نہیں ہے  جس سے  ہم آنکھ مچولی کھیل سکیں۔‘‘

          یکبارگی مجھے  یوں  لگا کسی نے  اچانک میرا گلا دبا دیا ہو، میں  ایک لمحے  کے  لیے  خلاؤں  میں نہ جانے  کیا ڈھونڈنے  لگا جیسے  دور  ان خلاؤں  میں  میری کوئی قیمتی شے  دفن ہو۔ میں  نے  پلٹ کر دالان کی طرف دیکھا تو وہاں  خالہ جان اسریٰ سے  باتوں  میں  مشغول تھیں، اسریٰ کی آنکھوں  میں  آنسو چھلک رہے  تھے او ر خالہ جان اسے  لاڈ پیار سے  کچھ سمجھا رہی تھیں۔ شاید اسریٰ نے  فرحت کی بات سن لی ہو مجھے  رہ رہ کر گمان گزر رہا تھا۔

            میں  جب اچانک چپ ہو گیا تو فرحت نے  گھگھیاتے  ہوئے  کہا :

          ’’کوکب بھائی ! مجھے  معاف کر دیجیے، دیکھیے  نا میں نے  آپ سے  کیسی بات کر دی۔

          اور پھر ایک بار مجھے  احساس ہوا کہ فرحت کی معذرت میرے  لیے  تازیانہ بن گئی ہے۔ میں بغیر کسی پروگرام کے  باہر چلا آیا، میرے  ذہن پر ایک بوجھ سا تھا۔ میرے  قدم غیر شعوری طور پر  ’’گیلارڈ‘‘ کی طرف بڑھ رہے  تھے۔ آرکسٹرا کے  مدھم سروں  سے  ’’ گیلارڈ‘‘ کی فضا میں  بڑی رومانیت پیدا ہو گئی تھی، درمیانی حصے  میں کالج کے  بے  فکرے  لڑکے او ر لڑکیاں  ہچکاک کی کسی تازہ فلم پر تبصرہ کر رہی تھے، قریب کی کرسی پر بیٹھا  ایک کالا کلوٹا نوجوان اپنے  مختصر سے  وجود کے  ساتھ باوجود سخت سردی کے  بڑے  مزے  لے  لے  کرآئس کریم کھا رہا تھا۔ میں  نے  دل میں  سوچا آج ’’گے  لارڈ‘‘ میں  آنے  والے  گاہکوں  کو ہو کیا گیا ہے۔ کوئی بنتِ عنب سے  ہم آغوش ہوتا ہی نہیں۔ میں  نے  ایک خالی کرسی پر بیٹھتے  ہوئے  بیرے  کو آواز دی، وہ جھومتا ہوا میرے  قریب آیا۔

          ’’ کیا چاہیے  صاحب !‘‘

          ’’ کیا وہ چیز یہاں  سے  اٹھ گئی جسے  پی کر آدمی اپنے  آپ کو بھول سکتا ہے۔‘‘

          میر ے  اس سوال پر وہ مخصوص انداز میں  مسکرایا۔

          صاحب اس کا علیحدہ انتظام ہے، آپ بغل والے  ہال میں جائیے۔ جب میں  وہاں  پہنچا تو لوگوں  کا عجیب سا عالم تھا، ہر شخص اپنے  اپنے  جام تھامے  زندگی کی کربناکیوں  کے  بخیے  ادھیڑ رہا تھا۔ ان میں  بعض ایسے  بھی لوگ تھے  جو پی کم رہے  تھے او ر کھا زیادہ رہے  تھے۔ میں نے  ’’ جان ہیگ‘‘ کے  پے  در پے  تین پیگ چڑھائے، حلق سے  شراب یوں  اتر رہی تھی جیسے  کوئی برچھیاں  سینے  میں  چبھو رہا ہو، مجھے  احساس ہو رہا تھا جیسے  میں نے  ایک غم کو بھلانے  کے  لیے  سو غم پالیے  ہوں۔ انجانے  سوئے  ہوئے  لا شعور میں پتہ نہیں  کتنے  ایسے  ناسور تھے  جو بیک وقت سر نکالے  جاگ پڑے  تھے۔ میں  نے  تو صرف اسریٰ ہی کو بچے  کی تمنا میں  تڑپتے  ہوئے  دیکھا تھا لیکن یہ آج مجھے  ہو کیا گیا ہے۔

          میں  جب بل ادا کر کے  باہر آیا تو ہوائیں  سائیں  سائیں  کر رہی تھیں، میرے  قدم ڈگمگا رہے  تھے، میں  آہستہ آہستہ قدم ناپتا ہوا غیر ارادی طور پر ایک پرائیویٹ ڈسپنسری کے  نیچے  کھڑا ہو گیا۔

          گزرتے  جاڑوں  کی طویل رات کسی زخمی پرندے  کی طرح آہستہ آہستہ رینگ رہی تھی، ڈسپنسری کے  نیچے  ایک آدمی نے  جو بظاہر نیند میں  غرق دکھائی دیتا تھا اپنے  جسم کو آہستہ آہستہ حرکت دی۔ کروٹ بدلتے  ہوئے  اس نے  ٹھنڈی سانس لی اور بڑبڑانے  کے  انداز میں  کہا ’’چوکیداری بھی ایک لعنت ہے، رات بھر جاگتے  ہوئے  تارے  گنتے  رہنا یہ بھی کوئی زندگی ہے، لیکن اس کے  علاوہ کریں  بھی تو کیا ؟‘‘

