کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دوسری موت

عوض سعید


آج خلافِ معمول ڈرائنگ روم میں  داخل ہوتے  ہی جوزف نے  اپنے  کمرے  کا جائزہ لیا، ڈرائنگ روم کا چوبی دروازہ جس پر ہلکے  آسمانی رنگ کا پینٹ چڑھا ہوتا تھا اس پر صلیب کے  نشان کو کسی نے  بے  طرح کھرچ دیا تھا،عقبی کھڑکی کے  دونوں  شیشوں  پر ہلکی ہلکی خراشیں  آ گئی تھیں،بستر پر سلوٹیں  پڑی تھیں او ر ارک کے  سفید تکیے  کے  غلاف پر جا بجا خون کے  سرخ سرخ دھبے  تھے۔

          ابھی وہ کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ اسپرنگ کے  گدے  وار پلنگ کے  نیچے  سے  ایک کالے  رنگ کی بھیانک بلی جوزف کے  پیروں  کے  پاس آ کر لوٹنے  لگی، اس کے  کا ن کٹے  ہوئے  تھے او ر کانوں  کے  لٹکتے  ہوئے  حصوں  سے  خون کی بوندیں  ٹپک رہی تھیں۔

          جوزف جو اونچے  پورے  قد کا ایک وجیہ انسان تھا، ایک لمحے  کے  لیے  بلی کو اس عالم میں  دیکھ کر خوفزدہ ہو کر رہ گیا۔ اس نے  ہاتھوں  سے  صلیب کا نشان بناتے  ہوئے  سامنے  والے  چرچ کی طرف دیکھا جہاں  یسوع مسیح کا اسٹیچو کھڑا تھا جیسے  مسیح نے  جوزف کے  دل کی دھڑکنوں  کو قریب سے  سن لیا ہو۔

          اس نے  سلک کی دھلی دھلائی بش شرٹ اور ٹیری وول کی پتلون پہن رکھی تھی، اس کی بڑی بڑی غلافی آنکھوں  میں ایک عجیب طرح کی چمک تھی جنھیں  دیکھ کر یوں  لگتا تھا جیسے  سارے  جہاں  کی کلفتیں  اس کی آنکھوں  میں  بے  اختیار سمٹ آئی ہوں۔ وہ کھڑا کھڑا مریل سی بیمار بلی کو بغور دیکھتا رہا اور پھر وہ آپ ہی آپ بڑبڑایا :

          ’’خون کتنا ارزاں  ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

          دیکھتے  ہی دیکھتے  آسمان پر سرمئی بادلوں  کے  قافلے  قطار اندر قطار دوڑنے  لگے۔ پھر اچانک تیز ہوائیں  چلنے  لگیں، ڈرائنگ روم کی کھڑکیوں  کے  شیشے  ہوا کے  طوفانی جھونکوں  کی تاب نہ لا کر ٹوٹ پھوٹ گئے۔ وہ کمرے  سے  ہوتا ہوا باغیچے  میں  پہنچا۔ ہری ہری گھاس مسلی ہوئی تھی، دیوار سے  لپٹی ہوئی انگور کی لانبی بیل بھی جگہ جگہ سے  ٹوٹ چکی تھی۔

          جوزف ایک سیدھا سادہ کرسچین تھا جس کی دل موہ لینے  والی شخصیت نے  اُسے  عام انسان سے  بہت اونچا کر دیا تھا۔ اسے  اپنی جنم بھومی پر ایسا ہی فخر تھا جیسے  کسی ماں  کو اپنے  لائق سپوت پر ہوتا ہے۔ اس کی زندگی میں  کئی طوفان آئے  تھے  لیکن اس کے  قدم کبھی نہیں  ڈگمگائے  تھے  لیکن پچھلے  دنوں  سے  طوفانی ہوائیں  چل رہی تھیں  اس کی نوعیت کچھ اور تھی، یوں  لگتا تھا جیسے  اس کے  اطراف زہریلی گیس کے  غبارے  اڑ رہے  ہوں، اسے  ان اڑنے  والے  غباروں  سے  نفرت تھی جن میں  انسانی زندگی کی حرارت سلب کرنے  کی پوری قوت تھی۔