          یہ کہہ کر اس نے  اپنے  آپ کو ایک موٹی تو انا سی گالی دی۔

          مجھے  یاد نہیں  کہ میں  کب گھر لوٹا۔ صبح جب میں  بیدار ہوا تو میں  نے  دیکھا اسریٰ باورچی خانے  میں  بیٹھی میر ے  لیے  آملیٹ اور پراٹھے  تیار کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد جب اس نے  میز پرکھانا چنتے  ہوئے  مجھے  آواز دی تو میں  اسریٰ سے  آنکھیں  چار کرتے  ہوئے  گھبراہٹ سی محسوس کر رہا تھا، لیکن جب خلاف توقع اس نے  کل رات والی لغزش کا کوئی ذکر نہیں چھیڑا تو میری جان میں  جان آئی۔ اس کی خاموشی بھی میرے  لیے  کسی سزا سے  کم نہ تھی، جی چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے  کچھ پوچھے  تاکہ ذہن سے  بوجھ ہلکا ہو سکے  لیکن وہ تو صرف آملیٹ کے  قتلے  ہی میر ے  منہ میں  ٹھونستی رہی۔ جب ناشتہ کر چکا تو اس نے  تولیہ میرے  ہاتھ میں  تھماتے  ہوئے  کہا۔ ’’ آج آپ مجھے  کسی لیڈی ڈاکٹر کے  ہاں  لے  چلیے  مجھے  متلی سی ہو رہی ہے۔ یہ کہہ کر اس نے  اپنی آنکھیں  یوں  جھکا لیں  جیسے  وہ شرم و حیا کے  بوجھ سے  دب چکی ہو، اس کے  ہونٹوں  پر مسکراہٹ کی ایک چمکیلی لکیر ابھر آئی۔ وہ آج بڑی خوب صورت لگ رہی تھی، چہرے  کی پژمردگی اچانک شادابی میں  تبدیل ہو گئی تھی، یوں  معلوم ہوتا تھا جیسے  اسے  سارے  جہاں  کی نعمتیں  اچانک میسر آ گئی ہوں۔

          اُس وقت میرا کچھ عجیب سا عالم تھا، بنجر زمین میں  اچانک کونپلیں  پھوٹ آئیں  گی مجھے  خبر نہ تھی۔ میں  مسرت اور استعجاب کے  دورا ہے  پر کھڑا تھا۔ ایک طرف اسریٰ تھی دوسری طرف لیڈی ڈاکٹر مسز خان۔

          پھر ایک دن مسز خان نے  مجھ سے  کہا۔ ’’ مسٹر کوکب اسریٰ کی صحت ٹھیک نہیں  ہے، وہ اینیمک ہو گئی ہے۔ اس کا خاص طور پر خیال رکھیے، یہ دوائیں  آج ہی کھلانا شروع کر دیجیے ‘‘۔ اس نے  نسخہ میرے  ہاتھ میں  تھماتے  ہوئے  کہا۔ اسریٰ کی صحت دن بدن نکھرتی جا رہی تھی جس سے  مجھے  بڑا اطمینان تھا لیکن پچھلے  چند دنوں  سے  مسز خان کچھ کھوئی کھوئی سی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے  وہ کچھ کہنا چاہتی ہیں  لیکن کہہ نہیں  پاتیں۔

          آخر ایک دن مسز خان نے  مجھ سے  کہہ ہی دیا ’’ کوکب اسریٰ کو دوا خانے  میں  شریک کرا دو تو بہتر ہے، دوا خانہ اور گھر میں  بڑا فرق ہے۔ پھر یوں  بھی اسریٰ میری نگاہوں  کے  سامنے  رہے  گی۔ میں  اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کر لیا کروں  گی۔

          جب میں  نے  اسریٰ سے  یہ بات کہی تو اس نے  مغموم لہجے  میں  کہا :

          ’’ کوکب میں  دوا خانے  میں  شریک ہونا نہیں  چاہتی، میں  تمھاری آنکھوں  کے  سامنے  ہی مر جانا چاہتی ہوں، مجھے  ایسا معلوم ہو رہا ہے  جیسے  میں  اسی حادثے  میں  مر جاؤں  گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رو پڑی۔

          ایسی باتیں  زبان سے  نہیں نکالا کرتے  میری جان ! آج تمھیں  ہو کیا گیا ہے، مسز خان نے  کچھ سوچ سمجھ کر ہی مشورہ دیا ہے او ر اسی میں  ہماری بھلائی ہے۔‘‘

          وہ بڑی مشکل سے  راضی ہوئی اور دوسرے  دن دوا خانے  کی سیڑھیاں  چڑھتے  ہوئے  مجھے  یوں  دیکھا جیسے  میں  نے  اسے  نرک میں پھینک دیا ہو۔

          پھر ایک دن مسز خان نے  مجھے  فون پر اطلاع دی کہ ’’ اسریٰ کی فور سیپ ڈیلیوری Delivery Forcep  ہوئی ہے، میں  نے  اسریٰ کو تو موت کے  منہ سے  بچا لیا لیکن بچہ ڈیلیوری کے  دوران ہی میں  مر چکا۔ مجھے  بے  حد افسوس ہے  کوکب، بے  حد افسوس۔‘‘

          ’’ میری آنکھوں  کے  گرد اندھیرا چھا گیا،بھیانک اندھیرا جیسے  سارے  حواس معطل ہو چکے  ہوں۔‘‘

          ’’ قبر میں  کون اترے  گا۔‘‘ کسی نے  مری ہوئی آواز میں  کہا۔

          ’’ باپ ہی کو اترنے  دو بھائی !‘‘ جواباً دوسری آواز فضا میں  تھرائی۔

          اور مجھے  یوں  لگا جیسے  میں  بھی دھیرے  دھیرے  قبر میں  دھنسا جا رہا ہو۔

٭٭٭