          کیا سوچ رہے  ہو جوزف ؟ وہ دیکھو ! اس لانبی ڈاڑھی والے  بوڑھے  کی طرف جس کے  اطراف کئی نوجوان ہاتھ باندھے  مودبانہ انداز میں  کھڑے  ہیں۔ وہ تمھاری بیوی لوسی اور ننھے  اسٹیفن کے  لیے  زہر ہے، ایک ایسا زہر جو آہستہ آہستہ جسم میں  داخل ہو کر تمھیں  موت کے  غار کی طرف لے  جائے  گا۔ یہی بہتر ہے  کہ تم اپنی اس جنم بھومی کو چھوڑ دو۔‘‘

          جوزف کے  اندر کے  انسان نے  کہا ’’ نہیں  نہیں  ایسا کبھی نہیں  ہو سکتا، میں  اس بوڑھے  ابلیس کا گا گھونٹ دوں  گا۔ یہ لہلہاتے  ہوئے  خوب صورت کھیت گیہوں  کی نازک بالیاں  سر اونچا کیے  مجھے  پکار رہی ہیں۔ نہ جاؤ جوزف ! نہ جاؤ !‘‘

          ’’ پاگل نہ بنو جوزف۔ تمھیں  اپنا نہیں  تو اپنے  بیٹے  اسٹیفن کا خیال رکھنا ہو گا، اس سرزمین پر تمھارا جینا اب دوبھر ہو گا، میری بات مانو جوزف یہاں  سے  بھاگ جاؤ۔‘‘

          پھر ایک منحوس دن ایسا ہولناک طوفان آیا کہ جوزف کے  قدم لڑکھڑا گئے، وہ لوسی کی آغوش میں  سر رکھ کر بچوں  کی طرح سسکیاں  بھر کر رونے  لگا۔

          ’’ کیا لوسی ! سچ مچ ہمیں  اس جنم بھومی کو چھوڑنا پڑے  گا ؟‘‘

          ’’ہاں  جوزف !‘‘

          جوزف چپ چاپ لوسی کے  چہرے  کو تکتا رہا، اس کی بلند چوڑی پیشانی پر آئی ہوئی تردد کی گہری لکیریں  صاف اس بات کی چغلی کھا رہی تھیں  کہ آج اس کی زندگی میں  ایک اہم موڑ آنے  والا ہے، اُس نے  کھڑکی سے  باہر جھانک کر دیکھا، نوجوان، بوڑھے  ابلیس کے  آگے  ابھی تک حلقہ بنائے  کھڑے  تھے۔

          صبح سے  پہلے  یہ گھر ہمیں  چھوڑ دینا چاہیے  جوزف، کل جیکب کی ساری فیملی بھی ہجرت کر چکی ہے۔‘‘ لوسی نے  درد بھری آواز میں  کہا۔

          اس بھرے  پرے  گھر کی ایک ایک چیز کو سنوارنے  کے  لیے  جوزف نے  جو محنت کی تھی اسے  یوں  چھوڑ کر جاتے  ہوئے  اسے  بڑے  دکھ کا احساس ہو رہا تھا۔ اس نے  آخری بار حسرت بھری نگاہوں  سے  اپنے  گھر کی طرف دیکھا اور اسٹیفن کو گود میں  اٹھائے  باہرسے  نکل پڑا۔ لوسی کے  ہاتھ میں  ایک چھوٹی سی اٹیچی تھی جس میں  کپڑوں  کے  علاوہ تھوڑے  بہت پیسے  بھی تھے۔ جب جوزف باغیچہ کے  پچھلے  حصے  سے  نکل کر سڑک کے  کنارے  پر آیا تو اس کا دل ڈوب گیا،اسے  اپنا ایک ایک قدم من من بھر وزنی لگ رہا تھا،لوسی بھی یوں  چل رہی تھی جیسے  اس کا سب کچھ لٹ چکا ہو۔

          فضا کے  ذرے  ذرے  پر سکوت طاری تھا، سامنے  سرو کے  لانبے  درختوں  پر پرندے  یوں  چپ چاپ بیٹھے  تھے  جیسے  انھیں  بھی اس افسانۂ غم سے  تعلق ہے۔ دوسرے  دن جب جوزف شرنارتھیوں  کے  کیمپ میں  داخل ہوا تو اس کی آنکھوں  میں  آنسو بھر آئے۔ لوسی بھی اداس اداس تھی اور ننھا اسٹیفن رو رہا تھا۔ ’’ ڈیڈی ! ہم یہاں  نہیں  رہیں  گے۔۔۔ وہ بنگلہ کہاں ہے  جہاں  ہم پہلے  رہا کرتے  تھے، وہ باغ۔۔۔ وہ پانی کا خوبصورت چشمہ۔۔۔ ہمیں  وہیں  لے  چلیے  ڈیڈی ! ہمیں  وہیں  لے  چلیے۔‘‘

          اسٹیفن وہ دیکھو اُس پار جو خوبصورت مکانات تعمیر ہو رہے  ہیں  نا وہ ہمارے  لیے  ہی بنائے  جا رہے  ہیں۔‘‘

          ننھے  اسٹیفن کی نگاہیں  اچانک مہاجر کالونی کی طرف پلٹیں  جہاں  باز آباد کاری کا کام تیزی سے  ہو رہا تھا۔

          اسٹیفن مچل سا گیا۔ ’’ ہم کل ہی یہاں  سے  نئے  مکان میں  منتقل ہو جائیں  گے۔ ڈیڈی ! یہاں  میرا دم گھٹا جا رہا ہے۔‘‘

          ’’ ہاں  بیٹے  ضرور جائیں  گے۔‘‘

          ’’ وہ دیکھو ڈیڈی دروازے  پر کون کھڑا ہے  ؟ اسٹیفن نے  دروازے  کی طرف اشارہ کرتے  ہوئے  کہا۔

          ’’ وہ آدمی ہمارے  لیے  کھانا لایا ہے  بیٹے۔‘‘

          ہم بھکاری تھوڑی ہی ہیں  ڈیڈی جو وہ ہمارے  لیے  کھانا لے  کر آیا ہے۔‘‘ اسٹیفن نے  بڑی معصومیت سے  کہا۔

          ’’ نہیں  بیٹے  ہم بھکاری کیوں  ہونے  چلے، آج ہم پناہ گزیں  کے  نام سے  یاد کیے  جاتے  ہیں  نا اس لیے  وہ آدمی ہمارے  لیے  کھانا لے  آیا ہے او ر کل جب ہم سروس سے  لگ جائیں  گے  تو خود پکا لیا کریں  گے۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر جوزف نے  اُس آدمی کے  ہاتھ سے  کھانے  کے  برتن لے  لیے  جو اسٹیفن کی باتیں  سن کر مسکرا رہا تھا، اس کی آنکھوں  میں  آنسو امنڈ آئے  تھے۔

          وہ جوزف کے  ہاتھ میں  کھانے  کے  برتن تھما کر آگے  بڑھ گیا۔ جب چلا گیا تو جوزف نے  لوسی کو آواز دی، لوسی دھیرے  سے  اٹھ کر جوزف کے  برابر بیٹھ گئی۔ اسٹیفن بھی مسکراتا ہوا لوسی کی گود میں  آ بیٹھا۔ جوزف نے  جب پہلا نوالہ اٹھایا تو اسٹیفن نے  منہ کھول کر کہا۔ ’’ ڈیڈی پہلے  ہم بعد میں  آپ‘‘ جب وہ تینوں  سیر ہو کر کھا چکے  تو لوسی نے  اسٹیفن کو اپنے  بستر پر لا کر سلا دیا، جب وہ میٹھی نیند سو گیا تو لوسی نے  جوزف سے  کہا۔ ’’ ذرا آسمان کی طرف تو دیکھو۔‘‘ جوزف نے  آگے  بڑھ کر آسمان کی طرف دیکھا، درمیانی تاریخوں  کا روشن چاند آسمان کے  اوپر اٹھتا ہی چلا جا رہا تھا اور دودھیا چاندنی مہاجر کالونی کا احاطہ کیے  ہوئے  تھی۔ اچانک اسے  یوں  محسوس ہوا جیسے  کوئی شے  اس کے  پیروں  سے  لپٹ گئی ہے  اس کے  منہ سے  ایک بھیانک چیخ نکل گئی، اس کے  قریب ہی کٹے  کانوں  والی کالی بلی کانپتی ہوئی کھڑی تھی !

٭٭٭